Explained with ayahs 10–11
تمہارے فائدوں کے سامان
چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں۔ سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا۔ پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
سورة النَّحْل 9
توحید اور رحمت و ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں اشارۃ نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس دلیل کا مختصر بیان یہ ہے
دنیا میں انسان کی فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو۔ اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو۔
اس صحیح نظریے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) واسطے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم کو پینے کو ملتا ہے اور جس (کے سبب) سے درخت (پیدا ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مواشی کو) چرنے دیتے ہو (اور) اس (پانی) سے تمہارے (فائدے کے) لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (زمین سے) اگاتا ہے بیشک اس (مذکور) میں سوچنے والوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور اس (اللہ) نے تمہارے (فائدہ کے) لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو (اپنا) مسخر (قدرت) بنایا اور (اسی طرح اور) ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر (قدرت) ہیں بیشک اس (مذکور) میں (بھی) عقلمند لوگوں کے لئے (توحید کی) چند دلیلیں (موجود)…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 10 تا 23:۔ توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو سے : آگے یہی توحید کا مضمون ایک دوسرے پہلو یعنی کائنات میں توافق کے پہلو سے واضح کیا گیا ہے پھر آخر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ دوسرے معبودوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ یاد رکھیں کہ قیامت کے دن، جب کہ لوگوں سے ان کے اعمال کی بابت پرسش ہونی ہے، ان کے یہ فرضی دیوی دیوتا کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ سب کو اللہ واحد ہی سابقہ پیش آنا ہے اور وہ ہر ایک کے تمام ظاہر و باطن سے واقف ہے اور ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔
هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 اس کے ایک دوسرے معنی ہیں ' اور اللہ ہی پر ہے سیدھی راہ ' یعنی اس کا بیان کرنا۔ چناچہ اس نے اسے بیان فرما دیا اور ہدایت اور ضلالت دونوں کو واضح کردیا، اسی لئے آگے فرمایا کہ بعض راہیں ٹیڑھی ہیں یعنی گمراہی کی ہیں۔
9۔ 2 لیکن اس میں چوں کہ جبر ہوتا اور انسان کی آزمائش نہ ہوتی، اس لئے اللہ نے اپنی مشیت سے سب کو مجبور نہیں کیا، بلکہ دونوں راستوں کی نشاندہی کر کے، انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5: مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا کے راستے طے کرنے کے لئے سواریاں پیدا کی ہیں اسی طرح آخرت کا روحانی سفر طے کرنے کے لئے سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری بھی لی ہے، کیونکہ لوگوں نے اس کام کے لئے بہت سے ٹیڑھے راستے بنارکھے ہیں، ان سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سیدھا راستہ اپنے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کے ذریعے دکھاتا ہے، البتہ وہ کسی کو زبردستی اٹھا کر اس راستے پر نہیں لے جاتا، اگرچہ وہ چاہتا تو یہ بھی کرسکتا تھا ؛ لیکن اس دنیا میں انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دکھائے ہوئے راستے پر اپنے اختیار سے چلے زبردستی نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔
آیت نمبر 10 تا 11
یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔
منہ شراب (16 : 10) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت :
ومنہ شجر فیہ تسیمون (16 : 10) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔…
Read the full tafseer →14 یعنی پانی پینے کے قابل بنایا اور اسی سے درخت، گھاس وغیرہ نباتات اگائے جس سے تمہارے جانور چرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 10 هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ
اللہ تعالیٰ ہی بارش اور برف کی صورت میں بادلوں سے پانی برساتا ہے جس پر انسانی زندگی کا براہ راست انحصار ہے اور پھر یہی پانی بیشمار نباتاتی اور حیوانی مخلوقات کو زندگی بخشتا ہے جو انسان ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 وحی کے بغیر ہدایت انسانی ناممکن ہے :۔ جس طرح تمہاری جسمانی زندگی کی بقا کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ضرورت کی سب چیزیں پیدا کی ہیں اسی طرح تمہاری روحانی زندگی کی بقا کے اسباب مہیا کرنا بھی اسی کے ذمہ ہے۔ محض عقل سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ عقل کی سوچ و فکر کا میدان انتہائی محدود ہے لہذا اس ذمہ داری کو بھی اللہ تعالیٰ نے عہد الست لے کر پیغمبر اور کتابیں بھیج کر پورا کردیا یہی وہ راہ ہے جو سیدھی ہے اور صرف ایک ہے اور عقل جن راہوں پر چلتی ہے وہ ٹیڑھی بھی ہیں اور لاتعداد بھی کیونکہ نہ ہر انسان میں عقل ایک جیسی ہوتی ہے اور نہ ہر انسان کی عقل کا صحت کے لیے قائم کردہ معیار ایک جیسا…
Read the full tafseer →15۔ یہاں یہ بتایا کہ کھانے پینے کی ساری لذتوں اور نعمتوں کا آخری سرا اسی قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ شجر کے عموم میں پودے، درخت، جھاڑیاں، گھاس، سب داخل ہیں۔ قال الزجاج کل ما نتبت علی الارض فھو شجر (کبیر) اے نبات مطلقا سواء کان لہ ساق ام لاکما نقل عن الزجاج (روح) یہاں مراد چراگاہیں ہیں۔ یعنی الشجر الذی ترعاہ المواشی (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →ھو الذی انزل من السماء مآء لکم منہ شراب ومنہ شجر فیہ تسیمون وہ ایسا ہے جس نے تمہارے واسطے بادل سے پانی برسایا جس سے (کچھ) تم کو پینے کو ملتا ہے اور کچھ حصے سے درخت (پیدا) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے مویشی (چرنے) چھوڑتے ہو۔
مِنْہُ شَرَابٌ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ آدمیوں کو پینے کے پانی بارش سے ہی حاصل ہوتا ہے کیونکہ چشموں اور کنوؤں (اور دریاؤں) میں لوٹ پھر کر بارش ہی کا پانی آتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَسْلَکُہٗ یَنَابِیْعَ ۔ دوسری آیت میں ہے : فَاَسْکَنَّانُ فِی الْاَرْض۔ مِنْہُ شَجَرٌ کا یہ مطلب ہے کہ درختوں کی زندگی بھی پانی سے ہے ‘ درخت بھی بارش کا پانی پیتے ہیں۔
تُسِیْمُوْنَ کا ترجمہ ہے…
Read the full tafseer →(10) وہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ جس نے تمہارے لیے بارش برسائی کہ جنگلات اور شہروں میں تمہیں کو اس کے ذریعے سے پانی ملتا ہے اور اس کے سبب سے درخت اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً : ”السَّمَاۗءِ“ کا لفظی معنی بلند چیز ہے، کیونکہ یہ ”سَمُوٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی بلندی ہے، اس لیے یہ لفظ بادل، بارش، چھت (دیکھیے انبیاء : 32) اور آسمان سب کے لیے بولا جاتا ہے اور ہر جگہ قرینے سے اس کا معنی متعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت و قدرت کے دلائل میں حیوانات کے بعد اب پانی اور نباتات کا ذکر فرمایا، کیونکہ انسان کی غذا لحمیات، نشاستے، شکر وغیرہ زمین سے پیدا ہونے والی بیشمار چیزوں اور پانی سے مکمل ہوتی ہے۔ زمین کا ستر (70) فیصد حصہ نہایت تلخ سمندر ہے، جس کا پانی انسان کے پینے کے لائق نہیں، مگر زمین اور سمندر کو تعفن سے محفوظ رکھنے کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
شراب سے مراد وہ (پانی) ہے جسے پیا جاتا ہے، اور شجر کا معنی تو معروف ہے یعنی وہ بارشوں سے درخت، بیلیں اور سبزہ اگاتا ہے۔ اور تسیمون اور تم (اسے) اپنے انٹوں کو چراتے ہو۔ کہا جاتا ہے : سامت السائمۃ تسوم سو ما (یعنی چرنے والا جانور چرا) فھی سائمۃ اور السوام اور السائم دونوں ہم معنی ہیں، اور وہ چرنے والا مال ہے۔ اور السائم اور السائمۃ کی جمع سوائم ہے۔ اور أسمتھا أنا یعنی میں نے اسے چرنے کے لئے نکالا۔ پس میں مسیم ہوں اور وہ مسامۃ اور سائمۃ ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا :
أولی لک ابن مسیمہ الأجمال (تیرے لئے اونٹ چرانے والے کا بیٹا ہونا اولیٰ اور بہتر ہے)
اور السؤم کا اصل معنی چراگاہ میں دور تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے…
Read the full tafseer →[هُوَ : وہ ] [ الَّذِيٓ: وہی ہے جس نے ] [ انزَلَ : اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ مِّنْهُ : اس میں سے ] [ شراب : پینے کی چیز ہے ] [ وَّمِنْهُ : اور اس میں سے ] [ شَجَـرٌ: ایسے درخت ہیں ] [ فِيْهِ : جن میں ] [ تُسِيْمُوْنَ : تم لوگ مویشی چراتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بہت سے لوگ ہٹے ہوئے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک سیدھا راستہ پہنچتا ہے، صراط مستقیم یعنی دین اسلام پر جو شخص چلے گا وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی رضا اس کو حاصل ہوجائے گی اور دوسرے راستے ٹیڑھے ہیں وہ طریق حق سے ہٹے ہوئے ہیں جو شخص ان پر چلے گا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہ ہوگی، آخرت میں مبتلائے عذاب ہوگا۔
