Ayah 15:24آیت نمبر 24
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولقد علمنا المستقمین منکم ولقد علمنا المستاخرین اس میں آٹھ تاویلات ہیں : (1) المستقدمین یعنی جو آج دن تک پیدا ہونے میں آگے بڑھنے والے ہیں اور المستاخرین وہ جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، یہ حضرت قتادہ اور عکرمہ وغیرہما نے کہا ہے۔ (2) المستقدمین سے مراد اموات (مرنے والے) ہیں اور المستاخرین سے مراد احیاء (زندہ) ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا ہے۔ (3) المستقدمین سے مراد وہ ہیں جو حضور نبی مکرم ﷺ کی امت میں سے پہلے گزر چکے ہیں اور المستاخرین وہ ہیں جو حضور نبی مکرم ﷺ کی امت میں سے پیچھے آنے والے ہیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔ (4) المستقدمین وہ ہیں جو خیر اور اطاعت میں آگے بڑھنے والے ہیں، اور المستاخرین وہ ہیں جو شر اور معصیت میں پیچھے رہنے والے ہیں ؛ یہ حسن اور قتادہ نے بھی کہا ہے۔ (5) المستقدمین وہ جو جنگ کی صفوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، اور المستاخرین جو ان میں پیچھے رہنے والے ہیں ؛ یہ حضرت سعید بن مسیب ؓ نے کہا ہے۔ (6) المستقدمین جو جہاد میں قتل ہونے کے سبب آگے گزرنے والے ہیں، اور المستاخرین وہ جو قتل نہیں کئے گئے ؛ یہ قرظی نے کہا ہے۔ (7) المستقدمین سے مرا داول الخلق ہیں، اور المستاخرین آخر الخلق ہیں ؛ یہ شعبی نے کہا ہے۔ (8) المستقدمین سے مراد نماز کی صفوں میں آگے نکلنے والے ہیں اور المستاخرین سے مراد ان میں پیچھے رہنے والے ہیں عورتوں کے سبب۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ؛ کیونکہ وہ ہر موجود و معدوم کو جاننے والا ہے، اور وہ انہیں جاننے والا ہے جنہیں اس نے پیدا کیا ہے اور ہر اس شے کو جسے وہ یوم قیامت تک پیدا کریگا، مگر آٹھواں قول آیت کے نازل ہونے کا سبب ہے جیسا کہ اسے نسائی اور ترمذی نے ابو الجوزاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا ہے : ایک عورت جو کہ حسین ترین لوگوں میں سے ایک تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہی تھی، تو قوم میں سے بعض آگے بڑھنے لگے یہاں تک کہ وہ پہلی صف میں ہوگئے تاکہ وہ اسے نہ دیکھیں، اور بعض پیچھے ہوگئے یہاں تک کہ وہ پیچھے والی صف میں ہوگئے، اور جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے (اس کی طرف) دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین اور یہ ابو الجوزاء سے مروی ہے اور اسے حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر نہیں کیا، اور یہی اصح ہے۔
مسئلہ نمبر 2: یہ نماز میں اول وقت کی فضیلت پر اور پہلی صف کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہے، حضور نبی مکرم ﷺ نے
فرمایا : ” اگر لوگ اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑا ہونے کے (اجر وثواب کو) جان لیں تو پھر وہ اسے نہ پاسکیں مگر یہ کہ وہ اس پر قرعہ اندازی کریں تو یقیناً اس پر قرعہ اندازی کرتے “۔ پس جب ایک آدمی زوال کے وقت آئے اور پہلی صف میں امام کے پڑوس میں آکر بیٹھ جائے، تو اس نے فضیلت کے تین مراتب حاصل کرلئے : اول وقت صف اول امام کی مجاورت۔ اور اگر کوئی زوال کے وقت آیا اور دوسری صف میں آکر بیٹھ گیا یا پہلی صف سے ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا، تو اس نے اول وقت کی فضیلت کو پالیا اور پہلی صف اور امام کی مجاورت کی فضیلت کو نہ پاسکا۔ اور اگر کوئی زوال کے وقت آیا اور پہلی صف میں اس جگہ بیٹھ گیا جو امام کے قریب نہ تھی تو اسنے اول وقت اور صف اول کی فضیلت کو حاصل کرلیا اور امام کی مجاورت اس سے فوت ہوگئی۔ اور اگر کوئی زوال کے بعد آیا اور پہلی صف میں آکر بیٹھ گیا تو اس سے اول وقت کی فضیلت جاتی رہی اور اس نے پہلی صف اور امام کی مجاورت کو پالیا۔ اور اسی طرح امام کی مجاورت ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، بلاشبہ یہ ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ” چاہئے کہ میرے قریب تم میں سے عاقل بالغ لوگ ہوں “ الحدیث۔ پس جو امام کے پیچھے قریب ہوا سے چاہئے کہ اس صف سے متصف ہو۔ اور اگر کوئی دوسرا اس کی جگہ آبیٹھے تو اسے پیچھے کردیا جائے اور وہ اس جگہ آگے آجائے ؛ کیونکہ صاحب شرع کے حکم سے یہ اس کا حق ہے، جیسا کہ محراب امام کی جگہ ہے چاہے وہ پہلے آئے یا بعد میں، یہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی پر حضرت عمر ؓ کے اس قول کو محمول کیا جائے گا : اے فلاں ! تو پیچھے ہو، اے فلاں ! تو آگے ہو ؛ پھر آپ بڑھتے اور تکبر کہی جاتی۔ اور حضرت کعب ؓ سے روایت ہے کہ اس امت میں سے ایک آدمی سجدہ کرتے ہوئے گر جائے گا اور اس کو بخش دیا جائے گا جو اس کے پیچھے ہوگا۔ اور حضرت کعب ؓ اسی امید پر مسجد کی پچھلی صف کا قصد کرتے تھے، اور ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ تورات میں اسی طرح پایا ہے۔ اسے حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ذکر کیا ہے۔ اور اس باب سے متعلق زیادہ تفصیلی بیان سورة الصافات میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 3: اور جس طرح یہ آیت نماز میں صف اول کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، پس اسی طرح یہ جنگ میں بھی صف اول کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے ؛ کیونکہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہونا، اور بندے کا اپنی جان کو اللہ تعالیٰ سے فروخت کردینا کوئی عمل اس کے مساوی نہیں ہوسکتا ؛ پس اس کی طرف آگے بڑھنا افضل ہے، اس میں نہ کوئی اختلاف ہے اور نہ اس میں کوئی خفا ہے۔ اور کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی عیب یا برائی بیان نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ آپ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ دلیر اور شجاع تھے۔ حضرت براء ؓ نے بیان کیا ہے : قسم بخدا ! جب غصے کے سبب آپ کا رنگ سرخ ہوتا تو ہم آپ سے بچتے تھے۔ اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا جو آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ جاتا۔
Ayah 15:25آیت نمبر 25
قولہ تعالیٰ : وان ربک ھو یحشرھم یعنی حساب اور جزا کے لئے بیشک آپ کا رب ہی انہیں جمع کرے گا۔ انہ حکیم علیم اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 15:26آیت نمبر 26
قولہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان یعنی بلاشبہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ من صلصال یعنی خشک کھنکتی مٹی سے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور الصلصال : ایسی مٹی (گارا) جس میں ریت نہ ملی ہوئی ہو جب وہ ریت کے ساتھ مل جائے اور جب خشک ہوجائے، بجنے لگے، پھر جب اسے آگ پر پکا لیا جائے تو وہ فخار کہلاتی ہے ؛ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے۔ اور اہل لغت نے بیان کیا ہے :
کعدو المصلصل الجوال
اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد بدبودار گارا ہے اور کسائی نے اسے اختیار کیا ہے۔ فرمایا : یہ عربوں کے اس قول سے ہے : صل اللحم وأصل جب گوشت بدبودار ہوجائے چاہے وہ پکا ہوا ہو یا کچا ہو، یصل صلولا۔ حطیہ نے کہا ہے :
ذاک فتی یبدل ذا قدرہ لا یفسد اللحم لدیہ الصلول
اور طین صلال و مصلال، یعنی ایسی مٹی جو آواز دیتی ہو جب تو اسے کھٹکھٹائے جیسا کہ لوہا آواز دیتا ہے، پس وہ پہلے تراب تھی یعنی اس کے اجزاء متفرق تھے پھر اسے تر کیا گیا، گوندھا گیا تو طین ہوگئی، پھر اسے چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو وہ حما مسنون ہوگئی، یعنی متغیر ہوگئی (اس کی شکل خراب ہوگئی) پھر وہ خشک ہوئی تو صلصال ہوگئی ؛ یہی جمہور کا قول ہے۔ اور اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور الحمأ سے مراد سیاہ گارا ہے اور اسی طرح الحمأۃ بالتسکین بھی ہے ؛ اسی سے تو کہتا ہے : حمئت البرحما (یعنی یہ میم کے سکون کے ساتھ ہے) جب کنوئیں کا کیچڑ نکالا جائے۔ اور حمئت البرحمأ (میم متحرک کے ساتھ) جب اس کا کیچڑ زیادہ ہوجائے۔ اور أحماتھا إحمأ مصدر ہے جیسا کہ الھلع اور الجزع ہے پھر اسی کے ساتھ نام رکھ دیا گی ا ہے۔ اور المسنون کا معنی متغیر ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : وہ مٹی جو گیلی اور بدبودار ہو، اور اسے صلصال بنایا گیا ہے جیسا کہ فخار ہے۔ اور اسی کی مثل حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ تعالیٰ کا قول ہے، دونوں نے کہا ہے : بدبودار بدلی ہوئی مٹی یہ ان کے اس قول سے ہے : قد أسن الماء جب پانی (کا رنگ اور ذائقہ) بدل جائے : اور اسی سے لم یتسنہ (البقرہ : 259) (یہ باسی نہیں ہوا) اور مآء غیر اسن (محمد :15) (وہ پانی جس کی بو اور مزہ نہیں بگڑتا) ہے۔
اور اسی سے ابو قیس بن اسلت کا قول ہے :
سقت صدای رضابا غیر ذی أسن کالمسک فت علی ماء العناقید
اور فراء نے کہا ہے : اس سے مراد متغیر (وہ جس کی حالت بدل جائے) ہے، اور اس کی اصل ان کے اس قول سے ہے : سننت الحجر علی الحجر جب تو پتھر کو پتھر کے ساتھ رگڑے۔ اور جو کچھ دو پتھروں کو رگڑنے سے نکلتا ہے اسے السنانۃ اور السنین کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
ثم خاصر تھا الی القبۃ الحمراء تمشی فی مرمر مسنون
یعنی رگڑا ہو املائم پتھر۔ بیان کیا گیا ہے کہ یزید بن معاویہ نے اپنے باپ کو کہا : کیا تم عبد الرحمن بن حسان کو دیکھ نہیں رہے وہ تمہاری بیٹی کے محاسن بیان کرتا ہے ؟ تو معاویہ نے کہا : اس نے کیا کہا ہے ؟ اس نے بتایا وہ کہتا ہے :
ھی زھراء مثل لؤلؤۃ الغو اص میزت من جوھر مکنون
یہ غواصی کرنے والے کے موتی کی مثل کل ہے جسے چھپے ہوئے جوہر سے الگ کیا گیا ہو۔ تو معاویہ نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ! تو یزید نے کہا : وہ یہ بھی کہتا ہے :
واذا ما نسب تھا لم تجدھا فی سناء من المکارم دون
اور جب بھی تو اس کا نسب بیان کرے تو تو اسے مکارم اور عظمت کی بلندیوں میں کم نہیں ہائے گا۔
تو معاویہ نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ! پھر یزید نے کہا : اس کا یہ قول کہاں گیا : ثم خاصر تھا۔۔۔ البیت۔ تو معاویہ نے کہا : یہ جھوٹ ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : المسنون کا معنی انڈیلا ہوا ہے، اور یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : سننت الماء وغیرہ علی الوجہ جب تو پانی وغیرہ کو چہرے پر انڈیلے (تو مذکورہ جملہ کہا جاتا ہے) ۔ اور السن کا معنی الصب انڈیلنا ہے۔ اور علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ المسنون کا معنی الرطب (تر) ہے اور یہ بمعنی مصبوب ہی ہے ؛ کیونکہ وہ مصبوب (انڈیلا ہوا) تبھی ہو سکتا ہے جب وہ تر ہو۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے : کیونکہ کہا جاتا ہے : سننت الشئ یعنی میں نے شے کو انڈیل دیا۔ ابو عمرو بن علاء نے کہا ہے : اور اسی سے وہ اثر ہے جو حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ پانی اپنے چہرے پر انڈیلتے تھے اور اسے چھڑکتے نہ تھے اور الشن (شین کے ساتھ) ہو تو معنی پانی جھڑکنا ہے اور سین کے ساتھ ہو تو معنی بغیر تفریق کے پانی انڈیلنا اور بہانا ہے۔ اور سیبویہ نے کہا ہے : المسنون کا معنی مصور ہے (یعنی وہ گارا جو بنایا گیا ہو) یہ سنۃ الوجہ سے لیا گیا ہے اور اس کا معنی اس کی صورت اور شکل ہے۔ جیسا کہ ذوالرمہ نے کہا ہے :
تریک سنۃ وجہ غیر مقرفۃ ملساء لیس بھا خال ولاندب
اور اخفش نے کہا ہے : المسنون کا معنی جو سیدھا کھڑا ہو، یہ ان کے اس قول سے ماخوذ ہے وجہ مسنون جب اس میں طوالت ہو۔ اور تحقیق کہا گیا ہے : بیشک صلصال سے مراد گوندھی ہوئی مٹی (گارا) ہے ؛ اسے مہدوی نے بیان کیا ہے۔ اور جنہوں نے کہا ہے کہ صلصال سے مراد بدبودار مٹی ہے تو اس کی اصل صلال ہے، پھر دو لاموں میں سے ایک کو صاد سے بدل دیا گیا ہے اور من حما، صلصال کی جنس کی تفسیر بیان کر رہا ہے ؛ جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : أخذت ھذا من رجل من العرب (اس میں من العرب، رجل کی تفسیر کیلئے ہے) ۔
Ayah 15:27آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : والجآن خلقنہ من قبل یعنی آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے ہم نے جن کو پیدا فرمایا۔ اور حسن نے کہا ہے : مراد ابلیس ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا فرمایا۔ اور اسے آنکھوں سے چھپا رہنے کی وجہ سے جآن کا نام دیا گیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ثابت کی حدیث ہے کہ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تصویر جنت میں بنائی اور اسے چھوڑ دیا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اسے چھوڑے رکھے تو ابلیس اس کے اردگرد گھومتا رہا اور غور سے دیکھتا رہا یہ کیا ہے پس جب اس نے اس کے درمیان (پیٹ وغیرہ) کو دیکھا تو اس نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایسی مخلوق پیدا کی ہے جو اپنے نفس کی مالک نہیں ہوگی “۔ (یعنی شہوات سے اسے محفوظ نہیں رکھ سکے گی) من نار السموم حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا ہے : نار السموم وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے جن کو پیدا کیا ہے اور یہ جہنم کی آگ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : السموم سے مراد وہ گرام ہوا ہے جو مار ڈالتی ہے۔ اور آپ ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ یہ ایسی آگ ہے جس کا دھواں نہیں۔ اور صواعق (بجلی کی کڑک) اسی سے ہوتی ہے۔ اور (یہ صواعق) ایک آگ ہے جو آسمان اور حجاب کے درمیان ہوتی ہے، اور جب اللہ تعالیٰ حکم صادر کرے تو حجاب پھٹ جاتا ہے اور صاعقہ (بجلی کا گرنا) وہاں جا کر گرتی ہے جہاں اسے حکم دیا گیا ہو۔ پس وہ آواز (اور کڑک) جو تم سنتے ہو وہ اسی حجاب (پردے) کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : نار السموم وہ آگ ہے جس کے نیچے حجاب ہے، اور بادل کی جو گرج تم سنتے ہو یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ابلیس ملائکہ کے گروہوں میں سے ایک گروہ تھا ان کو جن کہا جاتا ہے وہ ملائکہ میں سے ہوتے ہوئے نار سموم سے پیدا کئے گئے۔ فرمایا۔ اور وہ جن جن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے وہ آگ کے خالص شعلے سے پیدا کئے گئے ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ محل نظر ہے ؛ کیونکہ یہ ایسی سند کا محتاج ہے جو عذر کو ختم کر دے ؛ کیونکہ اس جیسا قول فقط رائے سے نہیں کیا جاسکتا۔ اور امام مسلم (رح) نے حضرت عروہ کی حدیث نقل کی ہے انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ملائکہ نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور جن آگ کے خالص شعلے سے پیدا کئے گئے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو اس سے پیدا کیا گیا ہے جو تمہارے لئے بیان کیا گیا ہے “۔ پس آپ ﷺ کا قول : خلقت الملائکۃ من نور یہ عموم کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
اور جوہری نے کہا ہے : مارج من نار سے مراد وہ آگ ہے جس کا دھواں نہیں اور اسی سے جن پیدا کئے گئے ہیں، اور سموم سے مراد گرم ہوا ہے یہ مؤنث ہے ؛ اسی سے کہا جاتا ہے : سم یومنا (ہمارا دن گرم ہوگیا) پس یہی یوم مسموم ہے، اور اس کی جمع سمائم ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا ہے : گرم ہوا کبھی دن کے وقت۔ علامہ قشیری نے کہا ہے : گرم ہوا کو سموم کا نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ اپنی لطافت اور نرمی کے سبب بدن کے مساموں میں داخل ہوجاتی ہے۔
Ayahs 15:28–29آیت نمبر 28 تا 29
قولہ تعالیٰ : واذ قال ربک للملئکۃ اس کا ذکر سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ انی خالق بشرا من صلصال بیشک میں بجنے والی مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں فاذا سویتہ پس جب میں اس کی خلقت اور اس کی صورت درست فرما دوں۔ ونفخت فیہ من روحی، النفخ کا معنی کسی شی میں ہوا کو جاری کرنا ہے۔ اور الروح یہ لطیف جسم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ یہ ہے کہ وہ اس جسم کے ساتھ بدن میں حیاے پیدا فرماتا ہے۔ اور اس کی حقیقت خلق کی نسبت خالق کی طرف کرنا ہے پس روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جس کی اضافت تشریف و تکریم کے لئے اس نے اپنی طرف کی ہے۔ جیسا کہ ان ارشادات میں اضافت تشریف کے لئے ہے : ارضی (میری زمین) ، سمائی (مرا آسمان) ، بیتی (میرا گھر) ، ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) اور شھر اللہ (اللہ تعالیٰ کا مہینہ) اور اسی کی مثل وروح منہ ہے اور یہ مفصل بیان سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ اور ہم نے کتاب (التذکرہ) میں اس بارے میں وارد ہونے والی وہ احادیث ذکر کی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ روح ایک لطیف جسم ہے، اور یہ کہ نفس اور روح ایک مسمی کے دو نام ہیں۔ اس کا ذکر عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور جنہوں نے کہا ہے : بیشک روح ہی حیات (زندگی) ہے تو ان کی مراد یہ ہے کہ جب زندگی (حیات) اس سے مرکب کردی جائے۔ فقعوا لہ سجدین یعنی تم اس کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا اور یہ سجدہ تعظیم و تکریم کے لئے ہے سجدہ عبادت نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ اسے فضیلت عطا فرما دیتا ہے جسے چاہتا ہے پس اس نے انبیاء (علیہم السلام) کو ملائکہ پر فضیلت دی ہے۔ اور یہ معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور قفال نے کہا ہے : وہ آدم (علیہ السلام) سے افضل تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں سجود کے ساتھ آزمایا اور یہ ان کو ثواب جزیل کے لیے پیش کرنا ہے۔ اور یہ معتزلہ کا مذہب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرنے کے بارے میں حکم دیا گیا، اور حضرت آدم (علیہ السلام) ان کے لئے قبلہ تھے۔
Ayahs 15:30–31آیت نمبر 30 تا 31
قولہ تعالیٰ : سجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ الا ابلیس اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اس میں کوئی شک نہیں کہ ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما منعک الا تسجد اذا مرتک (الاعراف :12) (کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھے) بیشک اسے اس سے تکبر کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے نے روکا تھا ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، پھر کہا گیا ہے : وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اور یہ استثنا اپنی جنس سے ہی ہے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : وہ ملائکہ میں سے نہ تھا ؛ لہٰذا یہ استثنا منقطع ہے۔ یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : الجآن ابو الجن (جنوں کا باپ) ہے اور وہ شیاطین نہیں ہیں۔ اور شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں، اور وہ نہیں مریں گے مگر ابلیس کے ساتھ اور جن فوت ہوتے رہتے ہیں، ان میں سے کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر بھی ہیں، پس حضرت آدم (علیہ السلام) انسانوں کے باپ ہیں۔ اور جآن جنوں کا باپ پے۔ اور ابلیس شیطانوں کا باپ ہے ؛ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور اس کے خلاف سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے، پس وہاں غور کرلو۔
