Ayah 15:11۔ قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی یعنی یہ اس طرح کے جملے اور فقرے نہیں جو عام لوگوں کے کلام اور ان کی گفتگو میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا اور حصہ ایک آیت اور نشانی ہے ایسے عظیم الشان معانی اور حقائق کی جو انقلاب آفرین ہیں، اور جن سے ا نسانی زندگی اور معاشرے کے دھارے بدل جاتے ہیں۔ سو ان آیات کریمات کو اسی اعتبار سے دیکھا اور پڑھا جائے، سو یہ اس عظیم الشان کتاب حکیم کی آیتیں ہیں جو کہ اللہ کے رسول، ﷺ پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں لوگوں کو، سو یہ کلام حکیم کوئی عام کلام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس کے حصے کوئی عام کلام کے حصے نہیں۔ بلکہ یہ معجزانہ شان رکھنے والے ٹکڑے ہیں، ان کو جملے نہیں کہا جاتا جس طرح دوسرے مختلف کلاموں میں پائے جاتے ہیں بلکہ آیات ہیں جو کہ اس کی شان اعجاز کی نشانیاں اور اس کی مظہر ہیں۔ سو ان کو اسی اعتبار سے دیکھا اور پڑھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدبکل حال من الاحوال۔
2۔ قرآن حکیم ایک کامل کتاب والحمد للہ :
اسی بناء پر اس کو یہاں بھی اور دوسرے کئی مقامات پر بھی الکتاب کے لفظ سے ذکر فرمایا گیا ہے سو یہی وہ کتاب ہے کہ الکتاب کہلانے کے لائق ہے، اور جو بڑی ہی عظیم الشان کتاب ہے، اور ایسی عظیم الشان کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ ہوگی، نہ ہے، نہ ہوسکتی ہے۔ جو کہ رحمتوں بھری ایسی کامل اور عظیم الشان کتاب ہے کہ اس کے مقابلے میں دوسری کوئی کتاب کتاب کہلائے جانے کی مستحق ہی نہیں۔ اور جو کہ تمہارے لئے اے بنی نوع انسان ضامن وکفیل ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی، سو اس سے منہ موڑنا پرلے درجے کی حماقت اور سب سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کتاب حکیم کو صدق دل سے اپناؤ اور اس کی تعلیمات مقدسہ اور ہدایات عالیہ کے مطابق اپنی زندگی بناؤ تاکہ تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ورہوسکو اور ہمیشہ کے اس خسارے اور افسوس سے بچ سکوجو اس کے منکرین کا مقدر بن چکا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اس کتاب عظیم کو اس کی انہی عظمتوں کے مطابق دیکھا اور پڑھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید
3۔ قرآن حکیم کی عظمت اس کی صفت مبین کے اعتبار سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والے اس قرآن عظیم کی، یعنی اس قرآن مجید کی جو کھول کر بیان کرتا ہے حق وباطل کو، صحیح اور غلط کو، جائز و ناجائز کو، سعادت و شقاوت اور کامیابی و ناکامی کو۔ اور اس بات کو بھی کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے، کسی بشر کے بس ہی میں نہیں کہ وہ ایسا عظیم الشان کلام پیش کرسکے، سو یہ قرآن مبین اپنی مثال آپ ہے۔ اسی لئے اس کی تنوین تعظیم کی ہے۔ جیسا کہ الکتاب کی تعریف اس کی تعظیم کے لیے ہے (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ " مبین " کے معنی واضح ہونے والے کے بھی ہیں اور واضح کرنے والے کے بھی۔ اور قرآن حکیم میں یہ دونوں معنی پائے جاتے ہیں اور بدرجہ تمام و کمال پائے جاتے ہیں۔ سو یہ کتاب حکیم اپنے معانی ومطالب کے اعتبار سے نہایت واضح ہے اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں پایا جاتا، نیز یہ کتاب حکیم آفتاب اور دلیل آفتاب کے مصداق اپنی صداقت و حقانیت پر خود گواہ ہے اور ایسی اور اس طور پر کہ اس کے لئے کسی بیرونی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 15:24۔ کافروں کی حسرت اور ان کے افسوس کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے وقت اور مواقع آئیں گے کہ جب کافر لوگ رہ رہ کر پچھتائیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے، سو ان کا یہ پچھتاؤا ان کی موت کے وقت بھی ہوگا جب کہ وہ جانکنی کی سختیوں سے دوچار ہوں گے۔ نیز قیامت کے روز بھی جب وہاں کے احوال دیکھیں گے، جب کہ گناہ گار مسلمانوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں لے جایا جائے گا اور کافروں کی وہیں جلتا چھوڑ کر دوزخ کو ان پر موند دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے تمام مواقع پر یہ کافر لوگ جو کہ آج اپنے کفر وباطل پر مست ومگن ہیں اور حق بات سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے رہ رہ کر پچھتائیں گے اور حسرت و افسوس سے ہاتھ ملیں گے کہ کاش کہ ہم نے دنیا میں اسلام کو قبول کیا ہوتا اور راہ حق کو اپنایا ہوتا تو آج ہم بھی اسلام کی ان خیرات و برکات سے فیضاب ہوتے جن سے مسلمان فیضیاب ہورہے ہیں۔ اور ہم ان عواقب سے بچ جاتے جن سے آج ہمیں دوچار ہونا پڑرہا ہے (روح، ابن جریر، ابن کثیر، فتح القدیر، محاسن التاویل، مراغی اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) مگر اس وقت کے اس بےموقع پچھتاوے سے ان بدنصیبوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، سوائے حسرت و افسوس میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قرآن حکیم نے کفار و منکرین کو اس حقیقت سے پیشگی اور اس دنیا میں ہی خبردار کردیا، اور اس قدر صراحت و وضاحت سے خبردار کردیا۔ اور قدرصراحت وضاحت سے خبردار کردیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے قبل اس سے کہ عمررواں کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کس قدر عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے کہ ان غیبی حقائق کو اس نے اس طرح کھول کر بیان کردیا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ اپنی رعونت اور غرور کی بنا پر دعوت حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کتاب حکیم کا انکار کررہے ہیں۔ لیکن آگے ایسے وقت آئیں گے اور بار بار آئیں گے جب کہ یہ لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کاش ہم ایمان لائے ہوتے اور ہم نے اسلام کو قبول کیا ہوتا تو ایسے عواقب و نتائج سے بچ جاتے۔ جیسا کہ اس سے پہلے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 44 میں گزر چکا ہے، مگر بےوقت کے اس افسوس سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 15:3–45۔ منکروں اور غافلوں کا معاملہ ان کے انجام کے اعتبار سے :
