Explained with ayahs 84–88
ہر امت کا گواہ اس کا نبی
قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 83
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بجائے خود اس واقعہ کا انکار کریں گے کہ مشرکین انہیں حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے پکارا کرتے تھے، بلکہ دراصل وہ اس واقعہ کے متعلق اپنے علم و اطلاع اور اس پر اپنی رضامندی و ذمہ داری کا انکار کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو، نہ ہم تمہاری اس حرکت پر راضی تھے، بلکہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہمیں پکار رہے ہو۔ تم نے اگر ہمیں سمیع الدُّعا اور مجیب الدعوات، اور دستگیر و فریاد رس قرار دیا تھا تو یہ قطعی ایک جھوٹی بات تھی جو تم نے گھڑ لی تھی اور اس کے ذمہ دار تم خود تھے۔ اب ہمیں اس کی ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
خلاصہ تفسیر
اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (کہ اس امت کا پیغمبر ہوگا) قائم کریں گے (جو ان کے اعمال سیہ کی شہادت دیں گے) پھر ان کافروں کو (عذر و معذرت کرنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی (یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کر کے اللہ کو خوش کرلو، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں) اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے (یعنی اس میں پڑیں گے) تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ (اس میں) کچھ مہلت دئیے جائیں گے (کہ چند روز کے بعد وہ عذاب جاری کیا جائے)…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَاۗءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ شُرَكَاۗؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ ۚ فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ۔
مشرکین اور ان کے شریکوں میں رد و بدل یعنی آج یہ مشرکین اپنے جن شریکوں پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں وہ بھی رو در رو ان کو جھوٹا قرار دیں گے۔ یہ جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے تو پکاریں گے کہ اے پروردگار ! یہی ہیں وہ جن کو ہم تیرے سوا پکارتے رہے ہیں وہ جھٹ ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم بالکل جھوتے ہو۔ یعنی ہمیں کیا خبر کہ تم ہمیں پکارتے رہے ہو۔ اگر تم اس حماقت و جہالت میں مبتلا رہے ہو تو ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
86۔ 1 معبودان باطلہ کی پوجا کرنے والے اپنے اس دعوے میں جھوٹے تو نہیں ہوں گیں۔ لیکن شرکا جن کو یہ اللہ کا شریک گردانتے تھے، کہیں گے یہ جھوٹے ہیں۔ یہ یا تو شرکت کی نفی ہے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہرانے میں یہ جھوٹے ہیں، بھلا اللہ کا شریک کوئی ہوسکتا ہے ؟ یا اسلئے جھوٹا قرار دیں گے کہ وہ ان کی عبادت سے بالکل بیخبر تھے، جس طرح قرآن کریم نے متعدد جگہ اس بات کو بیان فرمایا ہے۔ ' ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے کہ ہم اس بات سے بیخبر تھے کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–91
37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔
38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔
فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔
Read the full tafseer →3 یعنی ہم تو ان کی بدولت مارے گئے۔ شاید یہ مطلب ہو کہ ہم بذات خود بےقصور ہیں، یا یہ کہ انھیں دہری سزا دیجئے۔
4 یعنی جھوٹے ہو جو ہم کو خدا کا شریک ٹھہرا لیا۔ ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو۔ فی الحقیقت تم محض اپنے اوہام و خیالات کو پوجتے تھے جس کے نیچے کوئی حقیقت نہ تھی، یا جن و شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ مگر وہاں شیطان بھی یہ کہہ کر الگ ہوجائے گا (وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ) 14 ۔ ابراہیم :22) غرض جن چیزوں کو مشرکین نے معبود بنا رکھا تھا، سب اپنی علیحدگی اور بیزاری کا اظہار کریں…
Read the full tafseer →فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ
شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ…