مسئلہ نمبر 2: ایک جنس کی دوسری جنس سے استثناء کرنا امام شافعی (رح) کے نزدیک صحیح ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی کہے : لفلان علی دینار الاثوبا (مجھ پر فلاں کے دینار ہیں سوائے کپڑے کے) یا عشرۃ اثواب الاقفیر حنطۃ (مجھ پر دس کپڑے ہیں سوائے ایک قفیز گندم کے) یہ ہم جنس نہیں ہیں لیکن یہ مقبول ہے، اور مستثنیٰ منہ سے کپڑے اور گندم کی قیمت ساقط ہوجائے گی اور اس میں کیلی، وزنی اور عددی سب چیزیں برابر ہیں۔ اور امام مالک (رح) اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ مکیلی کی استثنا موزونی سے کرنا اور موزونی کی استثنا مکیلی سے کرنا جائز ہے، یہاں تک کہ اگر کسی نے دراہم کی استثنا گندم سے کی اور گندم کی استثنا دراہم سے کی تو وہ قبول کرلی جائے گی، لیکن جب کسی نے مقومات (جن کے ساتھ قیمت لگائی جاتی ہے) کی استثنا مکیلی یا موزونی چیزوں سے کی، اور مکیلی چیزوں کی استثا مقومات سے کی، مثلاً وہ یہ کہے : علی عشرۃ نانیر الاثوبا (مجھ پر دس دینار ہیں سوائے کپڑے کے) ، یا عشرۃ اثواب الادینارا (مجھ سے دس کپڑے ہیں سوائے ایک دینار کے) تو یہ استثنا صحیح نہ ہوگی، اور اقرار کرنے والے پر مجموعی طور پر یہ سب چیزیں لازم ہوجائیں گے۔ اور امام محمد بن حسن (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : غیر جنس سے استثنا کرنا صحیح نہیں ہوتا، اور اقرار کرنے والے پر وہ تمام چیزیں لازم ہوجاتی ہیں جن کا اس نے اقرار کیا۔ اور امام شافعی (رح) کے قول کی دلیل یہ ہے کہ لفظ استثنا جنس اور غیر جنس دونوں میں استعمال کیا جاتا ہے ؛ مثلا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما۔ الا قلیلا سلما سلما۔ (الواقعہ) (نہ سنیں گے وہاں لغو باتیں اور نہ گناہ والی باتیں، بس ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی) پس اس میں تمام لغو کلام سے سلام کی استثنا کی گئی ہے۔ اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون اور ابلیس من جملہ ملائکہ میں سے نہیں ہے) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الا ابلیس، کان من الجن ففسق عن امر ربہ (الکہف : 50) (سوائے ابلیس کے، وہ قوم جن سے تھا سو اس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی) ۔ اور شاعر نے کہا :
وبلدۃ لیس بھا أنیس الا الیعافیر والا العیس
پس اس میں شاعر نے یعافیر جو کہ مذکر ہرن ہے، اور عیس جو کہ سفید اونٹ ہے کہ أنیس سے استثنا کی ہے ؛ (اور یہ استثنا من غیر جنسہ ہی ہے) ۔ اور اسی کی مثل نابغہ کا قول بھی ہے۔
Ayahs 15:32–35آیت نمبر 32 تا 35
قولہ تعالیٰ : قال یا بلیس ما لک اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابلیس ! تیرے لئے کون سی شے مانع اور رکاوٹ تھی ؟ الا تکون مع السجدین یعنی اس بارے میں کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا۔ قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حما مسنون یعنی اس نے اپنا تکبر اور اپنا حسن بیان کیا، اور یہ کہ وہ اس (آدم علیہ السلام) سے بہتر ہے، کیونکہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ مٹی کو کھا جاتی ہے ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة الاعراف میں گز چکا ہے قال فاخرج منھا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا (اے بےادب ! ) تو نکل جا آسمانوں سے، یا جنت عدن سے، یا تمام ملائکہ سے۔ فانک رجیم یعنی نوشبابوں کے ساتھ بھگایا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو لعنتی اور منحوس ہے یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ وان علیک اللعنۃ یعنی بلاشبہ تجھ پر میری لعنت ہے) ، جیسا کہ سورة ص میں ہے
Ayahs 15:36–38آیت نمبر 36 تا 38
قولہ تعالیٰ : قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون یہ ابلیس کی طرف سے سوال اور درخواست ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس
کے مقام و مرتبہ کے اعتماد اور ثقاہت کی وجہ سے نہیں ہے، اور یہ کہ وہ اس اہل ہے کہ اس کی دعا اور درخواست کو قبول کیا جائے ؛ بلکہ اس نے اپنے عذاب کو موخر کرنے اور اپنی آزمائش اور امتحان میں اضافہ اور زیادتی کرنے کے لئے یہ سوال کیا ؛ جیسا کہ سلامتی سے مایوس اور ناامید کا فعل ہوتا ہے۔ اور اس نے اپنے سوال میں مردوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دینے سے ارادہ یہ کیا کہ وہ نہ مرے، کیونکہ قبروں سے اٹھائے جانے کے دن میں کوئی موت نہیں اور نہ اس کے بعد کوئی موت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فانک من المنظرین یعنی تو مہلت دئیے ہوئے گروہ میں سے ہے۔ الی یوم الوقت المعلوم حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : اللہ تعالیٰ نے اس سے نفخہ اولیٰ کا ارادہ فرمایا ہے، یعنی جس وقت مخلوق کو موت آئے گی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وقت معلوم سے مراد وہ وقت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ خاص کیا ہے۔ (یعنی کوئی دوسرا اس سے واقف نہیں) اور ابلیس اس سے جاہل ہے۔ پس ابلیس کو موت آئے گی پھر اسے اٹھایا جائے گا ؛ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ کل من علیھا فان۔ (الرحمن) (جو کچھ زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے) اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے کلام میں دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے اس سے کلام کی۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعید میں شدت اور سختی پیدا کرنے کے لئے اس سے کلام کی نہ کہ تکریم و تقریب کے طور پر۔
Ayah 15:39آیت نمبر 39
قولہ تعالیٰ : قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض اغواء اور زینۃ کا معنی پہلے سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ اور یہاں اس کی تزمین (خوشنما بنانا) دو دجیہوں سے ہوسکتی ہے : یا تو گناہوں کے ارتکاب کے ساتھ، اور یا انہیں فعل طاعت سے ہٹا کر دنیوی زینت و آرائش میں مشغول کرنے کے ساتھ اور لاغوینھم اجمعین کے معنی یہ ہیں کہ میں انہیں ہدایت کے راستے سے گمراہ کروں گا۔ اور ابن لہیعہ عبد اللہ نے دراج ابی السمح سے اس نے ابو الہیشم سے اور اس نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! تیری عزت و جلال کی قسم ! میں اولاد آدم کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کی ارواح ان کے جسموں میں موجود رہیں گی تو رب العالمین نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں ان کی مغفرت کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہے “۔ قال رسول اللہ ﷺ : ” ان ابلیس قال یا رب وعزتک وجلالک لا ازال اغوی بنی آدم ما دامت أرواحھم فی أجسامھم قال الرب وعزتی وجلالی لاأزال اغفرلھم ما استغفرونی “۔
Ayah 15:40آیت نمبر 40
اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے لام کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ؛ یعنی وہ جنہیں تو نے چن لیا ہے اور تو نے انہیں خاص کرلیا ہے اور باقیوں نے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ؛ یعنی وہ جنہوں نے عبادت کو تیرے لئے فساد یا ریاکاری سے خالص (اور پاک) کرلیا ہے ابو ثمامہ نے بیان کیا ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخلصین کے بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا : (الذی یعمل ولا
یحب أن یحمدہ الناس) ۔ ” یعنی وہ جو عمل کرتا ہے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اس کی تعریف کریں “۔
Ayah 15:41آیت نمبر 41
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا ہے : اس کا معنی ہے کہ یہ راستہ ہے جو اپنے صاحب (اپنانے والے) کو سیدھا لے آتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے سبب جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ حسن (رح) نے کہا ہے : علی بمعنی الی (میری طرف) ہے حضرت مجاہد اور کسائی نے کہا ہے : یہ وعید اور تہدید (جھڑکنے) کی بناء پر ہے ؛ جیسا کہ جسے تو نے جھڑکنا ہو اس کے لئے تیرا قول : طریقک علی ومصیرک الی (تیرا راستہ میرے خلاف ہے اور تیرا انجام میرے پاس ہے) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : ان ربک لبالمرصاد۔ (الفجر) (بےشک آپ کا رب (سرکشوں اور مفسدوں) کی تاک میں ہے) پس کلام کا معنی یہ ہوا : یہ راستہ ہے اس کا رجوع میری طرف ہے پس میں ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دوں گا، مراد عبودیت اور بندگی کا راستہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے اس کا معنی ہے مجھ پر لازم ہے کہ میں پوری وضاحت اور دلائل کے ساتھ صراط مستقیم پر راہنمائی کروں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ میں توفیق اور ہدایت کے ساتھ (راہنمائی کروں) ۔ ابن سیرین، قتادہ، حسن، قیس بن عباد، ابو رجاء، حمید اور یعقوب نے ھذا صراط علی مستقیم یعنی علی کے رفع اور تنوین کے ساتھ قرأت کی ہے ؛ اور اس کا معنی ہے رفیع مستقیم، یعنی جو دین اور حق میں بلند ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : رفیع ان یمال (وہ ایسا سیدھا اور پختہ ہے کہ اس کی طرف مائل ہوا جائے) مستقیم أن ینال (وہ ایسا بلند ہے کہ اسے پایا جائے) ۔
Ayah 15:42آیت نمبر 42
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ان عبادی لیس لک علیھم سلطن علماء نے کہا ہے : یعنی میرے بندوں کے دلوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ اور ابن عینیہ نے کہا ہے : یعنی اس بارے میں کہ وہ انہیں گناہ میں ڈال دے جو انہیں میری عفو سے روک دے اور اسے ان پر تنگ کر دے (ان پر کوئی بس نہیں چلتا) اور وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی ہے اور انہیں چن لیا ہے، اور انہیں پسند فرما لیا ہے اور انہیں منتخب فرما لیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : شاید کہنے والا کہہ رہا ہے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہما السلام) کے بارے اپنے اس ارشاد کے ساتھ خبر دی ہے : فازلھما الشیطن (البقرہ :36) (پھر پھسلا دیا انہیں شیطان نے) اور من جملہ اپنے نبی کے اصحاب کے بارے میں اپنے اس قول کے ساتھ خبر دی : انما استزلھم الشیطن ببعض ما کسبوا (آل عمران :155) (تو پھسلا دیا تھا انہیں شیطان نے بوجہ ان کے کسی عمل کے) پس وہ جواب جو ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اسے ان کے دلوں پر کوئی بس نہیں چلتا، اور نہ ان کے محل ایمان پر کوئی بس چلتا ہے، اور نہ وہ انہیں ایسے گناہ میں ڈال سکتا ہے جو انہیں عدم قبول کی طرف لوٹا دے، بلکہ توبہ اسے زائل کردیتی ہے اور (اللہ تعالیٰ کی طرف) رجوع اسے مٹا دیتا ہے۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا نکلنا اس کی سز انہیں جو انہوں نے کھایا ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور رہے حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب تو ان کے بارے کلام سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قول : لیس لک علیھم سلطن یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ یہ ان کے بارے میں خاص ہو جن کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی ہے، اور یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ یہ اکثر اوقات اور اکثر احوال کے بارے میں ہو، اور کبھی اس کا تسلط تکلیف کو دور کرنے اور غم کو زائل کرنے کی صورت میں ہوتا ہے ؛ جیسا کہ حضرت بلال ؓ سے کیا گیا، جب وہ آپ کے پاس آیا تو وہ آپ کی تھپکی دینے لگا (پرسکون کرنے لگا) جیسے بچے کو تھپکی دی جاتی ہے یہاں تک کہ آپ سو گئے، اور حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سب سوگئے پس وہ بیدار نہ ہوئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، اور وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے : اس کا کیا کفارہ ہے جو ہم نے اپنی نماز کے بارے سستی کی ہے ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” نیند کی حالت مکیں تفریط نہیں ہے “۔ پس آپ نے ان سے پریشانی اور اضطراب کو دور کردیا۔ الا من اتبعک من الغوین مگر جو گمراہوں اور مشرکوں میں سے تیری پیروی کرتے ہیں۔ یعنی ان پر اسکے غلبے کی دلیل یہ ہے انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون۔ (النحل) (اس کا زور تو صرف ان پر چلتا ہے جو یارانہ گانٹھتے ہیں اس سے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں) ۔
مسئلہ نمبر 2: یہ اور اس سے پہلی والی آیت اس پر دلیل ہے کہ قلیل کی استثنا کثیر سے اور کثیر کی استثنا قلیل سے جائز ہے ؛ مثلاً کوئی یہ کہے : عشرۃ الادرھما (دس سوائے ایک درہم کے) یا کوئی یہ کہے : عشرۃ الا تسعۃ (دس سوائے نو کے) اور امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ نے بیان کیا ہے : فقط نصف اور اس سے کم مقدار کی استثناء جائز ہوتی ہے۔ اور رہی کل سے اکثر کی استثنا تو یہ صحیح نہیں ہوتی۔ اور ہماری دلیل یہ آیت ہے، کیونکہ اس میں الغاوین کی استثنا عباد سے، اور عباد کی استثناء غاوین سے ہے، اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اقل کی استثنا کل سے اور اکثر کی استثنا کل سے سب جائز ہے۔
Ayahs 15:43–44آیت نمبر 43 تا 44
قولہ تعالیٰ : وان جھنم لموعدھم اجمعین یعنی ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کے لئے (جہنم وعدہ کی جگہ ہے) لھا سبعۃ ابواب یعنی اس کے سات طبقات ہیں ہر طبق دوسرے طبق سے اوپر ہے۔ لکل باب یعنی ہر طبقہ کے لئے منھم جزء مقسوم ان میں سے مخصوص اور معلوم حصہ ہے۔
