15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرنے والے تھے۔

وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا : ”اٰيٰتِنَا“ ہماری نشانیاں، ان نشانیوں میں اونٹنی کا معجزہ ہی کئی معجزوں پر مشتمل تھا۔ پیغمبر پر نازل شدہ آیات بھی اور ان کی وادی میں زراعت کا عمدہ انتظام اور پہاڑ تراش کر مکان بنانے کا سلیقہ جن کا ذکر سورة شعراء میں ہے، سب شامل ہیں۔ وہ عقلی دلائل بھی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو توحید کی طرف رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔ فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ : یعنی انھوں نے کوئی عبرت حاصل نہ کی، بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور صالح ؑ کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو لے آؤ۔
Ayahs 15:82–84

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں سے مکان تراشتے تھے، اس حال میں کہ بےخوف تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پس انھیں صبح ہوتے ہی چیخ نے پکڑ لیا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

پھر ان کے کسی کام نہ آیا، جو وہ کمایا کرتے تھے۔

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور یقینا قیامت ضرور آنے والی ہے۔ پس درگزر کر، خوبصورت طریقے سے درگزر کرنا۔

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ”بِالْحَقِّ“ کا معنی صحیح، با مقصد کام جو ہو کر رہنے والا ہو، جو بےکار، بےمقصد نہ ہو اور جسے کوئی روک نہ سکے۔ اس کے بالمقابل باطل ہے، فرمایا : (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ) [ الأنبیاء : 18] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں۔“ چار انبیاء کے واقعات کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق آسمان و زمین اور ان کے درمیان بیشمار مخلوقات کی طرف توجہ دلائی، جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت و قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا کہ یہ سب ہم نے بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سب کچھ تمہاری ضروریات کے لیے ہے اور ان میں سے ہر چیز کے لیے اللہ کا حکم ماننا ہر حال میں لازم ہے، کسی کو اختیار ہی نہیں کہ وہ سرتابی کرسکے۔ صرف انسانوں اور جنوں کو آزمائش کے لیے کچھ اختیار دیا ہے، اگر اس کا صحیح استعمال کریں گے تو دنیا و آخرت میں اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں گے، جیسے ابراہیم ؑ کا واقعہ ذکر ہوا ہے، غلط استعمال کریں گے تو یا تو دنیا ہی میں اللہ کی گرفت میں آجائیں گے، جیسے لوط، شعیب اور صالح کی قومیں اللہ کے عذاب کی گرفت میں آئیں۔ اس کے بعد یقیناً قیامت آنے والی ہے، اس میں نیکوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ دے گا، اگر دنیا میں بدلہ نہیں ملا تو وہاں کسر نکال دی جائے گی، اسی طرح بروں کو ان کی بدی کا پورا بدلہ ملے گا اور اگر دنیا میں انھیں مہلت ملی رہی تو وہاں کسر پوری کردی جائے گی۔ اس لیے آپ اور آپ کے ساتھی ان کفار کی زیادتی پر صبر کریں اور ان کی زبان درازی سے درگزر فرمائیں (دیکھیے آل عمران : 186) اور درگزر بھی خوبصورت طریقے سے، تاکہ قطع تعلق سے دعوت کا راستہ بند نہ ہوجائے۔ یہ سارا بیان نبی ﷺ کی تسلی کے لیے ہے۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک تیرا رب ہی کمال درجے کا پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ : تو پھر اس کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (81)۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دھرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔

وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ :”الْمَثَانِيْ“ ”ثَنٰی یَثْنِیْ“ (ض) کے اسم مفعول ”مَثْنِیَّۃٌ“ (بروزن مَضْرُوْبَۃٌ، مَرْمِیَّۃٌ) کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا، دوہرانا ہے، یعنی بار بار دہرائی جانے والی۔ کافروں کی زیادتی سے درگزر کی تلقین کے ساتھ اپنی ایک عظیم نعمت سبع مثانی اور قرآن عظیم یاد دلائی، تاکہ اتنی بڑی دولت کا مالک ہونے کے احساس سے کفار سے درگزر میں آسانی رہے۔ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ : ”لام“ اور ”قَدْ“ کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی عطا فرمائیں۔ یہ آیت اس بات کی بھی بڑی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی ایمان اور عمل واجب ہے، اس کے بغیر قرآن نہ صحیح سمجھا جاسکتا ہے نہ اس پر عمل ہوسکتا ہے۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں نہیں بتایا کہ وہ سبع مثانی سات سورتیں ہیں یا سات آیتیں، نہ یہ بتایا کہ وہ سورتیں ہیں تو کون سی اور آیتیں ہیں تو کون سی ؟ بلکہ ایک جگہ سارے قرآن ہی کو مثانی فرما دیا، فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) [ الزمر : 23 ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، وہ کتاب جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہے۔“ اب لازم ہے کہ پورے قرآن میں سے جو سارا ہی مثانی ہے، یہ متعین کیا جائے کہ ان سبع مثانی سے مراد کیا ہے۔ اپنے پاس سے متعین کریں تو کبھی اتفاق نہیں ہوسکتا، اس لیے کسی مفسر نے سات سورتیں بتائیں، کسی نے سات آیتیں، تو کسی نے کچھ اور بتایا۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کی وضاحت کے بغیر قرآن کی اس آیت کا مفہوم متعین کرنا ممکن ہی نہیں، چناچہ ابوسعید بن معلی ؓ فرماتے ہیں : (کُنْتُ أُصَلِّيْ فَمَرَّبِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِيْ ، فَلَمْ آتِہِ حَتّٰی صَلَّیْتُ ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ ، فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِيَ ؟ أَلَمْ یَقُلِ اللّٰہُ : (اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ) [ الأنفال : 24] ؟ ثُمَّ قَالَ لِيْ لَأُعَلِّمَنَّکَ سُوْرَۃً ھِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِيْ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَّخْرُجَ قُلْتُ لَہٗ أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّکَ سُوْرَۃً ھِيَ أَعْظَمُ سُوْرَۃٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) ھِيَ السّبْعُ الْمَثانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِیْمُ الَّذِيْ أُوْتِیْتُہُ) [ بخاری، التفسیر، باب ما جاء في فاتحۃ الکتاب : 4474، 4647 ] ”نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ نے مجھے بلایا، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی، پھر میں آیا تو آپ نے فرمایا : ”تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا ؟“ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : (اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ) [ الأنفال : 24 ] اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو جب وہ تمہیں بلائیں۔“ پھر مجھے فرمایا : ”میں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے ضرور تمہیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی (اعظم) ہے۔“ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، جب آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ سے کہا : ”کیا آپ نے فرمایا نہیں تھا کہ میں تمہیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ سبع مثانی سے سورة فاتحہ کی سات آیتیں مراد ہیں، کیونکہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ دوسری تفسیریں مثلاً یہ کہ سات لمبی سورتیں مراد ہیں وغیرہ نبی کریم ﷺ کی صراحت کے بعد کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے بھی کہ لمبی سات سورتوں کی اکثریت تو اتری ہی مدینہ میں ہے، جب کہ یہ آیت مکی ہے۔ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ : بہت سے مفسرین نے سبع مثانی سے مراد فاتحہ اور قرآن عظیم سے مراد باقی قرآن لیا ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت میں مذکور سبع مثانی بھی اور القرآن العظیم بھی سورة فاتحہ ہی کو کہا ہے۔ بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں آپ کے الفاظ ہیں : (اُمُّ الْقُرْآنِ ھِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِیْمُ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و لقد ٰاتینک سبعا من المثانی۔۔) : 4704 ] ”ام القرآن ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔“ کیونکہ قرآن ہونے کے لیے پورا قرآن ہونا ضروری نہیں، ایک آیت ہو تو وہ بھی قرآن ہے۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ سورة فاتحہ جب قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے تو قرآن عظیم (بہت بڑا قرآن) یہی ہے۔ رہی ”واؤ“ تو وہ ایک ہی چیز کی دو مختلف صفات کے درمیان آجاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙالَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى ۝۽وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى ۝۽وَالَّذِيْٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى) [ الأعلٰی : 1 تا 4 ] ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے، وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی اور وہ جس نے چارا اگایا۔“ اور اس لحاظ سے بھی فاتحہ کو ”الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ“ فرمایا کہ قرآن مجید کے تمام مضامین اس میں اجمالی طور پر موجود ہیں۔ ایک دفعہ گوجرانوالہ میں ایک منکر حدیث نے بہت اودھم مچایا اور بہت سے لوگوں کے عقیدے خراب کیے، مولانا محمد عبد اللہ ؓ (دال بازار والے) کی اس سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے سورة توبہ کی آیت پڑھی : (اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ) [ التوبۃ : 36 ] ”بیشک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں“ اور فرمایا کہ جب حدیث کی ضرورت نہیں تو آپ قرآن سے بتائیں کہ حرمت والے وہ چار ماہ کون سے ہیں ؟ اسے بالکل کوئی جواب نہ آیا اور حق بات بہت سے لوگوں کی سمجھ میں آگئی۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھا جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے اور نہ ان پر غم کر اور اپنا بازو مومنوں کے لیے جھکادے۔