Read the full tafseer →87 یعنی جنہیں حاجت روا اور مشکل کشا یا فریاد رس یا دستگیر وغیرہ سمجھ کر پکارا جاتا رہا۔ وہ مشرکوں یا اپنے پکارنے والوں کو اس لحاظ سے جھوٹا نہیں کہیں گے کہ وہ انھیں پکارا نہیں کرتے تھے بلکہ اس لحاظ سے کہیں گے کہ ہم تو خود اللہ کے فرمانبردار بندے بن کر زندگی گزارتے رہے۔ ہم نے کبھی ایسا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ ہم لوگوں کی حاجت روائیاں کرسکتے ہیں۔ اور اگر تم لوگ ایسا کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں اس کی خبر تک نہ تھی۔ پھر آخر تم نے ایسی غلط اور جھوٹی من گھڑت باتیں ہماری طرف کیوں منسوب کر رکھی تھیں۔ تمہارے ایسے عقیدے سراسر جھوٹ اور باطل پر مبنی ہیں۔
Read the full tafseer →136۔ (تم حقیقۃ تو پرستار صرف اپنے نفس اور اپنی ہوا وہوس کے تھے، اور اپنی پرستاری کو منسوب ہماری جانب کردیتے تھے) (آیت) ” شرکآء ھم۔ شرکآؤنا “۔ شریکوں، سے مراد ان کے وہی دیوی دیوتا، ٹھاکر وغیرہ ہیں، جنہیں یہ شریک خدائی سمجھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے…
Read the full tafseer →واذارا الذین اشرکوا شرکاء ھم قالوا ربنا ھولاء شرکاؤنا الذین کنا ندعو من دونک : اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں (یعنی بتوں) کو دیکھیں گے تو کہیں گے : وہ ہمارے (مفروضہ ‘ بنائے ہوئے) شریک یہی ہیں جن کو ہم تیرے سوا پوجتے تھے۔ یعنی یہ وہی معبود ہیں جن کی عبادت ہم کرتے تھے ‘ یا جن کی اطاعت ہم کرتے تھے۔ یہ مشرکوں کی طرف سے اپنی غلطی کا اعتراف ہوگا ‘ یا اس درخواست کا یہ مقصد ہوگا کہ ہمارا عذاب آدھا کردیا جائے۔
فالقوا الیھم القول انکم لکذبون سو وہ (بت) ان (مشرکوں) کی طرف کلام کا رخ کریں گے اور کہیں گے : تم قطعاً جھوٹے ہو۔ یعنی اللہ بتوں کو گویا بنا دے گا اور کلام کرنے کی قدرت عطا کر دے گا اور بت…
Read the full tafseer →(86) اور جب یہ مشرک اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمارے معبود یہی ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور انہوں نے ہمیں اپنی پوجا کرنے کا حکم دیا تھا وہ بت فورا ان کو جواب دیں گے کہ تم جھوٹے ہو، ہم نے تمہیں اس چیز کا حکم نہیں دیا اور ہمیں تمہاری پوجا کی بھی خبر نہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا۔۔ : کفار جب اپنے ان شریکوں کو دیکھیں گے جنھیں وہ مدد کے لیے پکارتے رہے اور اللہ کا شریک بناتے رہے، یا جن کے بتوں یا قبروں کو پوجتے اور سجدہ و طواف کرتے رہے، جیسا کہ صحیح بخاری (4288) میں ذکر ہے کہ مشرکین مکہ نے کعبہ کے اندر ابراہیم اور اسماعیل ؑ کے بت بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ قیامت کے دن مشرکین ان بزرگوں کو دیکھیں گے تو اپنے جرم کو ہلکا کرنے اور اپنے بنائے ہوئے داتاؤں و دستگیروں کو اس جرم میں ساتھی بنانے کے لیے کہیں گے، پروردگار ! یہ لوگ ہیں جنھیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب فوراً سختی سے کہیں گے، بلاشک و شبہ یقیناً تم جھوٹے ہو۔ فوراً کا مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت نمبر 86 تا 87
قولہ تعالیٰ : واذا را الذین اشرکوا شرکاءھم اس میں شرکاء سے مر اس ان کے لکڑی اور پتھر کے وہ بت ہیں جن کی وہ پوجا کرتے رہے ہے، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کو اٹھائے گا وہ ان کی اتباع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ اور صحیح مسلم میں ہے : ” جو کسی شے کی پرستش کرتا رہا ہے اسے چاہئے کہ وہ اس کے پیچھے اور اس کی اتباع میں ہوجائے پس سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے ہوجائیں گے، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے ہو کائیں گے اور جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ ان کے پیچھے ہوجائیں گے “۔ الحدیث۔ انہوں نے اسے حضرت انس ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…
Read the full tafseer →[وَاِذَا : اور جب ] [ رَاَ : دیکھیں گے ] [ الَّذِينَ : وہ جنھوں نے ] [ اَشْرَكُوْا : شریک کیا ] [ شُرَكَاۗءَهُمْ : اپنے شریک کئے ہوئوں کو ] [ قَالُوْا : تو وہ کہیں گے ] [ رَبَّنَا : اے ہمارے رب ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [ شُرَكَاۗؤُنَا الَّذِينَ : ہمارے وہ شریک کئے ہوئے ہیں جن کو ] [ كُنَا نَدْعُوْا : ہم پکارا کرتے تھے ] [ مِنْ دُوْنِكَ ۚ : تیرے علاوہ ] [ فَاَلْقَوْا : تو وہ (شرکائ) ڈالیں گے ] [ اِلَيْهِمُ : ان (مشرکوں) کی طرف ] [ الْقَوْلَ : اس بات کو ] [ انكُمْ : (کہ) بیشک تم لوگ ] [ لَكٰذِبُوْنَ : یقینا جھوٹ کہنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن کے چند مناظر، کافروں اور مشرکوں کے لیے عذاب کی وعید
