تقویٰ بہترین زاد راہ ہے
دنیوی راہیں طے کرنے کے اسباب بیان فرما کر اب دینی راہ چلنے کے اسباب بیان فرماتا ہے۔ محسوسات سے معنویات کی طرف رجوع کرتا ہے قرآن میں اکثر بیانات اس قسم کے موجود ہیں سفر حج کے توشہ کا ذکر کر کے تقوے کے توشے کا جو آخرت میں کام دے بیان ہوا ہے ظاہری لباس کا ذکر فرما کر لباس تقوی کی اچھائی بیان کی ہے اسی طرح یہاں حیوانات سے دنیا کے کٹھن راستے اور دراز سفر طے ہونے کا بیان فرما کر آخرت کے راستے دینی راہیں بیان فرمائیں کہ سچا راستہ اللہ سے ملانے والا ہے رب کی سیدھی راہ وہی ہے اسی پر چلو دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ بہک جاؤ گے اور سیدھی راہ سے الگ ہوجاؤ گے۔ فرمایا میری طرف پہنچنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
سورة النَّحْل 9
توحید اور رحمت و ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں اشارۃ نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس دلیل کا مختصر بیان یہ ہے
دنیا میں انسان کی فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو۔ اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو۔
اس صحیح نظریے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (دلائل مذکورہ سابقہ ولاحقہ سے جو) سیدھا راستہ (دین کا ثابت ہوتا ہے وہ خاص) اللہ تک پہنچتا ہے اور بعض رستے (جو کہ دین کے خلاف ہیں) ٹیڑھے بھی ہیں (کہ ان سے اللہ تک رسائی ممکن نہیں پس بعض تو سیدھے رستہ پر چلتے ہیں اور بعض ٹیڑھے پر) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو (منزل) مقصود تک پہنچا دیتا (مگر وہ اسی کو پہنچاتے ہیں جو صراط مستقیم کا طالب بھی ہو (آیت) وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا اس لئے تم کو چاہئے کہ دلائل میں غور کرو اور ان سے حق کو طلب کرو کہ تم کو منزل مقصود تک رسائی عطا ہو)
معارف و مسائل
ان آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرما…
Read the full tafseer →وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔
" قصد " کے معنی سیدھے اور مستقیم کے ہیں۔ طریق قصد، سیدھا راستہ، قصد السبیل، میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا تک توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے۔ اس میں کج پیچ اور پگ ڈنڈیاں نہیں ہیں۔ خدا نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان وسائط کو حائل نہیں کیا ہے۔ اس نے اپنے تک پہنچنے کے لیے سیدھی راہ کھولی ہے، بندہ اس کو اختیار کرلے تو یہ سیدھے خدا تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو سورة حجر کی آیت 41 میں یوں واضح فرمایا گیا ہے۔ ھذا صراط علی مستقیم (یہ سیدھی راہ (توحید) سیدھے مجھ تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ' اور اللہ ہی پر ہے سیدھی راہ ' یعنی اس کا بیان کرنا۔ چناچہ اس نے اسے بیان فرما دیا اور ہدایت اور ضلالت دونوں کو واضح کردیا، اسی لئے آگے فرمایا کہ بعض راہیں ٹیڑھی ہیں یعنی گمراہی کی ہیں۔
9۔ 2 لیکن اس میں چوں کہ جبر ہوتا اور انسان کی آزمائش نہ ہوتی، اس لئے اللہ نے اپنی مشیت سے سب کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دونوں راستوں کی نشاندہی کر کے، انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5: مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا کے راستے طے کرنے کے لئے سواریاں پیدا کی ہیں اسی طرح آخرت کا روحانی سفر طے کرنے کے لئے سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری بھی لی ہے، کیونکہ لوگوں نے اس کام کے لئے بہت سے ٹیڑھے راستے بنارکھے ہیں، ان سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سیدھا راستہ اپنے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کے ذریعے دکھاتا ہے، البتہ وہ کسی کو زبردستی اٹھا کر اس راستے پر نہیں لے جاتا، اگرچہ وہ چاہتا تو یہ بھی کرسکتا تھا ؛ لیکن اس دنیا میں انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دکھائے ہوئے راستے پر اپنے اختیار سے چلے زبردستی نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 9
