Explained with ayahs 14–18
اللہ کے انعامات
اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 11
یعنی حلال طریقوں سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →(آیت) هُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا۔ آسمان و زمین کی مخلوقات اور ان میں انسان کے منافع اور فوائد بیان کرنے کے بعد بحر محیط (سمندر) کے اندر حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ سے انسان کے لئے کیا کیا فوائد ہیں ان کا بیان ہے کہ دریا میں انسان کی خوراک کا کیسا اچھا انتظام کیا گیا ہے کہ مچھلی کا تازہ گوشت اس کو ملتا ہے۔
لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا کے الفاظ میں مچھلی کو تازہ گوشت قرار دینے سے اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ دوسرے جانوروں کی طرح اس میں ذبح کرنے کی شرط نہیں وہ گویا بنا بنایا گوشت ہے۔
(آیت) وَتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا یہ دریا کا دوسرا فائدہ بتلایا…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔
سمندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ : تسخیر بحر سے مراد وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے یعنی خدا نے سمندر کو تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے کہ تمہیں اس سے تازہ گوشت بھی حاصل ہوتا ہے اور تم اپنی زینت کے لیے اسی سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ، یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ولتبتغوا سے پہلے لترکبوھا یا اس کے ہم معنی کوئی…
Read the full tafseer →14۔ 1 اس میں سمندری تلاطم خیز موجوں کو انسان کے تابع کردینے کے بیان کے ساتھ، اس کے تین فوائد بھی ذکر کئے ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس سے مچھلی کی شکل میں تازہ گوشت کھاتے ہو (مچھلی مردہ بھی ہو تب بھی حلال ہے)۔ علاوہ ازیں حالت احرام میں بھی اس کو شکار کرنا حلال ہے۔ دوسرے، اس سے تم موتی، سیپیاں اور جواہر نکالتے ہو، جن سے تم زیور بناتے ہو۔ تیسرے، اس میں تم کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو، جن کے ذریعے سے تم ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، تجارتی سامان بھی لاتے ہو، لے جاتے ہو، جس سے تمہیں اللہ کا فضل حاصل ہوتا ہے جس پر تمہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔
Read the full tafseer →7: مچھلی کا گوشت مراد ہے
8: سمندر سے موتی نکلتے ہیں جو زیورات میں کام آتے ہیں
9: یعنی سمندر میں تجارت کا سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو۔ قرآن کریم نے ”اللہ کا فضل تلاش کرنے“ کی اصطلاح بہت سی آیتوں میں تجارت کے لیے استعمال فرمائی ہے۔ دیکھئے سورة بقرہ 198 سورة بنی اسرائیل 66، سورة قصص 73 سورة روم 46 سورة فاطر 12 سورة جاثیہ 12 سورة جمعہ 10 اور سورة مزمل 20۔ تجارت کو اللہ تعالیٰ کا فضل کہنے سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر تجارت شرعی احکام کی پابند ہو تو وہ ایک پسندیدہ چیز ہے۔ اور دوسری طرف اس اصطلاح سے تاجروں کو یہ تنبیہ بھی کی جارہی ہے کہ تجارت میں جو نفع حاصل ہوتا ہے، وہ در حقیقت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 14
سمندروں کی متنوع حیات بھی انسانی زندگی کے لئے مفید و ممد ہے۔ سمندروں میں انسانی زندگی کی دلچسپیوں کے دوسرے سامان بھی موجود ہیں۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحری انسان کے لئے بہترین غذا ہیں۔ نیز سمندر کے موتی ، مونگے اور سیپ انسان کے لئے بطور زیور آج کے دور جدید میں بھی کام دیتے ہیں۔ یہاں کشتی کا فائدہ صرف سفر ہی نہیں بتایا گیا بلکہ سمندروں میں کشتیوں کے چلنے کے منظر کے حسن کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
