An-Nahl 16:6

An-Nahl · from ayah 6

16:6

وَلَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ ۪۟وَلَكُمۡ فِيۡهَا جَمَالٌ حِيۡنَ تُرِيۡحُوۡنَ وَحِيۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And for you in them is [the enjoyment of] beauty when you bring them in [for the evening] and when you send them out [to pasture].

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:6

اُن میں تمہارے لیے جمال ہے جب کہ صبح تم انہیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جبکہ شام انہیں واپس لاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر ﻻؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تم انہیں شام کے وقت گھر واپس لاتے ہو، اور جب انہیں صبح کو چرانے لے جاتے ہو تو ان میں تمہارے لیے ایک خوشنما منظر بھی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان میں تمہارے لئے رونق (اور دل کشی بھی) ہے جب تم شام کو چراگاہ سے (واپس) لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لئے) لے جاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہارے لیے ان میں ایک جمال ہے، جب تم شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب صبح چرانے کو لے جاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز جب تم انھیں شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب صبح چرانے لے جاتے ہو تو اس میں تمہارے۔ لئے ٹھاٹھ بھی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے اندر تمہارے لیے ایک شان بھی ہے جب کہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارے لئے ان میں رونق بھی ہے (خاص کر اس وقت) جب کہ تم شام کے وقت انھیں چرا کر گھر واپس لاتے ہو، اور جب کہ تم (صبح کے وقت) ان کو چرانے کے لئے چھوڑتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کی وجہ سے تمہارے رونق بھی ہے جس کہ (ان کو) شام کے وقت (گھر) لاتے ہو اور جب کہ (انہیں) صبح کے وقت (چرنے) چھوڑدیتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہارے لیے ان میں بڑی شان و شوکت ہے جب تم شام کو انہیں چرا کر لاتے ہو اور جب (صبح کے وقت) چرانے کے لیے لے جاتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب شام کو انہیں چرا کر لاتے ہو اور جب صبح ان کو چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And you find beauty in them as you drive them to pasture in the morning and as you drive them back home in the evening;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in them there is a beautiful look for you when you drive them home in the evening and take them out to graze.

— Muhammad Taqi Usmani

and in them there is a beautiful look for you when you drive them home in the evening and take them out to graze.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there is beauty in them for you, when you bring them home in the evening, and as you lead them forth to pasture (in the morning).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And wherein is beauty for you, when ye bring them home, and when ye take them out to pasture.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And for you in them is [the enjoyment of] beauty when you bring them in [for the evening] and when you send them out [to pasture].

— Saheeh International

How beautiful you find them when you bring them home and when you drive them out to graze.

— Muhammad Sarwar

And there is beauty in them for you when you drive them back (to home), and when you send them forth (to pasture).

— Muhammad Habib Shakir

And for you there is beauty in them as ye drive them at eventide and as ye drive them out to pasture.

— Abdul Majid Daryabadi

And ye have a sense of pride and beauty in them as ye drive them home in the evening, and as ye lead them forth to pasture in the morning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–7

سورة النَّحْل 7 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور غالبا دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے نطفے کی حقیر سی بوند سے وہ انسان پیدا کیا جو بحث و استدلال کی قابلیت رکھتا ہے اور اپنے مدعا کے لیے حجتیں پیش کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس انسان کو خدا نے نطفے جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا ہے، اس کی خودی کا طغیان تو دیکھو کہ وہ خود خدا ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آیا ہے۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت اسی استدلال کی ایک کڑی ہے جو آگے مسلسل کئی آیتوں میں پیش کیا گیا ہے (جس کی تشریح ہم اس سلسلہ بیان کے آخر میں کریں گے)۔ اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے سے پہلے ذرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–7

انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔ دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ۔ " جمال " سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصلی چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تو وہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔ " اراحۃ " کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور " سرح " کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ارحۃ کو سرح پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 تریحون جب شام کو چرا کر گھر لاؤ، جب صبح چرانے کے لئے لے جاؤ، ان دونوں وقتوں میں یہ لوگوں کی نظروں میں آتے ہیں، جس سے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان دونوں اوقات کے علاوہ وہ نظروں سے اوجھل رہتے یا باڑوں میں بند رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

