15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsسراج البیان

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الر ۔ یہ کتاب اور قرآن بیان کرنے والے کی آیتیں ہیں ۔

Ayahs 15:2–4

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کافر کسی وقت آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ۔ (ف 1) ۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

انہیں چھوڑ کہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور امیدوں میں بھولے رہیں آئندہ معلوم ہوگا ۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور جو بستی ہم نے ہلاک کی ہے اس کا ایک مقرر لکھا تھا ۔

جب نشہ غفلت کافور ہوجائیگا : (ف 1) اصل تقسیم سورتوں کی ہے ، پاروں کی تقسیم اور کی ہے اور اس میں مضمون کی رعایت نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے بعض دفعہ بارپ شروع ہوجاتا ہے مگر مضمون کا تعلق سابقہ آیات سے ہوتا ہے ۔ سورة الحجر شروع ہے ، ایک آیت ادھر ہے اور ایک آیت بعد پارہ شروع ہوجاتا ہے ، حالانکہ مضمون کا تقاضا یہ تھا کہ پارہ کو ابتداء سورت سے شروع کردیا جاتا ۔ سورت میں قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ واضح اور بین ہدایت نامہ ہے ، آج گو منکرین اس کے حقائق ومعارف کا انکار کر رہے ہیں مگر ایک وقت آئے گا جب یہ لوگ پچھتائیں گے ، اور کہیں گے اے کاش ! ہم نے اسلام کی ہدایت کو قبول کرلیا ہوتا ، اس کے بعد حضور ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ان کی جہالت و حماقت پر افسوس نہ کیجئے ، انہیں دنیا کی عیش کونسی لوں میں حصہ لینے دیجئے ، خوب کھا پی لیں ، باطل امیدیں در غلط بھروسے انہیں دین کی جانب سے غافل رکھیں ، وہ وقت قریب ہے ، جب ان کی آنکھیں کھلیں گی ، اور انہیں معلوم ہوگا کہ ہم نے عمر عزیز کا کتنا قیمتی حصہ ضائع کیا ہے ۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنے وقت سے آگے نہیں جاسکتی اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (ف 2) ۔

(ف 2) جس افراد کی زندگی ہے اسی طرح جماعتوں کی زندگی ہے ، جس طرح افراد کے لئے مہلک بیماریوں ہوتی ہیں ، اسی طرح قوموں کے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جو ان کو فنا کردیتے ہیں ، عذاب الہی کے معنے قوموں کی ہلاکت اور موت کے ہیں ، جب وقت آجائے قوموں کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہوجائے ، جب ان کی معصیتیں اور گناہ اور ان کی زندگی کو مختصر بنا دیں اور موت کو قریب کردیں اس وقت ایک لمحہ توقف نہیں ڈرتا ۔ یہ اصول ہلاکت ان لوگوں کو اس لئے بتایا جا رہا ہے ، تاکہ انہیں معلوم ہو کر قرآن زندگی وحیات کا سرچشمہ سے اگر تم نے اس کے مجرموں سے نفس کو تازہ دم نہ کیا تو کفر وشرک تمہارے جسموں کو مدقوق کردیں گے اور تمہاری ہلاکت قطعی اور یقینی ہوجائے گی اس وقت کوئی قوت زندہ تو نہیں رکھ سکے گی ۔ حل لغات :
Ayahs 15:6–8

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر (قرآن) اترا ہے تو تو مجنون ہے (ف 3) ۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا ، اگر سچا ہے ؟

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو نہیں اتار کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہ ملے گی ۔

دانائے عرب کے متعلق جاہلوں کا فتوی : (ف 3) مجنون کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی مادی آنکھیں روحانی قوتوں کو محسوس نہیں کرسکتیں ، جب انہوں نے نبوت کی حقیقت کو نہ سمجھا ، تو سہل کاروں سے کہہ دیا ، کتاب کا دماغ مختمل ہے ۔ ضرورت یہ تھی کہ یہ لوگ خود دیوانے اور عقل وبصیرت سے بیگانہ تھے نبوت چونکہ ایک فرق العقل حساسئہ بصیرت وادراک کا نام ہے ، اس لئے یہ کوتاہ فہم اس کو نہیں سمجھ سکے ، کیا یہ جنون ہے کہ بصائر ومعارف کا دریا بہا دیا جائے ، لوگوں کو سکون خاطر کی نعمت سے سرفراز کیا جائے انسان کو پورا کیا جائے ، اور انسانوں کو زندگی کا مکمل بروکر عنایت فرمایا جائے ۔ جس کی امت کے ادنی افراد فلسفہ و حکمت کے استاد کامل ہوں تو وہ خود کیا عقل وہوش سے عاری ہو سکتا ہے ، جس کے ماننے کائنات پر چھاجائیں ، اور تہذیب و تمدن کا حیات آفرین درس دیں کیا اس کے باب میں یہ گستاخی رواء اور جائز ہے ؟ ۔
Ayahs 15:9–14

