15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الۤرٰ۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔

الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ :”الْكِتٰبِ“ الف لام کی و جہ سے ”کامل کتاب“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”الْكِتٰبِ“ اور ”قُرْاٰنٍ“ دونوں مبالغہ کے لیے مصدر ہیں (جن کا معنی ہے لکھنا اور پڑھنا) جو اسم مفعول کے معنی میں ہیں، یعنی یہ اس کلام کی آیات ہیں جو بیشمار بار لکھا ہوا اور بیحد و حساب پڑھا ہوا ہے، فرمایا : (ۙاِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ 77 ۝ ۙفِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ) [ الواقعۃ : 77، 78 ] ”بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے، جو ایک ایسی کتاب میں ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔“ لوح محفوظ میں لکھے جانے اور جبریل ؑ اور نبی کریم ﷺ سے لے کر قیامت تک نہ اس کے لکھنے والوں کا شمار ہے نہ پڑھنے والوں کا۔ پھر خوبی یہ کہ یہ کتاب ہے تو کامل (الف لام کی و جہ سے) اور قرآن ہے تو ہر بات کو کھول کر بیان کرنے والا۔ قیامت تک کوئی اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتا۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش ! وہ مسلم ہوتے۔

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ :”رُبَّ“ حرف جر ہے، ”مَا“ بمعنی وقت۔ ”رُبَّ“ کا لفظ تقلیل کے لیے آتا ہے، یعنی کسی وقت، جیسے : ”رُبَّ أَخٍ لَمْ تَلِدْہُ اُمُّکَ“ ”کئی بھائی ہیں جنھیں تیری ماں نے نہیں جنا“ اور تکثیر کے لیے بھی، مثلاً ”رُبَّمَا یَنْجُو الذَّکِیُّ“ ”بہت دفعہ ذہین آدمی کامیاب ہوجاتا ہے۔“ فرق موقع کو ملحوظ رکھ کر ہوتا ہے، مثلاً یہی مثال اگر اس طرح ہو کہ ”رُبَّمَا یَنْجُ الْکَسُوْلُ“ تو معنی ہوگا ”کسی وقت سست آدمی بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔“ اس آیت میں بعض علماء نے یہ لفظ تقلیل کے لیے قرار دیا ہے، یعنی ”کسی وقت“ اور بعض نے تکثیر کے لیے، یعنی بہت بار، صاحب مغنی اللبیب کے بقول یہاں یہی معنی راجح ہے، کیونکہ مرنے کے بعد کفار کا ہر لمحہ اسی حسرت میں گزرے گا۔ ”لَوْ“ تمنی کے لیے ہے۔ ایسی چیز کی خواہش جو ناممکن ہو تمنی کہلاتی ہے، ممکن کی خواہش ”ترجّی“ کہلاتی ہے۔ يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : یہ سورت مکی ہے، جب مسلمان ہر طرح کمزور اور مغلوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ وہ وقت آ رہا ہے جب یہ کافر چاہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے، مگر وقت نکل جانے کے بعد کسی کام کی خواہش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت سے مراد دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جب مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور کفار کو شکست و رسوائی حاصل ہوگی، جیسے بدر، خیبر اور فتح مکہ وغیرہ اور کفار چاہیں گے کہ اس وقت مسلمان ہوتے تو ہمیں بھی یہ عزت و غنیمت ملتی اور موت کے وقت بھی اس تمنا کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمایا : (حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99 ۝ ۙلَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا) [ المؤمنون : 99، 100 ] ”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب ! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔“ پھر موت کے بعد کی سختیوں میں، خصوصاً جب آگ میں داخل ہونے کو ہوں گے، فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ) [ الأنعام : 27 ] ”اور کاش ! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔“ اور سب سے زیادہ حسرت کے ساتھ یہ خواہش اس وقت کریں گے جب مسلمانوں میں سے جہنم میں جانے والے سب کے سب جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔ ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب اہل نار آگ میں جمع ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ اہل قبلہ میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنھیں اللہ چاہے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے : ”کیا تم مسلم نہیں تھے ؟“ وہ کہیں گے : ”کیوں نہیں ؟“ کفار کہیں گے : ”پھر تمہارے اسلام نے تمہیں کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں پہنچ گئے ؟“ وہ کہیں گے : ”ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی و جہ سے ہم پکڑے گئے۔“ انھوں نے جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ اسے سنے گا اور جو اہل قبلہ میں سے ہوں گے ان کے متعلق حکم دے گا اور وہ نکال لیے جائیں گے، تو جب جہنمی یہ دیکھیں گے تو کہیں گے : ”کاش ! ہم بھی مسلم ہوتے اور ہم بھی اسی طرح نکل جاتے جیسے یہ نکلے ہیں۔“ (ابو موسیٰ ؓ نے) کہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ) [ السنۃ لابن أبي عاصم، باب ذکر من یخرج اللہ بتفضلہ من النار : 843۔ مستدرک حاکم : 2؍ 242، ح : 2954 ] شیخ البانی ؓ نے ”ظلال السنۃ“ میں اسے صحیح کہا ہے اور اس مفہوم کی کئی احادیث بیان کی ہیں۔ ”مُسْلِمِيْنَ“ نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”کاش ! وہ کسی طرح کے مسلمان ہوتے“ یعنی گناہ گار بھی ہوتے تو آخر جہنم سے نکل ہی جاتے۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

انھیں چھوڑ دے، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور انھیں امید غافل رکھے، پھر جلدی جان لیں گے۔

ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ ۝: ”ذَرْ“ مثال واوی سے فعل امر ہے، اس کا صرف امر اور مضارع استعمال ہوتا ہے، اس کے باقی صیغوں کی جگہ ”تَرَکَ“ کے مشتقات استعمال ہوتے ہیں۔ ”وَيُلْهِهِمُ“ ”لَھْوٌ“ سے باب افعال کا مضارع ”یُلْھِیْ“ ہے جو ”ذَرْ“ کا جواب ہونے کی و جہ سے یا لام امر مقدر ہونے کی و جہ سے مجزوم ہے، اس کی ”یاء“ اور ”يَاْكُلُوْا“ اور ”وَيَتَمَتَّعُوْا“ کا نون بھی اسی و جہ سے گرگئے ہیں۔ یہ سارے امر انھیں ڈانٹنے کے لیے ہیں، یہ نہیں کہ انھیں اجازت دی جا رہی ہے۔ اس معنی کی آیات کے لیے دیکھیے سورة مرسلات (46) ، سورة زخرف (83) اور سورة طور (45) وغیرہ۔”يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا“ سے معلوم ہوا کہ کفار کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ ہے۔ ”الْاَمَلُ“ امید، کسی چیز کے حصول کی آرزو، عموماً جس کا حصول بعید ہو۔ وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ : ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَیْنَ یَدَیْہِ غَرَزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلٰی جَنْبِہٖ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَہٗ ، ثُمَّ قَالَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا ؟ قَالُوْا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ ، قَالَ ھٰذَا الإِْنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہُ وَھٰذَا أَمَلُہُ یَتَعَاطَی الْأَمَلَ یَخْتَلِجُہُ دُوْنَ ذٰلِکَ)[ مسند أحمد : 3؍18، ح : 11138، إسنادہ جید ] ”رسول اللہ ﷺ نے اپنے آگے ایک لکڑی گاڑی، پھر ایک اس کے پہلو میں گاڑی، پھر تیسری اس سے دور گاڑی، پھر فرمایا : ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟“ لوگوں نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ فرمایا : ”یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے اور وہ اس کی آرزو ہے۔ وہ آرزو حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کے حصول سے پہلے اس کے راستے میں اجل رکاوٹ بن جاتی ہے۔“ عبداللہ بن عمرو ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں : (صَلاَحُ أَوَّلِ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بالزُّھْدِ وَالْیَقِیْنِ وَیُھْلَکُ آخِرُھَا بالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 15؍3، ح : 3427 ]”اس امت کے اول کی درستگی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور اس کا آخری حصہ بخل اور امل (امید) کے ساتھ ہلاک ہوگا۔“
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس حال میں کہ اس کے لیے ایک مقرر لکھا ہوا وقت تھا۔

اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ : وہ مقرر لکھا ہوا وقت جب تک باقی رہا اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دی، لیکن جونہی مدت پوری ہوئی فوراً انھیں پکڑ لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول ﷺ کے جھٹلانے اور ٹھٹھا اڑانے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ابھی تک ہم نے گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تمہاری گرفت ہوگی ہی نہیں ؟
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔

وَمَا يَسْتَاْخِرُوْنَ : یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (2)۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے ! بیشک تو تو دیوانہ ہے۔

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ : وہ یہ بات بھی استہزا کے لیے کہہ رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ اسے مانتے تھے۔ ”الذِّكْرُ“ سے ہر وہ چیز مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی، اس میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ : پچھلی آیات میں کفار کو کتاب اللہ کے جھٹلانے پر ڈانٹا گیا تھا، اب ان کی سرکشی کا بیان ہے اور ان کے رسول کے ساتھ استہزا اور آپ کو جھٹلانے کا بیان ہے۔ وہ لوگ مذاق کے طور پر آپ ﷺ کو پاگل اور دیوانہ کہتے تھے، حالانکہ آپ سب سے زیادہ عقل مند تھے۔ یہ ان کے کفر و استہزا کی بدترین صورت تھی اور انھوں نے یہ بات اس قدر مشہور کر رکھی تھی کہ صحیح مسلم میں ضماد ازدی کا قصہ مذکور ہے کہ وہ ازد قبیلے کا ایک فرد تھا، مکہ آیا تو اس نے مکہ کے بیوقوفوں سے سنا کہ آپ مجنون ہیں، وہ آپ کے پاس آیا اور آپ کو آپ کا علاج کرنے کی پیش کش کی، آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اس نے درخواست کی کہ آپ اسے پھر پڑھیں، آپ نے تین دفعہ یہ خطبہ پڑھا، اس نے اس کی بیحد تعریف کی اور اسی پر مسلمان ہوگیا۔ [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ : 868 ] سبحان اللہ ! علاج کے لیے آنے والے کا خود علاج ہوگیا۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا، اگر تو سچوں میں سے ہے۔

لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بالْمَلٰۗىِٕكَةِ : کہ فرشتے سامنے آ کر گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ کا سچا پیغمبر ہے، اس کی پیروی اختیار کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر کیا ہے، فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ) [ الأنعام : 8 ] ”اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا ؟“ اور دیکھیے سورة زخرف (53) اور سورة فرقان (21، 22) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ ﷺ ان کو عذاب سے ڈراتے تو انھوں نے ”لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بالْمَلٰۗىِٕكَةِ“ کہہ کر عذاب کا مطالبہ کیا ہو۔ (کبیر)
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ۔۔ : یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی شخص کی موت کا وقت آگیا ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہو، اس کے بعد انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ۔۔ : یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ ”قرآن“ کے بجائے لفظ ”ذکر“ استعمال فرمایا، جس میں سب سے پہلے قرآن آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ) [ یوسف : 2 ] ”بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔“ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال یعنی حدیث بھی ذکر (نصیحت) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ ﷺ کو اپنا نازل کردہ ذکر قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۝ ۙرَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ) [ الطلاق : 10، 11 ] ”یقیناً اللہ نے تمہاری طرف ایک ذکر (نصیحت) نازل کیا ہے، جو ایسا رسول ہے کہ تمہارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے۔“ علاوہ ازیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ ﷺ جو کریں اسے کرنے کا اور جو کہیں اسے ماننے کا حکم دیا، پہلے کا نام اتباع ہے، دوسرے کا اطاعت ہے، چناچہ فرمایا : (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ) [ آل عمران : 31 ] ”کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔“ اور فرمایا : (قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ) [ آل عمران : 32 ] ”کہہ دے اللہ اور رسول کا حکم مانو۔“ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا : اس جملے میں اللہ تعالیٰ نے بیحد تاکید کے لیے لفظ ”ہم نے“ کو تین دفعہ دہرایا ”اِنَّا“ میں ”نَا“ (ہم نے) ، دوسرا ”نَحْنُ“ (ہم نے) اور تیسرا ”نَزَّلْنَا“ میں ”نَا“ (ہم نے)۔ بہت کوشش سے بھی تینوں تاکیدوں کا ترجمہ فصیح اردو میں مشکل ہے۔ 3 یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم دیوانہ کہہ رہے ہو، یہ تو خود ہم ہی نے نازل کیا اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قاضی اسماعیل بصری سے پوچھا گیا کہ اس میں کیا راز ہے کہ پہلی کتابیں قرآن کی طرح محفوظ نہ رہ سکیں ؟ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت انسانوں کے ذمے لگائی تھی، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ۔۔ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ) [ المائدۃ : 44 ] ”بیشک ہم نے تورات اتاری۔۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے“ جب کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی۔ (الوسیط) ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قرآن و حدیث قیامت تک کے لیے تمام لوگوں کے لیے ہیں، جب کہ اس سے پہلے ہر کتاب ایک قوم اور ایک وقت تک کے لیے تھی۔ جس طرح قرآن اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے معجزہ ہے کہ جن و انس جمع ہو کر بھی اس جیسی ایک سورت نہیں بنا سکتے، اسی طرح یہ بھی اس کا معجزہ ہے کہ اس میں رد و بدل نہیں ہو سکے گا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ وعدہ حیرت انگیز طور پر پورا ہو رہا ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس طرح محفوظ ہو کہ اس کے کسی ایک حرف میں رد و بدل نہ ہوا ہو۔ دنیا بھر میں قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں معمولی سا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ مسلمانوں پر زوال اور غلامی کے ایام بھی آئے، مگر قرآن کی حفاظت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت جو کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور قرآن کی اس طرح حفاظت کے غیر مسلم مخالف بھی معترف ہیں۔ 3 منکرین حدیث عموماً حدیث سے انکار کے لیے کہتے ہیں کہ قرآن کی حفاظت کا تو اللہ نے وعدہ کیا، مگر حدیث کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا، اس لیے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان سے پوچھیے کہ اس کی کیا دلیل ہے ؟ تو وہ یہ آیت پڑھیں گے، حالانکہ اس میں لفظ ”قرآن“ نہیں بلکہ ”اَلذِّکرَ“ ہے، جس میں حدیث بھی شامل ہے اور اس کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے اتنا زبردست اور عجیب و غریب انتظام فرمایا کہ دنیا میں کسی شخص کے اقوال و افعال اور احوال اس طرح محفوظ نہیں جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ کے محفوظ ہیں۔ اس کے لیے صحابہ کرام ؓ ، تابعین اور محدثین نے اتنی محنت کی کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے محفوظ فرما دی، جس کی پیروی اور اطاعت ہمارے لیے لازم تھی۔ اس حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں رجال اور اصول حدیث کے علوم کا الہام فرمایا اور انھوں نے ایک لاکھ سے زائد افراد کی زندگی کے حالات، ان کا قابل اعتماد ہونا یا نہ ہونا، ان کا سن پیدائش و وفات محفوظ فرما دیا، جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ روایت جو آپ ﷺ کی طرف منسوب ہے، صحیح ہے یا نہیں۔ کسی نبی کی زندگی کے حالات اور اقوال و افعال کے لیے نہ یہ اہتمام کسی امت کو نصیب ہوا اور نہ کسی نبی کے حالات اس کا ہزارواں حصہ بھی ملتے ہیں جس قدر محمد رسول اللہ ﷺ کے حالات بحفاظت دنیا تک پہنچے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر حدیث محفوظ نہ ہو تو قرآن پر عمل ناممکن ہے، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ غرض کوئی چیز بھی حدیث کی تفصیل کے بغیر ادا کرنا ناممکن ہے۔ رہی یہ بات کہ احادیث میں ضعیف روایات کی آمیزش ہے تو جواب یہ ہے کہ جب اس کا حل موجود ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ محدثین نے صحیح و ضعیف کو الگ الگ کردیا ہے۔ جس طرح شیعہ کے عقیدے سے کہ یہ قرآن وہ نہیں جو علی ؓ یا اہل بیت کے پاس تھا، قرآن مجید کی صحت و عظمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ بےدلیل دعویٰ کچھ وزن نہیں رکھتا اور آج تک ان کے مزعوم قرآن کا کہیں وجود نہیں ملا، اسی طرح منکرین حدیث کے اعتراض سے حدیثوں کی حفاظت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیونکہ یہ سب اعتراض لاعلمی یا الحاد کا نتیجہ ہیں اور ان سب کا جواب علمائے اسلام نے بہترین طریقے سے دے دیا ہے۔
Ayahs 15:10–11

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے اگلے لوگوں کے گروہوں میں رسول بھیجے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ :”شِيَعِ“ ”شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ) [ الأنعام : 159] ”بیشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔“ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے : (وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيم) [ الصآفات : 83 ] ”اور بیشک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔“ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے اور استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں، ہر زمانے میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔
Ayahs 15:12–13

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقینا (یہی) پہلے لوگوں کا طریقہ گزرا ہے۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔۔ : ”نَسْلُكُهٗ“ میں ”ہٗ“ ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ ”ہٗ“ کی ضمیر ”اَالذِّکْرَ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کردیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق ”نَسْلُكُهٗ“ اور ”لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ“ میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ نے بھی یہی تفسیر ذکر فرمائی ہے۔ دوسری تفسیر امام المفسرین طبری ؓ کی ہے کہ ”نَسْلُكُهٗ“ میں ضمیر ”ہٗ“ ”استہزا و کفر“ کی طرف جاتی ہے، یعنی ہم مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں میں کفر و استہزا داخل کردیتے ہیں، اس طرح کہ وہ اللہ کے نازل کردہ ذکر پر بالکل ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس سے استہزا کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے۔ دونوں تفسیروں کا نتیجہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں، پس وہ دن بھر اس میں چڑھتے رہیں۔

