An-Nahl 16:3

An-Nahl · from ayah 3

16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ؕ— تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ۟خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He created the heavens and earth in truth. High is He above what they associate with Him.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:3

اُس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا وه اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس نے آسمان اور زمین بجا بنائے وہ ان کے شرک سے برتر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُسی نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک گردانتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ وہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کچھ یہ لوگ شرک کر رہے ہیں اللہ اس سے بلندتر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو حق کے ساتھ، وہ بہت بلند (وبالا) ہے اس شرک سے جو یہ لوگ (اس کی جناب اقدس کے بارے میں) کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے حکمت کے ساتھ وہ برتر ہے ہر شرک سے جو یہ (لوگ) کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔ وہ بہت بلند ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق سے پیدا کیا ہے، اس کی ذات ان کافروں کے شرک سے اونچی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He created the heavens and the earth with Truth. Exalted is He above whatever they associate with Allah in His Divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He created the heavens and the earth in the proper way. He is much higher than their ascribing partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

He created the heavens and the earth in the proper way. He is much higher than their ascribing partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He has created the heavens and the earth with truth. High is He, Exalted above all that they associate as partners with Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He hath created the heavens and the earth with truth. High be He Exalted above all that they associate (with Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He created the heavens and earth in truth. High is He above what they associate with Him.

— Saheeh International

He has created the heavens and the earth for a genuine purpose. He is too Exalted to be considered equal to anything else.

— Muhammad Sarwar

He created the heavens and the earth with the truth, highly exalted be He above what they associate (with Him).

— Muhammad Habib Shakir

He hath created the heavens and the earth with a purpose. Exalted is He above that which they associate.

— Abdul Majid Daryabadi

He has created the heavens and the earth for just ends: Far is He above having the partners they ascribe to Him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–4

عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوگی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنادیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 6 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات جس کی دعوت خدا کے پیغمبر دیتے ہیں، اسی کی شہادت زمین و آسمان کا پورا کارخانہ تخلیق دے رہا ہے۔ یہ کارخانہ کوئی خیالی گورکھ دھندا نہیں ہے، بلکہ ایک سراسر مبنی برحقیقت نظام ہے۔ اس میں تم جس طرف چاہو نگاہ اٹھا کر دیکھ لو، شرک کی گواہی کہیں سے نہ ملے گی، اللہ کے سوا دوسرے کی خدائی کہیں چلتی نظر نہیں آئے گی، کسی چیز کی ساخت یہ شہادت نہ دے گی کہ اس کا وجود کسی اور کا بھی رہین منت ہے۔ پھر جب یہ ٹھوس حقیقت پر بنا ہوا نظام خالص توحید پر چل رہا ہے تو آخر تمہارے اس شرک کا سکہ کس جگہ رواں ہوسکتا ہے جبکہ اس کی تہ میں وہم و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لغات کی تشریح خصیم خصومت سے مشتق ہے بمعنی جھگڑا لو انعام، نعم (بفتح نون) کی جمع ہے چوپایوں میں سے اونٹ، بکری گائے کو کہا جاتا ہے (مفردات راغب) دف گرمی اور گرمائی حاصل کرنے کی چیز مراد اون ہے جس کے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں تریحون رواح سے اور تسرحون سراح سے مشتق ہے چوپائے جانوروں کے صبح کے وقت چراگاہ کی طرف جانے کو سراح اور شام کو گھر میں واپس آنے کو رواح کہا جاتا ہے شق الانفس جان کی محنت ومشقت۔ خلاصہ تفسیر (اللہ تعالیٰ نے) آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے بنایا وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور) انسان کو نطفہ سے بنایا پھر وہ اچانک کھلم کھلا (خدا ہی کی ذات وصفات میں) جھگڑنے لگا (یعنی بعض ایسے بھی ہوئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ کارخانہ کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی تقاضا : لفظ " حق " کی تشریح سورة حجر کی آیت 85 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی غایت اور مقصد کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا بےغایت و بےمقصد نہیں بنائی ہے۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور بازیچۂ اطفال نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ایک چیز کے اندر جو قدرت و حکمت نمایاں ہے وہ شاہد ہے کہ اس کا خلق حکیم و قدیر ہے۔ ایک حکیم و قدیر خالق کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی عبث، باطل اور بےمقصد کام کرے۔ اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس دن سب اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی محض تماشے اور کھیل کود کے طور پر نہیں پیدا کیا بلکہ ایک مقصد پیش نظر ہے اور وہ ہے جزا و سزا، جیسا کہ ابھی تفصیل گزری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور دار اور تاثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہئے کہ اسے ابھی بھیج دے اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ اللہ) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس سورت کا آغاز ان کے اس طرز…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت نمبر 3 تا 4 وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔ خلق السموت والارض بالحق (16 : 3) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔ تعلی عما یشرکون (16 : 3) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی زمین و آسمان کا نظام ایسا درست و استوار بنایا ہے جسے دیکھ کر لامحالہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ تمام کائنات کا سلسلہ صرف ایک ہی مالک مختار کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ بلکہ کئی آزاد خداؤں کی کشمکش باہمی سرے سے اس نظام عالم کو موجود ہی نہ ہونے دیتی (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) 21 ۔ الانبیآء :22) ( اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ) 23 ۔ المؤمنون :91)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 کائنات میں ہم آہنگی توحید کا ثبوت :۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر شرک کی تردید میں زمین اور آسمانوں کی پیدائش کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز میں ہم آہنگی ہے۔ کائنات کا ہر کل پرزہ دوسرے کی تائید و توثیق کر رہا ہے۔ پھر اس کائنات کے نظام میں بیشمار فوائد، حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اور سب نتائج تعمیری قسم کے پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوتا تو ایسا نظام وجود میں آہی نہ سکتا تھا اور اگر بالفرض محال آ بھی جاتا تو فوراً درہم برہم ہوجاتا۔ گویا کائنات کی ایک ایک چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ اس خالق کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ آیت سے کئی تعلیمات حاصل ہوئیں، مثلا یہ کہ (1) آسمان و زمین خود ساختہ نہیں، مخلوق ہیں۔ (2) مخلوق اللہ کی ہے نہ کہ کسی اور کی۔ (3) ان سب کی خلقت بلاکسی غرض ومقصد کے، سیروتفریح، کھیل وتماشہ کی طرح نہیں، گہرے حکیمانہ مقصد ہی سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلق السموات والارض بالحق اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا۔ یعنی خاص مقدار ‘ خاص شکل و وضع اور مختلف صفات کے ساتھ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو نیست سے ہست کیا۔ اس کی ایجاد بتارہی ہے کہ اس کو بنانے والا واحد ‘ بےمثال ‘ قادر مطلق اور حکیم کامل ہے۔ تعٰلے عما یشرکون اللہ بالا ہے ان کے شرک سے۔ یعنی زمین و آسمان میں سے کسی کو اللہ کا شریک قرار دیا جائے اس سے اللہ بزرگ و برتر ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ برتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنی ہستی یا بقائے ہستی میں زمین و آسمان میں سے کسی چیز کا محتاج ہو۔ زمین و آسمان کو تو خود اپنی تخلیق پر بھی قدرت نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ کے غیر جسمانی ہونے پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اللہ کے لیے یا یہ کہ زوال وفنا کے لیے بنایا اس کی ذات ان بتوں وغیرہ کے شرک سے پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ۔۔ : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت کے بہت سے دلائل نہایت عمدہ اور انوکھے انداز سے شروع فرمائے ہیں۔ فرمایا اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں ؟ بِالْحَقِّ : باطل کے مقابلے میں حق کا لفظ آتا ہے، یہاں بمعنی حکمت ہے، یعنی زمین و آسمان کی پیدائش بیشمار حکمتوں پر مبنی ہے، یہ کوئی کھیل یا فضول اور بےکار کام نہیں۔ دیکھیے سورة ابراہیم (19، 20) ، سورة ص (27) اور سورة دخان (38، 39) سب سے پہلے اپنی وحدانیت کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 3 قولہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق یعنی زوال اور فناہ کے لئے (زمین اور آسمان کو پید ا کیا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بالحق یعنی اپنی قدرت پر دلالت کرنے کے لئے، اور یہ کہ بندے اس کی طاعت کرتے ہوئے عبادت کریں اور یہ کہ وہ موت کے بعد مخلوق کو زندہ کرسکتا ہے۔ تعلیٰ عما یشرکون یعنی وہ برتر ہے ان بتوں سے جو کسی چیز کو پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ 2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔ 3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔ 4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خَلَقَ : اس نے پیدا کیا ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ بِالْحَقِّ ۭـ: حق کے ساتھ ] [ تَعٰلٰى: وہ بلند ہوا ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد آسمان اور زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا (اس کی تفسیر چند صفحات پہلے سورة حجر کے آخری رکوع میں گزر چکی ہے) پھر بطور تاکید مضمون سابق کا اعادہ فرمایا (تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ یہ نفی شرک فی التصرف پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس دلیل میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب گیر خدا کی طاقت اور قدرت سے ماورا ہیں اور ان تمام امور کا خالق و فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی متصرف و کارساز ہے اور صفات کارسازی میں وحدہ لا شریک ہے۔ ” بِالْحَقِّ “ یعنی یہ ساری کائنات اس نے پیدا ہی اس لیے کی ہے تاکہ وہ اس کی وحدانیت اور کمال قدرت پر دلالت کرے اور اس کے بندے اس میں غور و فکر کر کے سمجھ لیں کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بالحق ای للدلالۃ علی قدرتہ وان لہ ان یتعبد العباد بالطاعۃ وان یحییٰ الخلق بعد الموت (قرطبی ج 10 ص 68) ۔ ” تَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ اس دلیل سے معلوم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔ اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔ (مضامین سورة ) گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۝ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

