15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 15:85–86

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہیں اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آ کر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار ہی (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے۔

آیت نمبر 85 تا 86 قولہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق یعنی (ہم نے ہر شے کو) زوال اور فناہ ہونے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یعنی تاکہ میں نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کو جزا اور بدلہ دوں ؛ جیسا کہ ارشاد فرمایا : وللہ ما فی السموت وما فی الارض، لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی۔ (النجم) (اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ بدلہ دے بدکاروں کو ان کے اعمال کا اور بدلہ دے نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا) ۔ وان الساعۃ لاتیۃ بیشک قیامت ہو کر رہنے والی ہے پس ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ فاصفح الصفح الجمیل اسی کی مثل یہ ارشاد ہے واھجرھم ھجرا جمیلا۔ (المزمل) (اور ان سے الگ ہوجائے بڑی خوبصورتی سے) ۔ یعنی اے محمد ! ﷺ ان سے درگزر فرمائے، اور انہیں خوب اچھی طرح معاف فرما دیجئے ؛ پھر اسے آیۃ السیف کے ساتھ منسوخ کردیا گیا۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : اسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد نے منسوخ کردیا ہے : واقتلوھم حیث ثقفتموھم واخرجوھم (البقرہ : 191) (تو پکڑ لو انہیں اور قتل کرو انہیں جہاں تم پاؤ انہیں) ۔ اور یہ کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” تحقیق میں تمہارے پاس ذبح (قربانی) کا حکم لے کر آیا ہوں اور مجھے حصاد (کٹائی) کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور میں زراعت کے ساتھ مبعوث نہیں کیا گیا “۔ یہ عکرمہ اور مجاہد رحمہا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے، اور یہ کہ یہ اپنی ذات کے حق میں درگزر کرنے کا حکم ہے ان معاملات میں جو آپ ﷺ اور ان کے درمیان ہیں۔ اور الصفح کا معنی اعراض کرنا ہے یہ حسن وغیرہ سے مروی ہے۔ ان ربک ھو الخلق یعنی بیشک آپ کا رب ہی خلق اور اخلاق کو مقرر کرنے والا اور ان کا فیصلہ کرنے والا ہے العلیم وہ موافقت کرنے والوں اور نفاق رکھنے والوں کو جاننے والا ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

آیت نمبر 87 سبع مثانی کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے ؛ پس کہا گیا ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے ؛ یہ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابوہریرہ ، ربیع بن انس، ابو العالیہ اور حسن وغیرہم ؓ نے کہا ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ اسناد کے ساتھ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ کی حدیث سے مروی ہے۔ اور یہ سورة فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ اور امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الحمدللہ ام القرآن، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے۔ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ نص ہے، اور سورة فاتحہ میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے : نشدتکم بمنزل القرآن ام الکتاب السبع من مثانی اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد سات طویل سورتیں ہیں (اور وہ یہ ہیں) البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف اور انفال اور التوبہ دونوں اکٹھی ہیں ؛ کیونکہ ان دونوں کے درمیان بسم اللہ شریف نہیں ہے۔ نسائی نے بیان کیا ہے : علی بن حجر نے ہمیں بیان کیا (انہوں نے کہا) ہمیں شریک نے ابو اسحاق سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ : سبعا من المثانی کے بارے خبر دی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد سات طویل سورتیں ہیں، اور ان کا نام مثانی اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ عبرت، احکام، اور حدود کا ذکر ان میں بار بار کیا گیا ہے۔ اور ایک قوم نے اس کا انکار کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے : یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل کی گئی ہے، اور طوال میں سے کوئی شے وہاں نازل نہیں کی گئی۔ اور جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم آسمان دنیا کی طرف نازل کیا اور پھر وہاں سے اسے بالتدریج آہستہ آہستہ (اور تھوڑا تھوڑا کرکے) نازل فرمایا، پس جو اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کی طرف نازل کیا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو عطا فرما دیا اگرچہ اس کے بعد آپ پر نازل نہ بھی کیا گیا ہو۔ اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ سات طویل سورتیں ہیں وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد ؓ ہیں۔ اور جریر نے کہا ہے : جزی اللہ الفرزدق حین یمسی مضیعا للمفصل والمثانی اور یہ بھی کہا گیا ہے : المثانی سے مراد سارا قرآن کریم ہے ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : کتبا متشابھا مثانی (الزمر :23) (یعنی وہ کتاب جس کی آیتیں ایک جیسی ہیں بار بار دہرائی جاتی ہیں) یہی قول حضرت ضحاک، طاؤس اور ابو مالک رحمہم اللہ تعالیٰ کا ہے، اور یہی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور اس کو مثانی کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں اخبار اور قصص بار بار بیان کئے گئے ہیں۔ اور حضرت صفیہ بنت عبد المطلب ؓ رسول اللہ ﷺ کا مرثیہ کہتی ہیں : فقد کان نورا ساطعا یھتدی بہ یخص بتنزیل المثانی المعظم تحقیق آپ روشن ومنور نور تھے جس سے ہدایت اور راہنمائی حاصل کی جاتی تھی اور قرآن عظیم کی تنزیل کے ساتھ آپ کو خاص کیا گیا ہے۔ اس میں المثانی العظیم سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ السبع المثانی سے مراد قرآن کریم کی اقسام ہیں، مثلاً امر، نہی، بشارت دینا، انذار (ڈرانا) ضرب الامثال، نعمتیں شمار کرنا اور قرون ماضیہ کی خبریں بیان کرنا ؛ یہ زیاد بن ابی مریم نے بیان کیا ہے۔ پہلا قول صحیح ہے کیونکہ وہ نص ہے۔ تحقیق ہم نے سورة فاتحہ میں ذکر کیا ہے کہ اسے مثانی کا نام دینے میں ایسی چیز نہیں ہے جو اس کے سوا یہ نام دینے کے مانع ہو، مگر یہ کہ جب حضور نبی مکرم ﷺ سے کسی شی کے بارے نص ثابت اور وارد ہو جو تاویل کا احتمال نہ رکھتی ہو تو آپ کے نزدیک اسی پر وقوف اور توقف ہوگا۔ قولہ تعالیٰ : والقران العظیم اس میں اضمار ہے تقدیر کلام یہ ہے : وھو أن الفاتحہ القرآن العظیم اور وہ سورة فاتحہ ہی قرآن عظیم ہے کیونکہ وہ ان امور پر مشتمل ہے جو اصول اسلام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ اور یہ سورة الفاتحہ میں گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں واؤ مقحمہ ہے۔ اور تقدیر کلام ہے : ولقد آتیناک سبعا من المثانی القرآن العظیم۔ اور اسی کے مطابق شاعر کا قول بھی ہے۔ ألی الملک القوم وابن الھمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم اور یہ پہلے اس ارشاد کے تحت گزر چکا ہے : حفظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی (البقرہ :238) (پابندی کرو سب نمازوں کی اور (خصوصاً ) درمیانی نماز کی) ۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا۔

