Ayahs 15:57–60آیت نمبر 57 تا 60
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب آپ نے جان لیا کہ یہ ملائکہ ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کو خارق عادت امر کے بارے خبر دی اور وہ ان کے بچے کی ولادت کے بارے خوشخبری دینا ہے۔ تو آپ نے کہا : تم کس اہم کام کے لئے آئے ہو ؟ اور الخطب کا معنی ہے الامر الخطیر اہم ذی مرتبہ کام، یعنی تمہارا کام اور مقصد کیا ہے اور کس کام کی غرض سے تم آئے ہو ؟ قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین انہوں نے کہا : بیشک ہم مشرک اور گمراہ قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اور کلام میں اضمار ہے : ای أرسلنا الی قوم مجرمین لنھلکم (ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک کردیں) ۔ الا ال لوط سوائے آپ کی پیروی کرنے والوں کے اور آپ کے دین کو ماننے والوں کے۔ انا لمنجوھم حمزہ اور کسائی نے لمنجوھم تخفیف کیساتھ پڑھا ہے یہ أنجی سے ماخوذ ہے۔ باقیوں نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے یہ نجی سے ماخوذ ہے، اور اسے ابو عبیدہ اور ابو حاتم میں سے آپ کی بیوی کی استثنا ہے اور وہ کافرہ تھی پس وہ ہلاکت میں مجرموں کے ساتھ مل گئی۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں گزر چکا ہے جو کچھ وہاں ہے وہ کافی ہے۔ قدرنا انھا لمن الغبرین یعنی ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے اور ہم نے لکھ دیا ہے کہ وہ عذاب میں باقی رہنے والوں سے ہوگی۔ اور الغابر کا معنی الباقی (باقی رہنے والا) ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے بھی کہا ہے :
لا تکسع الشول بأغبارھا إنک لا تدری من الناتج
الأغبار کا معنی باقی رہنے والا دودھ ہے۔ ابوبکر اور مفضل نے قدرنا یہاں اور سورة نمل میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے اسے مشدد پڑھا ہے۔ ہر وی نے کہا ہے : کہا جاتا ہے کہ قدر اور قدر دونوں ہم معنی ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: اہل زبان اور ان کے سوا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ نفی سے استثنا اثبات اور اثبات سے استثنا نفی ہوتا ہے ؛ پس جب کوئی آدمی کہے : لہ علی عشرۃ دراھم الا أربعۃ الا درھما (اس کے مجھ پر دس درہم ہیں سوائے چار کے سوائے ایک درہم کے) تو اس سے سات درہموں کا اقرار ثابت ہوا ؛ کیونکہ ایک درہم کی استثنا چار سے کی گئی ہے، اور یہ مثبت ہے کیونکہ یہ منفی سے مستثنی ہے، اور اربعہ (چار) منفی ہے، کیونکہ اس کی استثنا کلام موجب سے کی گئی ہے اور وہ عشرہ (دس) ہے، پس ایک درہم چھ کی طرف لوٹ گیا اور دو سات ہوگئے۔ اور اسی طرح اگر کوئی کہے : علی خمسۃ دراھم الادرھما الا ثلثیہ (مجھ پر پانچ درہم ہیں سوائے ایک درہم کے سوائے اس کے دو تہائی کے) تو اس پر چار درہم اور ایک درہم کا ایک ثلث لازم ہوگا۔ اور اسی طرح جب کسی نے کہا : لفلان علی عشرۃ الا تسعۃ الاثمانیۃ الا سبعۃ (فلاں کے مجھ پر دس ہیں سوائے نو کے سوائے آٹھ کے سوائے سات کے) تو دوسری استثنا اپنے ماقبل کی طرف لوٹ جائے گی، اور تیسری دوسری کی طرف لوٹ جائے گی، نتیجتاً اس پر دو درہم لازم ہوں گے ؛ کیونکہ دس اثبات ہے اور آٹھ بھی اثبات ہے پس یہ مجموعی طور پر اٹھارہ درہم ہوجائیں گے۔ پھر نو بھی نفی ہے اور سات بھی نفی ہے تو یہ سولہ درہم ہوگئے جو اٹھارہ سے ساقط ہو رہے ہیں پس باقی دو درہم رہ جائیں گے، اور یہی مقدار اقرار کے ساتھ واجب ہوئی ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔ پس قولہ سبحانہ و تعالیٰ : انا ارسلنا الی قوم مجرمین۔ الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین۔ الا امراتہ پس اس میں مجرموں کی قوم سے آل لوط کی استثنا کی ہے، پھر فرمایا الا امراتہ پھر اس کی استثنا آل لوط سے کی، تو یہ تاویل میں مجرموں کی قوم کی طرف لوٹ گئی جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔ اور اسی طرح کا حکم طلاق میں ہے، اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا : أنت طالق ثلاثا إلا اثنتین إلا واحدۃ (تجھے تین طلاقیں سوائے دو کے سوائے ایک کے) تو وہ دو طالقوں کے ساتھ مطلقہ ہوگی، کیونکہ ایک مستثنیٰ منہ جو کہ تین طلاقیں ہیں سے باقی رہنے والی طلاق کی طرف لوٹ جائے گی اور اسی طرح اس کا حکم ہے جو اس طرز پر آئے تو اسے سمجھ لے۔
Ayahs 15:61–66آیت نمبر 61 تا 65
قولہ تعالیٰ : فلما جآء ال لوط المرسلون۔ قال انکم قوم منکرون یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جواب تھے اور آپ نے جب حسن و جمال دیکھا تو ان کے بارے میں اپنی قوم کے فتنے کا آپ کو خوف لاحق ہوا، پس یہی وہ انکار اور اجنبیت ہے۔ قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون (فرشتوں نے کہا : (ہم اجنبی نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لے آئیں گے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے کہ وہ ان پر نازل ہوگی۔ اور وہ عذاب ہے واتینک بالحق اور ہم آپ کے پاس لے آئیں ہیں حق یعنی سچ۔ اور بعض نے کہا ہے : عذاب۔ وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم ان کی ہلاکت کے بارے میں سچ کہہ رہے ہیں۔ فاسر باھلک بقطع من الیل اس کا ذکر سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ واتبع ادبارھم یعنی آپ ان کے پیچھے رہ کر چلئے تاکہ ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے کہ اسے عذاب آپہنچے۔ ولا یلقفت منکم احد انہیں پیچھے مڑنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ وہ چلنے میں پوری کوشش کریں اور گاؤں سے بہت دور نکل جائیں اس سے پہلے کہ ان پر صبح طلوع ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کوئی پیچھے نہ رہے۔ وامضوا حیث تؤمرون (اور چلے جائیے وہاں جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : مراد شام ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : مراد صفد ہے، اور یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک آپ ارض خلیل کی طرف چلے گئے اسے یقین کہا جاتا ہے، اور اس کا نام یقین اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جب پیغامبر (فرشتے) نکلے تو آپ ان کے پیچھے گئے، اور آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا : انہیں کہاں سے دھنسا یا جائے گا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ” یہاں سے “۔ اور آپ نے مقررہ حد بیان کردی، اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) چلے گئے، پس جب حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹھے اور دونوں اس عذاب کا انتظار کرنے لگے، پس جب زمین لرزہ براندام ہوئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا أیقنت باللہ قسم بخدا ! میں نے یقین کرلیا۔ تو اس وجہ سے اس کا نام یقین رکھ دیا گیا۔
Ayahs 15:67–71آیت نمبر 66 تا 71
