14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 14:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الۤرٰ۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے، ان کے رب کے اذن سے، اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بےحد تعریف والا ہے۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اس اللہ کے (راستے کی طرف) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب کے باعث بڑی ہلاکت ہے۔

الۗرٰ : حروف مقطعات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ :”كِتٰبٌ“ کو ”الۗرٰ“ کی خبر بنائیں تو معنی ہوگا کہ ”الۗرٰ“ ایک کتاب ہے، یعنی وہ حروف تہجی جن سے تمہارا کلام وجود میں آتا ہے، انھی سے یہ کتاب وجود میں آئی ہے، اگر مقابلے کی ہمت ہے تو آؤ انھی حروف سے تم صرف ایک سورت ہی بنادو۔ ایک صورت یہ ہے کہ اسے مبتدا محذوف ”ھٰذَا“ کی خبر بنالیں، پھر معنی ہوگا، یہ ایک کتاب ہے۔ ”نازل کیا“ کے لفظ سے اس کا بلندی سے اترنا اور اللہ تعالیٰ کا بلندی پر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کو نہ لامکان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہر جگہ میں کہہ سکتے ہیں، بلکہ وہ بلند ہے، عرش پر ہے۔ ”ہم نے اسے آپ کی طرف نازل کیا“ سے اس کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔ لِتُخْرِجَ النَّاسَ : یعنی یہ کتاب آپ پر نازل کی، تاکہ آپ اس کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہی سے نکالیں۔ معلوم ہوا کہ منکرین حدیث جو کتاب یعنی قرآن ہی کو کافی سمجھتے ہیں اور رسول کو محض ڈا کیا قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نازل فرما کر اس میں بار بار رسول کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، مثلاً دیکھیے آل عمران (31، 32)۔ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ : یعنی کفر کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف۔ ”اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ“ یہ ”اِلی النُّوْرِ“ ہی سے بدل ہے اور اسی کی وضاحت ہے، یعنی وہ نور کیا ہے، اس عزیز وحمید کا راستہ ہے جس کا نام نامی اللہ ہے، وہ جو زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب کا اکیلا مالک ہے۔ لفظ ”الظُّلُمٰتِ“ کو جمع اور ”النُّوْرِ“ کو واحد لانے سے صاف ظاہر ہے کہ نور یعنی راہ ہدایت صرف ایک ہے یعنی اسلام، جبکہ تاریکیاں اور گمراہیاں بیشمار ہیں جو سب کی سب کفر کی مختلف صورتیں ہیں۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ : اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی مبلغ، چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، لوگوں کو اگر اسلام کی سیدھی راہ کی طرف لاسکتا ہے تو اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے لاسکتا ہے۔ ابوطالب، آزر، ابن نوح اور نوح و لوط ؑ کی بیویاں اس کی واضح مثالیں ہیں کہ رب کا اذن نہ ہونے کی وجہ سے کفر کے اندھیروں سے نہیں نکل سکے۔ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ : ”وَيْلٌ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، معنی ہے بڑی ہلاکت، یعنی دنیا میں بھی ان کے لیے بربادی ہی بربادی ہے۔ (دیکھیے توبہ : 55۔ طٰہٰ : 124 تا 127) اور قیامت کے دن تو ان کی اس سے بھی بڑھ کر شامت آنے والی ہے۔ دنیا میں کفار کے لیے ”وَيْلٌ“ کی ایک معمولی سی مثال یہ ہے کہ خودکشی کی شرح آپ سب سے زیادہ کفار میں پائیں گے، خصوصاً جو ان میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مثلاً جاپان وغیرہ۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔

الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ : ”يَسْتَحِبُّوْنَ“ سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی اللہ تعالیٰ کو تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کو محبوب رکھنا ہی پسند نہیں جبکہ یہ کفار آخرت کے مقابلے میں دنیا کو بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی چیزوں سے محبت اس وقت بربادی کا باعث ہے جب وہ اللہ کی محبت کے مقابلے میں غالب ہو، ورنہ دنیا سے فائدہ مومن کے لیے بھی جائز ہے، بلکہ اللہ کی محبت کے تحت اور اس کے احکام کے تحت اپنے بیوی بچوں، دوستوں اور مال وغیرہ سے محبت فطری چیز ہے اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے اجر ملتا ہے۔ اس کے برعکس رہبانیت اس فطرت سے جنگ ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کی راہ جو بالکل سیدھی اور بےعیب ہے، کافر اس میں عیب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ٹیڑھی بتاتے ہیں، تاکہ لوگوں کو اس کے اختیار کرنے سے باز رکھ سکیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں، تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے، پھر اللہ گمراہ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

