عذاب کا شوق جلد پورا ہو گا
اللہ تعالیٰ قیامت کی نزدیکی کی خبر دے رہا ہے اور گو یا کہ وہ قائم ہوچکی۔ اس لئے ماضی کے لفظ سے بیان فرماتا ہے جیسے فرمان ہے لوگوں کا حساب قریب آچکا پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اور آیت میں ہے قیامت آچکی۔ چاند پھٹ گیا۔ پھر فرمایا اس قریب والی چیز کے اور قریب ہونے کی تمنائیں نہ کرو۔ ہ کی ضمیر کا مرجع یا تو لفظ اللہ ہے یعنی اللہ سے جلدی نہ چاہو یا عذاب ہیں یعنی عذابوں کی جلدی نہ مچاؤ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں مگر ہماری طرف سے اس کا وقت مقرر نہ ہوتا تو بیشک ان پر عذاب آجاتے لیکن عذاب ان پر…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 1
یعنی بس وہ آیا ہی چاہتا ہے۔ اس کے ظہور و نفاد کا وقت قریب آ لگا ہے۔۔۔۔۔ اس بات کو صیغہ ماضی میں یا تو اس کے انتہائی یقینی اور انتہائی قریب ہونے کا تصور دلانے کے لیے فرمایا گیا، یا پھر اس لیے کہ کفار قریش کی سرکشی و بدعملی کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اور آخری فیصلہ کن قدم اٹھائے جانے کا وقت آگیا تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ”فیصلہ“ کیا تھا اور کس شکل میں آیا ؟ ہم یہ سمجھتے ہیں (اللہ اعلم بالصواب) کہ اس فیصلے سے مراد نبی ﷺ کی مکہ سے ہجرت ہے جس کا حکم تھوڑی مدت بعد ہی دیا گیا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوتا ہے ان کے حجود و انکار کی آخری سرحد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
اس سورة کا نام سورة نحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صنعت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے اس کا دوسرا نام سورة نعم بھی ہے (قرطبی) نعم بکسر نون نعمت کی جمع ہے اس لئے کہ اس سورة میں خاص طور پر اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے۔
خدا تعالیٰ کا حکم (یعنی سزائے کفر کا وقت قریب) آپہنچا سو تم اس میں (منکرانہ) جلدی مت مچاؤ (بلکہ توحید اختیار کرو اور اس کی حقیقت سنو کہ) وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرئیل) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں جس پر چاہیں (یعنی انبیاء (علیہم السلام) پر) نازل…
Read the full tafseer →اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔
جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید : نبی ﷺ جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈرا دے سنا رہے ہو۔ آگے آیت 33 میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو…
Read the full tafseer →1۔ 1 اس سے مراد قیامت ہے، یعنی وہ قیامت قریب آگئی ہے جسے تم دور سمجھتے تھے، پس جلدی نہ مچاؤ، یا وہ عذاب مراد ہے جسے مشرکین طلب کرتے تھے۔ اسے مستقبل کے بجائے ماضی کے صیغے سے بیان کیا، کیونکہ کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور دار اور تاثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہئے کہ اسے ابھی بھیج دے اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ اللہ) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس سورت کا آغاز ان کے اس طرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت نمبر 1 تا 2
مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر…
Read the full tafseer →11 یعنی خدا کا یہ حکم کہ " پیغمبر ﷺ کی جماعت غالب و منصور اور حق کے مخالف مغلوب و ذلیل ہوں گے، جنہیں دنیا میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں اور آخرت میں براہ راست احکم الحاکمین کے دربار سے شرک و کفر کی سزا ملے گی " اس حکم کے وقوع کا وقت قریب آپہنچا۔ اور قیامت کی گھڑی بھی دور نہیں ہے۔ جس چیز کا آنا یقینی ہو اسے آئی ہوئی سمجھنا چاہیے پھر جلدی مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ کفار ازراہ تکذیب و استہزاء کہا کرتے تھے کہ جس عذاب یا قیامت کے آنے کا تم وعدہ کرتے ہو، وہ جلد کیوں نہیں آجاتا انھیں متنبہ فرمایا کہ تمہارے ایسا کہنے سے وہ ٹلنے والا نہیں۔ بلکہ حتمی اور یقینی طور پر جلد آیا چاہتا ہے جس قدر دیر لگ رہی ہے وہ…
