An-Nahl 16:5

An-Nahl · from ayah 5

16:5

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ— لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ ۪۟وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا‌ ۚ لَـكُمۡ فِيۡهَا دِفۡ ٴٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the grazing livestock He has created for you; in them is warmth and [numerous] benefits, and from them you eat.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:5

اس نے جانور پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی نے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور چوپائے اسی نے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ کا سامان ہے، اور اس کے علاوہ بہت سے فائدے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور چوپائے پیدا کیے ان میں تمہارے لیے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُسی نے تمہارے لئے چوپائے پیدا فرمائے، ان میں تمہارے لئے گرم لباس ہے اور (دوسرے) فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور چوپائے، اس نے انھیں پیدا کیا، تمہارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان اور بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز چوپایوں کو (بھی) اس نے پیدا کیا۔ جن میں سے بعض (کی اون سے گرم کپڑے بنا کر) تم سردی سے بچتے ہو نیز اور بھی کئی فائدے اٹھاتے ہو اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور چوپائے بھی ان ے ت تمہارے لیے پیدا کیے جن کے اندر تمہارے لیے جڑاول بھی ہے اور دوسری منفعتیں بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چوپایوں کو بھی اسی نے پیدا فرمایا تمہارے (طرح طرح کے فائدوں کے) لئے جن میں تمہارے لئے سردی سے بچاؤ کی پوشاک بھی ہے، اور دوسرے طرح طرح کے فائدے بھی، اور انھیں میں سے تم لوگ کھاتے بھی ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور چوپائے بھی اسی نے بنائے ان میں تمہارے لئے گرم لباس بھی ہے اور (اور بھی) فائدے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چوپایوں کو بھی اس نے پیدا کیا ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان اور کئی دوسرے فائدے بھی ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور چار پایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا ان میں تمہارے لیے گرم کپڑے اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He created the cattle. They are a source of clothing and food and also a variety of other benefits for you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has created cattle in which there is warmth and other benefits for you; and from them you have food;

— Muhammad Taqi Usmani

He has created cattle in which there is warmth and other benefits for you; and from them you have food;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the cattle, He has created them for you; in them there is warmth (warm clothing), and numerous benefits, and you eat from them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the cattle hath He created, whence ye have warm clothing and uses, and whereof ye eat;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the grazing livestock He has created for you; in them is warmth and [numerous] benefits, and from them you eat.

— Saheeh International

He created cattle which provide you with clothes, food, and other benefits.

— Muhammad Sarwar

And He created the cattle for you; you have in them warm clothing and (many) advantages, and of them do you eat.

— Muhammad Habib Shakir

And the cattle! He hath created them. For you in them there is warmth and other profits and of them ye eat.

— Abdul Majid Daryabadi

And cattle He has created for you (men): from them ye derive warmth, and numerous benefits, and of their (meat) ye eat.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–7

سورة النَّحْل 7 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور غالبا دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے نطفے کی حقیر سی بوند سے وہ انسان پیدا کیا جو بحث و استدلال کی قابلیت رکھتا ہے اور اپنے مدعا کے لیے حجتیں پیش کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس انسان کو خدا نے نطفے جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا ہے، اس کی خودی کا طغیان تو دیکھو کہ وہ خود خدا ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آیا ہے۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت اسی استدلال کی ایک کڑی ہے جو آگے مسلسل کئی آیتوں میں پیش کیا گیا ہے (جس کی تشریح ہم اس سلسلہ بیان کے آخر میں کریں گے)۔ اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے سے پہلے ذرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–7

انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔ دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۔ دفء چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ کو کہتے ہیں جن سے بنے ہوئے لباس سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آایت الٰہی کی طرف اشارہ : اب اس آیت اور آگے کی آیات میں مخاطب گروہ کے گردوپیش کی چیزوں اور ان کے گوناگوں فوائد و منافع کا حوالہ دے کر اس کو توجہ دلائی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز شہادت دے رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت ہی کریم و حکیم اور نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں تو تمہیں ساری خدا سے ملی ہیں لیکن تم عبادت دوسروں کی کرتے ہو اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں دیکھتے ہو اس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 اسی احسان کے ساتھ دوسرے احسان کا ذکر فرمایا کہ چوپائے (اونٹ، گائے اور بکریاں) بھی اسی نے پیدا کئے، جن کے بالوں اور اون سے تم گرم کپڑے تیار کر کے گرمی حاصل کرتے ہو۔ اسی طرح ان سے دیگر منافع حاصل کرتے ہو، مثلاً ان سے دودھ حاصل کرتے ہو، ان پر سواری کرتے ہو اور سامان لادتے ہو، ان کے ذریعے ہل چلاتے اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

