Ayah 15:111 یعنی یہ اس جامع اور عظیم الشان کتاب کی آیتیں ہیں جس کے مقابلہ میں کوئی دوسری کتاب " کتاب " کہلانے کی مستحق نہیں۔
12 اور اس قرآن کی آیتیں ہیں جس کے اصول نہایت صاف، دلائل روشن، احکام معقول، وجوہ اعجاز واضح اور بیانات شگفتہ اور فیصلہ کن ہیں، لہذا آگے جو کچھ بیان کیا جانے والا ہے مخاطبین کو پوری توجہ سے سننا چاہیے۔
Ayah 15:21 یعنی آج منکرین نے قرآن و اسلام جیسی عظیم الشان نعمت الٰہیہ کی قدر نہیں کی لیکن ایسا وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ اپنی محرومی پر ماتم کریں گے اور دست حسرت مل کر کہیں گے کاش ہم مسلمان ہوتے ! وہ وقت کب آئے گا ؟ اس میں اختلاف ہوا ہے ہم ابن الانباری کے قول کے موافق اس کو عام رکھتے ہیں۔ یعنی دنیا و آخرت میں جو مواقع کافروں کی نامرادی اور مسلمانوں کی کامیابی کے پیش آتے رہیں گے ہر موقع پر کفار کو رو رو کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا اور نعمت اسلام سے محروم رہ جانے کی حسرت ہوگی۔ اس سلسلہ میں پہلا موقع تو جنگ بدر کا تھا جہاں کفار مکہ نے مسلمانوں کی طرف کھلا ہوا غلبہ اور تائید غیبی دیکھ کر اپنے دلوں میں محسوس کیا کہ جس اسلام نے فقراء مہاجرین اور اوس و خزرج کے کاشتکاروں کو اونچی ناک والے قریشی سرداروں پر غالب کیا، افسوس ہم اس دولت سے محروم ہیں۔ اسی طرح اسلامی فتوحات و ترقیات کی ہر ایک منزل پر کفار کو اپنی تہی دستی و حرمان پر پچھتانے اور دل سے اشک حسرت بہانے کا موقع ملتا رہا۔ انتہائی حسرت و افسوس کا مقام وہ ہوگا جب فرشتہ جان نکالنے کے لیے سامنے کھڑا ہے اور عالم غیب کے حقائق آنکھوں سے نظر آرہے ہیں۔ اس وقت ہاتھ کاٹیں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے اسلام قبول کرلیا ہوتا کہ آج عذاب بعدالموت سے محفوظ رہ سکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یاس انگیز نظارہ وہ ہوگا جو طبرانی کی حدیث میں ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے بہت سے آدمی اپنے گناہوں کی بدولت جہنم میں جائیں گے اور جب تک خدا چاہے گا وہاں رہیں گے۔ بعدہ ' مشرکین ان پر طعن کریں گے کہ تمہارے ایمان و توحید نے تم کو کیا فائدہ دیا ؟ تم بھی آج تک ہماری طرح دوزخ میں ہو، اس پر حق تعالیٰ کسی موحد کو جہنم میں نہ چھوڑے گا۔ یہ فرما کر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :2) گویا یہ آخری موقع ہوگا جب کفار اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔
Ayah 15:32 یعنی جب کوئی نصیحت کارگر نہیں تو آپ ان کے غم میں نہ پڑیے بلکہ چند روز انھیں بہائم کی طرح کھانے پینے دیجئے۔ یہ خوب دل کھول کر دنیا کے مزے اڑالیں اور مستقبل کے متعلق لمبی چوڑی امیدیں باندھتے رہیں عنقریب وقت آیا چاہتا ہے جب حقیقت حال کھل جائے گی اور اگلا پچھلا کھایا پیا سب نکل جائے گا۔ چناچہ کچھ تو دنیا ہی میں مجاہدین کے ہاتھوں حقیقت کھل گئی۔ اور پوری تکمیل آخرت میں ہوجائے گی۔