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ۔۔ : ”ظَلَّ“ اور ”بَاتَ“ میں وقت بھی ملحوظ ہوتا ہے۔ ”ظَلَّ“ دن کو ہونا، ”بَاتَ“ رات کو ہونا۔ اب ایک عجیب انداز میں ان کی ہٹ دھرمی اور ہر دلیل دیکھ کر بھی ایمان نہ لانے کا بیان ہوتا ہے، یعنی ان کا مطالبہ تو صرف فرشتے لانے کا ہے، اگر اس سے بڑھ کر عین دن کے بارہ بجے روشنی میں سب کے سامنے ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ لوگ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھنے لگیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو یقینا کہیں گے کہ بات یہی ہے کہ ہماری آنکھیں باندھ دی گئی ہیں، بلکہ ہم جادو کیے ہوئے لوگ ہیں۔

لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا۔۔ : ”سَکَرَ یَسْکُرُ سَکْرًا“ باندھنا، روکنا اور بند کرنا، ”سَکَرْتُ الْبَابَ“ ”میں نے دروازہ بند کیا۔“ ”سُكِّرَتْ“ باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے، یعنی یہی کہیں گے کہ جادو کے زور سے ہماری آنکھیں بالکل بند کردی گئی ہیں، اس لیے جادو زدہ ہونے کی و جہ سے ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں محض خیال ہے اور فی الواقع انھوں نے یہ کام کر بھی دکھایا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَر) [ القمر : 1، 2 ] ”قیامت بالکل قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے (یا ہمیشہ سے چلا آنے والا ہے)۔“
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمان میں کئی برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے مزین کردیا ہے۔

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : ”بُرُوْجًا“ ”بُرْجٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں بڑے بلند و بالا اور مزین قلعہ یا محل کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ) [ النساء : 78 ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اس کا اصل معنی نمایاں اور ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات ؓ سے فرمایا : (وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى) [ الأحزاب : 33 ] ”اور پہلی جاہلیت کے زینت لگا کر نمایاں ہونے کی طرح زینت لگا کر ظاہر نہ ہو۔“ مزید دیکھیے سورة بروج کی پہلی آیت۔ پچھلی آیات رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے لیے پہلے عالم بالا کا ذکر فرمایا ہے، پھر زمین کا، پھر ان کے درمیان کی چیزوں کا اور اس کے بعد آدم و ابلیس کا تذکرہ ہے۔ چناچہ فرمایا ہم نے آسمان میں عظیم الشان اور نمایاں برج بنائے ہیں، یعنی ستاروں کے نمایاں جھرمٹ، سورج اور چاند کی منازل جس سے رات کو ٹھنڈک والی روشنی اور دن کو تیز روشنی اور حرارت کے حصول کے علاوہ وقت، دنوں، مہینوں اور سالوں کا تعین ہوتا ہے۔ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کی نشوونما، ان کی بقا اور بےانتہا ضرورتوں کا بندوبست ہوتا ہے، سمندر کا مدوجزر اور بیشمار فوائد جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں، انھی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان سب کو بنانے والا، چلانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ کسی کا دعویٰ ہے تو اسے سامنے لاؤ۔ بعض اہل علم نے ”بُرُوْجاً“ ان مقامات کو بھی بتایا ہے جہاں آسمان کے محافظ فرشتے رہتے ہیں۔ وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ کی قدرت و توحید کے دلائل میں سے ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے آسمان کو چاند، ستاروں اور سورج سے مزین کردیا ہے۔ رات کو ستاروں اور چاند کے ساتھ آسمان کی زینت کا نظارہ صحیح طرح وہاں ہوتا ہے جہاں مصنوعی روشنیاں نہ ہوں۔ یہ صرف ایک آسمان ہی پر موقوف نہیں، اس لامحدود قدرت والے نے جو چیز بھی پیدا کی خوب صورت پیدا کی اور اس میں زینت کا خاص اہتمام فرمایا، چھوٹے سے چھوٹے کیڑے سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق سب کچھ ہی کمال خوبصورت بنایا، فرمایا : (الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ) [ السجدۃ : 7 ] ”جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔“ اسی لیے رسول اللہ ﷺ صاف ستھرا اور بن سنور کر رہنے کو پسند کرتے تھے، فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91 ] ”بیشک اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔“ وہ سادھوؤں، جوگیوں یا راہبوں اور بیوقوف صوفیوں کی طرح گندے اور بدزیب ہو کر رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ وہ دس چیزیں جنھیں رسول اللہ ﷺ نے فطرت کا حصہ قرار دیا، مثلاً کلی، مسواک، زیر ناف کی صفائی وغیرہ، یہ اسی نظافت اور جمال کو کامل رکھتی ہیں۔
Ayahs 15:17–18

