Al-Hijr 15:99

Al-Hijr · from ayah 99

15:99

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰی یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ ۟۠وَاعۡبُدۡ رَبَّكَ حَتّٰى يَاۡتِيَكَ الۡيَـقِيۡنُ

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And worship your Lord until there comes to you the certainty (death).

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:99

اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تم پر وہ چیز آجائے جس کا آنا یقینی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے پروردگار کی عبادت کیجئے تاآنکہ آپ کے پاس یقینی بات (موت) آجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو یہاں تک کہ امر یقینی تم پر آشکارا ہوجائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بندگی کرتے رہیں اپنے رب کی یہاں تک کہ آپہنچے آپ کو موت۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو امر یقین پیش آجائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے رب کی عبادت کیے جائیں یہاں تک کہ آپ کی موت کا وقت آجائے

— محترمہ رفعت اعجاز

and worship your Lord until the last moment (of your life) that will most certainly come.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and worship your Lord until comes to you that which is certain.

— Muhammad Taqi Usmani

and worship your Lord until comes to you that which is certain.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And worship your Lord until the certainty (i.e. death) comes to you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And serve thy Lord till the Inevitable cometh unto thee.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And worship your Lord until there comes to you the certainty (death).

— Saheeh International

Worship your Lord until you achieve the ultimate certainty.

— Muhammad Sarwar

And serve your Lord until there comes to you that which is certain.

— Muhammad Habib Shakir

And worship thy Lord until there cometh unto thee the certainty.

— Abdul Majid Daryabadi

And serve thy Lord until there come unto thee the Hour that is Certain.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:99

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 94–99

رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کا عبرتناک انجام حکم ہو رہا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بےجھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک حضور ﷺ پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کردی۔ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہوجائیں۔ تو ان سے مطلقا خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیری جانب اتارا گیا لوگوں کی برائی سے تجھے محفوظ رکھ لے گا۔ چناچہ ایک دن حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 53 یعنی تبلیغ حق اور دعوت اصلاح کی کوششوں میں جن تکلیفوں اور مصیبتوں سے تم کو سابقہ پیش آتا ہے، ان کے مقابلے کی طاقت اگر تمہیں مل سکتی ہے تو صرف نماز اور بندگی رب پر استقامت سے مل سکتی ہے۔ یہی چیز تمہیں تسلی بھی دے گی، تم میں صبر بھی پیدا کرے گی، تمہارا حوصلہ بھی بڑہائے گی، اور تم کو اس قابل بھی بنادے گی کہ دنیا بھر کی گالیوں اور مذمتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں اس خدمت پر ڈٹے رہو جس کی انجام دہی میں تمہارے رب کی رضا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

دشمنوں کی ایذاء سے تنگدلی کا علاج وَلَقَدْ نَعْلَمُ الی فَسَبِّحْ۔ سے معلوم ہوا کہ جب انسان کو دشمنوں کی باتوں سے رنج پہنچے اور دل تنگی پیش آئے تو اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبح و عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ خود اس کی تکلیف کو دور فرما دیں گیے۔ سورة حجر تمام شد

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–99

تفسیر آیات 97 تا 99: کفار کے طنز پر صبر و استقامت کی تلقین : وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (99)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے طنز و استہزاء پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حاصل کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے کہ حصول صبر و استقامت کے لیے اپنے رب کی تسبیح کرو، اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو تاآنکہ صبح یقین طلوع ہوجائے یعنی ہر وہ بات واقعہ ثابت ہو کے رہے جس کی تم لوگوں کو خبر دے رہے ہو۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

99۔ 1 مشرکین آپ کو ساحر، مجنون، کاہن وغیرہ کہتے جس سے بشری جبلت کی وجہ سے آپ کبیدہ خاطر ہوتے، اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ حمد وثنا کریں، نماز پڑھیں اور اپنے رب کی عبادت کریں، اس سے آپ کو قلبی سکون بھی ملے گا اور اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی، سجدے سے یہاں نماز اور یقین سے مراد موت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 95–99

34: اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزا ردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 97–99

