An-Nahl 16:15

An-Nahl · from ayah 15

16:15

وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۟ۙوَاَلۡقٰى فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِكُمۡ وَاَنۡهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَۙ

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided,

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:15

اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈھلک نہ جائے اس نے د ریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ، اور نہریں اور راہیں بنا دیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگائے نہیں، اور دریا اور راستے بنائے ہیں تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی نے زمین میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) بھاری پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ تمہیں ہلا نہ دے اور نہریں اور راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز اس نے زمین (کو ہچکولوں سے بچانے کے لئے اس) میں مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہیں لے کر ہچکولے نہ کھائے اور نہریں بھی بنائیں اور رستے بھی تاکہ تم (آتے جاتے وقت) راہ پاسکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے ہیں کہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور نہریں جاری کردی ہیں اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم راہ پاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی نے ڈال دئیے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے پہاڑوں کے) عظیم الشان لنگر زمین (کے اس کرے) میں، تاکہ یہ ڈگمگانے نہ لگے تم کو لیکر اور اسی نے جاری کر دئیے اس میں طرح طرح کے دریا، اور اس نے بنادئیے اس میں قسما قسم راستے تاکہ تم لوگ راہ پاسکو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگانے نہ لگے۔ اور دریا اور راستے (بنا دیئے) تاکہ تم راہ پاتے رہو اور علامتیں بھی (بنائیں)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس نے زمین میں لنگر ڈال دیے ہیں کہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں (ندیاں بہا دی ہیں) اور راستے (بنا دیے ہیں) تاکہ تم اپنی منزلوں تک پہنچا کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس نے زمین پر پہاڑ بنا کر رکھ دیے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں بھی بنائیں اور راستے بنا دیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آسانی سے جا سکو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And He has placed firm mountains on the earth lest it should move away from you, and has made rivers and tracks that you may find your way,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He placed mountains on the earth, lest it should shake with you, and rivers and tracks, so that you may find the right way,

— Muhammad Taqi Usmani

And He placed mountains on the earth, lest it should shake with you, and rivers and tracks, so that you may find the right way,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He has driven firm standing mountains into the earth, lest it should shake with you; and rivers and roads, that you may guide yourselves.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He hath cast into the earth firm hills that it quake not with you, and streams and roads that ye may find a way.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided,

— Saheeh International

God has fixed the mountains on earth lest you should be hurled away when it quakes. Therein He has also made rivers and roads so that you will find your way.

— Muhammad Sarwar

And He has cast great mountains in the earth lest it might be convulsed with you, and rivers and roads that you may go aright,

— Muhammad Habib Shakir

And He hath cast on the earth firm mountains lest it move away with you, and rivers and paths that haply ye may be directed.

— Abdul Majid Daryabadi

And He has set up on the earth mountains standing firm, lest it should shake with you; and rivers and roads; that ye may guide yourselves;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 12 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سطح زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر پہاڑوں کے اس فائدے کو نمایاں کر کے بتایا گیا ہے جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام فائدے ضمنی ہیں اور اصل فائدہ یہی حرکت زمین کو اضطراب سے بچا کر منضبط (Regulate) کرنا ہے۔ سُوْرَة النَّحْل 13 یعنی وہ راستے جو ندی نالوں اور دریاؤں کے ساتھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان قدرتی راستوں کی اہمیت خصوصیت کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں محسوس ہوتی ہے، اگرچہ میدانی علاقوں میں بھی وہ کچھ کم اہم نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُم۔ رواسی راسیہ کی جمع ہے بھاری پہاڑ کو کہا جاتا ہے تمید مید مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی ڈگمگانا یا مضطربانہ قسم کی حرکت کرنا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ زمین کے کرہ کو حق تعالیٰ نے بہت سی حکمتوں کے ماتحت ٹھوس اور متوازن اجزاء سے نہیں بنایا اس لئے وہ کسی جانب سے بھاری کسی جانب سے ہلکی واقع ہوئی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زمین کو عام فلاسفروں کی طرح ساکن مانا جائے یا کچھ قدیم و جدید فلاسفروں کی طرح حرکت ہوتی جس کو اردو میں کانپنے یا ڈگمگانے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس اضطرابی حرکت کو روکنے اور اجزاء زمین کو متوازن کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

