Explained with ayahs 84–88
ہر امت کا گواہ اس کا نبی
قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 85
یعنی ایک عذاب خود کفر کرنے کا اور دوسرا عذاب دوسروں کو راہ خدا سے روکنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
خلاصہ تفسیر
اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (کہ اس امت کا پیغمبر ہوگا) قائم کریں گے (جو ان کے اعمال سیہ کی شہادت دیں گے) پھر ان کافروں کو (عذر و معذرت کرنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی (یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کر کے اللہ کو خوش کرلو، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں) اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے (یعنی اس میں پڑیں گے) تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ (اس میں) کچھ مہلت دئیے جائیں گے (کہ چند روز کے بعد وہ عذاب جاری کیا جائے)…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن۔
شرک کے لیڈروں کے لیے مزید عذاب۔ یہ کفار و مشرکین کے ان لیڈروں کی طرف اشارہ ہے جو صرف خود ہی مبتلائے کفر و شرک نہیں تھے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ فرمایا کہ ہم ان کے اس افساد کی پاداش میں ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے۔ ان کو خود ان کی گمراہی کی بھی سزا بھگتنی ہوگی اور دوسروں کی گمراہی میں ان کا جو حصہ ہوگا اس کے بقدر وہ اس کی سزا بھی بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →88۔ 1 جس طرح جنت میں اہل ایمان کے درجات مختلف ہوں گے، اسی طرح جہنم میں کفار کے عذاب میں فرق ہوگا جو گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے ہونگے، ان کا عذاب دوسروں کی نسبت شدید تر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔
38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوقا العذاب بما کانوا یفسدون (61 : 88) ” جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا ، انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس فساد کے بدلے جو دنیا میں وہ برپا کرتے تھے۔ بیشک کفر بذات خود ایک فساد ہے ، دوسرے کو کافر بنانا بہت بڑا فساد ہے۔ انہوں نے اپنے کفر کے جرم کا بھی ارتکاب کیا اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکا۔ اس لئے ان کا عذاب دگنا کردیا گیا۔ یہی ان کے جرم کا پورا بدلہ ہے۔
یہ معامہ تمام اقوام کا ہوگا لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کا معاملہ یوں ہوگا۔
Read the full tafseer →6 یعنی ایک عذاب تو انکار حق پر، دوسرا اس پر کہ اوروں کو خدا کی راہ سے روکا۔ یا ایک عذاب صدور جرم پر دوسرا اس کی عادت ڈالنے پر۔ بہرحال آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح جنت میں اہل جنت کے منازل و مدارج متفاوت ہوں گے، جہنمیوں کا عذاب بھی کمًّا و کیفًا و نوعاً متفاوت ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 88 اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ
ان لوگوں کا عذاب بتدریج بڑھتا ہی چلا جائے گا جنہوں نے نہ صرف حق کو جھٹلایا بلکہ اس کے خلاف سازشیں کیں اور لوگوں کو ورغلا کر اللہ کے رستے سے روکتے رہے۔
Read the full tafseer →89 کیونکہ وہ دوہرے تہرے مجرم ہیں۔ ایک یہ کہ خود اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور اس کی مخالفت کرتے رہے۔ دوسرے مختلف طرح کے حیلوں بہانوں سے دوسرے لوگوں کو حق قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے۔ ایمان لانے والوں پر ظلم و تشدد کرتے رہے۔
Read the full tafseer →138۔ پہلی سزامبتلائے کفر رہنے پر ہوگی، اور دوسری سزا دوسروں کے مبتلائے کفر کرنے پر ملے گی، اے زادوا علی کفرھم صدغیرھم عن الایمان فھم فی الحقیقۃ ازدادوا کفرا علی کفر فلاجرم یزیدھم اللہ تعالیٰ عذابا علی عذاب (کبیر) (آیت) ” فوق العذاب “۔ یہ عذاب تو وہی کفر والا ہے۔ المستحق بکفرھم (بیضاوی) (آیت) ” زدنھم عذابا۔۔۔ بماکانوا یفسدون “۔ یہ زاید عذاب سزائے اضلال واغواء ہوگی، بکونھم مفسدین بصدھم (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے…
