Explained with ayahs 12–13
سورج چاند کی گردش میں پوشیدہ فوائد
اللہ تعالیٰ اپنی اور نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ دن رات برابر تمہارے فائدے کے لئے آتے جاتے ہیں۔ سورج چاند گردش میں ہیں، ستارے چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں، ہر ایک ایسا صحیح اندازہ اللہ نے مقرر کر رکھا ہے جس سے وہ نہ ادھر ادھر ہوں نہ تمہیں کوئی نقصان ہو۔ ہر ایک رب کی قدرت میں اور اس کے غلبے تلے ہے۔ اس نے چھ دن میں آسمان زمین پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا دن رات برابر پے درپے آتے رہتے ہیں سورج چاند ستارے اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے ہیں خلق و امر کا مالک وہی ہے وہ رب العالمین بڑی برکتوں والا ہے۔ جو سوچ سمجھ رکھتا ہو اس کے لئے تو اس میں اللہ کی قدرت و سلطنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
سورة النَّحْل 9
توحید اور رحمت و ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں اشارۃ نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس دلیل کا مختصر بیان یہ ہے
دنیا میں انسان کی فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو۔ اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو۔
اس صحیح نظریے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف…
Read the full tafseer →(آیت) وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔ رات اور دن کو مسخر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انسان کے کام میں لگانے کے لئے اپنی قدرت کا مسخر بنادیا کہ رات انسان کو آرام کے سامان مہیا کرتی ہے اور دن اس کے کام کے راستے ہموار کرتا ہے ان کو مسخر کرنے کے یہ معنی نہیں کہ رات اور دن انسان کے حکم کے تابع چلیں۔
(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ یعنی ان چیزوں میں چند دلائل ہیں عقل والوں کے لئے اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ ان چیزوں کا حکم الہی کا مسخر ہونا ایسا ظاہر کہ اس میں بہت کچھ غور و فکر کی ضرورت نہیں جس کو ذرا بھی عقل ہوگی وہ سمجھ لے گا کیونکہ نباتات اور درختوں کے اگانے…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔
سَخَّرَ لَكُمُ کے معنی جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں، یہ ہیں کہ ان چیزوں کو خدا نے تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدا نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت میں سرگرم کیا کہ تم اس کے شکر گزار بنو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جس نے انسان کی نفع رسانی کے لیے اپنی یہ شانیں اور قدرتیں دکھائیں وہ اس کو غیر مسئول اور مطلق العنان نہیں چھوڑے گا لیکن نادانوں یہ صحیح راہ اختیار کرنے کے بجائے انہی سورج، چاند…
Read the full tafseer →12۔ 1 کس طرح رات اور دن چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، چاند اور سورج کس طرح اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں رہتے ہیں اور ان میں کبھی فرق واقع نہیں ہوتا، ستارے کس طرح آسمان کی زینت اور رات کے اندھیروں میں بھٹکے ہوئے مسافروں کے لئے دلیل راہ ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور سلطنت عظیمہ پر دلالت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
6: کھیتیوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسے گندم، سبزیاں وغیرہ اور زیتون ان اشیاء کا ایک نمونہ ہے جو کھانا پکانے اور کھانے کے لیے چکنائی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اور کھجور، انگور اور باقی پھلوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو مزید لذت حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔
Read the full tafseer →اب آیات دلائل کائنات کا تیسرا گروپ۔
آیت نمبر 12
تدبیر مخلوقات اور انسان پر اس کے انعامات کا ایک مظہر گردش لیل و نہار ہے۔ شمس و قمر کی گردش اور سیاروں اور ستاروں کا یہ نظام بھی انسان کے لئے ممد حیات ہے۔ یہ تمام مظاہر انسانوں کی ڈیوٹی میں لگے ہوئے ہیں ، اپنے یوم تخلیق سے یہ خدمت انسان پر مامور ہیں۔ گردش لیل ونہار تو حیات انسان میں فیصلہ کن اثر رکھتی ہے۔ ذرا سوچو کہ اگر دن بھی قائم و دائم ہوجائے اور رات نہ آئے یا رات ہی قائم رہ جائے اور دن نہ آئے تو ؟ پہلی صورت میں زمین جل جائے اور دوسری صورت میں زمین جم جائے۔
