Ayah 15:1آیت نمبر 1
الٓرٰ اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ اور الکتب کے بارے میں کہا گیا ہے : بیشک یہ اسم جنس ہے اور کتب سابقہ تورات اور انجیل کو شامل ہے، پھر ان دونوں کو کتاب مبین کے ساتھ ملا دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الکتاب سے مراد قرآن کریم ہے، اس کیلئے دو اسم جمع کئے گئے ہیں۔
Ayah 15:2آیت نمبر 2
رب یہ فعل پر داخل نہیں ہوتا، لیکن جب اس کے ساتھ ما مل جائے تو وہ اسے فعل پر داخل ہونے کے قابل بنا دیتا ہے مثلاً تو کہتا ہے : ربما قام زید، اور ربما یقوم زید۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ما نکرہ بمعنی شئ ہو، اور یود اس کی صفت ہو، ای رب شئ یود الکافر (یعنی کافر بہت زیادہ آرزو کریں گے) ۔ نافع اور عاصم نے ربھا باکو مخفف پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے اسے مشدد پڑھا ہے اور اس میں دونوں لغات ہیں۔ ابو حاتم نے کہا ہے : اہل حجاز ربما کو مخفف پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
ربما ضربۃ بسیف صقیل بین بصری و طعنۃ نجلاء
اور تمیم، قیس اور ربیعہ اسے مشدد پڑھتے ہیں۔ اور اس میں : ربما اور ربما، ربتما اور ربتما، با کو تخفیف اور تشدید دونوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور اس میں اصل یہ ہے کہ یہ تقلیل کیلئے آتا ہے اور کبھی کبھی یہ تکثیر کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ أی یود الکفار فی أوقات کثیرۃ لو کانوا مسلمین، (یعنی کفار بہت سے اوقات میں یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے) یہ کو فیوں نے کہا ہے۔ اور اسی سے شاعر کا قول بھی ہے :
ألا ربما أھدت لک العین نظرۃ قصار اک منھا أنھا عنک لا تجدی
اور ان میں سے بعض نے کہا ہے : یہ اس جگہ تقلیل کیلئے ہے، کیونکہ وہ یہ بعض مقامات میں کہیں گے نہ کہ تمام مقامات میں، عذاب میں مشغول ہونے کے سبب۔ واللہ اعلم۔ اور فرمایا : ربما یود بیشک یہ اس کام کے لئے ہوتا ہے جو واقع ہوجائے، کیونکہ یہ وعدے کی صداقت کے بارے میں ہے گویا کہ وہ عیاں ہوچکا ہے، اور طبرانی ابو القاسم نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک میری امت کے کچھ لوگ اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں داخل ہوں گے پس وہ جہنم میں رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ اس میں رہیں پھر مشرکین انہیں عار دلائیں گے اور وہ کہیں گے جو تم ہمارے ساتھ اپنی تصدیق اور ایمان میں مخالفت کرتے تھے ہم نہیں دیکھ رہے کہ اس نے تمہیں کوئی نفع دیا ہو پھر کوئی موحد باقی نہیں رہے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے نکال لے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین۔ حسن نہ کہا ہے : جب مشرک مسلمانوں کو دیکھیں گے کہ وہ جنت میں داخل ہوچکے ہیں اور وہ انہیں جہنم میں دیکھیں گے تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : یہ آرزو اور خواہش دنیا میں معانیہ کے وقت ہوگی جس وقت ان کے لئے گمراہی سے ہدایت واضح اور ظاہر ہوجائے گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آرزو قیامت میں ہوگی جب وہ مومنوں کی عزت و کرامت اور کافروں کی ذلت و رسوائی کو دیکھیں گے۔
Ayah 15:3آیت نمبر 3
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ذرھم یاکلوا ویتمتعوا یہ ان کیلئے تہدید اور جھڑک ہے۔ ویلھھم الامل یعنی جھوٹی امید انہیں طاعت سے غافل اور مشغول رکھے۔ کہا جاتا ہے : ألھاہ عن کذا یعنی اس نے اسے اس سے مشغول کردیا، غافل کردیا۔ اور لھی ھو عن الشئ یلھی (وہ فلاں شے سے غافل ہوگیا) فسوف یعلمون (وہ حقیقت کو خودبخود جان لیں گے) جب وہ قیامت کو دیکھیں گے اور اپنے کرتوتوں کا وبال چکھیں گے۔ یہ آیت آیۃ السیف کے ساتھ منسوخ ہے۔
مسئلہ نمبر 2: مسند بزار میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” چار چیزیں شقاوت اور بدبختی میں سے ہیں آنکھ کا خشک ہوجانا، دل کا سخت ہوجانا، لمبی امید رکھنا، اور دنیا کی حرص رکھنا “۔ اور لمبی امید اور آرزو و عاجز کردینے والی بیماری اور اپاہج کردینے والا مرض ہے، اور جب یہ دل پر قدرت پالے تو اس کا مزاج فاسد ہوجاتا ہے اور علاج مشکل اور سخت ہوجاتا ہے، نہ اس سے بیماری جدا ہوتی ہے اور نہ اس میں کوئی دوا اثر انداز ہوتی ہے، بلکہ وہ اطباء کو تھکا دیتا ہے اور حکماء اور علماء اس کے صحت مند ہونے سے مایود ہوجاتے ہیں۔ اور طویل امید کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا حریص ہونا اور اس پر گر پڑنا، اور اس کی محبت رکھنا اور آخرت سے اعراض کرنا۔ اور رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اس امت کے پہلے آنے والے لوگ یقین اور زہد کے سبب نجات پاگئے اور اس کے آخر میں آنے والے بخل اور امید کے سبب ہلاک ہوجائیں گے “۔ اور روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت ابو الدرداء ؓ دمشق کی مسجد کے صحن میں کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے اہل دمشق ! کیا تم اپنے نصیحت کرنے والے بھائی کی بات نہیں سنو گے ؟ بیشک جو تم سے پہلے تھے وہ کثرت سے جمع ہوتے تھے اور عمارتیں مضبوط بناتے تھے اور امیدیں دور کی رکھتے تھے، پس ان کے اجتماع ہلاک اور برباد ہوگئے، ان کی عمارتیں قبریں بن گئیں اور ان کی امیدیں غرور اور تکبر ہوگئیں۔ یہ (قوم) عاد تھی اس نے شہروں کو رہنے والوں، مال، گھوڑوں اور مردوں سے برا ہوا تھا۔ پس آج مجھ سے کون خریدے گا میں نے انہیں دو درہم کے عوض چھوڑ دیا ہے اور یہ اشعارک ہے :
یا ذا المؤمل آمالا وإن بعدت منہ ویزعم أن یحظی بأقصاھا
أنی تفوز بما ترجوہ ویک وما أصبحت فی ثقۃ من نیل أدناھا
اور حسن نے کہا ہے : کسی بندے نے امید کو طویل نہیں کیا مگر اس نے عمل کو برا کردیا۔ اور آپ ﷺ نے سچ کہا ہے ! پس امید آدمی کو عمل سے سست کردیتی ہے اور یہ تاخیر کرنے اور لاپرواہی برتنے کا وارث بناتی ہے، اور غفلت اور سستی کو اپنے پیچھے لاتی ہے، زمین کی طرف جھکا دیتی ہے، اور خواہش (نفس) کی طرف مائل کردیتی ہے۔ اور یہ ایسا امر ہے جس کا مشاہدہ آنکھوں کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہ کسی بیان اور وضاحت کا محتاج نہیں اور نہ ایسا کرنے والے سے دلیل طلب کی جائے گی، جیسا کہ امید کا مختصر ہونا کام اور عمل پر ابھارتا ہے، اور جلدی کی طرف پھیر دیتا ہے اور مسابقت پر برانگیختہ کرتا ہے۔
Ayah 15:4آیت نمبر 4
مراد وہ مقررہ وقت ہے جو ان کے لئے لوح محفوظ میں لکھا گیا تھا۔
Ayah 15:5آیت نمبر 5
اس میں من صلہ ہے، جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : ما جاءنی من احد (یعنی اس میں بھی من صلہ ہے) یعنی اس کی مقررہ مدت تجاوز نہیں کریگی کہ وہ اس سے زیادہ ہوجائے، اور نہ اس سے پہلے آئے گی۔ اور اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فاذا جآء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ (الاعراف) (سو جب آجائے ان کا مقررہ وقت تو نہ وہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں ایک لمحہ اور نہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں)
