Explained with ayahs 84–88
ہر امت کا گواہ اس کا نبی
قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 84
یعنی وہ سب غلط ثابت ہوں گی۔ جن جن سہاروں پر وہ دنیا میں بھروسا کیے ہوئے تھے وہ سارے کے سارے گم ہوجائیں گے۔ کسی فریاد رس کو وہاں فریاد رسی کے لیے موجود نہ پائیں گے۔ کوئی مشکل کشا ان کی مشکل حل کرنے کے لیے نہیں ملے گا۔ کوئی آگے بڑھ کر یہ کہنے والا نہ ہوگا کہ یہ میرے متوسل تھے، انہیں کچھ نہ کہا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
خلاصہ تفسیر
اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (کہ اس امت کا پیغمبر ہوگا) قائم کریں گے (جو ان کے اعمال سیہ کی شہادت دیں گے) پھر ان کافروں کو (عذر و معذرت کرنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی (یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کر کے اللہ کو خوش کرلو، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں) اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے (یعنی اس میں پڑیں گے) تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ (اس میں) کچھ مہلت دئیے جائیں گے (کہ چند روز کے بعد وہ عذاب جاری کیا جائے)…
Read the full tafseer →وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ لفظ سلم کی تحقیق آیت 28 کے تحت گزر چکی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ جن کی زندگی بھر پوجا کرتے رہے وہی رو در رو ان کو جھوٹا قرار دیں گے تو ان کے لیے عذر و معذرت اور اپنی بریت میں کچھ کہنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جائے گی پھر تو وہ بالکل بےبس ہو کر سپر ڈال دیں گے اور ان کے وہ دیوی دیوتا، جن کو خدا پر افترا کرکے انہوں نے خدا کا شریک بنایا تھا، سب غائب ہوجائیں گے۔
یہاں شرک کو افتراء سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین جن کو پوجتے تھے ان کی نسبت بالکل بےسند وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
86۔ 1 معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہوسکتا ہے ؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بیخبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بیخبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔
38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →والقوا الی اللہ مومئذ السلم (61 : 78) ” اور یہ سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے “۔ اور مشرکین کے ہاتھ ان کی افتراء پردازیوں میں سے کچھ بھی نہ آئے گا۔ وہ کسی دلیل پر اعتماد نہ کرسکیں گے اور ان کی تمام صحت بازیاں کافور ہوجائیں گی۔
وضل عنھم ما کانو یفترون (61 : 68) ” اور ان کی وہ سب افتراء پردازیاں ختم ہوجائیں گی “۔ اب فیصلہ یہ صادر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ لی اور دوسروں کے لئے بھی باعث گمراہی بنے ، ان کا عذاب دوگنا ہوگا کیونکہ انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے روکا۔
Read the full tafseer →5 یعنی ساری طمطراق اور افتراء پردازیاں اس وقت غائب ہوجائیں گی سب عاجز و مقہور ہو کر خدا کے سامنے اپنی اطاعت وانقیاد کا اظہار کریں گے (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) 19 ۔ مریم :38)
Read the full tafseer →آیت 87 وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ
ایسی مقدس ہستیوں کے بارے میں جو عقائد اور نظریات انہوں نے گھڑ رکھے تھے کہ وہ انہیں عذاب سے بچا لیں گے اور اللہ کی پکڑ سے چھڑا لیں گے ‘ ایسے تمام خود ساختہ عقائد میں سے اس دن انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہے گا اور عذاب کو دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
Read the full tafseer →88 یعنی مشرک لوگوں نے جن بزرگوں اور پیروں وغیرہ کے متعلق یہ سمجھ رکھا تھا کہ وہ اللہ کے سامنے سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان کی وہ بزرگ ہستیاں بھی اللہ کے حضور عاجز و ناتواں بندوں کی طرح کھڑے ہیں۔ تو سستی نجات کے جو افسانے انہوں نے تراش رکھے تھے وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔
Read the full tafseer →137۔ (اور جتنے سہارے اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر قائم کر رکھے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آئے گا) (آیت) ” والقوا الی اللہ یومئذ السلم “۔ یہ اطاعت اور خوشامد کی راہ اس وقت اختیار کریں گے، جب اپنے کو ہر طرح مجبور ومضطر پالیں گے، آخرت میں ان کا یہ طریق استلام و اطاعت دنیا کے ٹھیک طریق استکبار واعراض کے مقابل ہوگا۔ (آیت) ” ماکانوا یفترون “۔ افتراء پردازی یہی، کہ ہمارے یہ معبود ہمیں بچالیں گے، ہمارے کام آجائیں گے۔ (آیت) ” وضل عنھم “۔ یہی چیزیں تو سب ان سے بالکل گم ہوجائیں گی، ان خیالات وادہام کی واقعیت کا کہیں شائبہ بھی نہ ملے گا، اے بطل ماکانوا یأملون منہ ان الھتھم تشفع لھم عند اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے…
Read the full tafseer →والقوا الی اللہ یومئذ السلم وضل عنھم ما کانوا یفترون اور مشرک لوگ اس روز اللہ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ دورغ بندیاں کرتے تھے ‘ سب گم ہوجائیں گی۔ یعنی دنیا میں تو اللہ کی اطاعت سے تکبر کرتے تھے مگر قیامت کے دن اطاعت کا اظہار کریں گے اور جو جو دروغ تراشیاں کرتے اور کہتے تھے کہ ان کے معبود اللہ کے دربار میں سفارش کردیں گے ‘ وہ سب افترا پردازیاں بیکار ثابت ہوں گی۔
Read the full tafseer →(87) اور یہ مشرک لوگ اور ان کے معبود اس روز اللہ تعالیٰ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ جھوٹ بولا کرتے تھے وہ سب باطل ہوجائیں گے یا یہ کہ اپنے جھوٹے معبودوں سے الجھنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ۔۔ : ”السَّلَمَ“ کا معنی مطیع ہونا، فرماں بردار ہونا ہے۔ یعنی پہلے تو قسمیں کھا کر اپنے مشرک ہونے کا انکار کرتے رہیں گے، جیسا کہ سورة انعام (22، 23) اور سورة مجادلہ (18) میں ہے، پھر اپنے بنائے ہوئے شرکاء کو دیکھ کر انھیں اپنے ساتھ پھنسانے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا۔ جب وہ بھی انھیں صاف جھوٹا کہیں گے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ کھڑے کرکے ہر طرح فرماں بردار اور سرتا پا عجز و انکسار بن جائیں گے اور وہ تمام حاجت روا، مشکل کشا، داتا اور دستگیر جو انھوں نے بنا رکھے تھے اور جن کی مشکل کشائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت نمبر 86 تا 87
قولہ تعالیٰ : واذا را الذین اشرکوا شرکاءھم اس میں شرکاء سے مر اس ان کے لکڑی اور پتھر کے وہ بت ہیں جن کی وہ پوجا کرتے رہے ہے، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کو اٹھائے گا وہ ان کی اتباع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ اور صحیح مسلم میں ہے : ” جو کسی شے کی پرستش کرتا رہا ہے اسے چاہئے کہ وہ اس کے پیچھے اور اس کی اتباع میں ہوجائے پس سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے ہوجائیں گے، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے ہو کائیں گے اور جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ ان کے پیچھے ہوجائیں گے “۔ الحدیث۔ انہوں نے اسے حضرت انس ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…
Read the full tafseer →[وَاَلْقَوْا : اور وہ (مشرک) لوگ ڈالیں گے ] [ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ] [ يَوْمَىِٕذِۨ: اس دن ] [ السَّلَمَ : مکمل اطاعت ] [ وَضَلَّ : اور بھٹک (یعنی گم ہو) جائے گا ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ مَا : وہ جو ] [ كَانوْا يَفْتَرُوْنَ : وہ لوگ گھڑتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن کے چند مناظر، کافروں اور مشرکوں کے لیے عذاب کی وعید
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر ذکر فرمائے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت میں سے ہم ایک گواہ قائم کریں گے یہ گواہ ان کا پیغمبر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں گواہی دے گا، جب کفار قیامت کے دن جمع ہوں گے تو انہیں کسی قسم کے عذر اور معذرت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرلو اور راضی کرکے عذاب سے چھوٹ جاؤ کیونکہ راضی کرنے کا موقع صرف دنیا ہی میں تھا وہاں کفر سے توبہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ راضی ہوجاتا لیکن جب کفر پر موت آگئی تو اب اپنے رب کو راضی کرنے کا کوئی راستہ نہ رہا اب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔
(ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
70:۔ قیامت کے روز مشرکین سر افگندہ ہوں گے اور عذاب کے لیے تیار ہونگے اور جن خود ساختہ حمایتیوں اور سفارشیوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی کام نہیں آئے گا۔ ” الذین کفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ وہ کفار جو نہ خود مانتے تھے اور نہ دوسروں کو ماننے دیتے تھے انہیں دوگنا تگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ وہ خود تو گمراہ تھے ہی اس کے ساتھ انہوں نے مخلوقِ خدا کو بھی گمراہ کیا اور انہیں جہنم میں دھکیلا۔ ای عذابا بکفرہم وعذابا بصدھم عن سبیل اللہ (مدارک ج 2 ص 229) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کے رد میں بہت سے دلائل اور نشانات قدرت بیان فرمائے اور مشرکوں کی ناشکری کا ذکر کیا ، اب آج کے درس میں کفار ومشرکین کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جب محاسبے کی منزل آئیگی تو انہیں سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ، جس میں تخفیف بھی نہیں ہوگی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “۔ اور جس دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے ، اس مقام پر گواہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور گواہی سے مراد تبلیغ رسالت کو گواہی ہے ، ہر نبی اپنی امت کے متعلق اللہ کے حضور ﷺ گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا ، مگر انہوں نے اسے…
Read the full tafseer →وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 87
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : یوم اذکر محذوف سے منصوب۔ یستعتبون لایطلب منھم العتبی ای الرجوع الی مایرضی اللہ۔ قالوا ربنا جواب ہے اذا را الذین کا۔
تفسیر : منکرین انعامِ الٰہی اور ان کے ان بیہودہ حرکات کا ذکر کر کے جو آخرت میں بازپرس کے قابل ہیں یوم نبعث سے لے کر آخر تک روز حشر کی کیفیت ‘ بازپرس اور حساب و کتاب بیان فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایک ایک گواہ بلائیں گے جو اس قوم مشرک و کافر کے مقابلہ میں گواہی دے گا کہ ہم نے ان کے پاس توحید و احکامِ الٰہی پہنچائے پر انہوں نے نہ مانا (گواہی دینے والے انبیاء یا ان کے جانشین ہیں جن سے کوئی گروہ خالی نہیں) گواہی کے بعد وہ اجازت مانگیں گے کہ ہم پھر دنیا میں جائیں۔ یہ قبول…
Read the full tafseer →وَاَلْقَوْا اِلَی اللّٰہِ یَوْمَئِذِ نِ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 87)
(وہ اس دن اللہ تعالیٰ کے آگے سپر ڈال دیں گے اور جو کچھ وہ افترا کرتے رہے تھے وہ سب ہوا ہوجائے گا۔ )
غور فرمایئے، مشرکین کا معاملہ آخرت میں عجیب صورت اختیار کرجائے گا۔ ان لوگوں نے زندگی بھر جن کے سہارے پر شرک کیا اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو درخورِاعتنا نہ سمجھا اور اپنی ہر مشکل میں انھیں دیویوں اور دیوتائوں کو پکارا اور زندگی بھر اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہمیں جو ملتا ہے انھیں بتوں یا انھیں دیوتائوں کے توسل سے ملتا ہے لیکن اب جبکہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے عجیب منظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مجرمین کا اپنے معبودان باطل کے بارے میں اقرار۔
قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی کئی بار بیان کی ہے کہ محشر کے میدان میں مختلف مراحل پر مشرکین کا اپنے معبودوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوگا۔ مشرک جن لوگوں کو دنیا میں مشکل کشا سمجھ کر نذرانے پیش کرتے اور ان کو سجدے کیا کرتے تھے ان کو پہچانتے ہوئے فریاد کے انداز میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے معبود۔ جن کو ہم تیرے سوا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے دوسرے مقام پر قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے معبودان باطل کو دیکھ کر رب ذوالجلال سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اس…