وتری الفلک مواخر فیہ (16 : 14) ” تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے چلتی ہے “۔ لفظ تری سے کشتی ، پانی اور کشتی کی روانی کے خوبصورت منظر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم…
Read the full tafseer →4 یعنی ایسے ٹھاٹھیں مارنے والے خوفناک سمندر کو بھی جس کے سامنے انسان ضعیف البنیان کی کچھ بساط نہیں تمہارے کام میں لگا دیا کہ اس میں بےتکلف مچھلی کا شکار کر کے نہایت لذیذ اور تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ اور اس کے بعض حصوں میں سے موتی اور مونگا نکالتے ہو جس کے قیمتی زیور تیار کیے جاتے ہیں بھلا سمندر کی موجوں کو دیکھو جن کے سامنے بڑے بڑے جہازوں کی ایک تنکہ کے برابر حقیقت نہیں۔ لیکن ایک چھوٹی سی کشتی کس طرح ان موجوں کو چیرتی پھاڑتی چلی جاتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ ہے کہ اس نے انسان کو عقل دی اور ایسی چیزیں تیار کرلینے کی ترکیب سمجھائی جن کے ذریعہ سے گویا سمندروں کو پایاب کرلیا گیا۔
5…
Read the full tafseer →آیت 41 وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا
سمندری خوراک ہمیشہ سے انسانی زندگی میں بہت اہم رہی ہے۔ دور جدید میں اس کی افادیت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا
سمندر سے موتی اور بہت سی دوسری ایسی اشیاء نکالی جاتی ہیں جن سے زیورات اور آرائش و زیبائش کا سامان تیار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →14 سمندروں کے فوائد :۔ پھر ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کو اور تلاطم خیز موجوں کو اپنے مخصوص قوانین کا پابند بنادیا حتیٰ کہ انسان سمندر کے پانی کے اندر اور اوپرتصرف کرنے کے قابل بن گیا۔ ورنہ ایسے وسیع اور مہیب سمندر کے مقابلہ میں بےچارے انسان کی حقیقت ہی کیا تھی۔ اب وہ سمندری جانوروں کا شکار کرکے اپنی غذائی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی تو سخت شور اور کڑوا ہوتا ہے جبکہ اس کے جانوروں اور بالخصوص مچھلی کا گوشت انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں شور کا اثر نام کو نہیں ہوتا پھر اس سے گھونگے، صدف اور مرجان اور کئی دوسری چیزیں نکال کر اپنے زیور اور آرائش کی چیزیں بھی بناتا ہے…
Read the full tafseer →19۔ (حلال دریائی جانوروں کا) البحر۔ بحر کا مفہوم عربی میں وسیع ہے۔ سمندر اور دریادونوں اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ البحر یشمل الملح والعذب (بحر) اصل البحر کل مکان واسع جامع للماء الکثیر (راغب) (آیت) ’ سخر البحر “۔ یعنی دریا وسمندر بھی اسی کے قانون تکوینی کے محکوم ومسخر ہیں۔ نہ خود آفریدہ ہیں نہ خود مختار۔ مصر میں دریائے نیل کی پرستش کا نظارہ اسی طرح عام رہ چکا ہے۔ ، جس طرح آج ہندوستان میں گنگا مائی اور جمنا مائی، اور سرجومائی اور نربدامائی اور تاپتی مائی اور بھاگیرتی مائی، اور اور بیشمار دریاؤں کی پرستش کا ہے۔
20۔ جیسے موتی یا مونگے، صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ پر زینت لباس جبکہ حاجب عن الحق نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →وھو الذی سخر البحر اور اسی نے سمندر کو تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے۔ یعنی ایسا بنایا ہے کہ تم اس سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتے ہو۔ اس میں جہاز اور کشتیاں چلاتے ہو ‘ مچھلیاں پکڑتے ہو اور موتی مونگے حاصل کرتے ہو۔