آیت نمبر 88 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : لا تمدن عینیک اس کا معنی ہے : تحقیق میں نے اپ کو غنی کردیا ہے قرآن کریم کے ساتھ ہر اس شی سے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کے ساتھ مستغنی نہیں ہوا یعنی وہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے یہ خیال کیا کہ قرآن کریم میں سے جو کچھ اس کے پاس ہے اس کے ساتھ وہ غنی نہیں ہے یہاں تک کہ اس کی نظر دنیوی زیب و آرائش کی طرف اٹھتی رہی حالانکہ اس کے پاس معارف مولیٰ موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے : یہ اس بارے میں کہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودیوں کے ساتھ قافلے ایک دن میں بصریٰ اور اذرعات سے آئے، اور ان کے پاس گندم، خوشبو، جواہرات اور سامان بحر موجود تھا، تو مسلمانوں نے کہا : اگر یہ اموال ہمارے پاس ہوتے تو یقیناً ہم ان کے ساتھ تقویت پاتے اور ہم انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ولقد اتینک سبعا من المثانی یعنی یہ تمہارے لئے ان سات قافلوں سے بہتر ہے، پس تم ان کی طرف اپنی آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھئے، اور اس طرف ابن عینیہ گئے ہیں، اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد بھی ذکر کیا ہے : لیس منا من لم یتغن بالقران۔ یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کے ساتھ مستغنی نہیں ہوا۔ اور یہ معنی کتاب کے شروع میں گزر چکا ہے۔ اور ازواجا منھم کا معنی ہے جو مال و نعم میں ان کی مثل ہیں، یعنی اغنیاء اور مالدار جو غنی اور مال میں بعض بعض کی مثال ہوتے ہیں، پس وہ ازواج ہی ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: یہ آیت دائمی طور پر سامان دنیا سے آراستہ اور مزین ہونے سے زجرو توبیخ کرنے اور بندے کو اپنے مولیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اور اسی کی مثل یہ آیت ہے ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیواۃ الدنیا لنفتنھم فیہ الآیہ (اور آپ مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھئے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے کافروں کے چند گروہوں کو یہ محض زیب وزینت ہیں دنیوی زندگی کی اور (انہیں اس لئے دی ہیں تاکہ ہم آزمائیں انہیں) حالانکہ اس طرح نہیں، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : حبب الی من دنیاکم النساء والطیب وجعلت قرۃ عینی فی الصلواۃ (تمہاری دنیا سے میرے لئے عورتوں اور خوشبو کو پسندیدہ بنایا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے) اور آپ ﷺ عورتوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے انسانی فطرت کے اعتبار سے اور خلقت انسانیہ کی تزیین اور آراستگی کے لئے، اور خوشبو پر دوام اختیار فرماتے تھے، مگر آپ ﷺ کی آنکھ فقط اپنے مولیٰ کی مناجات کے وقت نماز میں ٹھنڈی ہوتی تھی، اور آپ یہ نظریہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مناجات اور عبادت کرنا کسی اور سے زیادہ موزوں، لائق اور اولیٰ ہے۔ اور حضور نبی رحمت حضرت محمد ﷺ کے دین میں رہبانیت نہیں ہے اور نہ ہی کلی طور پر دنیا سے قطع تعلقی کرکے ہمہ وقت اعمال صالحہ اور عبادت و ریاضت میں متوجہ ہونا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں تھا، بیشک اللہ تعالیٰ نے دین کے ستاھ تمسک اور میلان، فیاضی جو مشقت سے خالی ہو اور آدمی پر خفیف اور آسان ہو کر مشروع قرار دیا ہے۔ وہ آدمیت سے اس کی شہوات کو لیتا ہے اور قلب سلیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قراء اور فضلاء میں سے مخلصین نے لذات سے رکنا اور زمین و آسمان کے پروردگار کے لئے خلوص اختیار کرنا آج اولیٰ اور بہتر دیکھا ہے، کیونکہ دنیا پر حرام غالب آچکا ہے، اور بندہ اپنی معاش میں ایسے لوگوں کے ساتھ اختلاط پر مجبور ہے جن کے ساتھ اس کا اختلاط اور ملنا جائز نہیں اور آدمی ان کے ساتھ کاروبار کرنے پر مجبور ہے جن کا کاروبار حرام ہے، پس قرأت کرنا افضل ہے، اور دنیا سے فرار اختیار کرنا بندے کے لئے زیادہ صحیح اور درست ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا بہترین مال بکریوں کا ریوڑ ہوگا وہ ان کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر پھرتا رہے گا اور اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے جائے گا “۔ قولہ تعالیٰ : ولا تحزن علیھم یعنی آپ مشرکوں پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں اگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آپ اس (مال) پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں جس سے انہیں دنیا میں لطف اندوز کیا گیا ہے بیشک آپ کیلئے آخرت میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ ان پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں اگر وہ عذاب کی طرف جا رہے ہیں بیشک وہ اہل عذاب ہی ہیں۔ واخفض جناحک للمؤمنین یعنی آپ اس کے لئے اپنا پہلو نرم کیجئے جو آپ کے ساتھ ایمان لایا ہے اور آپ ان کے لیے تواضع اختیار کیجئے۔ اور اس کا اصل معنی ہے کہ پرندہ جب اپنے بچے کو اپنے ساتھ ملا لے پھر اپنے پر پھیلائے اور انہیں بچوں پر بچھا دے، پس کسی بھی انسان کے لئے اپنے پیروکاروں کو اپنے قریب لانے کے لئے یہی وصف بنایا گیا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : فلان خافض الجناح، یعنی فلاں بڑے وقار اور سکون میں ہے۔ اور ابن آدم کے دو پر اس کے دو پہلو ہیں، اور اسی سے یہ ہے واضمم یدک الیٰ جناحک (طہ : 22) اور (حکم ملا) دبالو اپنے ہاتھ اپنے بازو کے نیچے) ۔ اور پرندے کے پر اس کے ہاتھ ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : وحسبک فتیۃ لزعیم قوم یمد علی أخی سقم جناحا یعنی تواضع اور نرمی کرتے ہوئے۔
Ayahs 15:89–90

