کتاب مبین
اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ ﷺ سے خطاب کر کے فرما رہے ہیں کہ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شر افت وکر امت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورة نساء کے شروع کی آیت فکیف اذا جئنا من کل امتہ بشھید و جئنا بک علی ھو لاء شھیدا یعنی کیو نکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے حضور ﷺ نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود سے سورة نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ نے فرمایا بس کر کافی ہے۔ ابن مسعود ؓ نے دیکھا کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ ﷺ۔ پھر فرماتا ہے اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 86
یعنی ہر ایسی چیز کی وضاحت جس پر ہدایت و ضلالت اور فلاح و خسران کا مدار ہے، جس کا جاننا راست روی کے لیے ضروری ہے، جس سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہوتا ہے غلطی سے لوگ " تبیانا لکل شیء " اور اس کی ہم معنی آیات کا مطلب یہ لے لیتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ بیان کردیا گیا ہے۔ پھر وہ اسے نباہنے کے لیے قرآن سے سائنس اور فنون کے عجیب عجیب مضامین نکالنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔
سورة النَّحْل 87
یعنی جو لوگ آج اس کتاب کو مان لیں گے اور اطاعت کی راہ اختیار کرلیں گے ان کو یہ زندگی کے ہر معاملہ میں صحیح رہنمائی دے گی اور اس کی پیروی کی وجہ سے ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی اور انہیں یہ کتاب…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ اس میں کتاب یعنی قرآن کو ہر چیز کا بیان فرمایا گیا ہے مراد اس سے دین کی سب چیزیں اور باتیں ہیں کیونکہ وحی ونبوت کا مقصد انہی چیزوں سے متعلق ہے اس لئے معاشی فنون اور ان کے مسائل کو قرآن میں ڈھونڈھنا ہی غلط ہے اگر کہیں کوئی ضمنی اشارہ آجائے تو وہ اس کے منافی نہیں رہا یہ سوال کہ قرآن کریم میں دین کے بھی تو سب مسائل مذرکور نہیں تو تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ کہنا کیسے درست ہوگا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اصول تو تمام مسائل کے موجود ہیں انہی کی روشنی میں احادیث رسول کریم ﷺ ان مسائل کا بیان کرتی ہیں اور کچھ…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔
یہ مضمون اوپر آیت 84 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں یہ اضافہ ہے کہ جئنا بک شہیدا علی ھؤلاء یعنی جس طرح ہم تمام امتوں میں سے ایک گواہ ان پر کھڑا کریں گے اسی طرح تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر اٹھائیں گے۔ " ان لوگوں پر " یعنی ان اہل عرب پر جن کی طرف تمہاری بعثت براہ راست ہے اور جو تمہاری امت دعوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ نبی ﷺ دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث ہوئے اہل…
Read the full tafseer →89۔ 1 یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحیح بخاری)
89۔ 2 کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے ' کتاب اللہ ' قرار دیا ہے۔ اور ہر چیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کردی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔
38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →تشریح : مشرکین کا منظر نظروں کے سامنے ہے۔ بہت ہی سخت حالات ہیں۔ شرکاء ان لوگوں کی تکذیب کر رہے ہیں جو انہیں شریک سمجھ رہتے تھے اور وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے اور اپنے دنیاوی متبعین کے الزامات سے براءت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ اور منکرین قریش کے کیس کی بھی ایک جھلکی نظروں کے سامنے آتی ہے۔ صرف ایک جھلکی :
وجتنابک شھیدا علی ھولاء (61 : 98) ” اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لئے ہم تمہیں لائیں گے “۔ اس کے بعد متصلاً یہ بات آتی ہے کہ اے رسول تم پر جو کتاب اتاری گئی ہے وہ ایک جامع کتاب ہے۔
ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیئی وھدی ورحمہ و بشری…
Read the full tafseer →7 یعنی وہ ہولناک دن یاد رکھنے کے قابل ہے جب ہر ایک پیغمبر اپنی امت کے معاملات کے متعلق بارگاہ احدیت میں بیان دے گا۔ اور آپ (نبی کریم ﷺ اس امت کی حالت بتلائیں گے بلکہ بعض مفسرین کے قول کے موافق آپ ان تمام شہداء کے لیے شہادت دیں گے کہ بیشک انہوں نے اپنا فرض منصبی بخوبی ادا کیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ امت کے اعمال ہر روز حضور ﷺ کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ اعمال خیر کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور بد اعمالیوں پر مطلع ہو کر نالائقوں کے لیے استغفار فرماتے ہیں۔
8 یعنی قرآن کریم میں تمام علوم ہدایت اور اصول دین اور فلاح دارین سے متعلق ضروری امور کا نہایت مکمل اور واضح بیان ہے۔ اس میں قیامت کے یہ…
Read the full tafseer →آیت 89 وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ
یہ وہی الفاظ ہیں جو ہم آیت 84 میں پڑھ آئے ہیں۔ قیامت کے دن تمام رسول اپنی اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ سورة الاحزاب میں محمد رسول اللہ کے بارے میں اس حوالے سے فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا ”اے نبی ! یقیناً ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ“۔ اسی طرح سورة المزمل میں حضور کے بارے میں فرمایا :…
Read the full tafseer →90 آپ کا دوسرے صحابہ سے قرآن سننا :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ میں نے عرض کی۔ بھلا میں آپ کو کیا سناؤں، آپ ہی پر تو قرآن نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، مگر دوسرے سے سننا مجھے اچھا لگتا ہے ابن مسعود کہتے ہیں کہ پھر میں نے سورة نساء پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا (فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰوُلاَءٍ شَھِیْدًا) 4 ۔ النساء :41) تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی گواہی :۔ سورة نساء کی…
Read the full tafseer →139۔ یعنی کآپ کی شہادت عالمگیر ہوگی، سب کے مقابلہ میں حجت ہوگی۔ شہادت تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ بھی اپنی ہی امت کے متعلق دیں گے لیکن آپ ﷺ کی امت دعوت تو ساری انسانی آبادی ہے، اس لیے قدرۃ آپ ﷺ کی شہادت بھی عالمگیر کہی ہوگی، (آیت) ” فی کل امۃ شھیدا “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 133۔ (آیت) ” من انفسھم “۔ لفظ عام ہے۔ یہ گواہ یا پیغمبر (علیہ السلام) ان امتوں کے خواہ ہم نسب ہوں، یا ہم وطن ہوں۔ (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھؤلآء “۔ ھؤلاء سے عام طور پر مراد امت محمدی سے لی گئی ہے۔ امتک (بیضاوی۔ مدارک) اے الذین بعثت الیھم (معالم) بعض نے ھؤلاء سے مراد انبیاء سابقین کو بھی لیا ہے۔ یعنی آنحضور ﷺ ان سب انبیاء علیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے…
Read the full tafseer →ویوم نبعث فی کل امۃ شھیدا علیھم من انفسھم وجئنا بک شھیدا علی ھولاء ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین اور جس دن ہم ہر ہر
امت میں ایک ایک گواہ جو ان ہی میں کا ہوگا ‘ ان کے مقابلہ میں قائم کردیں گے اور ان لوگوں کے مقابلہ میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے کہ تمام (دین کی ضروری) باتوں کو بیان کرنے والا ہے اور (خاص) مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوشخبری سنانے والا ہے۔ شَھِیْد سے مراد ہے : ہر امت کا پیغمبر۔ ہر امت کی ہدایت کیلئے اللہ نے انہی میں کا پیغمبر مبعوث فرمایا۔ ھآؤُلآءِ سے مراد ہے : امت اسلامیہ۔ تِبْیَانًا یعنی واضح ‘ بلیغ…