لِيُبَيِّنَ لَهُمْ : تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے اور وہ اچھی طرح سمجھ سکیں اور ان پر حجت قائم ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے گئے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے، وہ پیغمبر اس قوم کا ایک فرد ہوتا تھا اور وہ انھی کی زبان بولتا تھا، آپ ﷺ کی بعثت گو عام ہے اور قیامت تک کے تمام جن و انس کے لیے ہے، لیکن آپ کی قوم، جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور جو آپ ﷺ کی اولین مخاطب تھی، عربی زبان بولتی تھی، اس لیے طبعی ترتیب کے مطابق آپ نے ان کو اللہ کا پیغام عربی زبان میں پہنچایا، مقصد یہ تھا کہ پہلے یہ قوم اس پیغام کو سمجھے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانے اور سمجھانے کا ذریعہ بنے۔ اگر قرآن تمام زبانوں میں نازل کیا جاتا تو تنازع، اختلاف اور تحریف احکام کے دروازے کھل جاتے اور دعوت اسلام کے لیے کسی مقام پر بھی مرکزیت قائم نہ ہوسکتی۔ عربی زبان میں نازل ہونے کے بعد دوسری اقوام کا عربی سیکھنا (جو تمام زبانوں سے آسان ہے) یا اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوجانا تمام اقوام کی ہدایت کے لیے کافی ہے، جیسا کہ الحمد للہ ہو رہا ہے۔ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۗءُ۔۔ : یعنی گو ہر پیغمبر اپنی دعوت اسی زبان میں پیش کرتا ہے جسے ساری قوم سمجھتی ہے، تاہم ہدایت و ضلالت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔ آج بھی بہت سی عجمی قومیں اسلام کی حامی اور مددگار نظر آتی ہیں اور عرب ممالک باوجود عربی زبان کی خدمت و اشاعت کے اسلام سے منحرف اور دور ہو رہے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انھیں اللہ کے دن یاددلا، بلاشبہ اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شروع سورت میں ہمارے نبی ﷺ کی طرف نازل کردہ کتاب کا ذکر فرمایا اور اس کا مقصد بتایا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں۔ اب پہلے انبیاء کی اپنی اقوام کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے کی کوششوں اور ان کی اقوام کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ سب سے پہلے موسیٰ ؑ کا، پھر دوسری اقوام اور ان کے رسولوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کچھ آیات کونیہ عطا فرمائیں، یعنی کائنات کے معمول کے خلاف معجزے، جن کے مقابلے سے دشمن عاجز تھا۔ جن میں سے چند کا تعلق فرعون اور اس کی قوم سے تھا، مثلاً عصائے موسیٰ ، ید بیضاء (طٰہٰ : 17 تا 22) ، قحط سالی، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ (اعراف : 133) یہ سب معجزے نبوت کی دلیل کے طور پر دیے گئے، کیونکہ مخاطب فرعون بیحد ضدی، سرکش، خدائی کا دعوے دار اور نہایت بےرحم تھا۔ جب کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کو نبوت کی دلیل کے طور پر صرف ایک معجزہ ”قرآن“ عطا ہوا، باقی تمام معجزات برکت اور اہل ایمان کا ایمان بڑھانے کے لیے تھے۔ موسیٰ ؑ کے کئی معجزوں کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا، مثلاً سمندر کا پھٹنا، فرعون سے نجات، بادلوں کا سایہ، من وسلویٰ کا اترنا، بارہ چشمے پھوٹنا، پہاڑ اکھیڑ کر عہد لیا جانا، گائے کا گوشت لگنے سے مردے کا زندہ ہونا وغیرہ اور کچھ وحی الٰہی کی آیات تھیں جنھیں ”تنزیلی آیات“ کہتے ہیں۔ موسیٰ ؑ پر سب سے پہلی وحی تورات سے بہت پہلے مدین سے واپسی پر اتری، پھر اسی طرح کسی کتابی صورت کے بغیر سالہا سال اترتی رہی۔ فرعون اسی وحی کے احکام کی نافرمانی کی وجہ سے غرق ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو طور پر بلا کر تورات عطا فرمائی۔ غرض موسیٰ ؑ کو تو آیات کے علاوہ بھی بہت سی آیات عطا فرمائیں، کیونکہ دشمن نہایت سخت تھا اور اپنی قوم خوئے غلامی کی وجہ سے بیحد متلون مزاج، کافرانہ عقائد و رسوم سے متاثر اور بار بار مطالبے کرنے والی تھی۔ اوپر تقریباً سترہ آیات (نشانیوں) کا ذکر ہوا ہے، مقصد سب کا یہی تھا کہ وہ فرعون کو اور اپنی قوم کو کفر کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں۔ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ۔۔ : ”أَیَّامٌ“ سے مراد وہ دن ہیں جن میں کوئی نادر واقعہ مصیبت یا نعمت کی صورت میں پیش آیا ہو، جیسے یوم بدر وغیرہ۔ ”أَیَّامٌ“ کی اللہ کی طرف اضافت سے ان کی اہمیت بیحد بڑھ گئی۔ اگلی آیت میں چند ”أَیَّامٌ“ کا ذکر ہے، مگر ان واقعات سے عبرت صرف انھی کو ہوتی ہے جو بہت صابر اور بہت شاکر ہوں، کیونکہ ہر نیکی کی بنیاد صبر ہے اور شکر بھی اسی کو نصیب ہوتا ہے جو صابر ہو، شکوہ شکایت اور بےصبری کرنے والوں کو شکر کی توفیق کہاں ؟
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تمہیں فرعون کی آل سے نجات دی، جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹے بری طرح ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا۔۔ : یہاں موسیٰ ؑ چند نعمتیں گنوا رہے ہیں۔ ”يَسُوْمُوْنَكُمْ“ کے بعد ”وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ“ میں واؤ عطف سے معلوم ہوا کہ وہ لڑکوں کو ذبح کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے کے علاوہ اور بھی کئی بدترین عذاب دیتے تھے، مثلاً بیگار لینا، ذلیل کرنا اور مار پیٹ وغیرہ۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : ”بَلَاۗءٌ“ کا لفظ مصیبت پر بھی آتا ہے اور نعمت پر بھی، فرمایا : (وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً) [ الأنبیاء : 35 ] ”اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے۔“ آل فرعون کے عذاب بلائے مصیبت تھے اور ان سے نجات بلائے نعمت تھی، عذاب بھی آزمائش اور اس سے رہائی کا انعام بھی آزمائش۔ ”ذٰلِكُمْ“ سے اشارہ ”سُوْۗءَ الْعَذَابِ“ کی طرف ہو تو مصیبت کے ساتھ آزمائش مراد ہے اور ”اِذْ اَنْجٰىكُمْ“ یعنی نجات کی طرف ہو تو نعمت کے ساتھ آزمائش مراد ہوگی اور قرآن کا اعجاز ہے کہ آیت کے ایک لفظ میں دونوں چیزیں آگئی ہیں۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے رب نے صاف اعلان کردیا کہ بیشک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمہیں زیادہ دوں گا اور بیشک اگر تم ناشکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ ۝ : ”آذَنَ یُؤْذِنُ“ کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”صاف اعلان کردیا۔“ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ : کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا تو کہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَیْہِ الْمِدْحَۃُ مِنَ اللّٰہِ ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِکَ وَعَدَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ) [ مسلم، اللعان : 1499 ]”کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔“ جب اللہ تعالیٰ کو زبانی شکر اتنا پسند ہے تو عملاً شکر اور اطاعت پر اس کی نوازش کس قدر ہوگی۔ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ : اس کا جواب تو یہ تھا ”لَأُعَذِّبَنَّکُمْ“ کہ اگر تم کفر کرو گے تو میں تمہیں ضرور عذاب دوں گا، مگر اسے حذف کرکے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو اس جملے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نہایت شدت کو بھی، یعنی فرمایا : (وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ) اور یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بیشک اللہ یقینا بڑا بےپروا، بےحد تعریف والا ہے۔

وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا۔۔ : یعنی اگر تم اور زمین و آسمان کے تمام لوگ ناشکری کرو تو اس ناشکری کا نقصان خود تمھی کو پہنچے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا، اسے نہ تمہارے شکر کی ضرورت ہے اور نہ تمہاری ناشکری کی پروا۔ اس کی ذات ہر تعریف کی حامل ہے، چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ ابوذر غفاری ؓ حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ ، مَا زَادَ ذٰلِکَ فِيْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، کَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُلْکِيْ شَیْءًا، یَا عِبَادِيْ ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ، وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ ، قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُوْنِيْ ، فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم : 2577 ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والے آدمی کے دل والے ہوجائیں تو یہ چیز میری سلطنت میں کسی شے کا اضافہ نہیں کرے گی اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے انسان اور تمہارے جن تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل والے ہوجائیں تو یہ چیز میری سلطنت میں کسی شے کی کمی نہیں کرے گی اور اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، تمہارے پچھلے اور تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں، پھر مجھ سے مانگیں اور میں ہر شخص کو جو اس نے مانگا ہے دے دوں تو یہ چیز اس میں سے جو میرے پاس ہے کچھ کمی نہیں کرے گی، مگر جتنا سوئی جب وہ سمندر میں داخل کی جائے۔“
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم کی (خبر) اور عاد اور ثمود کی اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹالیے اور انھوں نے کہا بیشک ہم اسے نہیں مانتے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو اور بیشک ہم تو اس چیز کے بارے میں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو، ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔

لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعداد اور تمام حالات سے واقف ہے اور ان کے نسب کو بھی صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاهِهِمْ : یعنی غصے کے مارے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے، جیسا کہ دوسری آیت میں منافقین کے متعلق فرمایا : (وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ) [ آل عمران : 119 ] ”اور (یہ منافقین) جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیوں کی پوریں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔“ یا ہنسی اور تعجب کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ لیے، یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہو۔ پہلے معنی کو اکثر مفسرین نے ترجیح دی ہے، ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے منہ پر رکھ دیے کہ وہ خاموش رہیں۔ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ۔۔ : ”بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ“ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی نشانیاں دیکھ کر وہ یہ ضرور جان چکے تھے کہ ان رسولوں کو یہ معجزے دے کر بھیجا گیا ہے، یہ رسول خود یہ معجزے نہیں لے آئے۔ اس لیے اگرچہ انھوں نے توحید کی دعوت ماننے سے انکار کردیا، مگر اپنے کفر پر بھی ان کا یقین متزلزل ہوگیا اور انھوں نے کہا کہ ہم تمہاری دعوت کے بارے میں ایک بےچین رکھنے والے شک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ؟ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے لیے تمہارے کچھ گناہ بخش دے اور تمہیں ایک مقرر مدت تک مہلت دے۔ انھوں نے کہا تم نہیں ہو مگر ہمارے جیسے بشر، تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روک دو جس کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ ۭ۔۔ : رسولوں نے یہاں کوئی منطقی و فلسفی بحث نہیں چھیڑی، بلکہ ان کی فطرت کو جھنجوڑا کہ ہر شخص سمجھتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز حتیٰ کہ سوئی یا کوئی کھلونا بھی بنانے والے کے بغیر نہیں بنتا۔ رازی نے اس کی ایک مثال دی کہ دو بچوں میں سے ایک بچہ دوسرے کو پیچھے سے سر پر ایک چپت لگا کر چھپ جائے تو وہ کبھی یہ نہیں مانے گا کہ یہ چپت خود بخود لگ گئی ہے، بلکہ اسے یقین ہوگا کہ یہ کسی نے ماری ہے۔ تو کسی بھی کام کے خودبخود ہوجانے کو تو ایک بچے کی فطرت بھی تسلیم نہیں کرتی، تو عاقل و بالغ ہو کر تمہیں اس اللہ کے متعلق شک ہے جس نے اتنے عظیم آسمان و زمین بنائے، جن کے مقابلے میں تمہارا بنانا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ اللہ ہے بھی یا نہیں ؟ اور ایک ہے یا کئی ہیں ؟ ”شَکٌّ“ کی تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی کیا اللہ کے بارے میں کوئی بھی شک ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی اس کے متعلق کسی قسم کے شک کی تو گنجائش ہی نہیں۔ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ :”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی تاکہ تمہارے بعض یا کچھ گناہ بخش دے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہ اسلام لانے سے معاف ہوجائیں گے، آئندہ کے گناہ تمہارے عمل اور توبہ کے مطابق دیکھے جائیں گے۔ کفار کے گناہوں کی معافی کا ذکر ہر جگہ ”مِّنْ“ (بعض) کے ساتھ آیا ہے، جیسا کہ یہاں اور سورة نوح اور احقاف میں ہے، البتہ اہل ایمان کی مغفرت کا ذکر ”مِنْ“ کے بغیر ہے، جیسا کہ سورة صف میں جہاد کا اجر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُم) [ الصف : 12 ] ”وہ تمہیں تمہارے گناہ بخش دے گا۔“ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : یعنی دنیا میں موت کے وقت تک تمہیں عذاب سے محفوظ رکھے۔ (قرطبی) قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا : یعنی تم ظاہری شکل و صورت میں، کھانے پینے میں اور دوسری انسانی ضروریات کے اعتبار سے ہمارے جیسے بشر ہو، ہم اپنے آپ پر تمہاری برتری کیسے تسلیم کرلیں۔ مقصد تمہارا ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے معبودوں کی عبادت سے روکنا ہے۔ تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ یہی کفار جو دین اور آخرت کے معاملے میں اپنے آباء کی تقلید کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے توحید سے انکار پر اصرار کر رہے ہیں، اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں میں بھی وہ آباء کی تقلید کرتے تو دنیا کے ہر دور میں انھوں نے جو ترقی کی، حتیٰ کہ اب ایٹم بم تک پہنچ گئے، یہ ترقی کبھی نہ ہوسکتی، مگر ان کی ڈھٹائی دیکھو کہ انبیاء کے واضح معجزات دیکھ کر اور ”اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ جیسی لاجواب دلیلیں سن کر بھی، جنھوں نے انھیں اندر سے ہلا دیا اور وہ اپنے بےچین رکھنے والے شک کا خود اقرار کر رہے ہیں، تقلید پر اڑے ہوئے ہیں اور مزید واضح دلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر دنیوی معاملات میں وہ آباء کی تقلید پر اکتفا کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر اور لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور ہمارے لیے کبھی ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذن کے سوا لے آئیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ۔۔ : معلوم ہوا دلیل دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے آتا ہے۔ (موضح) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت سراسر وہبی، یعنی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ اس کے لائق افراد کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، فرمایا : (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ) [ آل عمران : 179 ] ”اور لیکن اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔“ نبوت کسی کو محنت اور ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے، جن میں قادیانی دجال بھی شامل ہے۔ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ۔۔ : یعنی معجزات ہمارے اختیار میں نہیں، وہ اللہ کے حکم کے بغیر ظاہر نہیں ہوتے، اس لیے ہمارا بھروسا اللہ ہی پر ہے اور تمام اہل ایمان کو اسی پر بھروسا لازم ہے۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔

وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں ہدایت دے دی تو اس کے بعد ہمارے پاس کیا عذر ہے کہ ہم اس کے بھروسے پر استقامت اختیار نہ کریں۔ رہا تمہارا ہمیں ایذا دینا تو ہم ہر حال میں اس پر صبر کریں گے اور اپنے رب پر بھروسا رکھیں گے، کیونکہ بھروسا رکھنے والوں کو اسی پر بھروسا رکھنا لازم ہے۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں سے کہا ہم ہر صورت تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا لازماً تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے، تو ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ یقینا ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ : کفار نے اپنی کثرت اور اہل ایمان کی قلت دیکھ کر اپنے رسولوں کو یہ دھمکی دی کہ تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں یا تو ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا پھر تم اسلام چھوڑ کر واپس آجاؤ گے، جیسا کہ اس وقت ہند کے کافر مسلمانوں کو قتل یا ارتداد یا نکل جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا : ”یا تم ہماری ملت میں واپس آؤ گے“ کفار کا یہ کہنا ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا، ورنہ یہ مطلب نہیں کہ انبیاء ؑ نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوم کے دین کی پیروی کرتے تھے، بلکہ بات یہ تھی کہ نبوت سے پہلے انبیاء ؑ ان کے بتوں کے معاملہ میں خاموش رہتے تھے، جس پر انھوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ان کے مذہب پر ہیں، یا اس ”اَوْ لَتَعُوْدُنَّ“ کا معنی ”لَتَصِیْرُنَّ“ ہے، یعنی تم ہماری ملت میں آجاؤ گے۔ (دیکھیے اعراف : 88) یا خطاب ان لوگوں سے ہے جو کفر کو چھوڑ کر پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے۔ (رازی)
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور یقینا ان کے بعد ہم تمہیں اس زمین میں ضرور آباد کریں گے، یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری وعید سے ڈرا۔

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے انھیں حوصلہ دیا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور اس سرزمین پر تمہیں آباد کریں گے۔ انبیاء کے پیروکاروں کا آخر کار کفار کے علاقوں پر قابض ہونا بھی درحقیقت انبیاء ہی کا غلبہ ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کی وفات کے ایک مدت بعد شام اور مصر وغیرہ پر قابض ہوئے، فرمایا : (ۙكَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ الشعراء : 59 ] ”ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔“ اور مسلمان اگرچہ نبی ﷺ کی زندگی ہی میں جزیرۂ عرب پر قابض ہوگئے تھے، جیسا کہ یہود کے متعلق فرمایا : (ۚوَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا) [ الأحزاب : 27 ] ”اور (اے مسلمانو !) تمہیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ مگر زمین کے مشارق و مغارب کی فتوحات آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہوئیں اور یہ بھی درحقیقت نبی ﷺ ہی کی فتوحات تھیں، کیونکہ ان کے دین اور ان کے پیروکاروں کی فتوحات تھیں۔ ”وَعِيْدِ“ اصل میں ”وَعِیْدِيْ“ تھا، ”میری وعید“ آیات کے آخری حصوں کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رکھا گیا۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انھوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔

وَاسْتَفْتَحُوْا۔۔ : فتح کا معنی قرآن مجید میں ”فتح و نصرت“ بھی آیا ہے اور ”فیصلہ“ بھی۔ ”َاسْتَفْتَحُوْا“ کا معنی انھوں نے فتح و نصرت مانگی، یا انھوں نے فیصلہ مانگا اور اس کا فاعل پیغمبر بھی ہوسکتے ہیں اور کفار بھی۔ اگر معنی فتح و نصرت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبروں نے بیشمار آزمائشیں آنے پر اپنے رب سے فتح و نصرت کی دعا کی جو قبول ہوئی، فرمایا : (حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : 214 ] ”یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے کہہ اٹھے، اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو بیشک ! اللہ کی مدد قریب ہے۔“ اگر ”َاسْتَفْتَحُوْا“ کا فاعل کفار ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ ”کافروں نے اپنے داتاؤں اور دستگیروں سے فتح و نصرت کی دعا مانگی مگر وہ ناکام ہوئے۔“ اگر فتح کا معنی فیصلہ ہو تو مطلب ہوگا کہ پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، فرمایا : (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ) [ الأعراف : 89 ] ”اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سرکش و سخت عناد رکھنے والا ناکام و نامراد ہوا۔ یا مطلب یہ ہے کہ کفار نے اللہ تعالیٰ سے فیصلے کی دعا کی، فرمایا : (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ الأنفال : 32 ] ”اور جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ ”َاسْتَفْتَحُوْا“ کے ان چاروں معنوں میں سے جو معنی بھی کریں وہ درست ہے اور قرآن مجید کے مختلف مقامات پر چاروں معانی موجود ہیں۔ قرآن کا اعجاز دیکھیے کہ ایک ہی لفظ ایسا بولا جو چاروں پر صادق آتا ہے۔ غرض دنیا میں نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سرکش اور سخت عناد رکھنے والا کافر ناکام اور نامراد ہوا۔ رہا آخرت کا انجام تو وہ آئندہ آیت میں مذکور ہے۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے اس پانی سے پلایا جائے گا جو پیپ ہے۔