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ متاع معمولی اور عارضی سازو سامان۔ ”اَزْوَاجًا“ زوج ایک قسم، مثلاً نر اور مادہ میں سے ہر ایک ایک زوج ہے، دونوں ہوں تو ”زَوْجَانِ“ (ایک جوڑا) ہے۔ ان ازواج کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً سرمایہ دار، حاکم، فوجی، زمیندار، کارخانے دار، مذہبی پیشوا وغیرہم، یعنی سبع مثانی اور قرآن عظیم کی دولت رکھتے ہوئے آپ کفار کے مختلف قسم کی دنیاوی نعمتیں رکھنے والوں کی طرف ہرگز نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیے، خصوصاً جب وہ نعمتیں ان کے لیے فتنہ و عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (55) اور سورة طٰہٰ (130 تا 132) کی تفسیر۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ : ان کے بڑے بڑے سردار اور کفر کے ٹھیکیدار اور ان کے پیروکار اگر ایمان نہیں لاتے تو آپ ان کے ایمان نہ لانے اور جہنم میں جانے پر غمگین نہ ہوں، آپ نے بات پہنچا کر حق ادا کردیا تو غم کی کیا ضرورت ہے۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ”جَنَاحٌ“ بازو، پر، پہلو۔ یہ دراصل ایک استعارہ ہے کہ پرندہ جس طرح اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر سمیٹ لیتا ہے اور انھیں سرد و گرم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح آپ بھی اہل ایمان کے لیے اپنا بازو یا پہلو جھکا دیں، مراد ان کے لیے نرمی، شفقت، محبت اور حفاظت ہے۔ یہی صفت اصحاب رسول ﷺ کی تھی، فرمایا : (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) [ الفتح : 29 ] ”کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دے بیشک میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ : یہاں صرف ڈرانے کا ذکر ہے، خوش خبری کا نہیں، اس لیے کہ بات منکروں کے متعلق ہو رہی ہے۔ ”النذیر المبین“ (کھلم کھلا ڈرانے والا) کی تفسیر میں وہ حدیث عین حسب حال ہے جو ابو موسیٰ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمائی : (إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمًا فَقَالَ یَا قَوْمِ ! إِنِّيْ رَأَیْتُ الْجَیْشَ بِعَیْنَيَّ ، وَإِنِّيْ أَنَا النَّذِیْرُ الْعُرْیَانُ ، فَالنَّجَاءَ ، فَأَطَاعَہُ طَاءِفَۃٌ مِنْ قَوْمِہِ فَأَدْلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلٰی مَہْلِہِمْ فَنَجَوْا، وَ کَذَّبَتْ طَاءِفَۃٌ مِنْھُمْ فَأَصْبَحُوْا مَکَانَھُمْ ، فَصَبَّحَہُمُ الْجَیْشُ فَأَھْلَکَھُمْ وَاجْتَاحَھُمْ ، فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِيْ فَاتَّبَعَ مَا جِءْتُ بِہِ ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَکَذَّبَ بِمَا جِءْتُ بِہِ مِنَ الْحَقِّ) [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ ﷺ : 7283 ] ”میری مثال اور اللہ نے جو کچھ دے کر مجھے بھیجا اس کی مثال اس آدمی کی مثال جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : ”اے میری قوم ! میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں (پہلے زمانے میں لوگ دشمن سے ڈرانے کے لیے چیخنے چلانے کے ساتھ کپڑے بھی اتار دیتے تھے، ان سے تشبیہ دی ہے) سو تم بچ جاؤ، بچ جاؤ، اس کی قوم میں سے ایک گروہ نے اس کا کہنا مان لیا، وہ اندھیرے ہی میں چل پڑے اور آرام سے چلتے ہوئے بچ نکلے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا اور صبح تک اسی جگہ رہے۔ صبح کے وقت لشکر نے ان پر حملہ کیا اور انھیں ہلاک اور نیست و نابود کردیا، سو یہ مثال ہے اس شخص کی جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس کی (مثال) جس نے میری نافرمانی کی اور اس حق کو جھٹلا دیا جو لے کر میں آیا ہوں۔“
Ayahs 15:90–91