تفسیر آیات 15 تا 16:۔ وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ۔ اس میں اعلی عربیت کے اسلوب کے مطابق کلام کے بعض اجزاء جو بغیر اظہار کے ظاہر تھے، وہ حذف ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں ان کو کھول دیا ہے۔ اَنْهٰرًا وَّسُبُلًا یعنی فجر فیہا انھارا و مہد فیہا سبلا، علامات یعنی جعل للسبیل علٰمٰتٍ۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ : خدا نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں نہریں جاری کردی ہیں جن سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، راستے نکال دیے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

15۔ 1 یہ پہاڑوں کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ کا ایک احسان عظیم بھی ہے، کیونکہ اگر زمین ہلتی رہتی تو اس میں سکونت ممکن ہی نہ رہتی۔ اس کا اندازہ ان زلزلوں سے کیا جاسکتا ہے جو چند سکینڈوں اور لمحوں کے لئے آتے ہیں، لیکن کس طرح بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو پیوند زمین اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتے ہیں۔ 15۔ 2 نہروں کا سلسلہ بھی عجیب ہے، کہاں سے وہ شروع ہوتی ہیں اور کہاں کہاں، دائیں بائیں، شمال، جنوب، مشرق و مغرب ہر جہت کو سہراب کرتی ہیں۔ اس طرح راستے بنائے، جن کے ذریعے تم منزل مقصود پر پہنچتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–17

10: جب زمین کو شروع میں سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈگمگاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے اس کو جما دیا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق اب بھی بڑے بڑے براعظم سمندر کے پانی پر تھوڑے تھوڑے سرکتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سرکنا اتنا معمولی ہوتا ہے کہ انسان کو احساس نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