ان آیات میں روز قیامت کے بعض مناظر ذکر فرمائے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ قیامت کے دن ہر امت میں سے ہم ایک گواہ قائم کریں گے یہ گواہ ان کا پیغمبر ہوگا جو ان کے کفر کے بارے میں گواہی دے گا، جب کفار قیامت کے دن جمع ہوں گے تو انہیں کسی قسم کے عذر اور معذرت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے یوں کہا جائے گا کہ اللہ کو راضی کرلو اور راضی کرکے عذاب سے چھوٹ جاؤ کیونکہ راضی کرنے کا موقع صرف دنیا ہی میں تھا وہاں کفر سے توبہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ راضی ہوجاتا لیکن جب کفر پر موت آگئی تو اب اپنے رب کو راضی کرنے کا کوئی راستہ نہ رہا اب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ذکر قیامت
قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔
(ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ…
Read the full tafseer →69:۔ قیامت کے دن جب مشرکین ان خاصانِ خدا کو دیکھیں گے تو فوراً بول اتھیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ ہیں ہمارے حمایتی اور سفارشی جن کو ہم دنیا میں تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں۔ ” جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر پجواتا ہے اس سے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو “” فالقوا الخ “ یعنی وہ بزرگ مشرکین سے کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو جو ہمیں خدا شریک بتا رہے ہو نہ ہم نے کبھی تم سے کہا کہ ہماری عبادت کیا کرنا اور اگر تم نے اپنی بد بختی سے ایسا کیا بھی ہے تو خدا گواہ ہے ہمیں تمہاری عبادت اور پکار کی خبر بھی نہیں ” فکفی باللہ شہیدا بیننا و بینکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کے رد میں بہت سے دلائل اور نشانات قدرت بیان فرمائے اور مشرکوں کی ناشکری کا ذکر کیا ، اب آج کے درس میں کفار ومشرکین کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جب محاسبے کی منزل آئیگی تو انہیں سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ، جس میں تخفیف بھی نہیں ہوگی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “۔ اور جس دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے ، اس مقام پر گواہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور گواہی سے مراد تبلیغ رسالت کو گواہی ہے ، ہر نبی اپنی امت کے متعلق اللہ کے حضور ﷺ گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا ، مگر انہوں نے اسے…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَاۗءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ شُرَكَاۗؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ ۚ فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ 86ۚ
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ،
والثاني : الشِّرْكُ الصّغير،
وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : یوم اذکر محذوف سے منصوب۔ یستعتبون لایطلب منھم العتبی ای الرجوع الی مایرضی اللہ۔ قالوا ربنا جواب ہے اذا را الذین کا۔
تفسیر : منکرین انعامِ الٰہی اور ان کے ان بیہودہ حرکات کا ذکر کر کے جو آخرت میں بازپرس کے قابل ہیں یوم نبعث سے لے کر آخر تک روز حشر کی کیفیت ‘ بازپرس اور حساب و کتاب بیان فرماتا ہے کہ ہر قوم میں سے ایک ایک گواہ بلائیں گے جو اس قوم مشرک و کافر کے مقابلہ میں گواہی دے گا کہ ہم نے ان کے پاس توحید و احکامِ الٰہی پہنچائے پر انہوں نے نہ مانا (گواہی دینے والے انبیاء یا ان کے جانشین ہیں جن سے کوئی گروہ خالی نہیں) گواہی کے بعد وہ اجازت مانگیں گے کہ ہم پھر دنیا میں جائیں۔ یہ قبول…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآئَ ھُمْ قَالُوْا رَبَّنَا ھٰٓؤْلَآئِ شُرَکَآؤْنَا الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ ج فَاَلْقَوْا اِلَیْھِمُ الْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 86)
