15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الۤرٰ یہ آیات ہیں کتاب کی اور قرآن مبین کی،

Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا وہ بہت سی مرتبہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے،

کافر بار بار تمنا کریں گے کہ کاش مسلمان ہوتے یہاں سے سورة الحجر شروع ہو رہی ہے اس کے چھٹے رکوع میں اصحاب حجر کا تذکرہ ہے اس لیے یہ سورت اس نام سے موسوم ہوئی، اس کی ابتداء بھی ا ل ر ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اس کے بعد فرمایا کہ یہ کتاب (کامل) کی آیات ہیں اور قرآن مبین کی آیات ہیں، مبین واضح اور خوب زیادہ ظاہر کے معنی میں آتا ہے قرآن مجید کی بعض دیگر آیات میں قرآن مجید کو قرآن مبین فرمایا ہے، چونکہ قرآن اپنے مضامین کو خوب واضح کرکے بیان کرتا ہے اس لیے اسے قرآن مبین فرمایا، صاحب معالم التنزیل اس کا معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ای بین الحلال من الحرام والحق من الباطل یعنی قرآن نے حلال حرام کی تفصیلات خوب واضح کرکے بیان فرمائیں اور حق کو باطل سے جدا کرکے واضح طور پر بیان فرمایا، الکتاب سے بھی قرآن مبین مراد ہے لفظ ” الکتاب “ میں یہ بتایا کہ یہ لکھی ہوئی چیز ہے اور لفظ قرآن میں یہ بتایا کہ یہ پڑھی جانے والی کتاب ہے آیات الکتاب کا تذکرہ فرمانے کے بعد منکرین کی آرزوؤں کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ بہت سی مرتبہ کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش مسلمان ہوتے، دنیا میں تو مسلمانوں کو وہ بیوقوف بناتے ہیں اور احمق بتاتے ہیں لیکن جب آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوں گے اور مسلمانوں کو کامیاب اور بامراد دیکھیں گے تو انہیں بار بار یہ آرزو ہوگی کہ ہائے کاش ہم مسلمان ہوتے، صاحب معالم التنزیل نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو دوزخ میں انہیں بعض مسلمان بھی نظر آئیں گے وہ ان سے پوچھیں گے کیا تم مسلمان نہیں تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں ہم مسلمان تھے اس پر کافر کہیں گے پھر تو تمہیں اسلام نے کچھ فائدہ نہ دیا تم تو ہمارے ساتھ دوزخ میں ہو، اس پر مسلمان جواب دیں گے کہ ہم لوگوں نے گناہ کیے تھے ان کی وجہ سے ہمارا مواخذہ ہوا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے مسلمانوں کی مغفرت کردی جائے گی اور حکم ہوگا کہ مسلمانوں میں سے جو بھی کوئی دوزخ میں ہے اسے نکال دیا جائے لہٰذا مسلمانوں کو دوزخ سے نکال دیا جائے گا اور یہ سب کچھ اللہ کی رحمت اور فضل سے ہوگا یہ منظر دیکھ کر کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے، صاحب روح المعانی ص 4 ج 14 میں یہ روایت حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے بھی نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ مذکورہ بات بیان کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

آپ انہیں چھوڑئیے وہ کھالیں اور نفع اٹھالیں اور امید انہیں غفلت میں ڈالے رکھے، سو وہ عنقریب جان لیں گے،

پھر فرمایا (ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا) کہ آپ ان کو چھوڑئیے یعنی ان کی طرف سے رنجیدہ نہ ہویئے انہیں اسلام قبول نہیں کرنا وہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنے والے نہیں ہیں یہ لوگ دنیا میں مشغول ہیں کھنا پینا اور دوسری چیزوں سے متمتع ہونا یہی ان کی زندگی ہے موت کے بعد کے حالات کی طرف سے غافل ہیں اور بڑی بڑی آرزوئیں باندھ رکھی ہیں ان آرزوؤں نے انہیں آخرت سے غافل کر رکھا ہے ان حالات میں جس قدر بھی آگے بڑھیں گے مزید عذاب در عذاب کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے اسی کو فرمایا (فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) کہ یہ لوگ عنقریب جان لیں گے یعنی ان کے اعمال اور افعال کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔
Ayahs 15:4–8

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ان کے لیے ایک وقت معین لکھا ہوا تھا،

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔۔۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے بیشک تو دیوانہ ہے

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

تو فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا اگر تو سچوں میں سے ہے،

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

فرشتوں کو ہم فیصلہ کے ساتھ ہی نازل کیا کرتے ہیں اور اس وقت لوگوں کو مہلت بھی نہیں دی جاتی،