آیت نمبر 97 تا 99 یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی موت۔ یقین کا لفظ دوسری جگہ قرآن نے اسی معنی میں استعمال کیا ہے (وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ 46؀ۙ حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ 47؀ۭ ) 74 ۔ المدثر :46) حدیث میں ایک میت کی نسبت آپ نے فرمایا۔ " اَمَّا ھوَ فَقَدْ جَآءَہُ الْیَقِیْنْ وَاِنِّی لَاَرْجُوْلَہ اَلْخَیْرَ " جمہور سلف نے اس آیت میں " یقین " کو بمعنی موت لیا ہے یعنی مرتے دم تک خدا کی عبادت میں لگے رہیے۔ اندریں رہ میتراش و میخراش تاد مِ آخر دمے فارغ مباش جن بعض عارفی نے اس جگہ " یقین " کو کیفیت قلبیہ کے معنی میں لیا ہے اس کی توجیہ روح المعانی میں مذکور ہے دیکھ لی جائے۔ تَمَّ سُوْرَۃُ الْحِجْرِ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 99 وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ عام طور پر یہاں ”یقین“ سے موت مراد لی گئی ہے۔ یعنی اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک اس کی بندگی میں لگے رہیے اور اس سلسلے میں لمحہ بھر کے لیے بھی غفلت نہ کیجیے : تا دم آخر دمے فارغ مباش اندریں رہ مے تراش و مے خراش ! بعض لوگ یہاں ”یقین“ سے اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی مراد لیتے ہیں کہ کفار کے خلاف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے ‘ اس کی مدد اہل حق کے شامل حال ہوجائے اور انہیں کفار پر غلبہ حاصل ہوجائے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 98–99

51 مشکل اوقات میں نماز کی تلقین :۔ جب ان مشرکوں کے استہزاء سے یا ایمان نہ لانے سے یا ان کی ایذاؤں سے آپ کے دل میں تنگی اور گھٹن پیدا ہو تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اللہ کی طرف رجوع کیجئے اس کی تسبیح و تقدیس بیان کیجئے، نماز ادا کیجئے۔ ان چیزوں سے ایک تو آپ کے دل میں گھٹن کی بجائے اطمینان پیدا ہوگا تمہارا حوصلہ بڑھائیں گی، استقامت پیدا ہوگی اور دعوت دین کے سلسلہ میں آپ کو جو تکلیفیں اور مصائب پیش آرہے ہیں یہ باتیں آپ میں ان کے مقابلے کی قوت پیدا کردیں گی چناچہ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی یا رزق کی تنگی ہوتی تو آپ خود بھی نماز کی طرف جھپٹتے اور اپنے گھر والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86۔ اسی حالت ذکر و عبادت میں) گویا ارشاد یہ ہورہا ہے کہ منکرین سے خفگی وبیزاری، جو بعض فی اللہ کا نتیجہ ہے، گوخود بھی ایک عبادت لیکن ذکروتسبیح الہی کی مداومت اس بھی افضل ہے۔ وقت وفات آئے تو اسی نام جاں بخش پر آئے (آیت) ” الیقین “۔ یقین یہاں بمعنی موت ہے۔ اے حتی یاتیک الموت (لسان) الیقین الموت لانہ تیقن لحاقہ لکل مخلوق حی (تاج) اکثر ائمہ لغت کے نزدیک، موت اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں اور بعض کے نزدیک مجازی، مال کثیرون الی انہ حقیقی وصوب بعضھم الی انہ مجازی (تاج) خود قرآن مجید میں ایک جگہ اور بھی یقین موت ہی کے معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” وکنا نکذب بیوم الدین حتی اتنا الیقین (مدثر) اور حدیث میں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واعبد ربک حتی یاتیک الیقین اور وقت موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں۔ یقین سے مراد ہے : موت۔ ہر زندہ کیلئے موت کا آنا یقینی ہے یعنی جب تک آپ زندہ ہیں ‘ رب کی عبادت میں مشغول رہیں ‘ عبادت کو ترک نہ کریں۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کا قول بھی اسی مضمون کا نقل کیا ہے ‘ حضرت عیسیٰ نے کہا تھا : اَوْ صَانِیْ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَادُمْتُ حَیًّا۔ بغوی وغیرہ نے حضرت جبیر بن نضیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے مال جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم بذریعۂ وحی نہیں دیا گیا بلکہ میرے پاس تو وحی بھیجی گئی کہ سَبِّعْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السَّجِدِیْنَ وَاعْبُدُ رَبَّکَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 97–99

