An-Nahl 16:7

An-Nahl · from ayah 7

16:7

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ؕ— اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟ۙوَتَحۡمِلُ اَثۡقَالَـكُمۡ اِلٰى بَلَدٍ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا بٰلِغِيۡهِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ‌ؕ اِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌۙ‏

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they carry your loads to a land you could not have reached except with difficulty to yourselves. Indeed, your Lord is Kind and Merciful.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:7

وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم بغیر آدھی جان کیے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ تمہارے بوجھ لاد کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان جوکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے تمہارا پروردگار بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہوکر، بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ (جانور) تمہارے بوجھ (بھی) ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر جانکاہ مشقت کے نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا رب نہایت شفقت والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تمہارے بوجھ اس شہر تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جس میں تم کبھی پہنچنے والے نہ تھے، مگر جانوں کی مشقت کے ساتھ، بیشک تمہارا رب یقینا بہت نرمی کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہ جانور تمہارے بوجھ ایسے شہر تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر پہنچ نہیں سکتے تھے بلاشبہ تمہارا پروردگار بڑا شفیق اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ تمہارے بوجھ ایسی جگہوں تک پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے تھے، بیشک تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارے قسما قسم کے بوجھ بھی اٹھا کر دور دراز کے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں، جہاں تم اپنی جانوں کو سخت مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے، واقعی تمہارا رب بڑا ہی شفقت والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ تمہارے بوجھ بھی ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر نفس کی سخت مشقت کے پہنچ نہیں سکتے۔ تمہارا پروردگار بیشک بڑا شفقت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں ایسی بستیوں کی طرف جن تک تم نہیں پہنچنے والے ہوتے مگر جان توڑ کر یقیناً تمہارا رب شفقت فرمانے والا مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور دور دراز شہر میں جہاں تم بغیر انتہائی مشقت کے جا نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and they carry your loads to many a place which you would be unable to reach without much hardship. Surely your Lord is Intensely Loving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they carry your loads to a city where you were not able to reach without putting yourselves to arduous labor. Surely, your Lord is Very-Kind, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

And they carry your loads to a city where you were not able to reach without putting yourselves to arduous labor. Surely, your Lord is Very-Kind, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they carry your loads to a land that you could not reach yourselves except with great trouble. Truly, your Lord is full of kindness, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they bear your loads for you unto a land ye could not reach save with great trouble to yourselves. Lo! your Lord is Full of Pity, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they carry your loads to a land you could not have reached except with difficulty to yourselves. Indeed, your Lord is Kind and Merciful.

— Saheeh International

They carry your heavy loads to lands which you would not have been able to reach without great difficulty. Your Lord is certainly Compassionate and All-Merciful.

— Muhammad Sarwar

And they carry your heavy loads to regions which you could not reach but with distress of the souls; most surely your Lord is Compassionate, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And they bear Your loads to a city Which ye could not reach except with travail of souls; verily your Lord is Kind, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

And they carry your heavy loads to lands that ye could not (otherwise) reach except with souls distressed: for your Lord is indeed Most Kind, Most Merciful,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–7

سورة النَّحْل 7 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور غالبا دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے نطفے کی حقیر سی بوند سے وہ انسان پیدا کیا جو بحث و استدلال کی قابلیت رکھتا ہے اور اپنے مدعا کے لیے حجتیں پیش کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس انسان کو خدا نے نطفے جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا ہے، اس کی خودی کا طغیان تو دیکھو کہ وہ خود خدا ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آیا ہے۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت اسی استدلال کی ایک کڑی ہے جو آگے مسلسل کئی آیتوں میں پیش کیا گیا ہے (جس کی تشریح ہم اس سلسلہ بیان کے آخر میں کریں گے)۔ اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے سے پہلے ذرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–7

انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔ دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ۭاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ اشارہ اونٹوں کی طرف ہے جن پر عرب میں باربرداری اور سفر کا تمام تر انحصار تھا۔ یہ جانور طویل سے طویل اور پر مشقت سے پر مشقت صفر کے لیے، خاص طور پر صحرائی اور گرم ملکوں میں، خدائی سفینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وصف میں کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے انسان کو حاصل ہونا چہایے کہ وہ یہ مانے کہ ان کا بخشنے ولا نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور پھر اس سے جو بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 تریحون جب شام کو چرا کر گھر لاؤ، جب صبح چرانے کے لئے لے جاؤ، ان دونوں وقتوں میں یہ لوگوں کی نظروں میں آتے ہیں، جس سے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان دونوں اوقات کے علاوہ وہ نظروں سے اوجھل رہتے یا باڑوں میں بند رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