3: یعنی ان کی کھالوں سے ایسے لباس بنائے جاتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

آیت نمبر 5 تا 8 جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری تمہارے لیے پیدا کئے۔ ان میں سے بعض کے بال یا اون وغیرہ سے کمبل د سے، ڈیرے، خیمے اور سردی سے بچنے کے لیے مختلف قسم کے لباس تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کا دودھ پیا جاتا ہے، کسی کو ہل میں چلایا جاتا ہے۔ گھی مکھن وغیرہ کی ساری افراط ان ہی جانوروں کی بدولت ہے۔ ان کے چمڑے سے کیسے کیسے عمدہ اور بیش قیمت سامان تیار کیے جاتے ہیں۔ جن جانوروں کا گوشت کھانے میں کوئی معتدبہ بدنی یا اخلاقی مضرت نہیں ہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، کتنے غریبوں کی شکم پروری ان سے ہوتی ہے اور جو دوسری غذائیں ہم کھاتے ہیں ان کی تیاری میں بھی ان حیونات کو کس قدر دخل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ بعض جانوروں کی اون سے تم لوگ لباس بنتے ہو جو سردی کے موسم میں تمہیں گرمی پہنچاتا ہے بعض جانوروں کے بالوں سے بہت سی دوسری چیزیں بناتے ہو۔ اسی طرح یہ جانور اور بھی بہت سی صورتوں میں تمہارے لیے مفید اور مددگار ہوتے ہیں حتیٰ کہ تمہاری خوراک کی بیشتر ضروریات بھی انہی سے پوری ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