قولہ تعالیٰ : وقضینا الیہ یعنی ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف وحی کردی۔ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اس کی نظیر یہ قول ہے فقطع دابر القوم الذین ظلموا (الانعام :45) (تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا) ۔ مصبحین یعنی صبح طلوع ہونے کے وقت اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وجآء اھل المدینۃ اور (اتنے میں) حضرت لوط (علیہ السلام) کے شہر والے آگئے یستبشرون مہمانوں کے سبب خوشیاں مناتے ہوئے اس حرص اور طمع میں کہ وہ ان سے برائی کا ارتکاب کریں گے۔ ان ھؤلاء ضیفی بیشک یہ میرے مہمان ہیں۔ فلا تفضحون یعنی تم مجھے شرمسار نہ کرو۔ واتقوا اللہ ولا تخزون یہ بھی جائز ہے کہ یہ الخزی سے ہو اور اس کا معنی ذلت اور رسوائی ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الخزایۃ سے ہو اور اس کا معنی حیاء اور خجالت و شرمندگی ہے۔ اس کا بیان سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ قالوا اولم ننھک عن العلمین وہ بولے : کیا ہم نے تمہیں کسی کو مہمان بنانے سے منع نہیں کیا تھا کیونکہ ہم ان سے برائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے فعل کے ساتھ اجنبیوں کا قصد کر رہے تھے ؛ یہ حسن سے منقول ہے۔ اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کیا ہم نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تھا کہ آپ لوگوں میں سے کسی کے بارے ہم سے کلام کریں جب ہم اس سے برائی کا قصد کریں قال ھؤلاء بنتی ان کنتم فعلین یعنی تم ان سے شادی کرلو اور حرام کی طرف مائل نہ ہو۔ اس کا بیان سورة ہود میں گزر چکا ہے۔
Ayah 15:72آیت نمبر 72
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قاضی ابوبکر بن عربی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین نے بالاجماع کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے ان کی حیات مبارکہ کی قسم کھائی ہے کہ آپ کی قوم قریش (اپنی طاقت کے نشہ میں) مست ہے (اور) بہکے بہکے پھر رہے ہیں اور اپنی حیرت میں ڈوبے ہوئے ٹامک ٹوٹیاں مار رہے ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی طرح حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اس بارے میں اہل تفسیر نے اجماع کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدت حیات کی قسم ہے۔ اور اس کی اصل عین کے ضمہ کے ساتھ ہے اور یہ العمر سے ہے لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے اسے فتحہ دیا گیا۔ اور اس کا معنی ہے : اے محمد ! ﷺ تیری بقا کی قسم۔ اور بعض نے کہا ہے : تیری حیات کی قسم۔ اور یہ تعظیم کی انتہاء اور احسان اور شرف عطا کرنے کی حد ہے۔ ابو الجوزاء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے سوا کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی، کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری مخلوق سے زیادہ معزز و مکرم ہیں۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : وہ جو اس کے مانع ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) کی زندگی کی قسم کھائے اور اس کے سبب انہیں اس شرف و عظمت تک پہنچا دے جو چاہے، اور فضل و عظمت میں سے جو کچھ اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) کو عطا فرمائے گا تو اس سے کئی گنا شرف اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو عطا فرما سے گا، کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والے ہیں ؛ کیا آپ جانتے نہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہمکلامی عطا فرمایا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی یہ عطا فرمائے، تو جب اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) کی حیات کی قسم کھائے تو حضور نبی رحمت ﷺ کی حیات طیبہ اس سے کہیں بلند اور ارفع ہے، (لہٰذا) کوئی ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف نہ نکلے اور بغیر ضرورت کے اس کا ذکر نہ کرے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ اچھا ہے ؛ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات کی قسم کھانا حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصہ میں کلام معترض ہے (یعنی بطور جملہ معترضہ ہے) قشیری ابو نصر عبد الرحیم بن عبد الکریم نے اپنی تفسیر میں کہا ہے : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف راجع ہو، یعنی وہ اپنی طاقت کے نشے میں مست ہیں اور بہکے بہکے پھر رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وعظ کیا اور فرمایا : یہ میری (قوم) کی بیٹیاں ہیں، تو ملائکہ نے کہا : اے لوط ! لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون اور یہ نہیں جانتے ان کے ساتھ صبح کے وقت کیا کچھ ہونے والا ہے ؟ پس اگر کہا جائے : تحقیق اللہ تعالیٰ نے انجیر، زیتون اور طور سینا کی قسم کھائی ہے ؛ تو اس میں کیا ہے ؟ تو کہ اجائے گا : کوئی شے نہیں ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے مگر وہ اس کی اس فضیلت پر دلالت کرتی ہے جو اس کے شمار میں داخل ہوتی ہے، پس اسی طرح ہمارے نبی مکرم ﷺ کے لئے یہ ثابت ہو ارہا ہے کہ آپ ان سے افضل ہیں جو آپ نے شمار میں ہیں۔ اور العمر اور العمر (یعنی عین کے ضمہ اور اس کی فتحہ کے ساتھ) یہ دو لغتیں ہیں اور ان دونوں کا معنی ایک ہے ؛ مگر یہ لفظ قسم میں کثرت استعمال کی وجہ سے فتحہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ اور تو کہتا ہے : عمرک اللہ۔ ای اسأل اللہ تعمیرک (یعنی میں اللہ تعالیٰ سے تیری درازی عمر کی دعا کرتا ہوں) ۔ اور لعمرک یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، اس کا معنی ہے لعمرک مما أقسم بہ (تیری عمر اس میں سے ہے جس کی میں قسم کھا رہا ہوں)
مسئلہ نمبر 2: بہت سے علماء نے اسے مکروہ قرار دیا ہے کہ کوئی انسان کہے لعمری، کیونکہ اس کا معنی ہے وحیاتی (میری زندگی کی قسم) اور حضرت ابراہیم نخعی نے کہا ہے : آدمی کے لئے مکروہ ہے کہ وہ کہے لعمری ؛ کیونکہ یہ اس کی زپنی زندگی کی قسم ہے، اور یہ کمزور لوگوں کا کلام ہے۔ اور اسی طرح امام مالک (رح) نے بھی کہا ہے : بیشک مردوں میں سے کمزور اور عورتیں (اور خنثے وغیرہ) تیری حیات اور تیری عیش (زندگی) کی قسم کھاتے ہیں، اور یہ ان کا کلام نہیں ہے جو مرادنہ وصف سے متصف ہیں، اگرچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس قصہ میں اس کی قسم کھائی ہے، اور یہ اس کے رتبہ کے شرف اور اس کے مرتبہ کی بلندی کا بیان ہے، پس اس کے سوا کوئی معنی اس پر محمول نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے اس کے سوا کسی اور معنی میں استعمال کیا جائے گا۔ اور ابن حبیب نے کہا ہے : مناسب یہ ہے کہ لعمرک کو کلام میں اس آیت کی طرف پھیر دیا جائے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : یہ کلام عرب میں سے ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہی میں بھی کہتا ہوں، لیکن شریعت نے استعمال میں اسے قطعی قرار دیا ہے اور قسم کو اس کی طرف لوٹا دیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : لعمرک اور لعمری اور اسی طرح کے الفاظ کے ساتھ قسم کھانا عرب کے اشعار میں اور ان کے فصیح کلام میں کثرت سے موجود ہے۔ جیسا کہ نابغہ نے کہا ہے :
لعمری وما عمری علی بھین لقد نطقت بطلا علی الأقارع
دوسرے نے کہا :
