15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الرا یہ (خدا کی) کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں۔

(1) میں ایسا اللہ ہوں کہ تمام چیزوں سے باخبر ہوں یا یہ کہ ایک قسم ہے، یہ سورت ایک مکمل کتاب کی آیتیں ہیں اور میں قرآن کریم کی قسم کھاتا ہوں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔

(2) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کاش ہم دنیا میں مسلمان ہوتے اور جب کہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ہر مومن کو نکال کر جنت میں داخل فرمائے گا اس وقت بھی کافر خواہش کرے گا کہ کاش میں دنیا میں مسلمان ہوتا۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دو کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور (طول عمل) ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے۔ عنقریب ان کو اسکا (انجام) معلوم ہوجائے گا۔

(3) اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دیجیے تاکہ وہ خوب کھالیں اور کفر و مال حرام میں خوب مزے اڑا لیں اور لمبی لمبی آرزوئیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غفلت میں ڈالے رکھیں، ان کو مرنے کے وقت اور قبر میں اور پھر قیامت کے دن حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ ان کو کیا سزا ملے گی۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کا وقت (مرقوم و) معین تھا۔

(4) اور ہم نے جتنی بستی والوں کو ہلاک کیا ہے سب کی ہلاکت کے لیے ایک معین وقت نوشتہ ہوتا رہا ہے۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

(5) کوئی امت اپنے وقت مقررہ سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ اس وقت مقررہ سے پیچھے رہی ہے۔
Ayahs 15:6–7

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (کفار) کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا ؟

(6۔ 7) عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں نے رسول اکرم ﷺ سے یوں کہا اے وہ شخص جس پر تمہارے مطابق بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے، تم مجنون یا دیوانے ہو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے پاس آسمان سے فرشتے کیوں نہیں لاتے جو تمہارے رسول اللہ ﷺ ہونے کی گواہی دیں۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کیساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

(8) اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ ہم فرشتوں کو صرف ہلاکت اور تمہاری ارواح قبض کرنے کے لیے نازل کیا کرتے ہیں اور جب ان پر فرشتے نازل کیے جاتے تو پھر ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک یہ (کتاب) نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

(9) اے محمد ﷺ ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں کہ شیاطین میں سے کوئی بھی اس قرآن کریم میں کمی زیادتی نہیں کرسکتا اور نہ اس کے حکم میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے یا یہ کہ ہم کفار اور شیاطین سے رسول اکرم ﷺ کے محافظ ہیں۔
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔

(10) اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی رسولوں کو پچھلے لوگوں کے بہت سے گروہوں میں بھیجا تھا۔
Ayahs 15:11–13

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے تھے۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔

(11۔ 12۔ 13) اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق نہ کیا، اسی طرح ہم یہ جھٹلانا اور مذاق ان مشرکین مکہ والوں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں جس کی بنا پر یہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم اور نزول عذاب پر ایمان نہیں لاتے اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کے وقت اللہ تعالیٰ کا بھی قانون ان قوموں کی ہلاکت اور ان پر نزول عذاب کا چلا آرہا ہے۔
Ayahs 15:14–15

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھول دیں اور اس میں چڑھنے بھی لگیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

(14۔ 15) اور اگر اہل مکہ کے لیے ہم آسمان میں ان کے داخل ہونے کے لیے کوئی دروازہ کھول دیں اور فرشتوں کی طرح یہ کفار دن کے وقت اوپر جانے اور اترنے لگیں، تب بھی یوں کہہ دیں گے کہ ہماری نظربندی کردی گئی تھی، بلکہ ہم لوگوں پر تو بالکل جادو کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہماری عقل جاتی رہی۔
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کیلئے اس کو سجا دیا۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہ درگار سے اسے محفوظ کردیا۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اسکے پیچھے لپکتا ہے۔

(16۔ 17۔ 18) اور ہم نے آسمان میں حفاظت کے لیے ایسے ستارے پیدا کیے جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ستاروں سے آسمان کو آراستہ اور مزین کیا کہ دیکھنے والوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور آسمان کو ان ستاروں کے ذریعے ہر شیطان مردو وملعون سے محفوظ فرمایا کہ جب یہ شیاطین اوپرفرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچتے ہیں تو ان ستاروں سے اس کی حفاظت فرمائی، ہاں کوئی چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک گرم جلا دینے والا روشن شعلہ لپکتا ہے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اگائی۔

(19) اور ہم نے زمین کو پانی پر پھیلایا اور اس زمین پر بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیے جو اس کے لیے میخیں ہوگئے اور ہم نے ان پہاڑوں یا زمین میں بنائی ہوئی چیزیں اور ہر قسم کے پھل ایک مقررہ مقدار سے اگائے یا یہ مطلب ہے کہ تمام چیزیں پیدا کیں جن کا وزن کیا جاتا ہے جیسا کہ سونا، چاندی، لوہا، پیتل وغیرہ۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے۔