6 ? صیم مبین سے مراد ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان جو ایک ننھی سی پانی کی بوند سے پیدا ہوا ہے نفخہ روح خداوندی کی بدولت وہ بحث و استدلال کا ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ اس مطلب میں قدرت خداوندی کا اظہار مقصود ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات کی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ ایک حقیر سی پانی کی بوند سے پیدا کیا گیا ہے پھر جب اس میں کچھ عقل آتی ہے تو حق کے مقابلہ میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا اور اس مطلب سے مقصود انسان کی سرکشی کا اظہار ہے اور اسی مطلب کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ مطلب یہ ہوا کہ چوپایوں میں کوئی شان ربوبیت والوہیت اصلا نہیں۔ سب کے سب اللہ کے مخلوق ومربوب ہیں، انسان ہی کے نفع و خدمت کے لیے، نہ کہ الٹے انسان کے مخدوم اوردیوتا بننے کے قابل۔ یہ تردید ہورہی ہے ان مشرک و جاہل قوموں کی جنہوں نے گائے اور بیل اور بھینس وغیرہ کی پرستش کی ہے۔ (آیت) ” دفء “۔ لفظی معنی سرمائی پوشش کے ہیں۔ الدفیء غلاف البرد (راغب) اس عموم میں دوشالے، شال، پوستین، دھ سے، خیمے، ڈیرے وغیرہ سب آگئے۔ آیت) ” ومنافع “۔ چناچہ کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام میں آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی بار برداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے اور بکس اور دوسرے قسم کے چرمی سامان بنتا ہے۔ وقس علی ہذا فقہاء نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع اور اسی نے چوپایوں کو پیدا کیا ‘ ان میں تمہارے جاڑے کا بھی سامان ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ اَلْاَنْعَامَ سے مراد ہیں : اونٹ ‘ گائے ‘ بھینس ‘ بکری ‘ بھیڑ وغیرہ۔ لَکُمْ تمہارے فائدے کیلئے جس کی تفصیل فِیْھَا دِفْءٌ الخ میں بیان کی ہے۔ گویا لَکُمْ میں اجمال منفعت ہے اور اس کے بعد تفصیل کی گئی ہے۔ دِفًأٌ سردی کی شدت کا دور ہوجانا (قاموس) یعنی جانوروں کے بالوں اور اون سے تم سردی کی سختی دور کرتے ہو ‘ اونی لباس اور کمبل وغیرہ استعمال کرتے ہو۔ مَنَافِعُ سے دوسرے فائدے مراد ہیں۔ افزائش نسل ‘ دودھ ‘ سواری ‘ باربرداری ‘ کھیتی باڑی ‘ خریدو فروخت وغیرہ۔ ومنھا تاکلون…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 6۔ 7) اور اسی نے چوپایوں یعنی اونٹوں کو بنایا کہ اس کی کھال کا پوستین اور بالوں کا کمبل بنتا ہے سواری اور دودھ وغیرہ کے علاوہ اور بھی منافع ہیں اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے، جب کہ ان کو چرا کر شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ صبح کو ان کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے سامان اور توشوں کو لاد کر مکہ تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان کو محنت میں ڈالے بغیر خود بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، واقعی تمہارا پروردگار ایمان والوں پر بڑا شفیق اور تم سے عذاب کے موخر کرنے میں رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ۔۔ : ”الْاَنْعَامَ“ ”نَعَمٌ“ (ن اور ع کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکریاں۔ ”دِفْءٌ“ گرمی، یہ سردی سے ٹھٹھرنے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے، ”مَا یُدْفَأُ بِہٖ“ جس کے ساتھ گرمی حاصل کی جائے، جیسا کہ ”مِلْأٌ“ جس کے ساتھ کسی چیز کو بھرا جائے۔ چوپاؤں کا ایک خاص فائدہ ان کی اون اور بالوں سے گرمی مہیا کرنے والا لباس اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلے ذکر فرما کر عام فوائد کا ذکر بعد میں فرمایا۔ ”مَنَافِع“ اور بہت سے فائدے ہیں، مثلاً سواری کرتے ہو، ہل چلاتے ہو، پانی کھینچتے ہو، ان کا گوبر جلاتے ہو، کھیتوں میں بطور کھاد ڈالتے ہو، انھیں بیچ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 5 اس میں تین مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : والانعام خلقھا، لکم جب اللہ تعالیٰ نے انسان کا ذکر کیا تو پھر اس کا ذکر کیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرمایا اور الانعام سے مراد اونٹ، گائیں اور بکریاں ہیں۔ اور نعم اور انعام کے الفاظ اکثر اونٹوں کے لئے بولے جاتے ہیں، اور یہ مجموعہ کے لئے بولے جاتے ہیں اکیلئے بکریوں کے لئے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ حضرت حسان نے کہا ہے : عفت ذات الأصابع فالجواء إلی عذراء منزلھا خلاء دیار من بنی الحسح اس قفر تعفیھا الروامس والسماء وکانت لایزال بھا أنیس خلال مروجھا نعم وشاء پس اس میں نعم سے مراد صرف اونٹ ہیں۔ اور جوہری نے کہا ہے : النعم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–8

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔ 3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔ 4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالْانعام : اور (اس نے پیدا کیا) چوپایوں کو ] [ خَلَقَهَا ۚ: اس نے پیدا کیا ان کو ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ دِفْءٌ: سردی سے بچنے (گرم رہنے) کا سامان ہے ] [ وَّمَنَافِعُ : اور کچھ (دوسرے) منافع ہیں ] [ وَمِنْهَا : اور ان میں سے ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم لوگ کھاتے ہو ] دفء [دَفْئًا : (ک) گرمی پانا۔ گرمی محسوس کرنا۔] [ دِفْئٌ گرمی حاصل کرنے یعنی سردی سے بچنے کا سامان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 ] نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 5 ۔ میں چوپایوں کا ذکر کے ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا قرار دیا۔ پھر ان سے الگ کر کے آیت نمبر۔ 8 میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی تخلیق کا ذکر کیا۔ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