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں۔

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا۔

آیت نمبر 89 تا 90 اس کلام میں حذف ہے ؛ یعنی ان انا النذیر المبین عذابا (بےشک میں عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں) پس اس سے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے، جبکہ انذار اس پر دلالت کر رہا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود۔ (فصلت) (میں نے ڈرایا ہے تمہیں اس کڑک سے جو عاد وثمود کی کڑک کی مانند (ہلاکت خیز) ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاف زائدہ ہے، یعنی أنذرتکم ما أنزلنا علی المقتسمین (میں تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں جو ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا) ؛ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : لیس کمثلہ شیئ (الشوریٰ :11) (نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : أنذرتکم مثل ما أنزلنا بالمقتسمین (میں نے تم کو ڈرایا ہے جو ہم نے بانٹنے والوں پر نازل کیا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کما انزلنا علی المقتسمین ای من العذاب یعنی جس طرح ہم نے عذاب بانٹنے والوں پر اتارا۔ اور ہم آپ کی طرف سے استہزاء کرنے والوں کے لئے کافی ہیں، پس آپ اس کا اعلان کر دیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے جنہوں نے بغاوت کی، کیونکہ ہم آپ کے لئے ان سرداروں کے مقابلے میں کافی ہیں جو آپ ان سے پایا کرتے جو پایا کرتے۔ اور المقتسمین کے بارے میں سات مختلف اقوال ہیں : (1) مقاتل اور فراء نے کہا ہے : یہ وہ سولہ آدمی ہیں جنہیں ولید بن مغیرہ نے حج کے ایام میں بھیجا تھا پس انہوں نے مکہ مکرمہ کی گھاٹیاں، وہاں کے درے اور کھلے راستے تقسیم کر لئے جو بھی ان پر چل کر آتا وہ اسے کہتے تھے : تم اس کے دھوکے میں نہ آنا جو ہم میں ظاہر ہوا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ وہ مجنون ہے اور بسا اوقات کہتے وہ ساحر (جادوگر) ہے، کبھی کہتے وہ شاعر ہے، اور کبھی کہتے وہ کاہن ہے، پس ان کا نام مقتسمین اس لئے رکھا گیا کیونکہ انہوں نے یہ راستے تقسیم کر لئے تھے، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں انتہائی بری موت کے ساتھ مار دیا۔ اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کو بطور حکم (ثالث) مسجد کے دروازے پر کھڑا کیا، اور جب وہ اس سے نبی مکرم ﷺ کے بارے میں پوچھتے تو وہ کہتا : انہوں نے سچ کہا ہے۔ (2) حضرت قتادہ نے کہا ہے : یہ کفار قریش کی ایک جماعت اور گروہ ہے انہوں نے کتاب اللہ کو تقسیم کرلیا بعض کو شعر بنا دیا، بعض کو سحر بنا دیا، بعض کو کہانت بنا دیا، اور بعض کو پہلے لوگوں کے افسانے بنا دیا۔ (3) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : یہ وہ اہل کتاب ہیں جو قرآن کریم کے بعض کے ساتھ ایمان لائے اور بعض کے ساتھ کفر کیا۔ اور اسی طرح عکرمہ نے بھی کہا ہے : وہ اہل کتاب ہیں، اور ان کا نام مقتسمین اسلئے رکھا گیا کیونکہ وہ استہزاء کرنے والے تھے، پس ان میں سے کوئی کہتا تھا : یہ سورت میرے لئے اور یہ سورت تیرے لئے (نازل ہوئی ہے) اور یہی چوتھا قول ہے۔ (5) حضرت قتادہ نے کہا ہے : انہوں نے اپنی کتاب کو تقسیم کردیا اور اسے متفرق کردیا اور اسے بکھیر دیا اور اس میں تحریف کردی۔ (6) حضرت زید بن اسلم نے کہا ہے : مراد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے، انہوں نے آپ کے قتل کے بارے باہم قسمیں کھائیں، پس اسی وجہ سے ان کا نام مقتسمین رکھا گیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قالوا تقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ (النمل :49) (انہوں نے کہا : آؤ اللہ کی قسم کھا کر یہ عہد کرلیں کہ شبخون مار کر صالح اور اس کے اہل خانہ کو ہلاک کردیں گے) ۔ (7) اخفش نے کہا ہے : یہ وہ قوم ہے جنہوں نے قسم کھائی اور اس پر ایک دوسرے سے حلف لیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ عاص بن وائل، عتبہ اور شیبہ، ربیعہ کے دونوں بیٹے، ابوجہل بن ہشام، ابو البختری بن ہشام، نضر بن حارث، امیہ بن خلف، اور منبہ بن حجاج تھے، اس کا ذکر ماردوی نے کیا ہے۔
