An-Nahl 16:8

An-Nahl · from ayah 8

16:8

وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِیْنَةً ؕ— وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۟وَّالۡخَـيۡلَ وَالۡبِغَالَ وَالۡحَمِيۡرَ لِتَرۡكَبُوۡهَا وَزِيۡنَةً‌ ؕ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [He created] the horses, mules and donkeys for you to ride and [as] adornment. And He creates that which you do not know.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:8

اُس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وه باعﺚ زینت بھی ہیں۔ اور بھی وه ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا جس کی تمہیں خبر نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں، اور وہ (مزید ایسی بازینت سواریوں کو بھی) پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور گھوڑے اور خچر اور گدھے، تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے، اور وہ پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں اور وہ اور بھی کئی چیزیں پیدا کرے گا۔ جنہیں تم نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی نے پیدا کیے گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور گھوڑے خچر، گدھے بھی، (اس نے تمہارے لئے پیدا فرمائے) تاکہ تم ان پر سواری بھی کرو اور وہ تمہاری رونق بھی بنیں، اور وہ اور بھی ایسی ایسی چیزیں پیدا فرماتا ہے (اور آئندہ پیدا فرمائے گا) جن کی تم لوگوں کو خبر بھی نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (اسی نے پیدا کئے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ پیدا کرتارہتا ہے ایسی چیزیں جن کی تم کو خبر نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سواری کرو اور (تمہارے لیے ہے ان میں) زینت بھی اور (ایسی چیزیں بھی) وہ پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم ہی نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہارے لیے رونق اور زینت بھی ہیں اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And He created horses and mules and asses for you to ride, and also for your adornment. And He creates many things (for you) that you do not even know about.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (He created) horses, mules and donkeys, so that you may ride on them, and they may give you a good look. And He creates what you do not know (as yet).

— Muhammad Taqi Usmani

And (He created) horses, mules and donkeys, so that you may ride on them, and they may give you a good look. And He creates what you do not know (as yet).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (He has created) horses, mules and donkeys for you to ride, and as an adornment. And He creates (other) things of which you have no knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And horses and mules and asses (hath He created) that ye may ride them, and for ornament. And He createth that which ye know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [He created] the horses, mules and donkeys for you to ride and [as] adornment. And He creates that which you do not know.

— Saheeh International

He created horses, mules, and donkeys for you to ride and as a means of beauty. He has also created things that you do not know.

— Muhammad Sarwar

And (He made) horses and mules and asses that you might ride upon them and as an ornament; and He creates what you do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And He hath created horses and mules and asses that ye may ride there on, and as an adornment; and He createth that which ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