3: یعنی ان کی کھالوں سے ایسے لباس بنائے جاتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جہاں تم جریدہ بدون سامان و اسباب کے بڑی مشکل سے پہنچ سکتے تھے یہ جانور تم کو اور تمہارے بھاری بھاری سامانوں کو کھینچ کرلے جاتے ہیں۔ یہ خدا کی کتنی بڑی شفقت اور مہربانی ہے کہ ان حیوانات کو تمہاری خدمت میں لگا دیا اور ان سے کام لینے کی اجازت دی اور بڑی سخت اور مشکل مہمات ان جانوروں کے ذریعہ سے آسان کردیں۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ 71؀ وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ 72؀) 36 ۔ یس :72-71)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ان میں ایسے جانور بھی ہیں جو سازو سامان کے نقل و حمل میں تمہارے کام آتے ہیں اور ان کے بغیر تم یہ بھاری چیزیں اٹھا کر دور دراز علاقوں تک نہیں پہنچا سکتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6۔ الف مویشیوں سے شان وشوکت کا اظہار :۔ اہل عرب کا اکثر پیشہ ریوڑ پالنا ہوتا تھا اور یہ ریوڑ عموماً بھیڑ بکریوں اور اونٹوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ خچر، گدھے اور گھوڑے بھی ہوتے تھے مگر نسبتاً کم ہوتے تھے۔ قریش مکہ تو تاجر پیشہ لوگ تھے اور ان کا مال و دولت نقدی درہم و دینار کی صورت میں ہوتا تھا۔ جبکہ عام قبائل عرب کے مالدار ہونے کی علامت یہی جانور تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ جانور ہوتے اتنا ہی وہ مالدار سمجھا جاتا تھا اور یہی جانور اسکی چلتی پھرتی دولت سمجھے جاتے تھے اسی میں اس کی شان و شوکت ہوتی تھی۔ شام کے وقت ایسے گلوں اور ریوڑوں کے مالک ان کی انتظار میں اپنی آبادیوں یا گاؤں سے باہر نکل کر بیٹھتے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ یعنی دور دراز مقامات کی مسافت طے کرنے اور سامان منتقل کرنے میں کیسی مدد اور سہولت، اونٹ، گھوڑے، بیل وغیرہ سے میسر آجاتی ہے۔ 10۔ (چنانچہ تمہارے نفع اور آسائش کے لیے کیسے کیسے سامان اس نے بہم پہنچا دیئے ! )

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و تحمل اثقالکم الی بلد لم تکونوا بلغیہ الا بشق الا نفس اور (بجائے اس کے کہ سفر میں تم اپنے سامان کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلو) یہ جانور تمہارے سامان کے بوجھ اپنے اوپر لاد کر ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں کہ بغیر سخت تکلیف اٹھانے کے تم وہاں تک خود پہنچ بھی نہیں سکتے ہو (بوجھ اٹھانے کا تو ذکر ہی کیا ہے) ۔ شِق اور شَق ہم معنی ہیں ‘ جیسے رطل اور رطل۔ ان ربکم لرء وف رحیم حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا مہربان اور رحمت والا ہے کہ اس نے ان جانوروں کو تمہارے فائدے کیلئے پیدا کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 6۔ 7) اور اسی نے چوپایوں یعنی اونٹوں کو بنایا کہ اس کی کھال کا پوستین اور بالوں کا کمبل بنتا ہے سواری اور دودھ وغیرہ کے علاوہ اور بھی منافع ہیں اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے، جب کہ ان کو چرا کر شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ صبح کو ان کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے سامان اور توشوں کو لاد کر مکہ تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان کو محنت میں ڈالے بغیر خود بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، واقعی تمہارا پروردگار ایمان والوں پر بڑا شفیق اور تم سے عذاب کے موخر کرنے میں رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ۔۔ : یہ بات قرآن میں کئی جگہ آئی ہے، مثلاً سورة مومنون (21، 22) ، سورة مومن (79 تا 81) ، سورة یس (71 تا 73) اور سورة زخرف (12 تا 14)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 7 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : و تحمل اثقالکم، الأثقال سے مراد لوگوں کے بوجھ ہیں مثلاً سازو سامان، اور اناج وغیرہ۔ اور یہی وہ ہے جسے اٹھانا انسان پر بھاری اور بوجھل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ان کے بدن ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : واخرجت الارض اثقالھا۔ (الزلزلہ) (اور باہر پھینک دے گی زمین اپنے بوجھوں (یعنی دفینوں) کو) اور عکرمہ کے قول کے مطابق البلد سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ عموم پر محمول ہے ہر اس شہر کے بارے میں جس کے لئے خشکی کا راستہ ہے۔ اور شق الانفس سے مراد ان کی مشقت اور ان کی غایۃ جھد ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–8