ابن المبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں ابراہیم ابو ہاروں الغنوی نے خبر دی انہوں نے کہا : میں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : کیا تم جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہیں ؟ ہم نے کہا : وہ ہمارے دروازوں کی مثل ہوں گے، انہوں نے کہا : نہیں، وہ اس طرح ہیں یعنی ان میں سے بعض بعض سے اوپر ہیں۔ ثعلبی نے یہ زیادہ کیا ہے : آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے کے اوپر رکھا۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جنتوں کو زمین پر رکھا، اور جہنموں میں سے بعض کو بعض کے اوپر رکھا ہے، پس سب سے نیچے جہنم ہے، اور اس کے اوپر الحطمہ ہے، اس کے اوپر سقر ہے، اس کے اوپر الجحیم ہے، اور اس کے اوپر لظی ہے، اس کے اوپر سعیر ہے، اور اس کے اوپر الھاویہ ہے، اور ہر طبقہ اس سے
ستر گنا زیادہ گرم ہے جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ تفسیر اسی طرح واقع ہے۔ اور وہ موقف جس پر اکثر علماء ہیں وہ یہ ہے کہ جہنم کے درکات میں سے اعلیٰ (اوپر والا) درکہ ہے اور یہ حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کے گنہگاروں کے ساتھ خاص ہے، اور یہ وہ ہے جو اپنے اہل سے خالی ہوجائے گا اور ہوائیں اس کے دروازے بجائیں گی، پھر اس کے بعد لظی ہے، پھر حطمہ ہے، پھر سعیر ہے، پھر سقر ہے، پھر جحیم ہے اور پھر ہاویہ ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا ہے : درک اعلیٰ میں حضور نبی کریم ﷺ کے امتی (محمد یون) ہوں گے، دوسرے میں نصاریٰ ، تیسرے میں یہودی، چوتھے میں صابی، پانچویں میں مجوسی، چھٹے میں مشرکین عرب، اور ساتویں میں منافقین، آل عمران اور اہل مائدہ میں سے کافر لوگ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار (النساء : 145) (بےشک منافق سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے دوزخ (کے طبقوں سے) اور یہ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ اور ارشاد فرمایا : فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذابا لا اعذبہ احدا من العلمین۔ (المائدہ) (پھر جس نے کفر اختیار کیا اس کے بعد تم سے تو بیشک میں عذاب دوں گا اسے ایسا عذاب کہ نہیں دوں گا کسی کو بھی اہل جہان سے) اور حضرت معاذ بن جبل ؓ نے قسم کھائی کہ اس امت کے علماء سوء ان دروازوں پر تقسیم ہوں گے ؛ ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔
اور ترمیذی نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث بیان کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ اس کے لئے ہے جس نے میرے کسی امتی پر اپنی تلوار سونتی “۔ ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ اور حضرت ابی بن کعب ؓ نے بیان کیا : جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازہ حروریہ کے لئے ہے۔ اور وہب بن منبہ نے کہا ہے : ہر دو دروازوں کے درمیان ستر برس کی مسافت ہے۔ اور ہر دروازہ (درکہ) اپنے اوپر والے سے ستر گنا زیادہ گرم ہے، اور ہم نے اس تمام کو کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔ اور سلام الطویل نے ابو سفیان سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لھا سبعۃ ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم کے بارے میں روایت کیا ہے ” ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کیا اور ایک حصہ ان کے لئے جو اللہ تعالیٰ سے غافل ہوئے، ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اپنی پسند اور خواہش کو اللہ تعالیٰ پر ترجیح دی، اور ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اپنے غصے کو اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ ٹھنڈا کیا، اور ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اپنی رغبت کو اپنی پسند کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے پھیرلیا، اور ایک حصہ ان کے لئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں حدود سے تجاوز کیا “۔ الحلیمی ابو عبد اللہ حسین بن حسن نے اسے کتاب (منہاج الدین) میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے : اگر یہ روایت ثابت ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے وہ بت پرست ہیں، اور شک کرنے والے وہ ہیں جو نہیں جانتے کہ ان کا کوئی الہٰ ہے یا ان کا کوئی الہ نہیں، اور وہ اس کے دین اور شریعت میں شک کرتے ہیں کہ وہ اس کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے غافل ہونے والے وہ ہیں جو بالکل اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے ثابت کرتے ہی نہیں، اور پھر دہریے ہیں۔ اور اپنی شہوات کو اللہ تعالیٰ پر ترجیح دینے والے وہ ہیں جو گناہوں میں منہمک ہونے والے ہیں، اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اوامرو نواہی کی تکذیب کرتے ہیں، اور اپنے غصے کو اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ ٹھنڈا کرنے والے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء (علیہم السلام) کو اور اس کی طرف تمام دعوت دینے والوں کو قتل کرنے والے ہیں، اور اسے عذاب اور اذیت پہنچاتے ہیں جو انہیں نصیحت کرتا ہے یا ان کے مذہب کے سوا کسی اور کی پیروی کرت ا ہے، اور اپنی رغبت کو اپنی پسند کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے (پھیرنے والے وہ ہیں) جو موت کے بعد زندہ کئے جانے اور حساب وغیرہ کا انکار کرتے ہیں، پس وہ ان کی عبادت کرتے ہیں جن مکیں وہ رغبت رکھتے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان تمام کا حصہ ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں حدود سے تجاوز کرنے والے وہ ہیں جو لا پرواہ ہوتے ہیں، اس بارے میں کہ جس نظریہ پر وہ ہیں وہ حق ہے یا باطل، پس نہ وہ غور فکر کرتے ہیں، نہ قیاس کرتے ہیں اور نہ استدلال کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ یعنی اس بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا ہے اگر یہ حدیث ثابت ہے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے جب یہ آیت سنی وان جھنم لموعدھم اجمعین تو آپ خوف سے تین دن تک بھاگتے رہے کوئی سمجھ ہی نہ رکھتے تھے، پھر انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، کیا یہ آیت وان جھنم لموعدھم اجمعین نازل ہوئی ہے ؟ تو قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اس نے میرے دل کو کاٹ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان المتقین فی جنت وعیون (یقیناً پرہیزگار اس دن باغوں اور چشموں میں (آباد) ہوں گے) اور حضرت بلال ؓ نے بیان کیا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ اکیلئے مدینہ طیبہ کی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ کے پاس سے ایک اعرابیہ عورت گزری تو اس نے آپ کے پیچھے نماز شروع کردی اور آپ کو اس کا علم نہ ہوا، تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : لھا سبعۃ ابواب، لکل باب منھم جزء مقسوم تو وہ اعرابیہ غش کھا کر گر پڑی، اور حضور نبی کریم ﷺ نے اسکے گرنے کی آواز سنی پس آپ نے پھر کر دیکھا اور پانی منگایا اور اس کے چہرے پر انڈیلا حتیٰ کہ اسے افاقہ ہوگیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے پوچھا : ” اے فلانہ تجھے کیا ہوا ہے ؟ “ تو اس نے عرض کی : کیا یہ شئ (آیت) اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتاب میں سے ہے، یا آپ اسے اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے اعرابیہ ! (نہیں) بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں سے ہے “۔ تو اس نے عرض کی : میرے اعضاء میں سے ہر عضو کو ان میں سے ہر دروازے پر عذاب دیا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے اعرابیہ ! (نہیں) بلکہ ان میں سے ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مخصوص ہے ان میں سے ہر ایک کے اہل کو ان کے اعمال کی مقدار کے مطابق عذاب دیا جائے گا “۔ تو اس نے عرض کی : قسم بخدا ! بیشک میں ایک مسکین عورت ہوں، میرا کوئی مال نہیں ہے، اور میرے پاس سوائے سات غلاموں کے اور کچھ نہیں ہے، یا رسول اللہ ! ﷺ میں آپ کو گواہ بناتی ہوں کہ ان میں سے ہر غلام جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے کے بدلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے آزاد ہے۔ اتنے میں حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور یہ پیغام دیا : ” یا رسول اللہ ! ﷺ اس اعترابیہ کو بشارت سنا دو کہ اللہ
تعالیٰ نے اس پر جہنم کے دروازے حرام قرار دئیے ہیں اور اس کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں “۔
Ayahs 15:45–46آیت نمبر 45 تا 46
قولہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون یعنی وہ لوگ جو فواحش اور شرک سے بچتے رہے۔ فی جنت یعنی وہ باغات میں وعیون (اور چشموں میں (آباد) ہوں گے) اور یہ چار نہریں ہیں : پانی، شراب، دودھ اور شہد کی نہریں۔ اور رہے وہ چشمے جن کا ذکر سورة الانسان میں کیا گیا ہے یعنی کافور، زنجیل اور سلسبیل، اور سورة المطففین میں : تسنیم ہے ان کا ذکر اور ان کے باسیوں کا ذکر آگے آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور عیون میں اصل کی بنا پر عین کو ضمہ، اور یا کی رعایت کرتے ہوئے اسے کسرہ بھی دیا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے۔ ادخلوھا بسلم امنین عام قرأت ادخلوھا میں ہمزہ وصل اور خا کے ضمہ کے ساتھ ہے اور یہ دخل یدخل سے ماخوذ ہے۔ اور صیغہ امر ہے۔ اس کی تقدیر ہے : قیل أدخلوھا۔ (انہیں کہا جائے گا : تم داخل ہوجاؤ) ۔ اور حسن، ابو العالیہ اور رویس نے یعقوب سے أدخلوھا تنوین اور ہمزہ وصل کے ضمہ اور خاکے کے کسرہ کے ساتھ فعل مجہول کی صورت میں پڑھا ہے، اور یہ أدخل سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ان میں داخل فرمائے گا۔ اور ان کا مذہب یہ ہے کہ اس قسم کی مثالوں میں تنوین کو کسرہ دیا گیا ہے برحمۃ، ادخلوا الجنۃ (الاعراف : 49) اور جو بھی اس کے مشابہ ہیں، مگر یہاں انہوں نے ہمزہ کی حرکت تنوین پر ڈال دی ہے، کیونکہ یہ ہمزہ قطعی ہے، لیکن اس میں کسرہ سے ضمہ کی طرف انتقال ہوا ہے پھر ضمہ سے کسرہ کی طرف، اور یہ زبان پر ثقیل ہوجاتا ہے۔ بسلم یعنی ہر بیماری اور آفت سے سلامتی کے ساتھ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے لئے سلام ہے۔ امنین یعنی موت اور عذاب سے بےخوف ہوکر۔
Ayahs 15:47–48آیت نمبر 47 تا 48
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سب سے پہلے جو اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو دو چشمے پیش کئے جائیں گے، پس وہ ان میں سے ایک چشمے سے پئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں جو کینہ تھا اسے نکال دے گا، ختم کر دے گا، پھر وہ دوسرے چشمے پر داخل ہوں گے اور ان میں غسل کریں گے تو ان کے رنگ روشن ہوجائیں گے اور ان کے چہرے صاف اور چمکنے لگیں گے، اور ان پر نعمتوں کی تازگی اور رونق نمایاں ہوجائے گی ؛ اور اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے۔ اور حضرت علی بن حسین ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت علی اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مراد وہ کینہ وغیرہ ہے جو زمانہ جاہلیت میں ان کے درمیان تھا۔ اور پہلا قول زیادہ ظاہر اور واضح ہے، اور آیت کا سیاق اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اور حضرت علی ؓ نے کہا ہے : میں امید رکھتا ہوں کہ میں، طلحہ اور زبیر ؓ انہی میں سے ہوں گے۔ اور الغل کا معنی کینہ اور عداوت ہے، اسی (معنی) سے کہا جاتا ہے : غل یغل۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ غلول سے ہے اور اسے مراد مال غنیمت سے مال چرانا ہے۔ اس کا باب غل یغل ہے۔ اور خیانت کرنے کے معنی میں بھی ہے اور اس کے لئے اغل یغل کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
جزی اللہ عنا حمزۃ ابنۃ نوفل جزاء مغل بالأمانۃ کاذب
یہ معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اخوانا علی سرر متقلبین یعنی وہ بام ایک دوسرے سے ملنے اور محبت کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے کی گردن کی پشت نہیں دیکھیں گے ؛ یہ معنی حضرت مجاہد (رح) وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تخت ادھر ہی گھوم جائیں گے جدھر وہ چاہیں گے، اور ان میں سے کوئی دوسرے کی گردن کی پشت نہیں دیکھے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : متقبلین تحقیق وہ اور ان کی ازواج محبت کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ اور سرر، سریر کی جمع ہے ؛ جیسے جدید کی جمع جدد ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ سرور سے ہے ؛ تو گویا یہ وہ بلند اور رفیع مکان ہے جو سرور (خوشی) کے لئے تیار کیا گیا ہے (بچھایا گیا ہے) اور پہلا قول اظہر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : وہ ایسے تختوں پر ہوں گے جنہیں یاقوت، زبر جد اور موتیوں کے ساتھ آراستہ کیا گیا ہوگا، سجایا گیا ہوگا، اور ایک تخت اتنا ہوگا جتنا صنعا اور جابیہ کے درمیان فاصل ہے اور عدن سے لے کر ایلہ تک کا درمیانی فاصل ہے۔ اور اخوانا، المتقین سے یا ادخلوھا میں موجود ضمیر سے، یا امنین میں مضمر ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یا پھر یہ صدورھم کی ھا اور میم سے حال مقدرہ ہوگا۔ وما ھم منھا بمخرجین یہ اس پر دلیل ہے کہ جنت کی نعمتیں دائمی ہیں وہ کبھی زائل اور ختم نہیں ہوں گی، اور یہ کہ اہل جنت ان میں باقی رہیں گے۔ اکلھا دائم (الرعد :35) (اس کا پھل ہمیشہ رہتا ہے) ان ھذا الرزقنا ما لہ من نفاد۔ (ص) (بےشک یہ ہمارا (دیا ہوا) رزق ہے جو کچھ ختم نہ ہوگا) ۔