اب خلق السموات والارض الخ میں اپنی خدائی اور یکتائی پر دلائل قائم کرتا ہے اور دلائل بھی وہ کہ جن میں اس کے بندوبست پر بےحد انعام و لطف پایا جاتا ہے جن کے سننے سے دانشمند کا دل اپنے مولیٰ ‘ منعم حقیقی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نیز ان دلائل میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہم تو تمہارے حال پر اس قدر مہربان ہیں پھر تم شرارت کرتے جاتے ہو اور اس پر اپنی سزا کی جلدی کرتے ہو جو انجام کار مفسدوں کے لیے مقرر ہے۔ چناچہ بدر کی لڑائی میں ان کا خاتمہ ہوا اور ایک قحط شدید پڑا اور متکبر انواع و اقسام کی بلائوں میں مبتلا ہو کر کیڑے پڑ پڑ کر مرے اور اخروی سزا جہنم کی طرف روانہ کئے گئے۔ ان دلائل کے چند قسم ہیں : اول قسم :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 3) (اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرنے کی دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو باخبر کردیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرا جائے اور اس کے سوا کئی اور کو اِلٰہ نہ مانا جائے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کی دلیل بیان فرمائی کہ تم یہ تو مانتے ہو کہ آسمان و زمین کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ صرف خالق ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ایک الٰہ سے ڈرنا اور اس ایک ہی کی عبادت کرنا اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور کائنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ لوگوں کو اس لیے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک سمجھنے اور بنانے سے منع کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں خالق حقیقی کے ساتھ اور کوئی شریک اور سھیم نہیں تھا۔ وہی زمین و آسمان اور ہر چیز کا خالق ہے۔ زمین و آسمان کالا محدود نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ نہ صرف اس کی تخلیق میں کوئی شریک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بےمقصد پیدا کرنے کے بجائے ایک خاص مقصد اور ٹھیک ٹھیک انداز میں پیدا فرمایا ہے۔ زمین و آسمان کا چپہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3: پھر وحدانیت اور معبود حقیقی ہونے پر ایسی چیزوں سے استدلال کیا جن پر اور کسی کو کچھ بھی قدرت نہیں یعنی آسمان و زمین کی تخلیق و پیدائش چناچہ فرمایا۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا وہ بلندو برتر ہے ان کے شرک سے) قراءت : حمزہ اور علی نے دونوں مقام پر تاء سے پڑھا ہے۔ اور انسان کی خلقت اور جو افعال اس سے پیش آتے ہیں ان کا ذکر اس ارشاد میں فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (3)” خلق السموت والارض بالحق تعالیٰ عما یشکرون “ ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ بالاتر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–4

3۔ 4۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیتوں میں قیامت کے برحق ہونے کو شرک کی ممانعت کو اور توحید کو بیان کیا تھا کہ سوائے اللہ کی ذات کے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس لئے یہ آیتیں توحید اور حشر کی ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا خاک قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–9

آیت 3 اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–5

6۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : کہ کائنات کی حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کے مطالعے سے انسان اپنے خالق ومالک سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو پہچانے اور اس کی واحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاکر اس کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی بےحد وحساب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکے۔ نیز اس سے وہ یہ بھی جان لے کہ حکمتوں بھری یہ کائنات بےمقصد اور بےکار نہیں ہوسکتی۔ اور وہ پکار اٹھے۔ (ربنا ماخلقت ھذا باطلا) نیز اس سے وہ یہ سبق بھی لے کہ جس نے اس عظیم الشان کائنات کو بلاشرکت غیرے اس طرح پیدا فرمادیا وہ اس کائنات کو اور اس کے مخدوم ومطاع اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