Ayahs 15:6–7آیت نمبر 6 تا 7
کفار قریش نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بطور استہزاء یہ کہا : بعدازاں آپ ﷺ سے اپنی صداقت پر بطوردلیل ملا ئ کہ کو لا نے کا مطا لبہ کیا۔ اور لوما یہ کسی کام پر ابھار نے کیلئے آتا ہے جیسا کہ لولا اور ھلا ہیں۔ اور فراء نے کہا ہے : لو ما میں میم لو لا میں لام کا بدل ہے اور اسی کی طرح استولی علی الشئ اور استوی علیہ ہے۔ اور اس کی مثال خالستہ اور خاللتہ بھی ہے، اور خلمی اور خلی بھی یہی ہے یعنی صدیقی (میرادوست) اور اس بنا پر یہ جائز ہے کہ لوما بمعنی خبر ہو، آپ کہتے ہیں : لومازید لضرب عمرو (اگر زیدنہ ہوتا تو عمر ومارتا) کسائی نے کہا ہے : لولا اور لوماخبر اور استفہام میں دونوں برابر ہیں۔ ابن مقبل نے کہا ہے :
لوما الحیاء ولوما الدین عبتکما ببعض مافیکماإذعبتماعوری
مرادلولا الحیاء ہے۔ اور نجاس نے لوما، لولا اور ھلاکو ایک ہی معنی میں بیان کیا ہے۔
اور اہل لغت نے اس پر یہ شعر بھی بیان کیا ہے :
تعدون عقر النیب افضل مجد کم بنی ضوطری لولا الکمی المقنعا
یہ بمعنی ھلاتعدون الکمی المقنعا ہے۔
Ayah 15:8آیت نمبر 8
حفص، حمزہ اور کسائی نے ماننزل الملئکۃ الا بالحق پڑھا ہے اور اسے ابو عبید نے اختیار کیا ہے۔ اور ابوبکر اور مفضل نے ماتنزل الملائکۃ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے ما تنزل الملائکۃ پڑھا ہے۔ اور اس کی تقدیر یہ ہے : ماتتنذل یعنی دو تاء کے ساتھ پھر ان میں سے ایک کو تخفیفاً حذف کردیا گیا ہے، اور بزی نے تاکو مشدد کردیا ہے۔ اور اسے ابو حاتم نے اس قول پر قیاس کرتے ہوئے اختیار کیا ہے : تنزل الملئکۃ والروح (القدر :4) (اترتے ہیں فرشتے اور روح) اور الا بالحق کا معنی الا بالقرآن ہے (یعنی ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر قرآن کے ساتھ) اور بعض نے کہا ہے : رسالۃ (پیغام) کے ساتھ ؛ یہ حضرت مجاہد سے منقول ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : مگر عذاب کے ساتھ اگر وہ ایمان نہ لائیں۔ وما کانوا اذا منظرین یعنی اگر ملائکہ انہیں ہلاک کرنے کے ارادہ سے نازل ہوں تو پھر انہیں مہلت دی جاتی اور نہ ان کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ملائکہ نازل ہوں، اور آپ کی شہادت دینے لگیں اور وہ اس کے بعد کفر کریں تو پھر انہیں مہلت نہ دی جائے گی۔ اذا اصل میں اذأن ہے اور اس کا معنی حینئذ (اس وقت) ہے پھر اس کے ساتھ أن ملا دیا گیا ہے، اور انہوں نے ہمزہ کو ثقیل سمجھا اور اسے حذف کردیا۔
Ayah 15:9آیت نمبر 9
قولہ تعالیٰ : انا نحن نزلنا الذکر یعنی ہم نے ہی اس قرآن مجید کو نازل کیا ہے۔ وانا لہ لحفظون اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اس سے کہ اس میں کوئی اضافہ اور زیادتی کی جائے یا اس سے کوئی کمی کی جائے۔ حضرت قتادہ اور ثابت بنانی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے کہ شیاطین اس میں کسی باطل کا اضافہ کریں یا اس سے کسی حق کی کمی کریں ؛ پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود اس کا ولی اور محافظ ہے اس لیے یہ ہمیشہ محفوظ رہے گا اور قرآن کریم کے علاوہ دوسری کتب کے بارے فرمایا : بما استحفظوا (المائدہ :44) پس ان کی حفاظت ان کے سپرد کردی تو انہوں نے انہیں بدل دیا اور ان میں تغیر کردیا۔ ہمیں الشیخ الفقیہ الامام ابو القاسم عبد اللہ نے اپنے باپ الشیخ الفقیہ الامام المحدث ابو الحسن علی بن خلف بن معزوز الکومی التلمسانی سے خبر دی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : الشیخۃ العالمہ فخر النساء شہدۃ بنت ابی نصر احمد بن الفرج الدینورمی پر پڑھا گیا اور وہ جمادی الآخر 564 ھ کے آخر میں اپنے گھر دار السلام میں تھیں۔ ان سے کہا گیا : الشیخ الأجل العامل نقیباء أبو الفور اس طراد بن ممد الزینبی نے ان سے پڑھنے کی تمہیں خبر دی اور تم سن رہی تھیں (یہ) 490 ھ کی بات ہے، ہمیں علی بن عبد اللہ بن ابراہیم نے خبر دی (انہوں نے کہا) ہمیں ابو علی عیسیٰ بن محمد بن احمد بن عمر بن عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج المعروف بالطوماری نے بیان کیا (انہوں نے کہا) ہمیں حسین بن فہم نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا : میں نے یحییٰ بن أکثم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مامون مجلس نظر و فکر (اور مذاکرہ) میں تھا اور وہی اس وقت امیر اور حاکم تھا۔ تو ان تمام لوگوں میں ایک یہودی آدمی داخل ہوا اس کا لباس حسین تھا، چہرہ خوبصورت تھا اور عمدہ خوشبو لگائے ہوئے تھا، راوی نے بیان کیا اس نے کلام کی اور اس نے اپنی کلام اور عبارت کو خوب آراستہ اور مزین کیا، راوی نے بیان کیا : کہ جب مجلس برخاست ہوئی تو مامون نے اسے بلایا اور اس سے پوچھا : کیا تو اسرائیلی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ تو مامون نے اسے کہا : تو اسلام قبول کرلے تاکہ میں تیرے ساتھ معاملات کروں اور حسن سلوک کا برتاؤ کروں، اور اس نے اسے دھمکی بھی دی تو اس نے کہا : میرا دین وہی ہے جو میرے آباؤ اجداد کا دین ہے ! اور واپس چلا گیا۔ راوی نے بیان کیا : پھر جب ایک سال گزرنے کے بعد وہ ہمارے پاس آیا تو وہ مسلمان تھا، اور اس نے فقہ سے متعلق انتہائی خوبصورت اور حسین گفتگو کی، پس جب مجلس برخاست ہوئی تو مامون نے اسے بلایا اور کہا : کیا کل تو ہمارا ساتھی نہ تھا ؟ اس نے جواب دیا : ہاں کیوں نہیں۔ تو مامون نے کہا : پھر تیرے اسلام کا سبب کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں تمہارے پاس سے واپس لوٹ کر گیا تو میں نے پسند کیا کہ میں ان ادیان کو آزماؤں، اور اس کے ساتھ ساتھ تو مجھے خوشنویس دیکھ رہا ہے، چناچہ میں تو رات کا قصد کیا اور اس کے تین نسخے لکھے اور ان میں کثھ کمی بیشی کردی، اور میں انہیں گرجاگھر میں لے گیا اور وہ مجھ سے خرید لئے گئے۔ پھر میں نے انجیل کو لیا اور اس کے تین نسخے لکھے اور اس میں کچھ زیادتی اور کچھ کمی کردی، اور انہیں لے کر یہودیوں کی عبادت گاہ میں گیا اور وہ مجھ سے خرید لی گئی۔ اور پھر میں نے قرآن کریم کا ارادہ کیا اور اس کے تین نسخے لکھے اور ان میں کچھ کمی بیشی کردی، اور انہیں لے کر کاغذ بیچنے والوں کے پاس گیا تو انہوں نے ان کو خوب غور سے دیکھا۔ پس جب انہوں نے ان میں کمی بیشی کو تلاش کرلیا تو انہوں نے انہیں پھینک دیا اور انہیں نہ خریدا ؛ تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے، پس یہی میرے اسلام لانے کا سبب ہے۔ یحییٰ بن أکثم نے کہا ہے : میں نے اس سال حج کیا اور میں حضرت سفیان بن عینیہ سے ملا اور ان سے اس خبر کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے فرمایا : اس کا مصداق کتاب اللہ میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا : کون سی جگہ میں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس میں جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تورات اور انجیل کے بارے میں فرمایا ہے : بما استحفظوا من کتب اللہ (المائدہ :44) (اس واسطے کہ محافظ ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب کے) پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت ان پر ڈال دی تو یہ ضائع ہوگئی، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : انا نحن نزلنا الذکر انا لہ لحفظون پس اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے لیا تو یہ ضائع نہ ہوا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وانا لہ لحفظون یعنی ہم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اس سے حفاظت کرنے والے ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹا قول کہیں یا ہم ان پر کوئی جھوٹ ڈال دیں۔ یا وانا لہ لحفظون یعنی ہم ان کی حفاظت کرنے والے ہیں اس سے کہ ان کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا جائے یا انہیں قتل کیا جائے۔ اور اس کی نظیر واللہ یعصمک من الناس (المائدہ : 67) ہے (اور اللہ تعالیٰ بچائے گا آپ کو لوگوں (کے شر) سے) ۔ اور نحن میں یہ بھی جائز ہے کہ وہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہو اور نزلنا اس کی خبر ہو اور پھر مکمل جملہ انا کی خبر ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ نحن، انا کے اہم کی تاکید ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہو اور پھر مکمل جملہ انا کی خبر ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ نحن، انا کے اہم کی تاکید ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہو اور یہ بطور فاصلہ (یا فارقہ) نہ ہو کیونکہ جو اس کے بعد ہے وہ معرفہ نہیں وہ بلاشبہ جملہ ہے، اور جملے نکروں کی صفت ہوتے ہیں لہٰذا یہ نکروں کے حکم میں ہوتے ہیں۔
Ayah 15:10آیت نمبر 10
اس کا معنی ہے : ولقد ارسلنا من قبلک رسلا بیشک ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے، پس رسلا کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور شیع، شیعۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی امت ہے یعنی پہلی امتوں میں ؛ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : پہلے گروہوں اور فرقوں میں، اور الشیعۃ کا معنی فرقہ، لوگوں کا ایسا گروہ ہے جو باہم محبت کرنے والے اور کلام میں متفق ہوں تو گویا الشیع سے مراد الفرق (فرقے) ہوا ؛ اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : او یلبسکم شیعا (الانعام :65 اور یہ اصل میں الشیاع سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جن کے ساتھ بڑی جلائی جاتی ہیں، جیسا کہ سورة الانعام
میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : بیشک یہاں الشیع سے مراد بستیاں ہیں۔
Ayah 15:11آیت نمبر 11
یہ حضور نبی رحمت ﷺ کے لئے باعث تسلی ہے ؛ یعنی جس طرح آپ کے ساتھ ان مشرکین نے کیا اسی طرح آپ سے قبل بھی رسولوں کے ساتھ کیا جاتا رہا۔
Ayahs 15:12–13آیت نمبر 12 تا 13
قولہ تعالیٰ : کذلک نسلکہ اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں گمراہی، کفر، استہزاء اور شرک فی قلوب المجرمین مجرموں کے دلوں میں جو آپ کی قوم میں سے ہیں ؛ یہ حضرت حسن اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، یعنی جس طرح ہم نے اسے ان لوگوں کے دلوں میں داخل کیا جو پہلی امتوں میں سے گزر چکے ہیں اسی طرح ہم اسے آپ کی قوم کے مشرکوں کے دلوں میں بھی داخل کریں گے تاکہ وہ آپ کے ساتھ ایمان نہ لائیں، جیسا کہ ان سے پہلے والے لوگ اپنے رسولوں کے ستاھ ایمان نہیں لائے۔ اور ابن جریج نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہم تکذیب (جھٹلانا) داخل کرتے ہیں۔ اور السلک کا معنی ہے : ایک شے کو دوسری شے میں داخل کرنا جیسا کہ دھاگہ سوئی میں داخل کرنا، کہا جاتا ہے : سل کہ یسلکہ سلکا و سلوکا، أسل کہ اسلاکا (داخل کرنا) اور سلک الطریق سلوک وسلکا وسلکا وأسل کہ دخلہ (یعنی وہ راستے میں داخل ہوا) ، اور ایک شے کا اپنے غیر میں اسی کی مثل ہونا ہے، اور ایک شے کا نیزے کے ساتھ اسی طرح ہونا ہے اور دھاگے کا جوہر میں ہونا ہے، یہ سب فعل اور افعل کے وزن پر ہیں۔ اور عدی بن زید نے کہا ہے :
وقد سلکوک فی یوم عصیب
(انہوں نے تجھے سخت گرم دن میں داخل کیا) اور السلک (کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی دھاگہ ہے۔ اور آیت میں قدریہ اور معتزلہ کا رد ہے۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ہم قرآن کو ان کے دلوں میں داخل کرتے ہیں اور وہ اسے جھٹلا دیتے ہیں۔ اور حسن، مجاہد اور قتادہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے یہی وہ قول ہے جس پر اکثر اہل التفسیر ہیں، اور یہی معتزلہ پر حجت لازم کرتا ہے۔ اور حسن (رح) سے یہ بھی منقول ہے : ہم حجت کا لازم کرنے کے لئے ذکر کو داخل کرتے ہیں ؛ اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ وقد خلت سنۃ الاولین یعنی کفار کو ہلاک کرنے کے بارے اللہ تعالیٰ کی یہی سنت گزر چکی ہے، پس یہ ہلاک ہونے والوں کے بہت قریب ہوچکے ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے : خلت سنۃ الاولین یعنی جس طرح انہوں نے تکذیب اور کفر کا ارتکاب کیا ہے اسی کی مثل پہلوں کی روش گزر چکی ہے، پس یہ انہی کی اقتدا کر رہے ہیں۔
Ayahs 15:14–15آیت نمبر 14 تا 15
کہا جاتا ہے : ظل یفعل کذا، یعنی وہ اسے دن بھر کرتا رہا۔ اور مصدر الظلول ہے۔ یعنی اگر وہ علامات اور نشانیاں جو انہوں نے تجویز کی ہیں پوری کر بھی دی جائیں تو وہ یقیناً کفر پر مصر رہیں اور خیالات (اور توہمات) کے ساتھ مشغول ہوجائیں، جیسا کہ قرآن معجز کے بارے انہوں نے کہا : بیشک یہ سحر اور جادو ہے۔ یعرجون یہ عرج یعرج سے ہے اس کا معنی چڑھنا ہے۔ اور المعارج سیڑھیوں کو کہتے ہیں، یعنی اگر وہ آسمان کی طرف چڑھ جائیں اور ملکوت و ملائکہ کا مشاہدہ کرلیں تو پھر بھی یقیناً کفر پر اصرار کریں ؛ یہ حسن (رح) وغیرہ سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علیھم میں ضمیر مشرکین کے لئے ہے اور فظلوا میں ضمیر ملائکہ کے لیے ہے، وہ آتے جاتے رہیں، یعنی اگر ان کے لیے عیاں کردیا جائے یہاں تک کہ وہ آسمان میں دروازوں کو دیکھنے لگیں کہ ان سے ملائکہ اوپر چڑھ رہے ہیں اور نیچے اتر رہے ہیں تو بھی وہ یقیناً کہیں گے : ہم نے اپنی آنکھوں کے ساتھ جو دیکھا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ اور سکرت کا معنی ہے سدت بالسحر (ہماری نظریں جادو کے ساتھ بند کردی گئی ہے) ؛ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ضحاک ؓ نے کہا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : سحرت (جادو کردیا گیا ہے) کلبی (رح) نے کہا ہے : أغشیت أبصارنا (ہماری آنکھیں ڈھانپ دی گئی ہیں) اور انہیں سے یہ بھی ہے عمیت (ہماری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں) ۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : أخذت (انہیں پکڑ لیا گیا ہے) ۔ اور مؤرج نے کہا ہے : دیربنا (ہمیں چکرا دیا گیا ہے) یہ دوران سے ہے ؛ یعنی ہماری آنکھیں نشے میں ہوگئی ہیں۔ جو یبر نے کہا ہے : خدعت ہماری آنکھوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ اور ابو عمرو بن العلاء نے کہا ہے : سکرت انہیں ڈھانپ دیا گیا ہے اور ان پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :
