Explained with ayahs 3–4
عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوگی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔
اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنادیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
سورة النَّحْل 7
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور غالبا دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے نطفے کی حقیر سی بوند سے وہ انسان پیدا کیا جو بحث و استدلال کی قابلیت رکھتا ہے اور اپنے مدعا کے لیے حجتیں پیش کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس انسان کو خدا نے نطفے جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا ہے، اس کی خودی کا طغیان تو دیکھو کہ وہ خود خدا ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آیا ہے۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت اسی استدلال کی ایک کڑی ہے جو آگے مسلسل کئی آیتوں میں پیش کیا گیا ہے (جس کی تشریح ہم اس سلسلہ بیان کے آخر میں کریں گے)۔ اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے سے پہلے ذرا…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسان کا ذکر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا ہے انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفے سے ہونا بیان کر کے فرمایا (آیت) فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ یعنی جب اس ضعیف الخلقت انسان کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑے نکالنے لگا۔
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔ انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعد از امکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے ءاذا متنا وکنا ترابا ذلک رجع بعید (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے)۔ اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی ایک جامد چیز سے جو ایک جاندار کے اندر سے نکلتی ہے۔ جسے منی کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف اطوار سے گزار کر ایک مکمل صورت دی جاتی ہے، پھر اس میں اللہ تعالیٰ روح پھونکتا ہے اور ماں کے پیٹ سے نکال کر اس دنیا میں لاتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جب اسے شعور آتا ہے تو اسی رب کے معاملے میں جھگڑتا، اس کا انکار کرتا یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔
Read the full tafseer →2: یعنی انسان کی حقیقت تو اتنی ہے کہ وہ ایک ناپاک بوند سے پیدا ہوا ہے، لیکن جب اسے ذرا قوت گویائی ملی تو جس ذات نے اسے اس ناپاک بوند سے ایک مکمل انسان بنایا تھا اور اسے اشرف المخلوقات کا رتبہ بخشا تھا اسی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس سے جھگڑنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت نمبر 3 تا 4
وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔
خلق السموت والارض بالحق (16 : 3) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔
تعلی عما یشرکون (16 : 3) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند…
Read the full tafseer →6 یعنی علویات و سفلیات کا انتظام درست کر کے تم کو پیدا کیا۔ تم خود اپنی خلقت میں غور کرو تو حق تعالیٰ کی عجیب و غریب صنعت وقدرت کا سبق ملے گا۔ تمہاری اصل کیا تھی ؟ ایک قطرہ بےجان، جس میں نہ حس و حرکت تھی نہ شعور و ارادہ، نہ وہ بات کرنے کے قابل تھا، نہ اس لائق تھا کہ کسی معاملہ میں جھگڑ کر اپنا حق منوا دے یا دوسروں پر غالب آجائے۔ اب دیکھو حق تعالیٰ نے اسی قطرہ ناچیز کو کیا سے کیا بنادیا۔ کیسی عجیب صورت عطا کی۔ اور کیسی اعلیٰ قوتیں اور کمالات اس پر فائض کیے جو ایک حرف بولنے پر قادر نہ تھا وہ کیسے لیکچر دینے لگا جس میں ادنیٰ حس و حرکت نہ تھی، اب کس طرح بات بات میں جھگڑے کرنے اور حجتیں نکالنے…
Read the full tafseer →آیت 4 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ
انسان اپنے خود ساختہ نظریات کے حق میں خوب بحثیں کرتا ہے ‘ عقلی و نقلی دلیلیں دیتا ہے اور زور خطابت سے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6 ? صیم مبین سے مراد ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان جو ایک ننھی سی پانی کی بوند سے پیدا ہوا ہے نفخہ روح خداوندی کی بدولت وہ بحث و استدلال کا ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ اس مطلب میں قدرت خداوندی کا اظہار مقصود ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات کی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ ایک حقیر سی پانی کی بوند سے پیدا کیا گیا ہے پھر جب اس میں کچھ عقل آتی ہے تو حق کے مقابلہ میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا اور اس مطلب سے مقصود انسان کی سرکشی کا اظہار ہے اور اسی مطلب کی…