سیدھا راستہ یا سبیل قاصد صراط مستقیم ہے ، گویا وہ راستہ خود منزل مقصود کا قصد کرتا ہے۔ وہ منزل سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اور سبیل جائر اس راستے کو کہتے ہیں جو منزل مقصود سے منحرف ہوتا ہے اور منزل مقصود تک نہیں پہنچتا یا منزل مقصود سے آگے بڑھ جاتا ہے۔
ولو شاء لھدکم اجمعین (16 : 9) “ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ”۔ لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسان کو اس نے ہدایت و ضلالت کی استعداد دے دی اور انسان ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے یا ضلالت کی راہ لیتا ہے یہ اللہ نے اس کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا ہے۔ چناچہ انسانوں میں سے بعض تو سبیل قاصد پر چلتے ہیں اور بعض ٹیٹرھی راہ کو…
Read the full tafseer →12 پہلے ذکر فرمایا تھا کہ تم حیونات کی پیٹھ پر سوار ہوتے ہو اور وہ تم کو مع سامان و اسباب کے سخت اور کھٹن منزلیں طے کرا کر منزل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بدنی اور حسی سیر و سفر کا حال ہوا۔ اسی کی مناسبت سے اب روحانی اور معنوی سیرو سیاحت کی طرف کلام منتقل ہوگیا۔ یعنی جس طرح زمینی راستے طے کر کے منزل مقصود تک پہنچتے ہو، ایسے ہی خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔ جس کی سمجھ سیدھی ہوگی۔ وہ مذکورہ بالا دلائل و بصائر میں غور کرکے حق تعالیٰ کی قدرت اور عظمت و جبروت پر ایمان لائے گا اور توحید وتقویٰ کی سیدھی راہ چل کر بےکھٹکے خدا تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جس کی عقل سیدھی نہیں، اسے سیدھی سڑک…
Read the full tafseer →آیت 9 وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ
یہ سیدھا راستہ توحید کا راستہ ہے۔ یہاں اس راستے کو ”قصد السبیل“ کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اسے صراط مستقیم بھی کہا گیا ہے اور سوآء السبیل بھی۔ یہی ایک راستہ ہے جو انسان کو اللہ تک پہنچاتا ہے ‘ مگر بہت سے لوگ اس راستے سے بھٹک کر ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر مڑ جاتے ہیں جو انہیں گمراہی کے گڑھوں میں گرادیتی ہیں۔
وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ
اللہ اگر چاہتا تو سب انسانوں کو اسی ایک سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور سمجھ بوجھ دے دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 وحی کے بغیر ہدایت انسانی ناممکن ہے :۔ جس طرح تمہاری جسمانی زندگی کی بقا کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ضرورت کی سب چیزیں پیدا کی ہیں اسی طرح تمہاری روحانی زندگی کی بقا کے اسباب مہیا کرنا بھی اسی کے ذمہ ہے۔ محض عقل سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ عقل کی سوچ و فکر کا میدان انتہائی محدود ہے لہذا اس ذمہ داری کو بھی اللہ تعالیٰ نے عہد الست لے کر پیغمبر اور کتابیں بھیج کر پورا کردیا یہی وہ راہ ہے جو سیدھی ہے اور صرف ایک ہے اور عقل جن راہوں پر چلتی ہے وہ ٹیڑھی بھی ہیں اور لاتعداد بھی کیونکہ نہ ہر انسان میں عقل ایک جیسی ہوتی ہے اور نہ ہر انسان کی عقل کا صحت کے لیے قائم کردہ معیار ایک جیسا…