(97۔ 98۔ 99) اور یہ کفار جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور معاذ باللہ آپ کو شاعر کاہن، ساحر وغیرہ کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس سے آپ دکھی ہوتے ہیں، سو آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور سجدہ کرنے والوں میں یا یہ کہ اطاعت کرنے والوں میں رہیے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پر مستقیم رہیے یہاں تک کہ اسی حالت میں آپ کو موت آجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ : یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم رہیں۔ موت کو ”یقین“ اس لیے فرمایا کہ ہر جان دار کے لیے اس کا آنا یقینی ہے۔ قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ”یقین“ کا لفظ موت کے معنی میں آیا ہے، جیسے فرمایا : (حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ) [ المدثر : 47 ] ”یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا (یعنی موت آگئی)۔“ اس لیے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت مراد لیا ہے۔ تو جب تک ہوش رہے نماز اور دوسری عبادات زندگی کے آخری دم تک حسب طاقت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرنا فرض ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیر اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 99 اس میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے کہ الیقین سے مراد موت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی عبادت کا حکم دیا جب اس کے بندے اس میں کوتاہی کریں کہ یہ آپ پر واجب ہے۔ اگر کہا جائے : قول باری تعالیٰ : حتی یاتیک الیقین کا کیا فائدہ ہے ؟ حالانکہ قول باری تعالیٰ : واعبد ربک کا حکم دینے کے بارے میں کافی تھا، تو کہا جائے گا : اس میں فائدہ یہ ہے کہ اگر رب کریم مطلقا واعبد ربک فرماتا پھر آپ ایک بار اس کی عبادت کرلیتے تو آپ اطاعت کرنے والے ہوجاتے اور جب فرمایا : حتی یاتیک الیقین تو اسکا معنی ہوا اس سے جدائی اور علیحدگی اختیار نہ کیجئے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ پھر اگر کہا جائے : اللہ سبحانہ و…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–99

1:۔ سعید بن منصور، حاکم نے تاریخ میں ابن منذر، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابو مسلم خولانی (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور میں تاجروں میں سے ہوجاوں لیکن مجھے وحی کی گئی کہ (آیت) ” فسبح بحمد ربک وکن من السجدین (98) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “۔ 2:۔ ابن مردویہ اور دیلمی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری طرف وحی نہیں کی گئی کہ میں تاجر بن جاوں اور نہ یہ کہ میں مال کو کثرت کے ساتھ جمع کروں لیکن میری طرف وحی کی گئی کہ (آیت) ” فسبح بحمد ربک وکن من السجدین (98) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “۔ 3:۔ ابن جریر ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاعْبُدْ : اور آپ ﷺ بندگی کریں ] [ رَبَّكَ : اپنے رب کی ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ يَاْتِيَكَ : آئے آپ ﷺ کے پاس ] [ الْيَقِيْنُ : وہ یقنی بات (یعنی موت)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 98–99

تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور موت آنے تک عبادت میں لگے رہنے کا حکم اللہ جل شانہ نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ مشرکین معاندانہ باتیں کرتے ہیں (جو استھزاء کو بھی شامل ہے) اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں یہ تنگ دل ہونا طبعی طور پر تھا۔ اس کے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیں اور نمازوں میں مشغول رہیں اور دیگر عبادات میں بھی مشغولیت رکھیں اور زندگی بھر آخری دم تک ان کاموں میں مشغول رہیں، یہ چیزیں طبعی رنج کو دفع کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی رنج و غم کی صورت پیش آئے تو خالق کائنات جل مجدہ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–99

36:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پانچویں تسلی ہے۔ اس تعبیر میں کس قدر محبت کا اظہار ہے میرے پیغمبر ہمیں خوب معلوم ہے ان مشرکین کے مشرکانہ کلمات اور ان کے استہزاء سے آپ آزردہ خاطر اور دل برداشت ہوجاتے ہیں۔ مگر آپ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں اور ان پر غم نہ کریں ان سے میں خود حساب کرلوں گا۔ ” فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ الخ “ آپ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کردیں، دن رات شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کرنے اور اس کی حمد و ثنا میں لگے رہیں، اسی کے سامنے جھکیں، ہر قسم کی عبادت (زبانی، بدنی اور مالی) اسی کے لیے بجا لائیں۔ حاجات و مشکلات میں اسی کو پکاریں رکوع و سجود بھی اسی کے سامنے کریں، نذریں منتیں بھی اسی کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–99