Read the full tafseer →(89) اور جس دن ہم ہر ہر امت میں ایک ایک گواہ جو ان ہی میں سے ہوگا یعنی ان کے نبی کو قائم کریں گے اور محمد ﷺ آپ کی امت کے لیے آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے یا یہ کہ ان سب کے مقابلہ میں ان کی صفائی کے لیے آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور میں نے بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر قرآن پاک اتارا جو حلال و حرام اوامرو نواہی میں سے ہر ایک بات کو بیان کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لیے گمراہی سے بڑی ہدایت اور عذاب سے بڑی رحمت اور جنت کی خوشخبری سنانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (143) اور سورة نساء کی آیت (41) ”مِّنْ اَنْفُسِهِمْ“ سے مراد خود ان کے چمڑوں اور دوسرے اعضاء کی شہادت بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھیے سورة حٰمٓ السجدہ (20، 21)۔rnۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا۔۔ : ”تِبْيَانًا“ مصدر ہے، بیان میں مبالغہ ہے، بہت اچھی طرح بیان کرنا، یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا واضح بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و گمراہی اور کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے، پھر جن احکام کو قرآن نے مختصر طور پر بیان کیا ہے، یا ان کا بیان چھوڑ دیا ہے ان میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و…
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
قولہ تعالیٰ : ویوم بنعث فی کل امۃ شھیدا علیھم من انفسھم اور وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں، جو قیامت کے دن اپنی امتوں پر یہ شہادت دیں گے کہ بلاشبہ انہوں نے ان تک پیغام پہنچایا تھا اور انہیں ایمان کی طرف دعوت دی تھی، اور ہر زمانے میں گواہ اور شاہد موجود رہتا ہے اگرچہ وہ نبی نہ ہو۔ اور ان کے بارے میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے کہ وہ وہ ہدایت دینے والے اور راہنمائی کرنے والے ائمہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کے خلفاء ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ وہ علماء ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت اور دین محفوظ فرما دیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : پس اس بنا پر کوئی زمانہ فترت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…
Read the full tafseer →[وَيَوْمَ : اور جس دن ] [ نَبْعَثُ : ہم اٹھائیں گے ] [ فِيْ كُلِ اُمَّةٍ : ہر امت میں سے ] [ شَهِيْدًا : ایک گواہ ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر (یعنی ان کی خلاف)] [ مِّنْ انفُسِهِمْ : ان کے اپنوں میں سے ] [ وَجِئْنَا : اور ہم لائیں گے ] [ بِكَ : آپ ﷺ کو ] [ شَهِيْدًا : بطور گواہ ] [ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ : ان لوگوں پر ] [ ۭوَنَزَّلْنَا : اور ہم نے نازل کیا ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ الْكِتٰبَ؛اس کتاب کو ] [ تِبْيَانا؛واضح ہوتے ہوئے ] [ لِكُلِ شَيْءٍ : ہر چیز کے لئے ] [ وَّهُدًى: اور ہدایت ] [ وَّرَحْمَةً؛اور رحمت ] [ وَّبُشْرٰى: اور بشارت ہوتے ہوئے ] [ لِلْمُسْلِمِيْنَ : فرمانبرداری کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ) (اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے اور فرمانبرداروں کے لیے ہدایت ہے اور رحمت اور خوشخبری ہے۔ )
اس میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو (تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ ) فرمایا یعنی ہر چیز کا بیان کرنے والا (اس سے امور متعلقہ بالدین مراد ہیں) قرآن مجید میں بہت سے احکام اصول و فروع بیان فرما دئیے ہیں اور بہت سے احکام و مسائل جو انسانی معاشرہ کی حاجات و ضروریات پر حاوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے، آپ کا بیان فرمانا بھی قرآن ہی کا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔
(ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →71:۔ اعادہ بوجہ بعد عہد برائے بیان امر زائدہ ” من انفسہم “ یعنی قیامت کے دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے مراد ہر امت کا رسول ہے یا اس سے مراد ہر آدمی کے ہاتھ پاؤں ہیں جو قیامت کے دن بول کر آدمی کے نیک و بد اعمال کی گواہی دیں گے۔ ” و جئنا بک الخ “ اور آپ کو ہم ان مشرکین پر بطور گواہ قیامت کے دن اپنی عدالت میں حاضر کریں گے۔ قیامت کے دنحضور ﷺ اپنے زمانہ کے نیک و بد لوگوں کے بارے میں گواہی دیں گے اور سب کے بارے میں بیان فرمائیں گے کہ انہوں نے آپ کی دعوت کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا اقول کما قال العبد الصالح الخ میں وہی جواب دوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے روکے بعد اللہ نے عذاب کی وعید سنائی اور مشرکین و کفار کے متعلق فرمایا کہ جب وہ عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر نہ تو اس میں تخفیف ہوگی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائیگی اور اللہ تعالیٰ راضی کرسکیں ، مشرک لوگ اپنے معبودوں کو دیکھ کر اقرار کریں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے رہے مگر وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ ہمیں معبود مان کر ہماری عبادت کرنے لگو ، یہ تو خود ہی من مانی کرتے رہے فرمایا اس وقت ان کی تمام خود ساختہ کاروائیاں گم ہو کر رہ جائیں گی ،
(اسلام کے راستے میں رکاوٹ)
اسی عذاب کی وعید کے تسلسل میں ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ 89ۧ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : یوم اذکر محذوف سے منصوب۔ یستعتبون لایطلب منھم العتبی ای الرجوع الی مایرضی اللہ۔ قالوا ربنا جواب ہے اذا را الذین کا۔
تفسیر : منکرین انعامِ الٰہی اور ان کے ان بیہودہ حرکات کا ذکر کر کے جو آخرت میں بازپرس کے قابل ہیں یوم نبعث سے لے کر آخر تک روز حشر کی کیفیت ‘ بازپرس اور حساب و کتاب بیان فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایک ایک گواہ بلائیں گے جو اس قوم مشرک و کافر کے مقابلہ میں گواہی دے گا کہ ہم نے ان کے پاس توحید و احکامِ الٰہی پہنچائے پر انہوں نے نہ مانا (گواہی دینے والے انبیاء یا ان کے جانشین ہیں جن سے کوئی گروہ خالی نہیں) گواہی کے بعد وہ اجازت مانگیں گے کہ ہم پھر دنیا میں جائیں۔ یہ قبول…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا عَلَیْھِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْدًا عَلٰی ھٰٓؤْلَآئِ ط وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُدًے وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 89)
(اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان پر انہی میں سے اٹھائیں گے اور آپ ﷺ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو کھول دینے کے لیے اور وہ ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرمانبرداروں کے لیے۔ )
اس آیت میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اس سے پہلے آیت نمبر 84 میں گزر چکا ہے۔ البتہ فرق دونوں میں یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر امت پر اس کے نبی کو گواہ کے طور پر پیش فرمائیں گے۔ اس کا اختتام بھی اسی مسئلے سے کیا جا رہا ہے۔
اے رسول ! وہ وقت یاد کیجئے کہ جب ہر ا مّت سے ہم ایک گواہی دینے والا کھڑا کریں گے اور آپ کی امت پر آپ کو گواہ کے طور پر لایا جائے گا۔ ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہدایت کے متعلق ہر بات کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ یہ کتاب مسلمانوں کے لیے سراسر ہدایت، رحمت اور خوشخبری بنا کر بھیجی گئی ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں اس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی زبان اطہر سے یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک دن آپ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو…
Read the full tafseer →چوتھا منظر :