(20) اور ہم نے تمہارے لیے زمین سے نباتات اور پھل اور اسی طرح تمام وہ چیزیں جو تم کھاتے پیتے اور پہنتے ہو پیدا کیں اور ان پرندوں اور وحشی جانوروں کو بھی اور پیٹ میں بچہ کو بھی روزی دی جن کو تم روزی نہیں دیتے۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اتارتے رہتے ہیں

(21) اور جتنی بھی چیزیں نباتات ہوں خواہ پھل ہوں یا بارش سب کی کنجیاں (اور خزانے بھرے ہوئے) ہمارے قبضہ میں ہیں تمہارے قبضہ میں کچھ نہیں۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی (ہوتی ہیں) اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کا اسکا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔

(22) اور ہم حسب حکمت بارش کو ایک مقررہ مقدار سے برساتے رہتے ہیں اور ہم ہی ہواؤں کو بھجتے ہیں جو درخت اور بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، پھر اس زمین پر پانی بہا کر تمہارے پینے کے لیے انتظام کرتے ہیں اور تم بارش نہیں برساسکتے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم ہی سب کے وارث (مالک) ہیں۔

(23) اور ہم ہی حشر کے دن زندہ کریں گے اور ہم ہی دنیا میں مارتے ہیں اور تمام فخلوقات کے مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد آسمان و زمین کی تمام چیزوں کے ہم مالک ہیں۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں۔ اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

(24) اور تمہارے آباء و اجداد میں سے جو مرچکے ہیں یا یہ کہ تم میں سے جو صف اول میں ہوں گے اور اس طرح تمہارے بیٹے، پوتے، وغیرہ جو زندہ ہیں یا یہ کہ تم میں سے جو پچھلی صف میں ہوں گے، ہم سب کو جانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولقد علمنا المستقدمین“۔ (الخ) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، نسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ تمام لوگوں میں ایک سب سے زیادہ خوبصورت عورت حسناء رسول اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی تو کچھ لوگ آگے بڑے کر پہلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور کچھ لوگ پیچھے ہٹ کر پچھلی صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ اپنی بغلوں کے درمیان سے اس کو دیکھ سکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم تمہارے اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور ہم تمہارے پچھلوں کو بھی جانتے ہیں، اور ابن مردویہ نے داؤد بن صالح سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سہل بن حنیف انصاری سے آیت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا یہ آیت جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا نہیں بلکہ نمازوں کی صفوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔

(25) بیشک آپ کا پروردگار تمام اولین وآخرین کو قیامت کے دن جمع فرمالے گا وہ اس فیصلہ میں حکمت والا ہے اور ان کے حشر اور ثواب و عتاب کو جاننے والا ہے۔
Ayahs 15:26–27

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

(26۔ 27) اور ہم نے آدم ؑ کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا اور ابو الجن کو آدم ؑ سے پہلے ایسی آگ سے جس میں دھواں نہیں تھا پیدا کرچکے تھے۔
Ayah 15:28

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

(28) اور وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے کہا جو کہ زمین پر تھے اور تقریبا وہ دس ہزار تھے کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گاڑے کی بنی ہوگی پیدا کرنے والا ہوں۔
Ayah 15:29

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔

(29) سو جب میں اس کو پورا یعنی اس کے ہاتھوں پیروں، آنکھوں وغیرہ کو بنالوں اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں، سو تم سب اس کو سجدہ تحیہ کرنا۔
Ayahs 15:30–31

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گرپڑے

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔

(30۔ 31) چناچہ سب فرشتوں نے آدم ؑ کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس بات کو پسند نہ کیا یعنی وہ آدم ؑ کو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
Ayahs 15:32–34

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔

(32۔ 33۔ 34) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابلیس، میری رحمت سے دور ہونے والے تجھے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے کون سا امر مانع ہوا، کہنے لگا میں ایسا نہیں ہوں کہ مٹی سے بنے ہوئے بشر کو سجدہ کروں، ارشاد خداوندی ہوا، اچھا تو فرشتوں کی جماعت سے نکل یا یہ کہ میری رحمت سے دور ہو یا اس جگہ سے نکل جا، بیشک تو ملعون اور میری رحمت سے دور ہوگیا۔
Ayahs 15:35–38

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔

(35۔ 36۔ 37۔ 38) اور قیامت تک تجھ پر میری اور تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت رہے گی، ابلیس نے کہا تو پھر قیامت تک مجھ کو مہلت دیجیے، اس مردود نے چاہا کہ موت کا مزہ بھی نہ چکھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، جا تجھ کو ایک وقت تک مہلت دی گئی۔
Ayahs 15:39–40

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

(39۔ 40) کہنے لگا میرے رب آپ نے مجھ کو بحکم تکوین ہدایت سے گمراہ کیا ہے تو میں دنیا میں آدم ؑ کی اولاد کے سامنے لذات وشہوات کو آراستہ کرکے لاؤں گا اور ان سب کو ہدایت سے گمراہ کروں گا سوائے آپ کے ان بندوں کے جن کو آپ نے میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے یا سوائے موحدین کے۔