3: یعنی ان کی کھالوں سے ایسے لباس بنائے جاتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 جب ڈھور ڈنگر گھر میں بندھے کھڑے ہوں یا جنگل میں غائب ہوں اس وقت انعام الٰہی کا ایسا صاف مظاہرہ نہیں ہوتا۔ ہاں جب چرنے کے لیے گھر سے نکلتے یا شام کو جنگل سے شکم سیر ہو کر گھر کی طرف لوٹتے ہیں اس وقت ایک عجیب رونق اور چہل پہل ہوتی ہے۔ مالک خود بھی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی کہتے ہیں کہ خدا نے فلاں زمیندار کو کیسا دھن دولت دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ دیہاتی ماحول میں مویشیوں کی حیثیت بہت قیمتی سرمائے کی سی ہوتی ہے اسی لیے انہیں مال مویشی کہا جاتا ہے۔ یہ جانور جب صبح چرنے کے لیے جاتے ہیں یا شام کے وقت جنگل سے چر کر واپس آ رہے ہوتے ہیں تو ان کے مالکوں کے لیے یہ بڑا خوش کن منظر ہوتا ہے۔ جانوروں کا غلہ یا ریوڑ جتنا بڑا ہوگا اس کے مالک کی حیثیت اور شان و شوکت اسی قدر زیادہ سمجھی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6۔ الف مویشیوں سے شان وشوکت کا اظہار :۔ اہل عرب کا اکثر پیشہ ریوڑ پالنا ہوتا تھا اور یہ ریوڑ عموماً بھیڑ بکریوں اور اونٹوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ خچر، گدھے اور گھوڑے بھی ہوتے تھے مگر نسبتاً کم ہوتے تھے۔ قریش مکہ تو تاجر پیشہ لوگ تھے اور ان کا مال و دولت نقدی درہم و دینار کی صورت میں ہوتا تھا۔ جبکہ عام قبائل عرب کے مالدار ہونے کی علامت یہی جانور تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ جانور ہوتے اتنا ہی وہ مالدار سمجھا جاتا تھا اور یہی جانور اسکی چلتی پھرتی دولت سمجھے جاتے تھے اسی میں اس کی شان و شوکت ہوتی تھی۔ شام کے وقت ایسے گلوں اور ریوڑوں کے مالک ان کی انتظار میں اپنی آبادیوں یا گاؤں سے باہر نکل کر بیٹھتے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ محققین نے لکھا ہے کہ منافع ضروری کے بعدجمال کا ذکر لانا اس کی دلیل ہے کہ زینت، جمال وغیرہ مصالح زاید کا قصد بھی مضر نہیں، جبکہ مانع شرعی (مثلا فخر وتکبر) سے خالی ہو، اور کوئی امر مباح مقصود ہو، مثلا دفع مذلت یا حصول مسرت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون اور جب شام کو (جنگل سے جانوروں کو) واپس لاتے ہو اور (صبح کو) چرانے کیلئے لے کر جاتے ہو تو ان سے تمہاری ایک شان بنتی ہے۔ کیونکہ دونوں وقت گھر سے باہر صحن میں ان کے جمع ہونے سے ایک رونق پیدا ہوجاتی ہے۔ دیکھنے والوں کی نظروں میں تمہاری عزت اور ساکھ ظاہر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 6۔ 7) اور اسی نے چوپایوں یعنی اونٹوں کو بنایا کہ اس کی کھال کا پوستین اور بالوں کا کمبل بنتا ہے سواری اور دودھ وغیرہ کے علاوہ اور بھی منافع ہیں اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے، جب کہ ان کو چرا کر شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ صبح کو ان کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے سامان اور توشوں کو لاد کر مکہ تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان کو محنت میں ڈالے بغیر خود بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، واقعی تمہارا پروردگار ایمان والوں پر بڑا شفیق اور تم سے عذاب کے موخر کرنے میں رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ۔۔ : ”جَمَالٌ“ خوبصورتی، یہ ”کَرُمَ“ سے مصدر ہے۔ ”رَجُلٌ جَمِیْلٌ“ ”خوبصورت آدمی“۔ ”تُرِيْحُوْنَ“ یہ ”اِرَاحَۃٌ“ (افعال) سے مضارع ہے، شام کو لانا۔ ”تَسْرَحُوْنَ“ (ف) صبح چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔ تُرِيْحُوْنَ : شام کو گھر لانے کا منظر زیادہ خوبصورت ہوتا ہے، کیونکہ جانوروں کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں اور وہ تروتازہ اپنے مالک کی خوشی کا باعث ہوتے ہیں، اس لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ ایک جمال یہ بھی ہے کہ ان کی کثرت سے ان کے مالک کی دولت مندی کا اظہار ہوتا ہے اور دنیا میں دولت خود ایک جمال ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 6 الجمال وہ شے جس سے خوبصورتی اور زیب وزینت حاصل کی جائے۔ اور الجمال کا معنی حسن ہے۔ اور جمل الرجل (ضمہ کے ساتھ) جمالا فھو جمیل (آدمی حسین ہوا) ، اور المرأۃ جمیلۃ (عورت حسین ہے) اور جملاء بھی صفت آتی ہے۔ یہ کسائی سے منقول ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے : فھی جملاء کبدر طالع بذت الخلق جمیعا بالجمال اور ابو ذؤیب کا قول ہے : جمالک ایھا القلب القریح مراد یہ ہے : تو اپنے حسن و جمال اور اپنے حیاء کو لازم پکڑ اور برمی اور قبیح جزع فزع نہ کر۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : پس حسن و جمال صورت اور ترکیب اعضاء میں ہوتا ہے، اور اخلاق باطنہ میں ہوتا ہے، اور افعال میں ہوتا ہے، پس جہاں تک خلقت اور صورت کے حسن و…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–8