89: وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍٍ شَھِیْدًا عَلَیْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِھِمْ (اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان کے مقابلہ میں قائم کردیں گے) یعنی انکا پیغمبر کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) انہی میں سے انہی کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔ وَجِئْنَابِکَ (اور ہم آپ کو لائیں گے) اے محمد ﷺ شَھِیْدًا عَلٰی ھٰٓؤُلَآ ئِ (ان پر گواہ بنا کر) ھٰٓؤُلَآئِ سے آپ کی امت مراد ہے۔
قرآن تبیان ہے :
وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا (اور ہم نے تم پر کتاب کو اتارا جو تمام ضروریاتِ دین کو بیان کرنے والی ہے) یعنی فصیح وبلیغ ہے لِّکُلِّ شَیْ ئٍ امور دین احکام منصوص میں تو قرآن ظاہر ہے اسی طرح…
Read the full tafseer →(89)” ویوم نبعث فی کل امۃ شھیداً علیھم من انفسھم “ اس سے مراد ہر امت کا پیغمبر ہے کیونکہ انبیاء کو ان کی امتوں کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے۔ ” وجئنابک “ اے محمد ! (ﷺ) شھیدااً علی مولاء “ جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے آپ ﷺ ان کے گواہ ہیں۔ ” ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً “ اس سے مراد بیان ہے۔ ” لکل شئی “ ہر دینی مسئلہ اس کی طرف احتیاجیت ہے خواہ اس کا تعلق امر، نہی، حلال، حرام، و حدود، احکام کے ساتھ ہو۔” وھدی “ گمراہی سے۔” ورحمۃ وبشری “ اور ان کے لیے خوشخبری ہے۔” للمسلین “
Read the full tafseer →89۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں خطاب کر کے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت کے رسول اس امت کی حالت کی گواہی دیں گے اور جب وہ امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلاویں گی تو اے رسول اللہ کے تم ان رسولوں کے بیان کی صداقت کرائی جاوے گی کیوں کہ قرآن میں یہ سب صداقت موجود ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث جو اوپر گزری 1 ؎ اس میں یہ ہے کہ قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے رسالت کی تبلیغ کی تھی۔
نوح (علیہ السلام) کہیں گے کہ ہاں اے رب ہمارے ہم نے تبلیغ کی تھی پھر ان کی امت سے سوال کیا جائے گا کہ تمہارے پاس نوح (علیہ السلام) نے پیغام پہنچایا تھا وہ لوگ کہیں گے ہمارے…
Read the full tafseer →آیت : (89)
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امت میں ایک گواہ کھڑا کرے گا۔ (فی کل امۃ شھیدا) یہاں بھی گواہ کھڑا کرنے کا ذکر کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کے گواہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وجئنا بک شھیدا علی ھؤلاء) ” اور لائیں گے ہم آپ کو ان پر گواہ “ یعنی آپ ﷺ اپنی امت کے خیر و شر پر گواہ ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال عدل ہے کہ ہر رسول انی امت پر گواہی دے گا کیونکہ وہ اپنی امت کے اعمال کے بارے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ اطلاع رکھتا ہے ‘ وہ اتنا عادل اور اپنی امت کے بارے میں اتنا شفیق ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں صرف اسی چیز کی گواہی دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ اس کی…
Read the full tafseer →قرآن ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرتا ہے
قول باری ہے (ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شی۔ ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے) اس سے مراد…واللہ اعلم… یہ ہے کہ یہ کتاب امور دین میں سے ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے یہ وضاحت یا تو نص کے ذریعے ہوئی ہے یا دلالت کے ذریعے۔ کوئی بڑا یا چھوٹا واقعہ ایسا نہیں ہے جس کے متعلق اللہ کا کوئی نہ کوئی حکم نص یا دلیل کے طور پر اس کی کتاب میں بیان نہ کردیا گیا ہو۔ جو احکامات حضور ﷺ نے بیان کئے ہیں وہ بھی کتاب اللہ سے صادر ہوئے ہیں اس لئے کہ قول باری ہے (وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ وفانتھوا جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