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔ 3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔ 4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَحْمِلُ : اور وہ اٹھاتے ہیں ] [ اَثْقَالَكُمْ : تمہارے بوجھ ] [ اِلٰى بَلَدٍ : کسی شہر کی طرف ] [ لَمْ تَكُوْنُوْا : تم لوگ نہیں تھے ] [ بٰلِغِيْهِ : پہنچنے والے اس تک ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِشِقِّ الْانفُسِ ۭ: جانوں کی مشقت سے ] [ان : بیشک ] [ رَبَّكُمْ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَرَءُوْفٌ: یقینا بہت نرمی کرنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں ان سے متعدد قسم کے منافع متعلق ہیں اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعام ہیں، طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں جن سے انسان منتفع اور متمتع ہوتے ہیں، ان چیزوں میں حیوانات یعنی چوپائے بھی ہیں ان چوپایوں سے کئی طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، آیات بالا میں جن منافع کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ان میں سے ایک تو سردی کا انتظام ہے یعنی ان کے جسم سے بال اور اون کاٹتے ہیں پھر ان سے کپڑے بناتے ہیں، کمبل وغیرہ تیار کرتے ہیں، کھالوں کے بھی کپڑے بنالیتے ہیں اور ان سے بستر بھی تیار کرتے ہیں نیز کھالوں سے خیمے بھی تیار ہوتے ہیں جس کا اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں تذکرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

9:۔ مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ چوپائے تمہاری زینت اور شوکت و عزت کا نشان ہیں۔ جب اونٹوں کے گلے بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ اور گائے بھینسوں کے انبوہ صبح کو چرنے کے لیے باہر میدان کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں تو اس سے تمہاری دنیوی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ ” حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ “ اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ ” وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ “ ان چوپایوں میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے تم باربرداری کا کام لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے یہ تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں۔ ” وَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ الخ “ گھوڑے، خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–9

(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ۭاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ۝ۙ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