اب اس سبق میں آیات و دلائل کائنات کا آخری گروپ۔ آیت نمبر 15 تا 16 پہاڑوں کو زمین میں میخ بنایا۔ جدید علم جغرافیہ اس کے اسباب سے بحث کرتا ہے ، لیکن علم جدید نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ایک طرف ڈھلک جاتی ۔ یہ حقیقت صرف قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ جدید علم جغرافیہ پہاڑوں کے وجود کے متضاد اسباب بیان کرتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ زمین کا اندرون ایک گرم لاوا ہے۔ وہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کے اوپر زمین کی سطح بھی سکڑ کر ایک شکن کی صورت میں پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑ اور وادیاں وجود میں آجاتی ہیں۔ لیکن قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے اندر توازن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی خدا تعالیٰ نے زمین پر بھاری پہاڑ رکھ دئیے تاکہ زمین اپنی اضطرابی حرکت سے تم کو لے کر بیٹھ نہ جائے۔ روایات و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین ابتدائے آفرینش میں مضطربانہ طور پر ہلتی اور کانپتی تھی۔ خدا تعالیٰ نے اس میں پہاڑ پیدا کیے جن سے اس کی کپکپی بند ہوئی۔ آجکل جدید سائنس نے بھی اقرار کیا ہے کہ پہاڑوں کا وجود بڑی حد تک زلزلوں کی کثرت سے مانع ہے۔ بہرحال زمین کی حرکت و سکون کا مسئلہ جو حکماء میں مختلف فیہ رہا ہے اس سے آیت کا نفیاً یا اثباتاً کچھ تعلق نہیں، کیونکہ پہاڑوں کے ذریعہ سے جس حرکت کو بند کیا ہے وہ یہ دائمی حرکت نہیں جس میں اختلاف ہو رہا ہے۔ 7 یعنی ندیوں اور نہروں کا سرچشمہ کہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 پہاڑوں کے فوائد :۔ رواسی ایسے سلسلہ ہائے کوہ کو کہتا جاتا ہے جو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ زمین ہچکولے نہ کھائے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو پیدا کیا گیا تو وہ ڈگمگاتی اور ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑ رکھ دیئے۔ ترمذی، ابو اب التفسیر، سورة الناس) جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کو کسی خاص ترتیب اور حکمت سے پیدا کیا اور رکھا گیا ہے۔ کہیں اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ کہیں پھیلاؤ زیادہ ہے لیکن بلندی کم ہے۔ کہیں دور دور تک پہاڑوں کا نام و نشان ہی نہیں ملتا اور یہ سب کچھ زمین کے توازن (Balance) کو قائم رکھنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ (اور یہ پہاڑ سطح زمین کا توازن قائم رکھیں) (آیت) ’ ’ ان تمید بکم “۔ سے جس حرکت ارض کی نفی مقصود ہے وہ زمین کی دو لابی یا اضطرابی حرکت ہے، جیسے جسم ہوا سے پتانے لگتا ہے۔ مطلق حرکت ارض کے مسئلہ کو، جو تمامتر ایک سائنسی بحث ہے، قرآن مجید کی کم از کم اس آیت سے نفیا واثباتا کوئی تعلق نہیں۔ 23۔ (انہی راستوں کی شناخت کیلئے) ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ کا کام دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ تم کو لے کر زمین ڈگمگانے نہ لگے۔ رَوَاسِیَ ایک جگہ قائم رہنے والے پہاڑ۔ اَلْمَیْدُ لرزہ ‘ اضطراب ‘ پہاڑوں کی تخلیق۔ زمین بالکل گول تھی ‘ ادنیٰ سبب سے اس میں لرزہ آجاتا تھا۔ جب پہاڑوں کو پیدا کردیا گیا تو ان کا دباؤ مرکز ثقل کی طرف پڑا اور زمین کا ادھر ادھر ہلنا بند ہوگیا۔ گویا پہاڑوں کی میخیں ٹھونک دی گئیں جو زمین کو حرکت و اضطراب سے روک رہی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے جب زمین کو پیدا کیا تو وہ لرزاں تھی۔ فرشتے کہنے لگے : یہ اپنی پشت پر کسی کو ٹھہرنے نہیں دے گی۔ پھر اللہ نے اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور فرشتوں کو معلوم نہ ہوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرو اور اس زمین میں بڑے بڑے مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ زمین کو ہلنے نہ دیں اور اس نے تمہارے فوائد کے لیے نہریں بنائیں اور راستے بنائے تاکہ تم راستوں کو پہچان کر منزل مقصود تک پہنچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر (19) اور سورة رعد (3) یہاں پہاڑوں اور نہروں کے ساتھ راستوں کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ پہاڑوں میں دریا ہی راستہ بناتے ہیں اور انھی کے کناروں پر وسیع سڑکیں بنتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 15 قولہ تعالیٰ : والقی فی الارض رواسی یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین میں ثابت رہنے والے پہاڑ گاڑ دیئے ہیں۔ رسا یرسو جب وہ ثابت اور پختہ ہوجائے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے : فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسوا إذا نفس الجبان تطلع ان تمیدبکم ای لئلا تمید (تاکہ وہ لرزتی نہ رہے) ، یہ کو فیوں کے نزدیک ہے۔ وکراھیۃ أن تمید (یعنی اس کے لرزنے کو ناپسند کرتے ہوئے) ؛ یہ بصریوں کے قول کے مطابق ہے۔ اور المید کا معنی ہے دائیں بائیں جھومنا اور لرزنا، اضطراب کا اظہار کرنا۔ ماد الشئ یمید میدا جب وہ شے حرکت کرے، اور مادت الأغصان جب تہنیاں جھک جائیں، اور ماد الرجل جب آدمی اکڑ کر چلے، تکبر کا اظہار کرے۔ وہب بن منبہ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–23

1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَلْقٰى: اور اس نے ڈالے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ رَوَاسِيَ؛کچھ پہاڑ ] [ ان : کہ کہیں ] [ تميْدَ بِكُمْ : وہ لرزے تمہارے ساتھ ] [ وَانهٰرًا : اور کچھ نہریں ] [ وَّسُبُلًا : اور کچھ راستے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگ ] [ تَهْتَدُوْنَ : راہ پائو ] (آیت۔ 15) ۔ رَوَاسِیَ ۔ اَنْھٰرًا۔ سُبُلًا اور عَلٰمٰتٍ ، یہ سب اَلْقٰی کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہفتم : زمین پر بھاری بھاری پہاڑ پیدا فرمانے کی نعمت یاد دلائی ہے اور فرمایا (وَ اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) (اور زمین میں بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ زمین تم کو لے کر ہلنے نہ لگے) زمین پر انسان کو بسایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ انسان ضعیف ہے اگر زمین حرکت کرتی اور ڈگمگاتی رہتی تو انسان کا جینا دشوار ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ڈگمگانے سے محفوظ فرمانے کے لیے اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے ان پہاڑوں کے بوجھ کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کرتی، انسان اس پر چلتے پھرتے ہیں کام کاج کرتے ہیں وہ ہلنے اور ڈگمگانے سے محفوظ ہے، یہ انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