چوپائے اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں ان سے متعدد قسم کے منافع متعلق ہیں اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعام ہیں، طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں جن سے انسان منتفع اور متمتع ہوتے ہیں، ان چیزوں میں حیوانات یعنی چوپائے بھی ہیں ان چوپایوں سے کئی طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، آیات بالا میں جن منافع کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ان میں سے ایک تو سردی کا انتظام ہے یعنی ان کے جسم سے بال اور اون کاٹتے ہیں پھر ان سے کپڑے بناتے ہیں، کمبل وغیرہ تیار کرتے ہیں، کھالوں کے بھی کپڑے بنالیتے ہیں اور ان سے بستر بھی تیار کرتے ہیں نیز کھالوں سے خیمے بھی تیار ہوتے ہیں جس کا اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں تذکرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ یہ چوپائے بھی اللہ ہی نے پیدا فرمائے جن کے بالوں سے تم گرم ملبوسات تیار کرتے ہو ان کے چمڑے اور دودھ سے فائدہ اٹھاتے ہو اور ان کا گوشت کھاتے ہو۔ چوپایوں کی پیدائش ایک طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے استحقاق عبادت میں وحدہ لا شریک ہونے پر روشن برہان ہے۔ جب متصرف و قادر بھی وہی ہے اور منعم و محسن بھی وہی ہے تو شکر بھی اسی کا لازم ہے لہذا ہر قسم کی عبادت کا مستحق بھی وہی ہے اور کارساز بھی وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–9

(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ ۝۠ دفیء الدِّفْء : خلاف البرد، قال تعالی: لَكُمْ فِيها دِفْءٌ وَمَنافِعُ [ النحل/ 5] ، وهو لما يدفئ، ورجل دفآن، وامرأة دفأى، وبیت دفیء . ( دء ) الدف ۔ گرمی حرارت یہ برد سردی کی ضد ہے اور آیت کریمہ : لَكُمْ فِيها دِفْءٌ وَمَنافِعُ [ النحل/ 5] ان میں تمہارے لئے جزا دل اور بہت سے فائدے ہیں ۔ میں دف سے جاڑے سے بچنے کا سامان مراد ہے ۔ رجل دفان ( مونث دفاءی ) گری حاصل کر نیوالا ۔ بیت دفیئ گرم مکان ۔ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

والانعام خلقہا الیٰ قولہ ان ربکم لرؤف رحیم یہ تیسری قسم ہے۔ اس میں انعام کے پیدا کرنے سے اور ان سے انسان کے لیے فوائد حاصل ہونے سے استدلال کرتا ہے۔ الانعام بھیڑ بکری، اونٹ گائے کو کہتے ہیں۔ اول تو ان کی پیدائش میں غور کیجئے کہ ہر ایک کو اس کے مناسب حال پر بنایا۔ اگر اونٹ کی لمبی گردن نہ ہوتی تو بوجھ اٹھا کر اس سے اٹھا نہ جاتا۔ علی ہذا القیاس پھر جو ان سے انسان کو منافع اور فائدے پہنچتے ہیں ان میں فکر کیجئے۔ پہلا ضروری فائدہ تو ان کے بالوں سے وہ کپڑے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے سردی دفع ہوتی ہے۔ اونٹ اور بھیڑ بکری کی پشم اس میں بہت مستعمل ہوتی ہے۔ دوم اور بہت سے فائدے ہیں ومنافع۔ سوم بعض ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالْاَنْعَامَ خَلَقَھَا ج لَکُمْ فِیْھَا دِفْ ٌٔوَّ مَنَافِعُ وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 5) (اور چوپائے بھی اس نے تمہارے لیے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ ) آیاتِ الٰہی کی طرف اشارہ آیتِ کریمہ میں دِفٌْ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ اس سے عام طور پر عرب سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتے تھے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ پوشاک کیا ہے۔ اون سے تو ظاہر ہے کہ کپڑا بنتا تھا۔ البتہ بعض جانوروں کے بالوں سے خیمے وغیرہ بھی بنتے تھے۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے کرشمے اور اس کے احسانات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی تخلیق کے، چوپاؤں کی تخلیق کا بیان یعنی اللہ کے خالق ہونے کے مزید دلائل۔ انسان کو اس کی تخلیق کا احساس دلانے کے بعد ان چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ جن کے بغیر انسان کا جینا، رہنا سہنا اور اس کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا انتہائی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے نہ صرف انسان کو یہ نعمتیں عنایت فرمائیں بلکہ ان کو کلی طور پر انسان کے تابع فرمان کردیا۔ ان میں حلال قسم کے چوپائے ہیں۔ جن کے جسم کے بالوں اور اون سے آدمی سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتا اور استعمال کرتا ہے۔ بالخصوص عرب کا بیشتر علاقہ خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل تھا۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بیشمار انعامات میں چوپائوں کا تذکرہ : 5: وَالْاَنْعَامَ خَلَقَھَا لَکُمْ (اور چوپائے کہ ان کو اس نے تمہارے لئے پیدا کیا) انعام سے وہ آٹھ اقسام مراد ہیں اور اکثر اس کا اطلاق اونٹ پر ہوتا ہے۔ نحو : فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ ظاہر کلام اس کی وضاحت کررہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں والقمر قدرنٰہ منازل ] یٰسین : 39[ نمبر 2۔ الانسان پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے ای خلق الانسان والا نعام پھر فرمایا : خلقھا لکم کہ اے جنس انسان ! ہم نے تمہارے لئے چوپائے بنائے۔ فِیْھَا دِفْئٌ (ان میں تمہارے لئے سردی رو کنے کا سامان ہے) دفء ٌ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سردی دور کی جائے خواہ وہ لباس اون، بال ‘ پشم سے بنا ہو۔ وَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(5) والانعام خلقھا “ انعام سے مراد ابل، گائے، بکریاں ہیں۔ ” لکم فیھا دف “ جانوروں کے بال، اون کو تم لباس بنا کر پہنتے ہو اور کمبل وغیرہ سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کرتے ہو۔ و منافع اس سے مراد افزائش نسل ، دودھ، باربرداری، سواری کے منافع ہیں ومنھا تاکلون یعنی ان کے گوشت تم کھاتے ہو