And (He has created) horses, mules, and donkeys, for you to ride and use for show; and He has created (other) things of which ye have no knowledge.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سواری کے جانوروں کی حرمت اپنی ایک اور نعمت بیان فرما رہا ہے کہ زینت کے لئے اور سواری کے لئے اس نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے ہیں بڑا مقصد ان جانوروں کی پید ائش سے انسان کا ہی فائدہ ہے۔ انہیں اور چوپایوں پر فضیلت دی اور علیحدہ ذکر کیا اس وجہ سے بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کی دلیل اس آیت سے لی ہے۔ جیسے امام ابوحنیفہ اور ان کی موافقت کرنے والے فقہا کہتے ہیں کہ خچر اور گدھے کے ساتھ گھوڑے کا ذکر ہے اور پہلے کے دونوں جانور حرام ہیں اس لئے یہ بھی حرام ہوا۔ چناچہ خچر اور گدھے کی حرمت احادیث میں آئی ہے اور اکثر علماء کا مذہب بھی ہے۔ ابن عباس ؓ سے ان تینوں کی حرمت آئی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 8 یعنی بکثرت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کی بھلائی کے لیے کام کر رہی ہیں اور انسان کو خبر تک نہیں ہے کہ کہاں کہاں کتنے خدام اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور کیا خدمت انجام دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً یعنی ہم نے گھوڑے خچر گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو سکو اس میں بار برداری بھی ضمنا آگئی اور ان کو اس لئے بھی پیدا کیا کہ یہ تمہارے لئے زینت بنیں زینت سے وہی شان و شوکت مراد ہے جو عرفا ان جانوروں کے مالکان کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے۔ قرآن میں ریل موٹر ہوائی جہاز کا ذکر آخر میں سواری کے تین جانور گھوڑے خچر گدھے کا خاص طور سے بیان کرنے کے بعد دوسری قسم کی سواریوں کے متعلق بصیغہ استقبال فرمایا۔ (آیت) وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا وہ چیزیں جن کو تم نہیں جانتے اس میں وہ تمام نو ایجاد سواری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ۭ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ اونٹ کے بعد یہ دوسرے جانوروں کی طرف اشارہ فرمایا جو سواری کے کام بھی آتے اور سرداری کے لوازم میں سے ہونے کے باعث شان و شوکت کا بھی ذریعہ تھے نیز فرمایا کہ انہی تک محدود نہیں خدا بیشمار ایسی مخلوقات بھی پیدا کرتا رہتا ہے، جن کو تم جانتے بھی نہیں بلکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تم یا تمہارے سوا دوسرے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے بھی وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ نعمتیں بخشی ہوئی تو سب خدا کی ہیں لیکن تم ان کو پا کر خدا تو بھول جاتے ہو اور اپنی شان اور دوسروں کی بندگی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی ان کی پیدائش کا اصل مقصد اور فائدہ تو ان پر سواری کرنا ہے تاہم زینت کا بھی باعث ہیں، گھوڑے خچر، اور گدھوں کے الگ ذکر کرنے سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ گھوڑا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح گدھا اور خچر۔ علاوہ ازیں کھانے والے چوپاؤں کا پہلے ذکر آچکا ہے۔ اس لئے اس آیت میں جن تین جانوروں کا ذکر ہے، یہ صرف (سواری) کے لئے ہے۔ 8۔ 2 زمین کے زیریں حصے میں، اسی طرح سمندر میں، اور بےآب وگیاہ صحراؤں اور جنگلوں میں اللہ تعالیٰ مخلوق پیدا فرماتا رہتا ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور اسی میں انسان کی بنائی ہوئی وہ چیزیں بھی آجاتی ہیں جو اللہ کے دیئے ہوئے دماغ اور صلاحیتوں کو بروئے کار…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی بہت سی سواریاں وہ ہیں جن کا ابھی تمہیں پتہ نہیں ہے، اس آیت کریمہ نے یہ خبر دی ہے کہ اگرچہ فی الحال تم صرف گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو سواری کے لئے استعمال کرتے ہو ؛ لیکن اللہ تعالیٰ آئندہ نئی نئی سواریاں پیدا کرے گا، اور اس طرح اس آیت میں ان ساری سواریوں کا ذکر آگیا ہے جو نزول قرآن کے بعد پیدا ہوئیں، مثلاً کاریں بسیں ریلیں ہوائی جہاز اور بحری جہاز وغیرہ، بلکہ قیامت تک جتنی سواریاں مزید پیدا ہوں وہ سب اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں، عربی زبان کے قاعدے کے مطابق اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی چیزیں پیدا کرے گا جن کا تمہیں ابھی علم نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی سواری کرتے ہو اور عزت و شان ظاہر ہوتی ہے (تنبیہ) عرب میں گدھے کی سواری معیوب نہیں۔ وہاں کے گدھے نہایت قیمتی، خوبصورت، تیز رفتار درقدم باز ہوتے ہیں۔ بعض گدھوں کے سامنے گھوڑوں کی کچھ حقیقت نہیں رہتی۔ ایک زندہ دل ہندی نے خوب کہا تھا کہ حجاز میں " گدھا " نہیں " حمار " ہوتا ہے۔ 11 یعنی جن حیوانات کا اوپر ذکر ہوا، ان کے علاوہ حق تعالیٰ تمہارے انتفاع کے لیے وہ چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا جن کی تمہیں فی الحال خبر بھی نہیں۔ اس میں وہ سب سواریاں بھی آگئیں جو قیامت تک بنتی رہیں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ان مویشیوں سے انسان کو بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے باعث زیب وزینت بھی ہیں۔ خصوصی طور پر گھوڑا بہت حسین اور قیمتی جانور ہے اور اس کا مالک اسے اپنے لیے باعث فخر و تمکنت سمجھتا ہے۔ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی یہ تو چند وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں تم لوگ جانتے ہو مگر اللہ تعالیٰ تو بیشمار ایسی چیزیں بھی تخلیق فرماتا ہے جن کے بارے میں تمہیں کچھ بھی علم نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کو بھی انسان ہی کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے جن سے وہ طرح طرح کے فوائد حاصل کرتا ہے بعض جانور ایسے ہیں جن کے گوشت کو غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ دودھ، مکھن اور گھی انھیں سے حاصل کرتا تھا۔ گرم پوشاک اسے انھیں مویشیوں کی اون سے مہیا ہوتی ہے۔ وہ اس کے باربرداری کے کام بھی آتے ہیں اور سواری کے بھی۔ ان کے چمڑے سے وہ بہت سی قیمتی چیزیں تیار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی ہڈیوں تک کو اپنے کام میں لاتا ہے پھر مزید یہ کہ اس کے لیے زینت بھی ہیں اور شان و شوکت کا سامان بھی۔ آج کے مشینی دور میں گو بہ لحاظ سواری اور بار برداری مویشیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ اس عموم کے تحت میں جانوروں کے علاوہ تمام انسان کی ایجاد کی ہوئی سواریاں بھی قیامت تک کے لیے آگئیں۔ انسانی صنعت وصناعت کی مدد سے جو جو طریقے حمل ونقل کے نکلے ہیں، وہ آخر اللہ ہی کے خلق میں داخل ہیں۔ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر “۔ مشرک قوموں نے گھوڑے کی بھی پرستش کی ہے اور گدھے کی بھی۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ عرب میں ان تینوں جانوروں کی بڑی اہمیت تھی، چناچہ ہٹی نے اپنی ” تاریخ عرب “ میں لکھا ہے کہ نجد کے گھوڑے اور حسا کے گدھے اور عمان کے خچر ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ (صفحہ 22) (آیت) ” وزینۃ “۔ یعنی طرح طرح کے نفیس سامان آرایش وزینت انہی جانوروں سے حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ اور اس نے تمہاری سواری اور شان بنانے کیلئے گھوڑے ‘ خچر اور گدھے پیدا کئے۔ امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کے حرام یا مکروہ ہونے پر استدلال کیا ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : اللہ نے اس آیت میں اپنی نعمت کا اظہار کیا ہے اور اپنی نعمت کی یاددہانی کی ہے اور دو فائدوں کی صراحت کی ہے ‘ سواری ور زینت اور ظاہر ہے کہ غذائیت سب سے بڑی نعمت ہے ‘ اسلئے ممکن نہیں کہ جو اصل منفعت ہو ‘ اس کی تو یاددہانی نہ کی جائے اور نیچے درجے کے فائدوں کا اظہار کیا جائے (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جانوروں کو فراہمئ غذا کیلئے پیدا ہی نہیں کیا گیا ورنہ سواری اور زینت سے پہلے ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پید اکیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تم ان پر سوار ہو اور تمہاری زینت و خوشی کے لیے بھی ان کو پیدا کیا اور وہ ایسی ایسی چیزیں بناتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں، اور جو تمہارے کبھی سننے میں بھی نہیں آئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا۔۔ :”وَزِيْنَةً“ مفعول لہ ہے۔ ”وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ“ یعنی ان جانوروں کے علاوہ جن کا ابھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وہ چیزیں پیدا کرتا رہے گا جو تم نہیں جانتے۔ اس میں وہ بیشمار حیوانات بھی شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نئے سے نئے پیدا کرتا رہتا ہے، کبھی مختلف نسلوں کے ملاپ سے، کبھی از سر نو صحراؤں، جنگلوں، سمندروں میں اور انسانوں کی تجربہ گاہوں میں اور قیامت تک ایجاد ہونے والی سواریاں اور مشینیں بھی جو آیت کے نزول کے وقت موجود نہ تھیں، جن میں گاڑیاں، ہوائی جہاز اور انجنوں سے چلنے والے بحری جہاز وغیرہ سب شامل ہیں اور اللہ ہی بہتر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 8 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : والخیل یہ نصب کے ساتھ ہے اور معطوف ہے، یعنی وخلق الخیل (اور اس نے گھوڑے پیدا کئے) اور ابن ابی عبلہ نے والخیل والبغال والحمیر ان تمام کو رنع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور گھوڑے کو خیل کا نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس کی چال میں اکڑ اور تکبر ہوتا ہے۔ اور خیل کا واحد خائل ہے، جیسا کہ ضائن، ضأنکا واحد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں۔ اور یہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، اور ہم نے وہاں احادیث ذکر کی ہیں۔ اور جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا الگ ذکر کیا ہے تو اس پر دلیل ہے کہ یہ لفظ الانعام کے تحت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–8