وطلعت شمس علیھا مغفر وجعلت عین الحرور تسکر
اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : سکرت، جست (وہ روک دی گئی ہیں) ۔ اور اس معنی میں اوس بن حجر کا قول ہے :
فصرت علی لیلۃ ساھرۃ فلیست بطلق ولا ساکرۃ
میں (مفسر کہتا ہوں : یہ تمام اقوال باہم قریب قریب ہیں اور ان تمام کو آپ کا یہ قول جامع ہے : منعت (ہماری نظریں روک دی گئی ہیں ؛ انہیں منع کردیا گیا ہے) ابن عزیز نے کہا ہے : سکرت ابصارنا ہماری نظریں بند کردی گئی ہیں۔ یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : سکرت النھر جب تو نہر کو بند کر دے۔ اور کہا جاتا ہے : یہ سکر الشراب (شراب کا نشہ) سے ماخوذ ہے، گویا کہ آنکھ کو وہ کچھ لاحق ہوجاتا ہے جو شراب پینے والے کو لاحق ہوتا ہے جبکہ وہ نشے میں ہو۔ اور ابن کثیر نے سکرت تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے تشدید کے ساتھ۔ ابن الاعرابی نے کہا ہے : سکرت بمعنی ملئت ہے (بھر دی گئیں) اور مہدوی نے کہا ہے : سکرت میں تخفیف اور تشدید دونوں بالکل ظاہر ہیں، تشدید تکثیر کے لئے ہے اور تخفیف اپنے معنی کو ادا کرتی ہے، اور معروف یہ ہے کہ سکر متعدی نہیں ہوتا۔ ابو علی نے کہا ہے : جائز ہے کہ اسے بصر میں متعدی سنا گیا ہو۔ اور جنہوں نے سکرت پڑھا ہے چونکہ انہوں نے اس کے مشابہ قرار دیا ہے جو کچھ نشے کی حالت میں ان کی آنکھوں کو پیش کرتا ہے، کیونکہ یہ نشے کے قائم مقام ہے کیونکہ اس صورت میں نشہ موجود نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ تخفیف کے ساتھ ہو تو سکر الشراب سے ماخوذ ہے، اور اگر تشدید کے ساتھ ہو تو أخذت (جادو کردیا گیا) کے معنی میں ہے، ان دونوں کو الماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : حضرت مجاہد اور حسن رحمہا اللہ تعالیٰ کی قرأت میں سے معروف سکرت تخفیف کے ساتھ ہے۔ حسن نے کہا ہے : بمعنی سحرت ہے (یعنی جادو کردیا گیا) اور ابو عبیدہ نے ابو عبیدہ سے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : سکرت ابصارھم جب ان پر بصارت کی کمزوری چھا جائے یہاں تک کہ وہ نہ دیکھ سکیں۔ اور فراء نے کہا ہے : جس نے سکرت پڑھا ہے اس نے اسے سکور الریح (ہوا کا پر سکون ہونا) سے لیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ اقوال باہم قریب قریب ہیں۔ اس میں اصل وہ ہے جو ابو عمر و بن العلاء (رح) تعالیٰ نے کہا ہے، انہوں نے کہا : یہ السکر فی الشراب (شراب میں نشہ ہونا) سے ماخوذ ہے۔ اور یہ قول اچھا ہے ؛ یعنی ان پر وہ شے چھا گئی جس نے ان کی آنکھوں کو ڈھانپ لیا جیسے نشے والے پر وہ شے چھا جاتی ہے جو اس کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور سکور الریح کا معنی ہوا کا ساکن ہونا اور اس کے تیزی کے بعد کم ہونا ہے پس یہ تحییر (حیرت میں ڈالنا) کے معنی کی طرف راجع ہے۔
Ayah 15:16آیت نمبر 16
جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے کفر اور ان کے بتوں کے عجز کا ذکر کیا تو پھر ساتھ ہی اپنی قدرت کا ملہ کا تذکرہ کیا تاکہ اس سے اس کی وحدانیت پر استدلال کیا جائے۔ البروج سے مراد محالات (القصور) اور منازل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : یعنی ہم نے آسمان میں سورج اور چاند کے بروج یعنی ان کی منازل بنائیں۔ اور ان بروج کے نام یہ ہیں : المحل، الثور، الجوذاء السرطان، الاسد، السنبلۃ، المیزان، العقرب، القوس، الجدی، الدلو اور الحوت۔ اور عرب علوم کی وجہ سے ستاروں کے واقع ہونے کی جگہوں اور ان کے دروازوں کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور ان سے راستوں، اوقات، شادانی (خوشحالی) اور خشک سالی پر استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک فلک میں بارہ برج ہیں، اور ہر برج اڑھائی میل کے فاصلے پر ہے۔ اور بروج کا اصل معنی الظھور (ظاہر ہونا) ہے ؛ اور اسی سے تبرج المرأۃ ہے یعنی عورت کا اپنی رینت اور سنگار کو ظاہر کرنا۔ یہ معنی سورة النساء میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : البروج سے مراد النجوم ستارے ہیں۔ اور انہیں یہ نام ان کے ظاہر ہونے اور ان کے بلند ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں، یہ ابو صالح نے کہا ہے، یعنی سات سیارے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : بروجا سے رماد ایسے محلات اور گھر ہیں جن میں محافظ اور نگران ہوتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان میں پیدا کیا ہے۔ فاللہ اعلم وزینھا یعنی ہم نے آسمان کو آراستہ کردیا ؛ جیسا کہ سورة الملک میں فرمایا : ولقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح (اور بیشک ہم نے قریبی آسمان کو چراغوں سے آراستہ کردیا ہے) ۔ للنظرین اعتبار اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔
Ayah 15:17آیت نمبر 17
یہاں رجیم بمعنی مرجوم (راندہ ہوا) ہے۔ اور الرجم کا معنی الرمی بالحجارۃ (پتھر مارنا) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الرجم کا معنی لعنت کرنا اور بھگانا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ رجیم آیا ہے وہ بمعنی الشتم (گالی دینا) ہے۔ اور کلبی (رح) نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ تمام آسمان حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک شیاطین سے محفوظ نہ تھے، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تو ان میں سے تین آسمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک محفوظ کرلیا، اور پھر آپ ﷺ کی بعثت کے بعد تمام آسمانوں کو محفوظ کرلیا اور ان (شیاطین) سے شہابوں کے ساتھ ان کی حفاظت اور نگرانی کی گئی۔ اور یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا ہے کہ شیاطین کو آسمان میں جانے سے نہیں روکا جاتا تھا، پس وہ اس میں داخل ہوجاتے تھے اور وہاں کی خبریں کاہنوں کے پاس پہنچاتے تھے، پس وہ ان پر نو کا اضافہ کرتے اور اس کے بارے اہل زمین کو بتاتے تھے ؛ ایک کلمہ حق ہے اور نو باطل ہیں ؛ پس جب وہ اسی شے کو دیکھتے جو انہوں نے کہی ہوتی تو وہ اس بارے میں ان کی تصدیق کرتے جو وہ لے کر آتے، پس جب حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کی ولادت ہوئی تو تین آسمانوں سے انہیں روک دیا، اور جب حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو تمام آسمانوں سے وہ روک دئیے گئے، پھر جو بھی کوئی چوری چھپے سننے کا ارادہ کرتا تھا اسے شہاب کے ساتھ بھگا دیا جاتا) جیسا کہ اس کا بیان آگے آرہا ہے۔
Ayah 15:18آیت نمبر 18