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔ 3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔ 4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَكُمْ : اور تمہارے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ جَمَالٌ: دلفریبی ہے ] [ حِيْنَ : جب ] [ تُرِيْحُوْنَ : شام کو واپس لاتے ہو ] [ وَحِيْنَ : اور جب ] [ تَسْرَحُوْنَ : چرنے کے لئے چھوڑتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں ان سے متعدد قسم کے منافع متعلق ہیں اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعام ہیں، طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں جن سے انسان منتفع اور متمتع ہوتے ہیں، ان چیزوں میں حیوانات یعنی چوپائے بھی ہیں ان چوپایوں سے کئی طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، آیات بالا میں جن منافع کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ان میں سے ایک تو سردی کا انتظام ہے یعنی ان کے جسم سے بال اور اون کاٹتے ہیں پھر ان سے کپڑے بناتے ہیں، کمبل وغیرہ تیار کرتے ہیں، کھالوں کے بھی کپڑے بنالیتے ہیں اور ان سے بستر بھی تیار کرتے ہیں نیز کھالوں سے خیمے بھی تیار ہوتے ہیں جس کا اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں تذکرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

9:۔ مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ چوپائے تمہاری زینت اور شوکت و عزت کا نشان ہیں۔ جب اونٹوں کے گلے بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ اور گائے بھینسوں کے انبوہ صبح کو چرنے کے لیے باہر میدان کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں تو اس سے تمہاری دنیوی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ ” حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ “ اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ ” وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ “ ان چوپایوں میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے تم باربرداری کا کام لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے یہ تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں۔ ” وَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ الخ “ گھوڑے، خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–9

(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ وَحِيْنَ تَسْرَحُوْنَ ۝۠ جمیل الجَمَال : الحسن الکثير، وذلک ضربان : أحدهما : جمال يخصّ الإنسان في نفسه أو بدنه أو فعله . والثاني : ما يوصل منه إلى غيره . وعلی هذا الوجه ما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ اللہ جمیل يحبّ الجمال» «2» تنبيها أنّه منه تفیض الخیرات الکثيرة، فيحبّ من يختص بذلک . وقال تعالی: وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ حِينَ تُرِيحُونَ [ النحل/ 6] ، ويقال : جَمِيلٌ وجَمَال علی التکثير . قال اللہ تعالی: فَصَبْرٌ جَمِيلٌ [يوسف/ 83] ( ج م ل ) الجمال کے معنی حسن کثیر کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) وہ خوبی جو خاص طور پر بدن یا نفس یا عمل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