Read the full tafseer →87: وَاَلْقَوْا یعنی وہ ظالم و کافر اِلَی اللّٰہِ یَوْمَئِذِ نِالسَّلَمَ (وہ مشرک لوگ اس روز اللہ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے) القاء السلم سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے مکمل فرما نبرداری اس کے بعد کہ دنیا میں انکار اور استکبار سے کام لیا۔ وَضَلَّ عَنْہُمْ (اور ان سے گم ہوجائیں گے) اور باطل ہوجائیں گے مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (جو وہ افتراء کیا کرتے تھے) کہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کریں گے جبکہ وہ ان کی تکذیب کریں گے ایک اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →(87)” والقوا “ اور مشرک لوگ اللہ کے سامنے اس روز باتیں کرنے لگیں گے۔” الی اللہ یومذ السلم “ وہ اطاعت کرنے اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کا اظہار کریں گے اور اس دن ان کے معبود ان کو کسی چیز کا فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ ” وضل “ وہ گم ہوجائیں گی۔” عنھم ما کانو ایفترون “ اس طور پر کہ ان کی سفارش کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
84۔ 87۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے نتیجے جو قیامت کے دن ہوں گے ان کو ان آیتوں میں بیان فرمایا کہ ہر ایک امت کا گواہ اس روز اس امت کا پیغمبر کھڑا ہو کر اس بات کی گواہی دے گا کہ جو پیغام خدا کی طرف سے ان کے پاس پہنچایا گیا اس کا کیا جواب ان لوگوں نے دیا کس کس نے ان کی رسالت کی تصدیق کی اور کس کس نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ لیکن اس نے مخلوق کے حساب و کتاب کا دارو مدار اپنے علم پر نہیں رکھا ہے جس طرح دنیا میں انسان کی عادت جاری ہے کہ ہر ایک مقدمہ میں گواہ پیش ہو کر فیصلے ہوا کرتا ہے اسی طرح آخرت میں بھی گواہوں کی شہادت سن کر فیصلہ کیا جائے گا غرض کہ جس وقت انبیاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت : (84-87)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا “ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا ‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →182۔ اہل کفر وباطل کی تمام افتراء پردازیاں اس روز تتر بتر :۔
سوکشف حقائق کے اس یوم عظیم میں اصل صورت سامنے آجائے گی۔ اور کھو جائیں گی ان کی وہ سب افتراء پردازیاں جو یہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ کہ یہ ہمرے حاجت روا مشکل کشا ہیں۔ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں کہ ہم فلاں فلاں ہستیوں کے نام لیوا اور پیرو کار ہیں۔ ہم ان کے در کے کتے ہیں اور اس بناء پر وہ فخریہ طور اپنے آپ کو ” سگ درگاہ فلاں “ کہا کرتے تھے۔ اور ان کا کہنا ہوتا کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی سرکاریں ہیں۔ یہ اڑ کر بیٹھ جائینگی اور ہمارا کام بنا کر چھوڑ دیں گی وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح مشرکوں کی تمام افتراء پردازیاں اس روز ھباء منثورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن مشرک اور شریکوں کا حال
تشریح : یہاں قیامت اور مشرکین کا انجام بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کافر، مشرک اور فسادی اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکیں گے، لہٰذا ہر وقت قیامت اور روز حساب کو ذہن میں رکھنا چاہیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں زیادہ تر اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہمارے شکر اور خدمت گزاری سے بالکل بےنیاز ہے وہ تو ہر ہر صورت سے بندے کی بھلائی ہی چاہتا ہے کیونکہ اس نے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ کھانے، پینے، رہنے سہنے، غرض بہترین زندگی گزارنے کے لیے اس قدر نعمتیں اور برکتیں عطا فرمائیں کہ جو شمار سے باہر ہیں پھر ان کو استعمال کے طریقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ…
Read the full tafseer →ف 11 نہ کوئی بت ان کے کام آئے گا نہ کوئی مشکل کشا ان کی مشکل آسان کرے گا اور نہ کوئی دیوتا یا ٹھاکر یا غوث یا ہر پیر ایسا ہوگا جو آگے بڑھ کر ان کی سفارش کرسکے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھٹکارا دلا سکے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(16:87) القوا میں ضمیر فاعل کا مرجع مشرکین۔ نیز اوپر 16:86 ۔ ملاحظہ ہو۔
ضل۔ ضل یضل (باب ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ ضلال وضلالۃ مصدر۔ گمراہ ہونا۔ بھٹک جانا راہ حق سے۔ مر کر مٹی میں گل سڑ جانا۔ (کوشش کا) برباد جانا۔ راستے سے بہک جانا۔ فراموش کرنا۔ ضائع کرنا۔ ضائع ہونا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہوجانا۔