لتاکلوا منہ لحما طریا اس میں سے تازہ تازہ گوشت کھاؤ۔ طری ترو تازہ ‘ یعنی مچھلیاں۔ مچھلی میں ہر گوشت سے زیادہ رطوبت ہے ‘ اسی لئے مچھلی کا گوشت بہت جلد خراب ہوجاتا ہے۔ چونکہ (لعابیت کی وجہ سے) مچھلی کا گوشت آنتوں سے چسپاں ہوجاتا ہے ‘ اسلئے اس کو کھانے کے بعد پیاس زیادہ لگتی ہے۔ گوشت کی گرمی یا خشکی موجب تشنگی نہیں ہوتی۔ اللہ کی عجیب حکمت ہے کہ تلخ ‘ نمکین اور غلیظ پانی سے ایسی تر و تازہ ‘…
Read the full tafseer →(14) اور اسی ذات نے دریا کو مسخر کیا تاکہ اس میں سے تازہ مچھلی نکال کر کھاؤ اور تاکہ اس دریا میں سے موتیوں وغیرہ کا زیور نکالو اور تو کشتی کو دیکھتا ہے کہ ایک ہوا کے رخ پر اس دریا کا پانی چیرتی ہوئی چلی جارہی ہے اور دوسرے مقامات پر سے آرہی ہے تاکہ تم اس کے ذریعے سے کماؤ یا یہ کہ اللہ کا دیا رزق تلاش کرو۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ۔۔ : اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سمندر جیسی عظیم مخلوق کہ اگر ب پھر جائے تو خشکی پر چڑھ کر ہر قسم کی زندگی درہم برہم کر ڈالے، کو پابند فرما دیا کہ اپنی حدود میں رہے اور انسان کو اپنی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے دے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سمندر سے حاصل ہونے والی چار نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ وہ نعمتیں جو سمندر میں بنی اسرائیل کو راستہ دینے یا موسیٰ ؑ کے تابوت کو کنارے پر پہنچانے کی صورت میں ہوئیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ یہ چار نعمتیں درج ذیل ہیں :
لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا : ”طَرِيًّا“ کا مصدر ”طَرَاوَۃٌ“ ہے، اس کا فعل ”قَرُبَ“ اور ”شَرُفَ“ کے وزن پر آتا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 14
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وھو الذی سخر البحر سمندر کو مسخر کرنے کا معنی انسان کو اس میں تصریف کرنے کی قدرت دینا ہے اور اسے سوار ہونے اور پناہ لینے کے لئے مطیع کرنا ہے، اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات میں سے بہت بڑی نعمت اور احسان ہے، پس اگر وہ چاہے تو اسے ہم پر مسلط کر دے اور ہمیں غرق کر دے۔ سمندر اور اس کے شکار کے بارے بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور یہاں اس کا نام لحم (گوشت) رکھا ہے۔ اور امام مالک (رح) کے نزدیک گوشت تین جنس کے ہیں : پس چار پاؤں والے جانوروں کا گوشت ایک جنس ہے، پروں والوں کا گوشت ایک جنس ہے، اور پانی میں رہنے والوں کا گوشت ایک جنس…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے مطر (رح) سے روایت کیا کہ وہ سمندروں کی سواری میں کوئی ہرج نہیں جانتے تھے اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر قرآن میں خیر کے ساتھ کیا۔
2:۔ عبدالرزاق نے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ سمندر میں سفر کرنے کو ناپسند کرتے تھے مگر تین آدمیوں کے لئے (اجازت فرماتے تھے) جہاد کرنے والا حج کرنے والا یا عمرہ کرنے والا۔
3:۔ عبدالرزاق نے علقمہ بن شہاب قرشی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے سات مل کر جنگ میں شرکت نہیں کی تو اس کو چاہئے کہ سمندر میں جہاد کرے سمندر میں (جنگ کرنے کا) ایک دن کا اجر خشکی میں ایک دن (جنگ کرنے) کی طرح ہے اگر سمندر میں شہید کردیا گیا تو خشکی میں دو…
Read the full tafseer →[وَهُوَ : اور وہ ] [ الَّذِي : وہی ہے جس نے ] [ سَخَّرَ : مطیع کیا ] [ الْبَحْرَ : سمندر کو ] [ لِتَاْكُلُوْا : تاکہ تم لوگ کھائو ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ لَحْمًا طَرِيًّا : کچھ تازہ گوشت ] [ وَّتَسْتَخْرِجوا : اور تاکہ تم لوگ نکالو ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ حِلْيَةً : کچھ ایسے زیور ] [ تَلْبَسُوْنَهَا ۚ : تم لوگ پہنتے ہو جن کو ] [وَتَرَى: اور تو دیکھتا ہے ] [ الْفُلْكَ : کشتیوں کو ] [ مَوَاخِرَ : پانی چیرنے والی ہوتے ہوئے ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ وَلِتَبْتَغُوْا : اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [ مِنْ فَضْلِهٖ : اس کے فضل میں سے ] [ وَلَعَلَّكُمْ : اور شاید تم لوگ ] [ تَشْكُرُوْنَ : احسان مانو…
