An-Nahl 16:2

An-Nahl · from ayah 2

16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ۟يُنَزِّلُ الۡمَلٰۤئِكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ‏

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He sends down the angels, with the inspiration of His command, upon whom He wills of His servants, [telling them], "Warn that there is no deity except Me; so fear Me."

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:2

وہ اِس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے (اِس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو) "آگاہ کر دو، میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی وحی کے ساتھ اتارتا ہے کہ : لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھی سے ڈرو، (کسی اور سے نہیں)۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ملائکہ کو ایمان کی جان یعنی وحی لے کر اپنے جن بندوں پر چاہے اتارتا ہے کہ ڈر سناؤ کہ میرے سوا کسی کی بندگی نہیں تو مجھ سے ڈرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی فرشتوں کو وحی کے ساتھ (جو جملہ تعلیماتِ دین کی روح اور جان ہے) اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ (لوگوں کو) ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو میری پرہیزگاری اختیار کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کردو کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی دے کر فرشتے نازل کرتا ہے اور (ان بندوں کو حکم دیتا ہے) متنبہ کردو کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا مجھی سے ڈرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ اتارتا ہے فرشتوں کو اپنے حکم سے اس (عظیم الشان) روح کے ساتھ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (اس بنیادی ہدایت کے ساتھ) کہ تم خبردار کردو (میرے بندوں کو) کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے میرے، پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو،

— مولانا اسحاق مدنی

فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے نازل کرتا رہتا ہے اپنے بندوں میں جس پر وہ چاہے۔ (اس حکم کے ساتھ) کہ (لوگوں کو) خبردار کردو کہ کوئی معبود بجز میرے نہیں ہے۔ سو مجھی سے ڈرتے رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اتارتا ہے فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کہ خبردار کر دو (میرے بندوں کو) کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پس تم میرا ہی تقویٰ اختیار کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بتا دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھ ہی سے ڈرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He sends down this spirit (of prophecy) by His command through His angels on any of His servants whom He wills, (directing them): "Warn people that there is no deity but Me; so hold Me alone in fear."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He sends down the angels at His behest with the spirit, (that is, the revelation), upon whom He wills from among His servants: :Warn people that there is no god but Me. So, fear Me.

— Muhammad Taqi Usmani

He sends down the angels at His behest with the spirit, (that is, the revelation), upon whom He wills from among His servants: :Warn people that there is no god but Me. So, fear Me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He sends down the angels with the Ruh (revelation) of His command to those servants of His whom He wills (saying): "Warn mankind that none has the right to be worshipped but I, so have Taqwa of Me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He sendeth down the angels with the Spirit of His command unto whom He will of His bondmen, (saying): Warn mankind that there is no Allah save Me, so keep your duty unto Me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He sends down the angels, with the inspiration of His command, upon whom He wills of His servants, [telling them], "Warn that there is no deity except Me; so fear Me."

— Saheeh International

He sends the angels with the Spirit to carry His orders to whichever of His servants He wants so that they would warn people that He is the only God and that people must have fear of Him.

— Muhammad Sarwar

He sends down the angels with the inspiration by His commandment on whom He pleases of His servants, saying: Give the warning that there is no god but Me, therefore be careful (of your duty) to Me.

— Muhammad Habib Shakir

He sendeth down the angels with the spirit by His command upon whomsoever of his bondmen He willeth: warn that there is no god but I, wherefore fear Me.

— Abdul Majid Daryabadi

He doth send down His angels with inspiration of His Command, to such of His servants as He pleaseth, (saying): "Warn (Man) that there is no god but I: so do your duty unto Me."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