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(ایسے عذاب سے) جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنھوں نے کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا (کوئی مان لیا، کوئی نہ مانا)۔

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ۔۔ : ”الْمُقْتَسِمِيْنَ“ یہ ”قَسْمٌ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، ”تقسیم کرنے والے۔“ قرطبی نے فرمایا : ”عِضِیْنَ“ ”عِضَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کسی چیز کا جز یا ٹکڑا ہے۔ ”عَضَا یَعْضُوْ عَضْوًا الشَّیْءَ“ اور ”عَضّٰی یُعَضِّی الشَّیْءَ“ ”کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔“ ہر ٹکڑا ”عِضَۃٌ“ کہلاتا ہے، اس کے آخر سے واؤ حذف کرکے تاء لائی گئی ہے۔ ”اَلْقُرْاٰنَ“ قرآن مجید کا نام ہے، پہلے انبیاء کی کتابوں کو بھی ”قرآن“ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی پڑھی جاتی تھیں، گویا کتاب اور قرآن کا لفظ سب کے لیے ہے۔ ہمارے قرآن کے لیے عموماً ”ھٰذَا الْقُرْآنُ“ یا ”ذٰلِکَ الْکِتَابُ“ وغیرہ کا اشارہ ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خُفِّفَ عَلٰی دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ الْقُرْآنُ فَکَانَ یَأْمُرُ بِدَوَابِّہِ فَتُسْرَجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّہُ)[ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و آتینا داود زبورا) : 3417 ] ”داؤد ؑ پر قرآن (پڑھنا) بہت ہلکا کردیا گیا تھا، چناچہ وہ اپنی سواریوں کے متعلق حکم دیتے تو ان پر زین ڈالی جاتی اور آپ سواریوں پر زین ڈالے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے۔“ ان آیات کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو امام المفسرین طبری ؓ نے پسند فرمائی ہے۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ”كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ“ (جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا) کا تعلق پچھلی کس آیت اور کس لفظ کے ساتھ ہے اور اس مشبہ بہ کا مشبہ کیا ہے اور ”اَنْزَلْنَا“ (ہم نے اتارا) سے کیا چیز اتارنا مراد ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ”اَنْزَلْنَا“ کا مفعول محذوف ہے ”اَلْعَذَابَ“ یعنی ہم نے عذاب اتارا اور ”كَمَآ اَنْزَلْنَا“ کا تعلق اس سے پہلی آیت : (وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ) کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہے، اے نبی ! کہہ دے کہ بیشک میں تو تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، اس قسم کے عذاب سے جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا تھا جنھوں نے (اپنی) کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ یعنی اس کے بعض حصوں کو مان لیا اور بعض کو نہ مانا۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح کے بعض کاموں کا ذکر کرکے فرمایا : (ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ) [ البقرۃ : 85 ] ”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟“ اور اس کی جزا دنیا کی رسوائی اور آخرت میں سخت ترین عذاب بیان فرمائی۔ اب یہاں آپ کے زمانے کے اسرائیلیوں کو اس قسم کے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے جو ان سے پہلوں پر آیا تھا، کیونکہ وہ بھی تورات کے بعض حصوں کا صاف انکار کرتے تھے، مثلاً نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی تاکید والی آیات۔ اور قریش کو بھی کہ کتاب اللہ کے بعض حصوں کو جھٹلانے والوں پر جس طرح عذاب آیا میں تمہیں بھی ویسے ہی عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، کیونکہ تم نے بھی جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے اور تم قرآن کے بعض حصوں کو ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو، چناچہ تم بھی بتوں کی مذمت کی آیات نکال دینے پر ایمان لانے کی پیش کش کرتے ہو، فرمایا : (وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ) [ القلم : 9 ] ”وہ چاہتے ہیں کاش ! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“ اسی طرح ان کا یہ مطالبہ بھی ذکر فرمایا کہ اس قرآن کے علاوہ اور قرآن لے آؤ، یا اس میں تبدیلی کر دو۔ (دیکھیے یونس : 15) دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”کَمَا اَنْزَلْنَا“ کا تعلق آیت (87) (وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ) سے ہے اور ”اَنْزَلْنَا“ کا مفعول محذوف ”اَلْکِتَابَ“ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا فرمائے، جیسے ان لوگوں پر کتاب نازل کی تھی جنھوں نے اپنی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، کسی حصے کو مان لیا کسی کو نہ مانا، جب ہم ان پر کتاب نازل کرسکتے ہیں تو آپ پر، جن کی پاکیزہ زندگی کے یہ لوگ چالیس سالہ گواہ ہیں، ہم سبع مثانی اور قرآن عظیم کیوں نازل نہیں کرسکتے ! یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔
Ayahs 15:92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