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔ 3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔ 4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّالْخَيْلَ : اور (اس نے پیدا کیا) گھوڑوں کو ] [ وَالْبِغَالَ : اور خچروں کو ] [ وَالْحَمِيْرَ : اور گدھوں کو ] [ لِتَرْكَبُوْهَا : تاکہ تم لوگ سواری کرو ان پر ] [ وَزِيْنَةً ۭ: اور زینت کے لئے ] [ وَيَخْلُقُ : اور وہ پیدا کرے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] ب غ ل [ بَغْلًا : (ف) کسی کو دوغلا ٹھہرانا۔] بَغْلٌ ج بِغَالٌ۔ خچر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ] نوٹ۔ 3: آیت نمبر۔ 8 میں سواری کے تین جانور گھوڑے، خچر اور گدھے کا خاص طور سے بیان کرنے کے بعد فرمایا اور وہ پیدا کرے گا وہ چیزیں جن کو تم نہیں جانتے۔ اس میں وہ تمام نوایجاد سواریاں بھی داخل ہیں جن کا پرانے زمانے میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد سواری کے جانوروں کا تذکرہ فرمایا (وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَ زِیْنَۃً ) اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا فرما دئیے تاکہ تم ان پر سوار ہو، اور ان میں تمہارے لیے زینت بھی ہے، ان تینوں قسم کے جانوروں پر سواری بھی کرتے ہیں اور خچر اور گدھے تو اپنے سوار کے ساتھ بہت سا بوجھ بھی اٹھا کرلے جاتے ہیں، یہ جانور اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور انسانوں کے لیے مسخر بھی فرمائے اسی کو سورة زخرف میں فرمایا (لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