ضالۃ ج ضوال۔ گم شدہ چیز جس کی تلاش کی جائے۔ الحکمۃ۔ ضالۃ المؤمن فھو احق بھا حیث وجدھا۔
ضل عنہم ما کانوا یفترون۔ اور جو افتراء پردازی وہ کیا کرتے تھے وہ سب کافور ہوجائے گی۔ یعنی اپنے معبودانِ باطل سے جو امیدیں انہوں نے وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
خدائے تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ
مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور کفار جنہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے دنیا میں اپنی جان پر ظلم کیا تھا جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے اور ان پر عذاب ہونے لگے گا تو پھر اس میں کمی نہیں کی جاوے گی، دم لینے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ اور جس وقت مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں دنیا میں پوجتے تھے اور خدا کا شریک ٹھہراتے تھے تو کہنے لگیں گے کہ : اے رب یہی ہمارے وہ شریک ہیں، جنہیں ہم تیرے سوا دنیا میں پوجتے اور پکارتے تھے۔ انہیں کی نسبت ہمارا یہ خیال تھا کہ ان کے سبب سے ہمیں تیری قربت حاصل ہوگی اور انہٰیں کی نسبتہ ہمارا یہ خیال تھا کہ تیرے دربار میں یہ ہماری شفاعتر کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
[56] یعنی ہم نے تم سے کبھی یہ نہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر اپنی حاجت روائی کے لئے ہمیں پکارو۔ آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں '' شرکاء '' سے مراد بت نہیں ہیں بلکہ وہ انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جن کو ان کے معتقدین ان کی وفات کے بعد انھیں نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
(ف 1) قیامت کے دن جب وہ اپنے معبودوں کو دیکھیں گے ، تو ان سے کہیں گے کہ اللہ میاں یہی وہ ایک میں ، جن کی ہم نے پرستش کی تھی اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے مصالحانہ طریق سے گفتگو کریں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا جرم ہے اور گناہ عظیم ہے ، اور یقینا توحید ہی صواب وحق کی راہ ہے ۔
حل لغات :
السلم : صلح وآشتی ۔
Read the full tafseer →87 ۔ اور مشرک اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف اطاعت و فرمانبرداری کا پیغام ڈالیں گے اور جو افترا پر دازیاں وہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گی ۔ یعنی سب طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے روبرو اطاعت وانقیاد کا اظہار کرنے لگیں گے اور دنیا میں جس تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے اور شجی مارا کرتے تھے وہ سب باتیں جاتی رہیں گی اور سب لن ترانیاں گم ہوجائیں گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
ف 5۔ یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کرکے اللہ کو خوش کرلو وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارلعمل نہیں۔
Read the full tafseer →وہ عاجزی پیش کریں گے اور ان کے سارے سہارے ختم ہوجائیں گے :
99۔ اور مشرکین اس روز اللہ تعالیٰ سے صلح اور اطاعت کی طرح ڈال چلیں گے اور جو کچھ وہ افترادازیاں کرتے رہے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گی اور جتنے سہارے اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر قائم کر رکھے تھے ان میں سے کوئی ان کے کام نہ آئے گا ۔ وہ اطاعت اور خوشامد کی راہ میں اس وقت اختیار کریں گے جب ماپنے آپ کو ہر طرح مجبور ومضطر پائیں گے ، آخرت میں ان کا یہ طریق استدلال و اطاعت دنیا کے ٹھیک طریق استکبار واعراض کے مقابل ہوگا ۔ مطلب واضح ہے کہ جن جن سہاروں پر وہ دنیا میں بھروسہ کئے ہوئے تھے وہ سارے کے سارے گم ہوجائیں گے ، کسی فریاد رسی کیلئے موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →84. That is, all those things on which they had relied will prove to be false, for they will not find anyone to hear their supplication nor anyone to remove their hardships. Nay, there will be none who will come forward and say: These are my dependents, so no action should be taken against them.
Read the full tafseer →