لعمرک إن الموت ما أخطأ الفتی لکالطول المرخی وثنیاہ بالید
ایک اور نہ کہا :
أیھا المکح الثریا سھیلا عمرک اللہ کیف یلتقان
ایک دوسرے نے کہا :
إذا رضیت علی بنو قشیر لعمر اللہ أعجنبی رضاھا
مسئلہ نمبر 3: سورة مائدہ میں ان (الفاظ) کے بارے گفتگو گزر چکی ہے جن کے ساتھ قسم اٹھائی جاسکتی ہے اور جن کے ساتھ قسم اٹھانا جائز نہیں ہے، اور وہاں ہم نے اس آدمی کے بارے میں امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ کا قول ذکر کیا ہے کہ جس نے نبی مکرم ﷺ کے (نام کے) ساتھ قسم کھائی اس پر کفارہ لازم ہوگا۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : میں نے غیر اللہ کے ساتھ ان چیزوں میں سے جن کی تعظیم حقوق میں سے کسی حق کے سبب جائز ہے قسم اٹھانے کو جائز قرار دیا ہے تو وہ یہ نہیں کہتا : بیشک یہ قسم ہے اس کے ساتھ کفارہ متعلق ہوتا ہے ؛ مگر یہ کہ جس نے کذب اور جھوٹ کا قصد کیا وہ قابل ملامت ہے ؛ کیونکہ باطن میں وہ اسے حقیر جان رہا ہے جس کی تعظیم اس پر واجب ہے۔ انہوں نے کہا : اور قول باری تعالیٰ لعمرک مراد تیری حیات اور زندگی کی قسم ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کی حیات طیبہ کی قسم کھائی ہے تو بلاشبہ اس نے ہمارے لئے صراحتہ یہ بیان کرنے کا ارادہ فرمایا ہے کہ ہمارے لئے یہ جائز ہے کہ ہم آپ کی حیات طیبہ کی قسم کھائیں۔ اور امام مالک (رح) کے مذہب کے مطابق قول باری تعالیٰ : لعمرک اور والتین والزیتون۔ (التین) والطور۔ وکتب مسطور۔ (الطور) والنجم اذا ھوی۔ (النجم) والشمس وضحھا۔ (الشمس) لا اقسم بھذا البلد۔ وانت حل بھذا البلد۔ ووالد وما ولد۔ (البلد) ان تمام کا معنی یہ ہے : انجیر اور زیتون کے خالق کی قسم، کتاب مسطور کے رب کی قسم، اس شہر کے رب کی قسم جس میں آپ اترے، اور آپ کی زندگی اور حیات کو پیدا کرنے والے کی قسم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حق کی قسم، تو ان تمام میں یمین اور قسم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نام سے حاصل ہوئی نہ کہ مخلوق کے ساتھ
ابن خویز منداد نے کہا ہے : اور جس نے غیر اللہ کے ساتھ قسم کو جائز قرار دیا ہے اس نے آپ ﷺ کے اس قول کی تاویل کی ہے : لا تحلفوا بابائکم (اپنے آباء کے ساتھ قسم نہ کھاؤ) اور فرمایا : بیشک یہ کافر آباء کے ساتھ قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے، کیا آپ دیکھتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے آباء کے ساتھ قسم کھائی تو آپ نے فرمایا : ” یہاڑ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز و مکرم ہیں تمہارے ان آباء سے جو جاہلیت میں مرے ہیں “۔ اور امام مالک (رح) نے حدیث کو اپنے ظاہر پر ہی محمول کیا ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : جس نے اسے جائز قرار دیا ہے اس نے اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ مسلمانوں کی قسموں میں حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر ہمارے آج تک یہ طریقہ جاری ہے کہ وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ قسم کھاتے ہیں، حتیٰ کہ اہل مدینہ ہمارے اس دن تک جب ان میں سے کوئی اپنے کسی ساتھی کے بارے فیصلہ کرے تو کہتا ہے : تو مجھے اس کے حق کی قسم دے جسے یہ قبر جمع کئے ہوئے ہے، اور اس قبر کے مکین کے حق کی قسم، مراد حضور نبی مکرم ﷺ کی ذات ہے، اور اس طرح حرم پاک، مشاعر، رکن، مقام ابراہیم، محراب، اور جن کا اس میں ذکر کیا جاتا ہے (کی قسم کھائی جاتی ہے) ۔
Ayahs 15:73–74آیت نمبر 73 تا 74
قولہ تعالیٰ : فاخذتھم الصیحۃ مشرقین یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی سورج نکلنے کے وقت (انہیں ایک سخت کڑک نے آلیا) ۔ کہا جاتا ہے : أشرقت الشمس یعنی سورج روشن ہوگیا، اور شرقت جب وہ طلوع ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور أشرق القوم یعنی وہ سورج طلوع ہونے کے وقت داخل ہوئے۔ اور اسی کی مثل اصبحوا اور أمسوا ہیں، اور یہی آیت میں مراد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد فجر کا طلوع ہونا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ عذاب کا آغاز صبح کے وقت ہوا اور سورج کے طلوع کے وقت وہ خوب پھیل گیا، اور اس وقت ان کی ہلاکت مکمل ہوگئی۔ واللہ اعلم۔ اور الصیحۃ کا معنی عذاب ہے۔ اور سجیل کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 15:75آیت نمبر 75
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : للمتوسمین ترمذی الحکیم نے ” نوادر الاصول “ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : للمتفرسین (نظر جما کر دیکھنے والوں کے لئے، اہل فراست کے لئے) اور یہی حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔ اور ابو عیسیٰ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ (تم مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے) پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ان فی ذلک لایت للمتوسمین ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ اور مقاتل اور ابن زید نے کہا ہے : للمتوسمین بمعنی للمتفکرین (غور و فکر کرنے والوں کے لئے) ہے اور ضحاک (رح) نے کہا ہے : یہ للناظرین (گہری نظر و فکر کرنے والے) کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
أو کلما وردت عکاظ قبیلۃ بعثوا إلی عریفھم یتوسم
اور قتادہ نے کہا ہے : یہ بمعنی للمعتبرین (عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے) ہے۔ جیسا کہ زہیر نے کہا ہے :
وفیھن ملھی للصدیق ومنظر أنیق لعین الناظر المتوسم
اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : بمعنی للمتبصرین (بصیرت والے) ہے، مذکورہ تمام معنی باہم قریب قریب ہیں۔ اور حکیم ترمذی نے حضرت ثابت کی حدیث بیان کی ہے انہوں نے اسے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو لوگوں کو علامت اور نشانی سے پہچان لیتے ہیں “۔ ان للہ عزوجل عبادا یعرفون الناس بالتوسم۔ علماء نے بیان کیا ہے : التوسم تفعل کے وزن پر الوسم سے ماخوذ ہے۔ اور اس سے مراد ایسی علامت ہے جس سے اس کے سوا مطلوب پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے : توسمت فیہ الخیر (یہ تب کہے گا) جب تو اس میں خیر اور بھلائی کی علامت دیکھ لے ؛ اور اسی سے حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کا قول ہے :
انی توسمت فیک الخیر أعرفہ واللہ یعلم أن ثابت البصر
بلاشبہ میں نے آپ میں خیر کی علامت دیکھی ہے میں اسے پہچانتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صحیح البصر ہوں۔ اور دوسرے نے کہا ہے :
توسمتہ لما رأیت مھابۃ علیہ وقلت المؤمن آل ھاشم
اور اتسم الرجل جب آدمی اپنے لئے ایسی علامت بنا لے جس سے اسے پہچانا جاسکتا ہو، اور توسم الرجل اس نے وسمی گھاس طلب کیا۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
وأصبحن کالدوم النواعم حدوۃ علی وجھۃ من ظاعن متوسم
