15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ الحجر سورة نمبر 15 رکوع 6 آیات 99 الفاظ و کلمات 663 حروف 2907 مقام نزول مکہ مکرمہ الحجر قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا جو وادی القریٰ میں مدینہ منورہ سے ملک شام جاتے ہوئے لب سڑک پڑتا ہے ٩ ھ غزوہ تبوک میں کے موقع پر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام اس مقام سے گذرے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اس جگہ ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیزی سے آگے بڑھ جاؤ کیونکہ یہاں قوم ثمود پر عذاب نازل ہوا تھا۔ قوم عاد کی طرح قوم ثمود بھی عرب کی قدیم اور عظیم قوموں میں سے ایک قوم تھی جن کی تعمیرات کے فن کا یہ حال تھا کہ انہوں نے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر بیس بیس منزلہ عمارتیں بنا رکھی تھیں۔ مال و دولت کی کثرت ، خوش حالی اور بت پرستی نے اس قوم کو اتنا کھوکھلا کردیا تھا کہ جب حضرت صالح نے اس قوم کو ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت دی اور بتایا کہ جن بتوں کو تم پوجتے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔ اس قوم نے غرور اور تکبر سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ اللہ کے حکم کے باوجود انہوں نے اس اونٹنی کو بھی ذبح کردیا جو معجزہ کے طور پر ان کو ید گئی تھی۔ جب نافرمانیوں کی انتہا ہوگئی تب اللہ نے اس قوم پر عذاب نازل کیا اور ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ ان کی تہذیب و تمدن، تعمیر و ترقی، مال و دولت ان کے کسی کام نہ آسکے۔ ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ جن کے شہروں کے کھنڈرات آج بھی نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ فرمایا گیا کہ ہر قوم کو ایک موقع پر مہلت دی جاتی ہے اگر وہ اس سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس کی نجات کا سامان ہوجاتا ہے ورنہ قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور دوسری ظالم قوموں کے ساتھ ان کو ان کے انجام سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے قرآن کریم کی شکل میں ایک ایسی کتاب زندگی عطا فرمئای ہے جس کے اصول نہایت صاف ستھرے اور واضح ہیں۔ انداز بیان شگفتہ اور فیصلہ کن ہے اس کا کوئی انداز ایسا نہیں ہے جس کے سمجھنے میں کسی کو بھی کوئی دشواری یا الجھن ہو سکتی ہو۔ وہی ایک سچائی کی روشنی ہے جس سے دلوں کو منور روشن کیا جاسکتا ہے لیکن ایسے بد نصیب لوگ بھی ہیں جو اس سچائی کو ماننے کے بجائے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ شاید ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا ہے اس کے برخلاف وہ خوش نصیب بھی ہیں جو اس حقیقت کو مان کر خود راہ زندگی کے روشن ساترے بن چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شیطانی وسوسوں سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شیطان نے ابتدائے کائنات کے وقت ہی یہ کہہ دیا تھا کہ اے اللہ مجھے اتنی مہلت دیجیے کہ میں ثابت کرسکوں کہ انسان بالکل بےحقیقت چیز ہے۔ فرمایا کہ شیطان اپنے جال بچھا کر اس میں اللہ کے بندوں کا شکار کرتا ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ شیطان کے چکر میں آجائیں گے ان سے میں جہنم کو بھر دوں گا اور جو نیک اور پرہیز گار ہوں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں کے مستحق ہوں گے۔ آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کی پرواہ نہ کیجیے کھلم کھلا اللہ کے دین کی دعوت دیجیے یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جو لوگ آج اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑا رہے ہیں اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو خود ان کی زندگیاں مذاق بن کر رہ جائیں گی۔ * یہ سورت بھی مکی دور کے آخری زمانہ کی سورتوں میں سے ایک سورت ہے جس میں مکہ و مدینہ میں آباد کفار و مشرکین کو قوم عاد اور قوم ثمود کے واقعات سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم ان کھنڈرات سے گذرتے ہو جو کبھی خوب آباد تھے مگر نافرمانیوں کی وجہ سے آج وہ نشان عبرت بن چکے ہیں۔ * اس سورت میں ایک ہی وقت میں حضرت ابراہیم کو بیٹے کی خوش خبری دی گئی ہے اور ان ہی فرشتوں نے اللہ کے حکم سے قوم لوط کی تباہی کی اطلاع دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوشی اور غم سب اللہ کی طرف سے ہیں۔