(وَ لَوْ شَآءَ لَھَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اور اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دے) جو لوگ ہدایت کے طالب ہوتے ہیں دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتا ہے۔ طریق حق تو اس نے واضح طور پر سب کے لیے بیان فرما دیا اب جو شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
11:۔ دوسری عقلی دلیل :۔ پہلی دلیل میں انسان، زمین و آسمان اور چوپایوں کی پیدائش کا ذکر تھا اب دوسری دلیل میں بارش، زمین سے انواع و اقسام رزق کی پیدائش اور نظام شمسی کی تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسایا جو تمہارے پینے کے کام آتا ہے نیز اس سے زمین میں گھاس اور چارہ اگتا ہے جس میں تم اپنے مویشیوں کو چراتے ہو۔ ” یُنْبِتُ لَکُمْ بِهٖ الخ “ علاوہ ازیں بارش سے غلے، میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ “ یہ تنبیہ ہے تاکہ سامعین ان امور میں غور و فکر کر کے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر استدلال کریں۔ یعنی علامۃ دالۃ علی قدرتنا ووحدانیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
) ربط آیات (
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّمِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ 10
ماء
قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه :
أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو،
( م ی ہ ) الماء
کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : منہ شراب جملہ اور نیز منہ شجر دونوں جملے ماء کی صفت ہیں و ماذرا محل نصب میں ہے خلق یا ابنت محذوف سے۔ مختلفاً حال ہے واصل السوم الابعاد فی المرعی قال الزجاج من السومتہ وھی العلامتہ لانہا توفی الارض۔ علامات برعیھا یقال سامت السائمۃ تسوم سوماً رعت فہی سائمۃ۔
نباتات کے عجائب حالات سے اثبات باری تعالیٰ
تفسیر : عالم سفلی میں حیوان کے بعد اشرف الاجسام نباتات ہیں۔ پس حیوان کے عجائب حالات سے خدا تعالیٰ کا قادر مختار ہونا ثابت کر کے نباتات کے عجائب حالات سے ثابت کرتا ہے چونکہ نباتات کے پیدا ہونے کا سبب مینہ ہے۔ اس لیے سب سے اول فرماتا ہے کہ ھوالذی الخ ہم نے ہی تو آسمان سے یعنی بادل سے پانی…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ ٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً لَّـکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیْہِ تُسِیْمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 10)
(وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جس میں سے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں جس میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ )
فیضانِ ربوبیت
گزشتہ چند آیات سے اللہ تعالیٰ انسانوں پر اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جن کا زیادہ تر تعلق اس کی شان ربوبیت سے ہے۔ اس کی تخلیقی صفات کا کمال یہ ہے کہ اس نے انسان کو گندے پانی کی ذراسی بوند سے پیدا فرمایا اور پھر اسے وہ کمالات عطا فرمائے کہ اس کی ذہنی صلاحیتوں کے سامنے دنیا انگشت بدنداں ہے۔ ایسی مفید اور عظیم تخلیق کے بعد اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : حیوانات کے بعد نباتات کے حوالے سے انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ (الانبیاء : 30) بالخصوص انسان اور حیوانات کی زندگی پانی کے سوا چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی خوراک، رہائش بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا جس قدر چاہے ترقی کر جائے اس کی تعمیر و ترقی میں پانی کا عنصر ہمیشہ بنیادی حیثیت کے طور پر شامل رہے گا۔ جہاں تک انسان اور حیوانات کی خوراک کا تعلق ہے۔ اس میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے نباتات اور پھلوں کا ذکر کرنے سے پہلے پانی کا ذکر کیا ہے اور پانی کی بڑی مقدار اور اس…
Read the full tafseer →پانی اور اس کے فوائد کی طرف اشارہ :
10: ھَوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآ ئً لَّکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ (وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارا جسے تم پیتے ہو) ۔
نحو : لکم یہ انزل کے متعلق ہے۔ نمبر 2۔ شراب کی خبر ہے شراب بمعنی مشروب ہے۔
