Ayah 14:27يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : قول ثابت سے مراد کلمہ شہادت اور عقیدۂ توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا میں سخت سے سخت آزمائشوں اور سزاؤں میں بھی اسلام پر قائم رکھتا ہے۔ اصحاب الاخدود کو دیکھ لیجیے، ان انبیاء و شہداء کو دیکھ لیجیے جو اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے، مگر انھوں نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابراہیم ؑ کے آگ میں پھینکے جانے کو دیکھ لیجیے، ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ مثلاً بلال، عمار، یاسر، خباب، سمیہ، خبیب وغیرہم ؓ پر آنے والی تنگیوں اور تکلیفوں کو دیکھ لیجیے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں کا کلمہ شہادت پر قائم رہنا اللہ تعالیٰ کے ثابت رکھنے سے ہے، وہی ان میں اس قدر عزم و ہمت اور استقامت پیدا کردیتا ہے کہ وہ سخت سے سخت حالات ہوں یا دنیاوی آسائشوں کی آزمائش ہو، ہر حال میں پختہ بات (کلمہ اسلام) پر خوب قائم رہتے ہیں۔ ”يُثَبِّتُ“ کا ترجمہ باب تفعیل کی وجہ سے ”خوب قائم رکھتا ہے“ کیا ہے۔
وَفِي الْاٰخِرَةِ : اس سے مراد قبر میں سوال و جواب ہے۔ براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِيْ قَبْرِہِ أُتِيَ ثُمَّ شَھِدَ أَنْ لَا إِلٰٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ ، فَذٰلِکَ قَوْلُہُ : (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ) [ إبراہیم : 27 ] ”جب مومن کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، پھر وہ شہادت دیتا ہے : ”أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحََمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ چناچہ اللہ کے اس فرمان : (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ) کا یہی مطلب ہے۔“ [ بخاري، الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر : 1369 ] صحیح بخاری ہی میں اس کے بعد والی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں اتری۔
وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ : انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِيْ قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ أَصْحَابُہُ ، وَإِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ ، أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُوْلاَنِ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ھٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُوْلُ أَشْھَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ ، فَیُقَالُ لَہُ انْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارٍ قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّۃِ ، فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا، أَنَّہُ یُفْسَحُ لَہُ فِيْ قَبْرِہِ ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَیُقَالُ لَہُ مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ھٰذَا الرَّجُلِ ؟ فَیَقُوْلُ لاَ أَدْرِيْ ، کُنْتُ أَقُوْلُ مَا یَقُوْلُہُ النَّاسُ ، فَیُقَالُ لَادَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ ، وَیُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً فَیَصِیْحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُھَا مَنْ یَلِیْہِ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ) [ بخاري، الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر : 1374 ] ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چل پڑتے ہیں اور وہ اپنے ساتھیوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، تو اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں، وہ اسے بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں : ”تو اس آدمی محمد ﷺ کے متعلق کیا کہتا تھا ؟“ اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے : ”میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ آگ میں اپنی جگہ دیکھ، اللہ تعالیٰ نے اسے بدل کر تجھے جنت میں جگہ دے دی ہے۔ چناچہ وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے، تو اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور منافق اور کافر، اس سے کہا جاتا ہے : ”تو اس آدمی (محمد ﷺ کے متعلق کیا کہا کرتا تھا ؟“ وہ کہتا ہے : ”میں نہیں جانتا، جو کچھ لوگ کہتے تھے میں وہی کہا کرتا تھا۔“ تو اس سے کہا جاتا ہے : ”نہ تو نے کچھ جانا اور نہ جاننے کی کوشش کی۔“ پھر اسے لوہے کے ہتھوڑوں کے ساتھ ایک ضرب ماری جاتی ہے تو وہ ایسا چیختا ہے کہ دو بھاری مخلوقوں (جن و انس) کے سوا سب چیزیں جو اس کے قریب ہوتی ہیں، اس آواز کو سنتی ہیں۔“
قبر کا عذاب حق ہے۔ امام بخاری ؓ نے کئی آیات و احادیث سے اسے ثابت فرمایا ہے، دیکھیے سورة بنی اسرائیل (20) ، سورة انعام (93) ، سورة توبہ (101) ، سورة مومن (45، 46) اور زیر تفسیر آیت۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ عَذَاب النَّارِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ) [ بخاری، الجنائز، باب التعوذ من عذاب القبر : 1377 ] بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے پناہ مانگے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ) اس کے بعد اپنے لیے جو چاہے دعا کرے۔“ [ السنن الکبریٰ للنسائی : 1؍389، 390، ح : 1233، عن أبي ہریرہ ؓ۔ صحیح ] اس لیے بعض ائمہ نے یہ دعا پڑھنا تشہد کے بعد واجب قرار دیا ہے، دوسری دعائیں اس کے بعد پڑھے۔ اتنی واضح آیات و احادیث کے باوجود بہت سے بدنصیب عذاب قبر کے منکر ہیں۔ وہ ان شاء اللہ بہت جلد اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیں گے۔
وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ : اہل ایمان کو ثابت رکھنا، ظالموں کو ہدایت سے محروم رکھنا، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اگر وہ چاہتا تو اپنی دوسری ساری مخلوق کی طرح جن و انس کو بھی اپنے احکام بجا لانے پر مجبور کردیتا، مگر اس کی مرضی کہ اس نے ان دونوں کو ہدایت یا ضلالت، کفر یا ایمان کا اختیار دیا۔ اب جو جدھر جانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہی راستہ آسان کردیتا ہے۔ دیکھیے سورة دہر (3) اور سورة لیل (1 تا 10)۔
Ayahs 14:28–29اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا۔۔ :”الْبَوَارِ“ یہ ”بَارَ یَبُوْرُ“ (ن) کا مصدر ہے، معنی ہے :”فَرْطُ الْکَسَادِ“ یعنی انتہائی بےقدر و قیمت ہونا، پھر ہلاکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (راغب)