Ayahs 15:1–4

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الف۔ لام ۔ را (حروف مقطعات جن کے معنی و مراد کا علم اللہ کو ہے) یہ کتاب الٰہی اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کا رساتہ اتخیار کیا ہے وہ کسی وقت اس بات کی تمنا ضرور کریں گے کاش وہ فرماں بردار (مسلم) ہوتے۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ انہیں چھوڑ یئے وہ (کچھ دن) کھائیں، فائدے اٹھائیں اور ان کو امیدوں کی غفلت میں لگا رہنے دیجیے وہ بہت جلد (ساری حقیقت کو) جان لیں گے۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

ہم نے جب بھی کبھی کسی قوم کو ہلاک کیا ہے تو اس کے لئے لکھا ہوا وقت مقرر تھا۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 تلک یہ (اسم اشارہ) ۔ مبین کھلا، واضح، روشن۔ ربما کبھی کبھی۔ اکثر ۔ یود پسند ہوگا۔ لو اگر، کاش۔ مسلمین فرماں بردار۔ گردن جھکانے والے۔ ذر چھوڑ دے۔ یا کلون وہ کھائیں گے۔ یتمتعوا وہ فائدہ حاصل کریں گے۔ یلھھم (الھاء لھو) ، دل لگانا، غافل ہونا الامل امید، آزاد۔ سوف جلد، عنقریب۔ اھلکنا ہم نے ہلاک کیا۔ برباد کیا۔ قریۃ بستی۔ شہر کتاب لکھا ہوا۔ معلوم مقرر۔ ماتسبق آگے نہیں بڑھتی۔ امۃ جماعت، گروہ ۔ اجل مدت، موت۔ یستاخرون وہ دیر کرتے ہیں۔ پیچھے ہٹتے ہیں۔ تشریح آیت نمبر : 1 تا 5 مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی منکرین توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہ لانے والوں کا بھیانک انجام اور اللہ و رسول پر ایمان و یقین رکھنے والوں کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جس کے متعلق پہلے بھی تفصیل سے بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور حقیقت کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ وہی ان حروف کے معنی اور مراد سے واقف ہے۔ فرمایا گیا کہ قرآن کریم ایک نعمت ہے جو کتابی شکل میں موجود ہے اور اس کے معنی بہت صاف، واضح اور روشن ہیں جس کے سمجھنے میں کسی کو کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس کا اندازہ اس قدر دلچسپ ہے کہ وہ انسانوں کو خود ہی اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ وہ کتاب مبین ہے جس کے نہ تو الفاظ پڑھنے میں کوئی دشواری ہے نہ اس کا ترجمہ کرنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے اور نہ اس کے حفظ کرنے میں کوئی دشواری ہے، یہ اپنے الفاظ، معانی اور عمل کی ایک واضح کتاب ہے۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین کو جنہوں نے اپنی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں ان کو قرآن کریم کی یہ خوبیاں نظر نہیں آتیں لیکن قیامت میں جب اس قرآن کریم پر عمل کرنے والے عیش و آرام میں ہوں گے تب یہ کفار و مشرکین نہایت حسرت اور افسوس کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کاش ہم بھی اللہ کے فرماں بردار ہوتے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کو سمجھائیں لیکن ان کو کھانے کھلنے اور اپنی آرزؤں اور تمناؤں میں الجھا رہنے دیں بہت جلد ان کو ساری حقیقت کا علم ہوجائے گا فرمایا کہ ہم نے ہر قوم کو مہلت عمل دی ہے جس سے ان کو غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ شاید اللہ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا حالانکہ تاریخ کے دریچوں سے اگر جھانک کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم کو ان کے برے اعمال کے سبب تباہ و برباد کیا ہے تو اس گھڑی کے آنے میں نہ کبھی دیر ہوئی ہے اور نہ جلدی۔ جب اس کا فیصلہ آجاتا ہے تب کوئی اس کے فیصلے سے بچ نہیں سکتا۔ ان آیات میں کفار مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ آج وہ جن بدمستیوں میں لگے ہوئے ہیں ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اللہ کا وہ فیصلہ دور نہیں ہے جب ان کو قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ جیسی نعمتوں کے ٹھکرانے پر سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور پھر ان کے کوئی چیز کام نہیں آئیگی۔
Ayahs 15:5–9