شمس وقمر اور اس کرۂ ارض پر نظام حیات سے اس کا تعلق بالکل واضح ہے۔ شمس و قمر کی گردش سے…
Read the full tafseer →2 رات اور دن برابر ایک دوسرے کے پیچھے لگے چلے آتے ہیں تاکہ دنیا کا کاروبار چلے اور لوگ سکون و آرام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح چاند سورج ایک معین نظام کے ماتحت نکلتے اور چھپتے رہتے ہیں۔ رات، دن کی آمد و شد اور شمس و قمر کے طلوع و غروب کے ساتھ انسانوں کے بیشمار فوائد وابستہ ہیں۔ بلکہ غور سے دیکھا جائے تو ان کے بدون انسان کی زندگی محال ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے اقتدار کامل سے چاند سورج اور کل ستاروں کو ادنیٰ مزدوروں کی طرح ہمارے کاموں پر لگا رکھا ہے۔ مجال نہیں کہ ذرا سستی یا سرتابی کرسکیں۔ لیکن چونکہ رات دن اور چاند سورج سے بالکل صریح طور پر ہمارے کام متعلق ہیں اور دوسرے ستاروں سے ہمارے فوائد و مصالح کی…
Read the full tafseer →آیت 12 وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ
انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رات اپنی جگہ اہم ہے اور دن کی اپنی اہمیت ہے۔ رات میں مجموعی طور پر ایک سکون ہے۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے باعث راحت ہے ‘ اس میں وہ آرام کرتے ہیں ‘ سوتے ہیں اور صبح تازہ دم ہو کر اٹھتے ہیں۔ دوسری طرف دن میں بھاگ دوڑ ‘ محنت ‘ جدوجہد اور مختلف النوع انسانی سرگرمیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر اس پہلو سے دنیا کے اجتماعی نظام کو دیکھا جائے تو یہ پورا نظام رات اور دن کے وجود کا مرہون منت نظر آتا ہے۔ نباتاتی نظام کو ہی لے لیجیے۔ اس کے لیے رات اور دن دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ دن کو سورج کی روشنی اور تمازت سے نباتات کے…
Read the full tafseer →12 چاند سورج کی گردش کے فوائد :۔ اس آیت میں انسان کی ایک اور اہم ضرورت کا ذکر ہے یعنی انسان جب تک پوری طرح آرام نہ کرلے وہ آگے نہ کام کرسکتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے ایک مقررہ حساب کے تحت آنے جانے کا انتظام فرما دیا۔ سورج کی گردش سے دن رات پیدا ہوتے ہیں۔ نیز سورج ہمیں روشنی بھی پہنچاتا ہے اور دھوپ اور حرارت بھی جو ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری چیزیں ہیں۔ اسی طرح چاند اور ستارے ہمیں رات کو روشنی بہم پہنچاتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو رات اس قدر تاریک اور گھناؤنی ہوجاتی ہے کہ راہ کا نظر آنا تو درکنار، انسان ایک دوسرے کو بھی دیکھ نہ سکتے۔ ان…
Read the full tafseer →17۔ یعنی اس سارے نظام فلکی کے جزئیات وتفصیلات پر اگر عقل و تدبر سے کام لو، تو تم خود بول اٹھوگے کہ بیشک جس نے ایسے کامل ومستحکم انتظامات کر رکھے ہیں وہی ذات واحد قادر مطلق و حکیم کل اور سب کی پروردگار ہے۔ (آیت) ” سخرلکم۔۔ بامرہ “۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ سارے مخلوقات جو اپنے فرائض تکوینی انجام دیتے رہتے ہیں، ان سے مقصود خلیفۃ اللہ، نوع بشری کی خدمت ہے، تو یہ کیسی الٹی سمجھ اور کس درجہ حماقت وسخافت ہے کہ خود انہی خادموں کو دیوی، دیوتا کے مرتبہ تک پہنچا دیا جائے ! (آیت) ” مسخرت بامرہ “۔ سارے اجرام فلکی بہ ایں عظمت وبے نہایتی اللہ کے قوانین طبعی ہی کے پابند ہیں، اور ان سے بال بھر ادھر ادھر نہیں ہٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →وسخر لکم الیل و النھار والشمس والقمر اور اس نے تمہارے فائدے کیلئے رات اور دن ‘ سورج اور چاند کو مسخر بنایا۔ یعنی تمہارے منافع کیلئے اس نے رات دن بنائے ہیں۔
والنجوم مسخرات بامرہ اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔
بِاَمْرِہٖ میں امر سے مراد ہے : ایجاد اور اندازہ مقرر کرنا یا حکم مراد ہے۔ آیت بتارہی ہے کہ جو لوگ تخلیق نبات کو صرف تاثیر کواکب سے وابستہ قرار دیتے ہیں اور ستاروں کی حرکات و اوضاع کو مؤثر حقیقی جانتے ہیں ‘ ان کا خیال غلط ہے۔ اگر ایسا فرض بھی کرلیا جائے تب بھی کیا جواب ہے اس بات کا کہ تمام ستارے اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے ممکن ہیں (اور ممکن وہ ہوتا ہے جس کا اپنا وجود بھی اپنا نہیں…