Read the full tafseer →الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوق العذاب بما کانوا یفسدون جو لوگ کفر کرتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے ‘ ہم ان کی فساد انگیزی کی پاداش میں سزا پر اور سزا کا اضافہ کردیں گے۔
ا اللہ کی راہ یعنی اسلام سے لوگوں کو روکتے اور کفر پر آمادہ کرتے تھے۔ عذاب کی زیادتی کا یہ مطلب ہے کہ کفر کی جس سزا کے مستحق ہوں گے ‘ اس میں کافر گری اور راہ خدا سے روکنے کا مزید اضافہ ہوجائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے عَذَابًا کی تشریح میں فرمایا : بچھو ہوں گے جن کے ڈنک کھجور کے لمبے درختوں کے برابر ہوں گے۔ ابن مردویہ نے حضرت براء کی روایت سے اسی معنی کی حدیث مرفوع بھی نقل کی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا :…
Read the full tafseer →(88) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی دین الہی اور اطاعت خداوندی سے منع کرتے ہیں تو ہم دوزخ کے عذاب میں سانپوں، بچھوؤں، بھوک اور پیاس اور زمہریر وغیرہ کی اور ان پر زیادتی کردیں گے، بمقابلہ ان کی نافرمانیوں اور ان کے اقوال وافعال شرکیہ کے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا۔۔ : ان لوگوں کو ہم عذاب پر عذاب زیادہ کرتے جائیں گے، کیونکہ وہ دوہرے مجرم ہوں گے۔ ایک عذاب ان کے کفر کی وجہ سے اور ایک دوسروں کو اللہ کی راہ، یعنی اسلام سے روکنے کی وجہ سے۔ ان کے گمراہ کردہ لوگوں کو جتنا عذاب ہوگا، ان کے اپنے عذاب کے ساتھ وہ بھی شامل ہوجائے گا، بلکہ قیامت تک ان کے گمراہ کردہ لوگوں کی جد و جہد کے نتیجے میں جب بھی کوئی گمراہ ہوگا، تو اس کو دیے جانے والے عذاب جتنا عذاب ان سب لوگوں کے عذاب میں بھی بڑھا دیا جائے گا جو اس کی گمراہی کا باعث بنے۔ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ اہل جہنم کے عذاب کے لحاظ سے کئی درجے ہوں گے۔
اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا : اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 88
قولہ تعالیٰ : الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زرنھم عذابا فوق العذاب حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا : وہ بچھو ہیں جن کی داڑھیں کھجور کے درخت کی طرح طویل ہوں گی، اور سانپ ہیں جو اونٹ کی گردن کی مثل ہوں گے، اور اژدھا ہیں گویا کہ وہ لمبی گردن والے اونٹ ہیں وہ انہیں ماریں گے (اور ان پر مسلط ہوں گے) پس یہی زیادتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے انہیں آگ سے زمہر یر کی طرف نکالا جائے گا پس وہ اس کی سخت اور شدید سردی اور ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی طرف بھاگیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ہم نے ان کی قیادت کرنے والوں پر ان کی اتباع کرنے والوں کی نسبت عذاب بڑھا دیا، پس دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَصَدُّوْا : اور انھوں نے روکا (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ سے ] [ زِدْنٰهُمْ : ہم بڑھائیں گے ان کو ] [ عَذَابًا؛بلحاظ عذاب کے ] [ فَوْقَ الْعَذَابِ : اس عذاب کے اوپر ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانوْا يُفْسِدُوْنَ : وہ لوگ نظم بگاڑتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 88 میں عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو ایک عذاب خود کفر کرنے کا اور اس کے اوپر دوسرا عذاب دوسرے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن کے چند مناظر، کافروں اور مشرکوں کے لیے عذاب کی وعید