Read the full tafseer →12۔ (طالبان حق کے لیے) (آیت) ” علی اللہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے طالبان حق کو راہ راست دکھا ہی دیتا ہے۔ یہ مراد نہیں (جیسا کہ معتزلہ نے سمجھ لیا ہے) کہ اللہ پر راہ راست دکھانا واجب ہے۔ والمراد علی اللہ بحسبہ الفضل والکرم ان یبین دین الحق والمذھب الصحیح (کبیر) اے اقامۃ السبیل وتعدیلھارحمۃ وفضلا (بیضاوی) ولیس ذلک للوجوب اذلا یجب علی اللہ شیئا ولکن یفعل ذلک تفضلا (مدارک) (آیت) ” قصد السبیل “۔ قصد یہاں صورۃ مصدر ہے۔ لیکن معنی فاعل یعنی راہ قاصد یا مستقیم۔ الطریق الموصل الی الحق (کشاف) مصدر بمعنی الفاعل وھو القاصد یقال سبیل قصد وقاصد اے مستقیم (کشاف) (آیت) ” السبیل “۔ صورۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…
Read the full tafseer →وعلی اللہ قصد السبیل ومنھا جائر اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے (اس ترجمہ پر عَلٰی بمعنی الٰی ہوگا) اور کچھ راستے ٹیڑھے بھی ہیں (جو اللہ تک نہیں پہنچتے۔ مترجم) یعنی سیدھا راستہ جو حق تک پہنچتا ہے (وہ راستہ دکھانا اور بتانا اللہ کے ذمے ہے) اس نے مہربانی اور کرم سے یہ ذمہ داری لی ہے) ۔
یا قَصْدُ السَّبِیْلِ سے مراد ہے : اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کہ جو شخص اس راہ پر چلے گا ‘ اللہ تک پہنچ جائے گا۔ سبیلٌ قصدٌ یا قاصدٌ سیدھے راستے کو کہتے ہیں۔
جَاءِرٌ کا معنی ہے : ٹیڑھا یعنی راہ مستقم سے یا اللہ کے رخ سے کٹا ہوا۔ اس کلام کا مقصود صرف راہ خدا کا بیان ہے۔ مِنْھَا جَاءِرٌ کا جملہ بالعرض ذکر کیا…
Read the full tafseer →(9) اور خشکی وتری میں اللہ تعالیٰ ہی راستہ دکھاتا ہے اور بعضے راستے ٹیڑھے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے مقصود تک رسائی ممکن نہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خشکی وتری میں سب کو سیداھا راستہ بتلا دیتا ،
یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہدایت و توحید کا جو سیدھا راستہ ہے وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور بعض ادیان یہودیت، نصرانیت و مجوسیت کی طرح ٹیڑھے اور راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو اپنے دین کی طرف ہدایت عطا فرما دیتا۔
Read the full tafseer →وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔۔ : چند انسانی ضروریات کا ذکر فرما کر سب سے ضروری چیز یعنی صحیح راستہ بتانے کے اہتمام کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے ہم ہر نماز میں یہی دعا کرتے ہیں : (ۭاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ) [ الفاتحۃ : 5 ] ”ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔“ ”قَصْدُ“ کا معنی سیدھا ہونا۔ ”اَلسَّبِیْل“ کا معنی راستہ، تو ”قَصْدُ السَّبِيْلِ“ سیدھا راستہ جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اسے ”سبیل قصد“ بھی کہتے ہیں اور ”سبیل قاصد“ بھی۔ گویا ”قَصْدُ“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے جو موصوف کی طرف مضاف ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 9
قولہ تعالیٰ : وعلی اللہ قصد السبیل یعنی راہ راست کا بیان اور وضاحت اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے، اس کلام میں مضاف محذوف ہے اور وہ بیان ہے۔ اور السبیل سے مراد اسلام ہے یعنی رسل علیہم الصلوٰت والتسلیمات اور دلائل و براہن کے ساتھ اس کی وضاحت کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ اور قصد السبیل سے مراد سیدھی راہ ہے ؛ کہا جاتا ہے : طریق قاصد یعنی وہ راستہ جو مطلوب اور منزل تج پہنچانے والا ہو۔ ومنھا جآئر ای ومن السبیل جائر، یعنی ایسے راستے بھی ہیں جو حق سے پھرنے والے ہیں پس ان سے ہدایت اور راہنمائی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اور اسی سے امرء القیس کا قول ہے :
ومن الطریقۃ جائز و ھدی قصد السبیل ومنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے…
