An-Nahl 16:11

An-Nahl · from ayah 11

16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ۟يُنۡۢبِتُ لَـكُمۡ بِهِ الزَّرۡعَ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالنَّخِيۡلَ وَالۡاَعۡنَابَ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّـقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He causes to grow for you thereby the crops, olives, palm trees, grapevines, and from all the fruits. Indeed in that is a sign for a people who give thought.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:11

وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی سے وه تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے بےشک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پانی سے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے، بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تمہارے لیے اس کے ساتھ کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اسی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سوچیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ اس پانی کے ذریعے تمہارے لئے کھیتیاں بھی اگاتا ہے، اور زیتوں، کھجور، انگور اور قسم قسم کے دوسرے پھل بھی پیدا کرتا ہے، بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی سے تمہارے لئے کھیتی اگاتے ہیں نیز زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بیشک اس میں (بڑی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سوچتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اگاتا ہے تمہارے لیے اس (پانی) سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے پھل یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور بیشمار درخت اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل پیدا کرتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں اللہ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and by virtue of which He causes crops and olives and date-palms and grapes and all kinds of fruit to grow for you. Surely in this there is a great Sign for those who reflect.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He causes the crops therewith to grow for you, and olives, and date palms, and grape vines, and all the fruits. Surely, in that, there is a sign for a people who ponder.

— Muhammad Taqi Usmani

He causes the crops therewith to grow for you, and olives, and date palms, and grape vines, and all the fruits. Surely, in that, there is a sign for a people who ponder.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

With it He causes crops to grow for you, the olives, the date palms, the grapes, and every kind of fruit. Verily, in this there is indeed an evident proof and a manifest sign for people who give thought.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therewith He causeth crops to grow for you, and the olive and the date-palm and grapes and all kinds of fruit. Lo! herein is indeed a portent for people who reflect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He causes to grow for you thereby the crops, olives, palm trees, grapevines, and from all the fruits. Indeed in that is a sign for a people who give thought.

— Saheeh International

(With this water) He causes corn, olives, palm-trees, vines, and all kinds of fruits to grow. In this there is evidence (of the existence of God) for the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

He causes to grow for you thereby herbage, and the olives, and the palm trees, and the grapes, and of all the fruits; most surely there is a sign in this for a people who reflect.

— Muhammad Habib Shakir

He groweth for you thereby the corn and olives and date- palms and grapes and all kinds of fruit. Verily therein is a sign for a people who ponder.

— Abdul Majid Daryabadi

With it He produces for you corn, olives, date-palms, grapes and every kind of fruit: verily in this is a sign for those who give thought.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

تمہارے فائدوں کے سامان چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں۔ سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا۔ پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–13

سورة النَّحْل 9 توحید اور رحمت و ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں اشارۃ نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس دلیل کا مختصر بیان یہ ہے دنیا میں انسان کی فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو۔ اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو۔ اس صحیح نظریے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ان تمام آیات میں نعمائے الہیہ اور عجیب و غریب حکمت کے ساتھ تخلیق کائنات کا ذکر ہے جس میں غور وفکر کرنے والوں کو ایسے دلائل اور شواہد ملتے ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی توحید کا گویا مشاہدہ ہونے لگتا ہے اسی لئے ان نعمتوں کا ذکر کرتے کرتے باربار اس پر متنبہ کیا گیا ہے اس آیت کے آخیر میں فرمایا کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے دلیل ہے کیونکہ کھیتی اور درخت اور ان کے پھل پھول وغیرہ کا تعلق اللہ جل شانہ کی صنعت و حکمت کے ساتھ کسی قدر غور وفکر چاہتا ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ دانہ یا گٹھلی زمین کے اندر ڈالنے اور پانی دینے سے تو خود بہ خود یہ نہیں ہوسکتا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ وَالنَّخِيْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭاِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ آخرت کی دلیل ربوبیت کے پہلو : اسی پانی سے وہ کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور گوناگوں قسم کے پھلوں کے باغ پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو تفکر و تدبر کریں۔ توحید دلیل، توافق کے پہلو سے، تو اس میں ہے ہے لیکن تفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نشانی آخرت کی بھی ہے اس لیے کہ گوناگوں نعمتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی اس دنیا پر جب ایک حساس انسان غور کرتا ہے تو وہ بےتحاشا پکار اٹھتا ہے کہ ربنا ماخلقت ھذا باطلا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 اس میں بارش کے وہ فوائد بیان کئے گئے ہیں، جو ہر مشاہدے اور تجربے کا حصہ ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ نیز ان کا ذکر پہلے آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–13