9:۔ مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ چوپائے تمہاری زینت اور شوکت و عزت کا نشان ہیں۔ جب اونٹوں کے گلے بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ اور گائے بھینسوں کے انبوہ صبح کو چرنے کے لیے باہر میدان کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں تو اس سے تمہاری دنیوی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ ” حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ “ اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ ” وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ “ ان چوپایوں میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے تم باربرداری کا کام لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے یہ تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں۔ ” وَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ الخ “ گھوڑے، خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–9

(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً ۭ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۝ خيل والخُيَلَاء : التّكبّر عن تخيّل فضیلة تراءت للإنسان من نفسه، ومنها يتأوّل لفظ الخیل لما قيل : إنه لا يركب أحد فرسا إلّا وجد في نفسه نخوة، والْخَيْلُ في الأصل اسم للأفراس والفرسان جمیعا، وعلی ذلک قوله تعالی: وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ [ الأنفال/ 60] ، ويستعمل في كلّ واحد منهما منفردا نحو ما روي : (يا خيل اللہ اركبي) «1» ، فهذا للفرسان، وقوله عليه السلام : «عفوت لکم عن صدقة الخیل» «2» يعني الأفراس . والأخيل : الشّقراق «3» ، لکونه متلوّنا فيختال في كلّ وقت أنّ له لونا غير اللون الأوّل، ( خ ی ل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–9