لیکن وہ جو چوری چھپے سن لے، یعنی کوئی تھوڑی سی چیز اچک لے، پس یہ استثناء منقطع ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ استثنا متصل ہے، یعنی سوائے اس کے جو چوری چھپے سن لے، یعنی ہم نے آسمان کو شیاطین سے محفوظ کردیا ہے کہ وہ وحی وغیرہ میں سے کسی چیز کو سنیں، بجز اس کے جو چوری چھپے سن لے کیونکہ ہم نے اسے اس سے محفوظ نہیں کیا کہ وحی کے سوا آسمان کی خبروں میں سے کوئی خبر سنی جائے، اور وہی وحی ! تو اس میں سے کوئی شے نہیں سنی کا سکتی ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انھم عن السمع لمعزولون (شعراء) (نہیں (شیطان کو) تو اس کے سننے سے بھی محروم کردیا گیا ہے) ۔ اور جب شیاطین کسی ایسی شے کی طرف کان لگا کر سنیں جو وحی نہیں تو وہ اسے آنکھ جھپکنے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ کاہنوں کی طرف پھینک دیتے ہیں۔ پھر شہاب (شعلے) ان کا تعاقب کرتے ہیں پس وہ انہیں قتل کردیتے ہیں یا ان کے اعضاء کو فاسد اور خراب کردیتے ہیں ؛ اسے حضرت حسن اور حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر کیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : فاتبعہ شھاب مبین۔ أتبعہ، اسے پالیتا ہے اور اسے پیچھے سے لاحق ہوجاتا ہے اور شہاب سے مراد روشن ستارہ ہے۔ اور اسی طرح شہاب ثاقب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : شھاب قبس (نمل :7) یعنی آگ کے اس شعلے کے ساتھ جو لکڑی کے سرے پر ہوتا ہے) یہ ابن عزیز نے کہا ہے۔ اور ذوالرمہ نے کہا ہے :
کأنہ کو کب فی إثر عفریۃ مسوم فی سواد اللیل منقضب
اور ستارے کو اسکی چمک اور روشنی کی وجہ سے شہاب کا نام دیا گیا ہے کہ وہ آگ کے مشابہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہاب سے مراد آگ کا شعلہ ہے، جو اہل زمین کے لیے جلایا جائے پس وہ انہیں جلا دیتا ہے اور لوٹ کر نہیں آتا جب وہ جلا دے جیسا کہ جب آگ جلا دے تو وہ نہیں لوٹتی، بخلاف ستارے کے کیونکہ جب وہ جلائے تو اپنی جگہ (اور مقام) کی طرف لوٹ آتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : شیاطین گروہ درگروہ اوپر چڑھتے ہیں اور چوری چھپے سنتے ہیں پھر ان میں سے زیادہ سرکش منفرد اور الگ ہوجاتا ہے اور وہ مزید بلند ہوت ا ہے، تو اسے شہاب (شعلے) کے ساتھ بھگا دیا جاتا ہے پس وہ اس کی پیشانی یا اس کی ناک پر یا جہاں اللہ تعالیٰ چاہے آلگتا ہے پس وہ جلنے لگتا ہے، اور وہ اپنے ساتھیوں کے پاس اسی حال میں آتا ہے کہ وہ جل رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے : بیشک امر اس اس طرح ہے، پس وہ کاہنوں میں سے اپنے بھائیوں کے پاس جاتے ہیں اور اس پر نو کا اضافہ کردیتے ہیں، اور وہ اس کے ساتھ اہل زمین سے گفتگو کرتے ہیں ؛ ایک کلمہ حق ہے اور نو باطل ہیں۔ پس جب وہ ان کے کہنے کے مطابق کوئی شے دیکھ لیتے کہ وہ اسی طرح ہوئی ہے، تو وہ (اہل زمین) ان کی ہر اس بات کی تصدیق کرلیتے جو انہوں نے اس کے ساتھ اپنی طرف سے جھوٹ بھی بولے، یہی معنی مرفوع روایت کے ساتھ سورة السبا میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور شہاب کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ قتل کرتا ہے یا نہیں ؟ تو حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ شہاب زخمی کردیتا ہے، جلا دیتا ہے اور اعضاء کو خراب اور فاسد کردیتا ہے، لیکن وہ قتل نہیں کرتا۔ حسن اور ایک گروہ نے کہا ہے : وہ قتل کردیتا ہے ؛ پس اس قول کی بنا پر جنوں تک سنی ہوئی بات پہنچانے سے پہلے شہابوں کے ساتھ ان کے قتل کے بارے میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بات جو انہوں نے چوری چھپے سنی ہے اسے اپنے غیر تک پہنچانے سے پہلے وہ قتل کر دئیے جاتے ہیں ؛ پس اس بنا پر آسمان کی خبریں غیر انبیاء تک نہیں پہنچ سکتیں، اسی لیے کہانت ختم ہوچکی ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے چوری چھپے سنا ہے اسے اپنے غیر جنوں تک پہنچانے کے بعد وہ قتل کئے جاتے ہیں ؛ یہی وجہ ہے کہ وہ اسے چرانے کے لئے دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے، اور اگر وہ بات نہ پہنچتی تو یقیناً چرانے کا سلسلہ منقطع ہوجاتا اور جلانے کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں ؛ پہلا قول زیادہ صحیح ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة الصافات میں آئے گا۔ اور علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا شہابوں کے ساتھ بھگانا بعثت سے پہلے بھی تھا ؟ تو اکثر نے کہا ہے : ہاں (یہ سلسلہ تھا) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نہیں، بلکہ یہ بعثت کے بعد شروع ہوا۔ اس مسئلہ کا بیان عنقریب سورة الجن میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور سورة الصافات میں بھی۔
زجاج نے کہا ہے : شہابوں کے ساتھ بھگانا حضور نبی کریم ﷺ کی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہے جو آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کے بعد ظاہر ہوئیں ؛ کیونکہ قدیم شعراء نے اپنے اشعار میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور نہ انہوں نے کسی تیز رفتار شے کو اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے جیسا کہ انہوں نے بجلی اور سیلاب کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اور یہ بعید نہیں کہ کہا جائے کہ ستاروں کا ٹوٹنا تو قدیم زمانے میں تھا لیکن وہ شیطانوں کو بھگانے کیلئے نہ تھا، پھر جس وقت حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو یہ انہیں بھگانے کے لئے ہوگیا۔ اور علماء نے کہا ہے : ہم ستاروں کو ٹوٹنا دیکھتے ہیں۔ پس یہ بھی جائز ہے کہ وہ اسی طرح ہو جیسے ہم دیکھتے ہیں پھر وہ آگ بن جاتا ہو جب وہ شیطان کو پالے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ کہا جائے : وہ ہوائے نفس کی آگ کے شعلے کے ساتھ بھاگتے ہیں اور اس میں ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ستارہ چل رہا ہے۔ اور لغت میں شہاب سے مراد روشن آگ ہے۔ اور ابو داؤد نے عامر شعبی سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب حضور نبی مکرم ﷺ کی بعثت ہوئی تو شیاطین کو ستاروں کے ساتھ بھگایا گیا اس سے قبل وہ اس کے سبب نہ بھگائے جاتے تھے، پس وہ عبد یا لیل بن عمر و ثقفی کے پاس آئے اور کہا : بیشک لوگ خوفزدہ ہوگئے ہیں اور وہ اپنے غلاموں کو آزاد کرنے لگے ہیں اور انہوں نے اپنے جانور چھوڑ دیئے ہیں جب سے انہوں نے ستاروں میں دیکھا ہے۔ تو اس نے انہیں کہا : اور وہ نابینا آدمی تھا۔۔۔ ؟ تم جلدی نہ کرو اور حالات دیکھو اور غور و فکر کرو پس اگر ستارے وہ ہیں جو معروف ہیں اور پہچانے جاسکتے ہیں تو پھر یہ لوگوں کے فناہ ہونے کا وقت ہے، اور اگر وہ ستارے پہچانے نہیں جاسکتے تو یہ کوئی حادثہ ہے جو پیش آنے والا ہے۔ پس انہوں نے غور سے دیکھا تو وہ ستارے نہیں پہچانے جاسکتے تھے، تو انہوں نے کہا : یہ کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے۔ پس ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے سن لیا۔
Ayahs 15:19–20آیت نمبر 19 تا 20