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

یہ ذکر (قرآن) ہم نے آپ اتارا ہے اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں (ف 1) ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور کئی اگلے فرقوں میں تجھ سے پہلے ہم نے رسول بھیجے تھے ،

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس جو رسول آتا تھا اسی سے ٹھٹھے کرتے تھے ۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

یوں ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو ڈالتے ہیں ۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

پس وہ ایمان نہ لائیں گے اور پہلوں کی عادت یہاں بھی واقع ہوگئی ہے ۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کے لئے آسمان میں ایک دروازہ کھولیں ، اور یہ دن پھر اس میں چڑھتے رہیں ۔

قرآن کیونکر محفوظ ہے ! (ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو سکتا ، جب تک کہ قرآن ناطق ، صحیفہ مجسم ، حضور والا صفات کی سیرت کے نقوش ہمارے سامنے نہ ہوں ، چناچہ عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کا حرف حرف سینوں میں مرتسم ہے ، حضور کی تمام ادائیں ضبط تحریر میں آچکی ہیں ، اور آج دنیا میں محفوظ اور غیر مشکوک پیغام کو اگر کوئی پیش کرسکتا ہے تو وہ اسلام کا نمائندہ ہے ۔
Ayahs 15:15–17

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی ہوئی ہے نہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو کیا گیا (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان پر برج بنائے اور آسمان کو ناظرین کے لئے زینت دی ۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے ہم نے اس کی حفاظت کی ۔

(ف 2) یعنی مکہ والوں کا تعصب اس قدر زیادہ ہے کہ اگر حقائق کو بین طریق پر دیکھیں پر دیکھیں کہ اس کے دروازے ان کے لئے وا ہیں ، اور وہ آسمان کی جانب پرواز کر رہیں ہیں ، جب بھی یہی کہیں گے ، ہماری آنکھوں پر عمل سحر کردیا گیا ہے ، ورنہ دراصل ہم آسمان کی جانب نہیں اڑ رہے ہیں ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ مکہ والے کہتے تھے فرشتے نازل ہوں تو ہم جانیں تم اللہ کے رسول ہو ، قرآن کہتا ہے فرشتے تو فرشتے تم خود بھی اگر آسمان پر چڑھ جاؤ جب بھی نہ مانو ، محض نہ ماننے کے لئے ڈھکوسلے ہیں ورنہ طبیعتون میں وہ استعداد ہی باقی نہیں جس کی وجہ سے ہدایت حاصل ہوتی ہے ۔
Ayahs 15:18–21

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو شیطان چوری سے کوئی بات سن گیا اس کے پیچھے چمکتا انگارا لگا (ف 1) ۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا ۔ اور اس پر بوجھ ڈال دئیے ، اور اس میں ہر موزون شئے اگائی ،

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور تمہارے لئے اس میں روزیاں پیدا کیں اور ان کی بھی جن کے تم روزی دینے والے نہیں ۔

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز نہیں کہ جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور ہم اسے مقررہ انداز پر اتارتے ہیں ۔

اطلاع علی الغیب کے تمام دروازے مسدود ہیں : (ف 1) حضور ﷺ سے قبل شیاطین آسمان تک پہنچ جایا کرتے تھے اور کچھ کچھ غیوب سماوی سے معلوم کرلیتے تھے ، جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ کو خلعت نبوت عطا ہوا تو اس وقت اطلاع علی الغیب کے تمام ابواب ان پر مسدود ہوگئے ، اب جو خبیث روحوں نے آسمان کی جانب رجوع کیا تو بلند اور چمکتے ہوئے شعلوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو بےنیل ومرام واپس ہونا پڑا ، قرآن چونکہ اطلاع علی الغیب کی آخری صورت ہے ، اور حضور کے بعد کوئی شخص علوم نبوت کا وارث نہیں ، اس لئے اللہ نے معلومات غیب کے تمام ذرائع علما بند کردئیے ہیں ، یہ حضور ﷺ کی افضیلت خاتمیت کی بہترین دلیل ہے ۔ حل لغات : بروج : برج کی جمع ہے برج حل کو کہتے ہیں یہاں مقصود ستارے ہیں جیسے مجاہد کی روایت ہے یا منازل ہیں ۔ رواسی گڑے ہوئے اور چھپے ہوئے ۔
Ayahs 15:22–26

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے رس بھری ہوائیں چلائیں اور آسمان سے پانی اتارا اور تمہیں پلایا ، اور تمہارے پاس اس کا خزانہ نہیں (ف 1) ۔

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی جلاتے اور مارتے اور ہم ہی وارث ہیں ۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور ہم تمہارے آگے بڑھنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کو جانتے ہیں ،

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تیرا رب انہیں جمع کرے گا وہ حکمتوں والا خبردار ہے ۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو سڑے کیچڑ کی کھنکھناتی مٹی سے بنایا ہے ۔