والانعام خلقہا الیٰ قولہ ان ربکم لرؤف رحیم یہ تیسری قسم ہے۔ اس میں انعام کے پیدا کرنے سے اور ان سے انسان کے لیے فوائد حاصل ہونے سے استدلال کرتا ہے۔ الانعام بھیڑ بکری، اونٹ گائے کو کہتے ہیں۔ اول تو ان کی پیدائش میں غور کیجئے کہ ہر ایک کو اس کے مناسب حال پر بنایا۔ اگر اونٹ کی لمبی گردن نہ ہوتی تو بوجھ اٹھا کر اس سے اٹھا نہ جاتا۔ علی ہذا القیاس پھر جو ان سے انسان کو منافع اور فائدے پہنچتے ہیں ان میں فکر کیجئے۔ پہلا ضروری فائدہ تو ان کے بالوں سے وہ کپڑے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے سردی دفع ہوتی ہے۔ اونٹ اور بھیڑ بکری کی پشم اس میں بہت مستعمل ہوتی ہے۔ دوم اور بہت سے فائدے ہیں ومنافع۔ سوم بعض ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 6) (ان میں تمہارے لیے جمال ہے جبکہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو۔ ) اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں کا ذکر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے مختلف احساسات رکھے ہیں، کبھی اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ میرے پاس اس قدر طاقت کا سامان ہونا چاہیے کہ لوگ میری طاقت کے سامان کو دیکھ کر مجھ سے خوف کھائیں۔ اور کبھی اس کے نازک جذبات کو جنبش ہوتی ہے تو وہ اپنے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے کچھ چیزوں کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ سابقہ آیت کریمہ میں جہاں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار ہے وہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی تخلیق کے، چوپاؤں کی تخلیق کا بیان یعنی اللہ کے خالق ہونے کے مزید دلائل۔ انسان کو اس کی تخلیق کا احساس دلانے کے بعد ان چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ جن کے بغیر انسان کا جینا، رہنا سہنا اور اس کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا انتہائی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے نہ صرف انسان کو یہ نعمتیں عنایت فرمائیں بلکہ ان کو کلی طور پر انسان کے تابع فرمان کردیا۔ ان میں حلال قسم کے چوپائے ہیں۔ جن کے جسم کے بالوں اور اون سے آدمی سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتا اور استعمال کرتا ہے۔ بالخصوص عرب کا بیشتر علاقہ خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل تھا۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6: وَلَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ (اور تمہارے لئے ان میں خوبصورتی ہے جبکہ تم شام کو انہیں لوٹاتے ہو) ان کو چراگاہوں سے باڑوں کی طرف شام کو لوٹاتے ہو۔ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ (اور جبکہ تم ان کو چرنے چھوڑتے ہو) صبح کو چراگاہوں کی طرف چرنے کیلئے چھوڑتے ہو۔ اس میں ایک جمال و بہار ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور نعمت ذکر فرمایا جیسا کہ ان کے منافع کو بطور انعام ذکر فرمایا۔ کیونکہ مویشی رکھنے والوں کی اغراض میں سے یہ بھی ایک غرض ہے کیونکہ چرواہے جب شام کو انہیں واپس لاتے اور صبح کو چرانے لے جاتے ہیں تو صحن خانہ ان کے آنے جانے سے پر رونق ہوجاتے ہیں جس سے مویشیوں والے خوش ہوتے ہیں اور لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ولکم فیھاجمال “ اس سے مراد زینت ہے۔ ” حین تریحون “ جب تم اپنے چوپایوں کو شام کے وقت چرا کر لاتے ہو۔ ” وحین تسرحون “ جب تم صبح کے وقت اپنے گھروں سے چراگاہ کی طرف چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔ یہاں رواح کو مقدم کیا کیونکہ منافع راحت کے بعد لی جاتی ہیں اور مالک کو اپنا منافع لے کر اس کو سکون حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5۔ 7۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا حال پہلے بیان کر کے اب چوپائیوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے بکریاں جس کی تفسیر سورت انعام میں گزر چکی ہے یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوشین بنتا ہے بعض جانوروں کے روئیں بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے سردی سے لوگ بچتے ہیں بعض جانوروں کے دودھ لوگ پیتے ہیں ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو وہ کھا کر شکم سیر کرتے ہیں ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–9

آیت 3 اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–13

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

11۔ جانوروں میں ذوق جمال کی تسکین کا سامان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انہی میں تمہارے لئے اے لوگو ! تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی ہے۔ خاص کر اس وقت جب کہ تم ان کو چرا کر واپس لاتے ہو کہ اس وقت وہ اپنی بھری ہوئی کو کھوں سے قطار اندرقطار آتے ہوئے تمہارے لئے ایک خاص خوش کن اور دلربا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اس نے تمہارے لئے ان جانوروں میں تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی مہیا فرما دیا مگر تم لوگ ہو کہ کبھی اس بارے میں سوچتے بھی نہیں ہو۔ حالانکہ اس میں تمہاری شان وشوکت اور دولت و عظمت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو چاپایوں اور مویشیوں کی دولت ہی وہ اصل دولت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–8

انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:6) جمال ۔ رونق۔ جمال۔ زیب و زینت۔ وجاہت۔ تریحون۔ روح (مادہ) سے مشتق ہے۔ یہ مادہ کثیر المشتقات ہے۔ تریحون المراوحۃ سے ہے جس کے معنی دو کاموں کو باری باری کرنے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر رواح سے شام کو آرام کرنے کا وقت مراد لیا جاتا ہے۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے۔ ارحنا ابلنا۔ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا (یعنی باڑے میں لے آئے۔ مراح باڑہ) اراح یریح اراحۃ (افعال) اونٹوں کو بوقت شام باڑہ میں لانا۔ تریحون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شام کو چوپایوں کو باڑے میں واپس لے آتے ہو۔ تسرحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم صبح کے وقت چرانے لے جاتے ہو۔ سرح سے السرح ایک قسم کا پھل دار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے درحت الامل کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