3 انسان کو اپنے وجود کی نعمت سب سے پہلے مفت ملی، اس نے اس کا شکر اپنے خالق کی اطاعت کے بجائے کفر، یعنی ناشکری اور اس کے وجود یا اطاعت و عبادت سے انکار کے ساتھ کیا اور جو شخص جس قدر سرداری اور نعمت سے بہرہ ور تھا اس نے اتنا ہی اپنی قوم کو غلط راستے پر لگا کر جہنم میں پہنچایا۔ اس لحاظ سے آیت عام ہے مگر سیاق وسباق اور مفسرین کے مطابق یہاں مراد کفار قریش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابراہیم ؑ کی نسل میں پیدا فرما کر اپنے مقدس گھر کا متولی بنادیا۔ امن و اطمینان اور دنیا کا ہر پھل اور نعمت مہیا فرمائی، انھوں نے اس کا بدلہ توحید اور اطاعتِ الٰہی کے بجائے عین کعبہ میں اور اس کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھ کر اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار کردیا، فرمایا : (ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ) [ القصص : 57 ] ”اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورة قریش۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو ان میں مبعوث فرما کر دنیا اور آخرت میں سرداری کی نعمت حاصل کرنے کا موقع دیا، مگر انھوں نے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کے بجائے کفر کو اختیار کیا اور آپ کو ہر ایذا دی، حتیٰ کہ آپ کو حرم میں قتل کردینے کا منصوبہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کو دنیا میں جنگوں، خصوصاً بدر وغیرہ اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں رسوائی اور بربادی ملی، شدید قحط اور مکہ میں قافلوں کی آمد رک جانے کی صورت میں آمدنی ختم ہونے سے انھیں بھوک اور خوف نے گھیر لیا اور آخرت میں جہنم میں جانے کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ چناچہ فرمایا : (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 112 وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ) [ النحل : 112، 113 ] ”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے اور بلاشبہ یقیناً ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔“
اَلَمْ تَرَ : اس کے اولین مخاطب اگرچہ نبی کریم ﷺ ہیں مگر ہر وہ شخص اس کا مخاطب ہے جو مخاطب ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے ساتھ انسان خصوصاً کفار قریش کی نعمت کے مقابلے میں ناشکری اور کفر پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے۔
Ayah 14:30وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا۔۔ : ”اَنْدَادًا“ ”نِدٌّ“ کی جمع ہے۔ راغب نے لکھا ہے : ”نَدِیْدُ الشَّیْءِ مُشَارِکُہُ فِیْ جَوْھَرِہِ“ کہ جو کسی چیز کے اصل میں شریک ہو، جبکہ مثل کا لفظ ہر مشارک پر بولا جاتا ہے، چناچہ ہر ”ند“ مثل ہے مگر ہر مثل ”ند“ نہیں۔ (اس لیے اس کا ترجمہ شریک کیا جاتا ہے) یعنی وہ ان کی پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انھیں پکارنے لگے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا جرم شرک کا ارتکاب اور لوگوں میں اس کی اشاعت کے ذریعے سے انھیں اسلام سے روکنا اور گمراہ کرنا قرار دیا ہے۔ ”تَمَتُّعٌ“ کچھ وقت تک فائدہ اٹھانے کو کہتے ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ ”تمتع“ یا ”تَمَتَّعُوْا“ (یعنی فائدہ اٹھاؤ) آیا ہے، اس کا مطلب اس کی اجازت دینا نہیں بلکہ اس پر ڈانٹنا اور ڈرانا ہے، یعنی اچھا اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز کے مزے اڑا لو، مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔
Ayah 14:31قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : انسان سارے ہی اللہ کے بندے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا ”عِبَادِیْ“ (میرے بندے) کہنا بہت بڑی عزت افزائی ہے، جیسا کہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا) [ بنی إسرائیل : 1 ] ”پاک ہے وہ جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے کہہ دیں جن میں دو وصف ہیں، ایک تو یہ کہ وہ صرف میرے بندے ہیں، کسی غیر کے نہیں، جو اپنے نام عبداللہ، عبد الرحمٰن اور ان جیسے رکھتے ہیں، نہ کہ عبد الحسین، عبد النبی، پیراں دتہ، غوث بخش وغیرہ اور جو قولاً و عملاً صرف میری عبادت اور بندگی کرتے ہیں، نہ کہ کسی غیر کی اور دوسرا وصف یہ کہ وہ ایمان لے آئے ہیں۔
يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا۔۔ : یہ دونوں فعل لام امر مقدر کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ اقامت کا معنی ہے سیدھا کرنا، یعنی نماز کو درست کرکے پڑھیں، اس میں ہمیشگی، وقت پر ادا کرنا، تمام ارکان کو صحیح ادا کرنا اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا سب کچھ آجاتا ہے۔ نماز میں بندگی کی ہر قسم کا کچھ نہ کچھ حصہ آجاتا ہے، قبلہ کی طرف رخ حج سے مناسبت رکھتا ہے، قیام، رکوع سجود اور دو زانو ہونا غلامی اور بندگی کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں، نماز کے دوران میں کھانے پینے وغیرہ سے اجتناب روزے سے مناسبت رکھتا ہے، کاروبار چھوڑ کر آنا اس شخص کے لیے ممکن ہی نہیں جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے پر تیار ہی نہیں اور کئی اور چیزیں ایسی ہیں جو صرف نماز ہی میں ہیں، کسی اور عبادت میں نہیں۔ قرآن مجید میں اکثر نماز اور زکوٰۃ یا خرچ کرنا اکٹھا آیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی ان دونوں کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً : اس میں دو باتوں کی طرف توجہ لازم ہے۔ ایک تو لفظ ”مِنْ“ ہے کہ اللہ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے جان، مال، اولاد، قوت، علم، عزت، غرض جو شمار ہی نہیں ہوسکتا، وہ سارے کا سارا ہم سے خرچ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، کیونکہ اسے ہماری کمزوری کا علم ہے جو اس نے سورة محمد کی آیت (36، 37) میں ذکر فرمائی ہے۔ دوسرا لفظ ”رَزَقْنَا“ ہے کہ تم نے جو کچھ خرچ کرنا ہے ہمارے دیے ہوئے میں سے کرنا ہے، اگر یہ سوچو گے تو دل میں بخل نہیں آئے گا اور اگر سب کچھ اپنا سمجھو گے تو مشکل ہی سے خرچ کرسکو گے۔ ”سِرًّا“ یعنی پوشیدہ اس لیے کہ وہ ریا سے پاک ہے اور ”وَّعَلَانِيَةً“ یعنی علانیہ اس لیے کہ دوسروں کو رغبت ہو، یا فرض زکوٰۃ ہو تو علانیہ دو ، کیونکہ چھپا کردینے سے زکوٰۃ نہ دینے کی تہمت کا خطرہ ہے۔
مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ : ”خِلٰلٌ“ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، بمعنی دلی دوستی، مراد ہے قیامت کا دن کہ جس میں نیک اعمال خریدے جاسکیں گے نہ کسی کی دوستی اور محبت کام آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا سکے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور کوئی دوستی سے رعایت نہیں کرتا۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ) [ الزخرف : 67 ] ”سب خلیل (دلی دوست) اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔“
Ayah 14:32اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : یعنی وہ اللہ جس کی ناشکری پر تم کمربستہ ہو، جس کی اطاعت اور بندگی سے روگردانی کر رہے ہو اور جس کے ساتھ بلادلیل شریک بنا رہے ہو، وہ تو وہ ذات ہے۔۔ اس کے بعد ان تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی دس نعمتیں شمار کی گئی ہیں اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں شمار کرنے کی تم میں طاقت ہی نہیں۔
الْفُلْكَ : واحد جمع ایک ہی طرح ہے، بڑی کشتیاں، بحری جہاز۔
وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ : ”الْاَنْهٰرَ“ ”نَھْرٌ“ کی جمع ہے، ندی، نالے اور دریا۔ تم ان سے اپنی کھیتیاں سیراب کرتے ہو اور ان میں جہاز اور کشتیاں چلاتے ہو، مچھلیاں پکڑتے ہو، بجلی پیدا کرتے ہو، ان کے کناروں پر پہاڑوں میں راستے بناتے ہیں، غرض بیشمار فائدے اٹھاتے ہو۔
Ayah 14:33دَاۗىِٕـبَيْنِ : یہ ”دَأَبَ یَدْأَبُ دَأْبًا“ سے اسم فاعل کا تثنیہ ہے، مسلسل چلنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لیے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگا تار چلے جا رہے ہیں، نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
Ayah 14:34وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ : یعنی یہ سب کچھ اور بہت کچھ تمہارے مانگے بغیر دیا۔ علاوہ ازیں جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے بھی جتنا چاہا اس نے تمہیں دیا۔ ”من“ تبعیضیہ ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ زبان حال یا قال سے تم نے جو مانگا، یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے تمہاری حالت جو تقاضا کرتی تھی اور جو بھی تمہاری ضرورت ہوسکتی تھی اس نے اس میں سے جتنا چاہا تمہیں دیا۔
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا : یعنی مختصر طور پر بھی نہیں گن سکو گے، کجا یہ کہ تم لا محدود نعمتوں کو شمار کرسکو، تو سوچو تم اس کا شکر کس طرح ادا کرسکتے ہو۔ (شوکانی) ”كَفَّارٌ“ بہت ناشکرا۔ ”اَحْصٰی یُحْصِيْ اِحْصَاءً“ (افعال) شمار کرنا، کیونکہ ”اَلْحَصٰی“ کا معنی کنکری ہے اور عرب کنکریوں کے ذریعے سے شمار کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کنکریوں سے محدود شمار ہی ہوسکتا ہے۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ : انسان پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں، مگر وہ ہے کہ ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ ”لَظَلُوْمٌ“ سے یہی مراد ہے، یا ”الْاِنْسَانَ“ میں الف لام عہد کا ہے اور مراد کافر انسان ہے کہ وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے کر، یعنی غیر اللہ کی عبادت کرکے بہت بڑا ظلم کر رہا ہے۔ فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ]”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ کیونکہ ظلم کا معنی ہے ”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہِ“ کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھ دینا۔ تو کافر انسان اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے نہ اس کی عبادت کرتا ہے نہ اطاعت بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو مخلوق کے احسانات شمار کرتا ہے، کبھی کسی کو جھولی بھرنے والا کہتا ہے، کبھی کسی کو داتا کہتا ہے، کبھی کسی کو دستگیر، کبھی کسی کو مشکل کشا۔”الْاِنْسَانَ“ سے مراد یہاں کافر انسان ہونے کی دلیل اس سلسلۂ آیات کی ابتدا بھی ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28ۙ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ) [ إبراہیم : 28، 29 ] ”کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا، جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔“ یہ اس کی زبردست ناشکری ہے۔ اے کافر انسان ! افسوس تیری اس کافری اور ناشکری پر۔ کاش ! تو اپنے اصل داتا اور دستگیر کا احسان مانتا، اسی کا شکر ادا کرتا
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
Ayah 14:35وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ۔۔ : عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب خاص اس احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں پر کیا تھا اور وہ تھا ان کے باپ ابراہیم ؑ کا ان کے جد اعلیٰ اسماعیل ؑ کو یہاں لا کر آباد کرنا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ نے کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں یہاں لا کر بسایا تھا اور کس طرح اس شہر کے پرامن بنانے کی اور اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا کی تھی، مگر آج تم ان احسانات کو بھول گئے اور بت پرستی کو اپنا دین قرار دے دیا۔
اٰمِنًا : یہ ”ذَا اَمْنٍ“ (امن والا) کے معنی میں ہے، جیسے ”لَابِنٌ“ (دودھ والا) اور ”تَامِرٌ“ (کھجور والا) ہے۔ سورة بقرہ (126) میں ”هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا“ اور یہاں ”هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا“ میں فرق یہ ہے کہ سورة بقرہ میں ”ھٰذَا“ پہلا مفعول اور ”بَلَداً“ دوسرا مفعول ہے، جب کہ یہاں ”ہَذا البلد“ پہلا مفعول اور ”اٰمناً“ دوسرا مفعول ہے۔ دونوں جگہ ترجمے کا فرق ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سورة بقرہ (126) میں موجود پہلی دعا ”رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَداً اٰمِنًا“ اس وقت کی ہے جب شہر نہیں بنا تھا، تو دعا کی کہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے اور دوسری دعا اس وقت کی جب شہر بن چکا تھا، اسماعیل ؑ بڑے ہوچکے تھے کہ پروردگار ! اس شہر کو امن والا بنا دے۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے اور خوف بہت بڑی آزمائش ہے۔ رازی فرماتے ہیں، ایک عالم سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو بیماری اور خوف میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کیا جائے تو آپ کیا اختیار کریں گے ؟ انھوں نے فرمایا، میں بیماری کو اختیار کروں گا کہ اس میں آدمی کھا پی اور سو تو سکتا ہے، خوف میں اس سے بھی محروم ہوجاتا ہے، آپ ایک بکری کا تصور کریں جس کی ٹانگ ٹوٹ جائے، وہ کھاتی پیتی رہے گی، سو بھی جائے گی، مگر ایک تندرست بکری جس کے سامنے بھیڑیا ہو، وہ نہ کھا سکے گی، نہ پی سکے گی اور نہ آرام کرسکے گی، حتیٰ کہ نوبت موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورة قریش میں بھوک سے کھلانے اور خوف سے امن دینے کی نعمت کا ذکر فرما کر قریش کو خاص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔
وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ : ”جَنَبَ یَجْنُبُ“ یہ ”نصر“ سے اور افعال اور تفعیل سے ایک ہی معنی میں آتا ہے۔ ”صنم“ اس پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنائے ہوئے بت، تصویر یا مجسمے کو کہتے ہیں جو کسی انسان یا فرشتے یا دیوتا کی حقیقی یا خیالی صورت پر پوجا کے لیے بنایا گیا ہو، جب کہ ”وثن“ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے مختص ہو، خواہ قبر ہو یا درخت یا دریا یا بت یا کوئی جانور یا انسان وغیرہ۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم اور اپنے والد کی صنم پرستی اور اس پر اصرار اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس لیے وہ اپنے یا اپنی اولاد کے اس میں مبتلا ہونے سے سخت خوف زدہ تھے، سو انھوں نے یہ دعا کی۔ ”بَنِیَّ“ میں ساری اولاد شامل ہے، جیسے بنی آدم یا بنی اسرائیل۔ بیٹوں کی حد تک تو دعا قبول ہوئی، مگر ساری اولاد کے حق میں بعینہٖ قبول نہیں ہوئی، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ) [ الصافات : 113 ] ”اور ان دونوں (ابراہیم اور اسحاق) کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔“ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کا مالک ہے، وہ اپنی حکمت کے مطابق دعا کرنے والے کی دعا کا جتنا حصہ چاہتا ہے اس کی خواہش کے مطابق پورا کردیتا ہے اور جو حصہ چاہتا ہے کسی اور صورت میں عطا کردیتا ہے۔ دعا کسی صورت بھی ضائع نہیں جاتی، البتہ مرضی اسی کی چلتی ہے، کسی دوسرے حتیٰ کہ انبیاء کی بھی نہیں۔ ہمیں بھی ہر وقت اس بات کی فکر رہنی چاہیے کہ ہم یا ہماری اولاد کسی طرح شرک میں مبتلا نہ ہوجائیں، ہمیں اپنی اولاد کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور اسے توحید کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔
Ayah 14:36رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۔۔ : صنم پرستی عام ہونے اور لوگوں کے بہت جلد اس میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہیں دو ہیں، ایک تو یہ کہ ان دیکھے معبود (اللہ تعالیٰ) پر یقین رکھنے کے بجائے انسان چاہتا ہے کہ وہ ایسی چیز کی عبادت کرے جو اسے نظر آئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ظاہر کوئی چیز نہیں، کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے بنانے والے کے وجود اور توحید کی شہادت دے رہی ہے اور لطف یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ زمین و آسمان اور ساری کائنات میں نے بنائی ہے، اگر کوئی یہ دعویٰ کرلے تو ہر شخص اسے جھوٹا کہے گا، بلکہ خود اس کا دل اسے جھٹلائے گا کہ آسمان و زمین تو تجھ سے اور تیرے باپ دادا سے لاکھوں برس پہلے کے بنے ہوئے ہیں۔ وہ اگرچہ ظاہر ہے مگر اس کی ذات سے زیادہ کوئی چیز آنکھوں سے غائب بھی نہیں، کیونکہ کسی میں اسے دیکھنے کی تاب ہی نہیں۔ [ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ] اس لیے وہ پہلا تقاضا ہی ایمان بالغیب کا کرتا ہے، کوئی اس کے دیدار کا شوق رکھے یا درخواست کرے، جیسے موسیٰ ؑ نے کی تو وہ ناراض نہیں ہوتا بلکہ جنت میں اپنے دیدار کا وعدہ کرتا ہے، مگر کوئی ایمان لانے کے لیے دیکھنے کی شرط لگائے، جیسے بنی اسرائیل نے کہا : (لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً) [ البقرۃ : 55 ] ”(اے موسیٰ !) ہم تیرے لیے ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو صاف سامنے نہ دیکھ لیں“ تو پھر اس کی آتش غضب بھڑک اٹھتی ہے، پھر کبھی تو وہ بجلی گرا کر بھسم کردیتا ہے اور اکثر کو اس نے مہلت دے رکھی ہے، قیامت کو انھیں ان کے مطالبے کا جواب دے گا۔ غرض یہی انسان کی بےوقوفی ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا تو ایمان بالغیب کے بجائے نظر آنے والا رب گھڑ کر اس کی پوجا شروع کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا سبب محبت میں غلو بھی شامل ہوجاتا ہے، یعنی جس ہستی سے بھی اس کو حد سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اسے نیک سمجھتا ہے یا اس کی ہیبت سے ڈرتا ہے، اس کا بت بنا کر اسے پوجنا شروع کردیتا ہے۔ قوم نوح میں صنم پرستی کی ابتدا اسی طرح ہوئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نوح۔ بیشمار قوموں کے صنم پرستی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ابراہیم ؑ کہہ رہے ہیں کہ اے پروردگار ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا، مراد یہ ہے کہ یہ ان کی گمراہی کا باعث بن گئے، جیسے کہتے ہیں کہ سڑک لاہور لے جاتی ہے، وہ تو صرف ذریعہ ہے، جانے والا جاتا تو خود ہے۔
وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : یہاں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم ؑ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی، حالانکہ ان الفاظ سے یہ بات نہیں نکلتی، بلکہ صرف یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا معاملہ تیرے سپرد ہے، تو چاہے تو بخش دے، چاہے تو عذاب دے اور ساتھ ہی عرض کی : ”پس بیشک تو غفور و رحیم ہے۔“ بلا شبہ اس میں نہایت ادب، عجز اور سلیقے سے ایک قسم کی سفارش ہے، مگر اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا نہیں کہا جاسکتا، ہاں انھوں نے اپنے والد کے لیے وعدہ کی وجہ سے بخشش کی دعا کی تھی، پھر اللہ کا دشمن ثابت ہوجانے پر اس سے براءت کا اظہار فرما دیا۔ (دیکھیے توبہ : 114) قرآن میں ابراہیم اور عیسیٰ ؑ سے منقول دعاؤں میں ہر نافرمان کا معاملہ، خواہ مشرک ہو یا عام گناہ گار، اللہ کے سپرد کیا گیا ہے، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کے ذکر کے ساتھ ایک قسم کی سفارش کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ یہ ان دونوں پیغمبروں کی بیشمار تکلیفیں اٹھانے کے باوجود حد درجے کی نرم دلی ہے، عیسیٰ ؑ کی دعا ہے : (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ المائدۃ : 118 ] سورة مائدہ میں اس آیت کا ترجمہ اور ہمارے رسول کریم ﷺ کا طرز عمل ملاحظہ فرمائیں۔