Read the full tafseer →آیت 1 اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ
جب ہم نے اپنا رسول بھیج دیا اور اس پر اپنا کلام بھی نازل کرنا شروع کردیا ہے تو گویا فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے۔ اب معاملہ صرف مہلت کے دورانیے کا ہے کہ ہمارے رسول اور ہمارے پیغام کا انکار کرنے والوں کو مشیت الٰہی کے مطابق کس قدر مہلت ملتی ہے۔ بہر حال اب جلدی مچانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا عذاب بس اب آیا ہی چاہتا ہے ‘ اس کے لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔
Read the full tafseer →1 قریش پر اللہ کے عذاب کی صورت اور اس کا آغاز ہجرت نبوی سے :۔ مشرکین مکہ اکثر رسول اللہ کو چڑانے کے لیے کہا کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو جیسے تم کہتے ہو، ہم پر اب تک عذاب آ کیوں نہیں گیا وہ دیکھ رہے تھے کہ پیغمبر کو عذاب کا وعدہ دیتے دس بارہ سال گزر چکے ہیں اور عذاب تو آیا نہیں لہذا یہ الفاظ گویا ان کا تکیہ کلام بن گئے تھے۔ اور اس بات سے وہ دو باتوں پر استدلال کرتے تھے۔ ایک اپنے مشرکانہ مذہب کی سچائی پر اور دوسرے پیغمبر اسلام کی نبوت کی تکذیب پر۔ انھیں باتوں کے جواب سے اس سورت کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلی بات کا جواب یہ دیا گیا کہ عذاب کا آنا یقینی ہے اس کے لیے جلدی مچانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جلد…
Read the full tafseer →1۔ (اے منکرو ! ) منکرین بار بار شرارت وطعن کی راہ سے کہا کرتے تھے کہ عذاب الہی اگر فی الواقع کوئی چیز ہے، تو آکیوں نہیں جاتا، اس میں آخر اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے ؟ جواب اسی کا ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” امر اللہ “۔ یعنی سزائے کفر وشرک کا حکم الہی۔۔ مراد عذاب دنیوی بھی ہوسکتا ہے اور عذاب قیامت بھی، قریب تو دونوں ہی عذاب آچکے۔ ذلک وعید من اللہ لاھل الشرک بہ اخبرھم ان الساعۃ قدقربت وان عذابھم قد حضر اجلہ فدنا (ابن جریر) ھو تھدید من اللہ اھل الکفر بہ وبرسولہ واعلام منہ لھم قریب العذاب منھم والھلاک (ابن جریر) فالمراد بہ علی قول الجمھور یوم القیامۃ (روح) وعن ابن جریح تفسیر بنزول العذاب فقط فقال المراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس…
Read the full tafseer →اتی امر اللہ اللہ کا حکم آپہنچا ‘ یعنی قریب آگیا۔ ابن عرفہ نے کہا : جس چیز کی (یقینی) توقع ہو ‘ عرب اس کیلئے کہتے ہیں : وہ چیزہو گئی۔ آیت میں امر الٰہی کے قریب الوقوع یا یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے مجازاً ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ جو بات آئندہ یقینی طور پر ہونے والی ہو اور اس کا ہونا لازم ہو ‘ اس کو بصیغۂ ماضی بیان کردیتے ہیں (صیغۂ ماضی سے اشارہ اس امر کی طرف ہوتا ہے کہ یہ کام ضرور ہوگا اور عنقریب ہوگا۔ مترجم) اَمْرُ اللّٰہِ سے مراد ہے : قیامت کا آنا (کلبی وغیرہ) مراد یہ ہے کہ قیامت کا آنا ضروری ہے۔ تم اس کا یقین رکھو اور یہ سمجھو کہ گویا آگئی ‘ اسلئے تیاری کرو۔
فلا تستعجلوہ اس کے جلد آجانے…
Read the full tafseer →(1) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ (آیت) ”اقترب للناس حسابھم“۔ (الخ) اور ”۔ اقتربت الساعۃ“۔ نازل ہوئی تو کچھ زمانہ تک جتنا کہ خدا کو منظور تھا یہ کفار رکے رہے اور کچھ نہیں بولے، اس کے بعد انہوں نے کہا اے رسول اللہ ﷺ وہ عذاب کب آئے گا جس کا آپ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔
ان کی اس بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آپہنچا، رسول اکرم ﷺ تشریف فرما تھے یہ سمجھ کر ابھی عذاب نازل ہو رہا ہے، گھبرا کر کھڑے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، عذاب کے اترنے کی جلدی مت کرو، تب رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند ہے کہ نہ اس کی کوئی اولاد…
