Ayah 15:41قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌ : یعنی یہی صراط مستقیم اور درست بات ہے جو مجھ پر لازم ہے کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کرسکے گا اور جو میرے لیے خالص ہوگا اس کی حفاظت میں خود کروں گا، جیسے بعد میں فرمایا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ) [ الحجر : 42 ] اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ ”ھَذَا“ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو، یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے اور میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا۔ (روح المعانی) دوسرا معنی واضح ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayahs 15:42–43اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ۔۔ : یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر ”عِبَادٌ“ سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہوگا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔
Ayah 15:44لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ : یہ سات دروازے مختلف قسم کے گناہ گاروں کے لیے ہوں گے، جو جہنمیوں کو جہنم کے مختلف درجوں کی طرف پہنچائیں گے۔ قرآن مجید میں جہنم کے درجوں کو ”درکات“ کہا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) [ النساء : 145 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ ابوطالب کے متعلق صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہی ہوگی۔ سمرہ ؓ سے روایت کہ انھوں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : (إِنَّ مِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی کَعْبَیْہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ إِلٰی حُجْزَتِہِ ، وَمِنْھُمْ مَنْ تَأْخُذُہُ إِلٰی عُنُقِہِ)”ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں آگ ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی گردن تک پکڑے گی۔“ [ مسلم، الجنۃ
وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللہ منھا : 2845 ]
لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ : تقسیم کیے ہوئے حصے سے مراد بدکاروں کے سات حصوں میں تقسیم شدہ مجرموں کا ایک حصہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے، اسی طرح برے عمل والے لوگ بھی اپنے اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے، جیسے اوپر ذکر ہوا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) [ النساء : 145 ] ”بیشک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ شاہ عبدالقادر ؓ فرماتے ہیں : ”شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ اس لیے ہے کہ بعض موحدین صرف اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے، بغیر عمل کے۔“ (موضح)
Ayah 15:45”نَّ الْمُتَّقِيْنَ“ ”اِتَّقٰی“ باب افتعال سے اسم فاعل ”مُتَّقِیْ“ کی جمع ہے۔ مجرد ”وَقٰی یَقِيْ وَقَایَۃً“ ہے، بمعنی بچانا اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (2)۔
فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ : گمراہ لوگوں کے برے انجام کے ساتھ ہی متقی لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے۔ ”جَنّٰتٍ“ ”جَنَّۃٌ“ کی جمع ہے، گھنے درختوں کا باغ جو زمین کو چھپائے ہوئے ہو۔ ”جَنَّ یَجُنُّ“ کا معنی ہے چھپانا۔ ”وَّعُيُوْنٍ“ کا معنی ہے چشمے، مراد وہ چشمے ہیں جن سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں، یا الگ چشمے، کیونکہ چشموں کا حسن ایک الگ ہی چیز ہے۔ سورة دہر میں کافور اور زنجبیل کی آمیزش والے چشمے، سلسبیل نامی چشمے اور سورة مطففین میں تسنیم نامی چشمے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ جنت سے مراد صرف باغ ہی نہیں، بلکہ سونے چاندی کی اینٹوں کے مکانات اور ایک ایک موتی یا لعل سے بنے ہوئے میلوں لمبے اور اونچے خیموں کے ساتھ ملے ہوئے باغات ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں جنت کے اوصاف میں مذکور ہے۔
Ayah 15:46اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ۔۔ : یعنی انھیں یہ کہا جائے گا۔ ”بِسَلٰمٍ“ یعنی ہر قسم کے آفات و مصائب سے سلامتی کے ساتھ، ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے، فرشتوں کے سلام سنتے ہوئے اور پروردگار عالم کے ”ښسَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ“ کے ساتھ۔ (دیکھیے یٰسٓ : 58) اسی لیے جنت کا ایک نام ”دار السلام“ بھی ہے، فرمایا : (لَهُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ) [ الأنعام : 127 ] ”اٰمِنِيْنَ“ ہر خوف خطرے سے محفوظ۔