14:۔ زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ زمین میں حرکت و اضطراب پیدا نہ ہو اور دریا اور راستے بنائے یہ چیزیں اس لیے بنائیں تاکہ تمہیں راہنمائی حاصل ہو۔ ” لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ “ اگر صرف ” سُبُلًا “ کی مناسبت سے کہا گیا ہو تو مطلب واضح ہے۔ اور اگر اسے پہاڑوں اور دریاؤ کے ساتھ بھی متعلق مانا جائے تو بھی درست ہے کیونکہ پہاڑ اور دریا بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کو ایک دوسرے جدا کرنے میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ اشیاء ابطال شرک میں ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ ویجوز ان یکون تعلیلا بالنظر الی جمیع ما تقدم لان تلک الاثار العظام تدل علی بطلان الشرک (روح ج 14 ص 116) ۔ (” لَعَلَّکُمْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–21

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ 15۝ۙ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم الخ۔ المید الحرکۃ والا ضطراب یمینًا و شمالاً یقال مادمید میداً یعنی مید کے معنی ادھر ادھر ہلنے کے ہیں۔ اب عنصر خاک یعنی زمین کے حالات سے استدلال کرتا ہے کہ جس پر رہ کر یہ بنی آدم غرور کرتے ہیں اور بعض تو سرے سے خدا تعالیٰ کے ہی منکر ہیں اور بعض اس کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں۔ جمہور مفسرین کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح خالی کشتی ادھر ادھر ہلا کرتی ہے اور جب اس میں کچھ بوجھ پتھر ڈال دیتے ہیں تو اس کے دباؤ سے نہیں ہلتی۔ یہی حال زمین کا تھا پھر جب خدا نے اس پر پہاڑوں کا بوجھ ڈال دیا تو ہلنے سے رک گئی۔ زمین ازتپ و لرزہ آمد ستوہ فرو کوفت بر دامنش میخ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ وَاَنْھٰرًا وَّسُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ وَعَلٰمٰتٍ ط وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 15۔ 16) (اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور دریا جاری کردیے اور راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل کی راہ پا سکو۔ اور راستوں پر علامتیں بنادی ہیں اور ستاروں کے ذریعہ سے وہ راہ یاب ہوتے ہیں۔ ) مزید نعمتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر عموماً اور انسانوں پر خصوصاً مزید انعامات اور احسانات کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ زمین کو جب بچھایا گیا تو وہ دائیں بائیں جھکتی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–17

فہم القرآن ربط کلام : سمندر کے بعد پھر زمین کا تذکرہ۔ بارہویں پارے کی ابتدا میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ ( ھود : 7) جب زمین کو پانی پر استوار کیا گیا تو یہ ہچکولے کھاتی تھی جس طرح خالی کشتی پانی پر ہچکولے کھایا کرتی ہے۔ کشتی میں مناسب مقدار میں وزن ہو تو وہ ہچکولے کھانے اور ڈانواں ڈول ہونے کے بجائے پانی کی سطح پر متوازن رفتار میں ٹھہری رہتی ہے۔ یہی کیفیت پہاڑوں سے پہلے زمین کی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بڑے بڑے پہاڑ گاڑ دیے تاکہ ہچکولے کھانے سے رک جائے۔ پھر پہاڑوں کے درمیان دریا، نہریں اور راستے بنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ (اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیئے) قائم رہنے والے پہاڑ۔ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ (تاکہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ جائے) اس ڈر سے کہ وہ تمہیں لیکرمائل ہو۔ اور حرکت کرے۔ نمبر 2۔ تاکہ وہ تمہیں لیکر جھک نہ جائے۔ لیکن حذف مضاف زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ حرکت کرنے لگی ملائکہ نے کہا اس کی پشت پر تو کوئی ٹھہر نہ سکے گا۔ پس صبح ہوئی اس حال میں کہ پہاڑ گاڑ دئیے گئے۔ فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے بنائے گئے۔ وَانْھٰرًا (اور نہریں) یہ جعل کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ القیٰ میں جعل کا معنی پایا جاتا ہے۔ وَّ سُبُلًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(15)” والقی فی الارضی رواسی ان تمیدبکم “ تاکہ وہ حرکت نہ کرے اور ایک دوسرے کی طرف مائل نہ ہو۔ مید اضطراب کو کہا جاتا ہے اور اس پر کسی چیز کا نہ ٹھہرنا اور بعض نے کہا کہ اس سے وہ جگہ مراد ہے جہاں کشتیاں آکر رکتی ہیں۔ وہب کا قول ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ لرز رہی تھی۔ فرشتے کہنے لگے کہ یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن جونہی صبح ہوئی تو زمین کے اندر پہاڑ قائم ہوگئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوئے۔ ” وانھاراوسبلاً “ اور اس زمین میں مختلف قسم کی نہریں پیدا کی ہیں اور مختلف قسم کے راستے بنائے ہیں۔ ” لعلکم تھتدون “ تم ان راستوں کے ذریعے ہدایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ تفسیر عبد الرزاق میں حسن بصری سے اور تفسیر ابن جریر میں قیس بن عباس سے روایت ہے کہ پہلے پہل اللہ نے پانی پر زمین بچھائی تو زمین ہلتی تھی فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ زمین پانی پر کیوں کر ٹھہرے گی جب اللہ نے زمین پر پہاڑ ٹھونک دئیے تو پھر زمین کا ہلنا بند ہوگا اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ اللہ نے کب اور کس چیز کے یہ پہاڑ بنا دئیے 1 ؎۔ ایک جگہ یہ بات اوپر گزر چکی ہے کہ عبد الرزاق بن ہمام نے نابینا ہونے سے پہلے جو کتابیں تالیف کی ہیں ان کو امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لئے تفسیر عبد الرزاق کی یہ حسن بصری کی روایت معتبر ہے یہ قیس بن عباد بھی جلیل القدر تابعیوں میں ہیں اور تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