Read the full tafseer →اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ :”اَمْرُ اللّٰهِ“ سے مراد قیامت ہے اور مشرکین پر مختلف قسم کے عذاب کا نزول بھی ہے اور ”اَتٰٓى“ (آ گیا) سے مراد بالکل قریب آنا ہے، کیونکہ آ ہی چکا ہو تو پھر کفار کی طرف سے اسے جلدی لانے کا مطالبہ بےمعنی ہے۔
فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : مشرکین قیامت یا عذاب کا ذکر آنے پر مذاق اڑانے کے لیے اسے فوراً لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ دیکھیے سورة انفال (32) اور سورة عنکبوت (53 تا 55) لفظ ماضی ”اَتٰٓى“ (آگیا) کا مطلب ہے کہ اس کا آنا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو آ ہی چکا، اس لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ بالکل قریب ہے اور طے شدہ وقت پر آجائے گا۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ مسلمان بھی بعض اوقات پریشان ہو کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
قولہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ کہا گیا ہے کہ اس میں اتی بمعنی یأتی ہے، (یعنی آ رہا ہے) اور یہ تیرے اس قول کی طرف ہے : إن اکرمتنی أکرمتک (اگر تو نے میری عزت کی تو میں تیری تکریم کروں گا) ۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ماضی اور مستقبل میں خبر دینا برابر ہے، کیونکہ وہ لامحالہ ہو کر رہنے والا ہے، جیسا کہ اس کا قول ہے : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (الاعراف :44) اور امر اللہ سے مراد اسکے لئے اس کی سزا اور عقاب ہے جو شرک کرنے اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے پر قائم رہا۔ حسن، ابن جریج اور ضحاک نے کہا ہے : امر سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے فرائض و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔
2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔
3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔
4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص…
Read the full tafseer →[اَتٰٓى: ا ] [ اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم ] [ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ : پس تم لوگ جلدی مت مچائو اس کی ] [سُبْحٰنَهٗ : پاکیزگی اس کی ہے ] [ وَتَعٰلٰى: اور وہ بلند ہوا ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يُشْرِكُوْنَ : یہ لوگ شریک کرتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: اَتٰی ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے معنی یہی ہیں کہ ” وہ پہنچا “۔ اس لئے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن عربی کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ مستقبل میں ہونے والی کسی بات کو یقینی بنانے کے لئے مستقبل کے بجائے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3) یہاں آیت نمبر۔ 1 میں اَتٰی اسی انداز میں آیا ہے۔ اس کی توثیق آیت کے اگلے حصے…
Read the full tafseer →قیامت کا آنا یقینی ہے، انسان بڑا جھگڑالو ہے
یہاں سے سورة نحل شروع ہے اس میں عموماً اللہ کی توحید بیان کی گئی ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اور مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی ہیں، اس میں ایک جگہ شہد کی مکھی کے گھر بنانے اور پھلوں کو چوسنے اور اس سے شہد پیدا ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے، شہد کی مکھی کو عربی میں نحل کہتے ہیں اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النحل رکھا گیا۔
مذکورہ بالا آیت میں معاد یعنی قیامت اور توحید و رسالت اور آسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا (اَتآی اَمْرُاللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ ) (اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آغاز سورت بو عید و تہدید بر منکرین توحید
قال اللہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ .... الیٰ .... لا الہ الا انا فاتقون۔