6: کھیتیوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسے گندم، سبزیاں وغیرہ اور زیتون ان اشیاء کا ایک نمونہ ہے جو کھانا پکانے اور کھانے کے لیے چکنائی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اور کھجور، انگور اور باقی پھلوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو مزید لذت حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔ آیت نمبر 10 تا 11 یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔ منہ شراب (16 : 10) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت : ومنہ شجر فیہ تسیمون (16 : 10) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ایک ہی پانی سے مختلف قسم کے پھل اور میوے اگاتا رہتا ہے جن کی شکل و صورت، رنگ و بو، مزہ اور تاثیر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس میں غور کرنے والوں کے لیے خدا کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ کا بڑا نشان ہے کہ ایک زمین، ایک آفتاب، ایک ہوا، اور ایک پانی سے کیسے رنگ برنگ کے پھول پھل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ اللہ تعالیٰ کی شان خلاقی کے بیشمار انداز ہیں اس کی تخلیق میں لامحدود تنوع ‘ بوقلمونی اور رنگا رنگی ہے۔ چناچہ اب ایک دوسرے پہلو سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن سے انسان لحمی غذائیں، روغن اور دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان دو آیات میں ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ہمارے جسم کے لئے نباتاتی غذاؤں کا کام دیتی ہیں۔ اور ان آیات میں جس بات کی طرف غور و فکر کرنے کی توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اسی پانی سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے ہی لیے زمین بھی سیراب ہوتی اور تمہارے لیے پانی کا ذخیرہ بھی محفوظ رکھتی ہے۔ پھر یہی ایک ہی قسم کا پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج ہے لیکن زمین سے ایک نہیں بلکہ لاکھوں قسموں کی نباتات اگ آتی ہیں۔ جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی اس سارے محکم نظام وانتظام نباتی ہیں اہل فکر و تدبر کے لئے اللہ کی ربوبیت، قدرت، حکمت و توحید کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ (آیت) ” الزیتون والنخیل والاعناب “۔ زیتون کھجور، انگور کے طبی فوائد نیز اہل عرب کے لئے ان کی اہمیت خصوصی پر ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” ینبت لکم سے یہ مسئلہ ایک بار پھر روشنی میں آگیا کہ یہ سارا نتظام نباتی انسان ہی کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ینبت لکم بہ الزرع والزیتون والنخیل والاعناب ومن کل الثمرات اللہ پانی سے تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور کے درخت اور انگور اور تمام پھل پیدا کرتا ہے۔ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰت میں مِنْ تبعیضیہ ہے ‘ یعنی تمام ممکنہ پھلوں میں سے بعض پیدا کرتا ہے۔ کل پھل تو صرف جنت میں ہوں گے ‘ یہاں تو جنت کے پھلوں کی یاددہانی کیلئے بعض پھل پیدا کئے گئے ہیں۔ مویشیوں سے پہلے ان کی چراگاہوں کا ذکر اور مویشیوں کے بعد کھیتی اور پھلوں کا تذکرہ ترتیب واقعی کی طرف اشارہ کر ہا ہے۔ سب سے پہلے درخت ہی حیوانات کی غذا بنتے ہیں اور حیوانات سے پیدا ہونے والی غذا سب سے اعلیٰ غذا ہے (پس درختوں کی پیدائش کا ذکر پہلے ‘ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) جس کو تم اپنے مویشی کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو اور اس پانی سے تمہارے لیے انگور اور ہر ایک قسم کے پھل اگاتا ہے، ان قسم قسم کے پھلوں اور ان کے مختلف مزوں میں ان حضرات کے لیے جو کہ مخلوقات خداوندی میں غور کرتے ہیں، خالق کے لیے بہت سی عبرتیں اور دلیلیں موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ۔۔ : ایک ہی پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج کی تپش سے گندم اور جو وغیرہ کے زمین میں سیدھے یا الٹے دفن شدہ دانے سے کھیتی، گٹھلی سے زیتون، قلم سے انگور اور بیشمار کھیتیاں اور پھل پیدا فرمائے۔ لحمیات، نشاستہ، شکر، وٹامنز، دوائیں، لکڑی، الغرض ! زندگی کی ہر ضرورت کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تم تو زمین میں دانے یا گٹھلیاں پھینک کر آگئے تھے اور کئی بیج تم نے ڈالے بھی نہیں تھے، یہ سب اگانے والا کون ہے ؟ اپنے اس بابے اور مشکل کشا کا نام تو بتاؤ۔ لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان چیزوں اور آئندہ ذکر ہونے والی چیزوں کا خالق ہونے کا کوئی دعوے دار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 11 قولہ تعالیٰ : ینبت لکم بہ الزرع والزیتون والنخیل والاعناب ومن کل الثمرت ابوبکر نے حضرت عاصم سے تعظیم کی بنا پر تبتنون کے ساتھ پڑھا ہے۔ عام قرأت یا کے ساتھ ہے۔ معنی یہ ہے ینبت اللہ لکم (یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اگاتا ہے) ۔ کہا جاتا ہے : نبتت الأرض وأبنتت یہ دونوں ہم معنی ہیں (زمین نے اگایا) ، اور بنت البقل و أنبت یہ دونوں ایک معنی میں ہیں (یعنی سبزی اگی) ۔ اور فراء نے شعر کہا ہے : رأیت ذوی الحاجات حول بیوتھم قطینا بھا حتی اذا أنبت البقل اس میں أبنت بمعنی نبت ہے۔ اور أبنتہ اللہ فھو منبوت (اللہ تعالیٰ نے اسے اگایا پس وہ اگ گئی) ، تو یہ خلاف قیاس ہے۔ اور أنبت الغلام یعنی بچے کے زیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–13