Ayah 15:47وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِ۔۔ : ”نَزْعٌ“ کا معنی کھینچ کر، اکھاڑ کر نکالنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینہ اور دشمنی دل میں کتنی گہری جڑ پکڑتی ہے۔ ”غِلٍّ“ کینہ، کھوٹ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں اہل جنت کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہر کینے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا، کیونکہ جس سینے میں کوئی کدورت ہو وہ مکمل خوشی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا۔ دلوں کی صفائی کے بعد وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ محبت ہو تو خودبخود چہرے آپس میں مل جاتے ہیں، جب کہ دلوں میں کدورت ہو تو چہرے بھی ادھر ادھر ہوجاتے ہیں
دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اہل جنت کے متعلق) فرمایا : (قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لاَ اخْتِلَافَ بَیْنَھُمْ وَلَا تَبَاغُضَ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ : 3246 ] ”ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہوگا، نہ آپس میں کوئی بغض۔“ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، فَیُقْتَصُّ لِبَعْضِھِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ بَیْنَھُمْ فِي الدُّنْیَا، حَتّٰی إِذَا ھُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَھُمْ فِيْ دُخُوْلِ الجَنَّۃِ) [ بخاری، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ : 6535 ] ”مومن آگ سے بچ کر آئیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے، پھر دنیا میں ان کے ایک دوسرے پر مظالم کا قصاص ایک دوسرے کو دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کی پوری تراش خراش کردی جائے گی اور خوب پاک صاف کردیے جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور صلحائے امت باہمی لڑائیوں اور رنجشوں کے باوجود جنت میں جائیں گے، مگر اس سے پہلے ان کے دلوں کی باہمی کدورتیں بالکل دور کردی جائیں گی اور وہ صاف دل بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے۔
Ayah 15:48لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ : دنیا میں کوئی شخص دکھ، مصیبت، مشقت اور تھکن سے خالی نہیں، بلکہ یہ ساری زندگی ہی محنت اور مشقت کی ہے، یہاں زیادہ سے زیادہ خوشی اور لذت کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی مشقت، محنت، تھکن یا غم ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بلد کے شروع میں کئی قسمیں کھا کر فرمایا : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ) [ البلد : 4 ] ”بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے“ اور سورة انشقاق میں فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ) [ الانشقاق : 6 ] ”اے انسان ! بیشک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے۔“ جب کہ جنت میں نہ کوئی دکھ ہوگا نہ تھکاوٹ۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُنَادِيْ مُنَادٍ إِنَّ لَکُمْ أَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَحْیَوْا فَلَا تَمُوْتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَھْرَمُوْا أَبَدًا، وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَسُوْا أَبَدًا فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ عَزَّوَجَلَّ : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الأعراف : 43 ])”ایک منادی ندا دے گا (اے جنت والو !) بیشک تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم زندہ رہو گے کبھی تمہیں موت نہیں آئے گی اور تمہارے لیے یہ ہوگا کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمہارے لیے طے ہوچکا کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی اور تکلیف نہیں اٹھاؤ گے۔“ چناچہ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) ”اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔“ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب في دوام نعیم أہل الجنۃ۔۔ : 22؍2837 ]
وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ : عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا صَارَ أَھْلُ الْجَنَّۃِ إِلَی الْجَنَّۃِ ، وَصَارَ أَھْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ ، أُتِيَ بالْمَوْتِ حَتّٰی یُجْعَلَ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ یُذْبَحُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! لَا مَوْتَ ، یَا أَھْلَ النَّارِ ! لَا مَوْتَ ، فَیَزْدَادُ أَھْلُ الْجَنَّۃِ فَرَحًا إِلٰی فَرَحِھِمْ ، وَیَزْدَادُ أَھْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلٰی حُزْنِھِمْ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب النار یدخلھا الجبارون۔۔ : 43؍2850 ] ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو (ایک مینڈھے کی شکل میں) لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کردیا جائے گا، پھر ایک منادی اعلان کرے گا اے جنت والو ! اب موت نہیں اور اے آگ والو ! اب موت نہیں، تو جنت والے اپنی خوشی کے ساتھ اور زیادہ خوش ہوجائیں گے اور آگ والے اپنے غم کے ساتھ اور زیادہ غم زدہ ہوجائیں گے۔“
Ayahs 15:49–50نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔۔ : ”نَبَأٌ“ خاص اور اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ ”نَبِّئْ“ باب تفعیل سے امر ہے، یعنی یہ بات اچھی طرح بتادو ، تاکہ وہ امید بھی رکھیں اور خوف بھی، کیونکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِہِ أَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الرَّحْمَۃِ ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِہِ أَحَدٌ) [ مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی۔۔ : 2755 ] ”اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی عقوبت ہے تو کوئی اس کی جنت کا طمع نہ رکھے اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کس قدر رحمت ہے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔“ ان آیات میں رحمت و مغفرت کا بیان پہلے اور عذاب الیم کا ذکر بعد میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اصل اور غالب صفت رحمت ہے، عذاب تو محض عدل کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (156) کی تفسیر۔
یہاں رحمت کے اظہار کے لیے پہلے ”عِبَادِيْٓ“ سے خطاب، پھر ”أَنَّ“ ، ”اَنَا“ ضمیر فصل اور ”الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ“ کو الف لام کے ساتھ لا کر تاکید پر تاکید فرمائی، دوسری آیت میں ”ھُوَ“ ضمیر فصل اور ”اَلْعَذَاب“ کو معرف باللام لا کر تاکید فرمائی۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ میری صفات رحمت یہ ہیں اور ان کا مالک میرے سوا کوئی نہیں، دوسری آیت میں فرمایا اور میرے عذاب کی صفت یہ ہے، یہ نہیں فرمایا : ”وَإِنِّيْ أَنَا الْمُعَذِّبُ۔۔“ کہ میں ہی ایسا عذاب دینے والا ہوں، بلکہ اپنے عذاب کی صفت بیان فرمائی کہ میرا عذاب ہی ایسا ہے جو عذاب الیم ہے۔
3 یہ آیات تمہید ہیں ان واقعات کی جو آگے آ رہے ہیں، جن میں فرشتوں کی ایک جماعت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہوا اور انھی کے ذریعے سے اس کے عذاب الیم کا ظہور ہوا۔
Ayah 15:51وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ : ”ضَيْفِ“ یہ ”ضَافَ یَضِیْفُ“ کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے ”ضَیْفٌ“ کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے ”ضَیْفٌ“ واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع ”اَضْیَافٌ“ یا ”ضُیُوْفٌ“ بھی استعمال کرتے ہیں۔
Ayahs 15:52–55اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ : ”وَجِلُوْنَ“ ”وَجِلَ یَوْجَلُ (س) سے ”وَجِلٌ“ (صفت مشبہ) کی جمع ہے، بمعنی ڈرنے والے۔ ڈرنے کی وجہ، مکمل واقعہ اور اس کے فوائد کے لیے دیکھیے سورة ہود (69) سے واقعہ کے آخر تک۔
Ayah 15:56قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ۔۔ : یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے، ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔
Ayahs 15:57–61قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ : غالباً ابراہیم ؑ قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) [ الحجر : 8 ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔“