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اپنی مقررہ مدت سے پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ بعد میں۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

(ان کافروں نے ) کہا اے وہ شخص جس پر یہ قرآن اتارا گیا ہے تو یقینا دیوانہ ہے۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو لے کر کیوں نہیں آتا۔

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ ) ہم فرشتوں کو یوں ہی نازل نہیں کرتے کیونکہ (فرشتوں کے آنے کے بعد) ان کو مہلت نہیں دی جاتی۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن کریم) کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9 یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 9 جب نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ فرشتوں کو نازل کر دے مگر اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی قوم کو عذاب دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تب وہ اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے اور جب وہ فیصلہ کر کے اپنے فرشتوں کو بھیج دیتا ہے تو پھر کسی قوم کو مزید مہلت عمل نہیں دی جاتی بلکہ جڑ و بنیاد سے اکھاڑ دینے کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔ گزشتہ قوموں کی تاریخ اس سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے وہ کہ جس پر ذکر اتارا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ بیشک وہ قرآن جس کو ہم نے انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے وہ ” ذکر “ ہی ہے۔ وہ ہمارا کلام ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ ہم اپنے اس قرآن اور ذکر کی حفاظت خود کریں گے اور کسی انسان کے ذمے یہ کام نہیں لگائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے وہ کہ جس پر ذکر اتارا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ بیشک وہ قرآن جس کو ہم نے انسانوں کی ہدایت کیلئے نازل کیا ہے وہ ” ذکر “ ہی ہے۔ وہ ہمارا کلام ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ ہم اپنے اس قرآن اور ذکر کی حفاظت خود کریں گے اور کسی انسان کے ذمے یہ کام نہیں لگائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کی حفاظت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ اگر مسلمان عمل سے دور ہوگئے اور انہوں نے خدمت قرآن کو چھوڑ دیا تو اللہ نے دشمنان قرآن کو ایمان کی دولت سے نواز کو محافظ قرار بنا دیا ۔ اس کی سب سے بڑی مثال تیرہویں صدی کا وہ عظیم الشان تاریخی واقعہ ہے جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔ مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے گئے، خون کی ندیاں بہا دی گئیں، ان کے کتاب خانے اور ان کی علمی کاوشوں کو تاتاریوں نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ کبھی دجلہ و فرات کا پانی ان کمزور مسلمان کے خون سے رنگین ہوگیا۔ کبھی ان کی کتابوں کی سیاہی سے پانی کا رنگ کالا ہوگیا۔ ان حالات کو دیکھ کر کمزور ایمان کے لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب دنیا سے اسلام اور قرآن مٹ جائیں گے لیکن اچانک اللہ نے تاتاریوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما دی اور وہ ایمان قبول کر کے محافظ قرآن بن گئے۔ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔ اس کی تعلیمات اور انداز تعلیم تک محفوظ ہے۔ قرآن کریم اور احادیث رسول ﷺ صرف کاغذوں کی حد تک نہیں بلکہ اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ آج دنیا میں اس قرآن کے تقریباً تین لاکھ حافظ قرآن موجود ہیں جن کے سینے قرآن کے نور سے منورہ روشن ہیں۔ صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ احادیث رسول اللہ ﷺ اور اللہ کے آخری نبی ﷺ کی ایک ایک ادا کے ہزاروں حافظ گذرے ہیں۔ علماء امت نے دین کی حفاظت کے لئے وہ کچھ کیا جو کسی امت نے نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے غریب مسلمانوں کو اس مقصد کے لئے منتخب فرما اپنی کہ ان سے حفاظت قرآن کا وعدہ پورا کیا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم دنیا میں سب سے طاقتور چیز ہے۔ جیسا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ اگر ہم اس ذکر کو یقینی قرآن کریم کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو وہ اس کے بوجھ کو کسی طرح برداشت نہ کرسکتا لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن جیسی طاقت کی حفاظت ہمیشہ معاشرہ کے کمزور اور غریب لوگوں نے کی ہے۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو تین لاکھ حافظان قرآن یا صبح و شام تلاوت کرنے والے یا قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس دنیاوی دولت نہیں ہوتی وہ معاشرہ کے غریب اور کمزور لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے دل قرآن کریم کے نور سے منور و روشن ہوت یہیں اور وہ اس دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ یوں تو اللہ جس کو بھی توفیق عطا فرما دے لیکن میں نے عام طور پر دیکھا ہے کہ جس کے پاس چار پیسے آجاتے ہیں وہ تو اپنے بچے کو قرآن حفیظ یاد کرنے کرانے کو وقت ضائع کرنے کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔ سوائے اللہ کی ان بندوں کے جن کے پاس غربت یا دولت مندی دونوں برابر ہوتی ہیں وہ اپنے بچوں کو دین پر قائم رکھتے ہیں۔ میرے کہنے کا منشا یہ ہے کہ عام طور پر کسی وزیر، بڑے سرمائے دار، و ڈیرے ، اور سرداروں کے بچے حافظان قرآن اور عالم دین نہیں ہوتے بلکہ غریب و مفلس گھرانے کے بچے قرآن کریم حافظ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری دنیا پر یہ واضع کردینا چاہتا ہے کہ اس کائنات میں ساری قوت و طاقت کا مالک صرف اللہ ہے وہ جس سے چاہے اپنے قرآن کی حفاظت کرالے لیکن اس نے اس قرآن جیسی طاقت کی حفاظت ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں سے کرائی ہے۔ وہ کسی کی طاقت و قوت کا محتاج نہیں ہے۔
Ayahs 15:10–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے لوگوں کے لئے رسول بھیجے تھے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں (خیالات کو) ڈالتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ طریقہ پہلوں ہی سے چلا آ رہا ہے