1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُنْۢبِتُ : وہ اگاتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ بِهِ : اس سے ] [ الزَّرْعَ : کھیتی کو ] [ وَالزَّيْتُوْنَ : اور زیتون کو ] [ وَالنَّخِيْلَ : اور کھجوروں کو ] [ وَالْاَعْنَابَ : اور انگوروں کو ] [ وَمِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ ۭ: اور تمام پھلوں میں سے (بھی اگاتا ہے)] [ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : غور و فکر کرتے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 11) وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ عطف ہے۔ یُنْبِتُ پر۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور درمیان میں بطور جملہ معترضہ سیدھے راستے کی تشریح فرما دی اگر کوئی شخص دلائل میں غور کرے گا تو وہ راہ مستقیم پر چلے گا اور راہ حق پالے گا۔ مذکورہ بالا آیات میں بھی چند دلائل توحید بیان فرمائے ہیں۔ اول : یہ کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے اس پانی سے ایک تو یہ فائدہ ہے کہ اس میں سے بہت سا حصہ پینے کے کام آتا ہے، آسمان سے برسے ہوئے میٹھے پانی سے مخلوق سیراب ہوتی ہے اور اس پانی سے درخت بھی پیدا ہوتے ہیں، ان درختوں کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ درخت جانوروں کی خوراک بنتے ہیں، ان جانوروں کو درختوں میں چھوڑ دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

11:۔ دوسری عقلی دلیل :۔ پہلی دلیل میں انسان، زمین و آسمان اور چوپایوں کی پیدائش کا ذکر تھا اب دوسری دلیل میں بارش، زمین سے انواع و اقسام رزق کی پیدائش اور نظام شمسی کی تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسایا جو تمہارے پینے کے کام آتا ہے نیز اس سے زمین میں گھاس اور چارہ اگتا ہے جس میں تم اپنے مویشیوں کو چراتے ہو۔ ” یُنْبِتُ لَکُمْ بِهٖ الخ “ علاوہ ازیں بارش سے غلے، میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ “ یہ تنبیہ ہے تاکہ سامعین ان امور میں غور و فکر کر کے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر استدلال کریں۔ یعنی علامۃ دالۃ علی قدرتنا ووحدانیتا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–14