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر ذکر فرمائے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت میں سے ہم ایک گواہ قائم کریں گے یہ گواہ ان کا پیغمبر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں گواہی دے گا، جب کفار قیامت کے دن جمع ہوں گے تو انہیں کسی قسم کے عذر اور معذرت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرلو اور راضی کرکے عذاب سے چھوٹ جاؤ کیونکہ راضی کرنے کا موقع صرف دنیا ہی میں تھا وہاں کفر سے توبہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ راضی ہوجاتا لیکن جب کفر پر موت آگئی تو اب اپنے رب کو راضی کرنے کا کوئی راستہ نہ رہا اب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔
(ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
70:۔ قیامت کے روز مشرکین سر افگندہ ہوں گے اور عذاب کے لیے تیار ہونگے اور جن خود ساختہ حمایتیوں اور سفارشیوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی کام نہیں آئے گا۔ ” الذین کفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ وہ کفار جو نہ خود مانتے تھے اور نہ دوسروں کو ماننے دیتے تھے انہیں دوگنا تگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ وہ خود تو گمراہ تھے ہی اس کے ساتھ انہوں نے مخلوقِ خدا کو بھی گمراہ کیا اور انہیں جہنم میں دھکیلا۔ ای عذابا بکفرہم وعذابا بصدھم عن سبیل اللہ (مدارک ج 2 ص 229) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(ربط آیات)
شرک اور مشرکین کے روکے بعد اللہ نے عذاب کی وعید سنائی اور مشرکین و کفار کے متعلق فرمایا کہ جب وہ عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر نہ تو اس میں تخفیف ہوگی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائیگی اور اللہ تعالیٰ راضی کرسکیں ، مشرک لوگ اپنے معبودوں کو دیکھ کر اقرار کریں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے رہے مگر وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ ہمیں معبود مان کر ہماری عبادت کرنے لگو ، یہ تو خود ہی من مانی کرتے رہے فرمایا اس وقت ان کی تمام خود ساختہ کاروائیاں گم ہو کر رہ جائیں گی ،
(اسلام کے راستے میں رکاوٹ)
اسی عذاب کی وعید کے تسلسل میں ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ 88
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : یوم اذکر محذوف سے منصوب۔ یستعتبون لایطلب منھم العتبی ای الرجوع الی مایرضی اللہ۔ قالوا ربنا جواب ہے اذا را الذین کا۔
تفسیر : منکرین انعامِ الٰہی اور ان کے ان بیہودہ حرکات کا ذکر کر کے جو آخرت میں بازپرس کے قابل ہیں یوم نبعث سے لے کر آخر تک روز حشر کی کیفیت ‘ بازپرس اور حساب و کتاب بیان فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایک ایک گواہ بلائیں گے جو اس قوم مشرک و کافر کے مقابلہ میں گواہی دے گا کہ ہم نے ان کے پاس توحید و احکامِ الٰہی پہنچائے پر انہوں نے نہ مانا (گواہی دینے والے انبیاء یا ان کے جانشین ہیں جن سے کوئی گروہ خالی نہیں) گواہی کے بعد وہ اجازت مانگیں گے کہ ہم پھر دنیا میں جائیں۔ یہ قبول…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰـہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 88)
(جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے، اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے۔ )
مشرکوں کے لیڈروں کے لیے مزید عذاب
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا اور اسی کفر کی حالت میں آخرت کو سدھار گئے انھیں تو اپنے کفر کی سزا ملے گی اور وہ سزا بھی پِتّہ کو پانی کردینے والی ہے، لیکن جن لوگوں نے نہ صرف کہ اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی امکانی حد تک دوسروں کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مجرمین کا اپنے معبودان باطل کے بارے میں اقرار۔
قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی کئی بار بیان کی ہے کہ محشر کے میدان میں مختلف مراحل پر مشرکین کا اپنے معبودوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوگا۔ مشرک جن لوگوں کو دنیا میں مشکل کشا سمجھ کر نذرانے پیش کرتے اور ان کو سجدے کیا کرتے تھے ان کو پہچانتے ہوئے فریاد کے انداز میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے معبود۔ جن کو ہم تیرے سوا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے دوسرے مقام پر قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے معبودان باطل کو دیکھ کر رب ذوالجلال سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اس…
Read the full tafseer →دو عذابوں کا حقدار :
88: اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (وہ لوگ جو کافر ہوئے) ذاتی طور پر وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور انہوں نے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا) اور دوسروں کو کفر پر آمادہ کیا۔ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ (ہم ان کے عذاب پر عذاب میں اضافہ کریں گے) ایک ان کے خود کفر کا عذاب اور دوسرا اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کا عذاب بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ (اس سبب سے کہ وہ فساد انگیزی کرتے تھے) اس وجہ سے کہ وہ روکنے کی وجہ سے لوگوں کو فساد میں مبتلا کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →(88)” الذین کفرواوصدوا عن سبیل اللہ “ وہ لوگوں کو راہ حق سے روکتے تھے۔ ” زردنا ھم عذاباً فوق العذاب “ عبداللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بچھو ہیں جن کے ڈنگ کھجور کے لمبے درختوں کے برابر ہوں گے۔ سعید بن جبیر نے کہا سانپ ہوں گے، بختی اونٹی کی طرح اور بچھوہوں گے خچروں کے مثل جن کے ایک مرتبہ کاٹنے کا اثر چالیس سال تک ڈسا ہوا آدمی محسوس کرتا رہے گا۔
ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ عرش کے نیچے سے پگھلے ہوئے تانبے پیتل کے پانچ دریا نکلتے ہیں جو آگ کی طرح ہیں، ان دریائوں میں ان کو ڈبونے کی سزا دی جاتی ہے۔ تین دریائوں میں سے ایک رات کی مدت کے برابر اور دو دریائوں میں دن کی مدت کے برابر سزا پاتے…
Read the full tafseer →88۔ علماء مفسرین نے اس میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ وہ عذاب پر عذاب جو زیادہ دیا جاوے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے وہ کس قسم کا عذاب ہوگا لیکن اوپر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح مسلم کی روایت سے بیان ہوچکی ہے کہ جو کوئی شخص کوئی راستہ نیک نکالے تو اس نیک راستہ پر جتنے لوگ دنیا میں عمل کریں گے جس قدر اجر ان عمل کرنے والوں کو ملے گا اتنا ہی اجر نیک راستہ نکالنے والوں کو ملے گا اسی طرح جو کوئی شخص دنیا میں کوئی برا طریقہ ایجاد کرے گا تو جس قدر لوگ اس برے طریقہ پر چلیں گے جتنا عذاب ان کو ہوگا اتنا ہی عذاب برا رستہ نکالنے والے پر ہوگا 1 ؎۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوگیا کہ ہر نیکی اور بدی کا ثواب و عذاب اللہ…
Read the full tafseer →آیت : (88)
اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں مجرموں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے کہ انہوں نے کفر کیا ‘ آیات الٰہی کی تکذیب کی ‘ انبیاء و رسل کے خلاف جنگ کی ‘ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور گمراہی کے داعی بن گئے ‘ اس لئے وہ کئی گنا عذاب کے مستحق قرار پائے ‘ جس طرح ان کا جرم کئی گنا ہے اور جس طرح انہوں نے اللہ کی زمین میں فساد برپا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →183۔ لیڈر ان کفر و شرک کی حق دشمن کاروائیاں :۔
کہ یہ لوگ نورحق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” جنہوں نے روکا ہوگا اللہ کی راہ سے “ اپنے کفر وباطل کی ظاہری چمک دمک، جھوٹے ٹھاٹھ باٹھ، من گھڑت فلسفہ طرازیوں بہتان بازیوں اور دھونس دھاندلی وغیرہ وغیرہ کے ذریعے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے روک کر یہ لوگ اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی محرومیوں کا باعث بنے ہوں گے۔ اور اس طرح انہوں نے اپنی سیاہ بختی کے داغ کو اور پکا کیا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے دوہرے جرم کے مرتکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن مشرک اور شریکوں کا حال