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ 99۝ۧ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–99

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–99

وَلَقَدْنَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْ تِیَکَ الْیَقِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 97۔ 98۔ 99) (اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو کچھ وہ کہتے ہیں تو آپ ﷺ اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس یقین آجائے۔ ) کفار کی بدگوئی کے مقابلہ میں تسبیح تحمید اور نماز کا حکم آنحضرت ﷺ جب مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے اور اس کی توحید کی دعوت دیتے تو وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–99

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع کرنے کے ساتھ تسلی دی ہے۔ کفار کو انتباہ کرنے اور آپ کے دفاع کی ذمہ داری لینے کے بعد آپ کو مزید تسلی دینے کی خاطر ارشاد ہوتا ہے اے رسول ﷺ ! ہم آپ کے حالات اور کیفیت کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار کے طعن وتشنیع اور استہزا سے آپ کے دل کو غم اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جب بھی آپ غم اور تکلیف محسوس کریں تو مشرکین کے طعن وتشنیع اور استہزا کی طرف توجہ کرنے کے بجائے آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے رب کی آخری دم تک عبادت کرتے رہیں۔ یہاں عبادت کے لیے ” الیقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے اکثر مفسرین نے موت مراد لی ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

99: وَاعْبُدْ رَبَّکَ (اور تو عبادت کر اپنے رب کی) اپنے رب کی عبادت پر ہمیشگی اختیار کرو۔ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ (یہاں تک کہ تمہیں موت آئے) یقین کا معنی موت ہے جب تک تو زندہ ہے عبادت میں مشغول رہ۔ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف جلدی فرماتے۔ ] رواہ احمد[ بحمد اللہ ترجمہ سورة الحجر رات 10 بجے 1423؁ھ 13 شعبان مکمل ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(99) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “ یقین سے مراد ہے موت۔ یعنی ہر زندہ کے لیے موت کا آنا یقین ہے۔ ایسا ہی سورة مریم میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا ” او صانی بالصلوٰۃ والزکوۃٰ مادمت حیاً “ حضرت جبیر بن نفیر کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مال جمع کرنے اور تاجر نہ بن جانے کا حکم بذریعہ وحی نہیں دیا گیا بلکہ میرے پاس تو وحی بھیجی گئی کہ ” سبح بحمد ربک وکن من الساجدین واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر کو مینڈھے کی کھال اوڑھے اور اسی کا نطاق باندھے سامنے سے آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا، اس کو دیکھو، اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

99۔ آخرت کی بہت سی چیزیں مثلاً عذاب قبر حشر نامہ اعمال کا تولنا نیک عمل کا نیک آدمی کی صورت بن کر اور بد عملوں کا بد صورت بن کر قبر میں آنا پل صراط پر گزرنا جنت میں باوجود کھانے کی حاجت بشری اور نیند کا نہ ہونا ان سب چیزوں کو مرنے کے بعد ہر آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو پورا یقین ہوجاوے گا اس لئے اس آیت میں اور اس قسم کی اور آیتوں میں علما نے یقین کے معنے موت کے کئے ہیں کیونکہ بغیر موت کے آخرت کی چیزوں کو دیکھ کر یقین کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس صورت میں شریعت کا حکم نبی ﷺ اور امت کے لئے یہ قرار پایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکیں تو بیٹھ کر اور بیٹھ کر بھی نہ ہوسکے تو لیٹ کر اشاروں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 94–99