سو ایسے غافلوں اور منکروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ کھاتے پیتے اور عیش کرتے رہیں اور ان کی من گھڑت اور چھوٹی آرزوئیں ان کو دھوکے میں ڈالے رکھیں، یہاں تک کہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کررہیں، عنقریب ان کو خود معلوم ہوجائے گا اس وقت یہ خود دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ جب حقائق کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے کہ یہ جب دعوت حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں اس فانی دنیا کی ان حقیر لذتوں ہی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں، تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کا بھگتان یہ خود بھگت لیں گے، اور وقت آنے پر ان کو سب کچھ خود ہی معلوم ہوجائے گا، سو یہ معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے لیے آخری جواب ہوتا ہے کہ جب ایسے لوگ حق بات کو سننے ماننے لئے تیار ہی نہیں تو اس کا سوا چارہ کار ہی کیا ہوسکتا ہے ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں اور اپنے بھگتان کو خود بھگتیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:56۔ ہر قوم اپنے مقررہ وقت پر اپنے انجام کو پہنچ کررہی :
پس تاریخ کے اس حوالے سے موجودہ دورے سرکش کفار کو سبق لینا چاہئے۔ اور کچھ عرصہ اگر عذاب نہیں آتا تو اس سے دھوکے میں پڑنے اور مست ہونے کی بجائے ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ اور اپنی روش بدل لینی چاہیے۔ ورنہ وہ عذاب ان پر اپنے مقررہ وقت پر آ کررہے گا جس کے یہ مستحق ہیں، مگر اس وقت کے پچھتاوے سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے ایک ہے۔ پس جس انجام سے کل وہ باغی قومیں دوچار ہوئیں وہ ان کے لئے بھی آکر رہے گا۔ سو ان لوگوں پر جو ان کے کفر وانکار، تمردوسرکشی اور مطالبہ عذاب کے باوجود عذاب نہیں آتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان پر عذاب آئے گا ہی نہیں۔ اور یہ قابل مواخذہ ہی نہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ عذاب کی یہ تاخیر دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کی بناء پر ہے۔ اور وہ سنت الہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس کو اتنی مہلت دیتا ہے کہ اس پر حجت تمام ہوجائے۔ اور اتمام حجت کے بعد بھی اگر یہ قوم باز نہیں آتی تو وہ لازما اپنے آخری انجام سے دوچار ہو کر رہتی ہے۔ اور نوشتہ خداوندی کے مطابق جب ایسی قوم کی مدت مہلت پوری ہوجاتی ہے تو وہ اپنے ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہتی ہے، سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا، نہ اس میں کسی طرح کی تقدیم ہوتی ہے نہ تاخیر، پس منکرین و مکذبین کو تاخیر عذاب سے کسی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:6–87۔ کفار کے پیغمبروں سے مذاق واستہزاء کے ایک نمونے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے یقینا تو پرلے درجے کا دیوانہ ہے، سو کفار ناہنجار کا حضرت محمد ﷺ سے ایسا کہنا مذاق واستہزاء کے طور پر تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس سے ان بدبختوں کے اس مزاح واستہزاء کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے۔ جس کا ارتکاب وہ حضرت رسالت مآب ﷺ کی جناب اقدس واعلیٰ کے بارے میں کیا کرتے تھے، کیوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا ٹھٹھا اور مذاق کے طور پر تھا۔ یعنی اے وہ شخص جو اپنے اوپر قرآن کے اترنے کا دعویدار ہے (صفوۃ، محاسن، جامع ور مراغی وغیرہ) اور اس طرح انہوں نے اپنی ذلت میں اضافے اور اپنی سیاہ بختی کو مزید پختہ کرنے کا سامان کیا کہ آسمان پر تھوکا جو خود تھوکنے والے انسان کے اپنے ہی منہ پر آلگتا ہے اور حق اور داعی حق کی جناب میں گستاخی کا نتیجہ دولت حق و ہدایت سے محرومی میں اضافہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ان کا آنحضرت ﷺ سے یہ کہنا طنز و مذاق کے طور پر تھا، کیونکہ وہ نہ تو اس ذکر کو مانتے تھے۔ سو ان کا یہ قول ویسے ہی تھا جیسا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے درباریوں سے کہا تھا (ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون) یعنی " تمہارے یہ صاحب جو اپنے تئیں رسول ہونے کے مدعی ہیں، پرلے درجے کے دیوانے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
8۔ کفار ناہنجار کا حضرت امام الانبیاء ﷺ کو مجنون قرار دینا۔ والعیاذ باللہ :