قولہ تعالیٰ : والارض مددنھا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے، اور ان میں سے جو اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : ہم نے زمین کو پانی کی سطح پر پھیلا دیا : جیسا کہ فرمایا : والارض بعد ذلک دحھا۔ (النازعات) (اور زمین کو بعد ازاں بچھا دیا) ۔ یعنی ہم نے اسے بچھا دیا۔ اور فرمایا : والارض فرشنھا فنعم المھدون۔ (الذاریات) (اور زمین کا ہم نے فرش بجھا دیا پس ہم کتنے اچھے (فرش) بچھانے والے ہیں) اور یہ اس کا رد ہو رہا ہے جس کا گمان یہ ہے کہ یہ (زمین) گیند کی مثل ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ والقینا فیھا رواسی اور ہم نے اس میں ثابت اور محکم پہاڑ گاڑ دئیے ہیں تاکہ یہ اپنے رہنے والوں کے ساتھ حرکت نہ کرے۔ واثبتنا فیھا من کل شیء موزون اور ہم نے اس میں ہر چیز معلوم اور معین مقدار کے ساتھ اگا دی ؛ یہ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے اور بیشک فرمایا : موزون کیونکہ وزن وہ ہے جس کے ستاھ کسی شئ کی مقدار پہچانی جاتی ہے۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے :
قد کنت قبل لقاء کم ذامرۃ عندی لکل مخاصم میزانہ
اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : موزون سے مراد مقسوم (تقسیم کیا گیا) ہے اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : موزون سے مراد معدود ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے : ھذا کلام موزون ؛ یعنی یہ کلام منظم ہے منتشر نہیں ہے۔ پس اس بنا پر معنی یہ ہوگا یعنی ہم نے زمین میں اگادی ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جاتا ہے جواہر، حیوانات اور معاون میں سے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کے بارے میں فرمایا : وانبتھا نباتا حسناً (آل عمران :37) اور یہاں انبات سے مقصود پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : انبتنا فیہا یعنی پہاڑوں میں من کل شیئ موزون یعنی ہم نے پہاڑوں میں ہر چیز ایک اندازے کے مطابق پیدا فرما دی سونے، چاندی، تانبے، سیسے، قزد پر (ایک دھات) میں سے حتیٰ کہ ہڑتال اور سرمہ اور ہر وہ شے جس کا وزن کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہر وہ شے جس میں ثمنوں کا وزن کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس شے کی نسبت قدر کے اعتبار سے اعلیٰ اور نفع کے اعتبار سے اعم ہوتی ہے جس کا کوئی ثمن نہ ہو۔ وجعلنا لکم فیھا معایش یعنی ہم نے تمہارے لئے اس میں کھانے پینے کی وہ چیزیں بنا دی ہیں جن کے ساتھ وہ زندگی گزارتے ہیں ؛ معایش کا واحد معیشۃ (یاء کے سکون کے ساتھ) ہے۔ اور اسی سے جریر کا قول ہے :
تکلفنی معیشۃ آل زید ومن لی بالمرقق والصناب
یہ اصل میں معیشۃ مفعلۃ کے وزن پر (یا متحرک کے ساتھ) ہے۔ سورة الاعراف میں یہ گزر چکا ہے۔ کہا گیا ہے : بیشک اس سے مراد ملابس (پہننے کے کپڑے) ہیں، یہ حسن نے کہا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : بیشک اس سے مراد مدت حیات تک اسباب رزق میں تصرف کرنا ہے۔ ماوردی نے کہا ہے : اور یہی ظاہر ہے۔ ومن لستم لہ برزقین مراد جانور اور چوپائے ہیں ؛ یہ حضرت مجاہد نے کہا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ بھی ہے کہ ان سے مراد غلام اور وہ بچے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : نحن نرزقھم وایاکم (الاسراء :31) (ہم ہی رزق دیتے ہیں انہیں بھی اور تمہیں بھی) اور لفظ من کے لئے جائز ہوتا ہے کہ وہ غلاموں اور چوپاؤں تمام کو شامل ہو جب وہ جمع ہوں ؛ کیونکہ جب ذوی العقول اور غیر ذوی العقول جمع ہوجائیں تو ذوی العقول غالب ہوتے ہیں، یعنی ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق، غلام، کنیزیں، جانور اور اولاد پیدا فرما دی ہے ہم انہیں رزق دیتے ہیں، تم انہیں رزق نہیں دیتے۔ پس اس تاویل کی بنا پر من محل نصب میں ہے ؛ یہ معنی حضرت مجاہد (رح) وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وحشی جانور ہیں۔ حضرت سعید نے بیان کیا ہے : ہم نے منصور نے ومن لستم لہ برزقین پڑھی اور کہا : یہ وحشی مراد ہیں۔ پس اس معنی کی بنا پر من غیر ذوی العقول کے لیے ہوگا، جیسا کہ اس آیت میں ہے فمنھم من یمشی علی بطنہ الآیہ (النور : 45) (تو ان میں کچھ تو رینگتے ہیں پیٹ کے بل۔۔۔۔ ) پس من محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف لکم میں کاف اور میم پر ہے۔ اور یہ بصریوں کے نزدیک قبیح ہے ؛ کیونکہ ان کے نزدیک ظاہر کا عطف مضمر پر جائز نہیں ہوتا مگر حرف جر کے اعادہ کے ساتھ ؛ جیسے مررت بہ وبزید۔ اور مررت بہ وزید کہنا شعر کے بغیر جائز نہیں ہوتا۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
فالیوم قربت تھجونا وتشتمنا فاذھب فما بک والأیام من عجب
اس میں الایام کا عطف بک پر بغیر حرف جر کے اعادہ کے ہے۔ یہ بحث سورة البقرہ اور سورة النساء میں گزر چکی ہے۔
Ayah 15:21آیت نمبر 21
قولہ تعالیٰ : وان من شیئ الا عندنا خزآینہ یعنی، مخلوق کے رزقوں اور ان کے منافع میں سے کوئی شے نہیں ہے مگر ہمارے پاس اس کے خزانے بھرے پڑے ہیں ؛ مراد آسمان سے نازل کی جانے والی بارش ہے، کیونکہ اسی کے ساتھ ہر شے اگتی ہے۔ حسن نے کہا ہے : بارش ہر شے کا خزانہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خزائن سے مراد مفاتیح (چابیاں) ہیں، یعنی رزق کی چابیاں آسمان میں ہیں ؛ یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ مفہوم دونوں کا ایک ہے۔ وما ننزلہ الا بقدر معلوم یعنی البتہ ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر اپنی مشیت کے مطابق اور اتنی مقدار میں جتنی مخلوق کو اس کی حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ؛ جیسا کہ فرمایا : ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشآء (الشوری :27) (اور اگر کشادہ کردیتا ہے اللہ تعالیٰ رزق کو اپنے (تمام) بندوں کیلئے تو وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں، لیکن وہ اتارتا ہے ایک اندازے سے جتنا چاہتا ہے) ۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ اور حکم بن عتیبہ وغیرہما سے روایت ہے کہ ایک سال دوسرے سال کی نسبت بارش کے اعتبار سے زیادہ اور کثیر نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ جیسے چاہے اسے تقسیم کرتا ہے، پس ایک قوم کو بارش عطا کی جاتی ہے اور دوسروں کو محروم رکھا جاتا ہے۔ اور بسا اوقات سمندروں اور چٹیل میدانوں میں بارش ہوتی ہے۔ اور الخزائن الخزانۃ کی جمع ہے، اور اس سے مراد وہ جگہ ہے جس میں انسان اپنا مال چھپا کر رکھتا ہے (محفوظ رکھتا ہے) اور الخزانۃ بھی خزن یخزن کا مصدر ہے۔ اور ہر وہ شے جو انسان کے خزانہ میں ہے وہ اس کے لئے تیار کی گئی ہے، پس اسی طرح جس چیز پر رب قدرت رکھتا ہے تو گویا وہ اسی کے پاس تیار کی گئی ہے ؛ یہ علامہ قشیری نے کہا ہے۔ اور جعفر بن محمد نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : عرش میں ہر اس شے کی مثال موجود ہے جو اللہ تعالیٰ نے بحر وبر میں تخلیق فرمائی ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تاویل ہے : وان من شیء الا عندنا خزآینہ اور اس میں انزال بمعنی انثاء (بنانا) اور ایجاد کرنا ہے ؛ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج (الزمر :6) (اور پیدا کئے تمہارے لئے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے) ۔