والانعام خلقہا الیٰ قولہ ان ربکم لرؤف رحیم یہ تیسری قسم ہے۔ اس میں انعام کے پیدا کرنے سے اور ان سے انسان کے لیے فوائد حاصل ہونے سے استدلال کرتا ہے۔ الانعام بھیڑ بکری، اونٹ گائے کو کہتے ہیں۔ اول تو ان کی پیدائش میں غور کیجئے کہ ہر ایک کو اس کے مناسب حال پر بنایا۔ اگر اونٹ کی لمبی گردن نہ ہوتی تو بوجھ اٹھا کر اس سے اٹھا نہ جاتا۔ علی ہذا القیاس پھر جو ان سے انسان کو منافع اور فائدے پہنچتے ہیں ان میں فکر کیجئے۔ پہلا ضروری فائدہ تو ان کے بالوں سے وہ کپڑے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے سردی دفع ہوتی ہے۔ اونٹ اور بھیڑ بکری کی پشم اس میں بہت مستعمل ہوتی ہے۔ دوم اور بہت سے فائدے ہیں ومنافع۔ سوم بعض ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَتَحْمِلُ اَثْقَا لَکُمْ اِلٰی بَلَدٍلَّمْ تَکُوْنُوْا بٰلِغِیْہِ اِلاَّ بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ط اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 7) (اور وہ تمہارے بوجھ ایسے جگہوں پر پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے، بیشک تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔ ) اپنے فیضانِ ربوبیت کو مزید نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جانور تمہارے جلال و جمال کے اظہار کا ذریعہ بنائے اسی طرح اس کا یہ بھی فضل و کرم ہے کہ اس نے ایسے جانور بھی پیدا فرمائے ہیں جو تمہارے لیے بار برداری کا کام کرتے ہیں۔ تمہاری سواری کے لیے اور تمہاری باربرداری کے لیے اونٹ جیسا جانور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : حلال چوپایوں کے ذکر کے بعد بار برداری کے کام آنے والے چوپایوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ کرم فرمائی ہے کہ اس نے حلال چوپاؤں اور بار برداری کے کام آنے والے چوپاؤں کے درمیان حلال و حرام کے ذریعے فرق کردیا ہے۔ حلال چوپایوں میں بھیڑ اور بکریوں کا گوشت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اور ان کی نسل دنیا کے تمام ممالک میں حسب ضرورت پائی جاتی ہے۔ ان کی افزائش اور پیدائش کا سلسلہ دوسرے چوپایوں کے مقابلے میں زود افزائش ہے۔ بھیڑچھ سے سات مہینے کے دوران ایک سے لے کر تین تک بچے جنم دیتی ہے۔ بکری پانچ سے چھ مہینے کی مدت میں عام طور پر دو سے چار بچے پیدا کرتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بار برداری کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ (وہ تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں) اثقال کا معنی بوجھ ہے۔ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوْنُوْا بٰلِغِیْہِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ (ایسے شہر کی طرف کہ جس میں تم بغیر تکلیف اٹھائے نہ پہنچ سکتے تھے) ۔ قراءت : شَقِّ کی شین پر ابو جعفر نے فتحہ شق پڑھا ہے یہ دونوں لغات ہیں ہر دو کا معنی مشقت ہے بعض کہتے ہیں کہ شق مصدر ہے۔ شق الامر علیہ شقا اور اس کی حقیقت بھی الشق کی طرف لوٹنے والی ہے جس کا معنی پھٹنا اور الگ ہونا ہے۔ باقی الشق کا معنی نصف آتا ہے۔ گویا مشقت کی وجہ سے اس کی نصف طاقت ختم ہوگئی۔ اب آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اونٹوں کو پیدانہ کیا جاتاتو تم اپنے آپ انتہائی تکلیف و مشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(7)” و تحمل القالکم “ سامان کو لاد کر ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف لے جاتے ہیں۔” الی بلد “ دوسرے شہر لے جاتے ہیں۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ بلد سے مراد مکہ ہے۔ ” لم تکونو ا بالغیہ الابشق الانفس “ بوجھ اٹھانے کی مشقت اور کوشش۔ شق کہتے ہیں کہ کسی چیز کے دو حصے کردینا۔ تم ان تک نہیں پہنچ سکتے مگر نقصان کے ساتھ، جسم کی تکلیف کے ذریعے یا سامان کے نقصان کے ذریعے۔ ابو جعفر کا قول ہے کہ ” بشق “ شین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس میں دو لغتیں ہیں ۔ مثل رطل اور رطل کے ۔ ” ان ربکم لرئوف رحیم “ یہ منافع تمہارے لیے پیدا کیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5۔ 7۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا حال پہلے بیان کر کے اب چوپائیوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے بکریاں جس کی تفسیر سورت انعام میں گزر چکی ہے یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوشین بنتا ہے بعض جانوروں کے روئیں بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے سردی سے لوگ بچتے ہیں بعض جانوروں کے دودھ لوگ پیتے ہیں ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو وہ کھا کر شکم سیر کرتے ہیں ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–9

آیت 3 اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–13

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

11۔ جانوروں میں ذوق جمال کی تسکین کا سامان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انہی میں تمہارے لئے اے لوگو ! تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی ہے۔ خاص کر اس وقت جب کہ تم ان کو چرا کر واپس لاتے ہو کہ اس وقت وہ اپنی بھری ہوئی کو کھوں سے قطار اندرقطار آتے ہوئے تمہارے لئے ایک خاص خوش کن اور دلربا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اس نے تمہارے لئے ان جانوروں میں تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی مہیا فرما دیا مگر تم لوگ ہو کہ کبھی اس بارے میں سوچتے بھی نہیں ہو۔ حالانکہ اس میں تمہاری شان وشوکت اور دولت و عظمت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو چاپایوں اور مویشیوں کی دولت ہی وہ اصل دولت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–8

انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 1 یعنی ان جانوروں کے علاوہ جن کا ابھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ تمہارے فائدے کے لئے وہ چیزیں پیدا کرتا ہے اور کرتا رہے گا جن کی تمہیں خبر بھی نہیں ہے۔ اس میں قیامت تک جو سواریاں بنتی رہیں گی ان سب کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:7) لم تکونوا بلغیہ۔ جہاں تک تم نہیں پہنچ سکتے۔ بالغیہ مضاف مضاف الیہ۔ بلغی اصل میں بالعین تھا۔ ن جمع بسبب اضافت حذف ہوگیا۔ بلوغ مصدر۔ شق الانفس۔ مضاف مضاف الیہ۔ جانی مشقت ۔ جانی دشواری ۔ شق بمعنی مشقت جا نکاہی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