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5۔ 7۔ اللہ پاک نے انسان کی پیدائش کا حال پہلے بیان کر کے اب چوپائیوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے بکریاں جس کی تفسیر سورت انعام میں گزر چکی ہے یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوشین بنتا ہے بعض جانوروں کے روئیں بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے سردی سے لوگ بچتے ہیں بعض جانوروں کے دودھ لوگ پیتے ہیں ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو وہ کھا کر شکم سیر کرتے ہیں ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–9

آیت 3 اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–13

مویشیوں کے فوائد قول باری ہے (والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھا تاکلون۔ اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لئے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور طرح طرح کے دوسرے فائدے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ” دف “ سے لباس اور پوشاک مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس لفظ سے جانوروں کے بال اور اون مراد ہیں جن کے ذریعے حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ جانوروں کے بالوں اور اون سے تمام احوال یعنی زندہ اور مردہ حالتوں میں فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ قول باری ہے : والخیل والبغال و الحمیر لتر کبوھا و زینۃ اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–5

6۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : کہ کائنات کی حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کے مطالعے سے انسان اپنے خالق ومالک سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو پہچانے اور اس کی واحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاکر اس کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی بےحد وحساب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکے۔ نیز اس سے وہ یہ بھی جان لے کہ حکمتوں بھری یہ کائنات بےمقصد اور بےکار نہیں ہوسکتی۔ اور وہ پکار اٹھے۔ (ربنا ماخلقت ھذا باطلا) نیز اس سے وہ یہ سبق بھی لے کہ جس نے اس عظیم الشان کائنات کو بلاشرکت غیرے اس طرح پیدا فرمادیا وہ اس کائنات کو اور اس کے مخدوم ومطاع اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–8

انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 کہ سردی سے بچنے کے لئے ان کی اون اور بالوں سے خیمے اور مختلف قسم کے لباس تیار کرلیتے ہو۔ (روح) 9 کسی کا دودھ پیتے ہو اور کسی پر سواری کرتے ہو اور کسی سے ہل چلاتے اور پانی کھینچتے ہو غیرہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:5) الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ ۔ بکری۔ گائے۔ اونٹ ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ اس میں اونٹ شامل نہ ہو۔ یہ نعم کی جمع ہے۔ الانعام۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے کہ اس کا فعل محذوف ہے یا بوجہ الانسان (آیت 4 مذکورہ) پر عطف ہونے کے۔ ای خلق الانسان والانعام۔ دف۔ جاڑے کی پوشاک ۔ گرمی کا اسباب، جڑا ول۔ ادقاء جمع۔ دف کے اصل معنی گرمی یا حرارت کے ہیں اور یہ برد (سردی) کی ضد ہے۔ یہاں دف بمعنی جاڑے کا سامان ہے۔ جاڑے کی سردی سے بچائو کے لئے گرم سامان ۔ سرمائی پوشش (غلاف البرد) از قسم دوشالہ۔ شال، پوستین۔ کمبل دھسّے وغیرہم۔ آیت ہذا میں خلقھا کے بعد ج کا وقف ہے جو کہ وقف جائز ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