(اور جب وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا ہے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب یہی ہمارے وہ شرکاء ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے رہے تو وہ شریک انھیں جواب دیں گے یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو۔ )
مشرکین اور شریکوں میں توتکار
اس آیت کریمہ میں مشرکین سے ایک ایسی بات کہی جارہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مشرکین پر جو مصیبت پڑنے والی ہے وہ صرف عذاب ہی کی شکل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مجرمین کا اپنے معبودان باطل کے بارے میں اقرار۔
قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی کئی بار بیان کی ہے کہ محشر کے میدان میں مختلف مراحل پر مشرکین کا اپنے معبودوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوگا۔ مشرک جن لوگوں کو دنیا میں مشکل کشا سمجھ کر نذرانے پیش کرتے اور ان کو سجدے کیا کرتے تھے ان کو پہچانتے ہوئے فریاد کے انداز میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے معبود۔ جن کو ہم تیرے سوا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے دوسرے مقام پر قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے معبودان باطل کو دیکھ کر رب ذوالجلال سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اس…
Read the full tafseer →86: وَاِذَارَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآ ئَ ھُمْ (اور جب مشرک اپنے شرکاء کو دیکھیں گے) ان اوثان کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ قَالُوْا رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآ ئِ شُرَکَآ ؤُنَا (وہ کہیں گے اے ہمارے رب یہ ہمارے شرکاء ہیں) یعنی وہ معبود جن کو ہم نے تیرا شریک بنایا۔ الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ (وہ جن کو ہم تیرے سوا پکارتے تھے) نَدْعُوْا کا معنی عبادت کرنا۔ فَاَلْقَوْااِلَیْھِمُ الَْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُونَ (وہ ان کی طرف بات ڈالیں گے۔ بیشک تم جھوٹ بولتے ہو) وہ تکذیب کرتے ہوئے جواب دیں گے کیونکہ وہ جماد تھے وہ عابدین کو جانتے ہی نہ تھے کہ کون ان کی پوجا کررہا ہے۔ نمبر 2۔ احتمال یہ…
Read the full tafseer →(86)” واذا را الذین اشرکوا “ قیامت کے دن ” شرکاء ھم “ ان بتوں کو ” قالوا ربنا ھولاء شرکاء نا الدین کنا ندعو ا من دونک “ وہ دوست اور جوان کی عبادت کرتے ہیں۔ ” فالقوا “ ان بتوں کی طرف رخ کریں گے۔” الیھم القول “ اور ان کو کہیں گے ” انکم لکاذبون “ کہ تم ہمیں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے یا اس دعوے میں جھوٹے ہو کہ حقیقت میں تم ہماری پوجا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
84۔ 87۔ اللہ پاک نے مشرکوں کے نتیجے جو قیامت کے دن ہوں گے ان کو ان آیتوں میں بیان فرمایا کہ ہر ایک امت کا گواہ اس روز اس امت کا پیغمبر کھڑا ہو کر اس بات کی گواہی دے گا کہ جو پیغام خدا کی طرف سے ان کے پاس پہنچایا گیا اس کا کیا جواب ان لوگوں نے دیا کس کس نے ان کی رسالت کی تصدیق کی اور کس کس نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ لیکن اس نے مخلوق کے حساب و کتاب کا دارو مدار اپنے علم پر نہیں رکھا ہے جس طرح دنیا میں انسان کی عادت جاری ہے کہ ہر ایک مقدمہ میں گواہ پیش ہو کر فیصلے ہوا کرتا ہے اسی طرح آخرت میں بھی گواہوں کی شہادت سن کر فیصلہ کیا جائے گا غرض کہ جس وقت انبیاء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت : (84-87)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کفار کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس روز ان سے کوئی عذر قبول کیا جائے نہ ان سے عذاب کو رفع کیا جائے گا اور ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور وہ اقرار کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس پر افتراز پردازی کیا کرتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا) ” اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا “ جو ان کے اعمال پر گواہی دے گا کہ انہوں نے داعی ہدایت کو کیا جواب دیا تھا اور یہ گواہ جس کو اللہ گواہی کے لئے کھڑا کرے گا ‘ وہ سب سے پاک اور سب سے عادل گواہ ہوگا اور یہ گواہ رسول ہی ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–88
جانوروں کی اون اور بال حلال ہیں
