Explained with ayahs 12–13
سورج چاند کی گردش میں پوشیدہ فوائد
اللہ تعالیٰ اپنی اور نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ دن رات برابر تمہارے فائدے کے لئے آتے جاتے ہیں۔ سورج چاند گردش میں ہیں، ستارے چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں، ہر ایک ایسا صحیح اندازہ اللہ نے مقرر کر رکھا ہے جس سے وہ نہ ادھر ادھر ہوں نہ تمہیں کوئی نقصان ہو۔ ہر ایک رب کی قدرت میں اور اس کے غلبے تلے ہے۔ اس نے چھ دن میں آسمان زمین پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا دن رات برابر پے درپے آتے رہتے ہیں سورج چاند ستارے اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے ہیں خلق و امر کا مالک وہی ہے وہ رب العالمین بڑی برکتوں والا ہے۔ جو سوچ سمجھ رکھتا ہو اس کے لئے تو اس میں اللہ کی قدرت و سلطنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
سورة النَّحْل 9
توحید اور رحمت و ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں اشارۃ نبوت کی بھی ایک دلیل پیش کردی گئی ہے۔ اس دلیل کا مختصر بیان یہ ہے
دنیا میں انسان کی فکر و عمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے۔ سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہوسکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو۔ اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہوسکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو۔
اس صحیح نظریے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے، بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے۔ کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف…
Read the full tafseer →(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ کہ اس میں دلیل ہے ان لوگوں کے لئے جو نصیحت پکڑتے ہیں مراد یہ ہے کہ یہاں بھی بہت گہرے فکر ونظر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی دلالت بالکل کھلی ہوئی ہے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی اس کی طرف توجہ سے دیکھے اور نصیحت حاصل کرے ورنہ بیوقوف بےفکر آدمی جو ادھر دھیان ہی نہ دے اس کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۔
ہر پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے : یعنی زمین میں جو بیشمار گوناگوں و بوقلموں انواع و اقسام کی چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پھیلا رکھی ہیں ان کو بھی دیکھو اور ان پر غور کرو۔ ان کے اندر بھی یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا بالکل سپاٹ، چٹیل، یک رنگ بلکہ بالکل بےرنگ بھی ہوسکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا گوشہ گوشہ عجائب، قدرت سے معمور ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ اس کے خالق نے یہ چاہا کہ انسان اس کے جس گوشہ پر بھی نظر ڈالے وہیں اس کو اس…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی زمین میں اللہ نے جو معدنیات، نباتات، جمادات اور حیوانات اور ان کے منا فع اور خواص پیدا کئے ہیں، ان میں بھی نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
6: کھیتیوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسے گندم، سبزیاں وغیرہ اور زیتون ان اشیاء کا ایک نمونہ ہے جو کھانا پکانے اور کھانے کے لیے چکنائی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اور کھجور، انگور اور باقی پھلوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو مزید لذت حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔
Read the full tafseer →اب آیات و دلائل کائنات کا چوتھا گروپ :
آیت نمبر 13
اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس کے اندر قسم قسم کی معدنیات پیدا کیں ، رنگ برنگ کے پتھر اور دوسری چیزیں جن پر انسانوں کی زندگی موقوف ہے لیکن اللہ نے ان ضروریات حیات کے ایسے ذخیرے پیدا کئے ہیں جو نہ ختم ہونے والے ہیں۔ پھر نئی نئی دریافتیں جو انسان اس زمین میں کر رہا ہے اور زمین کے اندر پوشیدہ خزانے اور ذرائع قوت دریافت کر رہا ہے ، جوں جوں اس کی حاجات و ضروریات بڑھتی ہے وہ دریافتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک خزانہ ختم ہوتا ہے تو قوت کے کئی اور خزانے دریافت ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کا رزق ہے جو اس نے بندوں کے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون…
Read the full tafseer →3 یعنی جس بلندو برتر ہستی نے آسمانی چیزوں کو تمہارے کام میں لگایا اسی نے تمہارے فائدہ کے لیے زمین میں مختلف قسم کی مخلوقات پید اکیں جو ماہیت، شکل و صورت، رنگ و بو اور منافع و خواص میں ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ ہیں۔ اس میں سب حیوانات، نباتات، جمادات، بسائط و مرکبات شامل ہوگئے۔
Read the full tafseer →آیت 13 وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زمین میں رنگا رنگ قسم کے حیوانات نباتات اور جمادات پیدا کیے ہیں۔
Read the full tafseer →13 ذوق جمال اور نباتات کی رنگینی :۔ اللہ تعالیٰ نے محض انسان کی ضروریات کو ہی ملحوظ نہیں رکھا بلکہ اس کے ذوق جمال کو بھی ہر کام میں ملحوظ رکھا ہے۔ رات کو اگر فضا صاف ہو تو یہی چاند اور ستارے انسان کو ایک بڑا حسین منظر پیش کرتے ہیں۔ پھر آپ کسی لہلہاتے کھیت میں جائیے۔ کسی باغ کی سیر کیجئے۔ وہاں بعض طویل القامت اور بعض چھوٹے درختوں کے مناظر دیکھئے۔ مختلف رنگ کے پھول دیکھئے۔ پھر ایک ہی پھول کے مختلف رنگ اور اس کی پنکھڑی اور کونپل کو ملاحظہ فرمائیے۔ پھر ان کی مہک اور خوشبو سے لطف اندوز ہوئیے۔ یہ ان تمام اشیاء انسانوں کی ضرورتیں بھی پوری کرتی ہیں اور اس کے ذوق جمال کو تسکین دینے کے علاوہ اسے سرور…
Read the full tafseer →18۔ ایک ہی سطح زمین پر، ایک ہی آفتاب کی روشنی میں، ایک ہی فضائے ہوائی میں، ایک ہی بارش سے اور بعض اوقات تو فضا میں ایک دوسرے سے بالکل متصل ہی، مختلف شکل و صورت کے، مختلف جسامت کے، مختلف مزہ اور بو باس کے، مختلف رنگوں کے، مختلف خاصیتوں کے پھول، پھل، میوے، غلے پیدا کرتے رہنا جس قدر حکیمانہ انتظام قدرت پر دلالت کرسکتا ہے، کسی صاحب نظر واہل بصیرت سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” الوانہ “۔ لون کے اصلی معنی تو رنگ کے ہیں، لیکن الوان سے انواع و اقسام بھی مراد ہوتی ہیں۔ ویعبر بالالوان عن الاجناس والانواع (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →وما ذرا لکم فی الارض مختلفا الوانہ اور ان چیزوں کو بھی تمہارے لئے اس طور پر پیدا کیا کہ ان کے اقسام مختلف ہیں۔ اَلْوَان سے اقسام و اصناف مراد ہیں۔ رنگ کے اختلاف سے اکثر صنف بدل جاتی ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون بلاشبہ نصیحت اندوز لوگوں کیلئے اس میں بڑی نشانی ہے۔ طبیعت ‘ ہیئت اور صورت کا اختلاف دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ محض ایک صانع حکیم کی کرشمہ سازی ہے۔
Read the full tafseer →(13) اور اسی طرح ان مختلف نباتات اور پھلوں کو بھی پیدا کر کے تمہارے لیے مسخر کیا، ان کے مختلف قسم اور رنگوں پر پیدا کرنے میں ان لوگوں کے لیے جو نصائح قرآنی سے نصیحت حاصل کرتے ہیں، بہت عبرت اور بہت دلائل موجود ہیں۔
Read the full tafseer →. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۔۔ : ”ذَرَاَ“ کا اصل معنی کسی چیز کو توالد و تناسل کے ذریعے سے پھیلانا ہے، اسی سے ”ذُرِیَّۃٌ“ کا لفظ نکلا ہے، جیسے آدم اور حوا ؑ سے بیشمار انسان، ہر حیوان سے بیشمار حیوان، ہر پودے سے بیشمار پودے، الغرض رنگا رنگ مخلوق کا اس طرح تمہارے فائدے کے لیے پھیلانا اللہ تعالیٰ کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، ان کے لیے جو نصیحت حاصل کریں۔ ویسے ”ذَرَاَ“ کا معنی ”خَلَقَ“ بھی آتا ہے، یعنی زمین میں جو کچھ اللہ نے پیدا کرکے پھیلا دیا، مثلاً انسان، حیوان، نباتات، معدنیات، سیالات، گیسیں، بجلی، بھاپ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 13