Ayah 15:91

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

آیت نمبر 91 یہ باٹنے والوں کی صفت ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہے اور اسکی خبر لنسئلنھم ہے۔ اور عضین کی واحد عضۃ ہے، یہ عضیت الشئ تعضیۃ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اسے متفرق کردیا اور ہر فرقہ (اور گروہ) عضۃ کہلاتا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ اصل میں عضوۃ تھا پس اس سے واؤ کم کردی گئی، اور اسی وجہ سے اس کی جمع عضین ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا ہے : عذین عذۃ کی جمع ہے۔ اور یہ اصل میں عزوۃ تھا، اور اسی طرح ثبۃ اور اس کی جمع ثبین ہے۔ اور معنی اسی کی طرف لوٹتا ہے جو ہم نے مقتسمین کے ضمن میں ذکر کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ بعض (قرآن) کے ساتھ ایمان لائے اور بعض کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں متفرق جھوٹ گھڑے اور اسے جھوٹ، سحر، کہانت، اور شعر قرار دیا۔ عضوتہ ای فرقتۃ (میں نے اسے بکھیر دیا) ۔ ولیس وبن اللہ بالمعضی اللہ تعالیٰ کا دین متفرق ہے۔ ای بالمفرق (جس کو تقسیم کیا گیا ہو) اور کہا جاتا ہے : اس میں ھاء کم کردی گئی ہے اور اسکی اصل عضھۃ ہے کیونکہ العضہ اور العضین لغت قریش میں اس کا معنی سحر ہے۔ اور وہ ساحر کو عاضہ اور ساحرۃ (جادو گر عورت) کو عاضھۃ کہتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے : أعوذ بربی من النافثات فی عقد العاضہ المعضہ اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے العاضھۃ اور المستعضھۃ پر لعنت کی ہے۔ اور اس کی تفسیر الساحرۃ (جادو کرنے والی) اور المستسحرۃ (جادو کرنے والی) سے کی گئی ہے۔ اور اس کا معنی ہے : انہوں نے قرآن کریم پر کثرت سے بہتان لگائے اور اس کے بارے میں طرح طرح کی کذب بیانی کی، پس انہوں نے کہا : یہ جادو ہے اور پہلے لوگوں کے افسانے ہیں، اور یہ کہ یہ گھڑا ہوا جھوٹ ہے، علاوہ ازیں اسی طرح کی باتیں کی۔ اور حرف کم کرنے میں عضۃ کی نظیر شفۃ ہے، اس کی اصل شفھۃ ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا ہے : سنۃ اور اس کی اصل سنھۃ ہے، پس انہوں نے ھاء اصلیہ کو ساقط کردیا اور ھا علامت تانیث کو قائم رکھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ العضہ سے ماخوذ ہے اور اسکا معنی النمیمۃ (طغلخوری) ہے۔ اور العضیھۃ سے مراد بہتان ہے، اور یہ انسان کا چغلی کھانا ہی ہوتا ہے اور آدمی اس میں وہ کچھ کہتا ہے جو اس میں نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے : عضھہ عضھا اس نے اس پر بہتان باندھا۔ وقد أعضھت یعنی میں بہتان لے کر آیا۔ (میں نے بہتان تراشی کی) ۔ کسائی نے کہا ہے : العضۃ کا معنی جھوٹ اور بہتان ہے، اور اس کی جمع عضون ہے، مثلا عزۃ اور اس کی جمع عزون ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الذین جعلوا القرآن عضاین (جنہوں نے کردیا تھا قرآن کو پارہ پارہ) اور کہا جاتا ہے : عضوہ یعنی وہ اس کے ساتھ ایمان لائے جسے انہوں نے پسند کیا اور باقی کے ساتھ کفر کیا، پس ان کے کفر نے ان کے ایمان کو ضائع کردیا۔ اور فراء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ العضاۃ سے ماخوذ ہے، اور یہ وادی کا ایک درخت ہے اور وہ کانٹے کی طرح نکلتا ہے۔
Ayahs 15:92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے۔