جو بستیاں ہلاک کی گئیں ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا اس کے بعد فرمایا (وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ ) (الآیۃ) اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ہے ان کے لیے ایک اجل معین ہے جو ہمارے علم میں ہے جس قوم کی ہلاکت کے لیے جو بھی اجل مقرر کر رکھی تھی اسی کے مطابق ان کی ہلاکت ہوئی اس مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ) (کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں) اس آیت کے جو الفاظ ہیں ان کے عموم نے یہ بتادیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی قوم ہلاک ہوگی تو اس کی ہلاکت کا جو وقت مقرر اور مقدر ہے وہ بھی اس وقت سے آگے پیچھے نہ ہوسکے گی۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ذکر کو نازل کیا ہے اور بلاشبہ ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔۔۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا محافظ ہے یہ چار آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں منکرین رسالت کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ اے وہ شخص جس پر ذکر یعنی قرآن نازل کیا گیا ہے ہمیں تیرے دیوانہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ان کا اصل مقصود دیوانہ بتانا تھا آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی بتانے کی بجائے جو انہوں نے (الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ) (جس پر ذکر نازل کیا گیا) کہا ان کا یہ کہنا بطور تمسخر کے تھا کیونکہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں تھے کہ اللہ کی طرف سے آپ پر وحی آتی ہے، دوسری آیت میں منکرین اور معاندین کی کٹ حجتی بیان فرمائی ہے اور تیسری آیت میں ان کی کٹ حجتی کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کٹ حجتی کے طور پر یوں کہا کہ اگر تم اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو لے آؤ، تم فرشتے کیوں نہیں لاتے جو اس بات کی گواہی دیں کہ تم اللہ کے رسول ہو، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جواب میں فرمایا کہ ہم فرشتوں کو فیصلے کے ساتھ ہی بھیجتے ہیں یعنی جب لوگوں کی درخواست پر فرشتے آجائیں گے تو ان کا آنا فیصلہ ہی کے لیے ہوتا ہے فرشتوں کے آنے پر بھی لوگ ایمان نہیں لاتے تو لازمی طور پر عذاب آجاتا ہے اور اس وقت منکرین کو مہلت بھی نہیں دی جاتی، قرآن مجید کے مخاطب جو یوں کہہ رہے ہیں کہ فرشتے نازل ہو کر آپ کی رسالت کی گواہی دے دیں ان کی اس بات کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی ہلاکت جلدی ہوجائے کیونکہ انہیں فرشتوں کی آمد پر بھی ماننا نہیں ہے۔ چوتھی آیت میں قرآن مجید کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ) (بلاشبہ ہم نے قرآن نازل کیا، اور بلاشبہ ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں) منکرین رسالت محمدیہ (علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ) جو منکرین قرآن بھی تھے انہوں نے بطور تمسخر انکار کیا اللہ جل شانہ نے ان کی تردید فرمائی (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ ) اور فرمایا کہ ہم نے قرآن نازل کیا تمہارے نہ ماننے سے حقیقت واقعیہ نہیں بدلے گی، منکرین یہ بھی کہتے تھے کہ اس کو یہ اللہ کی کتاب بتاتے ہیں اگر یہ اللہ کی طرف سے ہی ہے تب بھی چند دن کی بات ہے نہ جانے یہ کتنے دن زندہ رہتے ہیں اور کتنے دن ان کی دعوت کا کام چلتا ہے، اور یہ جو کتاب ان کے دعوے کے مطابق ان پر نازل ہو رہی ہے نہ جانے محفوظ بھی رہے گی یا نہیں، اور اس کے پڑھنے والے اور اس کو یاد رکھنے والے آگے بڑھیں گے یا نہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ بلاشبہ ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خود قرآن مجید کی حفاظت کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اس کی حفاظت کا ذمہ دار انسانوں کو نہیں بنایا جیسا کہ توریت شریف کی حفاظت ان کے علماء اور مشائخ کے ذمے ڈالی گئی تھی سورة مائدہ میں جو (بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ ) فرمایا ہے اس میں ان کی اسی ذمہ داری کو بیان فرمایا ہے۔ قرآن مجید ہر طرح کی تغییر اور تبدیل اور تحریف اور کمی بیشی سے محفوظ ہے اس کی تمام قراء ات اور روایات کے جاننے والے پڑھنے پڑھانے والے اور حفظ کرنے والے ہمیشہ سے موجود ہیں اور جب تک اللہ کی مشیت ہوگی ہمیشہ موجود رہیں گے، رسول اللہ ﷺ نے جو قرآن شریف چھوڑا تھا وہ آج تک مسلمانوں کے پاس اسی طرح محفوظ ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی نہ کوئی شخص کرسکتا ہے اگر کوئی غلط پڑھے گا یا غلط چھاپ دے گا تو فوراً پکڑا جائے گا اسی (80) سال کا قاری یا حافظ کسی جگہ اگر غلطی کردے تو نو سال کا بچہ جس نے قرآن حفظ کر رکھا ہو اسی وقت ٹوک دے گا سینکڑوں سال پہلے کے لکھے ہوئے قرآن مجید کے نسخے دیکھ لو جو مسلسل یکے بعد دیگرے لکھے گئے ہیں وہ سب ابتداء سے انتہا تک الفاظ اور حروف اور کلمات اور ترتیب آیات کے اعتبار سے بالکل پوری طرح متفق ہیں کوئی فرق نہیں اور کوئی اختلاف نہیں اس کو دوست اور دشمن مانتے ہیں، بعض جاہل اختلاف قراء ات کو بہانہ بنا کر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کا یہ اعتراض ساقط ہے کیونکہ یہ قراء ات بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں اور یہ قراء ات ہمیشہ سے محفوظ ہیں اور موجود ہیں اگر کوئی شخص بعض آیات کے منسوخ ہونے پر اشکال کرے تو اس کا یہ اشکال بےوزن ہے اور غلط ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نسخ نہیں ہوا یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے شیاطین سے بھی محفوظ ہے، ملحدین سے بھی، منکرین سے بھی، محرفین سے بھی، (لاَ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ) (جس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے کی طرف سے آسکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے یہ خدائے حکیم و محمود کی طرف سے نازل کیا گیا ہے) روافض قرآن کی تحریف کے قائل ہیں اللہ کے وعدہ حفاظت پر ان کا ایمان نہیں قرآن مجید کئی اعتبار سے معجزہ ہے، وجوہ اعجاز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تغییر اور تحریف اور کمی بیشی سے محفوظ ہے چونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت قیامت تک کے لیے ہے اس لیے کسی ایسے معجزہ کی ضرورت تھی جو آخری زمانہ تک موجود رہے، یہ معجزہ قرآن مجید ہے جو ہمیشہ کے لیے باقی ہے حق کا اعلان کرنے والا ہے۔ توحید کی دعوت دینے والا اور اس کا یہ چیلنج ہمیشہ سے ہے کہ میرے جیسی ایک سورت بناکر لاؤ آج تک نہ کوئی لاسکا اور نہ کوئی لاسکے گا بعض فرقے جو اسلام کے مدعی ہیں یعنی روافض وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے یہ لوگ آیت بالا کے منکر ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے کہ جب قرآن مجید میں تحریف کا دعویٰ کرتے ہیں تو کسی بھی سورت کے مقابلہ میں کوئی سورت بنا کرلے آئیں، اگر نہیں لاسکتے تو قرآن کا وہی اعلان سن لیں جو سورة بقرہ میں مذکور ہے (فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ ) (سو بچو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے وہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے)
Ayahs 15:10–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