اس کے برعکس نوح ؑ کی دعا تھی : (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) [ نوح : 26 ]”اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ اور موسیٰ ؑ کی دعا یہ تھی : (رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ) [ یونس : 88 ] ”اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“ ان دونوں نبیوں کی یہ دعائیں بھی بلاسبب نہ تھیں۔ نوح ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ اب تمہاری قوم میں سے مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ (دیکھیے ہود : 36) اور فرعونیوں نے بہت سے معجزے دیکھ کر بھی کہہ دیا تھا کہ موسیٰ ! تم جو بھی معجزہ لے آؤ ہم کسی صورت تم پر ایمان لانے والے نہیں۔ (دیکھیے الاعراف : 132) اب اگر وہ یہ دعا نہ کرتے تو کیا کرتے ؟ ایسے موقع پر تو ابراہیم ؑ بھی اپنے والد سے صاف لاتعلق ہوگئے تھے، فرمایا : (فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ) [ التوبۃ : 114 ] ”پس جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بیشک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےتعلق ہوگیا۔“
Ayah 14:37رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے۔ ”کچھ اولاد“ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابراہیم ؑ نے یہ دعا کی تو اس وقت اسحاق ؑ پیدا ہوچکے تھے۔ انھیں اور ان کی والدہ سارہ[ کو ابراہیم ؑ نے دوسری جگہ (شام میں) ٹھہرایا ہوا تھا۔
بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ : وادی نیچی جگہ کو کہا جاتا ہے، جہاں کبھی پانی بہتا ہو، خصوصاً پہاڑوں کے درمیان گہری جگہ کو ”وادی“ کہتے ہیں۔ ”ذِيْ زَرْعٍ“ مکہ اور اس کے گردو نواح بلکہ ارض عرب میں کھیتی باڑی نہیں تھی، کیونکہ بارش کے علاوہ وہاں پانی نہیں ملتا تھا اور زمین بھی پتھریلی یا ریتلی تھی، خصوصاً مکہ والی جگہ میں تو بالکل نہ پانی تھا نہ کھیتی باڑی۔ ان غیر آباد بیابان پہاڑوں کے درمیان اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجرہ ؓ کو لا کر چھوڑ جانے کا، پھر ہاجرہ[ کے صفا ومروہ کے درمیان دوڑنے کا اور پانی تلاش کرنے اور زم زم کے پھوٹ نکلنے کا لمبا واقعہ صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ سے مذکور ہے۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب (یزفون) النسلان في المشي : 3364، 3365 ] ہزاروں سال بعد ابھی تک وہ ”ذِيْ زَرْعٍ“ ہی ہے، البتہ طائف میں کچھ کھیتی باڑی اور پھل وغیرہ ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتَّیٰ یَکْثُرَ الْمَالُ وَیَفِیْضَ ، حَتّٰی یَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَکَاۃِ مَالِہٖ فَلاَ یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُھَا مِنْہُ ، وَحَتّٰی تَعُوْدَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوْجًا وَأَنْھَارًا) ”قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مال بہت زیادہ نہ ہوجائے، حتیٰ کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا، لیکن وہ کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا جو اس سے اس کی زکوٰۃ لے لے اور جب تک ارض عرب دوبارہ مروج (سبزہ زار، کھلے کھیت) اور ندیوں نالوں کی صورت میں نہ بدل جائے۔“ [ مسلم، الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ قبل أن۔۔ : 60؍157، قبل ح : 1013 ] لفظ ”تَعُوْدَ“ (دوبارہ نہ بدل جائے) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی کبھی یہ پہاڑ کشمیر کے پہاڑوں کی طرح سرسبز اور ندیوں نہروں والے تھے، قیامت کے قریب پھر اسی طرح ہوجائیں گے۔
عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ : اس سے بعض مفسرین نے اخذ کیا ہے کہ یہ دعا ابراہیم ؑ نے بیت اللہ تعمیر کرنے کے بعد کی، ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر بیت اللہ تو ابراہیم ؑ کے وہاں جانے سے بھی بہت پہلے تعمیر ہوچکا تھا، کیونکہ وہ زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے اور سب جانتے ہیں کہ زمین پر اللہ کی عبادت آدم ؑ سے یا اس سے بھی پہلے سے شروع ہے، اس کے بانئ اول آدم ؑ ہیں یا اس سے بھی پہلے کی کوئی مخلوق، مثلاً فرشتے یا جن وغیرہ۔ ہاں ابراہیم ؑ کے زمانے میں سیلابوں کی وجہ سے یہ ایک ٹیلے کی شکل میں بدل چکا تھا، وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو بتائی اور انھی پہلی بنیادوں پر دوبارہ کعبہ تعمیر ہوا۔ دیکھیے سورة بقرہ (128) اور سورة حج (26) ”الْمُحَرَّمِ“ اس لیے کہ کئی کام جو دوسری جگہ حلال ہیں مثلاً شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ، وہ یہاں حرام ہیں اور اس گھر کی عزت نہ کرنے والے کا یہاں طاقت کے ذریعے سے قبضہ حرام ہے، ممکن نہیں۔ اس لیے اس گھر کا لقب ”اَلْبَیْتُ الْعَتِیْقُ“ بھی ہے، یعنی جو ہمیشہ سے آزاد رہا۔ عتیق کا ایک معنی قدیم بھی ہے۔
رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : معلوم ہوا کہ آدمی کو خود بھی اور اولاد کو بھی ایسی جگہ ٹھہرانا چاہیے جہاں اہل توحید کی مسجد پہلے سے موجود ہو، یا جب آدمی وہاں سکونت اختیار کرے تو سب سے پہلا کام اپنا مکان اور مسجد بیک وقت بنانے کا کرے، خواہ کچی اینٹوں کی چار دیواری ہی ہو، جیسا کہ ہمارے پیارے رسول ﷺ نے مدینہ میں آتے ہی کیا تھا، تاکہ اقامت صلاۃ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے اور وہ آبادیاں تو رہنے کے قابل ہی نہیں جو نہایت عالی شان ہونے کے باوجود اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے بنائی ہوئی مسجدوں سے خالی ہیں، یا وہاں ایسی مسجدیں گھر سے اتنی دور ہیں کہ نماز کے لیے وقت پر پہنچنا مشکل ہے۔
فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ : ”اَفْىِٕدَةً“ ”فُوَادٌ“ کی جمع ہے، یعنی دل، یا ”وَفُوْدٌ“ کی یعنی آنے والے۔ (عینی) ”مِّنَ النَّاسِ“ کچھ لوگوں کے دل۔ ”مِن“ تبعیض کے لیے ہے۔ ”تَهْوِيْٓ“ ”ھَوَی یَھْوِیْ“ (ض) سے گرنا اور ”ھَوِیَ یَھْوٰی“ (ع) سے چاہنا اور محبت کرنا مراد ہوتا ہے۔ کوئی چیز جب بلندی سے گرتی ہے تو نہایت تیزی سے گرتی ہے اور بےاختیار ہو کر گرتی ہے، یعنی کچھ لوگوں کے دل ایسے بنا دے کہ بےاختیار اس کی طرف دوڑتے چلے آئیں۔ تفاسیر میں بعض صحابہ و تابعین سے منقول ہے کہ ابراہیم ؑ اگر دعا میں ”کچھ لوگوں“ کی قید نہ لگاتے تو سب لوگوں کے دل، خواہ مسلم ہوتے یا یہود و نصاریٰ ، اس کی طرف کھنچے چلے آتے۔ اس دعا کی قبولیت کا نظارہ ہر مسلمان اپنے دل میں اس گھر کے شوق سے اور وہاں حج وغیرہ کے لیے بار بار جانے والوں کی کثرت سے کرسکتا ہے۔
وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ : مکہ میں دنیا کے تمام خطوں سے ہر موسم کا تازہ پھل دیکھ کر اس دعا کی قبولیت آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ اس دعا کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (124 تا 127)۔
Ayah 14:38رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ۔۔ : یعنی ہماری چھپی ہوئی دلی خواہشوں کو اور جو کچھ ہم زبان سے مانگ رہے ہیں تو سب جانتا ہے۔ یہ مانگنے کا بہترین طریقہ ہے کہ صرف تعریف پر اکتفا کیا جائے۔ ”کتاب الاغانی (8؍344)“ میں ہے کہ امیہ بن ابی الصلت نے عبداللہ بن جدعان کو مخاطب کر کے کہا تھا
أَ أَذْکُرُ حَاجَتِيْ أَمْ قَدْ کَفَانِيْ
حَیَاءُکَ اِنَّ شِیْمَتَکَ الْحَیَاءُ
إِذَا أَثْنَی عَلَیْکَ الْمَرْءُ یَومًا
کَفَاہُ مِنْ تَعَرُّضِہِ الثَّنَاءُ
”کیا میں اپنی حاجت ذکر کروں یا یقیناً مجھے تیری حیا ہی کافی ہے، کیونکہ تیری عادت ہی حیا ہے، جب آدمی کسی دن تیری تعریف کر دے تو اسے ضرورت پیش کرنے کے بجائے تعریف ہی کافی ہوجاتی ہے۔“
سفیان بن عیینہ ؓ نے فرمایا : ”جب مخلوق کا یہ حال ہے تو خالق کا کیا حال ہوگا۔“ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَفْضَلُ الذِّکْرِ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ أَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین : 3800۔ ترمذی : 3383، عن جابر ؓ ] ”سب سے بہتر ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے اور سب سے بہتر دعا الحمد للہ ہے۔“ مقصد یہ ہے کہ پروردگار ! ہم جو مانگ رہے ہیں اور جو کچھ ہمارے دل میں ہے تو سب کچھ جانتا ہے، بیشک اللہ پر آسمان میں کوئی چیز ہو یا زمین میں، مخفی نہیں رہتی۔ سو ہماری ظاہر درخواستوں کے ساتھ دلی مرادیں بھی پوری کر دے۔ یاد رہے کہ وہ مشہور روایت جس میں ذکر ہے کہ آگ میں پھینکے جانے کے وقت بارش کے فرشتے نے ابراہیم ؑ کو مدد کی پیش کش کی تو یہ جاننے کے بعد کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجنے کے بجائے اپنی مرضی سے آیا ہے، تو انھوں نے مدد قبول کرنے سے انکار کردیا اور جب اس نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اللہ تعالیٰ سے دعاکریں تو فرمایا : (حَسْبِيْ عَنْ سُؤَالِيْ عِلْمُہُ بِحَالِيْ) یا فرمایا : (عِلْمُہُ بِحَالِيْ یُغْنِيْ عَنْ سُؤَالِہِ) ”مجھے سوال کرنے کے بجائے یہی کافی ہے کہ وہ میرے حال کو جانتا ہے۔“ سو یہ محض ایک اسرائیلی روایت ہے جس کی کچھ حقیقت نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ لَّمْ یَدْعُ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ غَضِبَ عَلَیْہِ) ”جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے۔“ [ ابن ماجہ، الدعاء، باب فضل الدعاء : 3827۔ السلسلۃ الصحیحۃ : 6؍323، ح : 2654 ] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) [ المؤمن : 60 ] ”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو (مجھ سے دعا کرو) میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ ایسی روایات صوفی لوگ اپنے خودساختہ وظائف و چلہ جات کو رائج کرنے اور دعا سے محروم کرنے کے لیے بیان کیا کرتے ہیں۔
3 بعض مفسرین نے فرمایا کہ اہل مکہ کے لیے صحیح عقیدے اور امن اور کھانے پینے کی چیزیں عطا کرنے کی دعا کے بعد ابراہیم ؑ نے ہاجرہ و اسماعیل ؑ سے جدائی کے وقت گزرنے والی کیفیت، جو آنکھوں کے آنسوؤں یا دل کی بےقراری کی وجہ سے دونوں میاں بیوی پر گزر رہی تھی، وہ پیش کی ہے، مگر شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائے، یہ حوصلہ پیغمبروں اور ان کے اہل بیت ہی کا ہوتا ہے۔
Ayah 14:39اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ۔۔ : ”وَھَبَ یَھَبُ ھِبَۃً“ کا معنی کسی معاوضے کے بغیر عطا کردینا ہے۔ معلوم ہوا اولاد اللہ تعالیٰ کا ہبہ ہے، یہ صرف اسباب جمع ہوجانے سے نہیں ہوتی، ورنہ ہر تندرست جوڑے کے ملنے سے اولاد ہوجاتی، بلکہ یہ محض عطائے الٰہی ہے، وہ بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوتی ہے، چاہے تو لڑکے ہی دے، چاہے لڑکیاں، چاہے دونوں ملا کر دے اور چاہے تو بےاولاد رکھے۔ (مزید دیکھیے الشوریٰ : 50) رازی نے فرمایا، قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم ؑ کو یہ دونوں بیٹے بڑی عمر اور بڑھاپے میں عطا کیے گئے، لیکن یہ بات کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی معلوم نہیں ہوتی، اس کے لیے صرف اسرائیلی روایات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، چناچہ کہا جاتا ہے کہ اسماعیل ؑ پیدا ہوئے تو ابراہیم ؑ ننانویں (99) برس کے تھے اور اسحاق ؑ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ کی عمر ایک سو بارہ (112) برس تھی۔ مگر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ہم اس کی تصدیق یا تکذیب نہیں کرسکتے۔
لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ : لفظی معنی ہے ”دعا کو بہت سننے والا“ مگر مراد قبول کرنے والا ہے، جیسے کہا جاتا ہے، فلاں کی تو سنی گئی، یعنی مراد پوری ہوگئی۔
Ayah 14:40رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ : یہ ابراہیم ؑ کی عاجزانہ دعاؤں کا آخری حصہ ہے، جس میں انھوں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اس چیز پر پابند رہنے کی دعا کی ہے جو توحید و رسالت کے یقین و اقرار کے بعد اسلام میں سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے، یعنی نماز جو خاشعین (عاجزی کرنے والوں) کے سوا سب لوگوں کے لیے نہایت دشوار ہے (دیکھیے بقرہ : 45، 46) اور جس کے متعلق موسیٰ ؑ (جَزَاہ اللّٰہُ عَنَّا وَ عَنْ جَمِیْعِ أُمَّتِنَا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ) نے کہا تھا کہ میں نے بنی اسرائیل کو بہت زیادہ بھگتا ہے، آپ کی امت پانچ نمازوں کی طاقت بھی نہیں رکھے گی۔ سو جو ایمان و کفر کے درمیان فرق کرنے والی سب سے نمایاں چیز ہے، ابراہیم ؑ کو اس کی اتنی فکر تھی کہ اپنے اور اپنی اولاد کے لیے اس کی پابندی کی خاص طور پر دعا کی۔
وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ :”اور میری اولاد میں سے بھی“ بظاہر یہ ”من“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی مجھے اور میری اولاد میں سے بھی کچھ نماز کے پابند بنا، مگر اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے ساری اولاد کے لیے یہ دعا کیوں نہ کی ؟ اس کا جواب اکثر مفسرین نے یہ دیا ہے کہ ابراہیم ؑ کو انسانی تاریخ سے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ”لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ“ سے اندازہ تھا کہ ساری اولاد نمازی نہیں ہو سکے گی، اس لیے انھوں نے یہ دعا کی کہ ایسا نہ ہو کہ اولاد میں سے کوئی بھی نمازی نہ رہے، یہ اسی طرح ہے جیسا کہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ) [ البقرۃ : 128 ] ”اے ہمارے رب ! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔“ ابن عاشور صاحب ”التحریر والتنویر“ نے لکھا ہے : ”یہ ”مِنْ“ ابتدائیہ ہے، تبعیض کے لیے نہیں اور ”وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ“ محذوف کی صفت ہے جس کا عطف یائے متکلم پر ہے۔ مقدر عبارت اس طرح ہوگی : ”رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَاجْعَلْ مُقِیْمِیْنَ للصَّلَاۃِ مِنْ ذُرِّیَّتِيْ“ یعنی مجھے نماز کا پابند بنا اور نماز کا پابند ان کو بھی بنا جو میری اولاد میں سے ہوں۔ ”وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ“ کی ترکیب بھی اسی طرح ہوسکتی ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ابراہیم ؑ بت پرستی سے بچنے کی دعا تو اپنے اور اپنی ساری اولاد کے لیے کریں، فرمایا : (وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ) [ إبراھیم : 35 ] (اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بت پوجنے سے بچائے رکھ) مگر نماز کا پابند بنانے کی دعا سب کے لیے کرنے کے بجائے بعض کے لیے کریں۔ جب ہم خود دعا کرتے وقت یہ پسند نہیں کرتے کہ یہ دعا کریں کہ یا اللہ ! ہماری کچھ اولاد کو نمازی بنا تو ابراہیم ؑ یہ کیسے پسند کرسکتے ہیں ؟“ ابن عاشور کی بات دل کو لگتی ہے۔ (واللہ اعلم)
رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ : دعا کے بعد پھر قبولیت کی درخواست اپنے عجز کا اظہار اور قبولیت پر اصرار ہے۔ ”دُعَاۗءِ“ پر کسرہ اس لیے ہے کہ یہ اصل میں ”دُعَاءِيْ“ تھا، آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ اس پر دلالت کے لیے باقی رکھا گیا ہے۔
Ayah 14:41رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ۔۔ : والد کے لیے بخشش کی دعا وہ وعدہ پورا کرنے کے لیے تھی جو انھوں نے گھر سے نکلتے وقت اس سے کیا تھا، مگر جب وہ شرک ہی پر فوت ہوگیا اور اللہ سے اس کی دشمنی ختم ہونے کی امید ہی نہ رہی تو وہ اس سے صاف بری ہوگئے۔ (دیکھیے توبہ : 114) رہی اپنی والدہ کے لیے دعا تو شاید وہ پہلے ہی مسلمان ہوچکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق تفصیل سے کچھ بیان نہیں فرمایا۔ تمام مومنین کے حق میں مغفرت کی دعا نوح ؑ (نوح : 28) سے لے کر ہمارے نبی کریم ﷺ (بخاری : 7510) تک انبیاء اور اہل ایمان کرتے چلے آئے ہیں۔ (دیکھیے حشر : 10)
Ayah 14:42وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا۔۔ :”الظّٰلِمُوْنَ“ سے مراد یہاں کفار اور مشرکین ہیں اور یہ بات اس سورت کی آیت (44) سے صاف واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کفار کو مہلت دے رہا ہے تو مت سمجھو کہ وہ ان کے اعمال سے بیخبر ہے۔
اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ۔۔ : ”تَشْخَصُ“ باب ”مَنَعَ“ سے ہے، ”شُخُوْصٌ“ کا معنی ہے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں کا کھلا رہ جانا، حرکت نہ کرنا۔
Ayah 14:43”مُهْطِعِيْنَ“ تیز دوڑنے والے۔ ”أَھْطَعَ یُھْطِعُ“ (افعال) کا معنی ہے تیز دوڑنا۔ یہ لفظ سورة قمر (8) اور سورة معارج (36) میں بھی انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی قبروں سے نکل کر صور کی آواز کی طرف تیزی سے اس طرح دوڑ کر جا رہے ہوں گے کہ سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے اور آنکھیں کھلی، ٹکٹکی بندھی ہوگی۔ ”مُقْنِعِيْ“ یہ لفظ اصل میں باب افعال سے مذکر اسم فاعل ”مُقْنِعِیْنَ“ تھا، ”رُءُوْسِهِمْ“ کی طرف مضاف ہونے سے نون گرگیا، اس کا معنی ہے دائیں بائیں دیکھے بغیر اوپر کو سر اٹھانا، بعض نے اس کا معنی سر جھکانا بھی کیا ہے۔ (طنطاوی) ”أَفْءِدَۃٌ“ ”فُوَادٌ“ کی جمع ہے، بمعنی دل۔ ”مُقْنِعِيْ“ کا معنی ہے خالی، یعنی ان کے دل گھبراہٹ کی وجہ سے سوچ سمجھ سے خالی ہوں گے۔
Ayah 14:44وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙنُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۭ اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ 44 ۙ۔۔ : یعنی لوگوں کو اس دن سے ڈرایے۔ لوگوں سے مراد تمام لوگ ہیں، کیونکہ ڈرانے کی ضرورت تو نیک و بد ہر شخص کو ہے۔ اگرچہ اہل ایمان کی جزا کا بھی وہی دن ہے مگر یہاں مقام ڈرانے کا ہے، اس لیے اسی کا ذکر فرمایا، یا ”النَّاسَ“ سے خصوصاً کفار مراد ہیں۔ عذاب کا دن ظالموں کے لیے دنیا میں کسی وقت اور کسی صورت میں ہوسکتا ہے، موت کا وقت بھی مراد ہے اور قیامت کا بھی۔ اس وقت کفار اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرنے اور رسولوں کی پیروی کرنے کے لیے مہلت مانگیں گے، مگر مہلت کہاں۔ اس مفہوم کی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مومنون (99، 100) ، سورة سجدہ (12) اور منافقون (9، 10)۔
اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ۔۔ : ”زَوَالٍ“ کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، یا ایک حالت سے دوسری کی طرف منتقل ہونا ہے، یہاں مراد دوبارہ زندہ ہو کر اور قبروں سے نکل کر آخرت کی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے انھیں کہیں گے کہ تم نے تو دنیا میں قسمیں کھائی تھیں کہ مرنے کے بعد ہمیں کبھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد انھیں ان کا ماضی یاد دلا کر مزید ذلیل و خوار کرنا ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ۭ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ النحل : 38 ] ”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مرجائے۔ کیوں نہیں ! وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم تو ایسے متکبر بن گئے اور موت کو بھول بیٹھے تھے کہ قسمیں اٹھاتے تھے کہ ہمارے عروج کو کبھی زوال نہیں۔
Ayah 14:45وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ۔۔ : یعنی تم لوگ اسی عرب، یمن، عراق اور مصر وغیرہ میں رہ رہے ہو جہاں تم سے پہلے عاد، ثمود، قوم نوح و ابراہیم، قوم لوط اور قوم فرعون رہتے تھے اور ان کے گناہوں کی سزا میں ہم نے ان پر جو عذاب نازل کیے وہ سب تمہیں اچھی طرح معلوم ہوچکے، گو تم زبان سے اقرار نہیں کرتے۔ ہم نے تو تمہیں اپنی کتابوں میں اور اپنے پیغمبروں کی زبانی مثالیں دے دے کر بھی سمجھایا، مثلاً مکھی کی مثال (حج : 73) ، عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال۔ (عنکبوت : 41) ، کتے کی مثال (اعراف : 176) اور سراب کی مثال (نور : 39) وغیرہ۔ اس کے علاوہ پہلے کفار کے انجام بطور مثال بھی مراد ہوسکتے ہیں، مثلاً عاد وثمود، فرعون، قوم نوح وغیرہم۔ دیکھیے سورة رعد (6) اور یونس (102)۔