اس استہزاء و تحقیر اور حضرت رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں ان کی گستاخی اور اس کی تاکید ملاحظہ ہو کہ جملیہ اسمیہ جو دوام استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ " ان " حرف تاکید اور پھر لام تاکید کا۔ اور اس سب گستاخی اور بےہودگی کا ارتکاب ان ظالموں نے حضرت رسالت پناہ ﷺ کی جناب اقدس میں اس پیغام اور دعوت حق کی بناء پر کیا تھا جو کہ سراسر پیغام حق و صداقت ہے۔ اور جو خود انہی کے بھلے کے لیے تھی، مگر کفر و شرک کی نحوست کی ماری ہوئی ان کی کھوپڑیوں میں اس کی حقانیت بیٹھ ہی نہیں رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ان بیشمار خود ساختی خداؤں کی نفی کرکے ایک ہی خدائے واحد پر ایمان کی بات کیسے مانی جائے۔ (اجعل الالہۃ الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب) (ص : 5) نیز یہ کہ اس دنیائے دوں کی ان حاضر ونقد لذتوں کو ہم آخرت کی ادھار اور ان دیکھی نعمتوں پر کیسے اور کیوں قربان کردیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو یہاں سے یہ عظیم درس بھی ہمیں ملتا ہے کہ جب اللہ پاک کی مخلوق میں سے سب بڑی اور پاکیزہ ہستی کو بھی لوگوں نے معاف نہیں کیا۔ تو کون ہوسکتا ہے جس کو سب اچھا کہیں ؟ سو ایسا نہ کبھی ہوانہ ہوسکتا ہے کہ دعوت حق کا تقاضا اور اس کا خاصہ ہی یہ ہے کہ جب اس کو صاف وصریح انداز میں پیش کیا جائے تو اہل باطل اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے لاؤلشکر سمیت اس کے مقابلے میں نکل جائیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اور جب حضرت امام الانبیاء ﷺ کو بھی ابنائے کفر وباطل نے معاف نہیں کیا اور ان کے حق میں بھی اس حد تک غلیظ اور نارواجملے استعمال کئے گئے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو حق بھی بیان کرے اور حق کی بات بلا کسی لاگ لپٹ کے کہے۔ اور ابنائے کفر وباطل اور اہل زیغ وضلال اس کے خلاف کچھ بولیں بھی نہ ؟ اس لئے داعی حق کے دل میں یہ بات کبھی آنی ہی نہیں چاہیے کہ سب لوگ مجھے اچھا کہیں۔ بلکہ اس کو فکرودھن صرف اس بات کی ہونی چاہئے کہ میرا معاملہ میرے رب سے صحیح ہو۔ اور وہ مجھ سے راضی رہے اور بس۔ اس کے بعد دنیا کیا کہتی ہے اس کی کوئی فکروپرواہ نہیں ہونی چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف کفار ناہنجار نے حضرت امام الانبیاء ﷺ کو مجنون قرار دے کر اپنی سیاہ بختی کو اور گہرا اور پکا کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayahs 15:9–1012۔ قرآن حکیم کا محافط خود اللہ تعالیٰ :
اسی لیے یہ کتاب حکیم آج تک جوں کی توں محفوظ ہے، اور قیامت تک انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح محفوظ رہے گی، بخلاف پہلے والی آسمانی کتابوں کے، کہ ان کی حفاظت کی ذمہ خود ان کے حاملین پر ڈالی گئی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (بما استحفظوا من کتاب اللہ) الایۃ (المائدۃ : 44) یعنی " ان سابقہ کتابوں کا محافظ ان کے محافظین ہی کو بنایا گیا تھا " اس لئے ان کتابوں کو بدل کر کچھ کا کچھ بنادیا گیا ہے یہاں تک کہ موجودہ بائبل کے نام سے پائی جانے والی تورات و انجیل کی کتابیں ان میں حاملین کی تحریف وتلبیس اور دست برد سے آسمانی اور الہامی کی بجائے جنس (sex) کی کتابیں بن کر رہ گئی ہیں۔ اور یہ منکرین و مکذبین اگر انکار و اعراض ہی پر اڑے رہیں گے تو یہ اس کا کچھ نہیں بگاڑیں گے بلکہ اس طرح اپنی ہی محرومی اور روسیاہی کا پکا کر کریں گے۔ اور یہ اگر اس کی دعوت اور حفاظت سے منہ موڑیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے دوسرے لوگوں کو کھڑا کردے گا جو اس کا انکار نہیں کریں گے بلکہ اس کے لیے ہر قربانی کو اپنی سعادت سمجھیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فان یکفر بھا ھولآء فقد وکلنا بھا قوم الیسوا بھا بکفرین) (الانعام : 89) سو کفر وانکار محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 15:1113۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان :
کہ تکذیب واستہزاء کا یہ سلوک کوئی نئی چیز نہیں۔ بلکہ یہ اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ پس اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ (ابن کثیر، محاسن، صفوۃ اور جامع وغیرہ) پہلے انبیاء ورسل کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی اور ان کو بھی اسی طرح ستایا گیا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک) (حم السجدہ : 43) یعنی " آپ کو بھی اے پیغمبر وہی کچھ کہا جارہا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں کو کہا گیا " لہذا آپ بھی اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ انہوں نے لیا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لہم) (الاحقاف : 35) اور اسی میں درس عبرت و بصیرت ہے ہر داعی حق کے لیے کہ جب حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفات ہستیوں کو بھی لوگوں نے نہیں بخشا تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اعدائے حق کے طعن وتشیع سے بچ سکے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الذی لا الہ الا ھو۔
Ayahs 15:12–1414۔ (نسلکہ) کی ضمیر منصوب کے مرجع میں دو قول و احتمال :