چوپایوں کا ذکر اس آیت میں چوپایوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے۔ بکریاں جس کی تفسیر سورة انعام (پارہ 8) میں گزر چکی ہے۔ یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں۔ تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوستین بنتا ہے۔ بعض جانوروں کے روئین بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں اور جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو۔ اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–7

[6] یعنی جن کی کھال اور اون میں۔ [7] یعنی کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی باربرداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے، بکس اور دوسری قسم کا چرمی سامان بنتا ہے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

(ف 2) ان آیات میں حیوانات کا ذکر ہے کہ کیونکر اللہ نے ان کو تمہارے لئے مفید بنایا ہے ، ان میں کس قدر تمہارے لئے منافع ہیں ۔ انداز بیان ان لوگوں کے لئے جو دیہاتی زندگی کی ضروریات سے آگاہ ہیں نہایت دلچسپ وجاذب ہے ۔ (آیت) ” ویخلق ما لا تعلمون “۔ میں ان بیشمار ایجادات نو کی جانب اشارہ ہے جو باربرداری اور سواری کے کام آسکتی ہیں اور جن سے بجائے حیوانات کام لیا جاسکتا ہے ۔ نزول قرآن کے وقت یہی گھوڑا ، گدھا ، اور اونٹ وغیرہ موجود تھے ، اس لئے ان کے منافع گنائے ہیں مگر چونکہ یہ کتاب تمام زمانوں کے لئے راہنما ہے ، اس لئے ارشاد فرمایا ، کچھ ایسے برتی اور غیر برتی حیوانات بھی ہیں ۔ جن کو اس وقت تم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

7 ۔ اور مزید برآں یہ چوپائے تمہارے بوجھ بھی ان شہروں اور ان مقامات تک اٹھا کرلے جاتے ہیں کہ جہاں تک تم بغیر مشقت اور جانکا ہی کے نہیں پہنچ سکتے چہ جائے کہ بوجھ اٹھا کر پہنچ سکوبلا شبہ تمہارا پروردگار یقینا بڑی شفقت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یہ چو پائے ہزاروں من کا بوجھ لئے گائوں درگائوں پھرتے ہیں ریتلے ملکوں میں جاتے ہیں پہاڑوں پر چڑھتے ہیں کیچڑ پانی میں لئے پھرتے ہیں تم ان مواقع پر اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے ۔ ہاں یہ چوپائے ہزاروں من بوجھ لیکر پہنچ جاتے ہیں اور تم کو بغیر بوجھ کے تنہا پہنچنا بھی دشواری سے خالی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے اللہ کی کتنی ہی تمہارے ساتھ شفقت ہے اور کتنا تم سے اس کو پیار ہے : 10۔ تم اپنے ان جانوروں پر غور کرتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان میں کیا کیا فوائد ومنافع رکھ دیئے ہیں اور تم ان کو کس طرح حاصل کر رہے ہو لیکن تمہارے ذہن میں کبھی یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوا کہ یہ ہمارے پروردگار کی رحمت اور شفقت ہی کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ انسانوں کے ساتھ بہت ہی شفقت کرنے والا بہت ہی پیار کرنے والا ہے ۔ کیا تم نے کبھی اپنی ان ضرورتوں کا اس کے پاس اظہار کیا تھا کہ اس نے تم کو سہولت دینے کے لئے ان جانوروں کو پیدا کیا ، ہرگز نہیں بلکہ وہ رب العالمین ان سارے جہانوں کی ضرورتوں سے خود بخود ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

After human beings, mentioned there was the creation of things which were made specially for their benefit. Since the first addressees of the Qur'an were Arabs and their economic life depended on domestic cattle like camels, cows and goats, therefore, these were taken up first: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا (As for the cattle, He created them - 5). Then, out of the benefits received by human beings from the cattle, two were particularly mentioned. (1) لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ (having warmth for you), that is, they use wool from them to make clothings which keep them warm during winters. (2) The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

7. This has two meanings and both are meant here. (1) Though Allah created man from an insignificant spermdrop, he is capable of arguing and giving reasons in support of his claim. (2) Man who has such an insignificant origin, has become so vain that he does not hesitate to dispute even with his Creator. If considered in its first sense, it is a chain in the series of arguments given in many succeeding verses to prove the truth of the message of the Prophet (peace be upon him). Please refer to (E.N. 15). If taken in the second sense, it is meant to warn man that he should not forget the…

Read the full tafseer →