Ayah 14:46وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ۔۔ : یعنی ان پہلے کفار اور موجودہ کفار نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ اور خطرناک سے خطرناک جو بھی خفیہ تدبیر اور سازش وہ کرسکتے تھے کی۔ ”عِنْدَ اللہِ مَکْرُھُم“ سے یہی مراد ہے اور اللہ کو ان کی ہر سازش کا علم تھا۔ اس آیت کے تحت تفسیروں میں نمرود کا قصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے جو صحت کے ساتھ ثابت نہیں۔ (رازی)
وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ : یہ ”اِنْ“ نافیہ (یعنی نہیں کے معنی میں) ہے، اس کے بعد لام پر کسرہ ہے، اسے لام جحد کہتے ہیں جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کے بعد فعل مضارع ”أَنْ“ کے ساتھ منصوب ہوتا ہے جو لام جحد کے بعد وجوباً محذوف ہوتا ہے۔ عام قراءت یہی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ”ان کی تدبیر ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں“ یعنی اللہ کا دین جو پہاڑوں کی طرح مستحکم ہے ان کی سازشیں کسی صورت اسے نقصان نہ پہنچا سکتی تھیں۔
کسائی کی قراءت اس سے مختلف ہے، وہ ”لِتَزُوْلَ“ کو لام کے فتح کے ساتھ اور ”تَزُوْلُ“ کو مرفوع پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں ”وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ“ میں ”اِن“ ”إِنَّہُ“ کا (یعنی حرف مشبہ بالفعل ”إِنَّ“ اور اس کے اسم ضمیر شان ”ہٗ“ کا قائم مقام) مخفف ہے اور ”لَتَزُوْلُ“ میں لام ابتدا تاکید کے لیے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ یقیناً ان کی تدبیر اور سازش ایسی خطرناک اور شدید خوف ناک تھی کہ پہاڑ بھی (اگر کسی طرح اپنی جگہ سے ٹل سکتے تو) ان سازشوں سے ضرور ہی ٹل جاتے۔
یاد رہے کہ یہ ترجمہ ”لَتَزُوْلُ“ یعنی لام ابتدا مفتوح اور آخری لام مرفوع پڑھنے کی صورت میں ہوگا، پہلی قراءت (یعنی پہلا لام مکسور اور آخری منصوب) کا یہ ترجمہ اگر کوئی کرلے تو وہ درست نہیں ہوگا۔ معنوی طور پر دوسری قراءت بھی بہت عمدہ ہے اور پہلی بھی۔
Ayah 14:47فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ۔۔ : اللہ کے وعدے سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ کے رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و عزت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) [ المؤمن : 51 ] ”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“ مزید دیکھیے سورة مجادلہ (21) اور سورة ابراہیم (13، 14) کی تفسیر۔ اس سے مقصود ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا اور دوسری طرف آپ کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء ؑ سے جو ہم نے وعدے کیے وہ سب پورے کیے اسی طرح اپنے آخری رسول ﷺ سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کر رہے ہیں اسے بھی یقیناً پورا کریں گے اور ان لوگوں کو تباہ و برباد کریں گے جو آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہیں، کیونکہ اللہ سب پر غالب ہے، انتقام والا ہے۔
Ayah 14:48يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ : اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز زمین و آسمان کی موجودہ شکل و صورت بدل جائے گی۔ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تَکُوْنُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ خُبْزَۃً وَاحِدَۃً یَتَکَفَّؤُھَا الْجَبَّارُ بِیَدِہِ کَمَ 5 ا یَکْفَؤُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَہُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ) [ بخاري، الرقاق، باب یقبض اللہ الأرض یوم القیامۃ : 6520۔ مسلم : 2792 ] ”قیامت کے دن زمین ایک روٹی بن جائے گی، جبار (اللہ تعالیٰ) اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے، اہل جنت کی مہمان نوازی کے لیے۔“
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، فرماتے تھے : (یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی أَرْضٍ بَیْضَاءَ عَفْرَاءَ کَقُرْصَۃِ نَقِيٍّ ، لَیْسَ فِیْہَا مَعْلَمٌ لِأَحَدٍ) [ بخاري، الرقاق، باب یقبض اللّٰہ الأرض یوم القیامۃ : 6521۔ مسلم : 2790 ] ”لوگ قیامت کے دن سفید مٹیالی زمین پر اکٹھے کیے جائیں گے، جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے، اس میں کسی کا کوئی نشان نہیں ہوگا۔“ قرآن مجید میں بھی ہے کہ قیامت کے دن زمین صاف چٹیل میدان بن جائے گی جس میں کوئی بلندی یا پستی نظر نہیں آئے گی۔ (دیکھے طٰہٰ : 105 تا 107) رہا یہ سوال کہ یہ تبدیلی زمین و آسمان کی ذات میں ہوگی یا ان کی صفات میں، تو اس کے بارے میں قرآن مجید یا حدیث رسول ﷺ سے کوئی چیز ثابت نہیں، اس لیے ہمیں اسی پر یقین رکھنا ہوگا جو قرآن کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے۔
وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ : یہ ان مشرکین کے ردّ کے لیے فرمایا جو اپنے شرکاء کا بھی کچھ اختیار سمجھتے ہیں کہ اس دن سب لوگ اس اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے جو اکیلا ہے، بڑا زبردست ہے، کوئی دوسرا کسی اختیار کا مالک نہ ہوگا۔
Ayah 14:49وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ : ”قَرَنٌ“ قاف اور راء کے فتحہ کے ساتھ، وہ رسی جس میں دو بیل یا دو آدمی اکٹھے بندھے ہوتے ہیں۔ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ کئی آدمی جو آپس میں اکٹھے جکڑے ہوتے ہوں۔ سورة صٓ (38) میں ہے : (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ) یعنی سلیمان ؑ کے تابع کئی جن کردیے جو زنجیروں میں باہم جکڑے ہوئے تھے۔ لسان العرب میں ہے کہ ”مُّقَرَّنِيْنَ“ یا تو ”مَقْرُوْنِیْنَ“ کے معنی میں ہے، یا باب تفعیل تکثیر کے لیے ہے، یعنی کئی مجرم آپس میں زنجیروں میں بری طرح جکڑے ہوئے ہوں گے۔
فِي الْاَصْفَادِ : ”الْاَصْفَادِ“ ”صَفَدٌ“ (فاء کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے جو اس زنجیر کو کہتے ہیں جو پاؤں میں ڈالی جائے، یا وہ طوق جس کے ساتھ ہاتھ پاؤں کو گردن کی طرف باندھ دیا جاتا ہے۔ [ الوسیط للطنطاوی ] یعنی اے مخاطب ! تو اس دن کئی مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے دیکھے گا۔ ہر قسم کا مجرم اپنے جیسے مجرموں کے ساتھ جکڑا ہوا ہوگا۔ دیکھیے سورة فرقان (13) اور سورة حاقہ (30 تا 33) اور ہر فاسق اپنے جیسے فاسق کے ساتھ ہوگا۔ دیکھیے سورة صافات (22، 23) اور مریم (68)۔