Ayah 15:43 یعنی جس قدر بستیاں اور قومیں پہلے ہلاک کی گئیں، خدا کے علم میں ہر ایک کی ہلاکت کا ایک وقت معین تھا جس میں نہ بھول چوک ہوسکتی تھی نہ غفلت اور نہ خدا کا وعدہ ٹل سکتا تھا جب کسی قوم کی میعاد پوری ہوئی اور تعذیب کا وقت آپہنچا، ایک دم میں غارت کردی گئی۔ موجودہ کفار بھی امہال و تاخیر عذاب پر مغرور نہ ہوں۔ جب ان کا وقت آئے گا خدائی سزا سے بچ نہ سکیں گے۔ جو تاخیر کی جا رہی ہے اس میں خدا کی بہت حکمتیں ہیں۔ مثلاً ان میں سے بعض کا یا بعض کی اولاد کا ایمان لانا مقدر ہے۔ فوری عذاب کی صورت میں اس کے وقوع کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 15:54 یعنی امم مہلکہ کی تخصیص نہیں بلکہ ہر قوم کے عروج وزوال یا موت وحیات کی جو میعاد مقرر ہے وہ اس سے ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
Ayah 15:65 مشرکین مکہ یہ الفاظ محض بطریق استہزاء و استخفاف کہتے تھے یعنی آپ سب سے آگے بڑھ کر خدا کے یہاں سے قرآن لے آئے، دوسروں کو احمق و جاہل بتلانے لگے بلکہ ساری دنیا کو الٹی میٹم دیا، اس پر یہ دعویٰ ہے کہ آخر میں ہی غالب ہوں گا اور ایک وقت آئے گا کہ منکرین حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوجاتے۔ یہ کون سی عقل و ہوش کی باتیں ہیں ؟ کھلی ہوئی دیوانگی ہے اور جو پڑھ کر سناتے ہو مجنون کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 15:76 اگر بارگاہ احدیت میں آپ کو ایسا ہی قرب حاصل ہے اور ساری قوم میں سے خدا نے منصب رسالت کے لیے آپ ﷺ کا انتخاب کیا ہے تو فرشتوں کی خدائی فوج آپ ﷺ کے ساتھ کیوں نہ آئی۔ جو کھلم کھلا آپ ﷺ کی تصدیق کرتی اور ہم سے آپ ﷺ کی بات منواتی، نہ مانتے تو فوراً سزا دیتی۔
Ayah 15:87 یعنی ماننے والوں کے لیے اب بھی کافی سے زائد نشان موجود ہیں۔ باقی جن کا ارادہ ہی ماننے کا نہیں وہ فرشتوں کے آنے پر بھی نہ مانیں گے پھر ان کے اتارنے میں کیا فائدہ ہے۔ حق تعالیٰ فرشتوں کو زمین پر اپنی حکمت کے موافق کسی غرض صحیح کے لیے بھیجتے ہیں، یوں ہی بےفائدہ تماشا دکھلانا مقصود نہیں ہوتا۔ عموماً عادت اللہ یہ رہی ہے کہ جب کسی قوم کی سرکشی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے اور سارے مراحل تفہیم و ہدایت کے طے ہوجاتے ہیں تو فرشتوں کی فوج اس کے ہلاک کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہے پھر اس کو قطعًا مہلت نہیں دی جاتی۔ اگر تمہاری خواہش کے موافق فرشتے اتارے جائیں تو اس سے صرف یہ ہی ایک مقصد ہوسکتا ہے کہ تم کو بلاتا، خیر ہلاک کردیا جائے جو فی الحال حکمت الٰہی کے موافق نہیں کیونکہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا، یہ تو آخری صورت ہے جو سب منزلیں طے ہو چکنے اور سب کام ختم کیے جانے کے بعد ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
Ayah 15:98 یعنی تمہارا استہزاء و تعنت اور قرآن لانے والے کی طرف جنون کی نسبت کرنا، قرآن و حامل قرآن پر قطعًا اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ یاد رکھو اس قرآن کے اتارنے والے ہم ہیں اور ہم ہی نے اس کی ہر قسم کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے جس شان اور ہیئت سے وہ اترا ہے بدون ایک شوشہ یا زبر زیر کی تبدیلی کے چار دانگ عالم میں پہنچ کر رہے گا اور قیامت تک ہر طرح کی تحریف لفظی و معنوی سے محفوظ و مضمون رکھا جائے گا۔ زمانہ کتنا ہی بدل جائے مگر اس کے اصول و احکام کبھی نہ بدلیں گے، زبان کی فصاحت و بلاغت اور علم و حکمت کی موشگافیاں کتنی ہی ترقی کرجائیں، پر قرآن کی صوری و معنوی اعجاز میں اصلاً ضعف و انحطاط محسوس نہ ہوگا۔ اور سلطنتیں قرآن کی آواز کو دبانے یا گم کردینے میں ساعی ہوں گی۔ لیکن اس کے ایک نقطہ کو گم نہ کرسکیں گی۔ حفاظت قرآن کے متعلق یہ عظیم الشان وعدہ الٰہی ایسی صفائی اور حیرت انگیز طریقہ سے پورا ہو کر رہا جسے دیکھ کر بڑے بڑے متعصب و مغرور مخالفوں کے سر نیچے ہوگئے۔ " میور " کہتا ہے " جہاں تک ہماری معلومات ہیں دنیا بھر میں ایک بھی ایسی کتاب نہیں جو قرآن کی طرح بارہ صدیوں تک ہر قسم کی تحریف سے پاک رہی ہو۔ ایک اور یورپین محقق لکھتا ہے کہ ہم ایسے ہی یقین سے قرآن کو بعینہ محمد ﷺ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سمجھتے ہیں جیسے مسلمان اسے خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ " واقعات بتلاتے ہیں کہ ہر زمانہ میں ایک جم غفیر علماء کا جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے ایسا رہا کیا جس نے قرآن کے علوم و مطالب اور غیر منقضی عجائب کی حفاظت کی۔ کاتبوں نے رسم الخط کی، قاریوں نے طرز ادا کی، حافظوں نے اس کے الفاظ و عبارت کی وہ حفاظت کی کہ نزول کے وقت سے آج تک ایک زیر زبر تبدیل نہ ہوسکا۔ کسی نے قرآن کے رکوع گن لیے، کسی نے آیتیں شمار کیں، کسی نے حروف کی تعداد بتلائی حتی کہ بعض نے ایک ایک اعراب اور ایک ایک نقطہ کو شمار کر ڈالا۔ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے آج تک کوئی لمحہ اور کوئی ساعت نہیں بتلائی جاسکتی جس میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد حفاظ قرآن کی موجود نہ رہی ہو۔ خیال کرو آٹھ دس سال کا ہندوستانی بچہ جسے اپنی مادری زبان میں دو تین جزء کا رسالہ یاد کرانا دشوار ہے وہ ایک اجنبی زبان کی اتنی ضخیم کتاب جو متشابہات سے پر ہے، کس طرح فرفر سنا دیتا ہے۔ پھر کسی مجلس میں ایک بڑے باوجاہت عالم و حافظ سے کوئی حرف چھوٹ جائے یا اعراب کی فروگذاشت ہوجائے تو ایک بچہ اس کو ٹوک دیتا ہے۔ چاروں طرف سے تصحیح کرنے والے للکارتے ہیں، ممکن نہیں کہ پڑھنے والے کو غلطی پر قائم رہنے دیں۔ حفظ قرآن کے متعلق یہ ہی اہتمام و اعتناء عہد نبوت میں سب لوگ مشاہدہ کرتے تھے۔ اسی کی طرف " وَاِنَّالہ لَحَافِظُوْنَ " فرما کر اس وقت کے منکرین کو توجہ دلائی۔
Ayahs 15:10–119 آپ کو تسلی دی گئی کہ ان کی تکذیب و استہزاء سے دلگیر نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ منکرین کی عادت رہی ہے کہ جب کوئی پیغمبر آیا اس کی ہنسی اڑائی، کبھی مجنون کہا۔ کبھی محض دق کرنے کے لیے لغو اور دورازکار مطالبے کرنے لگے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کہا تھا " اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ" (شعراء، رکوع 2 ' آیت 27) اور وہ ہی فرشتوں کی فوج لانے کا مطالبہ کیا جو قریش آپ سے کر رہے تھے۔ (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ ) 43 ۔ الزخرف :53)
Ayah 15:1210 یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے ہم ان کے دلوں میں اسی طرح استہزاء و تکذیب کی عادت جاگزیں کردیتے ہیں۔ جب ان کے دل میں کانوں کے راستہ سے وحی الٰہی جاتی ہے تو ساتھ ساتھ تکذیب بھی چلی جاتی ہے۔
Ayah 15:1311 یعنی ہمیشہ یوں ہی جھٹلاتے اور ہنسی کرتے آئے ہیں اور سنت اللہ یہ رہی ہے کہ متمردین ہلاک و رسوا کیے جاتے رہے اور انجام کار حق کا بول بالا رہا۔