) ربط آیات ( سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُوْنَ وَالنَّخِيْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۭاِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 11؀ نبت النَّبْتُ والنَّبَاتُ : ما يخرج من الأرض من النَّامِيات، سواء کان له ساق کا لشجر، أو لم يكن له ساق کالنَّجْم، لکن اختَصَّ في التَّعارُف بما لا ساق له، بل قد اختصَّ عند العامَّة بما يأكله الحیوان، وعلی هذا قوله تعالی: لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَباتاً [ النبأ/ 15] ومتی اعتبرت الحقائق فإنّه يستعمل في كلّ نام، نباتا کان، أو حيوانا، أو إنسانا، والإِنْبَاتُ يستعمل في كلّ ذلك . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–13

ترکیب : منہ شراب جملہ اور نیز منہ شجر دونوں جملے ماء کی صفت ہیں و ماذرا محل نصب میں ہے خلق یا ابنت محذوف سے۔ مختلفاً حال ہے واصل السوم الابعاد فی المرعی قال الزجاج من السومتہ وھی العلامتہ لانہا توفی الارض۔ علامات برعیھا یقال سامت السائمۃ تسوم سوماً رعت فہی سائمۃ۔ نباتات کے عجائب حالات سے اثبات باری تعالیٰ تفسیر : عالم سفلی میں حیوان کے بعد اشرف الاجسام نباتات ہیں۔ پس حیوان کے عجائب حالات سے خدا تعالیٰ کا قادر مختار ہونا ثابت کر کے نباتات کے عجائب حالات سے ثابت کرتا ہے چونکہ نباتات کے پیدا ہونے کا سبب مینہ ہے۔ اس لیے سب سے اول فرماتا ہے کہ ھوالذی الخ ہم نے ہی تو آسمان سے یعنی بادل سے پانی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 11) (وہی تمہارے لیے اسی زمین سے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے، یقینا ان تمام چیزوں میں قدرت الٰہی کی نشانی ہے اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے۔ ) اس نے جس طرح حیوانوں کے کھانے اور چرنے کے لیے گھاس اور مختلف قسم کی جھاڑیاں پیدا فرمائیں اسی طرح اس نے انسانوں کے لیے ان کی طبیعت اور ضرورت کے مطابق غلہ پیدا فرمایا اور غلے میں بھی تنوع پیدا فرمایا۔ کھانے کے لوازمات کے لیے زیتون جیسی نعمت پیدا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–11

فہم القرآن ربط کلام : حیوانات کے بعد نباتات کے حوالے سے انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ (الانبیاء : 30) بالخصوص انسان اور حیوانات کی زندگی پانی کے سوا چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی خوراک، رہائش بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا جس قدر چاہے ترقی کر جائے اس کی تعمیر و ترقی میں پانی کا عنصر ہمیشہ بنیادی حیثیت کے طور پر شامل رہے گا۔ جہاں تک انسان اور حیوانات کی خوراک کا تعلق ہے۔ اس میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے نباتات اور پھلوں کا ذکر کرنے سے پہلے پانی کا ذکر کیا ہے اور پانی کی بڑی مقدار اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11: یُنْچبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (اللہ تعالیٰ تمہارے اس پانی سے کھیتی، زیتون اور کھجور وانگور اور ہر طرح کے پھل اگاتا ہے) نکتہ : آیت میں منؔ لائے صرف کل الثمرات نہیں کہا کیونکہ تمام پھل تو جنت میں میسر ہونگے۔ دنیا میں یادداشت کیلئے بعض پھل اگا دیے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے سوچ و بچار کرنے والی قوم کیلئے) پس وہ اس نشانی کے ذریعہ اس پر اور اس کی قدرت و حکمت پر استدلال کرنے والے ہیں۔ الاٰیۃؔ سے دلالت واضحہ مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(11)” ینبت لکم “ نازل کردہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی وغیرہ پیدا کرتا ہے۔ ابوبکر نے عاصم کے حوالے سے ” ینبت “ نون کے ساتھ پڑا ہے۔ ” الروع والزیتون…تا … لقوم یتفکرون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–11