والخیل والبغال والحمیر الخ یہ چوتھی قسم ہے۔ چارپایوں میں سے بالخصوص ان کے ساتھ استدلال ہے کہ جو بالخصوص سواری کے کام آتے ہیں اور زینت کا بھی باعث ہوتے ہیں۔ ان چند چیزوں کو شمار کر کے اجمالاً ان سواریوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو ہنوز ظہور میں نہیں آئی تھیں یا آیندہ آئیں گی جیسا کہ ریل گاڑی اور دخانی جہاز یا جن کو عرب جانتے نہ تھے۔ ویخلق مالاتعلمون و علی اللہ قصد السبیل و منہا جائر ولوشاء لہدکم اجمعین دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اپنی رحمت خاصہ سے اللہ کا کام ہے کہ وہ سیدھا رستہ بیان فرماوے۔ چناچہ اس نے انبیاء بھیجے اور دلائل بیان فرمائے مگر کچھ رستے ٹیڑھے بھی ہیں کہ وہ خدا کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَزِیْنَۃً ط وَیَخْلُقُ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 8) (اور ( اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔ ) ایک اور پہلو سے چوپایوں کا ذکر اب تک جتنی نعمتوں اور جتنے جانوروں کا ذکر ہوا وہ انسان کی ضرورت بھی ہیں اور ضرورتوں کی ادائیگی کا ذریعہ بھی۔ لیکن اب جن دو جانوروں کا ذکر کیا جارہا ہے یہ انسان کے لیے سواری بھی ہیں اور باعث زینت بھی۔ عرب میں عام طور پر سواری اور جنگی ضرورتوں کے لیے گھوڑے استعمال ہوتے تھے۔ اور یہی دونوں کام خچروں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : حلال چوپایوں کے ذکر کے بعد بار برداری کے کام آنے والے چوپایوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ کرم فرمائی ہے کہ اس نے حلال چوپاؤں اور بار برداری کے کام آنے والے چوپاؤں کے درمیان حلال و حرام کے ذریعے فرق کردیا ہے۔ حلال چوپایوں میں بھیڑ اور بکریوں کا گوشت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اور ان کی نسل دنیا کے تمام ممالک میں حسب ضرورت پائی جاتی ہے۔ ان کی افزائش اور پیدائش کا سلسلہ دوسرے چوپایوں کے مقابلے میں زود افزائش ہے۔ بھیڑچھ سے سات مہینے کے دوران ایک سے لے کر تین تک بچے جنم دیتی ہے۔ بکری پانچ سے چھ مہینے کی مدت میں عام طور پر دو سے چار بچے پیدا کرتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بار برداری کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

گھوڑے ‘ خچر کا تذکرہ : 8: وَّ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَزِیْنَۃً (اور گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو تمہاری سواری اور زینت کیلئے پیدا کیا) نحو : الانعام پر عطف ہے۔ ای خلق ھذہ الرکوب والزینۃ اور اس نے ان سواریوں کو اور زینت کو پیدا کیا۔ استدلال امام ابوحنیفہ m : امام صاحب نے اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کی حرمت پر استدلال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقت کی علت رکوب وزینت قرار دی اور کھانے کا ذکر نہیں کیا جیسا کہ انعام میں فرمایا گیا ہے۔ حالانکہ گوشت کا فائدہ تو سواری اس سے بڑھ کر ہے اور آیت کا سیاق ہی بیان نعمت کے لئے ہے اور حکیم کی حکمت اس بات کو گوارہ نہیں کرتی کہ احسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(8)” والخیل “ اور گھوڑے کو پیدا کیا۔ اس سے مراد جنس ہے نہ کہ ایک ہی اونٹ۔ جیسے کہ نساء جنس ہے اور اسماء جنس ہے۔” والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ اور ان کو تمہارے لیے زینت بنایا ان منافع کے ساتھ ساتھ۔ گھوڑے اور خچر کے گوش کا حکم اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کا استدلال کیا گیا۔ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اس پر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اس آیت میں سواری کرنے کا حکم دیا نہ کہ کھانے کا۔ یہی قول امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ کا ہے اور ایک جماعت نے گھوڑے کے گوشت کھانے کو مباح قرار دیا۔ یہ قول حسن ، شریح، عطائ، سعید بن جبیر رحمہم اللہ کا ہے اور یہی قول امام شافعی اور اسحاق رحمہما…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