Read the full tafseer →6۔ اور اپنے رب کی ذات وصفات کے باب میں کیسے کیسے مناقشے برپا کردیئے۔ (آیت) ” خلق الانسان من نطفۃ “۔ یہاں یہ یاد دلا دیا کہ انسان جو استکبار وانانیت سے لبریز ہوجاتا ہے، حقیقۃ اس کی اصل مادی ہے کتنی حقیر و پست !۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…
Read the full tafseer →خلق الانسان من نطفۃ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ یعنی ایسی سیال ‘ بےجان بوند سے انسان کو پیدا کیا جس میں نہ حس ہے ‘ نہ حرکت ‘ نہ وہ اپنی ہیئت و وضع کو محفوظ رکھ سکتی ہے ‘ نہ شکل کو ___ (رفتہ رفتہ انسان) جب خوب طاقتور ہوگیا تو فاذا ھو خصیم مبین پھر یکدم وہ کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔
خَصِیْمٌ تیز زبان ‘ جھگڑالو۔ مُبِیْنٌ یعنی نفی قیامت کی دلیل بیان کرنے والا جو بطور دلیل کہتا ہے : مَنْ یُّحْیٖ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ بوسیدہ ‘ ریزہ ریزہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا۔ یا خَصِیْمٌ مُبِیْنٌ سے مراد ہے : خالق سے کھل کر جھگڑا کرنے والا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے متعلق ہوا۔…
Read the full tafseer →(4) اور انسان کو یعنی ابی بن خلف جہنمی کو سڑے ہوئے نطفہ سے بنایا پھر وہ یکایک باطل کی حمایت میں کھلم کھلا جھگڑنے لگا کہ ہڈیاں جب ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو پھر ان کو کون زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۔۔ : ”نَطَفَ“ (ض، ن) ٹپکنا۔ ”نُّطْفَةٍ“ قطرہ۔ تاء تحقیر کے لیے ہے، یعنی حقیر اور معمولی قطرے سے۔ ”خَصِيْمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے۔ زمین و آسمان کے بعد ان میں پیدا کردہ چیزیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش فرمائیں، سب سے پہلے انسان کا ذکر فرمایا، یہی بات سورة یس میں تفصیل سے بیان فرمائی، فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ) [ یٰسٓ : 77، 78 ] ”اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
قولہ تعالیٰ : خلق الانسان من نطفۃ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر دلیل ذکر فرمائی تو اس کے بعد انسان، اس کی درشتیوں، مشقتوں اور ایک حالت سے دوسری کی طرف تجاوز کرنے کا ذکر کیا۔ الانسان یہ اسم جنس ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ اس سے مراد ابی بن خلف جمحی ہے، وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس چند بوسیدہ ہڈیاں لے کر آیا اور کہا : کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا اس کے بعد کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہیں، گل سڑ چکی ہیں ؟ اور اسی بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی : اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ (یسٓ) (کیا انسان (اس حقیقت کو) نہیں جانتا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔
2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔
3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔
4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص…
Read the full tafseer →[خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] [ الْانسَان : انسان کو ] [ مِنْ نُّطْفَةٍ : پانی کی ایک بوند سے ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ هُوَ : وہ ] [ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ: واضح طور پر ہمیشہ بحث کرنے والا ہے ]
ن ط
[نَطْفًا : (ن) پانی کا تھوڑا تھوڑا بہنا۔ ٹپکنا۔]
[ نُطْفَۃٌ پانی کی بوند۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔ ]
Read the full tafseer →پھر انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ) (اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا تو یکایک وہ جھگڑالو ہوگیا واضح طور پر) انسان کو اللہ تعالیٰ نے منی کے نطفہ سے پیدا فرمایا جو انسان کے نزدیک خود ایک گندی اور ذلیل چیز ہے لیکن انسان اپنی اصل کو تو دیکھتا نہیں اور جھگڑے بازی کرتا ہے اس کا یہ جھگڑا صرف مخلوق ہی کے ساتھ نہیں خالق تعالیٰ جل مجدہ کی اخبار اور احکام میں بھی جھگڑے بازی کرتا ہے سورة یٰسین میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →7:۔ انسان کی پیدائش بھی قدرت خداوندی کا ایک شاہکار ہے۔ مگر انسان ایسا جھگڑالو اور ناشکر گذار واقع ہوا ہے کہ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک خسیس اور حقیر نطفہ سے پیدا کر کے کس قدر شرف عطا فرمایا ہے بلکہ الٹا اللہ توحید اور حشر ونشر میں جھگڑتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔
اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔
(مضامین سورة )
گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم :
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ
نطف
النُّطْفَةُ : الماءُ الصافي، ويُعَبَّرُ بها عن ماء الرَّجُل . قال تعالی: ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ
[ المؤمنون/ 13] ، وقال : مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] ، أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] ويُكَنَّى عن اللُّؤْلُؤَةِ بالنَّطَفَة، ومنه : صَبِيٌّ مُنَطَّفٌ: إذا کان في أُذُنِهِ لُؤْلُؤَةٌ ، والنَّطَفُ : اللُّؤْلُؤ . الواحدةُ : نُطْفَةٌ ، ولیلة نَطُوفٌ: يجيء فيها المطرُ حتی الصباح، والنَّاطِفُ : السائلُ من المائعات، ومنه : النَّاطِفُ المعروفُ ، وفلانٌ مَنْطِفُ المعروف، وفلان…
Read the full tafseer →دوسری قسم : خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ آسمان اور زمین کے بعد دیگر اجسام سے اشرف انسان ہے۔ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ اول بدن، دوم نفس۔ اب اس کے دونوں جزوں سے استدلال کرتا ہے۔ اول سے یوں کہ انسان کے بدن کی بنیاد نطفہ یعنی منی کے چند قطرے ہیں جو عورت کے رحم میں جانے کے بعد خون بن جاتے ہیں، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اعضاء نمودار ہوتے ہیں اور باوجودیکہ ایک مادہ ہے اور ایک جگہ میں ہے پھر اس میں سے کسی کے ہاتھ پائوں، ہڈی بنتی ہے، کسی کے سر، قلب وغیرہ، اعضاء۔ پھر وہ اعضا بےڈول نہیں بلکہ ہر ایک مناسب۔ بالوں کی جگہ بال، آنکھ کی جگہ آنکھ۔ اب دیکھو یہ کس کا کام ہے۔ ماں باپ کو تو یہ بھی خبر…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ النحل : 4)
(اس نے انسان کو ایک ذراسی بوند سے پیدا کیا اور وہ دیکھتے دیکھتے ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ )
اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور انسان کی بےبضاعتی
گزشتہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جسے بھی اپنا رسول بنا کے بھیجا اسے یہ حکم دیا کہ لوگوں پر جا کے یہ بات اچھی طرح واضح کردو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الوہیت کا سزاوار نہیں۔ اور یہ بات بھی کہ اِلٰہ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہے اور تم اس کے بندے اور غلام ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈرنے اور کسی اور کے سامنے جھکنے کا کوئی جواز نہیں۔ انسان کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے اسے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان کی تخلیق کے بیان سے پہلے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ گویا کہ مکیں سے پہلے مکاں کا بیان ہوا۔ اب انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے انسان تجھے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور زمین و آسمان کی تخلیق کی طرح تیری تخلیق میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو مرد اور عورت کے ملاپ کے ذریعے ان کے نطفہ سے بچہ کو پیدا کرتا ہے، اگر نہ چاہے تو مرد اور عورت کے زندگی بھر کے ملاپ سے کچھ بھی نہ پیدا…
Read the full tafseer →انسانی ناشکری :
4: خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا پھر وہ ایک دم کھلم کھلا جھگڑنے لگا) یعنی اچانک وہ تیز زبان اور اپنے نفس کی طرف سے جھگڑنے والا اور اپنے جھگڑے میں اصرار کرنے والا اور اپنی دلیل کو خوب ظاہر کرنے والا ہوگیا۔ بعد ازیں کہ یہ ایک ایسا پانی کا قطرہ تھا جس میں حس تک نہ تھی۔ اور نہ ہی کوئی حرکت تھی۔ نمبر 2۔ اچانک یہ اپنے رب سے جھگڑنے والا نکلا۔ اپنے خالق کا انکاری ہے اور یہ کہتا ہے مَنْ یُحْیِی الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ ] یٰسین : 78[ اس میں انسان کی بےحیائی اور ناشکری نعمت میں اصرار کا ذکر کیا۔ اور مزید انعامات ذکر…