وحی کیا ہے ؟ روح سے مراد یہاں وحی ہے جیسے آیت (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 52؀ۙ) 42۔ الشوری :52) ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے وحی نازل فرمائی حالانکہ تجھے تو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے ؟ ہاں ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا اپنے بندوں میں سے راستہ دکھا دیا۔ یہاں فرمان ہے کہ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 3 یعنی روح نبوت کو جس سے بھر کر نبی کام اور کلام کرتا ہے۔ یہ وحی اور یہ پیغمبرانہ اسپرٹ چونکہ اخلاقی زندگی میں وہی مقام رکھتی ہے جو طبعی زندگی میں روح کا مقام، اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اس کے لیے روح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائیوں نے روح القدس کو تین خداؤں میں سے ایک خدا بنا ڈالا۔ سورة النَّحْل 4 فیصلہ طلب کرنے کے لیے کفار جو چیلنج کر رہے تھے اس کے پس پشت چونکہ محمد ﷺ کی نبوت کا انکار بھی موجود تھا، اس لیے شرک کی تردید کے ساتھ اور اس کے معا بعد آپ کی نبوت کا اثبات فرمایا گیا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بناوٹی باتیں ہیں جو یہ شخص بنا رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر اس سورة کا نام سورة نحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صنعت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے اس کا دوسرا نام سورة نعم بھی ہے (قرطبی) نعم بکسر نون نعمت کی جمع ہے اس لئے کہ اس سورة میں خاص طور پر اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے۔ خدا تعالیٰ کا حکم (یعنی سزائے کفر کا وقت قریب) آپہنچا سو تم اس میں (منکرانہ) جلدی مت مچاؤ (بلکہ توحید اختیار کرو اور اس کی حقیقت سنو کہ) وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرئیل) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں جس پر چاہیں (یعنی انبیاء (علیہم السلام) پر) نازل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔ کفار کے بعض مطالبات کا جواب : کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر ﷺ کو دعوی ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں۔ دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر ﷺ ان کو ڈراتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے۔ ھل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ او یاتی امر ربک (وہ نہیں منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آجائے)۔ ان میں سے دوسرے مطالبہ کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 رُوْح سے مراد وحی ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ) (42۔ الشوری :52) ' اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے وحی کی، اس سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے، اور ایمان کیا ' 2۔ 2 مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن پر وحی ٰ نازل ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الأنعام :124) ' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے اور وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی ڈالتا یعنی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات والے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور دار اور تاثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہئے کہ اسے ابھی بھیج دے اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ اللہ) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس سورت کا آغاز ان کے اس طرز…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت نمبر 1 تا 2 مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی فرشتوں کی جنس میں سے بعض کو جیسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یا حفظۃ الوحی، جن کی طرف " ( فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) 72 ۔ الجن :27) میں اشارہ کیا ہے۔ 2 یہاں ' روح " سے مراد وحی الٰہی ہے جو خدا کی طرف سے پیغمبروں کی طرف غیر مرئی طریق پر بطور ایک بھید کے آتی ہے۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا (يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ) 40 ۔ غافر :15) ایک جگہ قرآن کی نسبت فرمایا (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا) 42 ۔ الشوری :52) قرآن یا وحی الٰہی کو " روح " سے تعبیر فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح مادی اجسام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 روح کے مختلف معانی :۔ روح کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہوا ہے : 1۔ روح بمعنی وہ لطیف جوہر جو جاندار میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے اس جاندار کے اعضاء وجوارح حرکت کرتے ہیں اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو جاندار بےجان ہوجاتا یا مرجاتا ہے جس طرح اس روح کی حقیقت کا علم انسان کو بہت کم دیا گیا ہے اسی طرح روح کے معانی پر احاطہ کرنا بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ (17: 85) 2۔ روح بمعنی فرشتہ جیسے فرمایا : (فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا 17؀) 19 ۔ مریم :17) (یعنی ہم نے مریم کی طرف اپنی روح یا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل بن گیا) روح سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یعنی انبیاء ومرسلین پر۔ (آیت) ” من یشآء “ نے ظاہر کردیا کہ نبوت عطیہ الہی ہے، امر استحقاقی نہیں۔ (آیت) ” بالروح “۔ روح سے مراد یہاں وحی الہی ہے۔ بالروح ای بالوحی (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ المراد من الروح الوحی وھو کلام اللہ (کبیر) (آیت) ” من امرہ “۔ میں اس کی تاکید ہے کہ یہ نزول ملائکہ ونزول وحی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے، کوئی اور اس میں دخیل نہیں۔ یعنی ان ذلک التنزیل والنزول لایکون الا بامر اللہ تعالیٰ (کبیر) فرشتوں کا قرآن مجید میں جہاں جہاں ذکر ہے، وہاں برابر اسی طرح کی قیدیں لگا دی ہیں۔ مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ فرشتے اپنی طرف سے کسی امر میں سبقت کی مجال نہیں رکھتے، پابند ہیں تمامتر حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ینزل الملئکۃ بالروح وہ روح دے کر فرشتوں کو اتارتا ہے۔ روح سے مراد ہے : وحی یا قرآن۔ قرآن سے مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں (جیسے روح کے تعلق سے بےجان جسم زندہ ہوتے ہیں) ۔ من امرہ علی من یشآء من عبادہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ‘ یعنی جن کو رسول بنانا چاہتا ہے۔ ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون کہ خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ‘ سو مجھ سے ڈرتے رہو۔ اَنْذِرُوْآ (ثلاثی مزید متعدی) بتادو ‘ اطلاع دے دو ۔ نَذَرْتُ ھٰکَذَا (ثلاثی مجرد لازم) میں نے ایسا جانا ‘ مجھے ایسا علم ہوا۔ اَنْ تفسیریہ ہے کیونکہ روح سے مراد وحی ہے ‘ یعنی ملائکہ کو ہم اپنے منتخب بندوں کے پاس یہ وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) اللہ تعالیٰ جبریل امین ؑ اور دوسرے فرشتوں کو نبوت واسلام یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہیں یعنی رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام پر نازل فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور قرآن حکیم پڑھ کر ان کو سناؤ تاکہ وہ اس بات کے قائل ہوجائیں کہ میرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو وہ میری ہی اطاعت کریں اور مجھ ہی سے ڈرتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ : ملائکہ سے مراد جبریل ؑ اور ان کے ساتھ وحی کے محافظ فرشتے ہیں۔ صرف جبریل ؑ بھی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ کسی بڑی شخصیت کے لیے جمع کا لفظ بھی بول لیا جاتا ہے۔ ”اَلرُّوْحُ“ سے مراد وہ چیز جس سے زندگی حاصل ہوتی ہے، یہاں مراد وحی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی اسی سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسا کہ فرمایا : (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا) [ الشوریٰ : 52 ] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی۔“ یہاں بھی ”“ سے مراد وحی ہے۔ ”اَمْرِهٖ“ یعنی فرشتے اس کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔ دیکھیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 2 مفضل نے عاصم سے تنزل الملائکۃ پڑھا ہے اور یہ اصل میں تتنزل تھا، پس فعل کو ملائکہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اور کسائی نے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے اس سے مختلف قرأت کی ہے، اور اعمش نے تنزل الملائکۃ فاعل کا ذکر کئے بغیر (فعل مجہول) پڑھا ہے۔ اور جعفی نے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے تنزل الملائکۃ نون کے ساتھ اور فعل معروف کے ساتھ قرأت کی ہے، اور باقیوں سے ینزل یا اور فعل معروف کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے اسم کے لئے ہے۔ اور حضرت قتادہ سے تنزل الملائکۃ نون اور تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔ اور اعمش نے تنزل تا کے فتحہ اور زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ نزول سے ماخوذ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ 2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔ 3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔ 4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُنَزِّلُ : وہ اتارتا ہے ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةَ : فرشتوں کو ] [ بِالرُّوْحِ : روح ( یعنی وحی) کے ساتھ ] [ مِنْ اَمْرِهٖ : اپنے حکم سے ] [ عَلٰي مَنْ :: اس پر جس پر ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ مِنْ عِبَادِهٖٓ: اپنے بندوں میں سے ] [ ان : کہ ] [ انذِرُوْٓا : تم لوگ خبردار کرو ] [ انهٗ : (کہ) حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّآ : سوائے اس کے کہ ] [ انا : میں ہوں ] [ فَاتَّقُوْنِ : پس تم لوگ میرا تقوٰی کرو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (یُنَزِّلُ الْمَلآءِکَۃَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ ) (وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فرشتوں کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر نازل فرماتا ہے کہ اس بات سے باخبر کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم مجھ سے ڈرو) مفسرین نے روح سے وحی مراد لی ہے اور من امرہ کو اس کا بیان قرار دیا ہے اور ملائکہ سے جنس کے طور پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے آیت شریفہ میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ پر چاہے وحی بھیج دیتا ہے اور وحی بھیجنا اس لیے ہے کہ وحی لانے والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخاطبین کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