اور ثعلب نے کہا ہے : واسم وہ ہوتا ہے جو تجھے سر سے پاؤں تک دیکھے۔ اور التوسم کا اصل معنی التسبت (ثابت رہنا) اور التفکر (غور و فکر کرنا) ہے ؛ یہ الوسم سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے اونٹ وغیرہ کی جلد میں لوہے کے ساتھ نشان لگانا، اور یہ (قوت) طبیعت اور مزاج کی عمدگی، دماغ کی تیزی اور صاف ستھری فکر سے حاصل ہوتی ہے اور بعض نے یہ چیزیں زائد ذکر کی ہیں۔ اور دنیوی حشووزوائد سے دل کو فارغ رکھنے، اور گناہوں کی میل، اخلاق کی کدورت اور دنیا کی فضولیات سے اسے پاک رکھنے سے حاصل ہوتی ہے، نہشل نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ للمتوسمین کے بارے انہوں نے فرمایا : اہل صلاح وخیر کے لئے (اس واقعہ میں علامات ہیں) اور صوفیہ نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ کرامت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ یہ علامات کے ساتھ استدلال ہے۔ اور علامات میں سے وہ ہوتی ہے جو ہر ایک کے لئے ظاہرا ظاہر ہوتی ہے اور پہلی نظر کے ساتھ (ظاہر ہوتی ہے) ، اور ان میں سے جو مخفی ہوتی ہے وہ کسی کے لئے بھی ظاہر نہیں ہوتی اور نہ بادی النظر میں اسے پایا جاسکتا ہے۔ حسن نے کہا ہے : المتوسمون وہ ہیں جو امور میں غوروفکر کرتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ وہ جس نے قوم لوط کو ہلاک کردیا ہے وہ ان کفار کو بھی ہلاک و برباد کرنے پر قادر ہے، اور یہ دلائل ظاہرہ سے ثابت ہے۔ اور اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : مجھ سے کسی نے کسی شے کے بارے سوال نہیں کیا مگر میں اسے پہچان لیتا ہوں کہ آیا وہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ ہے۔ ما سألنی أحد عن شئ إلا عرفت أفقیۃ ھو أو غیر فقیہ اور امام شافعی (رح) اور امام محمد بن حسن رحمہما اللہ تعالیٰ کے بارے مروی ہے کہ وہ دونوں کعبہ معظمہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی مسجد کے دروازے پر تھا تو ان میں سے ایک نے کہا : میں اسے نجار (بڑھئی) دیکھتا ہوں، اور دوسرے نے کہا : (نہیں) بلکہ یہ حداد (لوہار) ہے، پس حاضرین میں سے ایک آدمی جلدی سے اس کی طرف گیا اور اس سے پوچھا تو اسنے جواب دیا : کنت نجارا وأنا الیوم حداد (میں بڑھئ تھا اور آج کل میں لوہار ہوں) اور حضرت بندب بن عبد اللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو قرآن پڑھ رہا تھا پس آپ اس کے پاس ٹھہر گئے اور کہا : جس نے شہرت کے لئے سنایا اللہ تعالیٰ نے اسے شہرت بنا دیا، اور جس نے دکھاوا کیا اللہ تعالیٰ نے اسے دکھاوا بنا دیا۔ تو ہم نے ان کو کہا : گویا آپ نے اس آدمی کے بارے میں تعریض کی ہے، تو انہوں نے فرمایا : بیشک یہ جو تجھ پر آج قرآن کریم پڑھ رہا ہے کل یہ حروریہ ہو کر نکل جائے گا ؛ پس وہی راس الحرور یہ تھا، اور اسکا نام مرداس تھا۔ اور حضرت حسن بصری کے بارے روایت ہے کہ وہ عمرو بن عبید کے پاس گئے اور فرمایا : یہ بصرہ کے نوجوانوں کا سردار ہے اگرچہ اس نے کوئی بات نہیں کی، پس اس کے بارے تقدیر کا فیصلہ یہی ہے جو ہوچکا ہے، یہاں تک کہ اس کے عام بھائیوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اور ایوب کو کہا : یہ اہل بصرہ کے جوانوں کا سردار ہے، اور کوئی استثنا نہیں کی۔ اور حضرت شعبی کے بارے روایت ہے کہ انہوں نے داؤد أزدی کو کہا اس حال میں کہ وہ ان کے ساتھ جھگڑ رہا تھا : بیشک تو نہیں مرے گا یہاں تک کہ تیرے سر میں داغا جائے گا۔ اور پھر اسی طرح ہوا۔
روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ حج کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے ان میں أشتر بھی تھا، پس آپ نے اس میں نظر جمادی اور خوب غور سے دیکھا اور فرمایا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ مالک بن حارث ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اسے کیا ہے اللہ اسے قتل کرے ! بیشک میں مسلمانوں کے لئے اس کی طرف سے انتہائی سخت (تکلیف دہ) دن دیکھ رہا ہوں ؛ پھر اس کی طرف سے فتنہ میں وہی ہوا جو ہوا۔ اور حضرت عثمان بن عفان ؓ کے بارے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ آپ کے پاس گئے، اور وہ بازار سے گزر کر گئے تھے اور انہوں نے ایک عورت کی طرف دیکھا تھا، پس جب آپ نے ان کی طرف دیکھا تو حضرت عثمان ؓ نے کہا : تم میں سے کوئی مجھ پر داخل ہوتا ہے اور اس کی آنکھوں میں زنا کا اثر ہوتا ہے۔ تو حضرت انس ؓ نے آپ کو کہا : کیا رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی آرہی ہے ؟ تو آپ نے جواب فرمایا : نہیں۔ لیکن یہ برہان، فراست اور سچ ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین ؓ اجمعین سے اس کی مثل کثیر مثالیں ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا ہے : ” جب یہ ثابت ہے کہ علامت اور فراست سے پہچاننا معانی کی پہچان کے ذرائع میں سے ہے لیکن اس پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوسکتا اور اس کے ساتھ موسوم (جس میں علامت پائی جائے) اور متفرس (جس کو فراست کے ساتھ پہچان لیا جائے) کو پکڑا نہیں جاسکتا۔ بغداد کے قاضی القضاۃ الشامی المالکی شام میں ہونے کے دوران احکام میں فراست کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ایاس ابن معاویہ کے طریقہ پر چلتے ہوئے، جن دونوں وہ قاضی تھے، اور ہمارے شیخ فخر السلام ابوبکر الشاسی نے اس کے رد میں ایک جز تصنیف کیا ہے انہوں نے اسے اپنے خط کے ساتھ میرے لئے لکھا اور وہ مجھے عطا فرما دیا۔ اور یہ صحیح ہے، کیونکہ احکام کی پہچان شرعاً معلوم ہے انہیں پانے کا ذریعہ قطعی ہے اور فراست ان قطعی ذرائع میں سے نہیں ہے۔
Ayahs 15:76–79آیت نمبر 76 تا 79
قولہ تعالیٰ : وانھا مرا دحضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ لبسبیل مقیم یعنی اے محمد ! ﷺ آپ کی قوم کے راستے پر شام کی طرف واقع ہیں۔ ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین یعنی یقیناً یہ تصدیق کرنے والوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ وان کان اصحب الایکۃ لظلمین اس میں اصحاب الایکہ سے مراد حجرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے، وہ جنگلوں، باغوں اور پھلدار درختوں کے مالک لوگ تھے۔ اور الایکہ سے مراد الغیضۃ ہے اور اس سے مراد درختوں کا جھنڈ ہے۔ اور جمع الایک ہے۔ روایت ہے کہ ان کے درخت کھجور کے درخت کے مشابہ تھے اور وہ گوگل کے درخت تھے۔ نابغہ نے کہا ہے :
تجلو بقادمتی حمامۃ أیکۃ بردا أسف لثاتہ بالاثمد
اور کہا گیا ہے کہ الأیکۃ یہ بستی کا نام ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شہر کا نام ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ الأیکۃ اور لیکۃ ان کا شہر ہے، جیسا کہ مکہ سے بکہ ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ پہلے گزر چکا ہے۔ وانھما لبامام مبین اور یہ دونوں ایسے راستے پر واقع ہیں جو ذاتی اعتبار سے بڑا کھلا اور واضح ہے، مراد قوم لوط کا شہر اور اصحاب الایکۃ کی بستی ہے، جو بھی ان دونوں کے پاس سے گرزتا ہے وہ ان سے عبرت حاصل کرتا ہے۔
Ayah 15:80آیت نمبر 80