یہ سورت چونکہ زیادہ تر دلائل توحید پر مشتمل ہے جس سے مقصود مشرکین کا رد ہے اس لیے اس سورت کا آغاز وعید و تہدید سے کیا گیا تاکہ مشرکین متوجہ ہوجائیں اور غور سے دلائل توحید کو سنین۔ کیونکہ توحید ہی دین کی اصل بنیاد ہے۔ اور اسی پر انبیاء (علیہ السلام) کا اتفاق ہے اور انبیاء (علیہ السلام) نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید ہی کی دعوت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ مشرکین عرب کو دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈرایا کرتے تھے اس پر مشرکین یہ کہتے کہ وہ عذاب اور قیامت جس سے آپ ﷺ ہم کو ڈراتے رہتے ہیں۔ وہ…
Read the full tafseer →2:۔ حصہ اول۔ نفی شرک فی التصرف۔ یہ مقصود سورت کا ذکر ہے۔ یعنی تم دعوت توحید کا انکار، پیغمبر خدا ﷺ کی تکذیب کرتے اور عذاب مانگتے ہو لو تیار ہوجاؤ عذاب الٰہی آنے کو ہے۔ ” اَمْرُ اللّٰهِ “ یعنی اللہ کا عذاب۔ وامر اللہ عقابہ لمن اقام علی الشرک و تکذیب رسولہ (قرطبی ج 10 ص 65) ۔
3:۔ اللہ تعالیٰ شریکوں سے پاک ہے لہذا تم بھی اسے شریکوں سے پاک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ کیونکہ یہ شرک ہی عذاب کا سبب ہے۔ ” عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ میں مَا سے معبودانِ باطلہ مراد ہیں اور اس کے بعد ” فَلَا تُشْرِکُوْا بِهٖ اَحَدًا “ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر شریک سے پاک ہے لہذا کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔
اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔
(مضامین سورة )
گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم :
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد…
Read the full tafseer →اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :
إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123]
( ا م ر ) الامر
( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : اتی صیغہ ماضی مگر معنی میں مستقبل کے ہے۔ ہ ضمیر امراللّٰہ کی طرف راجع ہے بالروح ای بالوحی موضع نصب میں حال ہو کر ملائکہ سے ای و معہ الروح من امرہ روح سے حال ہے۔ ان انذرو بمعنی ای لان الوحی یدل علی القول فیفسربان۔ انہ الخ جملہ محل نصب میں ہے مفعول انذروا ہوکر۔
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن، عکرمہ، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابی قتادہ کا بھی یہی قول ہے اس کی ایک سو اٹھائیس آیتیں ہیں رسول خدا ﷺ مشرکین عرب کو خدا کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے کہ وہ دنیا میں بھی عنقریب آنے والا ہے۔ منکرین کہتے تھے کہ ابھی تو نہیں آیا اگر تو سچا ہے تو جلد بھیج۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ کیا ہوتا…
Read the full tafseer →اَتٰٓی اَمْرُاللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْن۔ (سورۃ النحل : 1)
(امرِالٰہی صادر ہوچکا ہے، پس اس کے لیے عجلت نہ کرو، وہ پاک ہے اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں۔ )
عذاب مانگنے والوں کو وعید
گزشتہ سورت میں یہ مضمون بار بار گزرا ہے کہ قریش کی سرکشی کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ انھیں ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش فرماتے اور جب دیکھتے کہ ان کی گردنیں کسی طرح خم نہیں ہو رہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے بالکل تیار نہیں بلکہ روز بروزوہ اپنی سرکشی اور دین دشمنی میں حدود سے تجاوز کرتے جارہے ہیں اور کوشش ان کی یہ ہے کہ دعوت اِلیٰ اللہ کے اس کام کو ہر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة الحجر کا اختتام ان آیات پر ہوا ہے کہ مشرکین سے مزید بحث و تکرار کرنے کی بجائے اعراض کیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ان کی کٹ حجتیاں اور استہزا کے مقابلے میں کافی ہے یہ لوگ جو ہرزہ سرائی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس سے آپ کا دل پسیجتا ہے۔ بس آپ اپنے رب کو یاد کرتے رہیں اور کفار کو تنبیہ کریں کہ جس بات کی تم جلدی کرتے ہو وہ آن پہنچی ہے۔