Read the full tafseer →(12) اور اس نے تمہارے فوائد کے لیے رات دن کو مسخر کیا اور ستارے بھی اس کے حکم کے تابع ہے یقیناً ان مذکورہ چیزوں کے مسخر کرنے میں چند دلیلیں موجود ہیں، ان لوگوں کے لیے جو اس بات کو جانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے مسخر کیا ہے۔
Read the full tafseer →وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔۔ : تسخیر کا معنی کسی چیز کو اس کا اختیار اور مرضی ختم کرکے اپنا تابع بنا کر اپنی مرضی کے مطابق چلانا ہے۔ رات اور دن کے ساتھ سورج اور چاند کے تعلق کی بنا پر چاروں کا ذکر اکٹھا کیا۔ ”لَكُمُ“ (تمھارے لیے) کا یہ مطلب نہیں کہ رات دن اور سورج چاند تمہارے تابع فرمان کردیے ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے زبردست حکم ہی کے تابع ہیں، اس کے مقرر کردہ نظام سے نہ بال برابر ادھر ادھر ہوسکتے ہیں نہ آنکھ جھپکنے کے برابر ادھر ادھر۔ (دیکھیے فاطر : 41) ”لَکُمْ“ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو تمہاری بقا، ضروریات اور منافع کے لیے پابند کر رکھا ہے۔ اسے لام انتفاع کہتے ہیں،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
قولہ تعالیٰ : وسخر لکم الیل والنھار یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے راحت و سکون پانے اور کام کرنے کے لئے رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کردیا، جیسا کہ ارشاد فرمایا : ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ (القصص : 73) (اور محض اپنی رحمت سے اس نے بنا دیا ہے تمہارے لئے رات اور دن کو تاکہ تم آرام کرو رات میں اور تلاش کرو (دن میں) اس کے فضل (رزق) سے) والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ یعنی یہ سب اوقات کو پہچاننے کے لئے، پھلوں اور کھیتوں کے پکنے کے لئے اور اندھیروں میں ستاروں سے راہنمائی حاصل کرنے کے لئے مطیع کردیئے گئے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس اور ابن عامر اور اہل شام نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے…
Read the full tafseer →[وَسَخَّرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [ وَالنَّهَارَ ۙ: اور دن کو ] [ وَالشَّمْسَ : اور سوج کو ] [ وَالْقَمَرَ ۭ: اور چاند کو ] [ وَالنُّجومُ : اور تمام ستارے ] [ مُسَخَّرٰتٌۢ: مطیع کئے گئے ہیں ] [ بِاَمْرِهٖ ۭ : اس کے حکم سے ] [ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّعقلوْنَ : سوچ سمجھ سے کام لیتے ہیں ]
(آیت۔ 12) وَ سَخَّرَ کے مفعول وَالْقَمَرَ پر ختم ہوگئے۔ آگے نیا جملہ ہے جس میں وَالنُّجُوْمُ مبتدا ہے اور مُسَخَّرٰتٌ اس کی خبر ہے، اس لئے دونوں حالت رفع میں ہیں۔
Read the full tafseer →دوم : لیل و نہار (رات دن) کی تسخیر بیان فرمائی، اللہ تعالیٰ شانہٗ رات کو پیدا فرماتا ہے جس میں آرام کرتے ہیں، اور دن کو پیدا فرماتا ہے جس میں معاش کی طلب میں لگتے ہیں۔
سوم : شمس و قمر کی تسخیر کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے آفتاب اپنی حرارت اور روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے پھر غروب ہوجاتا ہے اس عرصہ میں اس سے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ روشنی اور گرمی کا فائدہ تو سبھی کو معلوم ہے اس کی حرارت کی وجہ سے کھیتیاں بھی پکتی ہیں اور پھل تیار ہوتے ہیں، اور اب تو آفتاب سے بجلی بھی حاصل کرتے ہیں، اور چاند کو بھی مسخر فرما دیا جس کی دھیمی دھیمی روشنی میں ایک خاص کیف ہوتا ہے سفر و حضر میں چلنے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12:۔ سارا نظام شمسی بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے جسے اس نے اپنے حکم سے بنی آدم کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ نظام شمسی میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے دلائل کے انبار ہیں جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ ” وَ مَا ذَرَاَ لَکُمْ الخ “ زمین میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا مثلاً انسان، حیوان، حجر و شجر وگیرہ سب کے رنگ مختلف ہیں خواص جداگانہ ہیں حالانکہ ہر چیز کی پیدائش مٹی اور پانی سے ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو کائنات کے گہرے مطالبہ سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ای یتعظمون و یعلمون ان فی تسخیرھذہ المکونات لعلامت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