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کے لئے آسمان کا دروازہ کھول دیں پھر وہ اس میں چھڑتے چلے جائیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی وہ یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کا باندھ دیا گیا ہے بلکہ ہم پر تو بالکل ہی جادو کردیا گیا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15 شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 15 کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم فرشتے بھیج سکتے ہیں ہماری قدرت سے یہ باہر نہیں ہے لیکن اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ فرشتے اس وقت بھیجتا ہے جب کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ کر کے اس پر عذاب مسلط کرنا ہوتا ہے چونکہ اللہ بھی ان کفار کو مزید مہلت دے رہا ہے۔ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو پھر اللہ کا فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ان آیات میں مزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار و مشرکین کے مذاق اڑانے کی پرواہ نہ کریں۔ آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے گئے ہیں ان کا اسی طرح مذاق اڑایا گیا ہے۔ بلکہ ہم نے ان کے خیالات کے مطابق ان کو اپنی مجرمانہ حرکتیں کرنے کا پورا پورا موقع دیا تاکہ وہ اپنے جرم پر جم کر پہلے لوگوں کی طرح حرکتیں کرتے رہیں۔ فرمایا کہ جس کو ایمان لانا ہے اس کے لئے چند سچی باتیں ہی کافی ہیں لیکن جنہوں نے کفر و شرک پر جم جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ان کے لئے اگر آسمان کے دروازے بھی کھول دیئے جائیں اور وہ ان پر چڑھ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تب بھی وہ یہی کہیں گے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہماری نظر بندی کردی گئی تھی یا ہم پر جادو کردیا گیا تھا اور ہمیں وہ نظر آیا جو حقیقت نہیں تھا (نعوذ باللہ) فرمایا کہ یہ ان کی کافرانہ ضد اور ہٹ دھرمی ہے جو ان کی زندگی کا بھیانک پہلو ہے ” میں نہ مانوں “ کی رٹ نے ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے مذاق اڑانے اور طرح طرح کے مطالبات سے آپ رنجیدہ نہ ہوں آپ اپنا کام کئے جایئے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب یہی مذاق اڑانے والے اپنی بوٹیاں نوچتے ہوں گے اور اس وقت ان کا پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا۔
Ayahs 15:16–25