رسول معظم ﷺ مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیے رکھا تو اس کا عذاب تمہیں آلے گا۔ لیکن مشرکین آپ ﷺ کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ سال پر…
Read the full tafseer →آنے والے کو آیا سمجھو :
1: اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (آپہنچا اللہ کا حکم سو تم اس میں جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں ‘ وہ اپنے بندوں میں سے) قیامت کے قائم ہونے کا جو وعدہ کفار سے کیا گیا وہ اس کو جلد مانگتے تھے۔ اسی طرح نزول عذاب کے سلسلہ میں استہزاء و تکذیب کے طور پر جلدی کے طالب تھے۔ بدر کے دن وہ عذاب اترا۔ اس پر ان کو کہا گیا۔ اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا) یعنی وہ اسی طرح سمجھو کہ آکر واقع ہونے والا ہے (اگرچہ اس کا انتظار ہے) کیونکہ اس کا وقوع قریب ہے۔ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط…
Read the full tafseer →تفسیر (1)” اتی “ اللہ کا حکم آگیا اور قریب آگیا۔ ” امر اللہ “ ابن عرفہ نے کہا کہ جس چیز کی یقینی توقع ہو عرب اس کے لیے کہتے ہیں وہ چیز ہوگئی یا وہ کام بعد میں متوقع پذیر ہونے والا ہو اس کو ماضی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کا امر آگیا۔ ” فلا تستعجلوہ “ اس کے وقوع پذیر ہونے میں جلدی نہ کرو۔ ” امر اللہ “ کلبی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ” اقتربت الساعۃ “ تو کفار ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شخص کہتا ہے کہ پچھلی گھڑی قریب آگئی تم اپنے بعض کاموں کو چھوڑ دو تاکہ تم بھی دیکھ لو کہ آخر کیا ہونے والا ہے۔ جب کوئی چیز نازل نہ ہوئی تو کہنے لگے تم جس چیز…
Read the full tafseer →1۔ معتبر سند سے تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس وقت سورت نحل کی یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ بھی ڈر گئے اور صحابہ بھی ڈر گئے اور سب نے جانا کہ قیامت آگئی اتنے میں دوسرا یہ ٹکڑا آیت کا نازل ہوا کہ جلدی نہ کرو 1 ؎۔ پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ میں اور قیامت یوں ملے ہوئے ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں مطلب آپ کا یہ ہے کہ جب نبی آخر الزمان آچکے تو پھر قیامت کے آنے میں اب کیا دیر ہے۔ یہ حدیث مختصر طور پر صحیح بخاری و مسلم میں بھی سہل بن سعد انس بن مالک ؓ اور ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے 2 ؎۔ جس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے : (اتی امر اللہ فلاتسفعجوہ) ” اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں “ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (سبحنہ و تعلی عما یشرکون) ” وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بنات یہیں “ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے…
Read the full tafseer →1۔ (امر اللہ) " اللہ کے حکم " سے مقصودومراد ؟ : یعنی قیام قیامت اور عذاب منکرین۔ (جامع البیان محاسن التاویل، ابن کثیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سو اس کو تم لوگ خواہ کتناہی دور اور بعید سمجھو وہ بہرحال قریب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ (اقترب للناس حسابہم وہم فی غفلۃ معرضون) ۔ (الانبیاء : 1) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا۔ (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) ۔ (القمر : 1) اور جب کہ ہر آدمی کی قیامت اس کی موت ہی ہے، جس کے بعد اس کے لیے تیاری وغیرہ کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔ تو ہر شخص کی قیامت بہر حال اس کے قریب اور بہت ہی قریب ہے کہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کی موت کب، کہاں اور کیسے آئے گی۔ نیز (امر اللہ) "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ کے امر (عذاب) کا پیغام