الحجر کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے : اس میں سے ایک حجر الکعبہ ہے، ایک الحرام ہے ؛ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : حجرا محجورا۔ (الفرقان) یعنی حرام جو کہ حرام کیا گیا ہے۔ اور الحجر کا معنی عقل ہے ؛ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لذی حجر (صاحب عقل کے لئے) اور الحجر کا معنی حجر القمیص (قمیص کی بلکھی) ہے ؛ اور فتحہ زیادہ فصیح ہے۔ اور الحجر کا معنی گھوڑی بھی ہے۔ اور الحجر سے مراد دیا ثمور بھی ہیں۔ اور یہاں یہی مراد ہیں، یعنی (قوم ثمود کا شہر) ؛ یہ ازہری نے کہا ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو مکہ مکرمہ اور تبوک کے درمیان ہے، اور یہی وہ وادی ہے جس میں ثمود آباد تھے۔ علامہ طبری نے کہا ہے : یہ وہ زمین ہے جو حجاز اور شام کے درمیان ہے، اور وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ارشاد فرمایا : المرسلین تو اس سے مراد اکیلے حضرت صالح (علیہ السلام) ہیں، لیکن جس نے ایک نبی (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو تحقیق اس نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلا دیا ؛ کیونکہ وہ تمام اصول میں ایک ہی دین پر ہیں، لہٰذا ان کے درمیان تفریق جائز نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) ، ان کی اتباع کرنے والوں، اور آپ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو بھی جھٹلا دیا۔ واللہ اعلم۔ امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ تبوک کے درمیان حجر کے مقام پر اترے تو آپ ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اس کے کنوئیں سے نہ پانی پئیں اور نہ اس سے پانی لیں۔ تو انہوں نے عرض کی : ہم نے تو اس سے آٹا گوندھ لیا ہے اور ہم نے مشکیزے بھرلئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم ارشاد فرمایا کہ وہ پانی بہا دیں اور وہ آٹا بھی پھینک دیں۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے صحیح روایت میں ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ثمود کی زمین الحجر پر اترے، انہوں نے وہاں کے کنوؤں سے پانی بھر لیا اور اس کے ساتھ آٹا وغیرہ گوندھ لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم ارشاد فرمایا کہ جو انہوں نے پانی لیا ہے وہ اسے بہا دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیں، اور آپ ﷺ نے انہیں حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اس کنوئیں سے پانی لیں جس پر (آپ کی) ناقہ وارد ہوتی۔ اور یہ بھی حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام حجر سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا : ” تم ان کے گھروں میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا مگر اس خوف اور ڈر سے روتے ہوئے کہ کہیں اس کی مثل تمہیں نہ آپہنچے جو عذاب انہیں آپہنچا “۔ پھر آپ نے اپنی ناقہ کو ڈانٹا اور تیز چل پڑے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : پس اس آیت میں وہ چیزیں ہیں جن کا حکم شارع نے بیان کیا ہے اور ان کے حکم کی وضاحت کی ہے اور وہ آٹھ مسائل ہیں، علماء نے ان کا استنباط کیا ہے اور ان میں سے بعض میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 1: پس ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ ان جگہوں میں داخل ہونا مکروہ ہے، اور اسی پر بعض علماء نے کفار کے قبرستانوں میں داخل ہونے کو محمول کیا ہے، پس اگر انسان ان جگہوں میں سے کسی میں اور قبرستان میں داخل ہو تو وہ اس طریقہ اور صفت پر ہو جس کی طرف حضور نبی مکرم ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے یعنی عبرت حاصل کرتے ہوئے، خوف کھاتے ہوئے اور انتہائی تیزی کے ساتھ۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم بابل کی زمین میں داخل نہ ہو کیونکہ اس میں لعنت کی گئی ہے “۔
مسئلہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس پانی کو بہا دینے کا حکم دیا جو انہوں نے ثمود کے کنوئیں سے لیا تھا اور اس آٹے کو پھینک دینے کا حکم دیا جو اس سے گوندھا گیا تھا اور اس سے روٹی پکائی گئی تھی کیونکہ یہ ناراضگی اور سختی والا پانی ہے، پس اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے انتفاع جائز نہیں۔ اور فرمایا : ” تم اسے اونٹوں کو کھلا دو “۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اور اسی طرح نجس پانی کا حکم ہے اور اس آٹے کا جو اس سے گوندھا جائے۔
مسئلہ نمبر 2: اور دوسرا یہ ہے۔ امام مالک (رح) نے کہا : بیشک طعام و شراب میں سے جس کا استعمال جائز نہیں ہوتا اسے اونٹوں اور جانوروں کو کھلانا جائز ہے، جبکہ انہیں تکلیف نہ ہو ؛ اور اسی طرح نجس اور پلید شہد کے بارے میں بھی کہا ہے : بیشک اسے مکھیاں چاٹ سکتی ہیں۔
مسئلہ نمبر 3: تیسرا مسئلہ یہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ آٹا جو اس پانی کے ساتھ گوندھا گیا تھا وہ اونٹوں کو کھلانے کا حکم ارشاد فرمایا، اور اسے اس طرح پھینکنے کا حکم نہیں دیا جیسا کہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا تھا ؛ تو یہ اس پر دلیل ہے کہ گدھوں کا گوشت تحریم میں اشد اور نجس ہونے میں زیادہ غلیظ ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے حکام کی کمائی کے بارے حکم دیا کہ وہ اونٹوں اور غلاموں کو کھلا دی جائے، حالانکہ نہ وہ حرام ہے اور نہ نجس ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اگر یہ حرام ہوتی تو آپ اس کے بارے حکم نہ دیتے کہ وہ اسے اپنے غلام کو کھلا دے) ، کیونکہ وہ بھی اس میں عبادت کرنے والا ہے جیسے وہ خود عبادت کرنے والا ہے۔
مسئلہ نمبر 4: چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ۔ حضور نبی مکرم ﷺ کے آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دینے میں اس پر دلیل ہے کہ آدمی کے لئے نجاست اٹھا کر اپنے کتے کو ڈالنا جائز ہے تاکہ وہ اسے کھائے ؛ بخلاف ان کے جس نے ہمارے اصحاب میں سے اس کا انکار کیا ہے۔ اور کہا ہے : اس پر کتوں کو چھوڑا جائے گا اور اسے ان کی طرف اٹھایا نہیں جائے گا۔
مسئلہ نمبر 5: پانچواں مسئلہ یہ ہے۔ کہ حضور نبی کریم ﷺ کا اس کنوئیں سے پانی لینے کا حکم دینا جس پر حضرت صالح کی اونٹنی پانی پینے آتی تھی یہ اس پر دلیل ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کے آثار سے برکت حاصل کرنا جائز ہے، اگرچہ ان کا زمانہ کتنا قدیم ہو اور ان کے آثار مخفی ہوں، جیسا کہ پہلے حکم میں فساد برپا کرنے والوں کے بغض اور ان کے گھروں اور ان کے آثار کے مذموم ہونے پر دلیل ہے۔ اس میں تحقیق اگرچہ یہ ہے کہ جمادات پر مؤاخذہ نہیں ہے، لیکن جو چیز محبوب کے ساتھ مل جائے وہ بھی محبوب ہوتی ہے، اور جو مکروہ اور مبغوض کے ساتھ ملی ہوئی ہو وہ مبغوض ہوتی ہے۔ جیسا کہ بہت سے شعراء نے کہا ہے :
أحب لحبھا السودان حتی أحب لحبھا سود الکلاب
میں اس کی محبت کی وجہ سے سیاہ رنگ کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اس کی محبت کی وجہ سے سیاہ رنگ کے کتوں کو بھی پسند کرتا ہوں۔ اور اسی طرح ایک دوسرے نے کہا ہے :
أمر علی الدیار دیار لیلی أقبل ذا الجدار و ذا الجدار
میں دیار لیلیٰ سے گزرتا ہوں اور ان کی ہر ہر دیوار کو بو سے دیتا ہوں۔
وما تلک الدیار شغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا
ان گھروں کی محبت میرے دل پر غالب نہیں ہے لیکن ان گھروں کے مکین کی محبت مجھ پر غالب ہے۔