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمان میں ایسے برج (قلعے) بنا دیئے جنہیں دیکھنے والوں کے لئے خوبصورت بنا دیا گیا ہے

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ہر مرد ود شیطان سے محفوظ بنا دیا ہے۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ کوئی چوری چھپے سے سن لے تب ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین جسے ہم نے پھیلا دیا ہے جس میں بھاری پہاڑ جما دیئے اور اس میں ہم نے ایک مقدار کے مطابق ہر طرح کی نباتات (زمین سے اگنے والی چیزوں) کو اگا دیا ہے۔

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اس میں تمہارے لئے روزی کے ذرائع بنائے اور ان کے لئے بھی جن کے تم رازق نہیں ہو

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے خزانے (بھاری مقدار میں) ہمارے پاس نہ ہوں۔ مگر ہم ہر چیز ایک مناسب مقدار (اندازے) میں اتارتے ہیں۔

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں بھیجتے ہیں جو کہ بادلوں کو (پانی سے) بھر دیتی ہیں۔ پھر بلندی سے پانی نازل کرتے ہیں۔ پھر ہم تمہیں سیراب کردیتے ہیں اور تم اتنا جمع کر کے نہیں رکھ سکتے تھے

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم ہی زندگی دیتے ہیں، ہم موت دیتے ہیں اور ہم ہی وارث (مالک) ہیں۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ گذر گئے ہیں ہمیں ان کا بھی علم ہے جو پیچھے رہ جانے والے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ بیشک آپ کا رب ان سب کو (قیامت کے دن) جمع کرے گا۔ بیشک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔ الوارثون مالک، وارث علمنا ہم نے جان لیا۔ المستقدمین (استقدام) آگے رہنے والے المستاخرین پیچھے رہنے والے یحشر وہ جمع کرے گا۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے خود ہی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اسی طرح وہ اللہ انبیاء کرام اور ان کی نبوت کا بھی محفاظ و نگران ہے کفار و مشرکین استھزاء اور مذاق کے ذریعہ اس نور کو بجھانے کی کوشش میں کسر اٹھا نہیں رکھتے ہر طرح کے ظلم و ستم، زیادتیوں اور مذاق کے ہتھیار استعمال کر کے انبیاء کرام کو مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو ہر طرح کا غلبہ و قوت عطا فرما کر کفار و مشرکین کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ انکار نبوت کی نحوستوں کے بعد انکار توحید کرنے والوں کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ اس کائنات کو دیکھ کر اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ : 1) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایک خاص انداز سے ترتیب دیا ہے جس میں روشنیوں کو اس نے پھیلا دیا ہے بڑے بڑے ستارے، سیارے بنائے جن کو انسان رات دن کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے آسمان کی بلندیوں کو اتنا حسین اور خوبصورت بنایا ہے کہ جب رات کو چاند اور ستارے چمکتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے اللہ نے کہکشاں بکھیر دی ہے۔ انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ اتنا بڑا نظام کس نے پیدا کیا یقینا وہ ایک اللہ کی ذات ہے اسی نے اس کائنات اور اس کی خوبصورتیوں کو پیدا کیا وہی اس کا محافظ ، نگراں اورس نبھالنے والا ہے۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ہزاروں نشانیاں ان ہی میں موجود ہیں۔ 