Read the full tafseer →ششم : سمندر کی تسخیر کا تذکرہ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے سمندر پیدا فرمائے اور بندوں کے لیے ان میں منافع رکھ دئیے ان میں سے چار انعامات کا تذکرہ فرمایا۔ اول تو یہ فرمایا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اس سے مچھلیاں مراد ہیں سمندر سے مچھلیاں نکالتے ہیں اور تازہ بتازہ بھون کر یا پکا کر کھالیتے ہیں، دوسرا فائدہ یہ بتایا کہ تم سمندر سے زیور نکالتے ہو، اس سے موتی مراد ہیں جو سمندر سے نکالے جاتے ہیں جس کا سورة رحمن میں ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ) تیسرے کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کشتیاں چھوٹی ہوں یا بڑی، بادبانی کشتیاں ہوں، یا پٹرول سے چلنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →13:۔ سمندر بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہے اور اس سے تم گوناگوں فوائد حاصل کرتے ہو۔ مچھلی کا تازہ گوشت اس سے حاصل کرتے ہو، سمندر سے قیمتی جواہرات نکال کر زیب تن کرتے ہو۔ سفر کی سہولتوں کے لیے سمندر میں جہاز رانی کرتے ہو اور بغرض تجارت دور دراز ملکوں میں میں سمندری راستوں سے اپنا مال لے جاتے ہو اور دوسرے ملکوں کی مصنوعات اپنے یہاں در آمد کرتے ہو۔ ” وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ “ یہ معطوف علیہ مقدر پر معطوف ہے۔ ای لتعتبروا و لعلکم تشکرون۔ یعنی یہ شب کچھ اس لیے بنایا تاکہ تم اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید پر استدلال کرو اور اس کی توحید اور اطاعت سے شکر نعمت کا حق ادا کرسکو۔ تقومون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
) ربط آیات (
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 14
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ }…
Read the full tafseer →ترکیب : و تستخرجوا معطوف ہے تاکلوا پر تلبسونہا جملہ حلیۃ کی صفت، و تریٰ کا مفعول ثانی مواخر من المخر بمعنی شق الماء فیہ مواخر سے متعلق جملہ البحر کے بیان حال کے لیے۔ والتبتغوا عطف ہے لتاکلوا پر۔ ولعلکم اس پر، ان تمیدای مخافۃ ان۔ لحمًا طریًا والمرادبہ السمک وانما وصفہ بالطراوۃ اشعار ابلطافتہ، والطراوۃ ضدالیبوستہ ای غضا جدید ایقال طریت کذا ای جددتہ و اطریت فلانا ای بالغت فی مدحہہ مدحۃ باحسن مافیہ۔
تفسیر : اول بار ذات الٰہی کا ثبوت اجرام سماویہ سے کیا تھا پھر دوسری مرتبہ میں انسان کے بدن اور اس کے نفس سے تیسری مرتبہ میں عجائبِ خلقت حیوانات سے چوتھی مرتبہ میں نباتات کے عجائبِ حالات سے اب پانچویں…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ سَخَّرَالْبَحْرَلِتَاکُلُوْا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا ج وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَفِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 14)
(اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو، اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو کہ موجوں کو سمندر میں چیر کر جارہی ہیں اور تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل کو اور تاکہ اس کے شکرگزار بنو۔ )