تشریح : یہ آیات کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں آخری زمانہ اور مدینہ کے شروع میں نازل ہوئیں۔ اور آپ کا زمانہ قیامت کے قریب کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اور دوسری بات ان کو یہ بھی سمجھا دو کہ اللہ کی اپنی مرضی ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے چن کر قوم کے لیے رسول بنا بھیجے اس کا چنائو دولت اور مرتبہ پر نہیں بلکہ شرافت اور پرہیزگاری پر ہوتا ہے پھر وہ اپنے اس برگزیدہ بندے پر فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے، کیونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا صبر کرو بڑی جلد تمہیں اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اس کے آنے میں کوئی دیر نہیں ہے یہاں ” امر “ سے مراد قیامت ہے اور مشرکوں پر مختلف انواع کے عذاب کے نزول کا وقت بھی ہوسکتا ہے۔ (روح)
4 مشرکین کو جب عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو وہ استہزاء کے طور پر اس کے فوراً آجانے کا مطالبہ کرتے۔ (دیکھیے انفال :22) یہاں ان کو تنبیہ کی گئی ہے۔
5 عذاب کی جلد ہی نہ آنے کی وجہ سے وہ اللہ کی طرف عجز و احتیاج کی نسبت کرتے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس قسم کے امور کی نسبت کرنا شرک کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اس قسم کی مشرکانہ باتوں سے بلندو برتر ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اتی۔ اتی یاتی اتیان۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے اور ایسی متعدد مثالیں قرآن مجید میں ہیں۔ قطعی طور پر وقوع پذیر ہونے والی اور قریب تر ہونے والی بات کو ماضی کے لفظوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا سمجھو کہ یہ بات ہو ہی چکی۔
اتی امر اللہ۔ اللہ کا حکم آن ہی پہنچا۔ (یعنی بہت جلد آنے والا ہے اور ضرور بالضرور آئے گا۔
امر اللہ ۔ خدا کا حکم۔ اس سے مفسرین نے متعدد معانی مراد لئے ہیں۔
(1) امر سے مراد سزائے کفروشرک کا حکم ہے۔ یہ سزا (عذاب) دنیوی بھی ہوسکتی ہے اور اخروی بھی ۔
(2) اس سے مراد روز قیامت ہے۔
(3) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسلمانوں کو فتح وظفر ہوگی۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
اتی آگیا۔ امر اللہ اللہ کا حکم۔ لاتستعجلوہ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الروح جبرئیل امین۔ وحی ۔ خصیم جھگڑا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر کفار مکہ سے یہ فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری رسول ہوں جو تعلیمات میں لے کر آیا ہوں ان پر ایمان لے آؤ تو تمہیں اس دنیا کی سربلندی اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر و شرک ، بری رسموں اور خرافات سے چمٹے رہے اور تم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو کہیں تم پر وہی عذاب نہ آجائے جو نبیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خواص سورة النحل : اگر کوئی دشمن کے خوف اور پریشانی میں ہو وہ ایک سو آٹھ مرتبہ اس سورة کو پڑھے تو تمام دشمنوں سے امن میں رہے گا اور دشمن پریشان ہوں گے۔ اس سورة کو جو کوئی شخص پڑھتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب قبر اور عذاب حشر سے دور رکھے گا۔
شرک کی ممانعت
سورۃ نحل مکیہ کہلاوے گی کیونکہ شروع کی آیتیں مکی ہیں اس سورة کا نام نحل اس وجہ سے ہے کہ اس میں نحل کا ذکر ہے۔ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ دوسرا نام اس سورة کا سورة نعم بھی ہے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈراتے تو وہ کہتے تھے کہ عذاب آتا کیوں نہیں اور یہ بھی کہتے اگر بالفرض عذاب آیا بھی تو وہ معبود جن کی ہم پرستش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] نبی ﷺ جب کفار مکہ کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس بات کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں اگر تم نے اسے قبول نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں۔ اس پر ارشاد ہوا کہ عذاب الٰہی کا فیصلہ ہوچکا ہے لہذا اس کے لئے جلدی نہ مچاؤ۔ سنت الٰہی چلی آرہی ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی میں یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ رسول حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لئے ایک کسوٹی اور اتمام حجت کا آخری…