Ayahs 15:14–151 یعنی فرشتوں کا اتارنا تو اس قدر عجیب نہیں، اگر ہم آسمان کے دروازے کھول کر خود انھیں اوپر چڑھا دیں اور یہ دن بھر اسی شغل میں رہیں، تب بھی ضدی اور معاند لوگ حق کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ اس وقت کہہ دیں گے کہ ہم پر نظر بندی یا جادو کیا گیا ہے۔ یا شاید ابتداء میں نظر بندی سمجھیں اور آخر میں بڑا جادو قرار دیں۔
Ayah 15:162 " برجوں " سے یہاں بڑے بڑے سیارات مراد ہیں بعض نے منازل شمس و قمر کا ارادہ کیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتوں کی جماعتیں پہرہ دیتی ہیں۔
3 یعنی آسمان کو ستاروں سے زینت دی۔ رات کے وقت جب بادل اور گردوغبار نہ ہو، بیشمار ستاروں کے قمقموں سے آسمان دیکھنے والوں کی نظر میں کس قدر خوبصورت اور پر عظمت معلوم ہوتا ہے اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں کتنے نشان حق تعالیٰ کی صنعت کاملہ، حکمت عظیمہ اور وحدانیت مطلقہ کے پائے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے فرشتے اتارنے یا ان کو آسمان پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ماننا چاہیں تو آسمان و زمین میں قدرت کے نشان کیا تھوڑے ہیں جنہیں دیکھ کر سمجھ دار آدمی توحید کا سبق بہت آسانی سے حاصل کرسکتا ہے۔ ایسے روشن نشان دیکھ کر انہوں نے کیا معرفت حاصل کی ؟ جو آئندہ توقع رکھی جائے۔
Ayahs 15:17–184 یعنی آسمانوں پر شیاطین کا کچھ عمل دخل نہیں چلتا۔ بلکہ بعثت محمدی ﷺ کے وقت سے تو ان کا گزر بھی وہاں نہیں ہوسکتا۔ اب انتہائی کوشش ان کی یہ ہوتی ہے کہ ایک شیطانی سلسلہ قائم کر کے آسمان کے قریب پہنچیں اور عالم ملکوت کے نزدیک ہو کر اخبار غیبیہ کی اطلاعات حاصل کریں، اس پر بھی فرشتوں کے پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں کہ جب شیاطین ایسی کوشش کریں اوپر سے آتشباری کی جائے۔ نصوص قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تکوینی امور کے متعلق آسمانوں پر جب کسی فیصلہ کا اعلان ہوتا ہے اور خداوند قدوس اس سلسلہ میں فرشتوں کی طرف وحی بھیجتا ہے تو وہ اعلان ایک خاص کیفیت کے ساتھ اوپر سے نیچے کو درجہ بدرجہ پہنچتا ہے آخر سماء دنیا پر اور بخاری کی ایک روایت کے موافق " عنان " (بادل) میں فرشتے اس کا مذاکرہ کرتے ہیں۔ شیاطین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان معاملات کے متعلق غیبی معلومات حاصل کریں، اسی طرح جیسے آج کوئی پیغام بذریعہ وائرلیس ٹیلیفون جارہا ہو اسے بعض لوگ راستہ میں جذب کرنے کی تدبیر کرتے ہیں، ناگہاں اوپر سے بم کا گولہ (شہاب ثاقب) پھٹتا ہے۔ اور ان غیبی پیغامات کی چوری کرنے والوں کو مجروح یا ہلاک کر کے چھوڑتا ہے۔ اسی دوادوش اور ہنگامہ داروگیر میں جو ایک آدھ بات شیطان کو ہاتھ لگ جاتی ہے وہ ہلاک ہونے سے پیشتر بڑی عجلت کے ساتھ دوسرے شیاطین کو اور وہ شیاطین اپنے دوست انسانوں کو پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کاہن لوگ اسی ادھوری بات میں سینکڑوں جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر عوام کو غیبی خبریں بتلاتے ہیں۔ جب وہ ایک آدھ سماوی بات سچی نکلتی ہے تو ان کے معتقدین اسے ان کی سچائی کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور جو سینکڑوں بنائی ہوئی خبریں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں ان سے اغماض و تغافل برتا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث نے یہ واقعات بیان کر کے متنبہ کردیا کہ کسی ادنیٰ اور چھوٹی سے چھوٹی سچائی کا سرچشمہ بھی وہ ہی عالم ملکوت ہے۔ شیاطین الجن والانس کے خزانہ میں بجز کذب و افتراء کوئی چیز نہیں۔ نیز یہ کہ آسمانی انتظامات اس قدر مکمل ہیں کہ کسی شیطان کی مجال نہیں وہاں قدم رکھ سکے یا باوجود انتہائی جدوجہد کے وہاں کے انتظامات اور فیصلوں پر معتدبہ دسترس حاصل کرلے۔ باقی جو ایک آدھ جملہ ادھر ادھر کا فرشتوں سے سن بھاگتا ہے حق تعالیٰ نے ارادہ نہیں کیا کہ اس کی قطعاً بندش کردی جائے۔ وہ چاہتا تو اس سے بھی روک دیتا، مگر یہ بات اس کی حکمت کے موافق نہ تھی۔ آخر شیاطین الجن والانس کو جن کی بابت اسے معلوم ہے کہ کبھی اغواء واضلال سے باز نہ آئیں گے اتنی طویل مہلت اور مغویانہ اسباب و وسائل پر دسترس دینے میں کچھ نہ کچھ حکمت تو سب کو ماننی پڑے گی۔ اسی طرح کی حکمت یہاں بھی سمجھ لو (تنبیہ) شیاطین ہمیشہ شہابوں کے ذریعہ سے ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ مگر جس طرح قطب جنوبی اور ہمالیہ کی بلند تر چوٹی کی تحقیق کرنے والے مرتے رہتے ہیں اور دوسرے ان کا یہ انجام دیکھ کر اس مہم کو ترک نہیں کرتے۔ اسی پر شیاطین کی مسلسل جدوجہد کو قیاس کرلو۔ یہ واضح رہے کہ قرآن و حدیث نے یہ نہیں بتلایا کہ شہب کا وجود صرف رجم شیاطین ہی کے لیے ہوتا ہے۔ ممکن ہے ان کے وجود سے اور بہت سے مصالح وابستہ ہوں اور حسب ضرورت یہ کام بھی لیا جاتا ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 15:19–205 یعنی نوکر چاکر حیوانات وغیرہ جن سے کام اور خدمت ہم لیتے ہیں اور روزی ان کی خدا کے ذمہ ہے۔
Ayah 15:216 یعنی جو چیز جتنی مقدار میں چاہے پیدا کر دے، نہ کچھ تعب ہوتا ہے نہ تکان، ادھر ارادہ کیا ادھر وہ چیز موجود ہوئی۔ گویا تمام چیزوں کا خزانہ اس کی لامحدود قدرت ہوئی جس سے ہر چیز حکمت کے موافق ایک معین نظام کے ماتحت ٹھہرے ہوئے اندازہ پر بلا کم وکاست نکلی چلی آتی ہے۔
Ayah 15:227 یعنی برساتی ہوائیں بھاری بھاری بادلوں کو پانی سے بھر کر لاتی ہیں، ان سے پانی برستا ہے جو نہروں چشموں اور کنوؤں میں جمع ہو کر تمہارے کام آتا ہے۔ خدا چاہتا تو اسے پینے کے قابل نہ چھوڑتا، لیکن اس نے اپنی مہربانی سے کس قدر شیریں اور لطیف پانی تمہارے بارہ مہینہ پینے کے لیے زمین کے مسام میں جمع کردیا۔
8 یعنی نہ اوپر بارش کے خزانہ پر تمہارا قبضہ ہے، نہ نیچے چشمے اور کنوئیں تمہارے اختیار میں ہیں۔ خدا جب چاہے بارش برسائے، نہ تم روک سکتے ہو نہ اپنے حسب خواہش لاسکتے ہو اور اگر کنوؤں اور چشموں کا پانی خشک کردے یا زیادہ نیچے اتاردے کہ تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو کیسے قابو حاصل کرسکتے ہو۔
Ayah 15:239 یعنی دنیا فنا ہوجائے گی، ایک خدا اپنی کامل صفات کے ساتھ باقی رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ہر کوئی مرجاتا ہے اور اس کی کمائی اللہ کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ "
Ayah 15:2410 یعنی اگلا پچھلا کوئی شخص یا اس کے اعمال ہمارے احاطہ علمی سے باہر نہیں، حق تعالیٰ کو ازل سے ہر چیز کا تفصیلی علم ہے، اسی کے مطابق دنیا میں پیش آتا ہے اور اسی کے موافق آخرت میں تمام مخلوق کا انصاف کیا جائے گا۔ (تنبیہ) آگے بڑھنا اور پیچھے رہنا عام ہے۔ ولادت میں ہو یا موت میں، یا اسلام میں، یا نیک کاموں میں، صفوف صلوٰۃ میں آگے پیچھے رہنا بھی نیک کام کے ذیل میں آگیا۔