آیت نمبر 92 تا 93 قولہ تعالیٰ : فو ربک لنسئلنھم اجمعین یعنی ہم ضرور ان کے بارے پوچھیں گے جن کا ذکر جاری ہے ان اعمال کے بارے میں جو انہوں نے دنیا میں کئے۔ اور امام بخاری میں ہے : متعدد اہل علم نے قول باری تعالیٰ : فو ربک لنسئلنھم اجمعین۔ عما کانوا یعملون۔ کے بارے کہا ہے (کہ مراد یہ ہے) کہ ہم لا الہ الا اللہ کے بارے پوچھیں گے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حدیث مرفوعا روایت کی گئی ہے، ترمذی حکیم نے بیان کیا ہے : ہمیں جارود بن معاذ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہمیں فضل بن موسیٰ نے شریک سے انہوں نے لیث سے انہوں نے بشیر بن نھیک سے انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قول باری تعالیٰ : فوربک لنسئلنھم اجمعین۔ عما کانوا یعملون۔ کے بارے میں فرمایا : لا الہ الا اللہ کے قول (کے بارے ہم ان سے پوچھیں گے) ۔ ابو عبد اللہ نے کہا : ہمارے نزدیک اس کا معنی ہے لا الہ الا اللہ کی سچائی اور اسے پورا کرنے کے متعلق سوال ہوگا، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں عمل کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے عما کانوا یعملون اور یہ نہیں فرمایا عما کانوا یقولون (یعنی اس کے بارے میں جو وہ کہتے ہیں) اگرچہ یہ جائز ہے کہ قول بھی زبان کا عمل ہوتا ہے، بیشک اس سے مراد وہ معنی ہے جسے اہل لغت پہچانتے ہیں کہ قول قول ہے اور عمل عمل ہے۔ اور بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عن قول لا الہ الا اللہ یعنی اس کے ساتھ وفا کرنے اور اس کے قول کی سچائی کے بارے سوال ہوگا، جیسا کہ امام حسن بصری ؓ نے کہا ہے : ایمان آراستہ اور مزین ہونے کے ساتھ نہیں اور نہ دین تمنی کے ساتھ ہے لیکن یہ وہ ہے جو دلوں میں راسخ اور ثابت ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں، اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے : ” جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا “۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا اخلاص کیا ہے ؟ فرمایا : ” وہ اسے اللہ تعالیٰ کے محارم سے روکے رکھے “۔ اسے حضرت زید بن ارقم ؓ نھے روایت کیا ہے۔ اور آپ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میری امت کا کوئی آدمی جو لا الہ الا اللہ کہے گا اور اس کے ساتھ کسی اور شے کی آمیزش نہیں کرے گا اس کے لئے جنت واجب ہے “۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کون سے شے ہے جسے لا الہ الا اللہ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” دنیا پر حریص ہونا، اس کو جمع کرنا اور پھر اسے روک کر رکھنا، وہ قول انبیاء کا کہتے ہیں اور عمل جابروں اور ظالموں کا کرتے ہیں “۔ اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے باز رکھتا ہے جب تک وہ اپنے دنیا کے معاملہ کو اپنے دین پر ترجیح نہ دیں پس جب اپنی دنیا کے معاملہ کو اپنے دین پر ترجیح دیں اور پھر کہیں لا الہ الا اللہ تو اسے ان پر لوٹا دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم نے جھوٹ کہا ہے “۔ اس کی اسانید نوادر الاصول میں ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : آیت اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کے سوال اور ان کے محاسبے پر دلالت کرتی ہے جو ان میں سے کافر ہیں اور جو ان میں سے مومن ہیں، سوائے ان کے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کیا ہے۔ پس اگر کہا جائے : کیا کافر سے سوال کئے جائیں گے اور اس کا محاسبہ کیا جائے گا ؟ تو ہم کہتے ہیں : اس میں اختلاف ہے، اور ہم نے اسے ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اور جو اس کے سوال کو ظاہر کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے یہ ارشادات ہیں : وقفوھم انھم مسئولون۔ (الصافات) اور (اب ذرا) روک لو انہیں، ان سے باز پرس کی جائے گی) ۔ اور ان الینا ایابھم۔ ثم ان علینا حسابھم۔ (الغاشیہ) (بےشک انہیں (آخر) ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے) پس اگر کہا جائے : تحقیق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون۔ (القصص) (اور نہیں دریافت کئے جائیں گے مجرموں سے ان کے گناہ) اور فرمایا : فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جان۔ (الرحمن) (تو اس روز کسی انسان اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا) اور فرمایا : ولا یکلمھم اللہ (البقرہ : 174) (اور بات تک نہ کرے گا ان سے اللہ تعالیٰ ) ۔ اور فرمایا : انھم عن ربھم یومئذ لمعجوبون۔ (المطففین) (یقیناً انہیں اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن روک دیا جائے گا) ۔ تو ہم کہیں گے : قیامت کے کئی مقامات ہیں، پس کسی جگہ پر سوال و کلام ہوگی، اور کسی مقام پر ان میں سے کچھ نہ ہوگا۔ اور عکرمہ نے کہا : قیامت میں کئی مقامات ہوں گے، بعض میں سوال کئے جائیں گے اور بعض میں سوال نہیں کئے جائیں گے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان سے یہ سوال حصول خبر اور حصول علم کے لئے نہیں ہوگا کہ کیا تم نے اس اس طرح کیا ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر شے کو جاننے والا ہے، لیکن ان سے یہ سوال برائے ڈانٹ ڈپٹ اور زجرو توبیخ کے ہوگا پس اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : تم نے قرآن کریم اور اس میں اپنے لئے موجود دلائل کی نافرمانی کیوں کی ہے ؟ اور قطرب نے اسی قول پر اعتماد کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لنسئلنھم اجمعین۔ (الحجر) یعنی ہم مکلف مومنوں سے ضرور سوال کریں گے، اس کا بیان یہ قول باری تعالیٰ ہے : ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم۔ (التکاثر) (پھر ضرور پوچھا جائے گا تم سے اس دن جملہ نعمتوں کے بارے میں) اور عموم کے مطابق قول کرنا زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 15:94–95