۔۔ اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے گزشتہ لوگوں کے گروہوں میں پیغمبر بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو،

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم اس طرح اس استہزاء کو مجرمین کے دلوں میں چلاتے ہیں،

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا ہے،

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں پھر یہ لوگ دن کے وقت اس میں چڑھ جائیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی یوں کہیں گے کہ بس بات یہ ہے کہ ہماری آنکھوں کی نظر بندی کردی گئی ہے، بلکہ ہم ایسے لوگ ہیں جن پر جادو کردیا گیا ہے۔۔۔

سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں نے اپنے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی پھر انہیں عذاب میں مبتلا فرمایا یہ لوگ بھی تکذیب کر رہے ہیں اور مستحق عذاب ہو رہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ ان لوگوں کو ماننا ہی نہیں ہے (قرآن کا معجزہ سامنے ہے دوسرے معجزات بھی دیکھتے رہتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے) فرشتوں کے آنے کی فرمائش کر رہے ہیں اگر فرشتے آجائیں تب بھی انہیں ماننا نہیں، یہ لوگ عناد پر تلے ہوئے ہیں ان کی ضد کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں پھر یہ دن کے وقت اس دروازے میں چڑھ جائیں (جبکہ اونگھ نیند کا وقت بھی نہیں ہوتا) تب بھی یہ نہ مانیں گے بلکہ آسمان کا دروازہ کھلنے اور آسمان پر خود سے چڑھنے کے باوجود (وہ بھی دن دہاڑے) یوں کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے کو آسمان پر چڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے اس جادو کی وجہ سے یہ سب کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں ہے، جب کسی قوم کا یہ حال ہو کہ کھلی آنکھوں معجزات دیکھے اور انہیں جادو بتاوے اس قوم سے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمان میں ستارے پیدا کیے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے زینت والا بنایا

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے ہم نے اسے محفوظ کردیا

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

سوائے اس کے جو چوری سے سن لے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہولیتا ہے،