Ayah 15:62قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ : جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم ؑ کی طرح لوط ؑ بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم ؑ کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط ؑ کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ابراہیم ؑ کا اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجرہ اور اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے پر صبر، غرض ان کی کوئی آزمائش، آزمائش نہیں رہے گی، کیونکہ اگر پہلے علم ہو کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا تو ہر شخص آگ میں کود سکتا ہے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔ شیعہ حضرات نے تو انبیاء کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو ہر گزری ہوئی اور آنے والی بات جاننے والا قرار دیا۔ دیکھیے ان کی کتاب ”الکافی“ کی فہرست، جسے وہ اتنا معتبر سمجھتے ہیں جتنا اہل سنت صحیح بخاری کو۔
Ayahs 15:63–64قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۔۔ : ”اِمْتِرَاءٌ“ سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط ؑ کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمہیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ”بِالْحَقِّ“ سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) [ الحجر : 8 ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (یعنی عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔“
Ayah 15:65وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ : لوط ؑ کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ان کی اچھی طرح حفاظت کرسکیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے، سب مسلسل چلتے رہیں اور ٹھہر کر آنے والوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ہماری نبی کریم ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا، چناچہ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں پیچھے رہتے، کمزوروں کو آگے چلاتے اور سواری پر اپنے پیچھے بٹھاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب لزوم الساقۃ : 2639 ]
وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ : کیونکہ مڑ کر دیکھنے میں وہ تیزی باقی نہیں رہے گی جو اللہ کے عذاب کی جگہ سے بھاگنے میں ہونی چاہیے اور وطن چھوڑتے وقت حسرت سے اسے بار بار دیکھنے کے بجائے بس آگے بڑھتے جاؤ، تاکہ نہ دل کسی اور طرف متوجہ ہو اور نہ اللہ کے ذکر و شکر اور تمہاری رفتار میں کوئی کمی واقع ہو، نہ قوم کی بدترین بربادی دیکھتے ہوئے دل میں کوئی رقت پیدا ہو۔
وَّامْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ : وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمائی، نہ رسول اللہ ﷺ نے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض مفسرین اس کے بغیر ہی ”قِیْلَ“ (کہا جاتا ہے) کہہ کر کبھی شام، کبھی اردن اور کبھی مصر کا نام لیتے ہیں، یہ اندھیرے میں تیر پھینکنے والی بات ہے۔
Ayah 15:66وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ۔۔ : ”قَضَيْنَآ“ کی و جہ سے ”دَابِرَ“ کا معنی ”ہم نے وحی کی“ کیا جاتا ہے۔ ”دَابِرَ“ سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی ”دَابِر“ کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کردیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔
مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ : ”أَصْبَحَ“ کا معنی ہے ”دَخَلَ فِي الصُّبْحِ“ کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورة ہود میں ہے : (اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ) [ ہود : 81 ] ”بیشک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے۔“
Ayah 15:67وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ : ”الْمَدِيْنَةِ“ کا ترجمہ ”اس شہر“ الف لام برائے عہد کی و جہ سے کیا ہے۔ مفسرین نے اس کا نام ”سدوم“ بتایا ہے۔ قوم لوط کا عمل کرنے والوں کو بہت سی زبانوں میں ”سدومی“ کہا جاتا ہے، اس لیے عربی یا اردو میں اس کے لیے ”لوطی“ کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس میں لوط ؑ کی ایک طرح سے توہین ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ بروں کے ساتھ رہنے میں بھی بدنامی ہے، خواہ کتنا نیک ہو، اب لوط ؑ کے اس بدبخت قوم کے پیغمبر ہونے کے باعث کتنے برے فعل کی نسبت ان کے مبارک نام کی طرف کی جاتی ہے۔