آغاز سورت بو عید و تہدید بر منکرین توحید قال اللہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ .... الیٰ .... لا الہ الا انا فاتقون۔ یہ سورت چونکہ زیادہ تر دلائل توحید پر مشتمل ہے جس سے مقصود مشرکین کا رد ہے اس لیے اس سورت کا آغاز وعید و تہدید سے کیا گیا تاکہ مشرکین متوجہ ہوجائیں اور غور سے دلائل توحید کو سنین۔ کیونکہ توحید ہی دین کی اصل بنیاد ہے۔ اور اسی پر انبیاء (علیہ السلام) کا اتفاق ہے اور انبیاء (علیہ السلام) نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید ہی کی دعوت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ مشرکین عرب کو دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈرایا کرتے تھے اس پر مشرکین یہ کہتے کہ وہ عذاب اور قیامت جس سے آپ ﷺ ہم کو ڈراتے رہتے ہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ یہ دعوی توحید کا ذکر ہے جس کے انکار کی وجہ سے عذاب آیا ” الرُّوْحُ “ یعنی وحی یہاں اس سے مسئلہ توحید مراد ہے جیسا کہ ” اَنْ اَنْذِرُوْا “ سے اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ یہی مضمون ایک دوسری آیت میں بھی مذکور ہے۔ ” یُلْقِی الرُّوْحَ عَلیی مَنْ یَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ “ (مؤمن رکوع 2) ۔ وحی کو روح اس لیے کہا گیا کہ اس سے مردہ دلوں کو حیات جاودانی حاصل ہوتی ہے اور مسئلہ توحید کو روح سے تعبیر کیا گیا کیونکہ توحید باری تعالیٰ دین میں بمنزلہ روح ہے۔ جس طرح روح پر بدن کی زندگی منحصر ہے اور روح کے بغیر بدن لاشہ مردار ہے اسی طرح توحید تمام احکام شرعیہ اور اعمال صالحہ کی جان ہے اور توحید کے بغیر تمام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔ اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔ (مضامین سورة ) گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ۝ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–2