Ayah 15:2511 یعنی ایک ایک ذرہ اس کے علم میں ہے۔ جب اس کی حکمت مقتضی ہوگی کہ سب کو بیک وقت انصاف کے لیے اکٹھا کیا جائے تو کچھ دشواری نہ ہوگی۔ قبر کی مٹی، جانوروں کے پیٹ، سمندر کی تہ، ہوائی فضا میں یا جہاں کہیں کسی چیز کا کوئی جز ہوگا، وہ اپنے علم محیط اور قدرت کاملہ سے جمع کردے گا۔
Ayah 15:261 آیات آفاقیہ کے بعد بعض آیات انفسیہ کو بیان فرماتے ہیں جس کے ضمن میں شاید یہ تنبیہ بھی مقصود ہے کہ جس ذات منبع الکمالات نے تم کو ایسے انوکھے طریقہ سے اول پیدا کیا، دوبارہ پیدا کر کے ایک میدان میں جمع کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے۔ (تنبیہ) آدمی کی پیدائش کے متعلق یہاں دو لفظ فرمائے " صَلْصَال " (بجنے والی کھنکھناتی مٹی جو آگ میں پکنے سے اس حالت کو پہنچتی ہے اسی کو دوسری جگہ " کالفخار " فرمایا) اور " حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ " (سڑا ہوا گارا جس سے بو آتی ہو) خیال یہ ہوتا ہے کہ اول سنے ہوئے گارے سے آدم کا پتلا تیار کیا، پھر جب خشک ہو کر اور پک کر کھن کھن بجنے لگا، تب مختلف تصورات کے بعد اس درجہ پر پہنچا کہ انسانی روح پھونکی جائے۔ روح المعانی میں بعض علماء کا قول نقل کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کَاَنَّہ، سُبْحَانَہ، اَفْرَغَ الْحَمَا فَصَوَّرَ مِنْ ذَلِکَ تِمْثَالَ اِنْسَان اَجْوَفَ فَیَبِسَ حَتّٰی اِذَا نُقِرَ صَوَّتَ ثُمَّ غَیَّرَہ، طَوْرًا بَعْدَ طَوْرٍ حَتّٰی نَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُوْحِہٖ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۔ " حضرت شاہ صاحب لکھے ہیں مٹی پانی میں ترکی اور خمیر اٹھایا کہ کھن کھن بولنے لگی، وہ ہی بدن ہوا انسان کا۔ اس کی خاصیتیں سختی اور بوجھ اس میں رہ گئیں اسی طرح گرم ہوا کی خاصیت (حدت و خفت) جن کی پیدائش میں رہی۔ راغب اصفہانی نے ایک طویل مضمون کے ضمن میں متنبہ کیا ہے کہ " حماٍ مسنونٍ " اور " طینٍ لازبٍ " وغیرہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ مٹی اور پانی ملا کر ہوا سے خشک کیا اور " فخّار " کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ کسی درجہ میں آگ سے پکایا گیا یہ ہی ناری جزء آدمی کی شیطنت کا منشاء ہے۔ اسی مناسبت سے ایک جگہ فرمایا (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14 ۙ وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ 15ۚ ) 55 ۔ الرحمن :55-54) راغب کا مضمون بہت طویل اور دلچسپ ہے، افسوس ہے ہم اس کا خلاصہ بھی یہاں درج نہیں کرسکتے۔
Ayah 15:272 یعنی لطیف آگ ہوا ملی ہوئی۔ کما قال (وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) 55 ۔ الرحمن :15) یا یوں کہو تیز ہوا جو آگ کی طرح جلانے والی ہو، جسے ہمارے یہاں " لُو " کہتے ہیں۔ بہرحال آدمیوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ اس مادہ سے پیدا ہوا جس میں ناری عنصر کا غلبہ تھا، ابلیس بھی اسی قسم میں تھا۔