مسئلہ نمبر 6: اور چھٹا مسئلہ یہ ہے :۔ بعض علماء نے ایسی جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا ہے : اس میں نماز جائز نہیں ہوتی کیونکہ وہ ناراضگی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے کا ٹکڑا ہے۔
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : پس یہ علاقہ حضور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے مستثنیٰ ہوگیا : ” میرے لئے زمین مسجد اور پاکیزہ بنا دی گئی “۔ پس وہاں کی مٹی سے تیمم جائز نہ ہوگا اور نہ اس کے پانی سے وضو جائز ہوگا اور نہ اس میں تمام جائز ہوگی۔ اور ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سات جگہوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے : کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ میں، جانور ذبح کرنے کی جگہ میں، قبرستان میں، ہلاک کرنے والی آفت کی جگہ میں، حمام میں، اونٹ باندھنے کی جگہ میں، اور بیت اللہ شریف کے اوپر۔ اور اس باب میں حضرت ابو مرثد، حضرت جابر اور حضرت انس ؓ سے بھی روایات منقول ہیں۔ اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کی سند اتنی زیادہ قوی نہیں ہے کیونکہ زید بن جبیرہ میں ان کے حافظہ کے بارے کلام کی گئی ہے، اور ہمارے علماء نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ مغصوبہ گھر میں، عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں میں، اور اس مکان میں جس میں تصویریں اور بت پڑیں ہوں، غصب کی ہوئی زمین میں یا ایسی جگہ جس میں تیرا منہ سونے والے آدمی کی طرف ہو یا کسی آدمی کے چہرے کی طرف ہو یا ایسی دیوار پر جس پر نجاست ہو۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : ان جگہوں میں سے بعض وہ ہیں جن میں غیر کا حق ہونے کی وجہ سے نماز سے منع کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا حق ہونے کی وجہ سے منع کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن میں نجاست کے مکمل طور پر موجود ہونے یا اس کے غالب ہونے کی وجہ سے نماز سے منع کیا گیا ہے، پس وہ جگہیں جن میں نجاست کی وجہ سے نماز سے منع کیا گیا ہے اگر اس میں پاک کپڑا بچھا دیا جائے جیسا کہ حمام اور قبرستان میں یا اس کی طرف تو بیشک وہ جائز ہے (یہ) مدونہ میں ہے۔ اور ابو مصعب نے اس کے بارے کراہت کا ذکر کیا ہے۔
اور ہمارے علماء نے پرانے اور نئے قبرستان کے درمیان نجاست کی وجہ سے فرق کیا ہے، (اسی طرح) مسلمانوں اور مشرکوں کے قبرستان کے درمیان فرق کیا ہے ؛ کیونکہ وہ دار عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور ناراضگی کا علاقہ ہے جیسا کہ مقام حجر ہے۔ اور امام مالک (رح) نے المجموعہ میں کہا ہے : اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھی جائے گی اگرچہ کپڑا بھی بچھایا جائے ؛ گویا کہ آپ نے اس کی دو علتیں بیان کی ہیں : ایک ان کا نجاست سے ڈھکا ہوا ہونا اور دوسرا اونٹوں کے بدکنے یا دوڑنے کا خدشہ پس (اس طرح) نمازی کی نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر اس میں ایک اونٹ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ؛ جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ کرتے تھے ؛ یہ حدیث صحیح میں ہے۔ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : ایسی قالین پر نماز نہ پڑھی جائے جس میں تصاویر ہوں مگر ضرورت کے تحت۔ اور ابن قاسم نے نماز کو مکروہ قرار دیا ہے جبکہ قبلہ سمت تصاویر ہوں، اور مغصوبہ گھر میں بھی نماز مکروہ ہے، اور اگر کسی نے پڑھ لی تو وہ ہوجائے گی۔ اور بعض نے امام مالک (رح) سے نقل کیا ہے کہ غصب شدہ گھر میں نماز جائز نہیں ہوتی۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ میرے نزدیک بخلاف زمین کے ہے کیونکہ گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہیں ہوا جاتا، اور زمین اگرچہ وہ (کسی کی) ملکیت ہے بیشک اس میں مسجد ہونے کا وصف قائم ہے اور کسی کا اس کا مالک ہونا اسے باطل نہیں کرتا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : انشاء اللہ وہ صحیح جس پر نظر و فکر اور خبر دلالت کرتی ہے کہ ہر پاک جگہ میں نماز جائز اور صحیح ہے اور حضور نبی مکرم ﷺ کے ارشاد میں یہ جو مروی ہے : ” بیشک یہ وادی ہے اس کے ساتھ شیطان ہے “۔ اور اسے معمر نے زہری سے روایت کیا ہے پس آپ نے فرمایا : ” تم اس جگہ سے نکل چلو جس میں تمہیں غفلت آپہنچی ہے “۔ اور حضرت علی ؓ کا یہ قول کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں بابل کی زمین میں نماز پڑھوں کیونکہ اس میں لعنت کی گئی ہے اور آپ ﷺ کا ارشاد کہ جس وقت آپ ثمود کے مقام حجر سے گزرے : ” تم ان عذاب دئیے گئے لوگوں پر داخل نہ ہو مگر (اس طرح) کہ تم رو رہے ہو “۔ اور آپ کا اونٹوں کے باڑے میں نماز سے منع کرنا اور علاوہ ازیں جو اس باب سے متعلقہ ہیں، یہ ان اصولوں کے مطابق جن پر اجماع ہے اور اس بارے میں آنے والے صحیح دلائل کے مطابق مردود ہیں۔ امام حافظ ابو عمر نے کہا ہے : ہمارے نزدیک اس باب میں مختاریہ ہے کہ اس وادی اور اس کے علاوہ زمین کے دیگر حصص کیلئے جائز ہے کہ ان تمام میں نماز پڑھی جائے جب تک ان میں کوئی یقینی ایسی نجاست نہ ہو جو نماز کے مانع ہو، اور جس کسی نے یہ علت بیان کی ہے کہ نماز سے سونے کی جگہ شیطان کی جگہ ہے اس کا کوئی معنی (اور اس کی کوئی اصل) نہیں ہے۔ اور وہ جگہ جس میں لعنت کی گئی اس میں کوئی واجب اور ضروری نہیں کہ اسمیں نماز پڑھی جائے، اور اس باب میں جو روایات مروی ہیں کہ قبرستان میں، بابل کی زمین میں، اونٹوں کے باڑے میں اور علاوہ ازیں ان جیسی جگہوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے وہ تمام ہمارے نزدیک حضور ﷺ کے اس ارشاد جعلت لی الأرض مسجدا و طھورا کی عمومیت کی وجہ سے منسوخ اور ختم ہوچکی ہیں۔ اور آپ ﷺ کا ارشاد یہ خبر دے رہا ہے کہ یہ آپ کے فضائل میں سے ہے اور ان چیزوں میں سے ہے جو آپ کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اہل علم کے نزدیک آپ کے فضائل پر دلالت کرنے والی روایات کا نہ نسخ جائز ہے نہ ان میں تبدیلی اور نہ ہی کمی جائز ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں عطا فرمائی گئی ہیں “۔
مسئلہ نمبر 7: یہ بھی روایت ہے کہ چھ عطا فرمائی گئی ہیں، اور اسی طرح تین اور چار کی روایت بھی ہے، اور ان کی انتہاء اس سے زیادہ نو تک ہے، آپ نے ان میں فرمایا ہے : ” مجھ سے پہلے کسی کو وہ عطا نہیں کی گئیں مجھے سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا اور راغب کے ساتھ میری مدد کی گئی اور میری امت کو تمام امتوں سے بہترین امت بنایا گیا، اور میرے لئے غنائم کو حلال کیا گیا، اور میرے لئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی، اور مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا، اور اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا مجھے زمین (کے خزانوں) کی چابیاں عطا فرمائی گئیں اور وہ میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں، اور مجھے کوثر عطا فرمایا گیا، اور میرے ساتھ سلسلہ انبیاء (علیہم السلام) ختم کردیا گیا “۔ اسے صحابہ کرام کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ اور ان میں سے بعض نے ان میں سے بعض کو ذکر کیا ہے اور بعض نے وہ بعض ذکر کی ہیں جو ان کے سوا دوسروں نے ذکر نہیں کیں۔ اور یہ تمام کی تمام صحیح روایات ہیں۔ اور آپ ﷺ کے فضائل پر زیادتی جائز ہے لیکن ان میں کمی کرنا جائز نہیں ہے : کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نبی ہونے سے پہلے عبد تھے پھر رسول ہونے سے پہلے آپ نبی تھے ؛ اسی طرح آپ سے مروی ہے۔ اور فرمایا : ” میں اسے نہیں جانتا جو میرے ساتھ کیا جائے گا اور نہ اسے جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا “۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر (الفتح :2)