Read the full tafseer →(4)” خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم “ باطل پر جھگڑنے والا۔ ” مبین “ اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے متعلق ہوا کہ یہ بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ یہ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کردے گا، اس کے لیے اللہ رب العزت نے ” وضرب لنا مثلاً ونسی خلقہ “ نازل فرمائی۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے اور اس میں قدرت کا بیان ہے اور جو قبیح فعل کرتے تھے اس کو ظاہر کردیا کہ اللہ نے ان پر جو نعمتیں کی ہیں ان پر انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 4۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیتوں میں قیامت کے برحق ہونے کو شرک کی ممانعت کو اور توحید کو بیان کیا تھا کہ سوائے اللہ کی ذات کے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس لئے یہ آیتیں توحید اور حشر کی ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا خاک قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آیت 3
اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
6۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : کہ کائنات کی حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کے مطالعے سے انسان اپنے خالق ومالک سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو پہچانے اور اس کی واحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاکر اس کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی بےحد وحساب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکے۔ نیز اس سے وہ یہ بھی جان لے کہ حکمتوں بھری یہ کائنات بےمقصد اور بےکار نہیں ہوسکتی۔ اور وہ پکار اٹھے۔ (ربنا ماخلقت ھذا باطلا) نیز اس سے وہ یہ سبق بھی لے کہ جس نے اس عظیم الشان کائنات کو بلاشرکت غیرے اس طرح پیدا فرمادیا وہ اس کائنات کو اور اس کے مخدوم ومطاع اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
انسان کی پیدائش اور اللہ کی دی ہوئی نعمتیں
تشریح : ان آیات میں ایک بہت بڑا راز انسان کی پیدائش کا بتایا جا رہا ہے اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں کون جانتا تھا کہ انسان کی پیدائش پانی کے اس قطرہ سے ہوتی ہے جو ماں کے رحم میں ڈالا جاتا ہے۔ یہاں انسان کی ابتدا نطفہ سے بتائی گئی ہے جو کہ سائنس کے طالب علم کے لیے بہت بڑا موضوع بن گیا اور آج سائنسدان ان تمام حقائق تک پہنچ گیا ہے جن کے بارے میں قرآن پاک نے آج سے کئی صدیاں پہلے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو نطفہ سے بنایا۔ جب کہ سورة بقرہ میں ایک بہت بڑا راز حضرت آدم کی تخلیق کے قصہ میں بتادیا۔ کہ انسان کو ہم نے مٹی سے بنایا۔ اس ایک جملہ سے تمام سائنسدانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…
Read the full tafseer →ف 7 اور اپنی حقیقت بھول گیا اور لگا قدرت کا انکار کرنے اور کہنے لگا کہ ” مرنے کے بعد بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو یعنی نطفہ سے پیدا کیا اور پھر سا میں کامل طور پر قوی اور راکیہ اور قوت گویائی پیدا کردی کہ حجت و استدلال کے ساتھ بحث کرنے کے قابل ہوگیا۔ (روح)
Read the full tafseer →(16:4) نطفۃ۔ اسم مفرد۔ صاف پانی۔ مراد نطفہ انسانی۔
فاذا۔ بعض کے نزدیک ظرف زمان ہے۔ سیبویہ کے نزدیک ظرف مکان ہے اہل کوفہ کے نزدیک حرف ہے اکثر شرط پر آتا ہے۔ اور مستقبل کے معنی دیتا ہے۔ (بطور ظرف زمان) حرف مفاجات (کسی چیز کا اچانک پیش آنا) کی صورت میں زمانہ حال کے معنی دیتا ہے۔ یہاں اسی معنی میں آیا ہے بطور حرف مفاجات۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی (20:20) پس اس نے اسے ڈال دیا اور وہ دوڑتا ہوا ایک سانپ بن گیا۔
پس اذا کے معنی ہوئے ۔ جب ۔ اس وقت۔ ناگہاں۔
خصیم۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ سخت جھگڑالو۔ اخصام۔ خصما، خصمان۔ جمع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
اتی آگیا۔ امر اللہ اللہ کا حکم۔ لاتستعجلوہ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الروح جبرئیل امین۔ وحی ۔ خصیم جھگڑا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر کفار مکہ سے یہ فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری رسول ہوں جو تعلیمات میں لے کر آیا ہوں ان پر ایمان لے آؤ تو تمہیں اس دنیا کی سربلندی اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر و شرک ، بری رسموں اور خرافات سے چمٹے رہے اور تم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو کہیں تم پر وہی عذاب نہ آجائے جو نبیوں…