ستارے آسمان کے لیے زینت ہیں اور ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں آیات تکوینیہ بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے آسمان میں برج یعنی ستارے بنائے ہیں اور آسمان کو زینت والا پررونق بنا دیا، رات کو جب دیکھنے والے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے نہایت عمدہ پررونق منظر نظر آتا ہے، سورة ملک میں فرمایا (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے ان کو شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کیا ہے۔ ) ستاروں کو مصابیح یعنی چراغ سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے مزید توضیح کے لیے سورة صافات کی آیات ذیل اور ان کا ترجمہ پڑھئے (اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ لاَ یَسَّمَّعُوْنَ اِِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ اِِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ) (بلاشبہ ہم نے آسمانوں کو آراستہ کردیا ایک زینت کے ساتھ جو ستاروں کی زینت ہے اور ہم نے محفوظ کردیا ہر سرکش شیطان سے، شیطان عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور ہر جانب سے ان کو مار کر دھکے دئیے جاتے ہیں اور ان کے لیے ہمیشگی والا عذاب ہے، سوائے اس شیطان کے جو کوئی بات اچک لے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ ) سورة حجر اور سورة صافات اور سورة ملک کی مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ آسمان میں جو ستارے ہیں ان سے آسمان کی زینت بھی ہے اور شیاطین سے حفاظت بھی ہے اور سورة نحل میں فرمایا (وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (اور ستارہ کے ذریعہ وہ لوگ راہ پاتے ہیں) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت قتادہ (تابعی) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین باتوں کے لیے پیدا فرمایا اول تو انہیں آسمان کی زینت بنایا دوم شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا سوم ان کو علامات بنایا جن کے ذریعہ راہ یاب ہوتے ہیں (یعنی راتوں کو سفر کرنے والے ان کے ذریعے اپنے سفر کے رخ کا پتہ چلا لیتے ہیں) سو جس شخص نے ان تینوں باتوں کے علاوہ کوئی اور بات کہی اس نے خطا کی اور اپنا نصیب ضائع کیا اور جس بات کو نہیں جانتا تھا خواہ مخواہ اس کے پیچھے پڑا حضرت قتادہ (رح) نے منجمین کی تردید کی وہ اپنی عمر بھی ضائع کرتے ہیں اور وہ بات کرتے ہیں جن کا انہیں علم نہیں اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ فرما دی جو ان کی بات مانتے ہیں اور ان کے پیچھے پھرتے ہیں۔ بروج سے کیا مراد ہے ؟ ہم نے بروج کا ترجمہ ستارے کیا ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ سورة ملک میں ستاروں ہی کو زینت بتایا ہے اور ستاروں ہی کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بتایا ہے معلوم ہوا جو چیز آسمان کی زینت ہے وہی شیاطین کے مارنے کا سبب ہے بعض مفسرین نے جو بروج کا ترجمہ بروج ہی کیا ہے اور اس سے آسمان کے وہ بارہ برج مراد لیے ہیں جنہیں ہیئت والے بیان کرتے ہیں ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے یہ بارہ برج فرضی ہیں ان کے نام فلاسفہ نے خود رکھ لیے ہیں اور خود ہی تجویز کرلیے ہیں یہ برج شیاطین کو نہیں مارتے پھر آیت کریمہ میں ان سے بروج فلاسفہ کیسے مراد لیے جاسکتے ہیں۔ صاحب تفسیر جلالین نے یہاں سورة حجر میں اور سورة فرقان میں بروج سے وہی فلاسفہ والے بارہ برج مراد لیے ہیں اور ان کے نام بھی لکھے ہیں اور صاحب معالم التنزیل نے اولاً تو یوں لکھا ہے کہ والبروجھی النجوم الکبار پھر وہی فلاسفہ والے بارہ برج اور ان کے نام ذکر کردئیے ہیں صاحب کمالین نے مفسر جلال الدین سیوطی کی تردید کرتے ہوئے کہا ولا یلیق بمثل المصنف ان یذکر تلک الامور المبتنی علی الامور الْوھمیۃ فی التفسیر مع انہ انکر فی کثیر من المواضع فی حاشیۃ الانوار علم الھیءۃ فضلا عن النجوم لکنہ اقتفی الشیخ المحلی حیث ذکرھا فی سورة الفرقان کذلک مصنف جیسے آدمی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ تفسیر میں ان امور کا ذکر کرے جن کی بنا اوہام پر ہے باوجود اس کے کہ مصنف نے انوار کے حاشیہ میں بہت سارے مواقع میں علم الھیءۃ پر نکیر کی ہے چہ جائیکہ علم نجوم لیکن یہاں مصنف نے شیخ جلالین الدین محلی کی پیروی کی ہے کہ اس نے انہیں سورة الفرقان میں اسی طرح ذکر کیا ہے۔ سورة حجر کی آیت بالا میں فرمایا کہ ہم نے آسمان کو ہر شیطان مردود سے محفوظ کردیا جو کوئی شیطان چوری سے کوئی بات سننے لگے تو اس کے پیچھے روشن شعلہ لگ جاتا ہے، سورة صافات میں اس کو اور زیادہ واضح کرکے بیان فرمایا کہ شیاطین عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہر جانب سے ان کو مارا جاتا ہے اور دور بھگا دیا جاتا ہے، یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے ہاں اگر کوئی شیطان اوپر پہنچ کر چوری کے طور پر جلدی سے کوئی کلمہ لے بھاگے تو اس کے پیچھے روشن شعلہ لگ جاتا ہے، بات کے چرانے والے شیطان کو مارنے کے لیے جو چیز پیچھے لگتی ہے اسے سورة حجر میں شہاب مبین سے اور سورة صافات میں شہاب ثاقب سے تعبیر فرمایا شہاب انگارہ کو اور شعلہ کو کہتے ہیں اس شعلے اور انگارے کی کیا حقیقت ہے اس کے سمجھنے کے لیے سورة ملک کی آیت کو بھی سامنے رکھ لیں، سورة ملک میں ستاروں کو چراغ بتایا اور آسمان کی زینت فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ ستارے شیاطین کے مارنے کے لیے ہیں دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ بدون اس سبب کے شہاب پیدا نہیں ہوتا بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبی طور پر ہوتا ہو اور کبھی اس غرض کے لیے ہوتا ہو اور اس میں کوکب (ستارہ) کو یہ دخل ہو کہ سخونییت کوکب (ستاروں کی گرمی) سے خود مادہ شیاطین میں یا مادہ بخارات میں بواسطہ فعل ملائکہ کے نار پیدا ہوجاتی ہے جس سے شیاطین کو ہلاکت یا فساد عقل کا صدمہ پہنچتا ہو 1 ھ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ کاہن جو بطور پیشین گوئی کچھ بتا دیتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کاہن جو بات بیان کرتا ہے ٹھیک نکل آتی ہے، آپ نے فرمایا وہ ایک صحیح بات ہوتی ہے جسے جن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے جیسے مرغی کڑ کڑ کرتی ہے پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 393 از بخاری و مسلم) اس سلسلہ میں مزید توضیح اور تشریح کے لیے سورة جن کے پہلے رکوع کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیے اور ہم نے اس میں ایک معین مقدار سے ہر قسم کی چیز اگائی

زمین کا پھیلاؤ اور اس کے پہاڑ اور درخت معرفت الٰہی کی نشانیاں ہیں آسمان کے بروج اور آسمان کی زینت اور شیاطین سے ان کی حفاظت کا ذکر فرمانے کے بعد زمین کے پھیلانے کا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دینے کا تذکرہ فرمایا، زمین بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہے زمین پر لوگ بستے ہیں اور آسمان کی طرف بار بار دیکھتے ہیں دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ پر دلالت کرتے ہیں اور سورة لقمان میں فرمایا (وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) (اور اللہ نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کرنے لگے۔ ) تفسیر روح المعانی ص 29 ج 14 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پانی پر پھیلا دیا تو وہ کشتی کی طرح ڈگمگانے لگی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس میں بھاری پہاڑ پیدا فرما دئیے تاکہ وہ حرکت نہ کرے ان پہاڑوں کے بارے میں سورة نبا میں فرمایا ہے : (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا) (کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہاڑوں کو زمین کی میخیں یعنی کیلیں بنا دیا یعنی پہاڑوں کو زمین میں گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی لیکن یہ ایک سبب ظاہری کے طور پر ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو پہاڑ بھی پھٹ جاتے ہیں اور زمین بھی ہل جاتی ہے اور پہاڑ اور زمین حرکت کرنے لگتے ہیں پھر فرمایا (وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ ) (اور ہم نے زمین میں ہر قسم کی چیز ایک معین مقدار سے اگائی) موزون کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ای مقدر بمقدار معین تقتضیہ الحکمۃ فھو مجاز مستعمل فی لازم معناہ۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لیے اس میں زندگی کے سامان پیدا کردئیے، اور جنہیں تم رزق دینے والے نہیں ہو انہیں بھی ہم نے رزق دیا