اسی طرح ہم اتار دیتے ہیں اس۔ تکذیب واستہزاء کو مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی (نسلکہ) میں ضمیر منصوب کا مرجع تکذیب واستہزاء ہے۔ یعنی ان بدبخت لوگوں نے جب حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب اور اس کے استہزاء ہی کو اپنایا تو ہم نے ان کے اس اختیار کے مطابق اسی چیز کو ان کے دلوں میں اتار دیا۔ کیونکہ ہمارا قانون و دستور یہی ہے کہ انسان جدھر جانا چاہئے ہم اس کو ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں (نولہ ماتولی) بہرکیف یہ ایک قول و احتمال ہے جس کو مفسرین کرام کے ایک گروہ نے اختیار کیا (ابن کثیر، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) جب کہ دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ ضمیر کا مرجع ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ قرآن حکیم ایمان والوں کے دلوں کے لیے تو ٹھنڈک اور ان کے سرور وسکون کا ذریعہ بنتا ہے ان کے ایمان و یقین کی بناء پر۔ لیکن مجرموں اور کفار و مشرکین کے دلوں میں یہ لوہے کی سلاخ بن کر گزرتا ہے۔ جس سے ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی برودت و ٹھنڈک کی بجائے کفر و بغاوت اور حسد و عداوت کی آگ بھڑکتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ( اور یہ نتیجہ ہے ہر کسی کے اپنے اختیار کا۔ اہل خیرکوان کے حسن اختیار کے نتیجے میں خیر ہی نصیب ہوتی ہے اور یہ نتیجہ ہے ہر کسی کے اپنے اختیار کا۔ اہل خیر کو ان کے حسن اختیار کے نتیجے میں خیر ہی نصیب ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور اہل شر کو انکے اپنے سوء اختیار کی بناء پر جلنا اور کڑھنا ہی۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 15:1515۔ منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ ومظہر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم ان لوگوں پر آسمان سے کوئی دروازہ بھی کھول دیں جس سے یہ اوپر چڑھنے بھی لگ جائیں تو بھی انہوں نے ماننے کی بجائے الٹایوں کہنا ہے کہ ہماری تو نگاہیں بند کردی گئیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا، جس سے ہماری عقلیں حقیقت کے فہم واداراک سے عاجز آگئیں اور محض خیالی چیزیں ہم کو حقیقت کی صورت میں نظر آنے لگی ہیں۔ اور یہ کہ یہ جادوہم پر محمد نے کیا ہے۔ ﷺ ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر، جامع، خازن وغیرہ) سو ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے قبول حق کی کوئی امید کس طرح قائم کی جاسکتی ہے ؟ پس ایسے ہٹ دھرموں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی سے اہل حق نہ کبھی افسردہ دل گیر ہوں اور نہ کبھی راہ حق میں سست روی دکھائیں سو اس سے ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا ان کے لیے اگر آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیا جائے جس سے یہ اوپر چڑھنے لگ جائیں تب بھی یہ ماننے کی بجائے یوں کہنے لگیں کہ ہماری آنکھیں بند کردی گئیں اور ہم پر جادو کردیا گیا۔ سو ایسے ہٹ دھرموں سے ایمان لانے کی کوئی امید کس طرح کی جاسکتی ہے۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:16–1816۔ آسمان کے بروج سے مقصودو مراد ؟
" برج " کے معنی عربی زبان میں بڑے محل، قلعے اور مضبوط ومستحکم عمارت کے آتے ہیں۔ یہاں پر بروج سے مراد کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بڑے کواکب اور سیارات ہیں۔ اور بعض نے کہا اس سے مراد وہ مختلف منازل ہیں جن میں سورج وچاند کے یہ عظیم الشان کرے گردش کرتے ہیں۔ سو ان میں سے جو بھی صورت ہو یہ قدرت کی عظیم الشان نشانیوں میں سے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ عظیم الشان نشان ہائے قدرت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ ذرا سوچو اور غور کرو کہ وہ کون ہے جس نے ایسی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان برجوں کو آسمان میں رکھ دیا ؟ اس کے ہم پر کس قدر احسانات ہیں اور اس کا حق شکر ہم کس طرح اداء کرسکتے ہیں، پس عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اسی کے آگے جھکا رہے۔
17۔ دیکھنے والوں کے ذوق جمال کی تسکین کا سامان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو مزین اور خوشنما بنادیا دیکھنے والوں کے لیے تاکہ اس سے ان کے ذوق جمال کی تسکین کا سامان ہوسکے۔ سو یہ کواکب وسیارات انسان کے معبود نہیں، اس کے خدام ہیں، پس عبادت و بندگی کے حقداریہ نہیں بلکہ وہ ذات اقدس واعلی ہے جس نے ان کو پیدا فرما کر اس پر حکمت نظام کے تحت اپنے بندوں کی خیر اور بھلائی کے لیے کام میں لگادیا۔ سو کس قدر بہکے بھٹکے اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو خالق سے منہ موڑ کر اس طرح کی عاجز وبے اختیار مخلوق کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آسمان کے لیے زیب وزینت بننے والے یہ جھلمل جھلمل کرتے ستارے سیارے اور سورج وچاند کے چمکتے دمکتے یہ عظیم الشان کرے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور فکر دے رہے ہیں کہ لوگوں ذرا سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ سب کچھ کس کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے ؟ اور ان عظیم الشان مظاہر قدرت وحکمت کے پیچھے کارفرما اس دست قدرت اور قادر مطلق کا تم پر کیا حق ہے ؟ اور وہ حق ادا کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے ؟ اور یہ کہ جو لوگ اس قادرمطلق اور مہربان مطلق سے غافل اور اس کے حق واجب سے لاپرواہ بےفکر ہیں وہ کس قدر بےانصاف اور کتنے بڑے ناشکرے ہیں۔ اور جو اس سے بھی بڑھ کر اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو ان دوسری ہستیوں کی طرف منسوب کرتے اور ان کو اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم جانتے ہیں وہ کیسے ناشکرے اور کتنے بڑے ظالم ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:1918۔ بچھونہء ارضی میں سامان غور و فکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین کے اس عظیم الشان کرے کو بھی ہم ہی نے بچھایا و پھیلایا ہے اس پر حکمت طریقے سے، تاکہ یہ ہماری مخلوق اور خاص کر ہمارے بندوں کی بودباش کے لیے موزوں ہوسکے جو کہ اس کائنات کے مخدوم ومطاع ہیں۔ سو زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس قدر پر حکمت نظام کے تحت بچھا اور پھیلا دینا کس قدر عظیم الشان کارنامہ ہے اس وحدہ لاشریک کا ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پھر بھی اس کی اطاعت اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ زمین اور اس کے اندر پائی جانے والی طرح طرح کی مخلوق میں سے کوئی بھی چیز انسان کی معبود ومسجود نہیں بلکہ اس کی خادم ہے۔ اور بندے کا کام اور اس کے لیے حق و ہدایت کی راہ یہ ہے کہ وہ اس زمین سے اور اس میں پائی جانے والی نعمتوں اور طرح طرح کی مخلوق سے فائدے اٹھا کر اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرے اور دل وجان سے ان کے حضور سجدہ ریز ہوجائے تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ہوسکے۔ وباللہ التوفیق۔ سو زمین و آسمان کی یہ عظیم الشان کائنات حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے دلائل و شواہد سے مملومعمور ہے۔ لیکن برا ہوغفلت و لاپرواہی کا کہ اس نے انسان پر اپنے پنجے اس قدر شدت وسختی سے گاڑ رکھے ہیں کہ انسان اس کی طرف نگاہ عبرت اٹھاتاہی نہیں۔ اور وہ خواہشات نفس کے پیچھے لگ کر بطن وفرج کا بندہ بن کر رہ گیا ہے اور انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوان محض بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر بدترین مخلوق " شرالبریہ " بن گیا۔ جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
19۔ زمین کے لنگروں میں سامان غور و فکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہم ہی نے زمین میں ڈال دیئے (پہاڑوں کے) عظیم الشان لنگر، تاکہ یہ زمین تمہیں لے کرڈولنے نہ لگے اور تاکہ تمہارے لئے راحت وسکون کا سامان ہوسکے۔ اس طرح یہ جہاں اس قادر مطلق کی بےپایاں قدرت وحکمت کی نشانی ہے وہاں یہ اس کی لامحدود رحمت و عنایت کا بھی ایک زندہ جاوید ثبوت ہے۔ پس اس کا انکار کرنا یا اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ماننا سب سے بڑی نمک حرامی اور سخت ترین ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو فلک بوس پہاڑوں کے یہ عظیم الشان سلسلے بھی اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر ان کو دعوت غور وفکر دے رہے ہیں کہ جھک جاؤتم سب اپنے اس خالق ومالک کے حضور کہ یہ اس وحدہ لاشریک کا حق واجب ہے تم سب پر۔ جو اس کی ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں کے عوض تم پر عائد ہوتا ہے۔ اور اس میں بھلا اور فائدہ ہے خود تمہارا اپنا اے لوگو !۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں اور حقیقی زندگی میں بھی۔ جو اس دنیا کے بعد آنے ولا ہے۔ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 15:2020۔ سامانہائے زیست کے بارے میں دعوت غورفکر :
سو آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس ارشاد سے انسان کے سامان زندگی اور اللہ پاک کے حکمتوں بھرے نظام ربوبیت کی طرف توجہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے رکھ دیئے زمین میں طرح طرح کے وہ سامان ہائے زیست " کھانے کے، پینے کے، پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور علاج معالجہ وغیرہ وغیرہ کے طرح طرح کے وہ سامان جن سے تم لوگ دن رات فائدہ اٹھاتے اور طرح طرح سے مستفید ہوتے ہو۔ اور دن رات کے پورے دورانیے میں اور لگاتار مستفید ہوتے ہو۔ سو ذرا سوچو تو سہی کہ کس قدر قادر مطلق اور کیسا مہربان اور وہاب و کریم ہے تمہارا وہ رب جس نے تمہارے لئے یہ سب کچھ پیدا فرمایا اور تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر۔ سو ذرا سوچو کہ زمین سے اگنے والی طرح طرح کی پیداواریں اور غلے اس میں پائی جانے والی قسما قسم کی کانیں اور عظیم الشان خزانے جن سے تم لوگ دن رات فائدہ اٹھاتے اور طرح طرح مستفید ہوتے ہو آخر یہ سب کچھ کس کی بخشش وعطاء ہے ؟ اور اس کا تم پر کیا حق عائد ہوتا ہے ؟ سو وہی اللہ وحدہ لاشریک خالق ومالک حقیقی ہے، جو کہ معبود برحق ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر مشکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک والرضا، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
21۔ روزی رساں سب کا اللہ وحدہ لاشریک :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کے اندر طرح طرح کے سامانہائے زیست رکھ دیئے تمہارے لئے بھی، اور ان سب کے لیے بھی جن کے روزی رساں تم نہیں ہو، یعنی ظاہری اسباب وسائط کے درجے میں بھی تمہارا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ورنہ حقیقت میں تو روزی رساں سب کا اللہ ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تمہارا بھی اور ان دوسروں کا بھی (فتح القدیر وغیرہ) سو تم سوچو کہ جس نے تمہارے لئے ظاہر اور مادی رزق کی بہم رسانی اور فراوانی کا اس طرح انتظام فرمایا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی غذا کا انتظام نہ فرمائے ؟ جبکہ اصل چیز روح ہی ہے۔ سو اس نے تمہاری روحانی غذا کے لیے وحی کا انتظام فرمایا جواب قرآن حکیم کی صورت میں تمہارے سامنے موجود ہے۔ پس تم لوگ اس کو صدق دل سے اپناؤ تاکہ تمہارا اپنا بھلا ہو اور غور کرو کہ اس مہربان مطلق نے صرف تمہارے ہی لئے ان غذاؤں اور سامان زیست کا بھی انتظام نہیں فرمایا (بلکہ اس بیشمار مخلوق کی غذا اور ان کے لئے درکار قسما قسم کے سامانہائے زیست کا بھی انتظام فرمایا جو خود تمہارے ہی کام آتی ہے) آخر سمندر میں تیرنے والی ان بیشمار ولاتعداد مچھلیوں کی پرورش اور ان کی خوراک اور ان کے لوازم زندگی کا انتظام کس نے کیا ؟ جو تمہارے لئے (لحماطریا) " تازہ گوشت " کے طور پر ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے جن سے تم لوگ طرح طرح کے کاروبار کرتے، روپیہ پیسہ کماتے اور قسما قسم کے فائدے اٹھاتے ہو۔ اور یہ فضاؤں میں اڑنے والے بےحدوحساب پرندے اور جنگلوں میں چرنے پھرنے والے ان گنت ولاتعداد جانور جن سے تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو آخر ان سب کی پرورش اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کون کرتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 15:2122۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ہر چیز کے خزانوں کے خزانے، سبحانہ وتعالیٰ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس خزانوں کے خزانے نہ ہوں، جو کہ نتیجہ وثمرہ ہے ہماری لامحدود وقدرت و عنایت کا۔ اور یہ خزانے کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ اور حدیث شریف کے مطابق اس کے خزانے تو اس کے اقوال وارشادات ہیں۔ جو چاہا ہوگیا۔ جو فرمایا وجود میں آگیا۔ (جامع البیان وغیرہ) سو ہمارے خزانوں میں کسی نقص وکمی کا کوئی سوال نہیں لیکن ہم ان میں سے اتارتے اتنا ہی ہیں جتنا کہ اس دنیا کی بقاء کا تقاضا ہوتا ہے۔ سو اللہ پاک کی اس کائنات میں ہر چیز کا تناسب اور اس کی ایک خاص حد ہوتی ہے جس کے مطابق ہر چیز کو اتارا جاتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، پس بندے کا کام ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ رہے اور ہر چیز اسی سے مانگے کہ اس کے خزانے لامحدود ہیں، سبحانہ وتعالیٰ وہاں کسی چیز کی کمی کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں، جیسا کہ فرمایا انفق یابلال ولاتخش من ذی العرش اقلالا یعنی بلال تم خرچ کروں اور عرش والے سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو سو اس کے خزانے اور اس کی عطاء وبخشش سب لامحدود ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
23۔ ہر چیز کی تنزیل ایک مناسب مقدار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اس کو نہیں اتارتے مگر ایک مقرر مقدار میں یعنی جتنا کہ حکمت اور مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہی دیکھ لیجئے کہ آج مشینی دور میں پٹرول کی جو اہمیت ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ لیکن آج سے ڈیڑھ دوہزار برس یاڈیڑھ دو صدی قبل اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی۔ اور آج کے اس دور میں جونہی اس کی ضرورت بنی نوع انسان کو پیش آئی تو قدرت کی طرف سے جگہ جگہ اس کے عظیم الشان چشمے ابل پڑے۔ جس سے دنیا دن رات لگاتار کام لے رہی ہے اور طرح طرح سے اس سے مستفید و فیضاب ہو رہی ہے۔ فسبحان اللہ من خالق مالک قادرقیوم، الہ خبیر، بعبادہ ومایحتاجون الیہ فی کل زمان ومکان جل جلالہ وعم نوالہ۔ سو تمہیں جو کچھ مانگنا ہو اسی قادر مطلق سے مانگو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ سو اس کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کا دیا بخشا ہے۔ تمہاری خود ساختہ دیویوں اور دیوتاؤں اور من گھڑت و فرضی " سرکاروں " کے کسی دخل کا کوئی سوال نہیں۔
Ayahs 15:22–2324۔ پانی کی عظیم الشان نعمت میں سامان غور و فکر : سو مخلوق کے لئے پانی کو اتارنا اور محفوظ رکھنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت وحکمت کا نتیجہ وثمرہ ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے تمہاری سیرابی کا سامان کیا ورنہ تمہارے بس میں نہیں کہ تم اس کو سٹور کرسکو، سو ہم نے نہایت پر حکمت طریقے سے تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایسا کیا ورنہ تم ایسا نہیں کہ اس کو اپنے طور پر سٹور کرسکو، یہاں تک کہ مادی ترقی کے اس محیرالعقول دور میں بھی کوئی ایک حکومت تو کیا سب ترقی یافتہ اور متمدن حکومتیں ملکر کر بھی قدرت کے قائم کردہ اس عظیم الشان نظام کا کوئی متبادل پیش نہیں کرسکتیں۔ فسبحان اللہ الذی لاحد لقدرتہ ولا نہایۃ لرحمتہ جل وعلا۔ اور جب اس کی ان صفات و عنایات میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو پانی کے اس مابہ الحیات جوہر کو اتارنا اور پھر اس کو مختلف سمندروں، دریاؤں، ندیوں اور چشموں سوتوں وغیرہ کی صورت میں محفوظ اور سٹور کرنا بھی اسی وحدہ لاشریک کی قدرت وحکمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے جس میں اس کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے بڑے عظیم الشان اور چشم کشا پہلو پائے جاتے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 15:24–3227۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ایک برابر اور خوب جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو بھی اور پیچھے رہنے والوں کو بھی وجود وموت کے اعتبار سے۔ نیز نماز کی صف اول میں اور صف جہاد میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو وغیرہ وغیرہ، مختلف اقوال ہیں اور یہ سب ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تعارض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان سب ہی مفاہیم ومطالب کو شامل اور عام ہے۔ الفاظ کا عموم بھی ان سب کو شامل ہے اور یہی بات دراصل یہاں بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر لحاظ سے کامل اور اس کی سب ہی مخلوق کو شامل ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم کے باہر نہیں ہوتی (ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، جلالین، اور معارف وغیرہ) ۔ سو جو پہلے پیدا ہوئے اور جو بعد میں جن کی موت پہلے آئی اور جن کی بعد اور جو عبادات وغیرہ امور خیر میں آگے رہے اور جو پیچھے اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک برابر جانتا ہے اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی صفت وشان ہے، دوسرا کوئی اس میں نہ اس کا شریک وسہیم ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 15:3331۔ ابلیس کا سجدہ آدم سے انکار اور ایک بدعتی ملاں کی ایک تحریف کا رد : سوابلیس نے آدم کو سجدہ کرنے سے متعلق حکم الہی کی تعمیل سے انکار کردیا اور کہا کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جس کو تونے سڑے ہوئے گارے کی بجتی اور کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے کہ وہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جب کہ میں آگ کی لو سے پیدا کیا گیا ہوں، جو کہ مٹی سے افضل ہے۔ تو پھر میں افضل واعلی ہوکرمفضول اور ادنی کو سجدہ کیسے اور کیوں کروں ؟ حالانکہ اس لعین کو یہ جواب بناء الفاسد علی الفاسد تھا۔ کیونکہ نہ تو آگ مٹی سے افضل ہے اور نہ مٹی آگ سے ادنیٰ ومفضول ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی ضروری ہے کہ جو ادنی سے تخلیق ہو وہ ادنی ہی رہے۔ اور جو اعلی مادہ سے مخلوق ہو وہ اعلی ہی قرار پائے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے جب اس کا حکم وارشاد فرما دیا تھا تو پھر اس کے بعد کسی انکار یا اس طرح کی کسی منطق اور چون وچراں کی یا ایسی کسی قیاس آرائی کی کوئی گنجائش ہی کیسے باقی رہ سکتی ہے ؟ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند کی اس موقع پر ایک تحریف ملاحظہ ہو۔ موصوف لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کو مخلوقات میں سب سے پہلے بشر کہنے والا شیطان ہے۔ اب جو کوئی نبی کو برابری کے لئے بشر کہے وہ شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ دیکھا آپ نے کہ شرک وبدعت کی نحوست کیا کچھ گل کھلاتی ہے اور انسان کو کہاں سے کہاں پہنچادیتی ہے۔ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور خاص کر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی لسان حق ترجمان سے بارہا اور بتاکید و تکرار یہ اعلان کروایا اسی حقیقت صادقہ کے ماننے کو یہ محرف بدعتی ملاں شیطان کی پیروی قرار دے رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ فالی اللہ المشتکی۔ البتہ اس کے برعکس یہاں سے یہ ضرور ثابت ہوا کہ بشر کو حقیر سمجھنے کا ارتکاب سب سے پہلے شیطان نے کیا تھا۔ پس جو لوگ بشر کو حقیر سمجھ کر بشریت انبیاء کا انکار کرتے ہیں وہی ہیں جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس بدعتی تحریف پسند کی مزید تحریف ملاحظہ ہو کہ لکھتا ہے کہ " جو کوئی نبی کو برابری کے لئے بشر کہے " بھلا ایسا کون ہوسکتا ہے جو پیغمبر کو برابری کے لئے بشر کہتاہو ؟ بھلا جس پیغمبر پر ایمان لانا وہ ذریعہ نجات سمجھتا ہو اس کو برابری کے لئے بشرکہنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے اور اس کی تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 15:3432۔ ابلیس کے اخراج کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ابلیس سے کہا گیا کہ نکل جایہاں سے کہ تم مردود ہے اور ایسے مردودوں اور متکبروں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ پس تو یہاں سے نکل جا اس حال میں کہ تو ہر وبرکت سے محروم ومطرود ہے کہ تو نے اپنے رب کے صریح حکم کا مقابلہ ومعارضہ کیا ہے۔ اور جو نص صریح کا معارضہ و مقابلہ کرتا ہے وہ مردود ومطرود ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " رجیم "۔ رجم " سے ماخوذ ہے جس کے معنی " سنگسار کرنے " اور " پتھر مارنے " کے آتے ہیں۔ اور پتھر مارنا مطرود اور محروم ہونے کی تعبیر ہے۔ چونکہ جس کو دھتکارا جاتا ہے اس کو پتھر مار کر دور کیا جاتا ہے۔ نیز رجم کے معنی میں بھی داخل ہے کہ شیطان مردود کو آگ کے شعلے مار کر بھگایا جاتا ہے۔ سو یہ ابلیس کے انکار اور اس کے ابلیسی شبہ کے جواب میں اس کے لئے وعید کے طور پر فرمایا گیا کہ جو نص شرعی کے مقابلے ومعارضہ کے لئے قیاس سے کام لیتا ہے وہ مردود ورجیم ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 15:35–3733۔ ابلیس پر قیامت تک کے لئے لعنت و پھٹکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حق تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا کہ تجھ پر لعنت ہے قیامت کے دن تک، کہ قیامت تک تجھ پر ہر طرف لعنت وپھٹکارہی پڑتی رہے گی، اور اس کے بعد تو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں داخل ہوجائے گا جہاں تو اپنے کئے کا بھگتان ہمیشہ کے لئے بھگتتا رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تجھے نفخئہ اولی تک مہلت دے دی گئی۔ اس کے بعد جب نفخئہ اولی سے سب مخلوق فنا ہوجائے گی تو ان کے ساتھ تو بھی فنا ہوجائے گا۔ پھر چالیس سال تک نفخئہ ثانیہ پھونکا جائے گا تو بھی باقی مخلوق کے ساتھ موت کی آغوش میں رہے گا۔ اس کے بعد نفخئہ ثانیہ کے ذریعے سب مخلوق دوبارہ زندہ ہوگی تو بھی زندہ ہو کر اپنے آخری انجام کو پہنچے گا اور ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں جلتا رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ملعون کی یہ دعا تو قبول کرلی گئی کہ اس کو لمبی عمر دی جائے لیکن اس کی یہ دعاء نہیں قبول کی گئی کہ اس نفخئہ ثانیہ تک زندہ رہنے دیا جائے کہ اللہ پاک کی حکمت کا تقاضایہی تھا۔ سو وہ ملعون بھی نفخئہ اولی کے موقع پر سب مخلوق کے ساتھ مرجائے گا اور نفخئہ ثانیہ کے موقعہ پر سب کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوکراٹھے گا اور اپنے کیفر کردار کو پہنچے گا۔ (معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) بہرکیف شیطان اپنے اس تمردوسرکشی اور اپنی ابلیسی منطق اور بشر کو گھٹیا سمجھنے کے جرم کے نتیجے میں ملعون ومطرود قرار پاکر ہمیشہ کے لئے رجیم اور راندہ درگاہ ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں پر (فاخرج منھا) کی ضمیر مجرور کے مرجع میں کئی احتمال ہیں۔ جنت یا آسمان یا وہ مرتبہ ومقام جو اس کو وہاں پر حاصل تھا یا زمرہ ملائکہ جن کے درمیان وہ رہتا تھا۔ سو یہ سب ہی احتمال اس میں موجود ہیں اور سب ہی درست اور سب کا ہی معنی صحیح بنتا ہے۔ یعنی اس کو حکم ہوا کہ تو نکل جا اس جنت اور ان آسمانوں سے اور اس مرتبہ ومقام سے جو اس سے پہلے تجھے حاصل تھا۔ اور ان فرشتوں کی جماعت اور ان کے زمرے سے جن کے اندر تو اس سے پہلے تھا۔ (مدارک التنزیل، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور جامع البیان، وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بندے کی عزت و عظمت اسی میں ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا بندہ بن کررہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی میں اس کی ذلت و رسوائی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہی ہے خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہم فھذہ نواصینابین یدیک فخذنا بھا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل لحظۃ من اللحظات فی الحیاۃ، یامن بیدہ ملکوت کل شیء وھوایجیرولا یجار علیہ۔
Ayah 15:3834۔ ابلیس کی مہلت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابلیس کے مہلت مانگنے کے جواب میں حق تعالیٰ نے اس سے فرمایا کہ جاتجھے مہلت ہے مقرر وقت کی تاریخ تک یعنی اس دن تک، جس پر سب نے مر کر فنا ہوجانا ہے اور تو بھی انہیں کے ساتھ مر کر فنا ہوجائے گا۔ پس مراد اس وقت سے نفخئہ اولی ہے کہ اس تک اس کو مہلت ملے گی۔ اس نے تو کہا تھا کہ یوم البعث یعنی دوبارہ اٹھنے کے وقت تک اس کو مہلت مل جائے تاکہ وہ موت سے بچ جائے۔ مگر ایسے نہ ہوا اور اس کی یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ البتہ نفخئہ اولی تک اس کو لمبی مدت کی مہلت مل گئی تاکہ بنی آدم کے خلاف جو کچھ وہ کرنا چاہے کرلے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ومشیت اور بنی آدم کی ابتلاء آزمائش کا تقاضا یہی تھا، پس اس کی ایک درخواست تو قبول ہوگئی اس کو لمبی مہلت مل گئی مگر دوسری قبول نہ ہوئی کہ وہ یوم البعث تک زندہ رہے۔ (قرطبی، معارف، صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ اہل بدعت کے شیخ التفسیر صاحب نے اس موقعہ پر اپنے معروف اجتہاد سے کام لیتے ہوئے یہ شگوفہ چھوڑا کہ جب اس خبیث کی درازی عمر کی دعا قبول کرلی گئی تو پھر نبی کی دعا کے کیا کہنے ؟۔ شرم تو تم کو مگر نہیں آتی۔ سو حضرات انبیائے کرام کی شان اس طرح کے قیاسات سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ بہرکیف ابلیس اس حکم اخراج اور لعنت سے متاثر یا مرعوب ہونے کی بجائے اور اکڑ گیا اور اپنے لئے قیامت اور اپنے لئے قیامت تک مہلت مانگی تاکہ اولاد آدم کو گمراہ کرسکے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 15:3935۔ ابلیس کی طرف سے اولاد آدم کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ : یہ اس لعین کی طرف سے کھلم کھلا اعلان جنگ تھا اور ہے۔ جو اس بدبخت نے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کے حضور صاف طور پر کیا اور جس سے وہ " عدومبین " کھلم کھلا دشمن " قرار پایا تھا۔ اور اس نے کسی قسم کے جھوٹ یا تقیہ سے کام لے کر اپنی اس دشمنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کہ بلکہ اپنی دشمنی کا صاف صاف اور کھلم کھلا اعلان کردیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹا اور تقیہ باز انسان شیطان سے بھی بدتر ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پھر کیا خیال ہے آپ کا ان لوگوں کے نہ صرف یہ کہ تقیہ کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کو کار ثواب قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے ہو طرح طرح کے من گھڑت فضائل بیان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ابلیس لعین نے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی بارگاہ اقدس واعلی میں اپنی کھلی عداوت و دشمنی اور اولاد کے بارے میں اپنی آئندہ پالیسی کے بارے میں صاف اور صریح طور پر اور قطعی وثوق کے ساتھ کہا اور یہ اعلان کیا کہ میں ان کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ وہ اس شرف و مرتبہ کے اہل نہیں جو ان کو بخشا گیا۔ اور یہ کہ آدم کے آگے سجدہ نہ کرنے کے سلسلے میں میں حق بجانب تھا۔ اور اپنے اس پروگرام کا اس لعین نے طریق کار بھی واضح کردیا کہ میں ان کے لئے خواہشات نفس اور مرغوبات دنیا کو اس طرح مزین اور آراستہ و پیراستہ کرکے پیش کروں گا کہ یہ اس کے اندرپھنس کر اور الجھ کر رہ جائیں گے اور ایسے کہ ان کو یہ اپنا مرتبہ ومقام اور شرف ومنصب یاد رہے گا اور نہ ہی اپنے مقصد حیات اور اپنے مآل وانجام کا خیال رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ بھی اس جہنم میں پہنچ کر رہیں گے جس میں مجھے جانا چاہئے۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو۔