سمندر کی نعمتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے زمین پر جس طرح اپنا خوان نعمت سجارکھا ہے اور آسمان سے جس طرح اہل زمین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آفاق اور نباتات کے بعد سمندری انعامات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نہ صرف لیل و نہار، شمس و قمر اور ستاروں کو اپنے حکم سے انسان کے تابع بنایا ہے بلکہ اس نے زمین اور سمندر کو بھی انسان کے لیے مسخر کردیا ہے۔ لیکن ان چیزوں کی تسخیر میں بنیادی فرق ہے۔ آفاق سے متعلق کائنات انسان کی خدمت میں مصروف ہونے کے باوجود اس کی دسترس سے باہر ہے۔ جہاں تک زمین سے متعلقہ چیزوں کا تعلق ہے وہ کافی حد تک انسان کی دسترس میں کردی گئی ہیں۔ زمین کو انسان جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ پہاڑوں میں بڑے بڑے محل اور راستے بنا لیے جاتے ہیں، دریاؤں کے رخ موڑ دیے گئے ہیں۔
1۔ نہروں کے ذریعے…
Read the full tafseer →سمندر اور اس کے فوائد :
14: وَھُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْکُلُوْا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا (اور وہ ایسی ذات ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو) ۔ لحمًا طریًا سے مچھلی مراد ہے۔ اس کو طَرِیٌّ اس لئے فرمایا کیونکہ بہت جلد یہ خراب ہوتی ہے پس بگاڑ کے خطرے سے جلدی سے تازہ کھالی جاتی ہے۔
نکتہ : اگر کسی آدمی نے قسم اٹھائی کہ وہ گوشت نہیں کھائیگا۔ تو مچھلی کھانے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ کیونکہ قسم کا مدارعرف پر ہوتا ہے۔ اور عرف میں اس کو گوشت نہیں کہتے۔ جس نے اپنے غلام کو کہا اشتر بھذہ الدراھم لحمًا وہ مچھلی خرید لایا تو وہ اس لائق ہے کہ آقا اس کا انکار کر دے۔ بقیہ ائمہ…
Read the full tafseer →(14)” وھو الذی سخر البحر لتاکلو منہ لحماً طریاً “ اس سے مراد مچھلی ہے۔ ” وتستخرجوامنہ حلیۃ تلبسونھا “ حلیۃ سے مراد موتی اور زیور ہے۔ ” وتری الفلک مواخر فیہ “ اس میں کشتیاں چلتی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے آنے جانے والی۔ ایک جاتی ہے اور دوسری آتی ہے۔ باوجود یہ کہ ہوا کی رفتار ایک ہی ہے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد بھری ہوئی، فراء اور اخفش کا قول ہے پانی کو اپنے دونوں بازوئوں سے پھاڑنے والیاں۔ مجاہد (رح) کا قول ہے ہوائوں کی رفتار کے سامنے سے کشتیاں آتی ہیں اور ہوائوں کو پھاڑتی ہیں۔ مخراصل میں کہاجاتا ہے پانی کو پھاڑنا یا کشتی کی آواز۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب کسی کو پیشاب کرنے کا…
Read the full tafseer →14۔ اللہ پاک نے آسمان و زمین کی چیزوں کا ذکر کر کے ان فائدوں کا بیان کیا جو دریا سے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں فرمایا کہ دریا کو تمہارا محکوم کردیا تم اس میں سے مچھلیاں پکڑ پکڑ کر کھاتے ہو نہیں تو تمہاری کیا ہستی تھی جو دریا کے کنارے پر پیر بھی رکھ سکتے ایک موج میں کہیں کے کہیں جا رہتے یہ اسی کا حکم ہے کہ دریا اپنی حد سے نہیں بڑھ سکتا جس سے تم ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہو اور اس میں غوطے لگا لگا کر بیش بہا موتی نکال لیا کرتے ہو اور طرح طرح کے زیورات بنایا کرتے ہو کشتیاں بنا بنا کر دریا کے رستے سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جایا کرتے ہو اور تجارت میں سینکڑوں روپیہ کا نفع اٹھاتے ہو اس کی شکر گزاری کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے (الذی سخر البحر) ” جس نے سمندر کو مسخر کیا “ اور تمہارے مختلف انواع کے فوائد کے لئے اسے تیار کیا۔ (لتاکلوا منہ لحماطریاً ) ” تاکہ کھاؤ تم اس سے تازہ گوشت “ اس سے مراد مچھلی وغیرہ ہے جسے تم شکار کرتے ہو۔ (وتسخرجوامنہ حلیۃ تلبسونھا) ” اور نکالو تم اس سے زیور جو تم پہنتے ہو “ جو تمہارے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں۔ (وترک الفلک) ” اور تم دیکھتے ہو کشتیاں “ یعنی جہاز اور کشتیاں وغیرہ (مواخرافیہ) ” چلتی ہیں اس میں پانی پھاڑ کر ‘ یعنی موجیں مارتے ہوئے ہولناک سمندر کا سین چیرتی ہوئی کشتیاں ایک ملک سے دوسرے ملک تک جاتی ہیں جو مسافروں، ان کا رزق، ان کا مال اسباب اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →24۔ سمندر کی تسخیر کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ (وہی) ہے جس نے کام میں لگا دیا سمندر کو جس کے نتیجے میں تم لوگ اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ جس کا تقاضا یہ تھا کہ تم سراپا شکروسپاس بن کر اس وحدہ لاشریک کے آگے دل وجان سے جھک جاتے کہ اس نے محض اپنی قدرت و عنایت اور رحمت وکرم سے سمندر جیسی اس عظیم الشان مخلوق کو ہمارا خادم بنادیا۔ مگر تم میں سے کتنے لوگوں نے اس کی بجائے اسی سمندر کو اس کے پانی کو اپنا معبود بنادیا۔ اور انہوں نے جل پوجا کے نام سے اس کی پوجا شروع کردی۔ سو تم لوگ کتنے ناشکرے اور کس قدر بےانصاف لوگ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس نے اپنی قدرت مطلقہ، حکمت…
Read the full tafseer →سمندری نعمتیں
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو زمین سے تعلق رکھتی ہیں یہاں ان نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو انسان سمندروں سے حاصل کرتا ہے۔ سمندر اور دریا بھی انسان کے لیے مسخر کردیے گئے ہیں پہلا فائدہ تو بیشمار پانی کا ہے جو ہمیں دھوپ کے ذریعے کشید ہو کر بادلوں اور بارش کے ذریعہ سے ملتا ہے، سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے جس کو انسان بغیر کشید کیے پی نہیں سکتا یہ بھی بڑی حکمت کی بات ہے آئندہ اس پر بحث ہوگی۔ ان شاء اللہ۔
پندرھویں صدی عیسوی میں ایک نئی دریافت یہ ہوئی تھی کہ سمندر کی گہرائیوں میں بہنے والے دریا ہیں جو پانی کا ایک بڑا ذخیرہ ایک خاص طرف باقاعدہ لاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 8 اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کے لئے موتی دنگا اور دوسرے سمندری جواہرات کا پہننا حرام نہیں ہے بشرطیکہ انہیں ایسے طریقہ پر نہ پہنا جائے جس سے عورتوں سے مشابہت ہوئی ہو۔ (شوکانی) ہوسکتا ہے کہ نسبت مجازی ہو اور مقصد یہ کہ تمہاری عورتیں پہنتی ہیں۔ عورتوں کے تزین سے چونکہ مرد بھی متمتع اور لذت اندوز ہوتے ہیں اس لئے پہننے کو ان کی طرف منسوب کردیا ہے ورنہ مرد کے لئے تو زیور پہننا جائز نہیں ہے۔ (روح)
9 یعنی سمندروں اور دریائوں میں سفر کر کے حلال طرقہ سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →(16:4) طربا تروتازہ۔ طراوۃ سے جس کے معنی تروتازہ ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
تستخرجوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تستخرجون تھا نون اعرابی (لام محذوف) حرف عامل کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ تم نکالتے ہو استخراج (باب استفعال) ہے۔
حلیۃ۔ بمعنی زیور پہنانا۔ عورت کے لئے زیور بنانا۔ یحلون فیھا اساور من ذھب۔ (18:31) ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حلی زیورات حلی زیورات۔
تلبسونھا۔ تم جسے پہنتے ہو۔ تم اس کو پہنتے ہو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب حلیۃ کی طرف راجع ہے۔
مواخر۔ صیغہ صفت جمع ماخرۃ۔ ماخر واحد مخر ومخور مصدر۔ باب فتح۔ پانی کو چیرنے والی کشتیاں۔
مخر یمخر (فتح) مخر یمخر (نصر) مخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21
ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے آسمان و زمین کی چیزوں کا ذکر کر کے ان فائدوں کا بیان کیا جو دریا سے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ سمندر اور دریا وغیرہ کو تمہارا محکوم کردیا۔ تم اس میں سے مچھلیاں پکڑ پکڑ کر کھاتے ہو ورنہ تمہاری کیا ہستی تھی جو دریا کے کنارے پر پیر بھی رکھ سکتے۔ ایک موج میں کہیں کے کہیں جا رہتے۔ یہ اسی کا حکم ہے کہ دریا اپنی حد سے نہیں بڑھ سکتا جس سے تم ڈوبنے سے محفوظ رہتے ہو اور اسی میں غوطے لگا لگا کر بیش بہا موتی نکال لیا کرتے ہو اور طرح طرح کے زیورات بنایا کرتے ہو۔ کشتیاں بنا بنا کر دریا کے رستے سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جایا کرتے ہو اور تجارت میں سینکڑوں روپیہ کا نفع اٹھاتے ہو۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[10] یعنی حلال دریائی جانوروں کا گوشت۔
[11] یعنی ان بحری سواریوں سے تجارت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔
رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔
قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ،
غرض یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →14 ۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دریا کو مسخر کر رکھا ہے تا کہ تم اس دریا میں سے تازہ گوشت کھائو اور اس دریا میں سے گہنے اور زینت و آراستگی کا وہ سامان بھی نکالو جس کو تم پہنتے ہو اور اے مخاطب تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس دریا میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلی جا رہی ہے اور اس لئے بھی مسخر کیا تا کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم خدا کا احسان مانو اور اس کے شکر گزار رہو۔ یعنی دریا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بھی مسخر کر رکھا ہے تا کہ مچھلیوں کا تازہ گوشت کھائو اور سامان زیبائش یعنی موتی اور مونگا وغیرہ نکالو اور وہ زیور حاصل کرو جس کو تم پہنتے ہو موتیوں کی مالا اور گلو بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ف 1۔ اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات و بسائط و مرکبات داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →سمندروں کو مسخر کرنے والا اور ان میں طرح طرح کے فوائد رکھنے والا اللہ ہی تو ہے :
18۔ سمندر کی طرف نظر اٹھاؤ تو اس کی سطح پر جہاز تیر رہے ہیں ، تہہ میں مچھلیاں اچھل رہی ہیں ، قعر میں مرجان اور موتی نشو ونما پا رہے ہیں ۔ یہ کس کی کارفرمائی ہے ؟ یہ اس اللہ ہی کی کارفرمائی ہے کہ اس نے سمندر تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ اپنی غذا کے لئے تروتازہ گوشت حاصل کرو اور زیور کی چیزیں بھی اس کی تہہ میں سے نکالو جنہیں خوشنمائی کے لئے تم پہنتے ہو ، اس خاک دان ارض میں اپنی عنایات کا جو بازار سجایا تھا اس سے متعارف کرنے کے بعد اپنی نوازشات کی ایک دوسری جلوہ گاہ کی طرف انسان کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ ان نگواں…
Read the full tafseer →After the description of things created in the heavens and the earth, and the benefits human beings derive from them, the text now turns to the high seas wherein Divine wisdom has placed many more benefits for them. Verse 14 which begins with the words: هُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا (And He is the One who has subjugated the sea so that you may eat) which points out to the excellent arrangement whereby they get their supply of sea food, fresh white meat from the fish.
By calling the fish, fresh meat, in the sentence which follows immediately, that is: لِتَأْكُلُوا مِنْهُ…
Read the full tafseer →11. That is, try to get your sustenance in lawful ways.
Read the full tafseer →