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہم نے اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ کردیا ہے۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : یعنی آسمان کو ہم نے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھنے کا زبردست انتظام کر رکھا ہے۔ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌ۔۔ : سرقہ چوری کو کہتے ہیں، باب افتعال سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی مگر جو نہایت کوشش سے، یا نہایت خفیہ رہ کر چوری کرے۔ ”السَّمْعَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی چیز چرا لے۔ ”شِهَابٌ“ ہر روشنی کرنے والی چیز جو آگ سے پیدا ہو، عموماً ستارہ جو شعلے کی طرح پیچھا کرتا نظر آتا ہے۔ ”شِهَابٌ مُّبِيْنٌ“ روشن شعلہ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَاءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِھَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلٰی صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ ، فَیَسْمَعُھَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ھٰکَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہِ الْیُمْنَی، نَصَبَھا بَعْضَھَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّھَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِھَا إِلٰی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہٗ ، وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِيَ بِھَا إِلَی الَّذِيْ یَلِیْہِ ، إِلَی الَّذِيْ ھُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتّٰی یُلْقُوْھَا إِلَی الْأَرْضِ ، فَتُلْقَی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ فَیَکْذِبُ مَعَھَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ ، فَیُصَدَّقُ کَذَا وَ کَذَا ؟ فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (إلا من استرق السمع۔۔) : 4701 ] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم صادر فرماتا ہے تو اس کا کلام سن کر فرشتے اظہار اطاعت و عجز کے لیے اپنے بازو (پر) پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، (اس کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے کسی چٹان پر زنجیر کی آواز۔ پھر جب ان کے دلوں کا خوف جاتا رہتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ (اس وقت) فرشتوں سے سنائی دینے والی بات کو چوری سننے والے شیطان سننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں“ اور راوی حدیث سفیان نے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک دوسرے کے اوپر کر کے دکھائیں ”پھر بعض اوقات وہ شعلہ سننے والے کو اس سے پہلے جا پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو جلدی سے بتائے اور اسے جلا دیتا ہے اور بعض اوقات اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنے ساتھ والے کو جلدی سے بتاچکا ہوتا ہے، جو اس سے نیچے ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں، تو وہ بات کاہن (نجومی) یا جادوگر کو پہنچا دی جاتی ہے، وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا لیتا ہے تو اس کی بات کو سچا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں بتایا تھا اور ہم نے دیکھا کہ وہ بالکل درست تھا، اس بات کے متعلق جو آسمان سے سنی گئی تھی۔“ مزید دیکھیے سورة صافات (5، 6) اور سورة طارق (1 تا 4)۔ یاد رہے کہ شیطان صرف وہ بات چرا سکتے ہیں جس کا تعلق آئندہ ہونے والے ان کاموں سے ہوتا ہے، جن کے متعلق فرشتے آسمان کے نیچے آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ فرشتے بادل میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ [ بخاری : 4701 ] مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کی طرف جو وحی ہوتی ہے، اس کی حفاظت کا اتنا زبردست انتظام ہوتا ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شیطان اسے سن سکے یا چرا سکے، دیکھیے سورة جن کی ابتدائی اور آخری آیات کی تفسیر۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین، ہم نے اسے پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ رکھے اور اس میں ہر نپی تلی چیز اگائی۔

وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا : اب زمین اور اس پر پیدا کردہ اشیاء کو توحید کی دلیل کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ ”مَدَدْنٰهَا“ ”مَدَّ یَمُدُّ“ (ن) کا معنی ہے کھینچنا، پھیلانا۔ جب ہم زمین کی وسعت اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں تو وہ اتنی ہے کہ اس پر چلنے پھرنے، رہنے، کاشت کرنے، مکان یا سڑکیں بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، مگر آنکھوں کو اس کی انتہا نظر نہیں آتی، خواہ کتنا سفر کرلیں۔ یہ پھیلاؤ اور مدّ دلیل ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے گول بنایا ہے، ورنہ اگر یہ مربع یا کسی اور شکل کی ہوتی تو یہ پھیلاؤ کسی جگہ جا کر ختم ہوجاتا، اب تو گول زمین کی تصویریں بھی آچکی ہیں اور تجربے سے بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے، اس کے باوجود اس کا جھکاؤ ایسا عجیب ہے کہ نہ نظر آتا ہے اور نہ اس کلیے میں کوئی فرق پڑتا ہے کہ ”پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے“ مگر سیکڑوں برس پہلے اس حقیقت کو وہی بیان کرسکتا تھا جس نے اسے پیدا کیا اور پھیلایا ہے۔ وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا : ”رَوَاسِيَ“ ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے جو ”رَسَا یَرْسُوْ“ (ن) کا اسم فاعل ہے، جس کا معنی کسی بھاری چیز کا گڑا ہوا ہونا ہے۔ مراد پہاڑ ہیں جن کا اکثر حصہ زمین کے اندر اور باقی باہر ہوتا ہے۔ اس سے ایک دوسری حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ زمین کو متحرک بنایا گیا ہے، تبھی اس پر بھاری پہاڑ زمین کی گردش میں توازن رکھنے کے لیے گاڑ دیے گئے، تاکہ تیز رفتاری کے باوجود اس میں لرزش اور تھرتھراہٹ پیدا نہ ہو، جیسا کہ گاڑی کے پہیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کی مختلف جگہوں پر ضرورت کے مطابق لوہے وغیرہ کے ٹکڑے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایک اور آیت میں بھی یہ اشارہ موجود ہے : (وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ) [ النمل : 88] ”اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا، انھیں گمان کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔“ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ :”فِيْهَا“ یعنی زمین میں ہر چیز اتنی اگائی اور پیدا کی جتنی اس کی ضرورت تھی، نہ کسی چیز کو بلاضرورت پیدا کیا اور نہ ایک خاص حد سے بڑھنے دیا۔ ”فِيْهَا“ میں ضمیر جبال (پہاڑوں) کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یعنی پہاڑوں کے اندر ہر چیز یعنی معدنیات وغیرہ پورے اندازے سے پیدا کیں۔ (شوکانی)
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لیے اس میں روزیاں بنائی ہیں اور ان کے لیے بھی جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔

وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ۔۔ : ”مَعَايِشَ“ ”مَعِیْشَۃٌ“ کی جمع ہے، ”عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا وَ مَعَاشًا وَمَعِیْشَۃً“ کا معنی زندہ رہنا ہے، جیسے ”مَاتَ یَمُوْتُ مَوْتًا“ کا معنی مرنا ہے۔ پھر یہ لفظ زندگی کی ضرورتوں کے لیے استعمال ہونے لگا، یعنی تمہاری زندگی گزارنے کے لیے کھانے پینے، رہنے، علاج، راحت، سواری، الغرض ہر ضرورت کی چیز تمہارے لیے بھی پیدا کی اور ان کے لیے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں۔ اس سے دو قسم کی چیزیں مراد ہیں، ایک تو وہ جن کا تم سے تعلق ہی نہیں، سمندر کی گہرائیوں میں پہاڑوں کی بلندیوں میں، صحراؤں کی وسعتوں میں، زمین کی تہوں میں، آباد اور بےآباد زمین کی سطح پر اور فضاؤں میں بیشمار مخلوق ہے جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔ ”لَّسْتُمْ“ نفی کی تاکید ”بِرٰزِقِيْنَ“ کی باء کے ساتھ ہونے کی و جہ سے ترجمہ ”ہرگز“ کیا گیا ہے۔ دوسری وہ تمام چیزیں جو تمہاری خدمت کے لیے ہیں، مثلاً چوپائے، سواریاں، بیوی بچے اور نوکر چاکر وغیرہ، جن کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ ہم انھیں کھانے کو دے رہے ہیں، خوب سمجھ لو کہ تم ہرگز انھیں روزی نہیں دے رہے، زمین میں ان کی معیشت بھی ہم ہی نے بنائی ہے اور ہم ہی انھیں رزق دے رہے ہیں، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ) [ الذاریات : 58 ] ”بیشک اللہ ہی بیحد رزق دینے والا، قوت والا، نہایت مضبوط ہے۔“ اور فرمایا : (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا) [ ہود : 6 ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے۔“
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔

وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا۔۔ : یعنی کوئی بھی چیز، قیمتی سے قیمتی ہو یا معمولی سے معمولی، ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں، مگر ہم اس کو معلوم اندازے کے مطابق ہی ظاہر کرتے ہیں، مثلاً جلانے اور روشنی کے لیے لکڑی استعمال ہوتی تھی، جب آبادی زیادہ ہوئی تو کوئلہ نکل آیا، مزید بڑھی تو پٹرولیم عطا ہوا، اس سے بھی بڑھی تو گیس نکل آئی، بجلی کے او ون ایجاد ہوگئے۔ توانائی اور سواری کے لیے جانور استعمال ہوتے تھے، پھر پہیہ ایجاد ہوا، پھر کوئلہ استعمال ہونے لگا، پھر پٹرولیم، گیس، بجلی اور ایٹم، الغرض ! ایجادات بھی ضرورت کے مطابق اپنے اپنے وقت پر ہوئیں۔ اس سے ان ملحد لوگوں، خصوصاً حکمرانوں کی بات کا غلط ہونا صاف واضح ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ آبادی زیادہ بڑھ رہی ہے، جب کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، ہم سب کی خوراک کا بندوبست نہیں کرسکتے، اس لیے آبادی کم کرو، ضبط ولادت کرو، ایک یا دو بچے پیدا ہونے دو۔ یہ لوگ درحقیقت اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، جس نے فرمایا کہ ہمارے پاس ہر چیز کے بیشمار خزانے ہیں، مگر ہم مقرر اندازے کے ساتھ ہی اسے نازل کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے کسی کو خوراک کیا دینی ہے، یہ تو خود عوام کی کمائی پر پلتے ہیں۔ اللہ کا کرم دیکھو، جو زمین پہلے دس من غلہ پیدا کرتی تھی اب سو من نکالتی ہے، بجلی اور دوسری ایجادات سے جو آسائشیں آج عام آدمی کو میسر ہیں وہ چند سو سال پہلے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی میسر نہ تھیں، بلکہ ان کے خیال میں بھی نہ تھیں، الا یہ کہ وہ سلیمان ؑ جیسا ہو، پیدل سفر اور اونٹوں، گھوڑوں کی جگہ گاڑیاں اور جہاز اور لق و دق صحراؤں کی جگہ آبادیاں اور نہایت صاف اور کشادہ سڑکیں اور ریلویز۔ اُون اور کپاس کی جگہ پٹرولیم کے کپڑے۔ الغرض ! کس کس نئی نعمت اور خزانے کا ذکر کیا جائے۔ رہا آبادی اور وسائل کا تناسب، تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہتر کون جانتا ہے، اگر آبادی کم کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی غیبی تدبیر سے خود ہی کم کرلیتا ہے، کبھی طوفانوں سے، کبھی جنگوں سے، کبھی زلزلوں سے، کبھی وباؤں کے ذریعے سے۔ الغرض ہر جان دار کا رزق اللہ کے ذمے ہے اور ہر شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک منہ کھانے کے لیے اور دو ہاتھ کمانے کے لیے دے کر بھیجتا ہے اور ایک ایک شخص کئی کئی افراد کی ضروریات مہیا کرتا ہے۔ دراصل یہ حکمران اس بہانے سے بدکاری اور بےحیائی پھیلانا چاہتے ہیں اور بےحیائی پھیلانے کے خواہش مند لوگوں کی سزا اللہ تعالیٰ نے سورة نور (19) میں بیان کی ہوئی ہے۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کا یہی حکم ہے کہ آبادی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرو، دنیا میں غلبے کا یہ ایک مضبوط ذریعہ بھی ہے اور قیامت کے دن ہمارے نبی ﷺ کے لیے دوسرے انبیاء سے اپنی امت کے زیادہ ہونے کی خوشی اور فخر کا باعث بھی، جیسا کہ معقل بن یسار ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے : (تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّيْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ) ”ایسی عورت سے نکاح کرو جو (خاوند سے) بہت محبت کرنے والی ہو اور بہت بچے جننے والی ہو، کیونکہ میں دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں گا۔“ [ أبوداوٗد، النکاح، باب النھي عن تزویج من لم یلد من النسآء : 2050۔ نسائی : 3229، و صححہ الألباني ]
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے ہواؤں کو بار آور بناکر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے تمہیں وہ پلایا اور تم ہرگز اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں۔

وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ۔۔ : ”لَوَاقِحَ“ ”لَاقِحٌ“ کی جمع بھی ہوسکتی ہے، یہ لفظ مذکر ہونے کے باوجود مؤنث ہے، جیسے ”حَاءِضٌ“ اور ”حَامِلٌ“ ، ”لِقَاحٌ“ نر جانور کے مخصوص پانی کو کہتے ہیں۔ ”لَاقِحٌ“ وہ اونٹنی جس نے ”لِقَاحٌ“ کو قبول کرلیا ہو، یعنی حاملہ ہوچکی ہو اور اپنے پیٹ میں جنین اٹھائے پھرتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہواؤں کو حمل اٹھانے والی اس لیے قرار دیا کہ وہ اپنے اندر حاملہ اونٹنیوں کی طرح ایسے آبی بخارات اور بادلوں کا بوجھ اٹھا کر چلتی ہیں جو بارش برسانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ ”لَاقِحٌ“ بمعنی ”مُلْقِحٌ“ (باب افعال سے اسم فاعل، یعنی وہ نر جو حاملہ کرتا ہے) کی جمع بھی ہوسکتی ہے، یعنی یہ ہوائیں بادلوں پر اور مادہ درختوں پر، مثلاً کھجور وغیرہ، یا مادہ پھولوں پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں کہ ہواؤں کے ذریعے سے بادل برسنے کے قابل ہوتے ہیں، ہواؤں ہی کے ذریعے سے نر درختوں اور نر پھولوں کا بور ان کے مادہ درختوں اور پھولوں تک پہنچتا ہے، جس سے ان کے پھل لانے کا عمل وجود میں آتا ہے۔ آیت کا کمال بلاغت یہ ہے کہ ”لَوَاقِحَ“ کا لفظ استعمال فرمایا جو حاملہ ہونے اور حاملہ کرنے کے دونوں مفہوم ادا کرتا ہے۔ فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ : ”سَقٰی یَسْقِیْ“ پلانا، ”أَسْقٰی یُسْقِیْ“ پلانے کے لیے دینا، مہیا کرنا، یعنی ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور تمہیں ایک دوسرے کو پلانے اور اپنے جانوروں اور پودوں کو پلانے کے لیے عطا فرمایا۔ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ : یعنی نہ اوپر آسمان میں بارش کا خزانہ تمہارے قبضے میں ہے اور نہ نیچے زمین میں کنووں، چشموں، تالابوں کے خزانے پر تمہارا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پانی کو جس مقدار میں چاہتا ہے رکھتا ہے، وہ جب چاہے بارش برسائے تم اسے روک نہیں سکتے، یا جب چاہے روک لے تم اسے اپنی مرضی سے برسا نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو چشموں اور کنووں میں تمام جمع شدہ پانی زمین میں جذب ہوجائے اور تمہیں ایک قطرہ بھی پینے کو نہ ملے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم، یقینا ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں۔

وَاِنَّا لَنَحْنُ نُـحْيٖ وَنُمِيْتُ۔۔ : اس آیت میں زندگی اور موت اور وراثت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہونے کی تاکید ”اِنَّ“ ، لام تاکید، ”نَا“ ضمیر متکلم، ”نَحْنُ“ ضمیرمتکلم، ”نُـحْيٖ“ اور ”نُمِيْتُ“ میں ضمیر متکلم کے ساتھ کی ہے اور آخر میں پھر ”نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ“ میں ”نَحْنُ“ کے ساتھ اور ”الْوٰرِثُوْنَ“ خبر کو الف لام برائے حصر کے ساتھ لا کر تاکید کی انتہا کردی ہے کہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے اور صرف وہی وارث ہے۔ عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں اتنی تاکید کا سامان ہی موجود نہیں اور اتنی تاکید کی ضرورت اس لیے ہے کہ کفار کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ یہ تینوں باتیں نہیں مانتے، ورنہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے۔ جتنا انکار سخت ہوگا اتنی ہی زیادہ تاکید کے ساتھ بات کی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہوجائیں گے، مال و متاع جو کچھ بچ رہے گا وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جان رکھا ہے جو تم میں سے بہت آگے جانے والے ہیں اور بلاشبہ ہم نے ان کو بھی جان رکھا ہے جو بہت پیچھے آنے والے ہیں۔

وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ۔۔ : اس میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں : 1 وہ لوگ جو ہم سے پہلے گزر چکے اور جو ہمارے بعد آنے والے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ اس کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ 2 وہ لوگ جو اذان کا پہلا لفظ ”اللہ اکبر“ سنتے ہی اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑا سمجھتے ہوئے سب سے پہلے نماز کے لیے چل پڑتے ہیں اور جو پیچھے رہ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ 3 مستقدمین و مستاخرین، یعنی جہاد اور دوسری نیکیوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب ہی انھیں اکٹھا کرے گا۔ یقینا وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَاِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ۔۔ : کفار دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے، توحید کے دلائل کے بعد نہایت تاکید کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا، کیونکہ یہ اللہ کے حکیم وعلیم ہونے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس کے بغیر بندہ نہ مومن ہوتا ہے، نہ باز پرس کے یقین کے بغیر کوئی نیکی ہوسکتی ہے اور نہ گناہ سے بچا جاسکتا ہے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ۔۔ : اس سورت میں آیت (16) (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا) سے دلائلِ توحید کا بیان چلا آ رہا ہے، جب اوپر کی آیات میں مختلف چیزوں کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کیے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے، الغرض یہ دلائلِ توحید میں ساتویں قسم ہے۔ (کبیر) مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ : عربی زبان میں خشک مٹی کو ”تُرَابٌ“ کہتے ہیں، جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ ”طِیْنٌ“ کہلاتی ہے، پھر جب مدت تک پڑی رہنے سے وہ سیاہ ہوجائے تو اسے ”حَمَاٍ“ کہتے ہیں، بدبو بھی آنے لگے تو ”حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ“ (بدبو دار کیچڑ) کہتے ہیں، پھر جب وہ خشک ہو کر کھن کھن بجنے لگے تو وہ ”صَلْصَالٍ“ کہلاتی ہے۔ ”مَّسْنُوْنٍ“ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جس کی تصویر بنائی گئی ہو، جیسا کہ ”سُنَّۃُ الْوَجْہِ“ کا معنی ”صُوْرَۃُ الْوَجْہِ“ آتا ہے اور ”مَّسْنُوْنٍ“ کا معنی ملائم و نرم بھی ہے۔ آیات و تفاسیر سے آدم ؑ کی پیدائش کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے خشک مٹی لی، جیسا کہ سورة آل عمران (59) میں آدم ؑ کو ”تُرَاب“ سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور جیسا کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْھُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّھْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ) [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في القدر : 4693۔ ترمذی : 2955۔ أحمد : 4؍400، ح : 19601، و صححہ الألباني ]”اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی سے پیدا فرمایا، جو اس نے ساری زمین سے لی، تو بنی آدم اس زمین کے اندازے کے مطابق وجود میں آئے، ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور اس کے مابین لوگ ہیں اور نرم، سخت خبیث، طیب اور اس کے مابین بھی ہیں۔“ پھر اس میں پانی ڈالا تو وہ ”طِیْنٌ“ ہوگئی، پھر اسے مدتوں پڑا رہنے دیا، جب وہ کالی سیاہ اور ملائم و نرم ہوگئی تو آدم ؑ کا ڈھانچہ اور شکل و صورت بنائی، فرمایا : (وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ) [ الأعراف : 11 ] جب وہ سوکھ کر کھن کھن بجنے لگا تو اس میں اپنی خاص پیدا کردہ روح پھونکی، جیسا کہ اس جگہ ”صَلْصَالٍ“ کا ذکر ہے اور اس کے خوب خشک ہونے کا ذکر سورة رحمن (14) میں ہے، فرمایا : (مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ) کہ وہ کھنکھنانے والی مٹی آگ میں پکی ہوئی مٹی کی طرح کھنکھنانے والی تھی۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لوکی آگ سے پیدا کیا۔