مِّنْ وَّرَاۗىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ : ”وَرَآءٌ“ کے متعدد معانی آئے ہیں : 1 پیچھے یا بعد، جیسے فرمایا : (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ) [ ھود : 71 ] ”اور اسحاق کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔“ 2 غیر یعنی سوا، جیسے فرمایا : (فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ) [ المؤمنون : 7 ] ”پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔“ 3 آگے، جیسا کہ سورة کہف (79) میں ”وَكَانَ وَرَاۗءَهُمْ مَّلِكٌ“ کا معنی ”ان کے آگے ایک بادشاہ تھا“ کیا گیا ہے۔ یہاں مراد بعد بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی ناکامی کے بعد اس کے لیے جہنم ہے اور آگے بھی کہ آئندہ جہنم اس کے انتظار میں ہے۔ ”صَدِيْدٍ“ وہ رقیق پانی جو زخم سے نکلتا ہے، مراد اہل جہنم کے جلنے سے ان کے جسموں سے نکلنے والی پیپ، خون اور رطوبت ہے۔ مزید دیکھیے سورة صٓ (57، 58) ، محمد (15) اور کہف (29) ”مَّاۗءٍ صَدِيْدٍ“ مبدل منہ اور بدل ہے، یعنی ایسا پانی جو ”صدید“ ہوگا۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پیے گا اور قریب نہ ہوگا کہ اسے حلق سے اتارے اور اس کے پاس موت ہر جگہ سے آئے گی، حالانکہ وہ کسی صورت مرنے والا نہیں اور اس کے پیچھے ایک بہت سخت عذاب ہے۔

يَّتَجَرَّعُهٗ : یہ باب تفعل سے ہے، جس میں تکلف کا معنی ہوتا ہے، یعنی مشکل سے ایک ایک گھونٹ کرکے اسے پیے گا اور وہ اتنا کڑوا، بدذائقہ، بدبو دار اور گرم ہوگا کہ قریب نہیں کہ گلے سے اتار سکے، مگر پیاس کا عذاب اسے پینے پر مجبور کرے گا اور اندر جا کر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ دے گا۔ دیکھیے سورة محمد (15)۔ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ۔۔ : اور ہر جگہ سے اسے موت آتی دکھائی دے گی، کیونکہ جہنم کی ایک ایک چیز موت کے لیے کافی ہے، مگر وہ کسی صورت مرنے والا نہیں، کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں۔ ”بِمَيِّتٍ“ کی باء سے نفی کی تاکید ہوئی، اس لیے ترجمہ میں ”کسی صورت“ کا اضافہ ہوگیا۔ دیکھیے سورة فاطر (36) اور سورة اعلیٰ (13)۔ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ : یعنی اس کے بعد اور سخت عذاب ہے۔ اب اس کی مختلف صورتیں تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جن میں سے بہت سی چیزیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، البتہ عذاب کے طور پر مسلط ہونے والی بھوک اور زقوم کے کھانے کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے، فرمایا : (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43؀ۙ طَعَامُ الْاَثِيْمِ 44؀ٻ كَالْمُهْلِ ڔ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ 45؀ۙكَغَلْيِ الْحَمِيْمِ 46؀ خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ 47؀ ڰ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ 48؀ۭذُقْ ڌ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ) [ الدخان : 43 تا 49 ] ”بیشک زقوم کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا ہے۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔ گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔ اسے پکڑو، پھر اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک دھکیل کرلے جاؤ۔ پھر کھولتے پانی کا کچھ عذاب اس کے سر پر انڈیلو۔ چکھ، بیشک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔“ جہنم کے سخت عذاب کا اندازہ دنیا میں کسی طرح نہیں ہوسکتا جس کی آگ ہی یہاں کی آگ سے ستر (70) گنا گرم ہے، البتہ جہنم کے سب سے کم عذاب کا بیان جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، اس سے سخت عذاب کا کچھ نہ کچھ اندازہ کرلیں، حقیقی علم تو ممکن ہی نہیں، نہ وہ بیان میں آسکتا ہے۔ نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَہْوَنَ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَہُ نَعْلاَن وَ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ، یَغْلِيْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ ، کَمَا یَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا یَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْہُ عَذَابًا، وَ إِنَّہُ لَأَہْوَنُہُمْ عَذَابًا) [ مسلم، الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا : 364؍213 ]”اہل نار میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان دونوں سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا ہوگا جیسے ہانڈی ابلتی ہے، وہ نہیں خیال کرے گا کہ اس سے زیادہ بھی کسی کو عذاب ہو رہا ہے، حالانکہ وہ ان سب سے کم عذاب والا ہوگا۔“ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ جَمِیْعِ عَذَاب الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ]
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جس پر آندھی والے دن میں ہوا بہت سخت چلی۔ وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے جو انھوں نے کمایا، یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ۔۔ : کفار دنیا میں جو بھی اچھے کام کرتے ہیں، مثلاً کمزوروں کی مدد اور صدقہ وغیرہ، وہ آخرت میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے، کیونکہ ان کا بدلا انھیں دنیا ہی میں دیا جا چکا ہوگا۔ (دیکھیے الاحقاف : 20) ”عَاصِفٍ“ ”عَصَفَ یَعْصِفُ“ سے ہے، بمعنی توڑنا۔ ”کَعَصْفٍ مَّأْکُوْلٍ“ کا معنی ہے ریزہ شدہ بھس، یعنی تیز و تند ہوا جو ہر چیز کو توڑتی جائے۔ اس آیت میں قیامت کے دن کفار کے اعمال کے بےکار ہونے کی مثال دی ہے کہ ایک تند و تیز ہوا والے دن میں کسی راکھ پر بہت سخت ہوا چلے تو اس ہوا میں راکھ کا ایک ذرہ بھی ہاتھ میں آنا مشکل ہے، اسی طرح کفار کے اعمال صالحہ اس دن بےکار ہوں گے، کیونکہ ان کا کوئی عمل اس دن کے لیے تھا ہی نہیں، نہ اس دن پر ان کا ایمان تھا۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (23) ، کہف (103 تا 106) اور آل عمران (117)۔
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ پر ہرگز کچھ مشکل نہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ۔۔ :”اَلَمْ تَرَ“ کا معنی ”اَلَمْ تَعْلَمْ“ ہے، یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی اس صحیح اندازے کے مطابق جس کے مطابق اسے ہونا چاہیے تھا اور جو اپنے خالق کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کسی چیز میں کوئی نہ نقص نکال سکتا ہے نہ کوئی ایسی صورت پیش کرسکتا ہے جو اس سے بہتر ہو۔ ہاں وہ خود اس سے بھی بہتر بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ : اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ایسے کروڑوں عالم دم بھر میں مٹا کر نئے پیدا کر دے۔ ”وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ“ کا ایک معنی بعض اہل علم نے یہ بھی کیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو تم سب کو دفعتاً ختم کرکے تمہیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کر دے۔ آگے آنے والی آیات جو حشر اور قیامت کے واقعات پر مشتمل ہیں اس معنی کی تائید کرتی ہیں۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، تو کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے تھے کہ بیشک ہم تمہارے تابع تھے، تو کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام آنے والے ہو ؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں ضرور ہدایت کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم گھبرائیں، یا ہم صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔۔ :”تَبَعًا“ یہ ”تَابِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”خَادِمٌ“ کی جمع ”خَدَمٌ“ ہے، یعنی اس دن دنیا میں چھپاؤ کی تمام جگہیں ختم ہوجائیں گی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، سمندروں کی گہرائیاں اور سطح زمین کی کرویّت ختم ہو کر روٹی کی طرح صاف زمین پر ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگی۔ دنیا میں کمزور اور طاقت ور مرید و مرشد، رعایا اور سردار ایک جیسی عاجزی اور بےبسی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوں گے، تو کمزور لوگ اپنے گمراہ کرنے والے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ سے کفر کیا، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے بچانے میں ہمارے کسی کام آسکتے ہو ؟ ”مِنْ شَيْءٍ“ کا مطلب یہ ہے کہ سارا عذاب نہیں تو اس میں سے جتنا ہو سکے کم کروا دو۔ وہ سارا گناہ اللہ کے ذمے ڈال کر خود بری ہو کر ان کی کسی بھی قسم کی مدد سے معذرت کرلیں گے۔ چناچہ کہیں گے، اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں ہدایت دیتے، گویا سارا قصور اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے ہمیں ہدایت نہیں دی۔ [ اَلْعِیَاذ باللّٰہِ ] جیسا کہ شیطان نے سجدے سے انکار کرکے اپنے گمراہ ہونے کو اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا، فرمایا : (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ) [ الأعراف : 16 ] ”کہا، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔“ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت دی تھی، دونوں راستے دکھا دیے تھے، فرمایا : (اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا) [ الدھر : 3 ] ”بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔“ اب تمہارا اختیار تھا، نہ اس نے تمہیں بدی پر مجبور کیا نہ نیکی پر اور یہی آزمائش کی حکمت جن و انس کی پیدائش کا باعث تھی۔ خیر اب ایسے عذاب میں پھنس جانے کے بعد جس سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہیں، ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، گھبراہٹ کا اظہار کریں یا صبر کریں۔ دونوں کا کچھ فائدہ ہے نہ یہاں سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی یہ باہمی قیل و قال جہنم میں داخلے کے بعد ہوگی۔ دیکھیے سورة مومن (47) ، سورة اعراف (38) اور سورة سبا (32، 33) بہرحال ان کا یہ جھگڑا میدان حشر اور جہنم دونوں میں بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کردیا جائے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں بلایا تو تم نے میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بیشک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقینا جو لوگ ظالم ہیں انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔

بِمُصْرِخِكُمْ : ”صُرَاخٌ“ کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ ”اَصْرَخَ یُصْرِخُ“ باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے ”شَکَانِیْ فَأَشْکَیْتُہُ“ کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کردی۔ اسی لیے عام طور پر ”صُرَاخٌ“ کا معنی فریاد اور ”اِصْرَاخٌ“ کا معنی فریاد رسی کرلیا جاتا ہے۔ ”بِمُصْرِخِيَّ“ اصل میں ”بِمُصْرِخِیْنَ“ جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گرگیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ ”بِمُصْرِخِیّ“ ہوگیا۔ وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ۔۔ : فیصلے کے بعد جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں اور ہر طرف سے شیطان پر ملامت کی بوچھاڑ ہوگی تو شیطان اس کے جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا، کیونکہ وہ ان تمام چیزوں کا مالک تھا جن کا وعدہ کیا تھا، مثلاً مرنے کے بعد زندہ کرنا، جنت، جہنم اور دعا کی قبولیت وغیرہ، اس لیے اس نے وہ وعدہ پورا کیا اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا وہ جھوٹا تھا کہ اس طرح کرو گے تو یہ ہوجائے گا، داتا کو پکارو گے تو یہ ہوگا، دستگیر کو پکارو گے تو یہ ہوگا، کیونکہ ان میں سے کوئی کسی چیز کا مالک ہی نہ تھا اور جو آرزوئیں میں نے تمہارے دل میں ا بھاری تھیں کہ فلاں کی نیاز دینے سے معشوق قدموں میں آ گرتا ہے، فلاں کے نام کا بکرا دینے سے دشمن کا ستیاناس ہوجاتا ہے، ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا : (يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) [ النساء : 120 ] ”وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ کی ہمیں تعلیم یہ ہے کہ تم جب بھی وعدہ کرو تو اس چیز کا کرو جو تم کرسکتے ہو، پھر بھی ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہو، کیونکہ تمہارا اختیار اللہ تعالیٰ کے تابع ہے، فرمایا : (وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23؀ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ) [ الکہف : 23، 24 ] ”اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں کل یہ کام ضرور کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔“ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ۔۔ : ”سُلْطَۃٌ“ اور ”سُلْطٰنٍ“ کا مطلب زبردستی کسی پر غلبہ حاصل کرلینا، مسلط ہوجانا ہے۔ یہ تسلط دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حکومت کے ذریعے سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ شیطان کی ان پر کوئی حکومت نہ تھی کہ وہ ان پر کوئی فوج چڑھا لایا تھا اور ایک سلطان اور غلبہ صحیح دلیل کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ دلیل دل پر قابو پا لیتی ہے اور آدمی اس کے مطابق عمل پر مجبور ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے پاس ڈنڈا بھی نہ تھا اور کوئی معقول دلیل بھی نہ تھی، چناچہ وہ کہے گا میں نے تو بس اتنا کیا تھا کہ تمہیں کچھ کاموں کی دعوت دی، وہ تمہاری کمزوریوں، مثلاً حرص، شہوت، غصے، بزدلی وغیرہ کے عین مطابق تھی اور اس میں تمہاری خواہشات کو ابھارا گیا تھا، تم نے فوراً اسے قبول کرلیا (أَجَبْتُمْ اور اِسْتَجَبْتُمْ کے فرق کو ملحوظ رکھیں) اس لیے مجھے ملامت مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو، کیونکہ اپنی مرضی سے گناہ تم نے کیا، میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ اب نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو نہ میں تمھاری۔ سورة نحل کی آیت (100) میں شیطان کے سلطان کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا تھا میں اس کا انکار کرتا ہوں، کیونکہ عبادت تو صرف اللہ کا حق تھا، اسی طرح حکم ماننا تم پر صرف اللہ کا حق تھا اور وہ بھی اس کی عبادت میں شامل تھا، تم نے اس کے بجائے میرا حکم مانا، میری عبادت کی، مجھے اس کا شریک بنایا، اب میں اس سے صاف لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ تم نے میری نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کی اور تم اللہ کے بجائے مجھے نہیں بلکہ اپنے وہم و گمان کے بنائے ہوئے دستگیروں اور داتاؤں کو پکارتے رہے ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ) [ النجم : 23 ] ”یہ لوگ (مشرکین) صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں۔“ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: یہ بطور اعتراف شیطان کی بات کا آخری حصہ بھی ہوسکتا ہے جس سے پہلے وہ چھ باتیں کہہ کر ان سے بری ہوچکا ہے : 1 میرا وعدہ جھوٹا تھا۔ 2 میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا۔ 3 تم نے دلیل سے خالی دعوت قبول کی۔ 4 مجھے ملامت کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ 5 میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ 6 تم نے مجھے جو شریک بنایا میں اسے نہیں مانتا۔ 7 یہ آخری بات ہے کہ ظالموں (مشرکوں) کے لیے عذاب الیم ہے۔ (خلاصہ از شوکانی) اور یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہوسکتا ہے جو اظہار حقیقت ہے۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، ان کی آپس کی دعا اس میں سلام ہوگی۔

وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق یہاں بھی مشرکین اور شیطان کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ وہ جنتوں میں داخل کردیے گئے۔ مراد یہ ہے کہ کیے جائیں گے، مگر بات اتنی یقینی ہے کہ اسے ماضی کے لفظ سے بیان کیا کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔ اس سے پہلے شیطان اور مشرکین، کمزور اور سرداروں کی گفتگو میں بھی ماضی کا صیغہ یہی حکمت رکھتا ہے۔ وَاُدْخِلَ : ”داخل کیے جائیں گے“ داخل کون کرے گا ؟ اس کی تین جہتیں ہیں، اصل تو اللہ تعالیٰ ہے جو جنت میں بھیجنے کا حکم دے گا، پھر فرشتے ہیں جو اس کے حکم سے انھیں جنت میں لے جائیں گے، تیسرے ان کا ایمان اور عمل صالح ہیں جو اللہ کی رحمت اور ان کے جنت میں جانے کا ذریعہ بنیں گے، اس لیے مجہول کا صیغہ استعمال کیا۔ ”بِاِذْنِ رَبِّهِمْ“ یعنی یہ سب کچھ ان کے رب کی توفیق اور مہربانی سے ہوگا۔ : یعنی آپس میں ملتے وقت وہ ”السلام علیکم“ کہیں گے۔ فرشتے ان سے کہیں گے : (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ) [ الرعد : 24 ] ”سلام ہو تم پر اس کے بدلے میں جو تم نے صبر کیا۔“ یعنی تم پر سلامتی ہو، پھر رب رحیم انھیں سلام کہے گا : (ښسَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ) [ یٰسٓ : 58 ]”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بیحد مہربان ہے۔“ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے، سلامتی کی دعا بھی اور اللہ کی طرف سے سلامتی کا عطیہ بھی۔
Ayahs 14:24–25

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے ہر وقت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