Ayahs 15:28–293 یعنی آدم کا پتلا ٹھیک کرکے اس قابل کردوں کہ روح انسانی فائض کی جاسکے پھر اس میں جان ڈال دوں جس سے ایک جماد انسان بن جاتا ہے، اس وقت تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ سب سجدہ میں گر پڑو (تنبیہ) " روح " (جان) کی اضافت جو اپنی طرف کی، یہ محض تشریف و تکریم اور روح انسانی کا امتیاز ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی وہ خاص " جان " جس میں نمونہ ہے میری صفات (علم و تدبیر وغیرہ) کا، اور جو اصل فطرت سے مجھے یاد کرنے والی اور بسبب خصوصی لطافت کے مجھ سے نسبتہً قریبی علاقہ رکھنے والی ہے۔ امام غزالی (رح) نے دوسرے عنوان سے اس اضافت پر روشنی ڈالی ہے فرماتے ہیں اگر آفتاب کو قوت گویائی مل جائے اور وہ کہے کہ میں نے اپنے نور کا فیض زمین کو پہنچایا، تو کیا یہ لفظ (اپنا نور) غلط ہوگا ؟ جب یہ کہنا صحیح ہے حالانکہ یہ آفتاب زمین میں حلول کرتا ہے نہ اس کا نور اس سے جدا ہوتا ہے، بلکہ زمین سے لاکھوں میل دور رہ کر بھی روشنی کی باگ اسی کے قبضہ میں ہے، زمین کا کچھ اختیار نہیں چلتا، بجز اس کے کہ اس سے بقدر اپنی استعداد کے نفع حاصل کرتی رہے، تو وراء الوراء خدا کا یہ فرمانا کہ میں نے آدم میں اپنی روح پھونکی، حلول و اتحاد وغیرہ کی دلیل کیسے بن سکتی ہے۔ " روح " کے متعلق مناسب کلام انشاء اللہ آئندہ (وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ ) 17 ۔ الاسراء :85) میں کیا جائے گا۔
Ayahs 15:30–344 یعنی جنت سے یا آسمان سے یا اس مقام عالی سے نکل جہاں اب تک پہنچا ہوا تھا۔
5 یعنی مردود و مطرود ہے یا " رجیم " سے اشارہ اسی طرف ہے جو پہلے گزرا کہ شہاب سے شیاطین کا رجم کیا جاتا ہے۔ گویا اس لفظ میں اس کے شبہ کا جواب دیا گیا کہ تیرا سجود سے انکار کرنا شرف عنصری کی بناء پر نہیں۔ فضل و شرف تو اسی کے لیے ہے جسے خدا تعالیٰ سرفراز فرمائے۔ ہاں تیرے اباء و استکبار کا منشاء وہ شقاوت و بدبختی ہے جو تیری سوء استعداد کی وجہ سے مقدر ہوچکی ہے۔
Ayah 15:356 یعنی قیامت کے دن تک خدا کی پھٹکار اور بندوں کی طرف سے لعنت پڑتی رہے گی۔ اس طرح آناً فاناً خیر سے بعید تر ہوتا رہے گا۔ جب قیامت تک توفیق خیر کی نہ ہوگی تو اس کے بعد تو کوئی موقع ہی نہیں کیونکہ آخرت میں ہر شخص وہ ہی کاٹے گا جو یہاں بویا ہے۔ یا یوں کہو کہ قیامت کے دن تک لعنت رہے گی۔ اس کے بعد جو بیشمار قسم کے عذاب ہوں گے وہ لعنت سے کہیں زیادہ ہیں، یا " اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ " کا لفظ دوام سے کنایہ ہو۔
Ayahs 15:36–387 یعنی اس وقت تک تجھے ڈھیل دی جاتی ہے جی کھول کر ارمان نکال لے۔ اس واقعہ کی تفصیل " بقرہ " اور " اعراف " میں گزر چکی ہے۔ ہم نے " اعراف " کے دوسرے رکوع میں اس کے اجزاء پر جو کچھ کلام کیا ہے اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 15:39–408 یعنی دنیا کی بہاریں دکھلا کر خواہشات نفسانی کے جال میں پھنساؤں گا اور تیرے مخصوص و منتخب بندوں کے سوا سب کو راہ حق سے ہٹا کر رہوں گا۔ یہ کلمات لعین نے جوش انتقام میں کہے۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتا، لیکن جس کی وجہ سے میں دور پھینکا گیا ہوں اپنی قدرت اور بساط کے موافق اس کی نسلوں تک سے بدلہ لے کر چھوڑوں گا۔ سورة " اعراف " میں اس موضوع پر ہم نے جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ کیا جائے۔