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وماذرا یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ سب مسخر کردیا جو زمین میں تمہارے لئے پیدا فرمایا اس میں ذرا بمعنی خلق ہے (یعنی پیدا فرمایا) ذرأ اللہ الخلق یذرؤھم ذرءا یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، پس وہ ذاری (پیدا کرنے والا) ہوا۔ اور اسی سے الذریۃ ہے یعنی جن و انس کی نسل (اولاد) مگر عربوں نے اس کا ہمزہ چھوڑ دیا ہے اور اس کی جمع الذراری ہے۔ کہا جاتا ہے : أنی اللہ ذراک وذرأک وذروک یعنی اللہ تعالیٰ تیری ذریت کو بڑھائے (اس میں برکت دے) اور الذروا اور الذرء کا اصل معنی جمع (اجتماع) سے متفرق اور علیحدہ ہونا ہے۔ اور حدیث میں ہے ذرء النار یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے…
Read the full tafseer →[وَمَا : اور اس میں (بھی نشانیاں ہیں) جو ] [ ذَرَاَ : اس نے بکھیرا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُخْتَلِفًا : مختلف ہوتے ہوئے ] [ اَلْوَانهٗ ۭ: ان کے رنگ ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ہے ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّذَّكَّرُوْنَ : نصیحت پکڑتے ہیں ]
(آیت۔ 13) ۔ مُخْتَلِفًا اسم الفائل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے جبکہ اَلْوَانُ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
Read the full tafseer →پنجم : زمین سے پیدا ہونے والی مختلف الوان کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے یہ چیزیں تمہارے لیے زمین میں پیدا فرمائی ہیں، الوان لون کی جمع ہے عربی میں لون رنگ کو کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے الوان کا ترجمہ اقسام کیا ہے۔ الفاظ کا عموم زمین پر پیدا ہونے والی اور رہنے والی اور بسنے والی سب چیزوں کو شامل ہے جتنی بھی چیزیں زمین میں پائی جاتی ہیں حیوانات، معدنیات، نباتات، جمادات وغیرہ مذکورہ بالا آیت میں اجمالی طور پر ان کا تذکرہ آگیا، یہ چیزیں رنگ برنگ کی ہیں، ان کی مختلف صورتیں ہیں اور طرح طرح کے انواع و اقسام ہیں ان سب میں انسانوں کے لیے منافع ہیں، یہ چیزیں غذاؤں میں بھی کام آتی ہیں، اور مکانات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12:۔ سارا نظام شمسی بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے جسے اس نے اپنے حکم سے بنی آدم کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ نظام شمسی میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے دلائل کے انبار ہیں جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ ” وَ مَا ذَرَاَ لَکُمْ الخ “ زمین میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا مثلاً انسان، حیوان، حجر و شجر وگیرہ سب کے رنگ مختلف ہیں خواص جداگانہ ہیں حالانکہ ہر چیز کی پیدائش مٹی اور پانی سے ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو کائنات کے گہرے مطالبہ سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ای یتعظمون و یعلمون ان فی تسخیرھذہ المکونات لعلامت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
) ربط آیات (
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس…
Read the full tafseer →. وَمَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ 13
ذرأ
الذَّرْءُ : إظهار اللہ تعالیٰ ما أبداه، يقال : ذَرَأَ اللہ الخلق، أي : أوجد أشخاصهم . قال تعالی:
وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ [ الأعراف/ 179] ، وقال : وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعامِ نَصِيباً [ الأنعام/ 136] ، وقال : وَمِنَ الْأَنْعامِ أَزْواجاً يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ [ الشوری/ 11] ، وقرئ : ( تذرؤه الرّياح) «3» ، والذُّرْأَة : بياض الشّيب والملح .