آیت 14 وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے (الذی سخر البحر) ” جس نے سمندر کو مسخر کیا “ اور تمہارے مختلف انواع کے فوائد کے لئے اسے تیار کیا۔ (لتاکلوا منہ لحماطریاً ) ” تاکہ کھاؤ تم اس سے تازہ گوشت “ اس سے مراد مچھلی وغیرہ ہے جسے تم شکار کرتے ہو۔ (وتسخرجوامنہ حلیۃ تلبسونھا) ” اور نکالو تم اس سے زیور جو تم پہنتے ہو “ جو تمہارے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں۔ (وترک الفلک) ” اور تم دیکھتے ہو کشتیاں “ یعنی جہاز اور کشتیاں وغیرہ (مواخرافیہ) ” چلتی ہیں اس میں پانی پھاڑ کر ‘ یعنی موجیں مارتے ہوئے ہولناک سمندر کا سین چیرتی ہوئی کشتیاں ایک ملک سے دوسرے ملک تک جاتی ہیں جو مسافروں، ان کا رزق، ان کا مال اسباب اور ان کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28۔ زمین میں گاڑے گئے عظیم الشان لنگروں میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے زمین میں عظیم الشان لنگر ڈال دیئے تاکہ یہ تم کو لے کرڈولنے نہ لگے۔ اور اس طرح تمہارا آرام وسکون اور امن واستقرار خراب نہ ہوجائے۔ سودیکھو تو سہی اے لوگو کہ کیسی قدرت ہے اس قادر مطلق کی ؟ اور کتنا مہربان ہے وہ اپنے بندوں پر کہ دیوہیکل پہاڑوں کے ان عظیم الشان سلسلوں کو اس نے قدر عمدگی، مضبوطی اور حیرت انگیز طریق سے اوتاد " میخیں " بناکر پانی میں تیرتے زمین کے اس کرے میں گاڑ دیا۔ فسبحانہ من الہ عظیم قادر قیوم حکیم علیم جل وعلا۔ سو تم لوگ ذرا غور تو کرو کہ ایسے خدائے رحمن سے منہ موڑنا کتنی بڑی ناانصافی ہے ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–19

پہاڑ، نہریں اور ستاروں کے وجود کے مقاصد تشریح : پہاڑوں کے بارے میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مزید اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ اونچے اونچے وسیع پہاڑوں کے سلسلے زمین کی مضبوطی اور حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ جتنے اوپر نظر آتے ہیں اتنے ہی زمین کے اندر گاڑے ہوئے ہیں۔ اور یوں پہاڑوں کے پتھریلے سخت اور وزنی اجزاء سمندر کی زبردست ٹکریں زمین کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں۔ دوسرا زمین کا توازن برقرار رہتا ہے۔ تیسرا پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمتی رہتی ہے جو موسم گرما میں پگھل کر دریائوں کی صورت میں زمینوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہے۔ چوتھا پہاڑوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں سے بچائو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 معلوم ہوا کہ اگر سطح زمین پر یہ اونچے اونچے پہاڑ ابھرے ہوئے نہ ہوتے تو زمین کے گھومنے میں وہ سکون و انضباط نہ ہوتا جواب ہمیں محسوس ہوتا ہے بلکہ شاید وہ ادھر ادھر جھومتی رہتی ! اس آیت میں پہاڑوں کا یہی ایک فائدہ و فکر کیا گیا ہے۔ یوں پہاڑوں کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 15–17