وَالْجَاۗنَّ خَلَقْنٰهُ : یہاں ”وَالْجَاۗنَّ“ سے مراد اکثر مفسرین نے جنوں کا باپ لیا ہے، بعض جنوں کی جنس مراد لیتے ہیں، بعض نے ابلیس مراد لیا ہے۔ اسے ”وَالْجَاۗنَّ“ یا جن (جَنَّ یَجُنُّ ، بمعنی ڈھانپنا، چھپانا) انسان کی آنکھوں سے چھپنے کی وجہ سے کہتے ہیں، جیسا کہ جنین اور جنون وغیرہ سب میں ڈھانپنے کا مفہوم شامل ہے۔ جنوں کے بارے میں فرمایا : (اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ) [ الأعراف : 27 ] ”بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔“ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّار السَّمُوْمِ : ”السَّمُوْمِ“ دراصل سخت گرم ہوا (لوُ) کو کہتے ہیں، ایک تو اس کے زہریلے ہونے کی و جہ سے (مِنَ السُّمِّ) اور ایک اس لیے کہ وہ جسم کے مسامات کے اندر پہنچ جاتی ہے (مِنَ الْمَسَامِ)۔ مراد خالص آگ جو دھوئیں سے خالی اور اپنی تیزی کی و جہ سے لو کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
Ayah 15:28

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ۔۔ : اولاً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا، اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمایا۔ (رازی) ”وَاِذْ قَالَ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ مقدر مانتے ہیں کہ اے مخاطب عاقل ! وہ وقت یاد کر جب۔۔
Ayahs 15:29–34

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتوں نے سب کے سب نے، تمام نے سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس، اس نے انکار کردیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اس نے کہا میں کبھی ایسا نہیں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہے۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

فرمایا پھر اس سے نکل جا، کیونکہ یقینا تو مردود ہے۔

فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ۔۔ : یعنی جب میں اسے برابر کرلوں، مکمل بنا لوں۔ ”مِنْ رُّوْحِيْ“ اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں۔ یہاں ”رُّوْحِيْ“ میں ”رُوْحٌ“ کی ”یاء“ کی طرف اضافت، اضافت تشریفی کہلاتی ہے، یعنی اس کا عزو شرف بڑھانے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا، یہاں ”میری روح“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوق روح ہے، کیونکہ اس کی ذات کی مثل تو کوئی چیز نہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذاتی روح تو کسی صورت مراد نہیں ہوسکتی، صرف آدم ہی نہیں دوسری جگہ ہر انسان کی روح کو اللہ نے اپنی روح قرار دیا ہے، فرمایا : (ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ) [ دیکھیے السجدۃ : 7 تا 9 ] اور ظاہر ہے کہ انسان مخلوق ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ ساری زمین اور اس کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، مگر مسجد حرام کو بیت اللہ (اللہ کا گھر) اور صالح ؑ کی اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی قرار دیا ہے۔
Ayahs 15:35–38

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر قیامت کے دن تک خاص لعنت ہے۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا تو بیشک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے۔

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

ایسے وقت کے دن تک جو معلوم ہے۔

اس آیت سے آیت (39) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورة اعراف (11 تا 18) اور سورة بقرہ (30 تا 34) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔ وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ : اس کا ترجمہ ”خاص لعنت“ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورة ص (78) میں آئی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِی) یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ہی ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا اور ہر صورت میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔

لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ : میں ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا، کیا چیز، آیت کے سیاق وسباق سے عبارت یہ بنتی ہے کہ میں ان کے لیے زمین میں بھی خواہش نفس اور اللہ کی نافرمانی کو مزین اور خوش نما بنا کر پیش کروں گا، جیسا کہ آسمان میں ان کو ممنوعہ پودے کا کھانا خوش نما بنا کر پیش کیا اور گمراہ کردیا تھا، فرمایا : (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى) [ طہٰ : 121 ] دوسرا معنی یہ ہے کہ میں انھیں تمام زینت زمین ہی میں دکھاؤں گا کہ جو کچھ ہے یہیں ہے، تاکہ وہ نہ آخرت کی طرف توجہ کریں اور نہ اس کا یقین کریں، سو اس طرح میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا، جیسا کہ فرمایا : (وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ) [ الأعراف : 176 ] ”اور لیکن وہ زمین ہی کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، سو اس کی مثال کتے کی سی ہے۔“
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی تیرے وہ بندے جو خالص تیرے لیے چن لیے گئے اور جنھیں تو نے خاص اپنا بنا لیا میں انھیں گمراہ نہیں کرسکوں گا۔