) ربط آیات (
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۙ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 12ۙ
سخر
التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13]
( س خ ر ) التسخیر
( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔
نجم
أصل النَّجْم : الكوكب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : منہ شراب جملہ اور نیز منہ شجر دونوں جملے ماء کی صفت ہیں و ماذرا محل نصب میں ہے خلق یا ابنت محذوف سے۔ مختلفاً حال ہے واصل السوم الابعاد فی المرعی قال الزجاج من السومتہ وھی العلامتہ لانہا توفی الارض۔ علامات برعیھا یقال سامت السائمۃ تسوم سوماً رعت فہی سائمۃ۔
نباتات کے عجائب حالات سے اثبات باری تعالیٰ
تفسیر : عالم سفلی میں حیوان کے بعد اشرف الاجسام نباتات ہیں۔ پس حیوان کے عجائب حالات سے خدا تعالیٰ کا قادر مختار ہونا ثابت کر کے نباتات کے عجائب حالات سے ثابت کرتا ہے چونکہ نباتات کے پیدا ہونے کا سبب مینہ ہے۔ اس لیے سب سے اول فرماتا ہے کہ ھوالذی الخ ہم نے ہی تو آسمان سے یعنی بادل سے پانی…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ م بِاَمْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 12)
(اور اس نے رات اور دن سورج اور چاند کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے، اور تمام ستارے بھی اسی کے حکم کے پابند ہیں، بیشک ان تمام چیزوں میں قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو عقل رکھتی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے فیضانِ ربوبیت کی کیا انتہا ہے کہ اس نے جس طرح زمین پر انسانی غذائوں اور تفکہات کا دسترخوان بچھا رکھا ہے اور حیوانوں کی ضروریات کے لیے بھی کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ اسی طرح اس نے آسمانی مخلوقات کو بھی تمہاری…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نباتات، کھیتوں اور پھلوں کی پیداوار میں رات اور دن، چاند اور سورج کا بڑا دخل ہے اسی لیے دانشور حضرات کو ان کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن، سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے حکم سے لوگوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت کی نشانیاں اور دانشوروں کے لیے ہدایت کے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ رات اور دن، چاند، سورج اور ستاروں کو لوگوں کے لیے مسخر کرنے کا یہ معنیٰ نہیں کہ انسان کسی وقت اس قدر ترقی کر جائے گا کہ وہ رات دن کی گردش، سورج اور چاند کی آمدورفت اور ستاروں کی چمک دمک میں دخل…
Read the full tafseer →دن رات اور ستاروں کی نعمت :
12: وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ0 بِاَمْرِہٖ (اور اس نے مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج و چاند کو اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ ) قراءت : تمام کا نصب ہے اس طرح وَجَعَلَ النُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ ۔ یہ حمزہ، ابو عمرو، ابن کثیر کی قراءت ہے اور النجومُ مسخراتٌ حفص کی قراءت ہے۔ والشمسُ و النجومُ مسخراتٌ یہ شامی کی قراءت ہے اس طور پر کہ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل والی قوم کیلئے) آیات جمع آیۃ کی ہے۔ عقل کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →(12)” وسخر لکم “ تمہارے لیے ان کو مسخر کرلیا۔ ” الیل… تا … مسخرات “ ان تمام اشیاء کو تمہارے تابع کرلیا۔ ” بامرہ “ اس کے حکم سے حفص اور عاصم نے ” والنجوم مسخرات “ کو مرفوع پڑھا ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے۔ ” ان فی ذلک لایات لقوم یعقلون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات دن چاند سورج ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے اس کا بیان فرمایا کہ اللہ نے تمہارے ہی فائدہ کے لئے یہ رات اور دن بنائے ہیں جہاں ایک دن میں سے ختم ہوا دوسرا آن موجود ہوا دن کو لوگ اپنے اپنے کاروبار سے جا لگتے ہیں اور اپنی روزی حاصل کرتے ہیں راتوں کو تھکے ماندے آگر آرام کرتے ہیں چاند و سورج سے مہینوں اور برسوں کا حساب ہوا کرتا ہے۔ چاند اٹھائیس دن میں اپنا دورہ پورا کرتا ہے اور پھر دو یا ایک رات پوشیدہ رہ کر ہلاک کی صورت میں نکلتا ہے تو ایک مہینہ ہوتا ہے۔ سورج تین سو ساٹھ دن میں پورا دورہ آسمان کا طے کرتا ہے تو ایک سال ہوتا ہے اس عرصے میں…