186۔ روز قیامت کی تذکیر مکرر اور اس کی عظمت شان :۔
سو روز قیامت کی تذکیر مکرر کے طور پر فرمایا گیا ” اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہم اٹھا کر کھڑا کردیں گے ہر امت سے ایک گواہ انہی میں سے “ یعنی اس امت کے پیغمبر کو جو ان کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ ایمان لائے تھے یا نہیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ” اور آپ ﷺ کو اے پیغمبر ان لوگوں پر گواہ بنا کرلائیں گے “ یعنی آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں پر کہ انہوں نے آپ ﷺ کو کیا جواب دیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) سو اس ہولناک دن کیلئے تیاری کرو کہ اس کی تیاری کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ سو اس ارشاد سے قیامت کے اس یوم عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء پر گواہی
شریح : اس آیت میں ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے، یعنی میدان حشر کا حال۔ اس خبر کو بڑے خوبصورت انداز میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے ہر امت میں سے ان کا پیغمبر رہبر یا رسول جو بھی اس کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا جا چکا ہے اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی امت کی گواہی دے گا، پھر سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت اور ان تمام رسولوں کی گواہی دینے کے لیے اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر تمام انبیاء و رسل کی گواہی دیں گے کیونکہ وہ آخری نبی اور آخری کتاب قرآن حکیم کے لانے والے ہیں اور قرآن پاک میں گذشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بتائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ان کا پیغمبر جو ان پر اتمام حجت کے لئے گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے حق و باطل کی کشمکش میں گیا رویہ اختیار کیا
3 صحیحین میں روایت ہے کہ آنحضرت نے عبداللہ بن معسود کو سورة نسا تلاوت کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ اسی سورت کی اس مضمون والی آیت 14 پر پہنچے تو آنحضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمانہ فشرت میں بھی توحید پرست لوگ رہے ہیں جو قیامت کے دن بطور شاہد پیش ہوں گے واللہ اعلم دیکھیے سورة بقرہ آیت 43 و نسا آیت 4
4 یعنی حلال و حرام اور ہر اس چیز کا بیان ہے جس پر دنیا و آخرت میں انسان کی ہدایت و ضلالت اور فرلاح و خسران کا انحصار ہے پھر جن احکام کو قرآن نے مجملاً بیان…
Read the full tafseer →(16:89) یوم ۔ اس کا نصب فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ ای اذکر یوم یاد کرو وہ دن۔
تبیانا۔ بان یبین (ضرب) کا مصدر ہے۔ بیان ۔ وضاحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا…
Read the full tafseer →پچھلی امت کے رسولوں کی صداقت کا ذکر
اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں خطاب کر کے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت کے رسول اس امت کی حالت کی گواہی دیں گے اور جب وہ امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلاویں گی تو اے رسول اللہ کے تم سے ان رسولوں کے بیان کی صداقت کرائی جاوے گی کیونکہ قرآن شریف میں یہ سب صداقت موجود ہے۔ پھر اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ اللہ نے وہ کتاب اتاری ہے، جو ساری باتیں کھول کھول کر بیان کرتی ہے اسی واسطے اس میں پہلے رسولوں کے بیان کی صداقت موجود ہے اور جو لوگ فرمابردار ہیں ان کو یہ کتاب نجات کا رستہ بتاتی ہے اور کو اس پر عمل کرتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب اللہ کی رحمت اور جنت کی خوشخبری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
[57] ایک عذاب کفر کا اور دوسرا لوگوں کو راہ حق سے روکنے کا۔
Read the full tafseer →آخری شہادت :
(ف 1) جب تمام پیغمبر شہادتیں دے چکیں گے تب حضور ﷺ تشریف لائیں گے ، اور یہ شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے اپنے فرائض منصبی کو باحسن وجوہ پورا کیا ہے ۔