تشریح : یہاں قیامت اور مشرکین کا انجام بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کافر، مشرک اور فسادی اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکیں گے، لہٰذا ہر وقت قیامت اور روز حساب کو ذہن میں رکھنا چاہیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں زیادہ تر اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہمارے شکر اور خدمت گزاری سے بالکل بےنیاز ہے وہ تو ہر ہر صورت سے بندے کی بھلائی ہی چاہتا ہے کیونکہ اس نے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ کھانے، پینے، رہنے سہنے، غرض بہترین زندگی گزارنے کے لیے اس قدر نعمتیں اور برکتیں عطا فرمائیں کہ جو شمار سے باہر ہیں پھر ان کو استعمال کے طریقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ…
Read the full tafseer →ف 1 کیونکہ ان کا جرم بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔ انہیں ایک عذاب تو خود کافر رہنے کا دیا جائے گا اور دوسرا عذاب اس چیز کا کہ انہوں نے دوسروں کو بہکایا اور انہیں اللہ کی راہ سے روکا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(16:88) صدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے روکا۔ صد وصدود مصدر انہوں نے (دوسروں کو) روکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا…
Read the full tafseer →نیکی سے روکنے کی سزا : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی برا کام کرے گا اس کو جو سزا اس برے کام کی مقرر ہے وہ تو ملے ہی گی اور جو برا کام کر کے دوسرے کسی کو نیک کام سے باز رکھے گا، اس باز رہنے والے کو جو سزا ہوگی اسی قدر اس باز رکھنے والے کو زیادہ سزا ملے گی۔ یعنی دوگنی سزا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
[57] ایک عذاب کفر کا اور دوسرا لوگوں کو راہ حق سے روکنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
(ف 1) قیامت کے دن جب وہ اپنے معبودوں کو دیکھیں گے ، تو ان سے کہیں گے کہ اللہ میاں یہی وہ ایک میں ، جن کی ہم نے پرستش کی تھی اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے مصالحانہ طریق سے گفتگو کریں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا جرم ہے اور گناہ عظیم ہے ، اور یقینا توحید ہی صواب وحق کی راہ ہے ۔
حل لغات :
السلم : صلح وآشتی ۔
Read the full tafseer →88 ۔ اور جو لوگ خود کفر کے مرتکب ہوئے اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے لئے سزا پر سزا بڑھا دینگے اس شرارت کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی ان کے ایک کفر کی سزا پر دوسری ان کی شرارت اور فساد انگیزی کی سزا کا اضافہ کردیں گے۔ اعادنا الہ منہ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
ف 5۔ یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کرکے اللہ کو خوش کرلو وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارلعمل نہیں۔
Read the full tafseer →شرارتیوں کو انکی شراتوں کی پاداش میں دھر لیا جائے گا :
100۔ رہی ان کافروں کی بات جو خود تو کافر تھے ہی لیکن وہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکنے کا باعث ہوئے ان کو ان کی ساری شرارتوں کا مزہ چکھنا ہوگا اس لئے فرمایا کہ ان کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اپنی گمراہی کا بھی اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی جن کو انہوں نے ہدایت قبول کرنے سے روکا اور انکے گناہوں کا وبال بھی ان پر پڑگیا اسی لئے وہ اپنے دوسرے گناہوں کی پاداش میں دھر لئے جائیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →85.“We will increase punishment over punishment”: one for their own disbelief and the other for hindering others from the Way of Allah.
Read the full tafseer →