فيقال : ملح ذُرْآنيّ ، ورجل أَذْرَأُ ، وامرأة ذَرْآءُ ، وقد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ترکیب : منہ شراب جملہ اور نیز منہ شجر دونوں جملے ماء کی صفت ہیں و ماذرا محل نصب میں ہے خلق یا ابنت محذوف سے۔ مختلفاً حال ہے واصل السوم الابعاد فی المرعی قال الزجاج من السومتہ وھی العلامتہ لانہا توفی الارض۔ علامات برعیھا یقال سامت السائمۃ تسوم سوماً رعت فہی سائمۃ۔
نباتات کے عجائب حالات سے اثبات باری تعالیٰ
تفسیر : عالم سفلی میں حیوان کے بعد اشرف الاجسام نباتات ہیں۔ پس حیوان کے عجائب حالات سے خدا تعالیٰ کا قادر مختار ہونا ثابت کر کے نباتات کے عجائب حالات سے ثابت کرتا ہے چونکہ نباتات کے پیدا ہونے کا سبب مینہ ہے۔ اس لیے سب سے اول فرماتا ہے کہ ھوالذی الخ ہم نے ہی تو آسمان سے یعنی بادل سے پانی…
Read the full tafseer →وَمَا ذَرَاَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 13)
(اور زمین میں جو چیزیں تمہارے لیے گونا گوں قسموں کی پھیلائیں بیشک اس میں بھی بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ )
نسخے سے فائدہ کون اٹھاتا ہے
اس کا عطف سخرلکم کے نیچے ہے۔ ذراَ کا معنیخَلَقَ (پیدا کیا ہے) اس ارشاد ربانی کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو تمہاری خدمت کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اسی طرح اس سطح زمین پر جن چیزوں کو پیدا فرمایا، حیوانات، نباتات، معدنیات انھیں بھی تمہارے لیے مسخر فرما دیا لیکن ان سے فائدہ صرف وہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آفاقی نشانیوں کے بعد زراعت اور نباتات کے حوالے سے غوروفکر کی دعوت۔
اسی سورة کی آیت : 11 کی تفسیر میں سورة الرعد کی آیت : 4 کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی قسم کی زمین، پانی اور آب و ہوا کے ذریعے مختلف فصلیں اور نباتات پیدا کرتا ہے۔ یہ فصلیں اور نباتات جنس کے اعتبار سے ہی مختلف نہیں ہوتیں بلکہ ایک زمین ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے باوجود ایک ہی جنس کے مختلف رنگ اور شکل و صورت اور ذائقے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ پودے کو دیکھو زمین، پانی اور سب کچھ ایک ہونے کے باوجود ایک پھول میں مختلف قسم کے رنگ کی پتیاں ہوتی ہیں۔ یہ کس کی قدرت کا کرشمہ ہے ؟ اس خالق حقیقی کو…
Read the full tafseer →13: وَمَا ذَرَأَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور ان چیزوں کو تمہارے لئے زمین میں پیدا کیا)
نحو : اس کا عطف اللیل والنھار پر ہے۔ ای مَاخَلَقَ فِیْھَا مِنْ حَیْوَانٍ وَ شَجَرٍ وَثَمَرٍوَغَیْرَہٗ ذٰلِکَ ( اور جو اس نے زمین میں حیوان، درخت، پھل وغیرہ پیدا فرمائے) مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ (اس حال میں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں) اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ (اس میں بلاشبہ نشانی ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے) جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر (13)” وما ذرا “ اور تمہارے لیے ان چیزوں کو پیدا کیا۔ ” لکم “ تمہارے لیے ان پیدا کی ہوئی اشیاء کو مسخر کیا ” فی الارض “ خواہ ان پیدا کردہ اشیاء کا تعلق دواب کے ساتھ ہو، درختوں کے ساتھ ہو اور پھلو کے ساتھ ہو وغیرہ۔” مختلفاً “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ ” الوانہ ان فی ذلک لایۃ یذکرون “ اس کا اعتبار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات دن چاند سورج ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے اس کا بیان فرمایا کہ اللہ نے تمہارے ہی فائدہ کے لئے یہ رات اور دن بنائے ہیں جہاں ایک دن میں سے ختم ہوا دوسرا آن موجود ہوا دن کو لوگ اپنے اپنے کاروبار سے جا لگتے ہیں اور اپنی روزی حاصل کرتے ہیں راتوں کو تھکے ماندے آگر آرام کرتے ہیں چاند و سورج سے مہینوں اور برسوں کا حساب ہوا کرتا ہے۔ چاند اٹھائیس دن میں اپنا دورہ پورا کرتا ہے اور پھر دو یا ایک رات پوشیدہ رہ کر ہلاک کی صورت میں نکلتا ہے تو ایک مہینہ ہوتا ہے۔ سورج تین سو ساٹھ دن میں پورا دورہ آسمان کا طے کرتا ہے تو ایک سال ہوتا ہے اس عرصے میں…