(16:15) القی۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ڈالا۔ رواسی ۔ رسو۔ مصدر رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ اونچے اونچے پہاڑوں کو بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے۔ لہٰذا رواسی بمعنی اونچے اونچے پہاڑ۔ بندرگاہ کو مرسی (اسم ظرف مکان) اس واسطے کہتے ہیں کہ یہاں بھی جہاز اور کشتیاں آکر ٹھہر جاتی ہیں۔ رواسی راسیۃ کی جمع ہے۔ پہاڑ۔ تمید۔ ماد یمید مید (باب ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ہلتی ہے وہ جھکتی ہے۔ ان تمید بکم ای لئلا تمیدبکم کہ وہ تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–21

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21 ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

پہاڑوں کی چیزوں کے انتظام کے لئے فرشتے مقرر ہیں جن کے گروہ کے سردار کا نام ملک الجبال ہے اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ پہلے اللہ نے پانی پر زمین بچھائی تو زمین ہلتی تھی۔ فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ زمین پانی پر کیوں کر ٹھہرے گی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ ٹھونک دئیے تو پھر زمین کا ہلنا بند ہوگیا اور فرشتوں کو معلوم بھی نہیں ہوا کہ اللہ نے کب اور کس چیز کے یہ پہاڑ بنادئیے۔ اگرچہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہ تھی کہ بغیر پہاڑوں کی میخیں ٹھنکنے کے وہ زمین کو پانی پر مضبوچ جما دیتا لیکن پہاڑوں کے پیدا کرنے میں طرح طرح کی حکمتیں تھیں۔ سونا چاندی اور قمتی چیزیں اکثر قسم کی دوائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[10] یعنی حلال دریائی جانوروں کا گوشت۔ [11] یعنی ان بحری سواریوں سے تجارت کرو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–19

(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔ رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ، غرض یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15 ۔ اور اس نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ رکھ دیئے تا کہ کہیں زمین تم کو لے کر ہلنے اور ڈگمگانے نہ لگے اور اس نے ندیاں اور نہریں بنائیں اور راستے بنائے تا کہ تم ان راستوں سے راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکو ۔ 12 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ تمہاری حفاظت اور سہولت و آسانی کے لئے کیا گیا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–17

ف 1۔ اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات و بسائط و مرکبات داخل ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑوں کو گاڑ دیا ہے تاکہ وہ ہچکولے نہ کھائے : 20۔ یہ آیت قبل ازیں سورة الرعد کی آیت 3 اور الحجر کی آیت 19 میں گزر چکی ہے اور سورة الانبیاء کی آیت 31 ‘ سورة النحل کی آیت 61 ‘ سورة لقمان کی آیت 10 اور سورة فصلت کی آیت 10 ‘ سورة ق کی آیت 7 اور المرسلات کی آیت 27 میں بھی آئے گی اور زیر نظر آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے کہ سطح زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے ، قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ آیت بیان ہوئی ہے وہاں پہاڑوں کے اس فائدے کو نمایاں کر کے بتایا گیا ہے جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In Verse 16, it was said: وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْ‌ضِ رَ‌وَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ (And He placed mountains on the earth, lest it should shake with you). The word: رَ‌وَاسِيَ (rawasiya) is the plural of رَاسیۃ (rasiyah) which denotes a huge mountain. The word: تَمِیدَ (tamida) is a derivation from the verbal noun: مِيدَ (mayd) which means to shake or swing or sway from side to side (due to loss of balance). The sense of the verse is that Allah Ta’ ala has not made the sphere of the Earth from components which are not solid and balanced, therefore, it is heavier on one side and lighter on some…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12. This shows that the real function of mountains is to regulate the motion and speed of the earth. We have come to this conclusion, for the Quran has made this benefit of mountains very prominent in many places. Therefore, their other benefits should be regarded as incidental. 13. Natural ways are those routes which are formed along the banks of streams, ravines and rivers. Though the importance of these ways is great even in the plains, one feels their sore need, especially in the mountainous regions.

Read the full tafseer →