چوپایوں کا ذکر اس آیت میں چوپایوں کا ذکر کیا کہ اونٹ گائے۔ بکریاں جس کی تفسیر سورة انعام (پارہ 8) میں گزر چکی ہے۔ یہ سب تمہارے واسطے پیدا کئے گئے ہیں۔ تم اس کا احسان نہیں مانتے خیال کرو تو ان جانوروں سے تمہیں کیا کیا فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض جانوروں کی کھال کا پوستین بنتا ہے۔ بعض جانوروں کے روئین بنے جاتے ہیں جس سے اونی کپڑے تیار ہوتے ہیں اور جاڑوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بعض جانوروں کا دودھ پیتے ہیں۔ ان کے گوشت کھائے جاتے ہیں اور جانوروں کو جب چرا کر لاتے ہو، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے ہیں تو ان کو دیکھ کر تم خوش ہوتے ہو۔ اور تجارت وغیرہ کے لئے جب کوئی بوجھ کہیں لے جانا چاہتے ہو تو جانوروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–7

[6] یعنی جن کی کھال اور اون میں۔ [7] یعنی کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی باربرداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے، بکس اور دوسری قسم کا چرمی سامان بنتا ہے، وقس علیٰ ہذا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–5

(ف 1) نطفۃ سے مراد آب معانی ہے ، قرآن حکیم عام طور پر ایسے مقامات میں بہترین الفاظ استعمال کرتا ہے جن سے ذوق سلیم ابانہ کرے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت پر غور کرے اور سوچے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے جیتا جاگتا انسان بنا دیتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5 ۔ اور اسی اللہ تعالیٰ نے چو پایوں کو پیدا کیا ان چوپایوں میں تمہارے لئے جڑاول اور سردی سے بچنے کا سامان بھی ہے اور ان میں سے اور بھی بہت سے منافع اور فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو ۔ یعنی کھال کے پوستین اور موزے وغیرہ بنا کر جاڑے کا بچائو کرتے ہو اس کے علاوہ چوپایوں میں دودھ گھی مکھن وغیرہ کے فوائد بھی ہیں اور بعض جانور حلال ہیں ان کا گوشت بھی کھاتے ہو ۔ منھا تاکلون کا ترجمہ بعض حضرات نے یوں کیا ہے کہ ان چوپایوں کی بعض چیزیں جیسے گوشت اور چربی وغیرہ کھاتے بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

ف 5۔ مطلب یہ کہ ہماری تو یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے یہ ناشکری کہ خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگٹرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : انسان کی پیدائش کے بعد چارپایوں کی پیدائش اور ان سے فائدے حاصل کرنے کا بیان : 7۔ انسان کی پیدائش کے بعد اب دوسرے جانوروں کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے جس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دیکھو چوپایوں میں کوئی شان ربوبیت والوہیت نہیں ۔ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے مخلوق ومربوب ہیں اور انسان ہی کے نفع اور خدمت کے لئے ہیں نہ کہ الٹے انسان کے مخدوم اور دیوتا بننے کے قابل ۔ یہ تردید ہو رہی ہے ان مشرک اور جاہل قوموں کی جنہوں نے گائے ‘ بیل اور بھینسوں وغیرہ کی پرستش کی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان فوائد میں سے دو فائدوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ (لکم فیھا دفء) یعنی ان میں سے تمہارے لئے سرمائی پوشش کا فائدہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

After human beings, mentioned there was the creation of things which were made specially for their benefit. Since the first addressees of the Qur'an were Arabs and their economic life depended on domestic cattle like camels, cows and goats, therefore, these were taken up first: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا (As for the cattle, He created them - 5). Then, out of the benefits received by human beings from the cattle, two were particularly mentioned. (1) لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ (having warmth for you), that is, they use wool from them to make clothings which keep them warm during winters. (2) The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

7. This has two meanings and both are meant here. (1) Though Allah created man from an insignificant spermdrop, he is capable of arguing and giving reasons in support of his claim. (2) Man who has such an insignificant origin, has become so vain that he does not hesitate to dispute even with his Creator. If considered in its first sense, it is a chain in the series of arguments given in many succeeding verses to prove the truth of the message of the Prophet (peace be upon him). Please refer to (E.N. 15). If taken in the second sense, it is meant to warn man that he should not forget the…

Read the full tafseer →