(ف 1) ان آیات میں تذکیر بآیات اللہ کے اصول کے موافق اللہ نے مظاہر مدبرت کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ تم ان فطرت کے کرشموں پر غور کرو ، تمہیں یقین آجائے گا کہ اللہ نے ان چیزوں کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ، اس سلسلہ میں ایک عجیب چیز یہ بتائی ہے کہ ہوائیں جو پائی برساتی ہیں تو وہ پانی یہیں سے لیتی ہیں ۔ اور حاملہ عورت کی طرح وقت پر قطرات بارش کی ولادت ہوتی ہے ۔ یہ حقیقت اس وقت ظاہر فرمائی ہے جب عرب بارش کی متعلق صرف اس قدر جانتے تھے کہ آسمان پر دریا بہتے ہیں اور وہی سے پانی آتا ہے اور ہوائیں اسی پانی سے بوجھل ہو کر برستی ہیں ، علاوہ ازیں تشبیہ کس قدر عجیب ہے گویا سورج اور پانی کی جنسی کارفرمائیوں کا نتیجہ ہے کہ ہوائیں اٹھائے اٹھائے پھرتی ہیں اور ایک وقت منفرد پر برس جاتی ہیں ۔
Ayahs 15:27–30

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور پہلے ہم جنات کو لو کی آگ سے بنا چکے تھے (ف 2) ۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ہمیں ایک بشر سڑے کیچڑ کھنکھناتی مٹی سے بناؤں گا ۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

تو جب میں اسے درست کرلو اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدہ میں گڑ پرنا ۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

پھر سب فرشتوں نے اکھٹے اس کے آگے سجدہ کیا ،

جنوں کا وجود : (ف 2) جنوں کی پیدائش آدم سے پہلے ہے انکی فطرت اجزائے ناریہ سے ہے اسلئے یہ انسان سے زیادہ لطیف اور سبک ہوتے ہیں گویہ نظر نہیں آتے ، مگر ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ؟ آج نئے تجربوں نے ہی ثابت کردیا ہے کہ کچھ لطیف اجسام ایسے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے مگر ہو ہماری طرح ایک خاص قسم کے زندگی رکھتے ہیں ، ان کے اجسام ہیں ، ان کی خاص شکلیں ہیں ان کے اپنے مخصوص مشاغل ہیں ۔ یورپ میں بعض ایسی علمی مجلسیں ہیں جنہوں نے برسوں کی تحقیقات کے بعد یہ ثابت کیا ہے جنات کا انکار واقعات کا انکار کرنا ہے ، آج سے نصف صدی پیشتر ان کا انکار روشن خیالی میں داخل تھا کہ آج مفتی کہہ رہا ہے جنوں کا وجود برحق ہے اس لئے اب مجال انکار نہین ، مشرق تو صدیوں سے قائل تھا مگر اب دانایان مغرب بھی قائل ہوگئے ہیں اس لئے تاویل کی ضرورت نہیں حقیقت یہ ہے کہ زمانہ جیسے جیسے ترقی کرے گا ، بہت سے حقائق مستور آشکارا ہوجائیں گے ۔
Ayahs 15:31–36

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

لیکن ابلیس نے (نہ کیا) سجدہ کرنے والوں میں ہونے سے انکار کیا (ف 1) ۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

فرمایا اسے ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا !

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

کہا میں وہ نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں ، جسے تونے سڑے کیچڑ کی کھنکھناتی مٹی سے بنایا ۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

فرمایا تو تو یہاں سے نکل جا ، تو مردود ہے ۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور قیامت کے دن تک تجھ پر لعنت ہے ،

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

بولا اے میرے رب ! اس دن تک کہ مردے اٹھیں مجھے مہلت دے ۔

(ف 1) حضرت آدم کے قصے کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر بیان کیا ہے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنے شرف ومجد سے آگاہ ہو ، اسے معلوم ہو ، کہ اللہ نے اس کا درجہ کتنا بلند بنایا ہے آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتے جھکتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ اس کا سر ہمیشہ اونچا رہے ، وہ اس جبین پر وقار کو جو مسجود ملائک رہ چکی ہے ، بجز رب العالمین کے اور کسی کے آگے نہ جھکائے ، اللہ نے فرشتوں کو اسی لئے جھکایا ، اور سجدہ کا حکم دیا ، تاکہ ابتداء ہی سے آدم کے دل میں خود شناسی کا مادہ پیدا ہو ، اور وہ اپنے مرتبت سے واقف ہو ، اسے معلوم ہو کہ میں فرشتوں کو اپنے سامنے جھکا سکتا ہوں ، اور اللہ نے مجھے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے ۔ شیطان نے انکار کیا ، وہ آج بھی انسانی فضیلت کا معترف نہیں ، غرج یہ ہے کہ آدم اپنی زندگی کی تگ ودو میں دشمنوں سے آگاہ رہے ، اور شیطانی حربوں سے ہوشیار رہے ۔ حل لغات : من روحی : روح کا انتساب اپنی جانب تشریف کے لئے ہے ۔