تمام شہادتوں کے بعد آپ کی شہادت ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ آپ پر نبوت کا اختتام ہوچکا ہے ، اور اب کسی دوسرے نبی کے لئے توقع وامید نہیں ، کیونکہ آپ سب کے آخر میں شہادت دیں گے آپ سارے نبیوں کے نبی اور کل پیغمبروں کے پیغمبر ہیں ، آپ ہی عنایات الہیہ کے آخری مرکز التفات ہیں ، آپ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہیں ، کیونکہ قرآن کامل ہے ، اس میں ضروریات دینی کی سب چیزیں مذکور ہیں ، اب تشریع وتہذیب کے لئے مزید انتظار کی حاجت نہیں ۔
(آیت) ”…
Read the full tafseer →89 ۔ اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر امت میں سے اس کے خلاف گواہی دینے والا اٹھا کھڑا کریں گے انہی میں سے اور اے پیغمبر ان لوگوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کو گواہ لائیں گے۔ اور اے پیغمبر ہم نے یہ کتاب آپ پر نازل کی ہے جو دین کی ہر بات بیان کرنیالی ہے اور مسلمانوں کے لئے خاص طور پر بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور بشارت و خوشخبری سنانے والی ہے۔ یعنی قیامت کے دن کا یہ واقعہ قابل ذکر اور قابل خوف ہے جس دن ہر ایک امت میں سے ایک کے پیغمبر گواہی دینے کے لئے بلائے جائیں گے پھر وہ امت کی نا فرمانیوں کے حالات بیان کریں گے اور چونکہ اے پیغمبر آپ بھی صاحب امت رسول ہیں اس لئے آپ بھی اپنی امت پر گواہ بنا کر لائے…
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد اس امت کا نبی ہے۔ اور ان ہی میں کا کا ہونا عام ہے خواب باعتبار شرک نسب کے ہو خواہ باعتبار شرکت سکنی کے ہو۔
Read the full tafseer →ہر ایک امت کے لئے ایک گواہ ہوگا اور نبی کریم ﷺ ان سب پر گواہ ٹھہریں گے :
101۔ بلاشبہ آپ ﷺ کی شہادت ایک عالمگیر شہادت ہوگی جو سب کے مقابلہ میں حجت ہوگی ۔ جس طرح سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ان کی امتوں پر بطور گواہ طلب کیا جائے گا بعینہ اسی طرح آپ کو اپنی امت پر گواہ کے طور پر لایا جائے گا اس لئے ظاہر ہے کہ شہادت تو آپ ﷺ بھی اپنی امت کے متعلق دیں گے لیکن آپ ﷺ کی امت دعوت تو ساری انسانی آبادی ہے اس لئے آپ ﷺ کی شہادت بھی ایک عالمگیر شہادت ہوگی ، یہ مضمون اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے لیکن ہم نے اس کو سورة النساء 4 کی آیت 41 کے تحت مفصل طور پر بیان کردیا ہے قارئین سے درخواست ہے کہ وہ تفصیل کے…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 89, by saying: وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ the Qur'an has been credited as the exposition of everything. It means everything about the religion because the objective of Divine revelation and Prophetic mission concerns with these very things. Therefore, the very effort to cull out answers to problems pertaining to economic sciences from the Qur’ an is an exercise in error. However, the appearance of some implied hint some-where there shall not be deemed contrary to this. Now remains the question that the Qur’ an does not carry answers to all…
Read the full tafseer →86. The Quran makes manifest everything on which depends guidance or deviation, success or failure. Whose knowledge is essential for following the right way. What clearly distinguishes truth from falsehood.
In this connection one should guard against that meaning of this sentence and the like in the Quran according to which some people interpret“everything”to mean the knowledge of all sciences, arts, etc. and in order to prove the correctness of their interpretation, they have to pervert the real meaning of the Quran.
87. This Book is a guidance for those who surrender to it as a divine Book…
Read the full tafseer →