10۔ 11۔ اللہ پاک نے انسان اور جانوروں کے پیدا کرنے کا حال بیان کر کے اب ان نعمتوں کا ذکر کیا جو مینہ برسا کر اس نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے لئے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا یہ بہت ہی بڑا اس کا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا اور زمین کو تر رکھتا ہے جس میں کھیتی ہوتی ہے اور طرح طرح کے درخت اور گھاس اگتے ہیں اور لوگ اپنے اپنے جانوروں کو چراتے ہیں اور کھیتوں میں غلے پیدا ہوتے ہیں جس سے انسان غذا حاصل کرتا اور اپنی زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–11

آیت 10 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں اپنی عظمت اور قدرت کے بارے میں انسان کو آگاہ فرماتا ہے اور ان آیات کے اختتام پر (لقوم یتفکرون) ” غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔ “ کہہ کر اپنی قدرت کا ملہ پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس رقیق و لطیف بادل سے پانی برسایا، یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے بکثرت پانی نازل کیا جسے وہ خود پیتے ہیں، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، پس ان کھیتوں سے بیشمار پھل اور دیگر نعمتیں پیدا ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–13

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

18۔ نعمت آب رسانی کی تذکیر و یاددہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارا جس سے تم لوگ پیتے بھی ہو اور دوسرے طرح طرح کے فائدے بھی حاصل کرتے ہو۔ پس آب رسانی کا یہ محیرالعقول نظام جہان اس کی بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت وحکمت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے وہاں یہ تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی اور اس دنیا کی رونق وچہل پہل کا بنیادی ذریعہ وسبب بھی ہے۔ فسبحانہ من الہ قادر قیوم۔ نیز یہیں سے تم یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری جسمانی ضروتوں کی تکمیل کا اس طرح انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان نہ فرمائے جو کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–13

انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 5 کہ ایک ہی پانی ایک ہی سورج ایک ہی زمین اور ایک ہی ہوا سے کیسے رنگ برنگ کے پھل پھول پیدا ہوتے رہتے ہیں ان میں غور و فکر کے اور بھی طریقے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ علم کے وقدرت کے کمال پر استدلال ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:11) ینبت۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ انبات افعال سے وہ اگاتا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے جو کہ سابقہ آیت میں ہے۔ الزرع۔ زرع یزرع (فتح) سے مصدر ہے اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں۔ لیکن یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول مزروعآیا ہے یعنی کھیتی۔ اسی معنی میں اور جگہ آیا ہے فنخرج بہ زرعا۔ (32:27) پھر ہم اس (پانی) کے ذریعہ سے کھیتی نکالتے ہیں۔ زرع کے اصل معنی اگانے کے ہیں جو پونے سے مختلف ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے کہ افرأیتم ما تحرثونء انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون (56:24) بھلا بتائو تو کہ جو تم بوتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تفکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–12

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 شراب پینے کی چیز۔ شجر درخت۔ تسیمون تم چرتاے ہو۔ ینبت اگاتا ہے۔ الزرع کھیتی۔ النخیل کھجور۔ الاعناب انگور۔ یتفکرون وہ غور و فکر کرتے ہیں۔ سخر اس نے مسخر کردیا۔ حکم کے تابع کردیا۔ الشمس سورج۔ القمر چاند۔ النجوم (النجم) ، ستارے۔ یعقلون جو عقل رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کو غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بتا سکیں کہ اس پوری کائنات کا وہ ایک ہی رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ورنہ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–11