ترکیب : اتی صیغہ ماضی مگر معنی میں مستقبل کے ہے۔ ہ ضمیر امراللّٰہ کی طرف راجع ہے بالروح ای بالوحی موضع نصب میں حال ہو کر ملائکہ سے ای و معہ الروح من امرہ روح سے حال ہے۔ ان انذرو بمعنی ای لان الوحی یدل علی القول فیفسربان۔ انہ الخ جملہ محل نصب میں ہے مفعول انذروا ہوکر۔ تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن، عکرمہ، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابی قتادہ کا بھی یہی قول ہے اس کی ایک سو اٹھائیس آیتیں ہیں رسول خدا ﷺ مشرکین عرب کو خدا کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے کہ وہ دنیا میں بھی عنقریب آنے والا ہے۔ منکرین کہتے تھے کہ ابھی تو نہیں آیا اگر تو سچا ہے تو جلد بھیج۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ کیا ہوتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْ ٓا اَنَّـہٗ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ۔ (سورۃ النحل : 2) (وہ اتارتا ہے فرشتوں کو روح دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ ) روح کا مفہوم اس آیت کریمہ میں روح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ اور اسے روح کا نام شاید اس لیے دیا گیا ہے کہ جس طرح روح سے ہر جاندار زندہ اور طاقتور ہے اور اپنی زندگی کے معمولات انجام دیتا ہے، اسی طرح روحانی اور اخلاقی زندگی کے لیے بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک اور نقص سے مبرا ہونے کی وجہ سے اکیلا ہی معبودِ حق ہے۔ رسول معظم ﷺ کی نبوت کا انکار کفار کئی قسم کے اعتراضات اور بہانوں سے کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک اعتراض اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ نے واقعی عرب سے کسی کو رسول بنانا ہوتا تو وہ طائف یا مکہ کے فلاں امیر زادے کو رسول نامزد کرتا۔ اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ ایک یتیم اور مالی اعتبار سے کمزور شخص کو اپنا رسول بناتا۔ اس کا جواب دوسرے مقامات پر مختلف الفاظ اور انداز میں دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اعلیٰ اور ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے۔ اس لیے اسے نہ کسی کے مشورے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وحی ٔ نبوت اللہ کا عطیہ ہے : 2: یُنَزِّلُ الْمَلٰٓپکَۃَ (وہ فرشتوں کو اتارتا ہے) قراءت : مکی اور ابو عمرو نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ بِالرُّوْحِ (روح کے ساتھ) یعنی وحی کے ساتھ نمبر 2۔ قرآن کے ساتھ۔ کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک دین میں اس طرح ہے جیسے جسم میں روح۔ نمبر 2۔ وہ جہالت سے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْا (اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ تم خبردار کردو ! ) انؔ مفسرہ ہے کیونکہ فرشتوں کا وحی کے ساتھ اتار نا اس میں قول کا معنی پایا جاتا ہے اور انذروا انہ لا الہ الا انا کا معنی یہ ہے : اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(2) ینزل الملائکۃ “ عام قراء نے یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ ” والملائکۃ “ منصوب ہے۔ یعقوب نے تاء کے فتحہ کے ساتھ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ اور والملائ کہ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” بالروح “ اس سے مراد وحی ہے اس کو روح کے ساتھ تعبیر کیا کیونکہ اس سے دل اور حق زندہ ہوتا ہے۔ عطاء (رح) کا قول ہے کہ نبوت مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد رحمت ہے۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں روح سے مراد مع الروح ہے اس سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” من امرہ علی من یشاء من عبادہ ان انذرو “ تم جان لو۔ ” انہ لا الہ الا انا فاتقون “ اس کا معنی ہے کہ ان کو حکم کرو، اس فرمان ( لا الہ الا اللہ) کے ساتھ اور ڈرائو،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

2۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ خبر دی گئی تھی کہ قیامت بہت قریب ہے اور لوگ جو جلدی کرتے تھے ان سے کہا گیا تھا کہ جلدی نہ کرو اس آیت میں قیامت کی سختیوں سے نجات پانے کا جو انتظام اللہ کی طرف سے فرمایا گیا ہے اس کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے پاس فرشتے وحی لے کر بھیجتا ہے تاکہ اللہ کے رسول آسمانی کتاب کے موافق ایماندار لوگوں کو یہ جتلا دیویں کہ سوا اللہ کے اور کوئی دوسرا معبود لائق عبادت کے نہیں تم لوگ شرک سے ڈرتے رہو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق روح کے معنے یہاں وحی کے ہیں کیوں کہ جس طرح سارے بدن کو روح سے ترو تازگی ہے اور حیات قائم ہے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے : (اتی امر اللہ فلاتسفعجوہ) ” اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں “ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (سبحنہ و تعلی عما یشرکون) ” وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بنات یہیں “ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3۔ روح اور قلب کی زندگی وحی الہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اتارتا ہے فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے حکم سے اور روح سے یہاں پر مراد وحی الہی ہے اور اس کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح اور قلب کی زندگی وحی الہی سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے طرح طرح کی خوراکوں کا سامان و انتظام فرمایا، اسی طرح اس نے اس کے قلب وروح کی زندگی کے لئے وحی کا انتظام بھی فرمایا، کہ اسی پر اس کی معنوی اور روحانی زندگی موقوف ہے، اور اسی بات کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

اللہ کے امر (عذاب) کا پیغام تشریح : یہ آیات کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں آخری زمانہ اور مدینہ کے شروع میں نازل ہوئیں۔ اور آپ کا زمانہ قیامت کے قریب کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اور دوسری بات ان کو یہ بھی سمجھا دو کہ اللہ کی اپنی مرضی ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے چن کر قوم کے لیے رسول بنا بھیجے اس کا چنائو دولت اور مرتبہ پر نہیں بلکہ شرافت اور پرہیزگاری پر ہوتا ہے پھر وہ اپنے اس برگزیدہ بندے پر فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے، کیونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا صبر کرو بڑی جلد تمہیں اپنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 6 اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خالق ہے اور زمین و آسمان کی ہر ہستی اور ہر چیز مخلوق، پھر خالق و مخلوق یکساں کیسے ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 1–2

اتی۔ اتی یاتی اتیان۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے اور ایسی متعدد مثالیں قرآن مجید میں ہیں۔ قطعی طور پر وقوع پذیر ہونے والی اور قریب تر ہونے والی بات کو ماضی کے لفظوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا سمجھو کہ یہ بات ہو ہی چکی۔ اتی امر اللہ۔ اللہ کا حکم آن ہی پہنچا۔ (یعنی بہت جلد آنے والا ہے اور ضرور بالضرور آئے گا۔ امر اللہ ۔ خدا کا حکم۔ اس سے مفسرین نے متعدد معانی مراد لئے ہیں۔ (1) امر سے مراد سزائے کفروشرک کا حکم ہے۔ یہ سزا (عذاب) دنیوی بھی ہوسکتی ہے اور اخروی بھی ۔ (2) اس سے مراد روز قیامت ہے۔ (3) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسلمانوں کو فتح وظفر ہوگی۔ اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 اتی آگیا۔ امر اللہ اللہ کا حکم۔ لاتستعجلوہ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الروح جبرئیل امین۔ وحی ۔ خصیم جھگڑا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر کفار مکہ سے یہ فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری رسول ہوں جو تعلیمات میں لے کر آیا ہوں ان پر ایمان لے آؤ تو تمہیں اس دنیا کی سربلندی اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر و شرک ، بری رسموں اور خرافات سے چمٹے رہے اور تم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو کہیں تم پر وہی عذاب نہ آجائے جو نبیوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