2) پھر آسمانوں پر شیطان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ شیطان اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ آسمانوں کی طرف بلند ہو کر فرشتوں کی گفتگو سے آئندہ ہونے والے حالات کی کچھ سن گن لیں۔ پہلے اس کی کسی حد تک اجازت بھی تھی لیکن نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس کی بھی ممانعت کردی گئی ہے۔ اب اگر وہ جنات و شیاطین آسمانوں کی طرف بلند ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہاں کی کچھ خبریں حاصل کرسکیں تو ان پر (شہاب ثاقب) شعلوں کی بارش کردی جاتی ہے تاکہ وہ کسی بات کو چوری چھپے بھی نہ سن سکیں۔ 3) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے زمین کو بڑی وسعت دی ہے اس کو خوب پھیلایا ہے۔ اس میں طرح طرح کے پھل پیدا کئے انسانی ضروریات کی تمام چیزوں کو پیدا کیا اور اس میں ایک ایسا تو ازن پیدا کردیا تاکہ ہر چیز ایک تعداد اور اندازے کے مطابق ہو۔ فرمایا کہ یہ اللہ ہی کا کرم ہے کہ اس نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح زمین میں گاڑ دیا تاکہ زمین اپنا تو ازن برقرار رکھ سکے اور ادھر ادھر ڈھلک نہ جائے۔ اسی زمین میں جہاں انسانوں کے لئے ہر چیز پیدا کی وہیں جانوروں کے لئے بھی غذا پیدا کی گئی۔ حالانکہ اصولاً تو ان جانوروں کا رزق انسانوں کے ذمے ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ ان کو استعمال کرتے ہیں لیکن فرمایا کہ انسان ہوں یا جانور زمین پر رینگنے والے، سمندروں میں پلنے والے جانور اور فضاؤں میں اڑنے والے پرندوں کا رزق ہمارے ذمے ہے انسان کی یہ ذمہ داری نہیں رکھی گئی۔ فرمایا کہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا اتنا بڑا نظام خود بخود چل رہا ہے ؟ حالانکہ زمین و آسمان کا یہ پورا نظام اپنے خالق ومالک کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کوئی ذات ہے جو اس پورے نظام کو چلا رہی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو ایک خاص تعداد، اندازے اور تو ازن سے پیدا کیا ہے۔ زمین میں اتنے خزانے چھپا دیئے ہیں کہ وہ ہر دور کے انسانوں کی ضرورت کے لئے کافی ہیں۔ 4) پھر فرمایا کہ ہم نے صرف زمین ہی نہیں بنائی بلکہ اس زمین کو سیراب کرنے کا بھی ایک نظام بنایا ہے خوب ہوائیں چلائیں جو بادلوں کو لے کر چلتی ہیں۔ پھر اللہ جہاں چاہتا ہے ان بادلوں سے پانی برسا دیتا ہے جس سے زمین کی پیاس بجھ جاتی ہے اور مردہ زمین کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ اس پانی سے نہریں چشمے دریا اور ندیاں بہتی ہیں جو پورے سال مستقل اس زمین پر رہنے والے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ حالانکہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں بنائی بلکہ وقتی گذارے کے لئے بنائی گئی ہے۔ آخر کار یہ زمین بھی فنا کردی جائے گی صرف ایک اللہ کی ذات باقی رہے گی۔ وہ اللہ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمائے گا اور ایک میدان میں جمع کر کے ان سے پوری زندگی کا حساب لے گا۔ جو لوگ نیکیوں اور پرہیزگاری کے ساتھ زندگی گذار کر آئیں گے ان کے لئے جنت کی ابدی راحتیں ہوں گی لیکن جو لوگ اللہ کی نافرمانی میں زندگی گذار کر آئے ہوں گے ان کے لئے ابدی جہنم اور اس کی آگ ہوگی۔