اور آپ ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا : یا خیر البریۃ (اے کائنات سے بہتر) ؛ تو آپ نے فرمایا : ” وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں “۔ اور فرمایا : ” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے، میں یونس بن متا سے بہتر ہوں “۔ اور فرمایا : ” سید حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں “۔ پھر ان تمام کے بعد ارشاد فرمایا : أنا سید ولد أدم ولافخر (میں اولاد آدم کا سرداد ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں ہے) پس آپ ﷺ کے فضائل مسلسل بڑھتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمالی ؛ پس اسی وجہ سے ہم نے کہا ہے : بلاشبہ ان میں نسخ، استثنا، اور کمی جائز نہیں ہے البتہ ان میں زیادتی جائز ہے۔ اور آپ ﷺ کے اس ارشاد جعلت فی الارض مسجد او طھورا کی وجہ سے ہم نے حمام، قبرستان اور زمین کے ہر حصہ میں نماز جائز قرار دی ہے جبکہ وہ نجاستوں سے پاک ہو۔ اور آپ ﷺ نے حضرت ابو ذر ؓ کو فرمایا : ” جہاں بھی تجھے نماز کا وقت آپہنچے وہیں نماز پڑھ لے کیونکہ ساری زمین مسجد ہے “۔ اسے امام بخاری (رح) نے ذکر کیا ہے اور کسی جگہ کے ساتھ یہ خاص نہیں۔ اور رہے وہ جنہوں نے ابن وہب کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے : مجھے یحییٰ بن ایوب نے زید بن جبیرہ سے، انہوں نے داؤد بن حصین سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے مجھے خبر دی ہے، یہ ترمذی کی وہی حدیث ہے جسے ہم ذکر کرچکے ہیں پس اس حدیث کے ساتھ زید بن جبیرہ منفرد راوی ہیں اور محدثین نے اس پر اس کا انکار کیا ہے، اور یہ حدیث مسند معروف نہیں ہے مگر صرف اس روایت کے ساتھ یحییٰ بن ایوب عن زید بن جبیرۃ۔ اور لیث بن سعد نے عبد اللہ بن نافع مولی ابن عمر ؓ کی طرف لکھا اور اس حدیث کے بارے پوچھا، تو عبد اللہ بن نافع نے ان کی طرف لکھا : میں اسے نہیں جانتا جس نے اسے نافع سے بیان کیا ہے مگر یہ کہ یہ باطل ہے۔ حلوانی نے اسے سعید بن ابی مریم سے اور انہوں نے لیث سے ذکر کیا ہے، اور اس میں مشرکوں کے مقبرہ کی دوسروں سے کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : میرے محبوب ﷺ نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، اور مجھے بابل کی زمین میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، کیونکہ اس میں لعنت کی گئی ہے۔ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اور اس کے ضعف پر اجماع ہے، اور وہ ابو صالح جنہوں نے اسے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے وہ سعید بن عبد الرحمن غفاری، بصری ہیں وہ مشہور راوی نہیں ہیں اور ان کا حضرت علی ؓ سے سماع صحیح نہیں ہے، اور جو ان کے سواراوی ہیں وہ مجہول ہیں، وہ معروف نہیں ہیں۔ ابو عمر نے کہا ہے : اس باب میں حضرت علی ؓ سے آپ کا غیر مرفوع قول ہے وہ حدیث حسن الاسناد ہے، اسے فضل بن وکین نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہے : مغیرہ بن ابی الحرکندی نے ہمیں بیان کیا ہے انہوں نے کہا مجھے ابو العنبس حجر بن عنبس نے بیان کیا انہوں نے کہا : ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ حروریہ کی طرف نکلے، پس جب ہم سوریا سے آگے نکلے اور بابل کی زمین میں داخل ہوئے، ہم نے کہا : اے امیر المومنین ! شام ہوگئی ہے، نماز نماز ؛ تو آپ نے کسی سے کلام نہ کی۔ پھر لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! تحقیق شام کا وقت ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں (شام ہوچکی ہے) لیکن میں اس زمین میں نماز نہ پڑھوں گا جسے اللہ تعالیٰ نے دھنسا دیا ہے۔ اور مغیرہ بن حرکوفی ثقہ راوی ہے ؛ یہ یحییٰ بن معین وغیرہ نے کہا ہے۔ اور حجر بن عنبس کبار اصحاب علی ؓ میں سے ہیں۔ اور ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” زمین ساری کی ساری مسجد ہے سوائے مقبرہ اور حمام کے “۔ ترمذی ؓ علیہ نے کہا ہے : اسے سفیان ثوری نے عمرو بن یحییٰ سے انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے مرسل روایت کیا ہے، گویا یہ اثبت اور اصح ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے : پس اس سے استدلال کرنا
ان کے نزدیک ساقط ہے، جو مرسل روایت کو حجت تسلیم نہیں کرتے، اگرچہ اس سند سے ثابت ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔
ہم اس طرح نہیں کہتے جیسا کہ ان بعض نے کہا ہے جو اہل مدینہ کے مذہب کو اپنانے والے ہیں کہ بیشک اس حدیث میں اور اس کے علاوہ دیگر احادیث میں مقبرہ سے مراد صرف مشرکوں کا قبرستاں لیا گیا ہے) ، کیونکہ المبقرہ الحمام دونوں الف لام کے ساتھ ذکر فرمائے، پس یہ جائز نہیں ہے کہ بغیر توقیف کے مراد بعض مقبروں کے سوا بعض مقبرے ہوں یا بعض حماموں کے سوا بعض حمام مراد لئے جائیں، کیونکہ یہ ایسا قول ہے جس پر کتاب و سنت میں سے کوئی دلیل نہیں ہے نہ کوئی خبر صحیح موجود ہے، اور نہ اس کے لئے قیاس اور عقل میں کوئی گنجائش ہے، اور نہ سیاق کلام اس پر دلالت کرتا ہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی خبر موجود ہے۔ اور جنہوں نے مشرکین کے مقبرہ کو خاص کیا ہے ان کی تخصیص دو دج ہوں میں سے ایک سے خالی نہیں ہوگی کہ یا تو وہ اس وجہ سے ہے کہ وہاں کفار کی آمدورفت لگی رہتی ہے لیکن اس سبب سے مقبرہ کے خصوصی ذکر کا کوئی معنی نہیں، کیونکہ ہر وہ جگہ جہاں وہ اپنے جسموں کے ساتھ اور اپنے قدموں کے ساتھ آتے ہاتے ہوں تو اس کا حکم سی طرح ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اس سے عظیم اور بلند تر ہے کہ آپ ایسی چیز کے بارے گفتگو فرمائیں جس کا کوئی معنی نہ ہو۔ یا پھر یہ اس وجہ سے ہوگا کہ وہ ناراضگی اور غضب کے نازل ہونے کی جگہ ہے۔ تو اگر اس طرح ہوتا تو رسول اللہ ﷺ مشرکوں کے مقبرہ میں اپنی مسجد نہ بناتے نہ آپ انہیں اکھیڑتے، نہ ہموار کرتے اور نہ اس پر مسجد کی تعمیر کرتے۔ اگر مقابر میں سے کسی مقبرہ میں نماز ادا کرنے کے لئے قائل کا قول جائز ہوتا تو پھر اس حدیث کی وجہ سے مشرکین کا مقبرہ بدرجہ اولیٰ مخصوص اور مستثنیٰ ہوتا۔ اور ہر وہ ھس نے مقبرہ میں نماز کو مکروہ قرار دیا ہے اس نے کسی مقبرہ کو خاص نہیں کیا ؛ کیونکہ الف لام کا اشارہ جنس کی طرف ہے نہ کہ معبود کی طرف، اور اگر مسلمانوں اور مشرکوں کے مقبرہ کے مابین فرق ہوتا تو حضور نبی مکرم ﷺ اسے ضرور بیان فرماتے اور اسے مہمل نہ چھوڑتے ؛ کیونکہ آپ ﷺ کو وضاحت اور بیان کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اور اگر کسی جاہل کے لئے یہ کہنا جائز ہو کہ مقبرہ اس طرح ہے تو پھر کسی دوسرے کیلئے یہ کہنا بھی جائز ہوگا کہ حمام اس طرح ہے ؛ کیونکہ حدیث میں مقبرہ اور حمام دونوں کا ذکر ہے۔ اور اسی طرح آپ کا قول : المزیلۃ) کوڑے کرکٹ کا ڈھیر) اور المجزرہ (ذبح خانہ) ہے ؛ اس میں یہ جائز نہیں کہ یہ کہا جائے : ڈھیر اس طرح ہو اور نہ ہی جائز ہے کہ کہا جائے : ذبح خانہ اس طرح ہو اور نہ یہ کہنا جائز ہے کہ راستہ اس طرح ہو ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین میں اپنی رائے سے فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