اللہ تعالیٰ نے زمین میں انسانوں کی زندگی کے سامان پیدا فرمائے پھر فرمایا (وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ ) (اور ہم نے زمین میں تمہارے لیے زندگی کے سامان پیدا کردئیے) یعنی کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں پیدا کردیں یہ چیزیں تمہاری بقاء اور معیشت اور زندگی کا سبب ہیں (وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ ) (اور ہم نے تمہارے لیے وہ چیزیں پیدا کیں جنہیں تم رزق دینے والے نہیں ہو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معایش پر معطوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لیے معیشت کی چیزیں پیدا فرمائیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو اور جن سے تم خدمت لیتے ہو ان کو بھی پیدا فرمایا یعنی اہل و عیال اور باندی غلام نوکر چاکر اور چوپائے وغیرہ پیدا فرمائے تم ان چیزوں سے کام لیتے ہو اور رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ تمہارا بھی رازق ہے اور ان چیزوں کا بھی رازق ہے۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور ہم اس کو صرف مقدار معلوم ہی کے بقدر نازل کرتے ہیں،

اللہ تعالیٰ کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں پھر فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآءِنُہٗ ) (اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں) (وَ مَا نُنَزِّلُہٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ) (اور ہم اس کو صرف بقدر معلوم ہی نازل کرتے ہیں) اس میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے جو کچھ پیدا ہوتا ہے اس کی مشیت سے پیدا ہوتا رہتا ہے اس کی حکمت کے مطابق ہے، اس کی قدرت غیر متناہی ہے مخلوق کو رزق دینے اور کھلانے پلانے کے لیے اسے میزانیہ بنانے کی ضرورت نہیں اس کے قبضہ قدرت میں بےانتہا خزانے ہیں جب چاہے جتنا چاہے صرف ایک کلمہ کن سے پیدا فرما سکتا ہے۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے ہواؤں کو بھیج دیا جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے تمہیں وہ پانی پلایا تم اتنا پانی جمع کرنے والے نہیں ہو

ہوائیں بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر فرمایا (وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ ) (اور ہم نے ہواؤں کو بھیج دیا جو بادل کو پانی سے بھرنے والی ہیں) (فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ) (پھر ہم نے آسمانوں سے پانی اتارا) (فَاَسْقَیْنٰکُمُوْہُ ) (پھر ہم نے وہ پانی تمہیں پلا دیا) اس میں بارش برسانے کا انعام بتایا ہے، ہوائیں چلتی ہیں پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو لے آتی ہیں پھر جہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے وہاں بادل پانی برسا دیتا ہے اس سے انسان مویشی باغ اور کھیت سیراب ہوتے ہیں (وَ مَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخٰزِنِیْنَ ) (اور تم اس پانی کو جمع کرنے والے نہیں ہو) تمہیں کوئی قدرت نہیں کہ پانی کو پیدا کرو یا ہواؤں سے کام لو یا بادل پر قابو کرو پانی پیدا فرمانا ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو بھیجنا پھر بادلوں کا برسانا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت اور حکمت سے ہے اس نے اپنے خزانوں میں سے پانی بھیجا اور بار بار بھیجتا ہے اور اس کے برسائے ہوئے پانی میں سے اگر جمع کرلو تو بقدر ضرورت جمع نہیں کرسکتے اگر جمع کر بھی لیا تو وہ تھوڑے ہی دن چلے گا پھر اسی سے مانگو گے اور دعاؤں کے لیے ہاتھ پھیلاؤ گے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں،

اللہ ہی وارث ہے پھر فرمایا (وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ ) (اور بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں) (وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ ) (اور ہم باقی رہنے والے ہیں) ساری مخلوق ختم ہوجائے گی، سب مرجائیں گے، اللہ تعالیٰ ہی کی ذات باقی رہے گی۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ وارث کا جو ترجمہ باقی کیا گیا یہ حضرت سفیان وغیرہ سے مروی ہے اور دعا میں یہ جو (وَاجْعَلْہُ الْوَارِثُ مِنَّا) وارد ہوا ہے اس میں بھی وارث باقی کے معنی میں ہے سورة مریم میں فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْھَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) (بلاشبہ زمین اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف لوٹ جائیں گے) جتنے بھی مجازی مالک ہیں سب ختم ہوجائیں گے اور مالک حقیقی ہی باقی رہے گا سورة مومن میں فرمایا (لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (آج کس کے لیے ملک ہے ؟ اللہ ہی کے لیے ہے جو تنہا ہے غالب ہے۔ )
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمیں معلوم ہیں جو تم سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہمیں وہ لوگ معلوم ہیں جو تمہارے بعد آنے والے ہیں،