اَلَمْ تَرَ : یہ خطاب اولاً رسول اللہ ﷺ سے ہے اور پھر ہر اس شخص سے ہے جو خطاب کے لائق ہے۔ استفہام سے مراد پوچھنا نہیں بتانا ہے۔ اسے استفہام تقریری کہتے ہیں۔ ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ یہاں دیکھنے سے مراد علم اور جاننا ہے جو کائنات کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ مفسر آلوسی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ”الم تر“ کا مخاطب بعض اوقات وہ شخص ہوتا ہے جو پہلے سے اس بات سے واقف ہو، ایسی صورت میں مراد تعجب کا اظہار ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو اس سے واقف نہ ہو، اس وقت مراد ایک تو اسے بتانا ہوتا ہے اور ایک اس بات پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے کہ اتنی مشہور بات بھی تمہیں معلوم نہیں، جو سب لوگ دیکھی ہوئی بات کی طرح جانتے ہیں۔ پھر اس مخاطب سے بات اس طرح کی جاتی ہے گویا وہ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ مَثَلًا ”یہ ”ضَرَبَ“ کا مفعول بہ ہے، ”كَلِمَةً“ اس سے بدل ہے یا عطف بیان۔ مثل کا لفظ کسی چیز کی وضاحت کے لیے اس سے زیادہ واضح چیز کے ساتھ مثال دے کر سمجھانے کے لیے آتا ہے۔ كَلِمَةً طَيِّبَةً : اس میں ہر پاکیزہ کلام، مثلاً تسبیح، تقدیس، تحمید اور تہلیل وغیرہ شامل ہے اور ہر پاکیزہ کلام کا خلاصہ ”لا الٰہ الا اللہ“ ہے، کیونکہ ہر پاکیزہ کلام یا عمل کا مدار یہی ہے۔ اس لیے مفسرین نے عموماً اس سے کلمۂ اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ہر پاکیزہ قول و عمل مراد لیا ہے۔ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ۔۔ : پاکیزہ اور عمدہ درخت کی چند خوبیاں بیان فرمائیں، پہلی یہ کہ اس کی جڑ مضبوط ہے، جس کی وجہ سے اس کا اکھڑنا مشکل ہے اور وہ زمین سے غذا بخوبی حاصل کرلیتا ہے اور ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی چوٹی بہت اونچی ہے، جس کی وجہ سے اسے نقصان پہنچانا مشکل ہے، وہ آلودگی سے محفوظ دھوپ اور صاف ہوا سے بھی اپنی پوری خوراک حاصل کرتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے ”الوسیط“ میں لکھا ہے کہ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ درخت اپنی غذا کا صرف پانچ فیصد زمین سے حاصل کرتے ہیں، باقی فضا سے۔ تیسری یہ کہ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔ اس صفت کی تفسیر میں مفسرین کو مشکل پیش آئی ہے۔ صحیح بخاری (6122، 6144) میں ابن عمر ؓ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے پتے کبھی نہیں گرتے اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے دیتا ہے، مگر آپ نے اسے کلمہ طیبہ سے تشبیہ نہیں دی۔ ترمذی (3119) میں انس ؓ سے روایت ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ (كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ) سے مراد کھجور ہے، مگر شیخ البانی ؓ نے اسے مرفوعاً ضعیف اور موقوفاً صحیح فرمایا ہے۔ بہرحال جو مفسرین اس سے مراد کھجور کا درخت لیتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ کھجور کے درخت سے پھل کی ابتدا سے لے کر اس کے گودے، کچی کھجور، نیم پختہ، تازہ پکی ہوئی غرض ہر مرحلے کے پھل کو تقریباً چھ ماہ تک کھایا جاتا ہے، پھر اسے محفوظ کرکے سارا سال کھایا جاتا ہے۔ مفسر طنطاوی نے فرمایا کہ میرے خیال میں ”تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا“ کو صرف پھل میں محدود کرنا ٹھیک نہیں، مراد یہ ہے کہ وہ درخت ہر وقت فائدہ پہنچاتا رہتا ہے، پھل کی صورت میں، سائے کی صورت میں، خوشبو کی صورت میں، عمارتی لکڑی یا ایندھن کی صورت میں، پتوں اور ٹہنیوں اور گوند کی مصنوعات کی صورت میں اور دوا کی صورت میں، اگر کچھ بھی نہ ہو تو ہوا کو آلودگی سے صاف کرکے آکسیجن بنانے کی صورت میں ہر وقت وہ اپنا فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کھجور کے علاوہ وہ تمام درخت بھی اس میں آجاتے ہیں جن میں یہ تینوں خوبیاں ہوں۔ اسی طرح کلمہ اسلام دنیا اور آخرت کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مومن کو مختلف قسم کے بیشمار فوائد پہنچاتا رہتا ہے اور ہر وقت مومن کا کوئی نہ کوئی نیک عمل آسمان کی طرف چڑھتا رہتا ہے۔ چونکہ مثال سے بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اسی طرح لوگوں کی نصیحت اور سمجھانے کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور گندی بات کی مثال ایک گندے پودے کی طرح ہے، جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا گیا، اس کے لیے کچھ بھی قرار نہیں۔

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ۔۔ : اور خبیث کلمہ (گندی بات) سے مراد کفر و شرک کی بات ہے۔ اس کی مثال اس بےکار پودے کی ہے جسے جڑ سے اکھیڑ پھینک دیا گیا ہو اور وہ اتنا کمزور ہو کہ اس کی جڑ زمین میں قائم ہی نہ رہ سکتی ہو۔ معمولی سا ہوا کا جھونکا ہی اسے اکھیڑ پھینکنے کے لیے کافی ہو۔ اسی طرح کلمہ کفر دنیا یا آخرت میں ہر طرح بےکار ہے، کسی کام نہیں آئے گا۔ انس ؓ نے اس سے مراد حنظل (تماں، اندرائن) لیا ہے۔ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة إبراہیم : 3119 ] البتہ نبی کریم ﷺ سے انس ؓ کی یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں۔ [ ضعیف سنن الترمذی للألبانی : 3119 ] طنطاوی نے فرمایا، یہ صرف بطور مثال ایک فرضی پودا ہے جس کا حقیقت میں وجود نہیں، صرف سمجھانے کے لیے اسے بیان کیا گیا ہے۔ تفسیر طبری میں ابن عباس ؓ سے یہ قول مذکور ہے، مگر اس میں قابوس بن ابی ظبیان ایک راوی ضعیف ہے۔ کیونکہ تماں ہو یا اور کوئی پودا بہرحال اس کے پھر بھی کچھ نہ کچھ غذائی نہ سہی دوائی فائدے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی بےکار فرضی پودے والا حال شرک و کفر کا ہے جس کی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ دل پر اس کا اثر ہوتا ہے، نہ اس کے ساتھ کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔ بودا اتنا ہوتا ہے کہ ذرا سے غور و فکر سے اس کا بےحقیقت ہونا واضح ہوجاتا ہے۔ کافر کا کوئی عمل نہ آسمان کی طرف چڑھتا ہے نہ اللہ کے ہاں قبول ہوتا ہے۔ یہ تفسیر مناسب حال معلوم ہوتی ہے، کیونکہ کفر و شرک کا حقیقی وجود ہے ہی نہیں، بلکہ یہ صرف وہم و گمان کی پیروی کا نام ہے، اس لیے اس کی مثال بھی ایسے ہی پودے سے مناسب ہے جس کا وجود فرضی ہو۔