Read the full tafseer →[وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر (یعنی اس تک) ہے ] [قَصْدُ السَّبِيْلِ : راستے کا اعتدال ] [ وَمِنْهَا : اور اس سے ] [ جَاۗىِٕرٌ ۭ : کوئی بھٹکنے والا ہے ] [وَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ لَهَدٰىكُمْ : تو ضرور ہدایت دیتا تم کو ] [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]
نوٹ۔ 4: توحید، رحمت اور ربوبیت کے دلائل پیش کر کے آیت نمبر ۔ 9 ۔ میں نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس کو سمجھ لیں۔
دنیا میں انسان کے لئے فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملاً موجود بھی ہیں۔ ظاہر ہے یہ سارے راستے بیک وقت حق نہیں ہوسکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریۂ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بہت سے لوگ ہٹے ہوئے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک سیدھا راستہ پہنچتا ہے، صراط مستقیم یعنی دین اسلام پر جو شخص چلے گا وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی رضا اس کو حاصل ہوجائے گی اور دوسرے راستے ٹیڑھے ہیں وہ طریق حق سے ہٹے ہوئے ہیں جو شخص ان پر چلے گا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہ ہوگی، آخرت میں مبتلائے عذاب ہوگا۔
(وَ لَوْ شَآءَ لَھَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اور اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دے) جو لوگ ہدایت کے طالب ہوتے ہیں دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتا ہے۔ طریق حق تو اس نے واضح طور پر سب کے لیے بیان فرما دیا اب جو شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →10:۔ ” قَصْدٌ“ بمعنی قَاصِدٌ ہے یعنی سیدھا اور مستقیم۔ سیدھا راستہ یعنی توحید جو دلائل سے مدلل اور واضح ہوچکا ہے یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ والمعنی ان قصد السبیل و مستقیمۃ موصل الیہ تعالیٰ وماعلیہ سبحانہ (روح ج 14 ص 103) ۔ ” وَ مِنْھَا جَائِرٌ“ سیدھا راستہ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ وہ تو صرف توحید کا راستہ ہے اس کے سوا باقی سب ٹیڑھے راستے ہیں۔ ” وَ لَوْشَاءَ لَھَدٰکُمْ الخ “ یعنی اگر وہ چاہتا تو جبرًا سب کو ہدایت پر جمع کردیتا مگر اس سے حکمت ابتلاء فوت ہوجاتی جیسا کہ فرمایا ” وَ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْمَا اٰتٰکُمْ الخ “ لیکن اللہ تعالیٰ نے دلائل سے حق کو واضح کردیا تاکہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
(ربط آیات)
سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر…
Read the full tafseer →وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
قصد
القَصْدُ : استقامة الطریق، يقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
والخیل والبغال والحمیر الخ یہ چوتھی قسم ہے۔ چارپایوں میں سے بالخصوص ان کے ساتھ استدلال ہے کہ جو بالخصوص سواری کے کام آتے ہیں اور زینت کا بھی باعث ہوتے ہیں۔ ان چند چیزوں کو شمار کر کے اجمالاً ان سواریوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو ہنوز ظہور میں نہیں آئی تھیں یا آیندہ آئیں گی جیسا کہ ریل گاڑی اور دخانی جہاز یا جن کو عرب جانتے نہ تھے۔ ویخلق مالاتعلمون و علی اللہ قصد السبیل و منہا جائر ولوشاء لہدکم اجمعین دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اپنی رحمت خاصہ سے اللہ کا کام ہے کہ وہ سیدھا رستہ بیان فرماوے۔ چناچہ اس نے انبیاء بھیجے اور دلائل بیان فرمائے مگر کچھ رستے ٹیڑھے بھی ہیں کہ وہ خدا کی…
Read the full tafseer →وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُالسَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَآئِرٌ ط وَلَوْشَآئَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 9)