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لئے جو تم سے اسہزا کرتے ہیں کافی ہیں۔

آیت نمبر 94 تا 95 قولہ تعالیٰ : فاصدع بما تؤمر یعنی آپ اس کے بارے اعلان کر دیجئے جس کے بارے آپ کا حکم دیا گیا ہے، یعنی آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام تمام مخلوق تک پہچائیے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے، تحقیق اسی کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اور الصدع کا معنی الشق (پھاڑنا) ہے۔ اور تصدع القوم یعنی قوم متفرق ہوگئی اور اسی سے ہے یومئذ یصدعون۔ (الروم) یعنی اس دن وہ متفرق ہوجائیں گے (بکھر جائیں گے) اور صدعتہ فانصدع ای انشق۔ (میں نے اسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا) ۔ اور الصدع کا اصل معنی جدا کرنا اور پھاڑنا ہے۔ ابو ذؤیب اپنے گدھوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : وکأنھن ربابۃ و کأنہ یسر یفیض علی القداح ویصدع اس میں یصدع بمعنی یفرق اور یشق (یعنی جدا جدا کرنا اور پھاڑنا) کے ہے۔ پس قول باری تعالیٰ : فاصدع بما تؤمر فراء نے کہا ہے : اس سے فاصدع بالأمر کا ارادہ کیا ہے، یعنی اپنے دین کا اظہار کیجئے، پس اس میں ما فعل کے ساتھ مل کر قائم مقام مصدر کے ہے۔ اور ابن الاعرابی نے کہا ہے : فاصدع بما تؤمر کا معنی ہے اس کا قصد کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : فاصدع بما تؤمر کا معنی ہے آپ ان کی جمعیت اور ان کے کلمہ کو جدا جدا کر دیجئے اس کے ساتھ کہ آپ انہیں توحید کی طرف دعوت دیں کیونکہ یہ متفرق ہوجائیں گے اور جدا جدا ہوجائیں گے اس طرح کہ بعض اسے قبول کرلیں گے، پس اس تفسیر کے مطابق الصدع جماعت کفار کو متفرق کرنے کی طرف راجع ہوگا۔ قولہ تعالیٰ : واعرض عن المشرکین۔ اور آپ مشرکوں کے استہزاء کو اہمیت دینے سے اور ان کے قول کی کوئی پرواہ کرنے سے اعراض کرلیجئے، منہ پھیر لیجئے تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بری قرار دیا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : یہ اس قول باری تعالیٰ فاقتلوا المشرکین (التوبہ :5) کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور عبد اللہ بن عبید نے کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ مسلسل (دعوت) چھپاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قول نازل فرمایا : فاصدع بما تؤمر پھر آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب باہر نکلے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس میں اللہ تعالیٰ نے نماز میں قرآن بالجھر پڑھنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ اوعرض عن المشرکین اور آپ ان کی پرواہ نہ کریں۔ اور ابن اسحاق نے کہا ہے : جب وہ شر میں انتہائی سرکش ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کثرت سے استہزاء کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں فاصدع بما تؤمرواعرض عن مشرکین۔ انا کفینک المستھزء ین۔ الذین یجعلون مع اللہ الھا اخر فسوف یعلمون۔ اور اس کا معنی ہے آپ اس کا اعلان کر دیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرئیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے لئے کافی ہے جس نے آپ کو اذیت پہنچائی جیسا کہ وہ آپ کو مذاق اڑانے والوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہے، اور وہ اہل مکہ کے پانچ سردار تھے ان میں ولید بن مغیرہ تھا وہ ان کا سرخیل تھا، اور عاص بن وائل، اسود بن مطلب بن اسد ابو زمعہ، اور اسود بن عبد یغوث، اور حارث بن طلاطلہ، اللہ تعالیٰ نے ان تمام کو ہلاک کردیا، کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں غزوہ بدر میں ایک ہی دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ اور ان کے ہلاک ہونے کے سبب سے متعلق ابن اسحاق نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور وہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے، پس وہ اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے تو آپ کے پاس سے اسود بن مطلب گزرا اور آپ نے اس کے چہرے پر سبز پتہ پھنکا تو وہ اندھا ہوگیا اور اس کی آنکھ درد کرنے لگی، تو وہ اپنا سر دیوار کے ساتھ مارنے لگا۔ اور آپ کے پاس اس اسود بن عبد یغوث گزرا تو آپ نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا پس اس کا پیٹ پانی سے بھر گیا اور اس سوج کی وجہ سے مرگیا۔ کہا جاتا ہے : حبن (کسرہ کے ساتھ) حبنا اور حبن فعل مجہول کے لئے ہے یعنی اس کا پیٹ زرد پانی کے ساتھ بھر گیا، بڑھ گیا، فھو أحبن (وہ بڑے پیٹ والا ہے) والمرأۃ حبناء (سوجے ہوئے پیٹ والی عورت) ، اسی طرح الصحاح میں ہے۔ اور ولید بن مغیرہ آپ کے پاس سے گزرا پس آپ نے اس کے پاؤں کے ٹخنے کے نیچے زخم کے نشان کی طرف اشارہ کیا، اور وہ اس کو کئی سال پہلے لگا تھا، اور وہ اپنی چادر تکبر کی وجہ سے زمین پر گھسیٹ کر چلا کرتا تھا اور اس کی وجہ یہ ہوئی وہ خزاعہ کے ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ اپنے تیر کو پر لگا رہا تھا پس اس کا تیر اس کی چادر کے ساتھ اٹک گیا اور اس کے پاؤں میں خراش لگ گئی وہ فقط خراش تھی اور کچھ نہ تھا، تو وہ اس کے ساتھ جھگڑ پڑا اور اس نے اسے قتل کردیا۔ اور عاص بن وائل آپ کے پاس سے گزرا اور آپ نے اس کے پاؤں کے تلوے کی طرف اشارہ کیا، پھر وہ طائف کے ارادہ سے گدھے پر نکلا، تو گدھا اس کے ساتھ ایک کانٹے دار بوٹی پر بیٹھ گیا اور ایک کانٹا اس کے پاؤں کے تلوے میں لگ گیا اور اسی نے اسے قتل کر ڈالا۔ اور حارث بن طلاطلہ آپ کے پاس سے گزرا، اور آپ نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا پس اس سے پیپ بہنے لگی اور اسی نے اسے مار ڈالا۔ اور ان کی موت کے سبب میں جو اختلاف ذکر کیا گیا ہے وہ اس کے قریب قریب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ لوگ ہیں جو اس قول باری تعالیٰ سے مراد ہیں : فخر علیھم السقف من فوقھم (النحل : 26) (پس گر پڑی ان پر چھت ان کے اوپر سے) ۔ اسے تشبیہ دی گئی ہے ان کے ساتھ جنہیں موت ان پر چھت گرنے کی وجہ سے واقع ہو، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
Ayah 15:96

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو خدا کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔

آیت نمبر 96 یہ استہزا کرنے والوں کی صفت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر فسوف یعلمون ہے۔
Ayah 15:97

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

آیت نمبر 97 قولہ تعالیٰ : ولقد نعلم انک یضیق صدرک یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے، کیونکہ سینہ دل کا محل ہے۔ بما یقولون یعنی اس کے سبب جو آپ ان سے اپنی تکذیب اور اپنے قول کا رد سنتے ہیں، اور آپ اور آپ کے اصحاب اسے اپنے دشمنوں سے پاتے ہیں۔
Ayah 15:98