وَّمِنْہُ شَجَرٌ (اور اسی سے درخت ہیں) اسی پانی سے وہ درخت پیدا ہوتے ہیں جس کو مویشی چرتے ہیں۔ فِیْہِ تُسِیْمُوْنَ (جن میں تم اپنے مویشی چراتے ہو) یہ سَامَت المَاشِیَہ سے بنا ہے جب مویشی چریں۔ جانور کو سائمہ واسامھا صاحبھا اور اس کے مالک نے چرایا۔ یہ السومۃ مصدر سے ہو تو معنی علامت ہے زمین میں چرانے سے نشانات پڑجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(10)” ھو الذی انزل من السماء ماء لکم منہ شراب “ جس سے تم پیتے ہو۔” ومنہ شجر “ اس پانی کے ساتھ تم اپنے درختوں کو پلاتے ہو اور تمہاری کھیتی کا ذریعہ ہیں۔ ” فیہ “ ان درختوں میں ” تسیمون “ اس میں تم اپنے مویشی چراتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10۔ 11۔ اللہ پاک نے انسان اور جانوروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے اب ان نعمتوں کا ذکر کیا جو مینہ برسا کر اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے لئے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا یہ بہت ہی بڑا اس کا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا اور زمین کو تر رکھتا ہے جس میں کھیتی ہوتی ہے اور طرح طرح کے درخت اور گھاس اگتے ہیں اور لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چراتے ہیں اور کھیتوں میں غلے پیدا ہوتے ہیں جس سے انسان غذا حاصل کرتا اور اپنی زندگی بسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں اپنی عظمت اور قدرت کے بارے میں انسان کو آگاہ فرماتا ہے اور ان آیات کے اختتام پر (لقوم یتفکرون) ” غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔ “ کہہ کر اپنی قدرت کا ملہ پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس رقیق و لطیف بادل سے پانی برسایا، یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے بکثرت پانی نازل کیا جسے وہ خود پیتے ہیں، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، پس ان کھیتوں سے بیشمار پھل اور دیگر نعمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مویشیوں کے فوائد
قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
18۔ نعمت آب رسانی کی تذکیر و یاددہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارا جس سے تم لوگ پیتے بھی ہو اور دوسرے طرح طرح کے فائدے بھی حاصل کرتے ہو۔ پس آب رسانی کا یہ محیرالعقول نظام جہان اس کی بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت وحکمت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے وہاں یہ تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی اور اس دنیا کی رونق وچہل پہل کا بنیادی ذریعہ وسبب بھی ہے۔ فسبحانہ من الہ قادر قیوم۔ نیز یہیں سے تم یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری جسمانی ضروتوں کی تکمیل کا اس طرح انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان نہ فرمائے جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں
تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 5 کہ ایک ہی پانی ایک ہی سورج ایک ہی زمین اور ایک ہی ہوا سے کیسے رنگ برنگ کے پھل پھول پیدا ہوتے رہتے ہیں ان میں غور و فکر کے اور بھی طریقے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ علم کے وقدرت کے کمال پر استدلال ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(16:10) منہ شراب۔ اس سے پانی پینے کو (ملتا ہے) ومنہ شجر اور اس سے سبزہ پیدا ہوتا ہے۔
تسیمون۔ اسامہ یسیم اسامۃ (افعال) سے جمع مذکر حاضر۔ تم چراتے ہو۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنی ہوتے ہیں جیسے سامت الابل۔ (اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے) اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے سمت کذا۔ (میں نے اسے فلاں کو تکلیف دی) ۔ اور اسی سے ہے یسومونکم سوء العذاب۔ (2:49) وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ (باب نصر) باب افعال، تفعیل سے اسمت وسومت الابل میں نے اونٹوں کو چرنے کے لئے بھیجا۔ باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12
شراب پینے کی چیز۔ شجر درخت۔ تسیمون تم چرتاے ہو۔ ینبت اگاتا ہے۔ الزرع کھیتی۔ النخیل کھجور۔ الاعناب انگور۔ یتفکرون وہ غور و فکر کرتے ہیں۔ سخر اس نے مسخر کردیا۔ حکم کے تابع کردیا۔ الشمس سورج۔ القمر چاند۔ النجوم (النجم) ، ستارے۔ یعقلون جو عقل رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 12
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کو غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بتا سکیں کہ اس پوری کائنات کا وہ ایک ہی رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ورنہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