Read the full tafseer →آیت 13
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف انواع کے جو حیوانات، نباتات اور شجر وغیرہ پیدا کئے ہیں، جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف اور جن کے فوائد بہت متنوع ہیں اور ان کو بندوں کے استفادے کے لئے زمین پر پھیلایا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت، بےپایاں احسان اور بےحساب فضل و کرم کی نشانیاں ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (لقوم یذکرون) ” ان لوگوں کے لئے نشانی ہیں جو سوچتے ہیں “ یعنی وہ لوگ جو اپنے حافظے میں علم نافع کو محفوظ رکھتے ہیں، پھر ان امور پر غور و فکر کتے ہیں جن پر غور و فکر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
مویشیوں کے فوائد
قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…
Read the full tafseer →23۔ ہر پتہ معرفت پروردگار کا ایک دفتر : سو زمین میں طرح طرح کی رنگ برنگی اور ہر طرف پھیلی بکھری چیزوں میں بھی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق لیتے ہیں کہ زمین ایک، پانی ایک، ہوا ایک،۔ سورج ایک وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کے باوجود ان مختلف اشیاء میں یہ رنگ بھرے کس نے ؟ یہ قسما قسم ذائقے اور طرح طرح کے فوائد اور خواص ان کے اندر رکھے کس نے ؟ یہ کس کی بےنہایت قدرت، لامحدود و عنایت اور حیرت انگیز خلاقی وکرم گستری ہے ؟ اور کیا حق ہے اس وحدہ لاشریک کا ہم پر جس نے ہمیں طرح طرح کی ان نعمتوں سے نوازا ؟ سو اس سب میں بڑی بھاری نشانی ہے اس قادر مطلق مطلقہ حکمت بالغہ، عنایت شاملہ، اور وحدانیت، ویکتائی کی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
انسان کے لیے دنیا کی تمام چیزیں مسخر ہیں
تشریح : سیدھا راستہ تو وہی ہے جو قرآن نے بتایا اور رسول اللہ ﷺ نے بتایا۔ تقویٰ ہی سیدھے راستہ پر لے جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ خار دار جھاڑیوں کے درمیان میں سے اپنے کپڑے سمیٹ کر گزر جانا۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کے لیے چاروں طرف مرغوب چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ اولاد، بیوی، مال، جائیداد، دوست احباب خاص طور سے بیوی بچے اور مال یہ تو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا ذریعہ ہیں یہ سب ٹیڑھے راستے ہی تو ہیں۔ انہی کے لیے انسان جھوٹ بولتا ہے، چوری کرتا ہے، فساد کرتا ہے، قتل، جھگڑا غرض جو بھی کرنا پڑے انسان کرجاتا ہے۔ جب کہ یہ بہت بڑی حماقت ہے جو سمجھ دار لوگ ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی انواع و اصناف جیسا کہ جمہور مفسرین نے کہا ہے (مع) مطلب یہ کہ زمین میں طرح طرح کی شکل و صورت رنگ و بو اور مزہ اور خاصیتوں والی چیزیں ہیں کہ سب تمہارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں حیوانات، نباتات، جمادات اور مرکبات و عناصر شامل ہیں۔
ہمہ از بر تو سرگشتہ و فرمانبردار
شرط انصاف نباشد کہ توفرفماں نبری (گلستان سعدی)
Read the full tafseer →(16:13) وما ذرألکم۔ میں ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ اس جملہ کا عطف الیل آیۃ (12) پر ہے۔ ای وسخر لکم ما ذرألکم۔ یا اس کا فعل محذوف ہے۔ ای خلق وابدع۔
ذرأیذرأ (باب فتح) ذرئ۔ مصدر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔
وما ذرألکم فی الارض (اور اس نے ان چیزوں کو بھی پیدا کیا یا مسخر بنایا) جن کو اس نے تمہارے (فائدے کے) لئے زمین پر پھیلا دیا۔
مختلفا الوانہ۔ یہ حال ہے فعل محذوف کا۔ الوانہ مضاف مضاف الیہ۔ الوان جمع لون کی جس کے معنی رنگ کے ہیں۔ کبھی الوان سے مراد کسی چیز کے انواع و اقسام بھی مراد ہوتے ہیں چناچہ محاورہ ہے الوان من الطعام قسم قسم کے کھانے۔
یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21
ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