Read the full tafseer →عذاب آچکا !:
(ف 1) حضور ﷺ مخالفین سے کہا کرتے تھے ، کہ اگر تمہارا کفر وعناد اسی طرح قائم رہا ، اور نفس کی ظغیانیوں میں کوئی فرق پیدا نہ ہوتا اور تم بدستور اللہ کی نعمتوں کو ٹھکراتے رہے ، تو یاد رکھو ، قانون انتقام برروئے کار آئے گا ، اور تمہیں بیخ وبن سے اکھاڑ دیا جائے گا ۔
وہ لوگ بار بار ازراہ تمسخر کہتے ، وہ عذاب کہاں ہے ؟ کیوں آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا ، اور کیوں زمین نہیں پھٹ جاتی ،
اللہ کی غیرت کیوں جوش میں نہیں آتی ؟ اور یہ کیا ہے کہ ہم باوجود نافرمانیوں کے زندہ ہیں ؟ کیا اللہ کو ہمارا کفر پسند ہے ، کیا ہم حق پر ہیں ؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، گھبراتے کیوں ہو ؟ جلدی نہ کرو ، عذاب آچکا ، اللہ…
Read the full tafseer →1 ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا سو اے منکرو اس کے لئے جلدی نہ کرو اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال کی سزا کا وقت قریب آگیا اور چونکہ اس وقت کا آنا ایک امر یقینی ہے اور اس کے وقوع میں کوئی شک کی گنجائش نہیں اس لئے فرمایا کہ وہ آ ہی گیا اور جو چیز یقینا آنے والی ہے اس کے لئے بےکار جلدی نہ بچائو اور اس کے لئے جلدی کا مطالبہ نہ کرو اور جب اعمال بد جس میں کفر و شرک بھی داخل ہیں ان اعمال کی سزا یقینی طور پر ملنے والی ہے تو شرک سے باز آ جائو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے ہیں وہ ان کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی سزائے کفر و شرک کا وقت قریب آپہنچا اور اس کا آنا یقینی ہے۔
3۔ یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کا حکم آگیا ؟ وہ کونسا حکم تھا جس کے متعلق آپ کو یقین دہانی کرائی گئی :
1۔ (امر اللہ) سے مقصود اللہ کی یہ ٹھہرائی ہوئی بات ہے کہ دعوت وحی کامیاب ہوتی ہے اور اس کی مخالف قوتیں ناکام رہتی ہیں ۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے ” قضائے بالحق “ اور ” شہادت الہی “ سے بھی تعیری کیا ہے ۔ منکر اس بات کی ہنسی اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ مچ کو ایسا ہونے والا ہے تو کیوں نہیں ہو چکتا ؟ یعنی کیوں اللہ کا حکم ظہور میں نہیں آجاتا ؟ ابتدائی عہد کی سورتوں میں کہا گیا تھا کہ قانون حق نے ہر بات کے لئے ایک وقت ٹھہرا دیا ہے اور وہ اپنے وقت ہی پر ظاہر ہوتی ہے اور اب اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
The Name of the Surah
This Surah has been called Al-Nahl, that is, the honey bee because it mentions it as a unique Divine marvel. Another name for this Surah is Surah Al-Ni` am. (Qurtubi) The word Ni'am is the plural of Ni'mah (blessing) because the great blessings of Allah Ta’ ala have been particularly mentioned in this Surah.
Commentary
The Surah begins without any particular introduction with a direct, stern and awesome note of warning. The reason behind it was the saying of the polytheists that Muhammad (al-Mustafa ﷺ) keeps warning them of the day of Qiyamah and the punishment of Allah…
Read the full tafseer →1. That is, the time for final judgment has come near. As regards to the use of the past tense in the original, this may be to show certainty of its occurrence in the near future or to emphasize the fact that the rebellion and the wrong deeds of the Quraish had become so unbearable that they warranted that the time for decisive action had come.
Here question arises as to what that judgment was and how it came. We are of the opinion (and true knowledge is with Allah alone) that that judgment was hijra (the migration) of the Prophet (peace be upon him) from Makkah. For a short time after this…
Read the full tafseer →