اور یہ ارشاد گرامی ہے : وانزلنا الحدید فیہ باس شدید (الحدید :25) (اور ہم نے پیدا کیا ہے لوہے کو اس میں بڑی قوت ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انزال بمعنی اعطاء (عطا کرنا) ہے، اور اس کا نام انزال اس لئے رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں۔
Ayah 15:22آیت نمبر 22
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وارسلنا الریح عام قراءت الریاح جمع کے ساتھ ہے۔ اور حمزہ نے اسے واحد پڑھا ہے ؛ کیونکہ ریح کا معنی جمع بھی ہے اگرچہ اس کا لفظ واحد ہے، جیسے کہا جاتا ہے : جاءت الریح من کل جانب (ہر طرف سے ہوا آئی) ۔ اسی طرح کہا جاتا ہے : أرض سبا سب (وہ زمین جو دور تک ہموار ہو) اور ثوب اخلاق (پرانے کپڑے) اسی طرح عرب ہر شے میں وسعت کردیتے ہیں۔ اور ہی قرأت عامہ کی وجہ تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت لواقح ذکر کی ہے اور یہ جمع ہے۔ اور لواقح کا معنی حوامل (اٹھانے والیاں) ہے ؛ کیونکہ ہوا پانی، مٹی، بادل، خیر اور دیگر منافع اٹھائے ہوئے ہوتی ہے (اس لئے اس کی صفت لواقع ذکر کی گئی ہے) ۔ ازہری نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ریح کو لاقح بنایا ہے کیونکہ وہ بادل کو اٹھائے ہوئے ہوتی ہے ؛ یعنی وہ اسے اٹھاتی ہے، اور اسے چلاتی ہے، اور پھر اسے برساتی ہے ؛ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : حتی اذا اقلت سحابا ثقالا (الاعراف :57) (یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں بھاری بادل) اور ناقۃ لاقح اور نوق لواقح جب اونٹنیاں اپنے پیٹوں میں جنین اٹھائے ہوئے ہوں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لواقح بمعنی ملقحۃ ہے اور یہی اصل ہے (حاملہ کرنے والی) لیکن ہوا پر کوئی چیز ڈالی نہیں جاتی بلکہ یہ بذات خود لاقح (اٹھانے والی (حاملہ) ہوتی ہے، گویا ہوائیں ہے (حاملہ کرنے والی) لیکن ہوا پر کوئی چیز ڈالی نہیں جاتی بلکہ یہ بذات خود لاقح (اٹھانے والی (حاملہ) ہوتی ہے، گویا ہوائیں خیرو بھلائی کے ساتھ حامل ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ذوات لقح (اٹھانے والی) ، اور یہ سب صحیح ہے ؛ یعنی ان میں سے وہ بھی ہیں جو درختوں میں تلقیح کا عمل کرتی ہیں : جیسے ان کا قول ہے، عیشۃ راضیۃ یعنی ایسی زندگی جس میں رضا اور خوشی ہے۔ اور لیل نائم یعنی ایسی رات جس میں نید آئے۔ اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو بادل لاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے : لقحت الناقۃ (عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ) لقحا ولقاحا (لام کے فتحہ کے ساتھ) فھی لاقح (یعنی اونٹنی حامل ہوئی) اور القحھا الفحل یعنی نر نے اس میں اپنا پانی ڈالا اور وہ حاملہ ہوگئی۔ پس ہوائیں بھی بادلوں کے لئے فحل (نر) کی طرح ہیں۔ جوہری نے کہا ہے : وریاح لواقح اور ملاقح نہیں کہا جائے گا، اور یہ نوادر میں ہے۔ مہدوی نے ابو عبیدہ سے بیان کیا ہے : لواقح بمعنی ملاقح ہے، اور یہ اس طرح گئے ہیں کہ یہ ملقحۃ اور ملقح کی جمع ہے، پھر اس سے حروف زائدہ کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ لاقحۃ اور لاقح کی جمع ہے، اس کا معنی ہے ذات اللقاح (حمل والی) اور یہ نسبت کی بنا پر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ لاقح کا معنی حامل (اٹھانے والا) ہو۔ اور عرب جنوب کے لئے لاقح اور حامل، اور شمال کے لئے حائل اور عقیم (بانجھ پن) کہتے ہیں۔ اور عبید بن عمیر نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ مبشرۃ (بشارت دینے والی ہوا) بھیجتا ہے اور وہ زمین کو مکمل طور پر صاف کردیتی ہے، پھر مثیرہ بھیجتا ہے اور وہ بادل کو چلاتی ہے، پھر مؤلفہ (اکٹھا کرنے والی) کو بھیجتا ہے اور وہ اسے اکٹھا اور جمع کردیتی ہے پھر اللواقح بھیجتا ہے اور وہ درختوں میں پیوند کاری کا عمل کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الریح الملاقح وہ ہوا ہے جو شبنم اٹھائے ہوتی ہے پس وہ اسے بادل میں ڈالتی ہے، پس جب وہ اس میں جمع ہوجائے تو وہ بارش بن جاتی ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جنوب کی ہوا جنت سے آتی ہے اور یہی وہ الریح اللواقح ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے اور اس میں لوگوں کے لئے منافع ہیں “۔ اور آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : جنوب سے کوئی ہوا نہیں چلتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وافر پانی والا چشمہ جاری فرما دیتا ہے “۔ اور ابوبکر بن عباس نے کہا ہے : بادل سے کبھی بارش نہیں برستی مگر اس کے بعد کہ اس میں چار قسم کی ہوائیں عمل کریں ؛ پس الصبا اسے ابھارتی اور جمع کرتی ہے، اور دبورا سے باروار بناتی ہے، اور جنوب اسے برساتی ہے اور شمال اسے منتشر اور متفرق کرتی ہے۔
مسئلہ نمبر 2: ابن وہب، ابن قاسم، اشہب، اور ابن عبد الحکم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ اشہب کے ہیں۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وارسلنا الریح لواقح پس میرے نزدیک گندم کا باروار ہونا یہ ہے کہ وہ دانہ لائے اور سٹہ بالیاں نکال لے، اور میں اسے نہیں جانتا جو اپنے شگوفوں میں خشک ہوجاتی ہے، لیکن جو دانے دار ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اگر اس وقت وہ خشک ہوجائے تو یہ ایسا فساد نہیں جس میں کوئی نفع نہ ہو۔ اور تمام درختوں کا بردار ہونا یہ ہے کہ وہ پھلدار ہوجائیں پھر اس سے گر جاتا ہے جو گر جاتا ہے اور ثابت اور قائم رہتا ہے جو ثابت رہتا ہے، اور یہ پکنے کے ساتھ لازم نہیں۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اس تفسیر میں امام مالک (رح) نے درخت کے باردار ہونے کو حمل کے اٹھانے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اور یہ کہ بچہ جب تیار ہوجائے اور اس کی خلقت مکمل ہوجائے اور اس میں روح پھونک دی جائے تو وہ پھل کے دانے دار ہونے اور اس کے بالیاں نکالنے کے قائم مقام ہے ؛ کیونکہ اسے ایسا نام دیا گیا ہے جس میں ہر حاملہ شریک ہوتی ہے اور وہ اللقاح ہے، اور اسی کے بارے حدیث بھی ہے حضور نبی مکرم ﷺ نے دانے کی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ پک (کر سخت ہو) جائے۔ ابن عبد البر نے کہا ہے : اہل علم کے نزدیک کھجور کے درخت میں پیوندکاری یہ ہے کہ کھجور کے نر گابھے اور شگوفے سے کوئی شے لی جاتی ہے اور اسے مادہ گابھے کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ اور باقی پھلوں میں اس کا معنی یعنی انجیر وغیرہ میں سے پھل کا ظاہر ہونا ہے یہاں تک کہ پھل دکھائی دینے لگے، اس کی طرف دیکھا جاسکتا ہو۔ امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب کے نزدیک پھلوں میں سے وہ جن کا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ جن کا ذکر نہیں کیا جاتا ان میں میں معتبر یہ ہے کہ اس کی کل ثابت رہے جو ثابت رہتا ہے اور اس کی گرجائے جو گر جاتا ہے۔ اور کھیتی ہیں اس کی حد (تعریف) یہ ہے کہ وہ زمین سے ظاہر ہوجائے ؛ یہ امام مالک (رح) نے کہا ہے۔ اور ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ کھیتی کا باردار ہونا یہ ہے کہ وہ دانے دار ہوجائے۔ اور علماء کا کوئی اختلاف نہیں کہ باغ جب شق (پھٹ) ہوجائے تو اس کا مونث ہونا ظاہر ہوگیا تو اس کی تلقیح کو موخر کردیا جائے اور اس کے غیر کی تلقیح کردی جائے جس کی حالت اس کی حالت کی مثل ہے، تو اس کا حکم اسی کے حکم کی مثل ہوگا جس کا گابھا لگایا گیا، کیونکہ اس پر گابھا لگا نے کا وقت آیا اور اس کا پھل دانے میں غیب ہونے کے بعد ظاہر ہوا۔ اور اگر کسی نے بعض باغ کی پیوند کاری کی تو جس حصے کی پیوند کاری نہیں کی گئی وہ اس کے تابع ہوگا۔ جیسا کہ وہ باغ جس کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہوجائے تو سارا باغ بیع کے جائز ہونے میں اس صلاحیت کے ظاہر ہونے والے حصے کے تابع ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: تمام ائمہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے جس کھجور کا درخت پیوند کاری کے بعد خریدا تو اس کا پھل اس کے لئے ہوگا جس نے اسے بیچا مگر یہ کہ مشتری اپنے لئے اس کی شرط لگا لے، اور جس نے غلام خریدا تو اس کا مال اس کے لئے ہوگا جس نے اسے فروخت کیا مگر یہ کہ مشتری اپنے لئے اس کی شرط لگالے “۔
ہمارے علماء نے کہا ہے : بیشک پیوندکاری کیا ہوا پھل بیع میں اصول (درختوں) کے ساتھ داخل نہیں ہوتا مگر شرط کے ساتھ، کیونکہ وہ عین موجود ہے جس کے ساتھ غالبا اس کے گرنے سے محفوظ ہونے کا احاطہ کیا جاسکتا ہے، بخلاف اس کے جس کی پیوندکاری نہ کی جائے ؛ کیونکہ جب وہ گرنے سے محفوظ نہیں تو پھر اس کے لئے وجود بھی متحقق نہیں، پس بیچنے والے کے لئے نہ اس کی شرط لگانا جائز ہے اور نہ اس کی استثنا کرنا ؛ کیونکہ یہ جنین کی طرح ہے۔ اور امام مالک (رح) کے مذہب سے یہی مشہور ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی استثنا جائز ہے اور یہی امام شافعی (رح) کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 4: اگر کھجور خریدا جائے اور پھل بائع کے لئے باقی رہے تو درخت خریدنے والے کے لئے پھل پکنے سے پہلے اسے خرید لینا جائز ہے۔ یہ امام مالک (رح) کے مشہور قول کے مطابق ہے۔ وہ اس کے لئے تبعیۃ کا حکم لگاتے ہیں اگرچہ اس کی بیع الگ کی گئی ہے، اور آپ سے ایک روایت ہے کہ یہ جائز نہیں۔ اور امام شافعی، امام ابو حنیفہ، ثوری، اہل ظواہر اور فقہاء الحدیث رحمہم اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کہا ہے۔ اور یہی پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی بیع کرنے سے نہی والی احادیث سے ظاہر ہے۔
مسئلہ نمبر 5: اور ان میں سے جو اس باب سے تعلق رکھتی ہیں وہ ملاقح کی بیع سے نہی بھی ہے ؛ اور ملاقح سے مراد نر اونٹ ہیں، یہ
ملقح کی جمع ہے۔ اور ملاقح سے مراد وہ مونث بھی ہیں جن کے پیٹوں میں ان کے بچے ہوں، اس کی واحد ملقحۃ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ اور ملاقیح وہ جنین ہیں جو اونٹنیوں کے پیٹوں میں ہوں، اس کی واحد ملقوحۃ ہے، اور یہ ان کے اس قول سے ہے : لقحت (اونٹنی حاملہ ہوگئی) ؛ جیسا محموم حم سے ہے، اور مجنون جن سے ہے، اور اس بارے میں بھی نہی وارد ہے، تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے مجر سے منع فرمایا اور یہ ان اجنہ کی بیع ہے جو ابھی تک ماؤں کے پیٹوں میں ہوں۔ اور آپ نے مضامین اور ملاقیح سے بھی منع فرمایا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : مضامین وہ ہیں جو پیٹوں میں ہوں، اور وہ جنین ہیں۔ اور ملاقیح وہ ہیں جو ابھی نروں کی صلبوں میں ہوں۔ اور یہی حضرت سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے۔ اور اس کا برعکس بھی کہا گیا ہے : بیشک مضامین وہ ہیں جو اونٹوں کے پیٹوں میں ہوں، اور ملاقیح وہ ہیں جو مونث (اونٹنیوں) کے پیٹوں میں ہوں۔ اورع یہ ابن حبیب وغیرہ کا قول ہے۔ دونوں امروں میں سے جو بھی ہو، پس مسلمان علماء کا اس پر اجماع ہے کہ یہ بیع جائز نہیں ہے۔ اور مزنی نے ابن ہشام سے بطور شاہد یہ ذکر کیا ہے کہ ملاقیح وہ ہیں جو پیٹوں میں ہوں۔ کیونکہ بعض اعرابی کہتے ہیں :
منیتی ملاقحا فی الأبطن تنتج ما تلقح بعد أزمن
اور جوہری نے اس پر بطور شاہد راجز کا قول ذکر کیا ہے :
إنا وجدنا طرد الھوامل خیرا من التأنان والمسائل
وعدۃ العام و عام قابل ملقوحۃ فی بطن ناب حائل
قولہ تعالیٰ : فانزلنا من السمآء یعنی بادل سے ہم اتارتے ہیں، اور ہر وہ شے جو تجھ پر بلند ہو اور تجھ پر سایہ فگن ہو اس کا نام سماء ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہم اتارتے ہیں آسمان کی طرف سے۔ مآء یعنی بارش۔ فاسقینکموہ یعنی ہم نے اس بارش کو تمہارے پینے کے لئے اور تمہارے مویشیوں اور تمہاری زمین کو سیراب کرنے کے لئے بنایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سقی اور أسقی دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ اور ان کے درمیان فرق کا قول بھی کیا گیا ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وما انتم لہ بخزنین یعنی تمہارے پاس اس کا ذخیرہ نہیں ہے ؛ یعنی ہم اس پانی کو ذخیرہ کرنے والے ہیں جب ہم چاہتے ہیں ہم اسے برساتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اسے روک لیتے ہیں۔ اور اسی کی مثل یہ ارشادات ہیں : وانزلنا من السمآء مآء طھورا۔ (الفرقان) (اور ہم اتارتے ہیں آسمان سے پاکیزہ پانی) وانزلنا من السمآء بقدر فاسکنہ فی الارض، وانا علی ذھاب بہ لقدرون۔ (المومنون) (اور ہم نے اتارا آسمان سے پانی اندازہ کے مطابق پھر ہم نے ٹھہرا لیا اسے زمین میں اور یقیناً ہم اسے بالکل ناپید کرنے پر پوری طرح قادر ہیں) اور سفیان (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم بارش کو روکنے والے نہیں ہو۔
Ayah 15:23آیت نمبر 23
یعنی بیشک ہم ہی زمین کو اور اس پر بسنے والوں کو زندہ کرتے ہیں، اور ہمارے سوا کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون۔ (مریم) (یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے) پس ہر شے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، لیکن اس نے اپنے بندوں کو املاک کا مالک بنایا ہے پس وہ مرجائیں گے تو ان کے دعوے ختم ہوجائیں گے، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ وارث ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں احیاء (زندہ کرنے) سے مراد رحموں میں نطفہ کو زندہ کرنا ہے۔ اور رہا بعث بعد الموت تو اس کا ذکر اس کے بعد کیا اس ارشاد میں : وان ربک ھو یحشرھم (الحجر :25) (اور بیشک آپ کا پروردگار ہی انہیں (روز قیامت) جمع کرے گا) ۔