اور علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ مشرکین کے مقبرہ میں تیمم جائز ہے بشرطیکہ مٹی طیب، طاہر اور صاف ستھری ہو۔ اور اسی طرح انہوں نے اس پر بھی اجماع کیا ہے کہ جس نے عیسائیوں یا یہودیوں کی عبادتگاہ میں پاک جگہ پر نماز پڑھی کہ اس کی نماز قضا ہو رہی ہو تو وہ جائز ہے۔ اور یہ سورة برأۃ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ کنیسہ (گر جاگھر) مقبرہ کی نسبت اس کی زیادہ قریب ہے کہ وہ ناراضگی اور غضب کے نازل ہونے کی جگہ ہو، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے، اور مقبرہ اس طرح نہیں ہے۔ اور یہودیوں کی عبادت گاہوں اور گرجا گھروں کو مساجد بنانے کے بارے میں سنت بھی موجود ہے۔ امام نسائی نے حضرت طلق بن علی سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا : ہم ایک وفد کی صورت میں حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف نکلے اور ہم نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی، اور ہم نے آپ کی خبر دی کہ ہماری زمین میں ہمارے یہودیوں کی ایک عبادتگاہ ہے، اور آگے پوری حدیث ذکر کی۔ اور اس میں ہے : ” پس جب تم اپنی زمین پر پہنچو تو اپنی موجودہ عبادتگاہ کو توڑ دو اور اسے مسجد بنالو “۔
اور اطو داؤد نے عثمان بن ابی العاص سے ذکر کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ طائف کی مسجد اس جگہ بنائیں جہاں ان کے بت پڑے تھے۔ اور سورة برأۃ میں یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور تیرے لئے حضور نبی کریم ﷺ کی وہ مسجد ہی (بطور حجت) کافی ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی درآنحالیکہ وہ مشرکین کے قبرستان میں بنائی گئی اور یہ ہر اس کے خلاف حجت ہے جس نے اس میں نماز کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور جنہوں نے مقبرہ میں نماز کو مکروہ کہا ہے چاہے وہ مسلمانوں کا ہو یا مشرکوں کا وہ حضرت ثوری، امام ابو حنیفہ، امام اوزاعی، امام شافعی اور ان کے اصحاب رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔ اور حضرت ثوری (رح) کے نزدیک نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ اور امام شافعی (رح) کے نزدیک نماز جائز ہوگی جب اس نے مقبرہ میں ایسی جگہ پڑھی جہاں کوئی نجاست نہ تھی یہ ان احادیث کی وجہ سے ہے جو اس بارے میں معلوم ہیں، اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور تم انہیں قبریں نہ بناؤ “۔ اور ابو مرثد غنوی ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم قبروں کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو “۔ اور یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ثابت ہیں، اور ان میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ یہ دونوں تاویل کا احتمال رکھتی ہیں، اور یہ واجب نہیں ہے کہ ہر پاک جگہ میں نماز پڑھنے سے رکا جائے مگر ایسی دلیل کے ساتھ جو تاویل کا احتمال نہ رکھتی ہو۔ اور مسلمان فقہاء میں سے کسی نے مسلمانوں اور مشرکوں کے مقبرہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے مگر وہ جسے ہم نے بیان کیا ہے وہ ایسا لغو قول ہے جس کی مثل کے ساتھ آدمی مشغول نہیں ہوسکتا، اور نظر و فکر میں اس کی کوئی وجہ نہیں اور نہ اس بارے میں کوئی صحیح اثر ہے۔
مسئلہ نمبر 8: اور آٹھواں مسئلہ یہ ہے :۔ کہ وہ باغ جس میں گندگی اور غلاظت پھینکی جاتی ہو تاکہ وہ اس میں بیلیں وغیرہ لگائے تو اس میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے یہاں تک کہ وہ تین بار اسے سیراب کرلے، جیسا کہ اسے دار قطنی نے حضرت مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ اور آپ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے ایسے باغ کے بارے میں روایت بیان کی ہے جس میں گندگی اور غلاظت پھینکی جاتی ہے، آپ نے فرمایا : ” جب وہ تین بار سیراب کرلیا جائے تو پھر اس میں نماز پڑھ لے “۔ اور انہوں نے حضرت نافع کی حدیث بھی نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایسے باغات کے بارے پوچھا گیا جن میں گندگیاں پھینکی جاتی ہیں اور یہ کوڑا کو کٹ پھینکا جاتا ہے، کیا ان میں نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : جب تو انہیں تین بار سیراب کرلے تو پھر ان میں نماز پڑھ لے، انہوں نے اسے حضور نبی مکرم ﷺ تک مرفوع بیان کیا ہے اور یہ
دونوں نے اسناد میں اختلاف کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 15:81آیت نمبر 81
قولہ تعالیٰ : واتینھم ایتنا ای بایتنا (اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں عطا کیں) یہ قول اس قول کی طرح ہے : آتنا غذأٓنا ای بغذدائنا۔ (تو ہمارے پاس ہماری غذا لے آ) اور یہاں مراد ناقہ (اونٹنی) ہے۔ اور اس میں بہت سی نشانیاں تھیں : اس کا پتھر کی چٹان سے نکلنا، اور اس کے نکلنے کے وقت ہی اس کا حامل ہونا اور بچہ جننے کی حالت کے قریب ہونا، اور اس کا عظیم ہونا یہاں تک کہ کوئی اونٹنی اس کے مشابہ نہ تھی۔ اور اس کے دودھ کا کثیر ہونا یہاں تک کہ وہ ان تمام کو کافی ہوتا تھا۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے ناقہ کے علاوہ دوسرے معجزے بھی ہوں، جیسا کہ کنواں وغیرہ فکانوا عنھا معرضین یعنی انہوں نے اعتبار نہ کیا، غوروفکر نہ کی۔
Ayahs 15:82–84آیت نمبر 82 تا 84
کلام عرب میں النحت کا معنی تراشنا اور چھیلنا ہے۔ نحتہ ینحتہ (یہ عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ ہے) نحتا یعنی اس نے اسے تراشا۔ اور النحاتۃ کا معنی البرایۃ (تراشنا) ہے۔ اور المنحت سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ کھودا اور تراشا جاتا ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے اتعبدون ما تنحتون۔ (الصافات) (یعنی کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود تراشتے اور بناتے ہو) ۔ پس وہ اپنی شدید قوت کے ساتھ اپنے لئے پہاڑوں میں اپنے گھر بناتے تھے۔ امنین یعنی وہ ان کے ان پر گرنے سے یا خراب ہونے سے پرامن اور بےخوف و خطر رہتے تھے۔ فاخذتھم الصیحۃ مصبحین یعنی صبح کے وقت انہیں ایک خوفناک چنگھاڑنے پکڑ لیا، اور مصبحین حال ہونے کی وجہ سے میں صوب ہے۔ ، الصیحۃ کا ذکر سورة ہود اور اعراف میں گزر چکا ہے۔ فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون پس انہیں مالوں اور پہاڑوں میں موجود قلعوں نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا، اور نہ اس قوت و طاقت نے جو انہیں عطا کی گئی تھی انہیں کوئی فائدہ پہنچایا۔