قول باری ہے (ومن اصوافھا واوبارھا و اشعارھا اثا شاومت عا الی حین۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں) جانور کی موت کے بعد اس کے جسم سے حاصل کردہ مذکورہ چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر آیت میں دلالت موجود ہے اس لئے کہ جانور کی موت سے پہلے اور موت کے بعد اس سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
175۔ روز قیامت کی تذکیرویاد دہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یاد کرو اس عظیم الشان اور ہولناک دن کو کہ جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑاکریں گے “ جو ان کے اعمال و کردار کے بارے میں گواہی دیگا تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی آخری شکل میں اور کامل طور پر پورے ہوسکیں، اور گواہ سے مراد ہر امت کا پیغمبر ہے جو اپنی امت کے بارے میں یہ گواہی دے گا کہ دعوت حق کے جواب میں ان لوگوں نے کیا کیا اور کیا کہا تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل جامع البیان اور مراغی و معارف وغیرہ) سو اس ہولناک دن کو ہمیشہ یاد رکھو اے لوگو اور اس کیلئے تیاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
قیامت کے دن مشرک اور شریکوں کا حال
تشریح : یہاں قیامت اور مشرکین کا انجام بڑی وضاحت سے کردیا گیا ہے۔ کافر، مشرک اور فسادی اللہ کے عذاب سے ہرگز بچ نہ سکیں گے، لہٰذا ہر وقت قیامت اور روز حساب کو ذہن میں رکھنا چاہیے معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں زیادہ تر اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہمارے شکر اور خدمت گزاری سے بالکل بےنیاز ہے وہ تو ہر ہر صورت سے بندے کی بھلائی ہی چاہتا ہے کیونکہ اس نے بندے کو پیدا کر کے بےیارو مددگار نہیں چھوڑ دیا بلکہ کھانے، پینے، رہنے سہنے، غرض بہترین زندگی گزارنے کے لیے اس قدر نعمتیں اور برکتیں عطا فرمائیں کہ جو شمار سے باہر ہیں پھر ان کو استعمال کے طریقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ ان کی تکذیب کریں گے کہ ہم نے کب کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو۔ تم اگر ہمیں پکارتے رہے ہو تو غلط پکارتے رہے ہو اس کی سزا خود بھگتو ہم پر اس کی ذمہ داری کیوں تھوپتے ہو کہتے ہیں کہ مشرکین کو روسا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بتوں کو گویائی عطا فرمائے گا۔ ( شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں۔ ایک شیطان اپنا ہی نام رکھ کر آپ کو بجھواتا ہے اس لئے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (موضح)
Read the full tafseer →(16:86) شرکاء ہم۔ اور شرکاء نا میں شریکوں سے مراد وہی دیوی دیوتا اور معبودانِ باطل ہیں جنہیں وہ شریک خدائی سمجھتے تھے۔
کنا ندعوا۔ ماضی استمراری جمع متکلم ” ہم پکارا کرتے تھے ہم عبادت کیا کرتے تھے۔
القوا۔ ماضی جمع مذکر غائب القائ۔ (باب افعال) سے۔ انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا۔ القاء کے معنی ہیں کسی چیز کو اس طرح ڈال دینا کہ وہ دوسرے کو سامنے نظر آئے۔ جیسے قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا فلما القوا سحروا اعین الناس۔ (7:115 ۔ 116) جادوگروں نے کہا اے موسیٰ یا تو تم (پہلے) ڈالو۔ ورنہ ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجاتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم ہی ڈالو ! پس جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
لغات القرآن آیت نمبر 84 تا 89
نبعث ہم اٹھائیں گے۔ شہید گواہ۔ لایوذن اجازت نہیں دی جائے گی۔ لایستعتبون نہ وہ راضی کرسکیں گے۔ لاینظرون نہ دیکھے جائیں گے، مہلت نہ دی جائے گی۔ کنا ہم تھے۔ ندعوا ہم بلاتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا (وہ ڈالیں گے) یومئذ اس دن۔ السلم اطاعت و فرماں برداری۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا (ہم بڑھا دیں گے) تبیان کھلی بات، واضح بات۔ بشریٰ خوشخبری۔
تشریح :- آیت نمبر 84 تا 89
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے “ یعنی اس دنیا میں جس انسان نے اپنے عمل کا جیسا بیج بویا ہوگا۔ وہ اس کو آخرت میں جا کر کاٹے گا۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت اس کے عمل کی جزا ہوگی جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
خدائے تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ
مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور کفار جنہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے دنیا میں اپنی جان پر ظلم کیا تھا جہنم کے عذاب کو دیکھیں گے اور ان پر عذاب ہونے لگے گا تو پھر اس میں کمی نہیں کی جاوے گی، دم لینے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ اور جس وقت مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں دنیا میں پوجتے تھے اور خدا کا شریک ٹھہراتے تھے تو کہنے لگیں گے کہ : اے رب یہی ہمارے وہ شریک ہیں، جنہیں ہم تیرے سوا دنیا میں پوجتے اور پکارتے تھے۔ انہیں کی نسبت ہمارا یہ خیال تھا کہ ان کے سبب سے ہمیں تیری قربت حاصل ہوگی اور انہٰیں کی نسبتہ ہمارا یہ خیال تھا کہ تیرے دربار میں یہ ہماری شفاعتر کریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
[56] یعنی ہم نے تم سے کبھی یہ نہ کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر اپنی حاجت روائی کے لئے ہمیں پکارو۔ آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں '' شرکاء '' سے مراد بت نہیں ہیں بلکہ وہ انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جن کو ان کے معتقدین ان کی وفات کے بعد انھیں نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
(ف 1) قیامت کے دن جب وہ اپنے معبودوں کو دیکھیں گے ، تو ان سے کہیں گے کہ اللہ میاں یہی وہ ایک میں ، جن کی ہم نے پرستش کی تھی اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے مصالحانہ طریق سے گفتگو کریں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا جرم ہے اور گناہ عظیم ہے ، اور یقینا توحید ہی صواب وحق کی راہ ہے ۔
حل لغات :
السلم : صلح وآشتی ۔
Read the full tafseer →86 ۔ اور جب وہ لوگ جو مشرک ہیں اور جن کا شیوہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے جن کو اپنے زعم میں شریک خدائی سمجھتے تھے وہ نظر پڑیں گے تو یہ مشرک ان کو دیکھ کر کہیں گے اے ہمارے پروردگار جن کو ہم تیرے سوا اور تجھ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ ہمارے خود ساختہ شریک یہ ہیں یہ سن کر وہ شرکاء بات کو ان مشرکوں ہی کی طرف لوٹا دیں گے اور کہیں گے تم بالکل سرا سر جھوٹے ہو ۔ یعنی وہ ان مشرکوں سے یہ کہیں گے کہ تمہارا ہمارا کوئی تعلق نہیں تم ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ محض اپنی خواہشات فاسدہ اور خیالات باطلہ کی پرستش کیا کرتے تھے یا ہم کو تمہاری عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
ف 5۔ یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کرکے اللہ کو خوش کرلو وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارلعمل نہیں۔
Read the full tafseer →مشرک اپنے شریکوں کو پہچان کر شور کریں گے کہ یہی ہیں ہم کو گمراہ کرنے والے :
98۔ فرمایا جب مشرک اپنے شریکوں کو دیکھیں گے جن کو وہ دنیا میں اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہی ہمارے بنائے ہوئے شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے ، فرمایا حشر کے روز مشرکین اپنے آپ کو بری الذمہ اور بےگناہ ثابت کرنے کے لئے سارا الزام اپنے معبودوں پر لگائیں گے کہ اے بار الہی ! اے رب العالمین ! یہ ہیں وہ جن کو ہم تیرا شریک بناتے تھے اور تجھے چھوڑ کر ان کی پوجا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا سوال و جواب شروع ہوجائے گا اور بولنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
Finally, a note about the statement: سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was…
Read the full tafseer →83. It does not mean that they would deny the fact that the mushriks used to invoke their help. They will call them liars in the sense that they had made them deities without their knowledge, information and permission, as if to say: We never told you to leave Allah aside and pray to us for help. As a matter of fact, we never approved of this. Nay, we were utterly unaware of this that you were invoking us. It was an utter lie that you considered us to be able to hear your prayers, answer them and help you out of your difficulties. As you yourselves were responsible for this shirk, why are you…
Read the full tafseer →