سو تیرے رب کی قسم ہے ! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔۔ : ”یَعْمَلُوْنَ“ میں دل، زبان اور جسم کے تمام حصوں کے افعال شامل ہیں۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ”اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ“ (بےشک قیامت آنے والی ہے) ، اب اسی بات کو آگے بڑھایا کہ تیرے رب کی قسم ! ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی سے سوال کرنا ہی نہایت خوفناک بات ہے، خصوصاً جب زبان، دل اور اعضا کے ہر ہر عمل کے متعلق ہو۔ آسان حساب صرف انھی کا ہوگا جن کا دفتر پیش ہونے پر کسی سوال و جواب کے بغیر نجات ہوجائے گی۔ دیکھیے سورة انشقاق (7 تا 9) کی تفسیر۔ قسم کھا کر تمام کفار سے باز پرس کا یقین دلانے سے مقصود نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دینا ہے۔ ان آیات میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن تمام کفار سے سوال کیا جائے گا، جب کہ سورة رحمن میں ہے : (فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ) [ الرحمٰن : 39 ] ”پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق سوال کیا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔“ ایک آیت میں ہے سوال کیا جائے گا، دوسری میں ہے کہ نہیں کیا جائے گا، تو ابن عباس ؓ نے اس کا جواب یہ دیا کہ کسی سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ تم نے کیا کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بندوں سے بھی زیادہ یہ بات جانتا ہے۔ سوال یہ ہوگا کہ کیوں کیا ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ سزا کی تمہید ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس اس کا صاف اعلان کر دے جس کا تجھے حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لے۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ۔۔ : ”صَدَعَ یَصْدَعُ ، الْأَمْرَ“ کسی معاملے کو خوب کھول کر بیان کرنا اور ”صَدَعَ بالْحَقِّ“ کھلم کھلا بلند آواز سے حق کا اظہار کرنا۔ شروع میں نبی ﷺ خفیہ اسلام کی دعوت دیتے تھے، اس کے بعد ان آیات میں چھپ کر دعوت دینے کے بجائے صاف اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام سنانے کا اور مشرکین کی پروا نہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کا حکم ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے خود نمٹنے کا ذمہ اٹھایا جو آپ سے استہزا کرتے اور ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ یہ حکم مکہ میں نازل ہوا، مدینہ گئے تو وہاں کفار اور اہل کتاب سے جنگ شروع ہوئی اور خطرے کے پیش نظر صحابہ کرام ؓ آپ کا پہرا دیتے تھے، جب سورة مائدہ کی آیت (67) (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) (اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا) اتری تو آپ نے خیمہ سے سر نکال کر پہرے داروں سے فرمایا : (یَا أَیُّھَا النَّاسُ ! انْصَرِفُوْا، فَقَدْ عَصَمَنِيَ اللّٰہُ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المائدۃ : 3046۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 5؍644، ح : 2489 ] ”لوگو ! چلے جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ کردیا ہے۔“
Ayah 15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