Ayahs 15:49–50آیت نمبر 49 تا 50
یہ آیت حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی مثل ہے : ” اگر مومن اس سزا اور عذاب کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی طمع اور حرص نہ کرے اور اگر کافر اس رحمت کو جان لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو کوئی اس کی رحمت سے مایوس اور ناامید نہ وہ “۔ اسے امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور یہ سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔ اور اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ اپنا اور دوسرے کا ذکر کرے پس اسے خوف بھی دلائے اور امید بھی دلائے، اور اس پر حالت مرض کے مقابلے میں حالت صحت میں خوف زیادہ اور غالب ہو۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور وہ ہنس رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم ہنس رہے ہو حالانکہ جنت اور دوزخ تمہارے سامنے ہیں “۔ تو یہ ان پر انتہائی گراں گزرا تب یہ آیت نازل ہوئی، اسے ماردوی اور مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور ثعلبی کے الفاظ ہیں : حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا : حضور نبی کریم ﷺ ہمارے پاس اس دروازے سے تشریف لائے جس سے بنو شیبہ داخل ہوتے تھے اور ہم ہنس رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا ہے تمہارے لئے تم ہنس رہے ہو میں تمہیں ہنستے ہوئے نہ دیکھوں “۔ پھر آپ پیٹھ پھیر کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ جب مقام الحجر کے پاس پہنچے تو الٹے پاؤں واپس تشریف لائے اور ہمیں ارشاد فرمایا : ” بیشک جب میں نکلا تو میرے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا : اے محمد ! ﷺ میرے بندوں کو میری رحمت سے مایوس نہ کیجئے نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم۔ وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ پس قنوط مایوسی اور ناامیدی ہے، اور الرجاء مہمل چھوڑ دینا ہے، اور امور میں سے بہترین درمیانہ امر ہے۔
Ayahs 15:51–54آیت نمبر 51 تا 54
قولہ تعالیٰ : ونبئھم عن ضیف ابراھیم ضیف ابراہیم سے مراد وہ ملائکہ ہیں جنہوں نے آپ کو بچے کے ہونے اور قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت دی۔ ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کنیت ابو الضیفان تھی، اور آپ کے محل کے چار دروازے تھے تاکہ کوئی بھی (اس میں داخل ہونے سے) رہ نہ جائے۔ اور ضیف کو ضیف کا نام آپ کی طرف اس کی اضافت اور آپ کے پاس اس کے اترنے کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ اور ضیف کا حکم سورة ہود میں گزر چکا ہے جو کافی ہے۔ والحمدللہ۔ اذ دخلوا علیہ خبر جمع لائی گئی ہے کیونکہ لفظ لاضیف واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مونث کی مصدر کی طرح صلاحیت رکھتا ہے۔ ضافہ اور اضافہ، کا معنی اماملہ (وہ اس کی طرف مائل ہوا، جھکا) ہے ؛ اور اسی معنی میں یہ حدیث ہے ” جس وقت سورج غروب کے لئے مایل ہوتا ہے “ اور ضیفوفۃ السھم، (تیر کا اپنے ٹارگٹ سے پھرجانا) اور اضافت نحویہ ہے۔ فقالوا سلما یعنی سلموا سلاما (انہوں نے سلام کیا) ۔ قال انا منکم وجلون یعنی کہ ہم تم سے خوفزدہ ہیں اور ڈر رہے ہیں۔ اور یہ آپ نے اس کے بعد کہا کہ بچھڑا ان کے قریب کیا اور انہیں دیکھا کہ وہ نہیں کھا رہے، جیسا کہ سورة ہود میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ نے سلام پر تعجب (اور اس کا انکار) کیا کیونکہ ان کے شہروں میں سلام کی رسم نہ تھی۔ قالوا لا تو جل یعنی ملائکہ نے کہا : تم نہ ڈرو انا نبشرک بغلم علیم بیشک ہم آپ کو ایک صاحب علم بچے کی پیدائش کا مژدہ سنانے آئے ہیں۔ اور وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ قال ابشرتمونی علی ان مسنی الکبر اس میں ان مصدریہ ہے ؛ یعنی مجھے اور میری بیوی کو بڑھاپا لاحق ہونے کی حالت پر تم مجھے خوشخبری دینے آئے ہو، اور یہ سورة ہود اور ابراہیم میں پہلے گزر چکا ہے۔ اس حیثیت سے وہ کہتے ہیں : فبم تبشرون (پس یہ کیسی خوشخبری ہے ؟ ) یہ استفہام برائے تعجب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ استفہام حقیقی ہے۔ اور حسن نے تو جل تا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اعمش نے بشرتمونی بغیر الف کے، اور نافع اور شیبہ نے تبشرون نون کے کسرہ اور تخفیف کے ستاھ قرأت کی ہے ؛ جیسا کہ اتحاجون اور اس کی تعلیل پہلے گزر چکی ہے۔ ابن کثیر اور ابن محیصن نے تبشرون کو کسرہ اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، اس کی تقدیر تبشروننی ہے، پس نون کو نون میں مدغم کردیا گیا ہے۔ اور باقیوں نے تبشرون نون کو نصب کے ساتھ بغیر اضافت کے پڑھا ہے۔
Ayah 15:55آیت نمبر 55
قولہ تعالیٰ : قالوا بشرنک بالحق یعنی ہم نھے ایسی سچی خوشخبری دی ہے جس میں کوئی خلاف نہیں، اور یہ کہ بچے کا ہونا لازم اور ضروری ہے۔ فلا تکن من القنطین پس آپ اولاد سے مایوس ہونے والوں سے نہ ہوجائیے، حالانکہ آپ بڑھاپے کی زیادتی کی وجہ سے بچے سے مایوس ہوچکے تھے۔ من القنطین میں عام قرأت الف کے ساتھ ہے۔ اور اعمش اور یحییٰ بن وثاب نے من القنطین بغیر الف کے پڑھا ہے، اور یہی ابو عمرو سے مروی ہے۔ اور یہ القانطین میں قصر کی گئی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ ان کی لغت کے مطابق ہو جنہوں نے کہا ہے : قنط یقنط ؛ جیسا کہ حذر یحذر۔ اور یقنط کے نون کو فتحہ اور کسرہ دونوں دئیے ہیں، ان دونوں لغات کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے۔ اور اس میں یقنط نون کی ضمہ کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس میں قنط یقنط یعنی ماضی اور مضاع دونوں میں نون کا فتحہ نہیں آیا کیونکہ اس میں دو لغتوں کو جمع کیا گیا ہے۔ پس ماضی میں اس کی لغت کو لیا گیا جو کہتے ہیں قنط یقنط، اور مضارع میں اس کی لغت کو جس نے کہا ہے قنط یقنط اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 15:56آیت نمبر 56
یعنی جھٹلانے والی سیدھی راہ سے ہٹ جانے والے ہیں، یعنی آپ نے اپنی کبر سنی کی وجہ سے بچے کی ولادت کو بعید سمجھا ہے نہ یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید اور مایوس ہوئے۔