Read the full tafseer →آیت 12
یعنی یہ تمام چیزیں تمہارے فوائد اور تمہارے مختلف مصالح کے لئے مسخر کی ہیں کیونکہ تم ان چیزوں سے کبھی بھی بےنیاز نہیں رہ سکتے۔ رات کے وقت تم سوتے ہو، سکون اور آرام حاصل کرتے ہو، دن کے وقت تم اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر زمین میں پھیل جاتے ہو۔ سورج اور چاند سے تمہیں روشنی، نور اور اجالا حاصل ہوتا ہے، اس سے درختوں، پھلوں اور نباتات کی اصلاح ہوتی ہے۔ زمین کی مختلف رطوبتوں میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس برودت کا ازالہ ہوتا ہے جو زمین اور حیوانی ابدان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔۔۔ اور اس قسم کی دیگر ضروریات و حوائج جن کا دار و مدار سورج اور چاند کے وجود پر ہے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مویشیوں کے فوائد
قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…
Read the full tafseer →21۔ نظام شمس وقمر میں دعوت غور و فکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تمہارے لیے کام میں لگا دیا رات اور دن (کے عظیم الشان سلسلے) کو اور سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں) کو۔ جس کے ساتھ تمہارے طرح طرح کے اور بےحد وحساب مفادات وابستہ ہیں کہ ان سے روز وشب کا یہ سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ موسم بدلتے ہیں۔ تمہارے پھل پکتے ہیں اور فصلیں تیار ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ کس قدر فضل وکرم اور رحمت عنایت ہے۔ یہ کس قدر فضل وکرم اور رحمت و عنایت ہے جس سے وہ تم کو نوازتا ہے اور تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ذرا سوچو تو سہی کہ رات اور دن کے ادلنے بدلنے کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں
تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 6 اور جس کام کے لئے ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس میں لگے ہوئے ہیں۔ اس آیت سے ان نجومیوں کا روہوا جو سمجھتے ہیں کہ تاروں کی حرکت سے دنیا میں طرح طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں حالانکہ تارے بیچارے کیا کرسکتے ہیں وہ تو حکم کے تابع ہیں جو کچھ ہوتا ہے خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ (فتح البیان) موضع میں پہلی (پہلی) چار چیزوں سے تو بندوں کے کام صریح طور پر وابستہ نظر آتی ہیں۔ مگر ستاروں سے انسانی فوائد کا متعلق ہونا صریح نہ تھا۔ اس لئے ان کو جدا کردیا۔ فتدبر 12
Read the full tafseer →(16:12) مسخرات۔ اسم مفعول ۔ جمع مؤنث مسخرۃ واحد۔ تسخیر (تفعیل) مصدر۔ زیر تسخیر۔ مغلوب ۔ تابع فرمان۔
ابواب ثلاثی مجرد سے باب سمع سے بمعنی ٹھٹھا کرنا کے آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12
شراب پینے کی چیز۔ شجر درخت۔ تسیمون تم چرتاے ہو۔ ینبت اگاتا ہے۔ الزرع کھیتی۔ النخیل کھجور۔ الاعناب انگور۔ یتفکرون وہ غور و فکر کرتے ہیں۔ سخر اس نے مسخر کردیا۔ حکم کے تابع کردیا۔ الشمس سورج۔ القمر چاند۔ النجوم (النجم) ، ستارے۔ یعقلون جو عقل رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 12
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کو غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بتا سکیں کہ اس پوری کائنات کا وہ ایک ہی رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ورنہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
زمین کو پیدائش
ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات، دن، چاند، سورج اور ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے بیان فرمایا ہے کہ تمہارے فائدے کے لئے رات اور دن بنایا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ میوؤں اور اناج کا پیدا ہونا اور پکنا اور برسوں اور مہینوں کا حساب انہیں کی بدولت ہے۔ اور اللہ کے حکم سے یہ ستارے بھی مسخر ہیں ان کے سبب سے راستہ پہچانتے ہو اور رات کی مقدار وغیرہ دریافت کرتے ہو۔ ان باتوں کو دیکھ کر اہل عقل خوب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کسی صناع حکیم کا کام ہے اور یہ سب کے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ عقلمند ان نشانیوں سے خدا کی قدرت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد زمین کا حال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فلسفہ اختلاف :
(ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اختلاف رنگ وبو کو قائم رکھا ہے ، اور اس گلشن حیات میں جو زندگی رکھی ہے ، وہ بھی بو قلموں اشجار پر لیل ونہار میں اختلاف ہے ، اندھیرے اور اجالے میں اختلاف ہے پھول ، پتے ، اور کانٹے میں اختلاف ، آہن وسیم ، میں اختلاف ہے ، حقیقت وملمع میں اختلاف ہے ، سچ اور جھوٹ میں اختلاف ہے ، حق و باطل میں اختلاف ، اللہ نے اس بزم کو انواع و اقسام کے لوگوں سے آراستہ کیا ہے ۔
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن ۔
اے ذوق اس جہان کو ہے زیب اختلاف ہے ۔
کچھ وہ ہیں کہ فطرت میں سلامتی ہے حق کے جویاں ہیں ، طبیعت میں غور اور فکر کرنے کا مادہ ہے ، یہ ہدایت پر ہیں ، کچھ ایسے…
Read the full tafseer →12 ۔ اور اسی اللہ تعالیٰ نے تمارے لئے رات اور دن کو اور چاند اور سورج کو مسخر کر رکھا ہے اور تمام ستارے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں یقینا ان مذکورہ چیزوں کی تسخیر میں صحیح عقل رکھنے والوں کے لئے قدرت خداوندی اور توحید الٰہی کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں ۔ یعنی عالم علوی کی تسخیر سوائے اس کے اور کسی کے ہاتھ میں نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چار چیزوں سے بندوں کے کام لگ رہے ہیں صریح لیکن اور ستاروں سے کچھ ظاہر میں کام نہیں ان کو جدا فرمایا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 8۔ مگر وہ اسی کو پہچانتے ہیں جو اس صراط مستقیم کا طالب بھی ہو اس لئے تم کو چاہئے کہ ان دلائل میں غور کرو اور ان سے حق طلب کرو کہ تم کو مقصود تک رسانی عطا ہو۔
Read the full tafseer →تفسیر :
اللہ تعالیٰ نے رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا :
16۔ انسانی طبیعت کی یہ کمزوری ہے کہ جب تک وہ ایک نعمت سے محروم نہیں ہوجاتا اس کی قدر و قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں کرسکتا ، تم چناب کے کنارے بستے ہو اس لئے تمہارے نزدیک زندگی کی سب سے زیادہ بےقدر چیز پالی ہے لیکن اگر یہی پانی چوبیس گھنٹے تک میسر نہ آئے تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اس کی قدر و قیمت کا کیا حال ہے ؟ یہی حال فطرت کے فیضان جمال کا بھی ہے اس کے عام اور بےپردہ جلوے شب وروز تمہاری نگاہوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اس لئے تمہیں ان کی قدروقیمت محسوس نہیں ہوتی ، صبح اپنی ساری جلوہ آرائیوں کے ساتھ ساتھ روز آتی ہے اس لئے…
Read the full tafseer →Before we move to the next verse, let us clarify the first sentence of verse 12: سَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (And He has subjugated for you the day and the night). Here, 'subjugating the day and the night' means that Allah made them subservient to His command in order that they can serve man, pursuant to which the night brings comfort to him and the day smooths out the avenues of his work. 'Subjugating them' never means that the day and the night start alternating under human command.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9. This contains an argument for Prophethood along with a proof of Tauhid and of Allah’s compassion and providence. The argument is this:
There are many divergent ways of thought and action open for man to choose from. Obviously all these divergent ways cannot be straight ways, because there can be only one straight way; therefore, there can be only one right theory of life which is based on that way, and only one right way of life which is based on that right theory. Thus it is clear that the choice of the right way of life is man’s most important and basic need, for its wrong choice would…
Read the full tafseer →