مستقدمین اور مستاخرین کی تفسیر پھر فرمایا (وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ ہمیں وہ معلوم ہیں جو تم میں سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہمیں وہ لوگ معلوم ہیں جو تمہارے بعد آنے والے ہیں) اس آیت میں لفظ (الْمُسْتَقْدِمِیْنَ ) اور (الْمُسْتَاْخِرِیْنَ ) وارد ہوا ہے صاحب معالم التنزیل ص 48 ج 3 نے اس کی تفسیر میں بہت سے اقوال نقل کیے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مستقدمین سے اموات اور مستاخرین سے احیاء یعنی زندہ لوگ مراد ہیں، حضرت مجاہد نے فرمایا کہ مستقدمین سے قرون اولیٰ اور مستاخرین سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ مراد ہے، حضرت حسن نے فرمایا کہ مستقدمین سے وہ لوگ مراد ہیں جو طاعت اور خیر میں آگے بڑھنے والے ہیں اور مستاخرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو طاعت اور خیر میں دیر لگانے والے ہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز میں اگلی صفوں میں جگہ لینے والے مستقدمین ہیں اور اگلی صفوں سے پیچھے رہ جانے والے مستاخرین ہیں، آیت کا عموم ان تمام معانی کو شامل ہے، زمانہ کے اعتبار سے اگلے پچھلے اور اعمال خیر کے اعتبار سے اعمال میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے رہ جانے والے اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے علم کے موافق جزا دے گا۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب ان سب کو جمع فرمائے گا، بیشک وہ حکیم ہے علیم ہے۔

(وَ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ) (اور بلاشبہ آپ کا رب ان سب کو جمع فرمائے گا بیشک وہ حکیم وعلیم ہے) تمام اولین و آخرین اپنے اپنے اعمال لے کر میدان حشر میں حاضر ہوں گے اللہ تعالیٰ کا یہ علم سب کو محیط ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص دوبارہ زندہ ہونے سے رہ جائے یا بچ کر نکل جائے، حشر میں جو دیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے اور جب حشر ہوگا اس وقت سب اس کے علم میں ہوں گے۔
Ayahs 15:26–30

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے بنی تھی ،

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور ہم نے جن کو اس سے پہلے آگ سے پیدا کیا جو ایک گرم ہوا سے تھی،

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ بلاشبہ میں بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے ہوگی،

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

سو جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

سو تمام فرشتوں نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا،

انسان اور جنات کی تخلیق، ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم اور اس کی نافرمانی اور ملعونیت، بنی آدم کو ورغلانے کے لیے اس کا قسم کھانا اور لمبی عمر کی درخواست کرنا، مخلصین کے بہکانے سے عاجزی کا اقرار، ابلیس کا اتباع کرنے والوں کے لیے داخلہ دوزخ کا اعلان ان آیات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک بشر کو پیدا فرمانے والا ہوں جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا، چناچہ جب اس بشر کی تخلیق ہوگئی اور روح پھونک دی گئی جس کے پیدا فرمانے کا پہلے سے اعلان فرمایا تھا تو تمام فرشتے اس بشر کو سجدہ کرنے کے لیے گرپڑے۔ یہ نئی مخلوق جسے سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تھا یہاں اسے انسان اور بشر فرمایا ہے اور سورة بقرہ اور سورة اعراف اور سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں اس کا نام لیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، حضرت آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان تھے ان کی ساری اولاد بنی نوع انسان یہ لفظ ” انس “ سے لیا گیا ہے چونکہ بنی آدم کو انس کی ضرورت ہے تنہائی ناگوار ہے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے اور مانوس ہوتے ہیں اس لیے انسان کا نام انسان ہی رکھا گیا۔ انسان جنس کے لیے بولا جاتا ہے تمام بنی آدم مرد اور عورت انسان ہیں، بنی آدم کے لیے دوسرا لفظ بشر استعمال فرمایا ہے انسان کے سر پر تو اچھی طرح بال ہوتے ہیں لیکن اس کا باقی بشرہ یعنی کھال کا ظاہری حصہ بالوں سے اس طرح بھرا ہوا نہیں ہوتا جیسے چوپاؤں کے جسم پر بڑے بڑے بال ہوتے ہیں اور کھال ان بالوں میں چھپی رہتی ہے اس بےبال والے جسم کی مناسبت سے انسان کو بشر کہا جاتا ہے۔ صلصال اور حماً مسنون کا مصداق انسانی تخلیق کا ذکر فرماتے ہوئے سورة مومن میں فرمایا کہ تراب (مٹی) سے پیدا فرمایا اور سورة ص میں فرمایا کہ طین (کیچڑ) سے پیدا فرمایا اور یہاں سورة حجر میں فرمایا کہ صلصال بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور ساتھ ہی (مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) بھی فرمایا حما کالے رنگ کی کیچڑ اور مسنون سڑی ہوئی چیز جس میں پڑے پڑے تغیر آگیا ہو اور بدبو پیدا ہوگئی ہو اور سورة رحمن میں فرمایا (خَلَقَ الْاِِنسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ) (اللہ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا) پانی ملانے سے پہلے یہ تراب تھی پانی ملا دیا گیا تو کیچڑ ہوگئی یہ کیچڑ ایک زمانہ تک پڑی رہی تو سڑ گئی اور کالی ہوگئی پھر اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا گیا وہ پتلا سوکھ گیا تو وہ ٹھیکرے کی طرح بجنے والی چیز بن گیا روح پھونکنے سے پہلے جو مختلف احوال و ادوار گزرے ان کو آیات قرآنیہ میں بیان فرمایا ہے کوئی ایک حالت دوسری حالت کے معارض نہیں ہے جنات کی تخلیق کے بارے میں فرمایا (وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّار السَّمُوْمِ ) (اور ہم نے جن کو اس سے پہلے آگ سے پیدا کیا جو ایک گرم ہوا تھی) اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ جنات کی تخلیق انسان سے پہلے ہوئی آیت کریمہ میں لفظ الجان فرمایا ہے اس سے جنس جنات کا باپ مراد ہے جو سب سے پہلے پیدا ہوا حضرت آدم (علیہ السلام) ابو البشر ہیں اور الجان ابو الجن ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے ابلیس مراد ہے وہ تمام جنات کا باپ ہے لیکن یہ بات کسی سند سے منقول نہیں ہے آکام المرجان میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جنات کا باپ (جو سب سے پہلے پیدا کیا گیا) اس کا نام سومی تھا پھر اس سے جنات کی نسل چلی، نیز یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے جنات زمین میں رہتے تھے اور ان کی پیدائش سے پہلے جنات کی آبادی کو زمین میں دو ہزار سال گزر چکے تھے (اور ایک قول یہ ہے کہ چالیس سال گزرے تھے) یہ زمین میں فساد کرتے تھے خون بہاتے تھے حتیٰ کہ انہوں نے یوسف کو قتل کردیا جو ان کا بادشاہ تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کا پیغمبر تھا۔ فرشتوں نے جب اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان سنا کہ زمین میں ایک خلیفہ پیدا فرمانے والا ہوں تو وہ جنات پر قیاس کرکے بول اٹھے کہ آپ ایسی مخلوق کو پیدا فرمائیں گے جو دنیا میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے جس کا تذکرہ سورة بقرہ کے چوتھے رکوع میں گزر چکا ہے۔ لفظ جان اور جن کا مادہ جنن ہے، جو مضاعف ہے آخر میں دو نون ہیں یہ مادہ چھپانے اور پوشیدہ کرنے پر دلالت کرتا ہے چونکہ جنات انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہتے ہیں اس لیے انہیں جنات کہا جاتا ہے۔ یہاں سورة حجر میں جنات کی پیدائش نارسموم سے بتائی ہے اور سورة رحمن میں (وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) فرمایا ہے مارج وہ آگ جس میں دھواں نہ ہو دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ جنات کی تخلیق ایسی آگ سے ہے جو گرم ہوا کی طرح سے تھی دھویں کے اجزاء شامل نہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آتی تھی لفظ سموسم سے لیا گیا ہے سم عربی میں زہر کو کہتے ہیں صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا معنی نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ الریح الحارۃ التی تقتل یعنی وہ گرم ہوا جو قتل کردیتی ہے، پھر لکھا ہے و سمیت سموما لانھا بلطفھا تنفذ فی مسام البدن و منہ السم القاتل (یعنی اس کا نام سموم اس لیے رکھا گیا کہ اپنی لطافت کی وجہ سے بدن کے مسامات میں نفوذ کرلیتی ہے اور زہر کو اسی لیے سم قاتل کہا جاتا ہے) اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں والمراد من النار المفرطۃ الحرارۃ (یعنی نارسموم سے وہ آگ مراد ہے جو بہت زیادہ گرم ہو) چونکہ ابلیس جن کی جنس سے ہے جیسا کہ سورة کہف میں (کَانَ مِنَ الْجِنِّ ) فرمایا ہے اس لیے اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور یوں کہا (خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ) (آپ نے مجھے آگ سے اور اس کو کیچڑ سے پیدا کیا) اپنے خیال میں اس نے اپنے کو برتر سمجھا اور اپنے مادہ تخلیقی یعنی آگ کو افضل اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے مادہ تخلیق یعنی مٹی کو کمتر سمجھا یہ اس کی بہت بڑی غلطی تھی مادہ نار میں فساد ہے اور مادہ تراب میں تعمیر ہے اس لیے آگ مٹی سے افضل نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 15:31–35