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو۔

آیت نمبر 98 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : فسبح پس آپ نماز کی پناہ لیجئے، یہ تسبیح کی غایت اور پاکی بیان کرنے کی انتہا ہے، اسی لئے اس کی تفسیر اپنے اس قول سے فرمائی : وکن من السجدین اور اس میں کوئی خفا نہیں ہے کہ نماز میں غایت قرب حالت سجود میں حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بندہ اپنے رب کے زیارہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ حالت سجدہ میں ہو پس تم اخلاص کے ساتھ دعا مانگو “۔ اور اسی وجہ سے سجود کو ذکر کرکے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: علامہ ابن عربی نے کہا ہے : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں امر سے مراد نفس سجود ہی ہے، اور اس مقام کو قرآن میں محل سجود قرار دیا ہے، اور بیت المقدس طہرہ اللہ میں محراب زکریا کے امام کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ اس مقام پر سجدہ کرتے ہیں اور میں نے بھی اسمیں ان کے ساتھ سجدہ کیا ہے، لیکن جمہور علماء کا یہ موقف نہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ابوبکر نقاش نے ذکر کیا ہے کہ یہاں ابو حذیفہ اور یمان بن رئاب کے نزدیک سجدہ ہے اور وہ اسے واجب گمان کرتے ہیں۔
Ayah 15:99

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے۔

آیت نمبر 99 اس میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے کہ الیقین سے مراد موت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی عبادت کا حکم دیا جب اس کے بندے اس میں کوتاہی کریں کہ یہ آپ پر واجب ہے۔ اگر کہا جائے : قول باری تعالیٰ : حتی یاتیک الیقین کا کیا فائدہ ہے ؟ حالانکہ قول باری تعالیٰ : واعبد ربک کا حکم دینے کے بارے میں کافی تھا، تو کہا جائے گا : اس میں فائدہ یہ ہے کہ اگر رب کریم مطلقا واعبد ربک فرماتا پھر آپ ایک بار اس کی عبادت کرلیتے تو آپ اطاعت کرنے والے ہوجاتے اور جب فرمایا : حتی یاتیک الیقین تو اسکا معنی ہوا اس سے جدائی اور علیحدگی اختیار نہ کیجئے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔ پھر اگر کہا جائے : اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کیسے کہہ دیا : واعبد ربک حتی یاتیک الیقین اور ابدا نہیں کہا، تو جواب یہ ہے کہ الیقین، ابداً کے قول کی نسبت زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ لفظ ابدا ایک لحظہ اور ہمیشہ کے معنی کا احتمال رکھتا ہے۔ اور یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہاں مراد مدت حیات تک عبادت کو جاری رکھنا ہے، جیسا کہ عبد صالح نے کہا : واوصنی بالصلوۃ و الزکوۃ ما دمت حیا۔ (مریم) (اور اسی نے مجھے حکم دیا ہے نماز ادا کرنے کا اور زکوٰۃ دینے کا جب تک میں زندہ رہوں) ۔ اور اسی پر یہ مسئلہ مرتب ہوتا ہے کہ جب کسی آدمی نے اپنی بیوی کو کہا : أنت طالق أبدا (تو ہمیشہ طلاق والی ہے) اور کہا : میں نے اس سے ایک دن یا ایک مہینے کی نیت کی ہے تو اس کے لئے رجعت کا حق حاصل ہوگا۔ اور اگر اس نے کہا : میں نے اسے زندگی بھر کے لئے طلاق دی ہے تو پھر اسے رجوع کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اور اس پر دلیل کہ یقین سے مراد موت ہے ام العلاء انصاریہ کی حدیث ہے، اور وہ بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھی۔ اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” رہے عثمان یعنی عثمان بن مظعون ؓ تحقیق انہیں موت آئی اور میں ان کے لئے خیر کی امیدر کھتا ہوں قسم بخدا ! میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں وہ جو اس کے ساتھ کیا جائے گا “۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ امام بخاری (رح) اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ اور حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) تعالیٰ کہتے ہیں : لوگوں کو موت کے بارے جو یقین ہے اس سے زیادہ کوئی یقین شک کے مشابہ میں نے نہیں دیکھا کہ پھر وہ اس کی تیاری نہیں کرتے، یعنی گویا وہ اس میں شک کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہاں یقین سے مراد وہ حق ہے جس میں کوئی شک نہیں (کہ) آپ کی آپ کے دشمنوں کے خلاف مدد کی گئی ہے۔ یہ ابن شجرہ نے کہا ہے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اور یہی حضرت مجاہد، قتادہ اور حسن کا قول ہے۔ واللہ اعلم۔ جبیر بن نفیر نے ابو مسلم خولانی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے بیشک حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور میں تاجروں میں سے ہوجاؤں لیکن میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ آپ پاکی بیان کیجئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور سجدہ کرنے والوں سے ہوجائیے اور اپنے رب کی عبادت کیجئے یہاں تک کہ آپ کے پاس الیقین آجائے “۔