8۔ بعضے حنفیہ نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ گھوڑے سواری اور زینت کے لئے ہیں ذبح کرنے اور گوشت کھانے کی ممانعت اس سے نکلتی ہے اور علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس آیت میں حرام و حلال کا ذکر نہیں ہے یہاں تو اللہ تعالیٰ نے فقط اپنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے عزت اور زینت کی سواری کے لئے گھوڑا اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اس لئے سواری کی نعمت جتلا کر گھوڑے کا ذکر فرمایا ہے دونوں مذہبوں کی تائیدیں حدیثیں بھی پیش کی گئی ہیں ان میں ان علماء کا قول جو گھوڑے کے گوشت کے جائز ہونے کے قائل ہیں زیادہ مضبوط ہے کیونکہ وہ حدیث جس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–9

آیت 3 اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–13

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13۔ سواریوں کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تمہارے لئے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری بھی کرسکو اور یہ تمہارے لئے زیب وزینت کا ذریعہ بھی بنیں، سو تم لوگ ذرہ دیکھو تو سہی اور غور تو کرو کہ اس خالق کل اور مالک مطلق نے تمہاری سواری اور باربرداری کے لئے کیسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے جس سے تم لوگ ہمیشہ اور طرح طرح سے مستفید و فیضاب ہوتے ہو پھر بھی تم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اور اس کا حق شکر نہیں ادا کرتے یہ کیسی بےانصافی اور کس قدر ظلم و ناشکری ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جن حضرات علماء وائمہ کرام کے نزدیک گھوڑے کا گوشت کھانا جائز نہیں انہوں نے آیت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–8

انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 1 یعنی ان جانوروں کے علاوہ جن کا ابھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ تمہارے فائدے کے لئے وہ چیزیں پیدا کرتا ہے اور کرتا رہے گا جن کی تمہیں خبر بھی نہیں ہے۔ اس میں قیامت تک جو سواریاں بنتی رہیں گی ان سب کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:8) والخیل والبغال والحمیر۔ (گھوڑے۔ خچر۔ گدھے) ان تینوں کا عطف الانعام پر ہے۔ ای وخلق الخیل والبغال والحمیر۔ زینۃ۔ یا تو مفعول لہ ہے اور ترجمہ ہوگا۔ کہ تم سوار ہو ان پر زینت کے لئے۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف لترکبوھا پر ہے (ان کو پیدا کیا) کہ تم ان پر سوار ہو اور (ان کو پیدا کیا) زینت کے لئے بھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

چوپایوں کا ذکر اس آیت میں چوپایوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے۔ بکریاں جس کی تفسیر سورة انعام (پارہ 8) میں گزر چکی ہے۔ یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں۔ تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوستین بنتا ہے۔ بعض جانوروں کے روئین بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں اور جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو۔ اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[8] اس میں وہ تمام چیزیں آگئیں جو آدمی کے نفع و راحت اور آسائش کے کام آتی ہیں اور اس وقت تک موجود نہیں ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کو ان کا پیدا کرنا منظور تھا، جیسے دخانی جہاز، ریلیں، موٹر، ہوائی جہاز، برقی آلات اور معلوم نہیں اس کے علاوہ اسے کیا کیا پیدا کرنا منظور ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