زمین کو پیدائش
ان آیتوں میں اللہ پاک نے رات، دن، چاند، سورج اور ستاروں کے پیدا کرنے میں جو نفع انسان کے لئے رکھا ہے بیان فرمایا ہے کہ تمہارے فائدے کے لئے رات اور دن بنایا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ میوؤں اور اناج کا پیدا ہونا اور پکنا اور برسوں اور مہینوں کا حساب انہیں کی بدولت ہے۔ اور اللہ کے حکم سے یہ ستارے بھی مسخر ہیں ان کے سبب سے راستہ پہچانتے ہو اور رات کی مقدار وغیرہ دریافت کرتے ہو۔ ان باتوں کو دیکھ کر اہل عقل خوب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کسی صناع حکیم کا کام ہے اور یہ سب کے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ عقلمند ان نشانیوں سے خدا کی قدرت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد زمین کا حال بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔
رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔
قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ،
غرض یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →13 ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بہت سی رنگ برنگ کی وہ چیزیں بھی مسخرکر رکھی ہیں جو اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ۔ بلا شبہ اس مذکور میں ان لوگوں کے لئے توحید الٰہی بڑی دلیل ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس سے مراد جانور ہیں ۔ بعض حضرات نے مختلف الوانہ ٗ سے اجناس و انواع اور اصناف کا اختلاف لیا ہے یہ معنی بہت وسیع ہیں اور اس تقدیر پر تمام حیوانات و نباتات اور جمادات وغیرہ کو یہ معنی شامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ف 1۔ اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات و بسائط و مرکبات داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
ان رنگتوں میں بھی ان لوگوں کے لئے کتنی نشانیاں ہیں جو سوچ سمجھ سے کام لیتے ہیں ۔
17۔ ہم زندگی کی بناوٹی اور خود ساختہ آسائشوں میں اس درجہ منہمک ہوگئے ہیں کہ ہمیں قدرتی راحتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور بسا اوقات تو ہم ان کی قدروقیمت کے اعتراف سے بھی انکار کردیتے ہیں لیکن اگر چند لمحوں کے لئے اپنے آپ کو اس غفلت سے بیدار کرلیں تو معلوم ہوجائے کہ کائنات ہستی کا حسن و جمال فطرت کی ایک عظیم اور بےپایاں بخشش ہے اور اگر یہ نہ ہوتی یا ہم میں اس کا احساس نہ ہوتا تو زندگی زندگی نہ ہوتی نہیں معلوم کیا چیز ہوتی ، ممکن ہے موت کی بدحالیوں کا ایک تسلسل ہوتا ؟ غور کرو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Then, in verse 13, after mentioning all other varied produce of the land, it was said: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ (Surely, in that, there is a sign for a people who accept advice). The sense is that no deep thinking is needed here as well - because, the proof has been furnished openly. But, the condition is that one must look at it carefully and learn his lesson. Otherwise, one who has no sense or concern and who just pays no attention could hardly hope to benefit from it.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9. This contains an argument for Prophethood along with a proof of Tauhid and of Allah’s compassion and providence. The argument is this:
There are many divergent ways of thought and action open for man to choose from. Obviously all these divergent ways cannot be straight ways, because there can be only one straight way; therefore, there can be only one right theory of life which is based on that way, and only one right way of life which is based on that right theory. Thus it is clear that the choice of the right way of life is man’s most important and basic need, for its wrong choice would…
Read the full tafseer →