14. Surah Ibrahim
ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر القرآن الکریم
سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader
ان کی قمیصیں گندھک کی ہوں گی اور ان کے چہروں کو آگ ڈھانپے ہوگی۔
سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ : ”سَرَابِیْلُ“ ”سِرْبَالٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قمیص۔ ”قَطِرَانٍ“ کا معنی قاموس اور لسان العرب میں ہے ابہل، صنوبر (چلغوزہ) اور اس قسم کے درختوں مثلاً چیڑ یا دیار وغیرہ سے نکلنے والی گوند، یعنی رال یا گندہ بیروزا جو تیزی سے جلتا ہے اور سخت بدبو دار ہوتا ہے، خارش زدہ اونٹوں کو ملا جاتا ہے۔ تمام مترجمین کی طرح میں نے بھی پہلے اس کا ترجمہ گندھک کیا تھا، مگر تفسیر کے وقت مختلف لغات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ”قَطِرَانٍ“ رال (بیروزا) ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ تارکول کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کا مادہ ”قَطْرٌ“ ٹپکنے کا مفہوم رکھتا ہے، اس لیے اس میں وہ تمام مائع چیزیں مراد ہوسکتی ہیں جو اشتعال پذیر یعنی شعلہ پکڑنے والی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلنَّاءِحَۃُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیْھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ) [ مسلم، الجنائز، باب التشدید في النیاحۃ : 934 ] ”نوحہ یعنی ماتم و بین کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر ”قَطِرَانٌ“ کی قمیص اور خارش کا کرتہ ہوگا۔“ ابن عباس ؓ کی قراءت ہے ”مِنْ قَطِرٍ آنٍ“ یعنی ان کی قمیصیں کھولتے ہوئے تانبے سے ہوں گی، مگر پہلی قراءت ”قَطِرَانٍ“ متواتر اور راجح ہے۔ چہروں کو آگ سے ڈھانپنے کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ جسم کا سب سے باعزت حصہ ہے، اس کا حال یہ ہوگا تو دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔
یہ معاملہ کفار کے ساتھ ہوگا، کیونکہ مومنوں کے سجدے کے آثار (نشانات) کو جلانا اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے۔ ابوہریرہ ؓ کی ایک لمبی حدیث، جس میں قیامت کے کچھ احوال بیان ہوئے ہیں، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (حَتّٰی إِذَا فَرَغَ اللّٰہُ مِنَ الْقَضَاءِ بَیْنَ الْعِبَادِ ، وَ أَرَادَ أَنْ یُخْرِجَ بِرَحْمَتِہِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ ، أَمَرَ الْمَلاَءِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ کَانَ لاَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا، مِمَّنْ أَرَاد اللّٰہُ أَنْ یَرْحَمَہُ مِمَّنْ یَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ ، فَیَعْرِفُوْنَھُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُوْدِ ، تَأْکُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُوْدِ ، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُوْدِ) [ بخاری، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔) : 7437 ] ”جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہوں گے اور اہل نار میں سے اپنی رحمت کے ساتھ جسے نکالنا چاہیں گے تو فرشتوں کو حکم دیں گے کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال لائیں جنھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تھا، ان لوگوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہتا ہوگا، جو ”لا الٰہ الا اللہ“ کی شہادت دیتے ہوں گے تو وہ انھیں آگ میں سجدے کے نشان کے ساتھ پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کو کھاجائے گی مگر سجدے کے نشان کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔“
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والے وہ ہوں گے جو شرک سے پاک ہوں گے اور جن کے جسم پر سجدے کے نشان ہوں گے۔ بےنماز اس نشان سے محروم ہوتے ہیں، انھیں اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔
لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader
تاکہ اللہ ہر جان کو اس کا بدلہ دے جو اس نے کمایا۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
لِيَجْزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ : یعنی قیامت کے دن کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی کمائی کی جزا دے، نیکوں کو نیک اور بدوں کو بد جزا دے۔
اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : اس میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ یوم حساب بہت جلد آنے والا ہے، فرمایا : (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ) [ الأنبیاء : 1 ] ”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا۔“ اور فرمایا : (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، آنکھ جھپکنے میں سب کچھ سامنے آجائے گا، فرمایا : (وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ۭ وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا 13 اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا) [ بنی إسرائیل : 13، 14 ] ”اور ہر انسان کو، ہم نے اسے اس کا نصیب اس کی گردن میں لازم کردیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔ اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب کافی ہے۔“
هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader
یہ لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور تاکہ انھیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلوں والے نصیحت حاصل کریں۔
هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ۔۔ : اس آیت میں قرآن مجید نازل کرنے کے چار مقصد بیان ہوئے ہیں : 1 اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ جائے۔ 2 اس کے ذریعے سے وہ آگاہ ہوجائیں اور ڈر جائیں۔ 3 لوگوں کو علم ہوجائے کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنی ہے۔ 4 عقلوں والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ رازی نے فرمایا، معلوم ہوا کہ انسان میں عقل ہی اصل ہے، یہ نہ ہو تو وہ کبھی نصیحت حاصل نہیں کرسکتا۔