يَسْـتَبْشِرُوْنَ : ”بَشَرَ“ (ض، س) ، ”أَبْشَرَ“ اور ”اِسْتَبْشَرَ“ تینوں کا معنی خوش ہونا ہے، صرف حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس لیے معنی کیا گیا ہے ”بہت خوش ہو رہے تھے“ یعنی لوط ؑ کے گھر نہایت خوبصورت لڑکوں کے آنے کی خبر سن کر نہایت خوش خوش بےاختیار دوڑتے ہوئے آئے۔ (دیکھیے ہود : 78) اس سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ شرم و حیا سے خالی ہو کر کتنی پستی میں گر چکے تھے۔ واضح رہے کہ ”وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ“ میں ”واؤ“ ترتیب کے لیے نہیں، بلکہ صرف واقعہ کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے ہے، کیونکہ اگر پہلے وحی آچکی ہوتی اور لوط ؑ مہمانوں کو جان چکے ہوتے کہ یہ فرشتے ہیں تو انھیں پریشان ہونے کی، قوم کی منتیں کرنے کی اور اپنی یعنی قوم کی بیٹیاں پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ انبیاء ؑ غیب دان نہیں ہوتے، انھیں صرف وہی معلوم ہوتا ہے جو انھیں وحی کے ذریعے سے بتادیا جائے۔ سورة ہود (77 تا 81) میں لوط ؑ کی پریشانی کا نقشہ اور فرشتوں کا انھیں تسلی دینا ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 15:68–69قَالَ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ۔۔ : ”ضَیْفٌ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (51) ”فَلَا تَفْضَحُوْنِ“ اور ”لَاتُخْزُوْنِ“ دونوں ”فَلاَ تَفْضَحُوْنِیْ“ اور ”لاَ تُخْزُوْنِیْ“ تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بےعزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط ؑ نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش ”وَاتَّقُوْاللّٰه“ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بےسود۔
Ayah 15:70قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : ”اَوَلَمْ نَــنْهَكَ“ ”نَہَی یَنْہٰی“ سے جمع متکلم جحد معلوم ہے، ”نَنْہٰی“ کا الف ”لَمْ“ کی و جہ سے حذف ہوگیا، کاف ضمیر مفعول بہ ہے۔ یعنی تم سارے جہان کو مہمان بنا لیا کرو گے تو کیا ہم سب ہی کو چھوڑ دیں گے، کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا کہ ہمارے ہوتے اجنبی مسافروں کو مہمان نہ بنایا کرو اور ہمارے مقابلے میں کسی کی حمایت نہ کرو۔ کیسے خبیث اور مسخ شدہ فطرت والے لوگ تھے، جو اپنے شہر میں آنے والے مہمان یا گزرنے والے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، نہ اس میں کوئی شرم محسوس کرتے تھے۔
Ayah 15:71قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود کی آیت (78) کی تفسیر۔
Ayah 15:72لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ۔۔ : ”عَمْرٌ“ عین کے فتحہ کے ساتھ ”عُمْرٌ“ ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ”عین“ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ ”عَمْرٌ“ مبتدا ہے اور اس کی خبر ”قَسْمِیْ“ یا ”یَمِیْنِیْ“ ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ ”سَکْرَۃٌ“ نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط ؑ کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا مقصود ہے۔ قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ اے نبی ! آپ کی پوری پاکیزہ زندگی اور عفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ جو اس کے بالکل برعکس چلنے والے تھے وہ دراصل ہوش میں نہ تھے اور اسی مدہوشی میں ایسے بھٹکے پھرتے تھے کہ ان کے لیے راہ راست پر آنا ممکن ہی نہ تھا۔
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے اور انھوں نے لوط ؑ کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے، صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ قسم کے متعلق مفصل بات ان شاء اللہ آگے کسی مقام پر ہوگی۔
Ayah 15:73فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ :”اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ“ ”سورج طلوع ہوا“۔ اس سے پہلے آیت (66) میں ”مُصْبِحِیْن“ کا لفظ ہے، یعنی صبح کے وقت۔ سورة قمر (38) میں ”بُکْرَةً“ کا لفظ ہے، جس کا معنی دن کا پہلا حصہ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ صبح کے وقت عذاب شروع ہوا اور سورج چڑھنے تک جاری رہا۔ ایک تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ صبح نمودار ہونے سے لے کر سورج چڑھنے کے کچھ بعد تک سارے وقت کو عرف میں صبح کہہ لیتے ہیں اور ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ ”أَشْرَقَ یُشْرِقُ“ مطلقاً تاریکی میں روشنی ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ صبح کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے اور سورج نکلنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا) [ الزمر : 69 ] ”اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہوجائے گی۔“ میں نے ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا ہے، تاکہ ”مُصْبِحِیْن“ کے ساتھ مطابقت رہے۔