بیشک ہم تجھے مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں کافی ہیں۔

اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ : ہم ان سے نبٹ لیں گے، آپ بےخوف و خطر دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہیے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ نبی ﷺ کا مذاق اڑانے والے (بڑے بڑے یہ پانچ) آدمی تھے، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، ابوزمعہ اسود بن مطلب، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ جبریل ؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مذاق اڑانے والوں کی شکایت کی۔ حدیث لمبی ہے، خلاصہ یہ کہ جبریل ؑ نے ان کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کی طرف اشارہ کیا اور وہ پانچوں بری طرح فوت ہوئے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقی : 9؍8، ح : 18187 ] جو مذاق اڑانے والے باقی رہے ان کا انجام عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّيْ عِنْدَ الْبَیْتِ ، وَ أَبُوْجَھْلٍ وَأَصْحَابٌ لَہُ جُلُوْسٌ، إذْ قَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ أَیُّکُمْ یَجِيْءُ بِسَلَی جَزُوْرِ بَنِيْ فُلاَنٍ فَیَضَعُہُ عَلٰی ظَھْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ ، فَجَاءَ بِہِ فَنَظَرَ حتّٰی إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضَعَہُ عَلٰی ظَھْرِہِ بَیْنَ کَتِفَیْہِ وَأَنَا أَنْظُرُ ، لاَ أُغْنِيْ شَیْءًا، لَوْ کَانَتْ لِيْ مَنَعَۃٌ، قَالَ فَجَعَلُوْا یَضْحَکُوْنَ وَیُحِیْلُ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ حَتّٰی جَاءَ تْہُ فَاطِمَۃُ فَطَرَحَتْہُ عَنْ ظَہْرِہِ ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ قَالَ اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَشَقَّ عَلَیْھِمْ إِذْ دَعَا عَلَیْھِمْ ، قَالَ وَکَانُوْا یَرَوْنَ أنَّ الدَّعْوَۃَ فِيْ ذٰلِکَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَۃٌ، ثُمَّ سَمَّی اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِأَبِيْ جَھْلٍ ، وَعَلَیْکَ بِعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، وَالْوَلیْدِ بْنِ عُتْبَۃَ ، وَأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، وَعُقَبَۃَ بْنِ أَبِيْ مُعَیْطٍ ، وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ نَحْفَظْہُ ، قَالَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَقَدْ رَأَیْتُ الَّذِیْنَ عَدَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَرْعَی فِي الْقَلِیْبِ قَلِیْبِ بَدْرٍ) [ بخاری، الوضوء، باب إذا ألقي علٰی ظہر المصلي قدر۔۔ : 240 ] ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے آپس میں کہا کہ تم میں سے کون ہے جو بنو فلاں کی ذبح کردہ اونٹنی کی اوجھڑی و بچہ دانی وغیرہ اٹھا کر لائے اور محمد ﷺ جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے۔ تو ان میں سے سب سے بدبخت شخص اٹھا اور اس نے وہ اوجھڑی وغیرہ لا کر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کرسکتا تھا، کاش ! مجھ میں آپ کے دفاع کی طاقت ہوتی۔ تو وہ سب ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ سجدے ہی میں رہے، سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ فاطمہ ؓ آئیں اور اسے آپ کی کمر سے اتار پھینکا، تو آپ نے سر اٹھایا اور کہا : ”یا اللہ ! قریش کو پکڑ۔“ آپ کی یہ بددعا ان پر بڑی شاق گزری، وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے کر فرمایا : ”اے اللہ ! ابوجہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔“ ایک ساتواں بھی گنا جو ہمیں یاد نہیں رہا۔“ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ”پھر اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نے ان تمام آدمیوں کو جو رسول اللہ ﷺ نے گنے تھے، بدر کے کنویں میں ہلاک شدہ گرے ہوئے دیکھا۔“
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بناتے ہیں، سو عنقریب جان لیں گے۔

الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ۔۔ : نبی کریم ﷺ سے استہزا کے ساتھ ساتھ ان کا سب سے بڑا جرم شرک ذکر کر کے فرمایا، یہ لوگ عنقریب انجام دیکھ لیں گے۔ دنیا میں ان کے انجام کا ذکر اوپر گزرا، آخرت کا معاملہ تو بیان ہی میں نہیں آسکتا۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بےشکتیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اور کفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی ﷺ کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔ چناچہ لام تاکید اور ”قَدْ“ برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بیخبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقیناً آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتا ہے۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ : کفار کی زیادتیوں اور استہزا کی و جہ سے سینہ کی اس تنگی کا علاج بیان فرمایا کہ اگر آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کریں۔ تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب، نقص اور ایسی چیزوں سے پاک قرار دینا جو اس کے لائق نہیں اور حمد کا معنی اللہ کی ان تمام صفات کمال کے ساتھ تعریف کرنا جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ تسبیح اور حمد میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال آجاتی ہیں، کیونکہ تسبیح میں تمام صفات سلبیہ (یعنی ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا) آگئیں اور حمد میں تمام صفات ثبوتیہ (یعنی ہر خوبی کا مالک ہونا) آگئیں، چناچہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر ہر مصیبت اور تنگی میں صبر اور تسبیح و حمد کا حکم دیا، جیسا کہ دیکھیے سورة طٰہٰ (130) ، فرقان (58) ، مومن (55) ، طور (48) اور سورة نصر (3) وغیرہ۔ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ : یعنی نماز پڑھنے والوں میں سے ہوجا، جس طرح قیام اور ”رَکْعَۃٌ“ (رکوع) سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے، حالانکہ قیام اور ”رَکْعَۃٌ“ (رکوع) نماز کا جز ہیں، کل نہیں، مگر جز سے مراد کل ہے، اسی طرح یہاں سجدہ سے مراد نماز ہے، اسی لیے اس آیت پر سجدہ نہیں۔ سجدے کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِدٌ، فَأَکْثِرُوا الدُّعَاءَ) [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود : 482، عن أبی ہریرہ ؓ ] ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے تو (سجدے میں) دعا کثرت سے کیا کرو۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر پیش آنے والی مصیبت کا علاج اللہ کا ذکر، خصوصاً تسبیح و تحمید اور نماز ہے، ان کی برکت سے دل کو تسلی بھی ہوگی اور فکر و غم کے بادل بھی چھٹ جائیں گے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کے چکی پیسنے اور مشک میں پانی ڈھونے کی مشقت کی و جہ سے خادمہ کے لیے درخواست پر انھیں سوتے وقت تسبیحات فاطمہ کا حکم دیا اور ان تسبیحات کو خادمہ سے بہتر قرار دیا اور خود آپ ﷺ کا عمل تھا کہ جب آپ کو کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز میں مصروف ہوجاتے۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبی ﷺ فی اللیل : 1319۔ مسند أحمد : 5؍388، ح : 23361 ]
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ : یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم رہیں۔ موت کو ”یقین“ اس لیے فرمایا کہ ہر جان دار کے لیے اس کا آنا یقینی ہے۔ قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ”یقین“ کا لفظ موت کے معنی میں آیا ہے، جیسے فرمایا : (حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ) [ المدثر : 47 ] ”یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا (یعنی موت آگئی)۔“ اس لیے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت مراد لیا ہے۔ تو جب تک ہوش رہے نماز اور دوسری عبادات زندگی کے آخری دم تک حسب طاقت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرنا فرض ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیر اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو نماز، روزہ اور عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ کھیل ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو حاصل نہ ہوسکا کہ وہ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دوسری عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے مراد یقین قلبی لینا اور نماز روزہ چھوڑ دینا صریح بےدینی ہے۔