(ف 2) ان آیات میں حیوانات کا ذکر ہے کہ کیونکر اللہ نے ان کو تمہارے لئے مفید بنایا ہے ، ان میں کس قدر تمہارے لئے منافع ہیں ۔ انداز بیان ان لوگوں کے لئے جو دیہاتی زندگی کی ضروریات سے آگاہ ہیں نہایت دلچسپ وجاذب ہے ۔ (آیت) ” ویخلق ما لا تعلمون “۔ میں ان بیشمار ایجادات نو کی جانب اشارہ ہے جو باربرداری اور سواری کے کام آسکتی ہیں اور جن سے بجائے حیوانات کام لیا جاسکتا ہے ۔ نزول قرآن کے وقت یہی گھوڑا ، گدھا ، اور اونٹ وغیرہ موجود تھے ، اس لئے ان کے منافع گنائے ہیں مگر چونکہ یہ کتاب تمام زمانوں کے لئے راہنما ہے ، اس لئے ارشاد فرمایا ، کچھ ایسے برتی اور غیر برتی حیوانات بھی ہیں ۔ جن کو اس وقت تم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8 ۔ اور گھوڑے اور گدھے اور خچر بھی اسی نے تمہاری سواری اور زیبائش کے لئے پیدا کئے اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا اور بناتا ہے جن و تم جانتے بھی نہیں ۔ یعنی تمہارے فائدے کے لئے اسی نے گھوڑے گدھے اور خچر بھی پیدا کئے کہ ان پر سوار بھی ہو اور تمہاری رونق وزینت کا بھی یہ جانور سبب ہیں اور انہی پر کیا موقوف ہے وہ تمہارے نفع کیلئے ایسی ایسی چیزیں بھی بناتا اور پیدا کرتا رہتا ہے جن کو تم جانتے تک بھی نہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ ان آیات میں جمال اور زینت کا جو از معلوم ہوتا ہے، اور اس میں اور تکبر و تفاخر میں فرق یہ ہے کہ جمال وزینت تو اپنا دل خوش کرنے کے لئے یا اظہار نعمت الیہی کے لئے ہوتا ہے اور دل میں اپنے کو نہ اس نعمت کا مستحق سمجھتا ہے اور نہ دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، بلکہ منعم حقیقی کی طرف اس کا منسوب ہونا اس کے پیش نظر رہتا ہے، اور جس میں دعوی استحقاق اور تحقیر اور اپنے اوپر نظر اور دوسروں کی نظر میں علو شان کا قصد ہو وہ تکبر اور حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : یہ گھوڑے ‘ خچر اور گدھے تمہارے لئے کیسے پیدا کردیئے گئے اور کیوں ؟ : 11۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں تمہاری باربرداری کا خیال رکھا وہاں تمہاری سواری کا بھی انتظام فرما دیا ، جب تم ان پر سوار ہوتے ہو تو وہ اپنی سبک رفتاری سے ہوا سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور قلیل عرصہ ہی میں تمہیں اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر قطع مسافت میں سہولت کے ساتھ ساتھ اس میں زینت کا پہلو بھی قابل لحاظ ہے ، ایک خوبصورت نقرے گھوڑے پر انسان سوار ہو تو وہ کتنا سجیلا معلوم ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس وقت برتری کے جس جذبہ سے سرشار پاتا ہے وہ تو بیان سے باہر ہے ، اس جگہ گھوڑے ‘ خچر اور گدھے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Since mention was made of 'an am' that is, camels and oxen, it was appropriate that mention be made of quadrupeds which have been created exclusively for purposes of draft and ride. One does not benefit by their milk or meat because, according to religious law, they are the cause of moral diseases, hence prohibited. It was said: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ‌ لِتَرْ‌كَبُوهَا وَزِينَةً 'And (He created) horses, mules and donkeys so that you may ride on them (which includes loading as a corollary) and (they were also created so that) they may look good - 8.' The word: زِینَۃُ (zinah)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8. That is, there are many agencies which are working for the good of man but he is quite unaware of such servants and the services rendered by them.

Read the full tafseer →