دین کا رستہ
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں : ایک تو سیدھی، دوسری کج، جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔
توحید کا بیان
ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا۔ یہ بہت ہی بڑا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[8] اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے نفع و راحت اور آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پیدا کرنا منظور تھا، جیسے دخانی جہاز، ریلیں، موٹر، ہوائی جہاز، برقی آلات اور معلوم نہیں اس کے علاوہ اسے کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فلسفہ اختلاف :
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اختلاف رنگ وبو کو قائم رکھا ہے ، اور اس گلشن حیات میں جو زندگی رکھی ہے ، وہ بھی بو قلموں اشجار پر لیل ونہار میں اختلاف ہے ، اندھیرے اور اجالے میں اختلاف ہے پھول ، پتے ، اور کانٹے میں اختلاف ، آہن وسیم ، میں اختلاف ہے ، حقیقت وملمع میں اختلاف ہے ، سچ اور جھوٹ میں اختلاف ہے ، حق و باطل میں اختلاف ، اللہ نے اس بزم کو انواع و اقسام کے لوگوں سے آراستہ کیا ہے ۔
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن ۔
اے ذوق اس جہان کو ہے زیب اختلاف ہے ۔
کچھ وہ ہیں کہ فطرت میں سلامتی ہے حق کے جویاں ہیں ، طبیعت میں غور اور فکر کرنے کا مادہ ہے ، یہ ہدایت پر ہیں ، کچھ ایسے…
Read the full tafseer →10 ۔ وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا کہ اس پانی میں سے کچھ تو تم پیتے ہو اور اس پانی کے کچھ حصے سے مختلف قسم کے درخت اگتے ہیں اور سبزہ نکلتا ہے جس میں تم اپنے مویشی چرنے کو چھوڑ دیتے ہو۔ یعنی اپنی کچھ تو پینے میں کام آتا ہے اور کچھ نباتات کی روئیدگی کا سبب بنتا ہے ، شجر خواہ تنے والا ہو خواہ بےتنے والا ہو بیلیں ہوں گھاس ہو وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 8۔ مگر وہ اسی کو پہچانتے ہیں جو اس صراط مستقیم کا طالب بھی ہو اس لئے تم کو چاہئے کہ ان دلائل میں غور کرو اور ان سے حق طلب کرو کہ تم کو مقصود تک رسانی عطا ہو۔
Read the full tafseer →وہی تو ہے جس نے آسمانوں سے پانی برسایا اور تمہاری آبادی کے سامان پیدا کیے :
14۔ تم دیکھو گے کہ زندگی کے لئے پانی اور رطوبت کی ضرورت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کے وافر ذخیرے ہر طرف موجود ہیں لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو یہ زندگی کے لئے کافی نہ تھا کیونکہ زندگی کے لئے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہیں لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو یہ زندگی کے لئے کافی نہ تھا کیونکہ زندگی کے لئے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک خاص انتظام ‘ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص مقررہ مقدار کے ساتھ موجود ہو ۔ پس یہ جو دنیا میں پانی کے بننے اور تقسیم ہونے کا ایک خاص انتظام پایا جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →Commentary
The word: شَجَر (shajar) in verse 10: مِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ (from which [ you grow ] plants, on which you pasture cattle) is mostly applied to a tree which stands on a trunk. Sometimes, it is also applied, in an absolute sense, to everything which grows on land. Included therein are grass on stems or tendrils. This is the sense meant in this verse, because the pasturing of cattle has been mentioned immediately after which is mostly related to grass.
The last word: (tusimun) is a derivation from isamah which means to leave cattle to graze freely in a pasture.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9. This contains an argument for Prophethood along with a proof of Tauhid and of Allah’s compassion and providence. The argument is this:
There are many divergent ways of thought and action open for man to choose from. Obviously all these divergent ways cannot be straight ways, because there can be only one straight way; therefore, there can be only one right theory of life which is based on that way, and only one right way of life which is based on that right theory. Thus it is clear that the choice of the right way of life is man’s most important and basic need, for its wrong choice would…
Read the full tafseer →