(اور اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا۔ )
مزید ایک عظیم نعمت اور احسان کا ذکر
قَصْدُکا معنی ہے سیدھا اور قَصْدُالسَّبِیْلِمیں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے۔ اس کا معنی ہے سیدھا راستہ۔ اور جَآئِرٌ کا معنی ہے ٹیڑھا میڑھا۔ گزشتہ آیات کریمہ میں انسان کی تخلیق پھر اس کی عطا کی جانے والی صلاحیتوں اور پھر اس پر کیا جانے والا فیضانِ ربوبیت اور ہر دور میں اسے لاحق ہونے والی ضرورتوں کا مہیا کیا جانا یہ اس بات پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے سواری اور باربرداری کے جانور پیدا فرماکر انسان کے لیے راستے آسان کردیے ہیں۔ اسی طرح ہی اس نے انسان کے لیے صراط مستقیم کی نشان دہی فرما کر ہدایت تک پہنچنے کے لیے آسانی پیدا کردی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ بھی کرم فرمائی ہے کہ اس نے مادی وسائل کے ساتھ انسان کی روحانی خوراک اور راہنمائی کا بندوبست بھی فرمایا ہے۔ نزول آدم سے لے کرتا قیامت انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے انسان کی، روحانی غذا اور فکری راہنمائی کا بندوبست فرما دیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی عقل کے حوالے کردیتا تو اس کا صراط مستقیم کو پانا اور اس پر چلنا نہایت مشکل ہوجاتا۔ کیونکہ ہر…
Read the full tafseer →سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے :
9: وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ (اور سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے) السبیلؔ سے جنس مراد ہے اسی لئے فرمایا وَمِنْھَا جَآپرٌ (اور ان میں بعض راستے ٹیڑھے ہیں) القصدؔ یہ مصدر ہے جو فاعل کے معنی میں ہے۔ ای القاصد جیسے کہتے ہیں سبیل قصد و قاصد یعنی سیدھا۔ گویا کہ وہ اسی جانب کا قصد کرتا ہے جس کا چلنے والا ارادہ کرتا ہے اور اس سے ہٹتا نہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے اوپر اس راستہ کی راہنمائی لازم کرلی جو حق تک پہنچانے والا ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی (اللیل۔ 12) یہ وجوب کیلئے نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن…
Read the full tafseer →تفسیر (9)” وعلی اللہ قصد السبیل “ گمراہی سے ہدایت کے راستے کی طرف رہنمائی کا بیان ہے۔ بعض نے کہا کہ حق کو بیان کرنا نشانیوں اور دلائل کے ساتھ اور قصد سے مراد صراط مستقیم ہے۔ ” ومنھا جائر “ راہ مستقیم سے یا اللہ کے رخ سے کٹا ہوا۔ ” قصد من السبیل “ سے مراد دین اسلام ہے اور ” جائر “ سے مراد یہودیت و نصرانیت ہے یا تمام مذاہب کفار ہیں۔
جابر بن عبداللہ ؓ کا قول ہے کہ قصد السبیل سے شریعت اور فرائض کا بیان ہے۔ عبداللہ بن مبارک (رح) سہل بن عبداللہ کے نزدیک قصل السبیل سے مراد سنت ہے اور ” ومنھا جائر “ سے مراد خواہشات اور بدعات ہیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا…
Read the full tafseer →9۔ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جس پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں۔ ایک تو سیدھی دوسری کج جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔ سہل سے مراد دین اسلام ہے اور جائر سے بت پرستی وغیرہ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ چاہتا ہے تو دین اسلام پر چلنے کی توفیق دیتا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ پر ہے حلال و حرام کا بیان کردینا اور اپنی مرضی اور نامرضی کے کاموں کا ذکر کردینا جس کو اس نے آسمانی کتابوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آیت 3
اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مویشیوں کے فوائد
قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…
Read the full tafseer →15۔ ہدایت و راہنمائی اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اللہ ہی کے ذمے ہے سیدھا راستہ دکھانا " قصد " اور " قاصد " کے معنی اس سیدھے راستے کے ہیں جو انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور یہ یعنی سیدھے راستے بیان کرنا اس رحمن ورحیم نے اپنی بےپیاں رحمت و عنایت کی بناء پر خود اپنے ذمے لیا ہے۔ ورنہ اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس رب مہربان نے اپنے کرم واحسان کی بنا پر اپنے ذمے لیا ہے کہ وہ بندوں کو اس سیدھے راستے کی راہنمائی سے نوازے گا جو ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرسکے۔ اس لئے کہ ایسی سیدھی راہ سے اس وحدہ لاشریک کے سوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں
تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اپنے بندوں کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنا اللہ ہی کے ذمے ہے یا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے والا ہے۔ “ اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جسمانی ضروریات پوری کرنے کا سامان بہم پہنچایا ہے اسی طرح اس کی ہدایت کا راستہ بھی متعین کردیا ہے۔
3 یا بعض لوگ سیدھی راہ چھوڑ کر حق سے انحراف کر رہوے ہیں اس میں تمام گمراہ قرے داخل ہیں موضع میں ہے کہ : اللہ تعالیٰ کی قدر میں (کے دلائل) دیکھ کر اس کی خوبیاں صاف نظر آتی ہیں مگر جس کی عقل میں کجی ہو وہ بہکا ہی رہتا ہے
4 مگر اس سے خلق کا اصل مقصد جو ابتلا ہے وہ فوت ہوجاتا ہے اس لئے کہ جس حد تک…
Read the full tafseer →(16:9) علی اللہ قصد السبیل۔ علی اللہ ۔ اللہ کے ذمہ ہے قصد السبیل۔ ای بیان الطریق القاصد المستقیم ۔ سیدھے مستقیم راستہ کی واضح نشاندہی کردینا۔ یعنی سیدھے راستہ کو اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں پر واضح کردینا اللہ کے ذمہ ہے اور اس ذمہ داری کو وہ وحی کے ذریعہ سے اپنے رسولوں کی وساطت سے پورا کردیتا ہے۔
قصد۔ اسم مصدر ومصدر ہے بمعنی فاعل۔ سیدھا جانے والا راستہ۔ یعنی سیدھا راستہ جائر کی ضد ہے۔ قصد (باب افتعال) سے بمعنی اعتدال اور افراط و تفریط کے درمیان۔ میانِ راہ کے معنی دیتا ہے۔
السبیل۔ اسم جنس ہے۔
بعض نے وعلی اللہ قصد السبیل۔ کا ترجمہ کیا ہے : اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے (علی ) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9
الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام
تشریح : آیت نمبر 5 تا 9
توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
دین کا رستہ
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں : ایک تو سیدھی، دوسری کج، جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔
توحید کا بیان
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا۔ یہ بہت ہی بڑا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[8] اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے نفع و راحت اور آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پیدا کرنا منظور تھا، جیسے دخانی جہاز، ریلیں، موٹر، ہوائی جہاز، برقی آلات اور معلوم نہیں اس کے علاوہ اسے کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فلسفہ اختلاف :
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اختلاف رنگ وبو کو قائم رکھا ہے ، اور اس گلشن حیات میں جو زندگی رکھی ہے ، وہ بھی بو قلموں اشجار پر لیل ونہار میں اختلاف ہے ، اندھیرے اور اجالے میں اختلاف ہے پھول ، پتے ، اور کانٹے میں اختلاف ، آہن وسیم ، میں اختلاف ہے ، حقیقت وملمع میں اختلاف ہے ، سچ اور جھوٹ میں اختلاف ہے ، حق و باطل میں اختلاف ، اللہ نے اس بزم کو انواع و اقسام کے لوگوں سے آراستہ کیا ہے ۔