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

اس نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو،

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس تجھے اس بات پر کس نے آمادہ کیا کہ تو سجدہ کرنے والے کے ساتھ نہ ہوا،

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

ابلیس نے کہا میں ایسے بشر کو سجدہ کرنے والا نہیں ہوں جسے آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے،

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو تو اس سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور قیامت کے دن تک تجھ پر لعنت رہے گی،

ابلیس کا سجدہ کرنے سے انکاری ہونا انسان اور جن کی تخلیق کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ہی فرشتوں سے فرما دیا تھا کہ میں ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں جو بجتی ہوئی کالی سڑی ہوئی مٹی سے بنایا جائے گا جب وہ بن جائے اور میں اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ ریز ہوجانا یعنی اسے تعظیمی سجدہ کرنا چناچہ فرشتوں نے حکم مانا فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا اور سب نے بیک وقت مجتمع ہو کر آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کردیا یہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت نہیں تھا عبادت تو غیر اللہ کے لیے کبھی بھی جائز نہیں تھی البتہ سجدہ تعظیمی بعض شرائع سابقہ میں جائز تھا شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ میں سجدہ تعظیمی بھی منسوخ کردیا گیا۔ اب سجدہ تعظیمی غیر اللہ کے لیے حرام ہے۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا وہ تھا تو جنات میں سے لیکن فرشتوں کے ساتھ عالم بالا میں رہتا تھا اس کو بھی سجدہ کا حکم دیا گیا جیسا کہ سورة اعراف میں اس کی تصریح ہے، ابلیس نے کہا کہ میں اس کو سجدہ نہیں کرتا اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ) اس کا کیا باعث ہے کہ تو اس کو سجدہ نہ کرے جبکہ میں نے تجھے حکم دیا اس پر اس نے تکبر کے ساتھ جواب دیا اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کی جو حکم عدولی کی تھی اسے صحیح ثابت کرنے کے لیے کہنے لگا (لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ ) (میں ایسا نہیں ہوں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے آپ نے کالی سڑی ہوئی مٹی سے پیدا کیا) سورة کہف میں ہے کہ ابلیس نے یوں کہا (ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا) (کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے آپ نے مٹی سے بنایا ہے) ابلیس نے اول تو نافرمانی کی پھر اوپر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حکمت کے خلاف بتایا اور جس مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تھا اسے اس نے اپنے سے کم تر ظاہر کیا یہ سب تکبر کی وجہ سے ہوا، ابلیس کو تکبر کھا گیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے یعنی آسمان سے نکل جا قیامت کے دن تک تجھ پر لعنت ہے (جو شخص قیامت کا صور پھونکنے تک ملعون ہوگیا اس کے بعد بھی ملعون ہی رہے گا کیونکہ کفر پر مرنا ابدالآباد لعنت میں رہنے کا سبب ہے۔ ) ابلیس کی ملعونیت ابلیس نے اب بھی توبہ نہ کی ہمیشہ کے لیے ملعون ہونا منظور کرلیا لیکن یوں نہ کہا کہ مجھے معاف کردیا جائے اب سجدہ کرلیتا ہوں، اس وقت سے اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت کو بہکانے، ورغلانے گمراہ کرنے کی ٹھان لی، جس کا مقصد یہ تھا کہ جس کی وجہ سے ملعون ہوا ہوں اس سے بدلہ لیا جائے لیکن اس بات کو ظاہر کرنے سے پہلے اس نے اللہ جل شانہ سے قیامت کے دن تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی اللہ تعالیٰ شانہ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا (فَاِِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ) (بےشک تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں وقت معلوم تک مہلت دی گئی) صاحب روح المعانی الوقت المعلوم کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے قیامت کے دن نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار صور پھونکا جانا مراد ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے ایسا ہی مروی ہے اور جمہور نے یہی فرمایا ہے قیامت کے آنے کا وقت اللہ تعالیٰ شانہ ہی کو معلوم ہے اس لیے اسے ” الوقت المعلوم “ سے تعبیر فرمایا۔ روح المعانی میں کعب احبار سے نقل کیا ہے کہ نفخہ اولیٰ کے بعد حضرت ملک الموت سے اللہ تعالیٰ شانہ کا خطاب ہوگا کہ ابلیس کی روح قبض کرلو ابلیس حضرت ملک الموت ( علیہ السلام) کو دیکھ کر مشرق کی طرف بھاگے گا پھر مغرب کی طرف، ہر طرف ملک الموت سامنے آئیں گے پھر سمندروں میں گھسنا چاہے گا سمندر بھی قبول نہ کریں گے، اسی طرح زمین میں بھاگا بھاگا پھرے گا لیکن اسے کسی جگہ پناہ نہ ملے گی حضرات ملائکہ جو حضرت ملک الموت ( علیہ السلام) کے ساتھ ہوں گے اسے سنڈاسیوں کے ساتھ پکڑلیں گے اس کی نزع کی کیفیت شروع ہوجائے گی اور الی ماشاء اللہ نزع کے عذاب میں رہے گا پھر اس کی روح قبض کرلی جائے گی۔
Ayahs 15:36–39

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

ابلیس نے کہا کہ اے رب سو آپ اس دن تک مہلت دے دیجیے جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو بلاشبہ تجھ کو مہلت دی گئی،

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

معین وقت کی تاریخ تک

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

شیطان نے کہا کہ اے رب اس سبب سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا میں ان کے لیے زمین میں ضرور ضرور مزین کروں گا اور ضرور ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا

ابلیس کا مہلت مانگنا بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تھا کعب احبار کا بیان ہم نے مختصر کرکے لکھا ہے جس کی حیثیت اسرائیلیات سے زیادہ نہیں ہے البتہ قرآن مجید کی یہ تصریح کہ اسے وقت معلوم تک مہلت دی گئی اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ ابلیس کے سوال پر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت زیادہ عمر دے دی جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ابلیس کا مہلت مانگنا توبہ اور انابت اور طاعت اور عبادت کے لیے نہیں تھا بلکہ شرارت کے لیے اور اولاد آدم سے بدلہ لینے کے لیے تھا جب اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تو وہ اب کھلے طور پر کہنے لگا کہ اے رب اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے گمراہ کیا ہے میں اس شخص کی اولاد کو تیرے راستہ سے ہٹاؤں گا اور گمراہ کروں گا اور گمراہ کرنے کے طریقے بھی اس نے بتا دئیے ان میں سے ایک طریقہ یہاں سورة حجر میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ (لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ ) کہ ان لوگوں کے لیے میں ان کاموں کو اچھا کرکے دکھاؤں گا جن سے آپ ناراض ہوں گے (لَاُزَیِّنَنَّ ) کا مفعول محذوف ہے یعنی لازینن لھم المعاصی اور (فِی الْاَرْضِ ) اس لیے کہا کہ یہ نئی مخلوق زمین میں رہنے کے لیے پیدا کی گئی ہے گمراہ کرنے کی بعض صورتیں سورة نساء کی آیت (اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًا) میں اور سورة اعراف کی آیت (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ) میں بیان کی گئی ہے مراجعت کرلی جائے۔
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے آپ کے ان بندوں کے جو منتخب کرلیے گئے،

مخلصین کے بہکانے سے شیطان کا عاجز ہونا ابلیس نے کہا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا لیکن ساتھ ہی یوں بھی کہا (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) (مگر آپ کے جو منتخب بندے ہوں گے انہیں گمراہ نہ کرسکوں گا) چونکہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ شانہ کا یہ اعلان سن لیا تھا کہ یہ جو نئی مخلوق ہے زمین کی خلافت کے لیے پیدا کی جا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خلافت کا کام وہی بندے انجام دے سکتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما لیا اور چن لیا ہو اس لیے اس نے سمجھ لیا کہ ایسے بندے ضرور ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ شانہ منتخب فرمالیں گے اور جن پر میرا داؤ نہ چلے گا۔