Read the full tafseer →انسان کی پیدائش
شان نزول : یہ آیت ابی بن خلف کے حق میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ کسی مردے کی گلی ہوئی ہڈی اٹھا لایا اور سید عالم ﷺ سے کہنے لگا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو زندگی دے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نہایت نفیس جواب دیا گیا کہ ہڈی تو کچھ نہ کچھ عضوی شکل رکھتی بھی ہے اللہ تعالیٰ تو منی کے ایک چھوٹے بےحس و حرکت قطرے سے تجھ جیسا انسان پیدا کرتا ہے یہ دیکھ کر بھی تو اس کی قدرت پر ایمان نہیں لاتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے تجھے تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا پھر تجھے حد کمال تک پہنچا دیا اور پھر تیرے لئے موت بھیج دی اور تو اپنی دو…
Read the full tafseer →[4] یعنی منی کی بوند سے۔
[5] اس آیت میں قدرت الٰہی کی اس کرشمہ سازی پر توجہ دلائی ہے کہ اللہ نے نطفے کے ایک حقیر قطرے سے انسان کو پیدا کیا ہے وہ خود اللہ ہی کے مقابلہ میں جھگڑنے پر اتر آتا ہے۔ جس میں بحث و نزاع کی قوت ہوتی ہے اور جو بال کی کھال نکالنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) نطفۃ سے مراد آب معانی ہے ، قرآن حکیم عام طور پر ایسے مقامات میں بہترین الفاظ استعمال کرتا ہے جن سے ذوق سلیم ابانہ کرے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت پر غور کرے اور سوچے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے جیتا جاگتا انسان بنا دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →4 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بوند یعنی نطفہ سے پیدا کیا پھر وہی انسان اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں یکا یک کھلا کھلا اور علانیہ جھگڑنے لگا ۔ یعنی جس نے پیدا کیا اسی کے بارے میں جھگڑا شروع کردیا اور جھگڑا بھی علانیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 5۔ مطلب یہ کہ ہماری تو یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے یہ ناشکری کہ خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگٹرتا ہے۔
Read the full tafseer →اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا اور یہ پیدائش انسان اول کے بعد ہوئی :
5۔ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے تخلیقی عمل سے انسان کو پیدا کیا اور اس کے بعد خود ہی انسان کے اندر تناسل کی یہ طاقت رکھ دی کہ اس کے نطفہ سے ویسے ہی انسان پیدا ہوتے چلے جائیں ۔ ایک کمال تو یہ تھا کہ زمین کے مواد کو جمع کرکے ایک تخلیقی حکم سے اس میں وہ زندگی اور وہ شعور وتعقل پیدا کردیا جس سے انسان جیسی ایک حیرت مخلوق وجود میں آگئی اور دوسرا کمال یہ ہے کہ آئندہ مزید انسانوں کی پیدائش کے لئے ایک ایسی عجیب مشینری خود انسانی ساخت کے اندر رکھ دی جس کی ترکیب اور کار گزاری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اس…
Read the full tafseer →Commentary
The verses affirm the Oneness of Allah through the great signs of the creation of the universe. The first such creation pointed to is the creation of the heavens and the earth. Then comes the creation of human beings whom Allah Ta’ ala has made the ones who are served by the whole universe. How did man originate? The text says that he was created from an insignificant drop. at happened then was: فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (and soon he turned into a quarrelsome person expressing himself openly). In other words, when the elementally weak man was endowed with strength and speech,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
7. This has two meanings and both are meant here.
(1) Though Allah created man from an insignificant spermdrop, he is capable of arguing and giving reasons in support of his claim.
(2) Man who has such an insignificant origin, has become so vain that he does not hesitate to dispute even with his Creator.
If considered in its first sense, it is a chain in the series of arguments given in many succeeding verses to prove the truth of the message of the Prophet (peace be upon him). Please refer to (E.N. 15). If taken in the second sense, it is meant to warn man that he should not forget the…
Read the full tafseer →