Ayah 15:74اس آیت کی تفسیر سورة ہود (82) میں دیکھیے۔ قرآن مجید نے قوم لوط پر تین طرح کا عذاب ذکر فرمایا ہے، پہلے ان پر ”صَیْحَۃٌ“ (چیخ) کا عذاب آیا، پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور آخر میں ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔
Ayah 15:75اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ۔۔ : ”لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ“ یہ ”وَسْمٌ، سِمَۃٌ“ سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ ”وَسْمٌ“ کا معنی نشان ہے، خصوصاً جو گرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ ”مِیْسَمٌ“ گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا ”تَوَسَّم“ کہلاتا ہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اور گہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔
Ayah 15:76وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ : ”مُّقِيْمٍ“ ”ہمیشہ رہنے والا، دائمی“ یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عراق سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے، مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ وَبِالَّيْلِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ الصافات : 137، 138 ] ”اور بلاشبہ تم یقیناً صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟“ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی بحرمیت (جسے بحر لوط یا اردو میں بحر مردار بھی کہتے ہیں) کے جنوب مشرق میں واقع تھی، بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت بحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
Ayah 15:77اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی ابراہیم اور لوط ؑ کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ ”لَاٰيَةً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں ”لَاٰيَةً“ واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔
Ayah 15:78وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ۔۔ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ تھا، اس کا اسم ضمیر شان ”ہٗ“ محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو ”ظَالِمِیْنَ“ پر آیا ہے، جو ”کَانَ“ کی خبر ہے۔ ”اَلْأَیْکُ“ اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے ”تَمْرٌ“ اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ”الْاَيْكَةِ“ کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے ”تَمَرْۃٌ“ ایک کھجور۔
3 بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان دونوں کی طرف شعیب ؑ کو بھیجا گیا، تاکہ وہ ظلم کی ان تمام صورتوں سے باز آجائیں۔ مدین والوں کی تفصیل سورة ہود (84 تا 95) میں ہے اور اصحاب الایکہ کی تفصیل سورة شعراء (176 تا 191) میں ہے۔ بعض کے مطابق اصحاب مدین اسی قوم کے شہری لوگ تھے اور اصحاب الایکہ انھی کے باہر جنگل میں رہنے والے لوگ تھے۔
Ayah 15:79وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ”اِمَامٌ“ کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 15:80وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ : ”الْحِـجْرِ“ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے گھیرا گیا ہو، جیسا کہ حطیم کو بھی حجر کہہ لیتے ہیں۔ ”حَجَرَ یَحْجُرُ“ کا معنی روکنا بھی ہے، تو ”الْحِـجْرِ“ وہ جگہ جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ممنوع ہو۔ یہ اس سورت میں چوتھا قصہ ہے۔ ”الْحِـجْرِ“ شام اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے، جو صالح ؑ کی قوم ثمود کے لوگوں کا مرکز تھا، یہ جگہ خیبر سے تبوک جانے والی سڑک پر واقع ہے اور اب ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ ”العُلاء“ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے شام کو جو قافلے جاتے ہیں وہ لازماً یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو ترکوں کے زمانہ میں مدینہ سے دمشق کو جاتی تھی۔ اس قوم کے مفصل حالات سورة ہود (65 تا 68) ، سورة اعراف، سورة قمر اور سورة شعراء میں ملاحظہ فرمائیں۔
الْمُرْسَلِيْنَ : ایک رسول کو جھٹلانا چونکہ سب کو جھٹلانا ہے، اس لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا۔ (روح المعانی)