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن ۔
اے ذوق اس جہان کو ہے زیب اختلاف ہے ۔
کچھ وہ ہیں کہ فطرت میں سلامتی ہے حق کے جویاں ہیں ، طبیعت میں غور اور فکر کرنے کا مادہ ہے ، یہ ہدایت پر ہیں ، کچھ ایسے…
Read the full tafseer →9 ۔ اور مذکورہ دلائل سے جو دین کا راستہ ثابت ہو اوہ دین حق کا راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور راستوں میں بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو سیدھا دکھا دیتا ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے دلائل مذکورہ سے روشنی میسر آسکتی ہے۔ اس کے دین کو جو اختیار کرلیتا ہے وہ سیدھی ڈگر پر پڑجاتا ہے یہ سیدھی بیٹا اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے اور جو گمراہی کی ڈگر پڑجاتا ہے وہ محرم رہتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کی قدرتیں دیکھ کر صاف معلوم ہوتی ہیں اس کی خوبیاں اور جس کی عقل سیدھی نہیں وہ بہکتا ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 8۔ مگر وہ اسی کو پہچانتے ہیں جو اس صراط مستقیم کا طالب بھی ہو اس لئے تم کو چاہئے کہ ان دلائل میں غور کرو اور ان سے حق طلب کرو کہ تم کو مقصود تک رسانی عطا ہو۔
Read the full tafseer →تفسیر :
اللہ تعالیٰ کا کام کیا ہے ؟ یہ کہ وہ راہ حق کو واضح کر دے :
13۔ (قصد السبیل) استقامت والا راستہ یا سیدھا راستہ (جآئر) سیدھے راستے سے پھرنے والا ۔ مطلب یہ ہے کہ راہ راست کو دلائل وبراہین سے واضح کردینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے یہ سب اس کی مہربانی ہے کہ اس نے سیدھی راہ ہم کو بتا دی لیکن سیدھی راہ معلوم کرنے اور جاننے پہچاننے کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ راستے بھی ساتھ موجود ہوں جو انسان کو غلط سمت کی طرف لے جاتے ہیں تاکہ معلوم کرنے والا اچھی طرح معلوم کرسکے کہ ان میں سے سیدھا راستہ کونسا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ عقل وفکر کے استعمال کی ہر جگہ ضرورت ہے اور اس کے سوا انسان سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →Commentary
Presented in the previous verses was a description of the great blessings of Allah Ta` ala as rational proof of His Oneness. This description of Divine blessings continues later on as well.
In between these two, the present verse (9) has been introduced parenthetically for the purpose of warning that Allah Ta’ ala, pursuant to His standing promise, has taken it upon Himself that He makes the straight path which takes its follower to Allah Ta’ ala clear and explicit. Therefore, the objective of the presentation of Divine blessings is to demonstrate proofs of the Being and Oneness…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9. This contains an argument for Prophethood along with a proof of Tauhid and of Allah’s compassion and providence. The argument is this:
There are many divergent ways of thought and action open for man to choose from. Obviously all these divergent ways cannot be straight ways, because there can be only one straight way; therefore, there can be only one right theory of life which is based on that way, and only one right way of life which is based on that right theory. Thus it is clear that the choice of the right way of life is man’s most important and basic need, for its wrong choice would…
Read the full tafseer →