اللہ کے امر (عذاب) کا پیغام تشریح : یہ آیات کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں آخری زمانہ اور مدینہ کے شروع میں نازل ہوئیں۔ اور آپ کا زمانہ قیامت کے قریب کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اور دوسری بات ان کو یہ بھی سمجھا دو کہ اللہ کی اپنی مرضی ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے چن کر قوم کے لیے رسول بنا بھیجے اس کا چنائو دولت اور مرتبہ پر نہیں بلکہ شرافت اور پرہیزگاری پر ہوتا ہے پھر وہ اپنے اس برگزیدہ بندے پر فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے، کیونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا صبر کرو بڑی جلد تمہیں اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 6 اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:3) تعلی۔ وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے تعالیٰ سے (باب تفاعل) لیکن باب تفاعل کا استعمال تکلف و تخیل کے لئے نہیں بلکہ یہ ابتداء کی صورت ہے۔ جیسے تبارک اللہ (خدا تعالیٰ بہت بابرکت ہے) باب تفاعل کے خواص میں سے تخییل ہے یعنی دکھاوے کے لئے حصول ماخذ کو اپنے میں دکھانا۔ جیسے تمارض زید زید نے دکھاوے کے لئے اپنے تئیں بیمار بتایا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 اتی آگیا۔ امر اللہ اللہ کا حکم۔ لاتستعجلوہ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الروح جبرئیل امین۔ وحی ۔ خصیم جھگڑا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر کفار مکہ سے یہ فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری رسول ہوں جو تعلیمات میں لے کر آیا ہوں ان پر ایمان لے آؤ تو تمہیں اس دنیا کی سربلندی اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر و شرک ، بری رسموں اور خرافات سے چمٹے رہے اور تم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو کہیں تم پر وہی عذاب نہ آجائے جو نبیوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

توحید کا بیان یہ آیتیں توحید اور حشر کے ثبوت کے طور پر نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یہ آسمان و زمین بالکل بےفائدہ نہیں بنائے گئے ہیں۔ ان سے بڑے بڑے کام دنیا کے اندر نکلتے ہیں جو انسان کی زندگی میں ضروری ہیں۔ پھر فرمایا کہ کفار جن معبودوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان سے کہیں برتر و بزرگ ہے انہیں کیا قدرت ہے اور جب ان میں کچھ قدرت نہیں تو ان کی پوجا سے کچھ حاصل بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) یعنی نبوت اللہ کی بخشش وموہبت ہے ، اس میں کسب واکتساب کو دخل نہیں ، یہ اللہ کا دین ہے جسے چاہے ، دیدے ، روح سے مراد وحی ہے ، یا جبرائیل ہے جو حامل وحی ہیں ، غرض یہ ہے کہ فرشتے جب نبوت کا خلعت لے کر آتے ہیں تو ان کی تلقین یہی ہوتی ہے کہ ایک خدا کے سامنے جھکو ایک اللہ کی عبادت کرو ، وہ شرک کی تائید کے لئے نہیں آتے ۔ غیر اللہ کی پرستش کے لئے وہ نہیں کہتے ان کا نصب العین توحید کی اشاعت اور اطاعت الہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

3 ۔ اس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کمال حکمت سے بنایا وہ ان مشرکوں کے شرک سے بالا تر ہے۔ یعنی آسمانوں کو اور زمین کو اپنی مصلحت سے ٹھیک بنایا اور جب کوئی بنانے میں اس کا شریک نہ تھا تو اب یہ مشرک اس کا شریک ٹھہرانے میں سخت غلطی کرتے ہیں اور وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا تر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

ف 4۔ اس میں یہ امر ظاہر فرمادیا کہ توحید تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت مشترکہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا وہی ہے وہ ہر شرک سے بالاتر ہے : 4۔ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور ربوبیت کے ان دلائل کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جو اتنے واضح اور یقین آفرین ہیں کہ اگر کوئی معمولی سی بھی عقل وفہم رکھنے والا غور کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اسے اعتراف کرنا ہی پڑے گا ذرا غور تو کیجئے کہ زمین و آسمان کا یہ کارخانہ کتنا وسیع ہے اور کتنے ان گنت اور بیشمار پرزوں سے مرکب ہے اور ہر پرزہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنی اپنی جگہ پر اس خوبی سے فٹ ہے کہ نہ کوئی پیچ ڈھیلا ہوتا ہے نہ کوئی گراری ٹوٹتی ہے اور نہ ہی انجن کی رفتار میں فرق پڑتا ہے ۔ ہرچیز اپنا اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے ، جس کے ذمہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Lexical Explanation The word: خَصِیم (khasim) in verse 4 has been derived from: خُصُومۃ (khusumah) and means a quarrelsome person. Al-An’ am is the plural of na'am, which are cattles such as the camel, goat and cow. (A1-Mufradat of Raghib al-Isfahan) The word: دِفْءٌ (difun) in verse 5 denotes what provides warmth, that is, wool which is used to make warm clothings. The word: تُرِیحُون (turihun) in verse 6 is a derivation from rawah, and: تَسْرَ‌حُونَ (tasrahun) in the same verse, from saralh. When the cattle are sent to graze, it is called sarah, and when they return home, it is called…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6. That is to say, the entire system of the earth and the heavens is a witness to the truth of the doctrine of Tauhid and to the negation of shirk. You may look at anything in the universe and consider the system from any point of view you like, you will find proof of this fact that it is being run by one God and not by many gods. Then how is it that you believe in shirk when there is no proof whatsoever of this in the universe As a fitting sequence of this, proofs of Tauhid and refutation of shirk have been given from man himself and from other signs in the universe, and it has also been…

Read the full tafseer →