آیت 94 پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کردیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کردیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں (واعرض عن المشرکین) ” اور مشرکین سے اعراض کریں۔ “ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہے۔ (انا کفینک المستھزء ین) ” ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں جو تم سے ساتہزا کرتے ہیں۔ “ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80۔ رب کی تسبیح وتحمید کا حکم وارشاد : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تسبیح کرتے رہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ سو اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہر غم کا علاج ہے، اسی لئے آنحضرت ﷺ کو اس کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس سے آپ کے سب غم غلط ہوجائیں گے اور سب تنگیاں دور ہوجائیں گی۔ اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی مشکل پیش آتی تو نماز کی طرف جلدی فرماتے " اذا حزبہ امر فزع الی الصلاۃ " (ابن کثیر، محاسن التاویل، خازن، مدراک التنزیل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشادربانی سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تسبیح اور اس کے حضور سجدہ ریزی ہر درد کی دوا اور ہر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–99

اعلانیہ تبلیغ کا حکم تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 96–99

ف 1 اس کی عبادت پر قائم رہیں اور موت کو یقین اس لئے کہا ہر متنفس کے لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ (روح) قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ” حتی اتانا الیقین “ یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا مدثر آیت 47) اس لئے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت لیا ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیرا اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو نماز، روزہ عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ تلعب کے مترادف ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں آنحضرت کو حاصل نہ ہوسکا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:99) الیقین۔ موت ۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے حتی اتنا الیقین (74:48) یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نماز کی تاکید اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور امت کے لئے یہ قرار پایا کہ کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکیں تو بیٹھ کر، اور بیٹھ کر نہ ہوسکے تو لیٹ کر اشاروں سے بیماری میں، غرض جب تک جسم میں جان ہے، عبادت الٰہی کئے جاؤ، ہماری بندگی سے منہ نہ موڑو۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کوئی اہم واقعہ پیش آتا تو نماز میں مشغول ہوجاتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[35] اصل الفاظ میں حتی یاتیک الیقین (یہاں تک کہ یقین تمہارے پاس آجائے) ۔ یقین یہاں بمعنی موت ہے اور اکثر ائمہ لغت کے نزدیک موت اس لفظ کے حقیقی معنی ہیں اور بعض کے نزدیک مجازی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–99

(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔ (آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔ مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

99 ۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو یقین یعنی موت آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی موت کہ بیشک ہے۔ 12 نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ حکم نہیں دیا کہ میں مال جمع کروں اور تاجربن جائوں بلکہ مجھ کو تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تسبیح وتحمید بیان کروں اور نماز پڑھا کروں ۔ بغوی تم سورة حجر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی مرتے دم تک ذکر عبادت میں مشغول رہیے، اس میں علاوہ مامور بہ اور ماجور علیہ ہونے کے یہ بھی خاصیت ہے کہ اس طرف شغل کو مقتضر کردینے سے دوسرا شغل جو کہ موجب ضیق صدر تھا زائل مغلوب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : آپ اللہ کی بندگی میں لگے رہئے یہاں تک کہ موت تمہارے پاس آجائے : 99۔ ” الیقین “ یقین سے مراد نصرت خداوندی بھی ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں آپ ﷺ کو دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس سے مراد موت بھی ہے کیونکہ اس کا آنا بھی یقینی امر ہے اور یہاں اس سے مراد یقینا موت ہی ہے یعنی اے پیغمبر اسلام ! عبادت کا یہ سلسلہ پورے ذوق وشوق کے ساتھ اس وقت تک جاری ہے جب تک اس دارفنا سے دارالبقاء کی طرف رحلت کا پیغام نہ آجائے ‘ جب تک آنکھ جھپک رہی ہے ، نبض چل رہی ہے ‘ میری یاد ہوتی رہے ‘ میرے ذکر اور عبادت کا چراغ روشن رہے اور بندگی کا حق بھی یہی ہے کہ تادم واپس دل اپنے معبود برحق کے ذکر اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 97–99

The Spiritual Defence Against Enemy Hostility From verses 97 and 98, we learn that should one face heart-rending sayings and doings of enemies the anxiety from which bothers him, then, there is a spiritual cure for that condition: Let him or her get busy with Tasbih and ` Ibadah, praising Allah Ta’ ala and praying before Him. Allah Taala will Himself remove this pain and anxiety.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53. That is Salat and worship of your Lord are the only means which can generate in you that power of sustenance which is required to stand resolutely against the troubles and afflictions you will inevitably encounter in the propagation of the message of the truth and reform of humanity. This will comfort you, fill you with courage and enable you to perform that divine mission for which you have been sent in the face of abuse, derision and obstacles.

Read the full tafseer →