15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 15:80–81

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیر تے رہے۔

(80۔ 81) اور حضرت صالح ؑ کی قوم نے بھی حضرت صالح ؑ اور تمام رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں یعنی اونٹنی وغیرہ دیں، سو وہ لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمیان) سے رہیں گے

(82) اور وہ لوگ پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ مصیبت کے وقت سے امن میں رہیں یا یہ کہ عذاب سے امن میں رہیں۔
Ayahs 15:83–84

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔

(83۔ 84) سو ان کو صبح کے وقت ان پر عذاب خداوندی نازل ہوا اور ان کے قول و فعل اور غیر اللہ کی پرستش عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آئی۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہیں اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آ کر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔

(85) اور ہم نے تمام مخلوقات اور ان عجائبات کو حق و باطل کے اظہار اور ان کفار پر حجت قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اور قیامت ضرور آنے والی ہے تو آپ خوبی کے ساتھ انھیں معاف کیجیے، یہ آیت، آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔

(86) آپ کا پروردگار مومن و کافر سب کو قیامت کے دن زندہ کردے گا اور انکے ثواب و عذاب کا وہ بڑا عالم ہے اور ہم نے آپ کو ایک عظیم الشان نعمت دی ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

(87) یعنی قرآن کریم کی سورة فاتحہ کی سات آیتیں جو ہر ایک رکعت میں پڑھی جاتی ہیں یا یہ کہ ہم نے ایسا قرآن کریم آپ کو عطا فرمایا کہ وہ پورے کا پورا شافی ہے، چناچہ اس میں امر، نہی، وعد، وعید، حلال، حرام، ناسخ، منسوخ، حقیقت، مجاز محکم، متشابہ، جو ہوچکا اور جو ہوگا اس کی اطلاع ایک قوم کی تعریف اور دوسری قوم کی مذمت تو سارے قرآن کریم میں مضامین بھی مرر اور ہفت ہیں اور قرآن عزیز وعظیم کے ساتھ ہم نے آپ کو اعزاز عطا فرمایا جیسا کہ یہود ونصاری پر توریت وانجیل نازل کی کہ جنہوں نے آسمانی کتابوں کے حصے کر رکھے تھے ،
Ayahs 15:88–94

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔

(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی، حنظلہ بن ابی سفیان، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور تمام ان کفار پر جو کہ بدر کے دن مارے گئے نازل کیا، جنہوں نے قرآن کریم کے بارے مختلف باتیں بنائی تھیں، بعضوں نے جادو بعض نے شعر اور بعض نے پہلے لوگوں کے جھوٹے واقعات اور بعض نے کہا تھا کہ آپ کے یہ خود تراش لیا ہے۔ لہذا اے محمد ﷺ ہمیں کو آپ کے پروردگار کی قسم ہم قیامت کے دن دنیا میں جو کچھ یہ کہتے تھے یا یہ کہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہونے کی ضرور باز پرس کریں گے، آپ اپنے امر تبلیغ کو مکہ مکرمہ میں صاف صاف سنا دیجیے۔
Ayahs 15:95–96

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لئے جو تم سے اسہزا کرتے ہیں کافی ہیں۔

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔

(95۔ 96) اور یہ لوگ جو آپ پر ہنستے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہوں نے اور دوسرے معبود قرار دے رکھے ہیں تو ہم ان ہنسنے والوں کی ہنسی کو ضرور آپ سے دور کردیں گے، سو ان کو ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ایک دن ایک رات میں ہر ایک پر نیا عذاب نازل کرکے ہلاک کردیا اور یہ بدبخت پانچ تھے چناچہ عاص بن وائل سہمی کو تو کسی چیز نے ڈس لیا اور وہ اسی جگہ فورا امر گیا۔ اور حارث بن قیس سہمی نے نمکین یا تازہ مچھلی کھالی، اس کے بعد اسے پیاس لگی، اس نے پانی پی لیا، بدبخت کا اس سے پیٹ پھٹ گیا اور اسی جگہ پر مرگیا۔ اور اسود بن عبدالمطلب کا سر حضرت جبریل ؑ نے درخت سے اور اس کا منہ کانٹوں سے ٹکرا دیا اور وہ اسی مرگیا، اور اسود بن عبد یغوث سخت گرمی میں باہر نکلا تو اس کو زہر چڑھ گیا جس سے حبشی کی طرح سیاہ فام ہوگیا اپنے گھر واپس آیا تو گھروالوں نے دروازہ نہیں کھولا تو اس نے اپنا سر دروازہ پر مارا اسی سے مرگیا، اللہ تعالیٰ اس کو رسوا کرے۔ اور ولید بن مغیرہ مخزومی کے تیر کی نوک لگ گئی، اسی سے مرگیا، اللہ تعالیٰ ان بدبختوں کو اپنی رحمت سے دور کرے، سب کے سب مرنے کے وقت یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے محمد ﷺ کے پروردگار نے مار ڈالا۔ شان نزول : (آیت) ”انا کفینک“۔ (الخ) بزار، طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا مکہ مکرمہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا تو وہ بدبخت آپ کی گدی میں کو نچے مارنے لگے کہ یہ شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں نبی ہوں اور میرے ساتھ جبریل امین ؑ نے اپنی انگلی سے ایک کونچا مارا جو ان کے جسموں میں ناخن کی طرح لگا اور اس سے ایسے بدبودار زخم ہوئے کہ کوئی ان کے قریب بھی نہ جاسکتا (اور اسی حالت میں مرگئے) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی یعنی یہ لوگ جو ہنستے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں ان سے آپ کے لیے ہم ہی کافی ہیں۔
Ayahs 15:97–99

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔

(97۔ 98۔ 99) اور یہ کفار جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور معاذ باللہ آپ کو شاعر کاہن، ساحر وغیرہ کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس سے آپ دکھی ہوتے ہیں، سو آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور سجدہ کرنے والوں میں یا یہ کہ اطاعت کرنے والوں میں رہیے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پر مستقیم رہیے یہاں تک کہ اسی حالت میں آپ کو موت آجائے۔