چوپایوں کا ذکر اس آیت میں چوپایوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے۔ بکریاں جس کی تفسیر سورة انعام (پارہ 8) میں گزر چکی ہے۔ یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں۔ تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوستین بنتا ہے۔ بعض جانوروں کے روئین بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں اور جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو۔ اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–7

[6] یعنی جن کی کھال اور اون میں۔ [7] یعنی کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی باربرداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے، بکس اور دوسری قسم کا چرمی سامان بنتا ہے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

(ف 2) ان آیات میں حیوانات کا ذکر ہے کہ کیونکر اللہ نے ان کو تمہارے لئے مفید بنایا ہے ، ان میں کس قدر تمہارے لئے منافع ہیں ۔ انداز بیان ان لوگوں کے لئے جو دیہاتی زندگی کی ضروریات سے آگاہ ہیں نہایت دلچسپ وجاذب ہے ۔ (آیت) ” ویخلق ما لا تعلمون “۔ میں ان بیشمار ایجادات نو کی جانب اشارہ ہے جو باربرداری اور سواری کے کام آسکتی ہیں اور جن سے بجائے حیوانات کام لیا جاسکتا ہے ۔ نزول قرآن کے وقت یہی گھوڑا ، گدھا ، اور اونٹ وغیرہ موجود تھے ، اس لئے ان کے منافع گنائے ہیں مگر چونکہ یہ کتاب تمام زمانوں کے لئے راہنما ہے ، اس لئے ارشاد فرمایا ، کچھ ایسے برتی اور غیر برتی حیوانات بھی ہیں ۔ جن کو اس وقت تم نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6 ۔ اور مذکورہ باتوں کے علاوہ ان چوپایوں میں تمہاری رونق اور زینت بھی ہے جب شام کو چرا کر واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرانے کے لئے جنگل لے جاتے ہو ۔ یعنی جب چراگاہ میں جاتے اور شام کو واپس آتے ہیں تو رونق اور چہل پہل ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں میں عزت و آبرو بھی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

ف 5۔ مطلب یہ کہ ہماری تو یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے یہ ناشکری کہ خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگٹرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : انسان کے لئے ان جانوروں میں جمال ہے جب چرانے لے جاتا ہے : 8۔ انسان کی ” انا “ کی تسکین بھی بہت بڑی چیز ہے اور وہ بھی ان جانوروں میں اس کے لئے وافر رکھی گئی ہے کبھی آپ اس وقت دیکھیں جب یہ لوگ اپنی گائیوں ‘ بھینسوں اور اونٹوں کو چرانے کے لئے لے جا رہے ہوں اور ان کو چرا کر واپس لا رہے ہوں تو ان لوگوں کی کیا شان ہوتی ہے اور کیا خوشی ان کو محسوس ہوتی ہے ؟ جس کے بیان کرنے کے لئے الفاظ کا ملنا بھی نہایت مشکل ہے اور اس تصویر کشی کا منظر دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ان کو چرانے کے لئے لے جانے کا وقت صبح کا ہے اور چرا کر واپس لانے کا وقت شام کا ہے ، فرمایا کبھی تم دیکھو جب وہ صبح سویرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

After human beings, mentioned there was the creation of things which were made specially for their benefit. Since the first addressees of the Qur'an were Arabs and their economic life depended on domestic cattle like camels, cows and goats, therefore, these were taken up first: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا (As for the cattle, He created them - 5). Then, out of the benefits received by human beings from the cattle, two were particularly mentioned. (1) لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ (having warmth for you), that is, they use wool from them to make clothings which keep them warm during winters. (2) The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

7. This has two meanings and both are meant here. (1) Though Allah created man from an insignificant spermdrop, he is capable of arguing and giving reasons in support of his claim. (2) Man who has such an insignificant origin, has become so vain that he does not hesitate to dispute even with his Creator. If considered in its first sense, it is a chain in the series of arguments given in many succeeding verses to prove the truth of the message of the Prophet (peace be upon him). Please refer to (E.N. 15). If taken in the second sense, it is meant to warn man that he should not forget the…

Read the full tafseer →