دین کا رستہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ پاک نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن پر لوگ سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور دنیا میں رستہ طے کرتے ہیں تو اب دین کے رستوں کا بیان کیا اور فرمایا کہ دو راہیں ہیں : ایک تو سیدھی، دوسری کج، جو سیدھی راہ ہے وہ خدا تک پہنچتی ہے اور جو کج ہے وہ شیطانی راہ ہے انسان کو دوزخ میں لے جاتی ہے۔ توحید کا بیان ارشاد ہوتا ہے کہ یہ خدا ہی کا کام ہے کہ اس نے مینہ برسا کر تمہارے پانی پینے کو ندی نالے اور تالابوں میں جمع کر رکھا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو آسمان سے کڑوا اور کھاری پانی اتارتا جس کے پینے پر انسان مجبور ہوتا۔ یہ بہت ہی بڑا احسان ہے جو میٹھا پانی برساتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[8] اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے نفع و راحت اور آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پیدا کرنا منظور تھا، جیسے دخانی جہاز، ریلیں، موٹر، ہوائی جہاز، برقی آلات اور معلوم نہیں اس کے علاوہ اسے کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

فلسفہ اختلاف : (ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اختلاف رنگ وبو کو قائم رکھا ہے ، اور اس گلشن حیات میں جو زندگی رکھی ہے ، وہ بھی بو قلموں اشجار پر لیل ونہار میں اختلاف ہے ، اندھیرے اور اجالے میں اختلاف ہے پھول ، پتے ، اور کانٹے میں اختلاف ، آہن وسیم ، میں اختلاف ہے ، حقیقت وملمع میں اختلاف ہے ، سچ اور جھوٹ میں اختلاف ہے ، حق و باطل میں اختلاف ، اللہ نے اس بزم کو انواع و اقسام کے لوگوں سے آراستہ کیا ہے ۔ گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن ۔ اے ذوق اس جہان کو ہے زیب اختلاف ہے ۔ کچھ وہ ہیں کہ فطرت میں سلامتی ہے حق کے جویاں ہیں ، طبیعت میں غور اور فکر کرنے کا مادہ ہے ، یہ ہدایت پر ہیں ، کچھ ایسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 ۔ اور اسی پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے یقینا اس بارش کے برسانے اور نباتات کے اگانے میں غور و فکر کرنے اور سوچنے والوں کے لئے توحید کی بڑی دلیل موجود ہے۔ یعنی یہ کارخانہ نباتات سو ائے اس وحدہٗ لا شریک کے اور کسی کے بس میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–12

ف 8۔ مگر وہ اسی کو پہچانتے ہیں جو اس صراط مستقیم کا طالب بھی ہو اس لئے تم کو چاہئے کہ ان دلائل میں غور کرو اور ان سے حق طلب کرو کہ تم کو مقصود تک رسانی عطا ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زندگی کے سارے سامانوں کا وہی اکیلا پیدا کرنے والا ہے : 15۔ انسان جس خوراک کو ایک معمولی سی چیز سمجھتا ہے اس پر ذرا غور کرے تو اس کی سمجھ میں آئے کہ یہ آخر پیدا کیسے ہوتی ہے اگر اللہ نے اس کے اسباب فراہم نہ کئے ہوتے تو کیا انسان کے بس میں یہ تھا کہ زمین پر یہ غذا خود پیدا کرلیتا ؟ ہم نے کس طرح آسمان سے زمنن پر پانی لنڈھایا اور پھر سورج کی حرارت سے بیحد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں ‘ پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں ‘ پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سر نو پانی کی شکل اختیار کرتی ہیں اور ہر علاقے میں ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

It will be noticed that all verses cited above point out to Divine blessings and mention the creation of the universe with unprecedented wisdom. In them, those who ponder find significant indicators and proofs which lead them to perceive the truth of Tauhid, the truth that Allah Ta` ala is One. Therefore, while these blessings are being mentioned, they are tied up with a notice to pay attention, think, understand and accept advice. Consequently, at the end of verse 11, it was said: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ (Indeed, in that, there is a sign for a people who ponder).…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–13

9. This contains an argument for Prophethood along with a proof of Tauhid and of Allah’s compassion and providence. The argument is this: There are many divergent ways of thought and action open for man to choose from. Obviously all these divergent ways cannot be straight ways, because there can be only one straight way; therefore, there can be only one right theory of life which is based on that way, and only one right way of life which is based on that right theory. Thus it is clear that the choice of the right way of life is man’s most important and basic need, for its wrong choice would…

Read the full tafseer →