خواص سورة النحل : اگر کوئی دشمن کے خوف اور پریشانی میں ہو وہ ایک سو آٹھ مرتبہ اس سورة کو پڑھے تو تمام دشمنوں سے امن میں رہے گا اور دشمن پریشان ہوں گے۔ اس سورة کو جو کوئی شخص پڑھتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب قبر اور عذاب حشر سے دور رکھے گا۔ شرک کی ممانعت سورۃ نحل مکیہ کہلاوے گی کیونکہ شروع کی آیتیں مکی ہیں اس سورة کا نام نحل اس وجہ سے ہے کہ اس میں نحل کا ذکر ہے۔ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ دوسرا نام اس سورة کا سورة نعم بھی ہے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کہتے تھے کہ عذاب آتا کیوں نہیں اور یہ بھی کہتے اگر بالفرض عذاب آیا بھی تو وہ معبود جن کی ہم پرستش…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] نبی ﷺ جب کفار مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس بات کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں اگر تم نے اسے قبول نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں۔ اس پر ارشاد ہوا کہ عذاب الٰہی کا فیصلہ ہوچکا ہے لہذا اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ۔ سنت الٰہی چلی آرہی ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی میں یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ رسول حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لئے ایک کسوٹی اور اتمام حجت کا آخری…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

(ف 2) یعنی نبوت اللہ کی بخشش وموہبت ہے ، اس میں کسب واکتساب کو دخل نہیں ، یہ اللہ کا دین ہے جسے چاہے ، دیدے ، روح سے مراد وحی ہے ، یا جبرائیل ہے جو حامل وحی ہیں ، غرض یہ ہے کہ فرشتے جب نبوت کا خلعت لے کر آتے ہیں تو ان کی تلقین یہی ہوتی ہے کہ ایک خدا کے سامنے جھکو ایک اللہ کی عبادت کرو ، وہ شرک کی تائید کے لئے نہیں آتے ۔ غیر اللہ کی پرستش کے لئے وہ نہیں کہتے ان کا نصب العین توحید کی اشاعت اور اطاعت الہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2 ۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس پر فرشتوں کو اپنے حکم سے وحی اور بھید دیکر بھیجتا اور نازل کرتا ہے وہ یہ کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو مجھ سے ڈرتے ہو ۔ یعنی اپنے حکم سے انبیاء پر فرشتوں کے ذریعہ احکام نازل فرماتا ہے۔ بعض حضرات نے روح سے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے اور امر سے وحی کو مراد لیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو فرشتوں کے ساتھ یا جبرئیل (علیہ السلام) کو جو فرشتوں کی جنس سے ہیں اپنا حکم دیکر بھیجتا ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

ف 4۔ اس میں یہ امر ظاہر فرمادیا کہ توحید تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت مشترکہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے : 3۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نبوت جب تک جاری تھی عطیہ الہی تھی امر استحقاقی نہیں تھی اور روح سے اس جگہ مراد وحی الہی ہے یعنی نزول ملائکہ ونزول وحی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے کوئی اور اس میں دخیل نہیں ہے ، جس طرح روح سے ہرچیز کی زندگی ہے اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ وحی الہی حیات بخش ہے ۔ زندہ ہونے کو تو لوگ قرآن کریم سے پہلے بھی زندہ تھے لیکن اس روح پاک کے نزول کے بعد حجاز کے صحراؤں میں جس حسین و جمیل زندگی کے چمنستان آباد ہوئے اس سے تو دنیا کی نگاہیں آشنانہ تھیں کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی بنا کر بھیجنا ہی تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

The Name of the Surah This Surah has been called Al-Nahl, that is, the honey bee because it mentions it as a unique Divine marvel. Another name for this Surah is Surah Al-Ni` am. (Qurtubi) The word Ni'am is the plural of Ni'mah (blessing) because the great blessings of Allah Ta’ ala have been particularly mentioned in this Surah. Commentary The Surah begins without any particular introduction with a direct, stern and awesome note of warning. The reason behind it was the saying of the polytheists that Muhammad (al-Mustafa ﷺ) keeps warning them of the day of Qiyamah and the punishment of Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3. This means the Spirit of Prophethood with which a Prophet is imbued in order to fulfill his mission by word and deed. The Quran has called this the Spirit in several places, for this has the same relation to the mission of a Prophet and his moral life, which the soul has to the physical human life. 4. As one of the things, which prompted the disbelievers to challenge the Prophet (peace be upon him) for scourge, was their presumption that he was not a true Prophet. Allah told them categorically that he was a true Prophet who had been imbued with the Spirit which We had sent down on…

Read the full tafseer →