14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

آیت نمبر 1 قولہ تعالیٰ : الر، کتب انزلنہ الیک اس کا معنی گزر چکا ہے۔ لتخرج الناس یعنی آپ نکالیں کتاب کے ذریعے اور وہ قرآن ہے، یا اس کی طرف بلانے کے ذریعے لوگوں کو نکالیں۔ من الظلمت الی النور۔ یعنی کفر، گواہی اور جہالت کی تاریکیوں سے ایمان اور علم کے نور کی طرف اور یہ بطور تمثیل ہے، کیونکہ کفر بمنزلہ ظلمت اور اسلام بمنزلہ نور ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : بدعت سے سنت اور شک سے یقین کی طرف۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔ باذن ربھم یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق ملنے سے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے باذن ربھم میں باتخرج کے متعلق ہے اور فعل کی اضافت نبی کریم ﷺ کی طرف اس لیے ہے کیونکہ دعوت دینے والا اور ڈرانے والا ہادی ہوتا ہے۔ الی صراط العزیز الحمید عزیز اور حمید کے درمیان واؤ اس لیے نہیں کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں جس طرح خرجت الی زید العاقل الفاضل عاقل و فاضل کے درمیان واؤ نہیں کیونکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور اللہ وہ بےمثل ذات ہے جس کے کوئی مثل اور مشابہ نہیں۔ اور ایک قول یہ ہے العزیز سے مراد وہ ذات ہے جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ ایک قول کے مطابق العزیز سے مراد اپنی ملکیت اور سلطنت میں کنڑول کرنے والا ہے۔ الحمید یعنی جس کی ہر زبان کے ذریعے تعریف کی گئی ہو، اور ہر حال میں ہر جگہ میں جس کی شان بیان کی جاتی ہو۔ مقسم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : کچھ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور کچھ نے آپ کا انکار کیا جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا تھا وہ آپ پر ایمان لے آئے، اور جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے انہوں نے آپ کا انکار کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کو ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 14:2–3

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔

آیت نمبر 2 تا 3 قولہ تعالیٰ : اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض یعنی ملکیت، بندگی، ایجاد اور تخلیق کے اعتبار سے آسمان و زمین کی سب چیزیں اللہ کی ہیں۔ نافع، ابن عامر اور دیگر قراء نے لفظ اللہ کو مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے۔ الذی اس کی خبر ہوگی۔ جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے الذی اس کی صفت ہے اور خبر مضمر ہوگی، یعنی اللہ الذی لہ ما فی السموت والارض قادر علی کل شی اور باقیوں نے العزیز الحمید کی صفت کی بنیاد پر مجرور پڑھا ہے تو اس صورت میں صفت موصوف سے مقدم ہوگی، جیسے آپ مررت بالظریف زید کہتے ہیں (یعنی زید موصوف اور ظریف صفت ہے) یہ بھی قول ہے کہ صفت نہیں بلکہ الحمید سے بدل ہے، کیونکہ اللہ کا اسم علم بن چکا ہے لہٰذا اس کی صفت کی ضرورت نہیں ہوگی البتہ معنوی اعتبار سے اس کی صفت بیان ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ذات جو قدرت ایجاد کے ذریعے منفرد ہے۔ ابو عمر و نے کہا : تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے یہ مجرور ہوگا یعنی الی صراط اللہ العزیز الحمید الذی لہ ما فی السموات وما فی الأرض۔ اور یعقوب الحمید پر وقف کی صورت میں اور وصل کی صورت میں جر دیتے ہیں۔ ابن انباری نے کہا : جس نے خبر دی ہے اس نے وما فی الارض پر وقف کیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وویل للکفرین من عذاب شدید ویل کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ زجاج نے کہا : یہ ایسا کلمہ ہے جو عذاب اور ہلاکت کے لیے بولا جاتا ہے۔ من عذاب شدید یعنی جہنم میں۔ الذین یستحبون الحیوۃ الدنیا یعنی وہ دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں اختیار کرتے ہیں اور یہ کافروں کا طریقہ ہے۔ الذین کافروں کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ ایک قول کے مطابق مضمر مبتدا کی خبر ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی ھم الذین۔ ایک قول یہ بھی ہے : الذین یستحبون مبتدا ہے اور اس کی خبر اولئک ہے۔ ہر وہ آدمی جس نے دنیا اور اس کی لذات کو آخرت پر ترجیح دی، دنیا کی نعمتوں میں باقی رہنے کو آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے مقابلے میں پسند کیا اور لوگوں کو اللہ اور اس کے دین سے جو اللہ کے رسول لے کر آئے پھیرا وہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس آیت میں داخل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے حوالے سے جو خوف ہے اس میں سب سے زیادہ خوف گمراہ ائمہ کا ہے “۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ ان ادوار کی نسبت اب یہ بہت زیادہ ہے۔ واللہ المستعان۔ ایک قول یہ ہے : یستحبون سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے بغیر دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اللہ کی نعمت اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے مصیبت اور نافرمانی کے ذریعے نہیں۔ ویبغونھا عوجا یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور حاجات و اغراض کو پورا کرنے کے لیے اللہ کے راستے کو ٹیڑھا کردیں۔ السبیل مذکر اور مؤنث دونوں طرح مستعمل ہے، دین، امر، ارض اور ہر وہ چیز جو قائم اور کھڑی نہ ہو تو اس میں العوج عین کے کسرہ کے ساتھ آتا ہے، جب وہ چیزیں جو سیدھی کھڑی ہوتی ہے جیسے دیوار اور نیزہ وغیرہ ان کے لیے عین کے فتح کے ساتھ آتا ہے، سورة آل عمران اور دیگر مقامات پر یہ گزر چکا ہے۔ اولئک فی ضلل بعید یعنی وہ حق سے دور ہیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتادے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 4 قولہ تعالیٰ : وما ارسلنا من رسول یعنی اے محمد ﷺ ! آپ سے پہلے ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا۔ الا بلسان قومہ مگر اس قوم کی زبان کے ساتھ، تاکہ وہ ان کے سامنے ان کے دین کے معاملات کو کھول کر بیان کریں۔ اور لسان کا قوم کی طرف مضاف ہونے کے باوجود واحد ہونا اس وجہ سے ہے کہ اس سے مراد لغت ہے۔ اور یہ اسم جنس ہے قلیل و کثیر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس آیت میں عجم و عرب کے لیے کوئی حجت نہیں، کیونکہ ہر وہ آدمی جس کے سامنے نبی کے لائے ہوئے پیغام کو ایسے ترجمے کے ساتھ پیش کیا جائے جو اس کو سمجھ آتا ہو تو اس سے حجت لازم ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما ارسلنک الا کآفۃ للناس بشیرا و نذیرا (سبا : 28) اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور بروقت خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” ہر نبی کو اس کی امت کی طرف اس کی زبان کے ساتھ بھیجا گیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ہر سیاہ و سرخ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! مجھے اس امت کے جس بھی یہودی اور نصرانی نے سنا اور پھر میرے لائے ہوئے پیغام پر ایمان نہ لایا تو وہ دوزخی ہے “۔ اس روایت کو امام مسلم نے بیان کیا ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ فیضل اللہ من یشآء ویھدی من یشآء یہ مشیت کے نفاذ کے حوالے سے قدریہ کا رد ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ لیبین پر اس کا عطف نہیں، کیونکہ ارسال ہوتا ہے تبیین کے لیے ہے گمراہ کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ اور یضل کو منصوب پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ ارسال اضلال کا سبب ہوسکتا ہے، تو یہ اسی طرح ہوگا جیسے اللہ کا ارشاد : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8) پس ارسال، اضلال کا سبب ہوگا کیونکہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کا انکار کردیا، تو یہ ایسا ہی ہوا گویا کہ یہ ان کے کفر کا سبب بن گیا۔ وھو العزیز الحکیم اس کا معنی گزر چکا ہے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور انکو خدا کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 5 قولہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا آیات سے مراد حجت وبراہین ہیں یعنی ہم نے موسیٰ کو اپنی سچائی پر دلالت کرنے والے معجزات کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ (نشانیاں) نو آیات ہیں۔ ان اخرج قومک من الظلمت الی النور اس کی مثال سورت کے آغاز میں ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ : لتخرج الناس من الظلمت الی النور ایک قول کے مطابق أن بمعنی أی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وانطلق الملا منھم ان امشوا (ص :6) یعنی ای امشوا۔ قولہ تعالیٰ : وذکرھم باتیم اللہ یعنی انہیں ایسی بات کہو جس کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ کے ایام یاد آئیں۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور حضرت قیادہ نے کہا : یعنی ان کو ان پر ہونے والی اللہ کی نعمتیں یاد دلاؤ، اس کو حضرت ابی ابن کعب نے بیان فرمایا اور مرفوعاً روایت کیا ہے یعنی انہیں فرعون اور وادی تیہ سے نجات دلا کر اللہ نے جو نعمت فرمائی وہ اور دیگر نعمتیں انہیں یاد دلاؤ۔ بعض اوقات نعمتوں کو ایام کا نام دے دیا جاتا ہے، اسی سے عمرو بن کلثوم کا قول ہے : وأیام لنا غر طوال اس میں ایام سے مراد نعمتیں ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل سے مروی ہے : اس سے مراد سابقہ امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے واقعات ہیں، جیسے کہا جاتا ہے : فلان عالم بایام العرب یعنی فلاں عرب کے واقعات کو جانتا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں گزشتہ امتوں سے انتقام لیا گیا۔ اسی طرح ابن وہب نے مالک سے روایت کیا ہے : اس سے مراد اللہ کی آزمائش اور امتحان ہے۔ طبری نے کہا : نبی کریم ﷺ سے انہیں ماضی کے ایام میں ہونے والے معاملات کی نصیحت کی یعنی اللہ کے ایام میں جو نعمتیں اور آزمائش تھیں وہ یاد دلائیں۔ اور اس وقت وہ ذلت و رسوائی میں مبتلا غلام تھے اور صرف الایام کے ذکر پر اللہ تعالیٰ نے اکتفاء فرمایا کیونکہ وہ ان کے نزدیک معروف و معلوم تھے۔ حضرت سعید بن جبیر عن ابن عباس ؓ عن ابی بن کعب ؓ روایت کیا ہے آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے درمیان اللہ تعالیٰ کے ایام کی یاد دلا رہے تھے اور اللہ کے ایام سے مراد اسکی آزمائش اور نعمتیں ہیں۔ اور حدیث خضر کا ذکر کیا۔ یہ آیت کریمہ دلوں کو نرم کرنے والے، یقین کو مضبوط کرنے والے، ہر بدعت سے خالی اور ہر قسم کی گمراہی اور شکوک و شبہات سے منزہ وعظ کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ ان فی ذلک یعنی اللہ تعالیٰ کے ایام کی تذکیر میں لایت یعنی دلائل ہیں۔ لکل صبار یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور اس کی نافرمانی سے بہت زیادہ صبر کرنے والے کے لیے شکور اللہ کی نعمتوں کا بہت زیادہ شکر کرنے والے کیلئے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : یہ وہ بندہ ہے کہ جب اسے عطا کیا جائے تو شکر کرے اور جب آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو صبر کرے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ایمان دو نصف پر مشتمل ہے نصف صبر اور نصف شکر پر “۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور کی تلاوت فرمائی۔ شعبی سے بھی اسی قسم کی موقوف روایت مروی ہے۔ حضرت حسن بصری حجاج سے سات سال تک پوشیدہ رہے جب آپ کے پاس اس کی موت کی خبر پہنچی تو آپ نے عرض کیا : یا اللہ ! تو نے اسے موت دے دی تو اس کے طریقوں کو بھی موت دے دے، پھر آپ نے سجدہ شکر ادا کیا اور ان فی ذلک لایت لکل صبابر شکور پڑھی۔ آیات کو ہر بہت زیادہ صبر اور شکر کرنے والے کے ساتھ خاص کیا کیونکہ وہی ان کے ذریعے عبرت حاصل کرتے ہیں اور ایسی باتوں سے غافل نہیں ہوتے، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد انما انت منذر من یخشھا (النازعات) آپ صرف اسے ڈراتے ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں، اگرچہ نبی تو سب کو ڈرانے والا ہوتا ہے۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جبکہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی۔ وہ لوگ تمہیں بڑے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔

آیت نمبر 6 تا 7 واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذا انجکم من ال فرعون یسومونکم سوٓء العذاب ویذبحون ابنآء کم ویستحیون نسآء کم، وفی ذلکم بلآء من ربکم عظیم کی تفسیر سورة بقرہ میں مکمل طور گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔ قولہ تعالیٰ : واذ تاذن ربکم ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ارشاد ہے۔ اور ایک قول کے مطابق : یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یہ ارشاد فرمایا ہے : تاذن اور اذن بمعنی اعلم ہے جس طرح أوعد اور توعد۔ یہ معنی حضرت حسن بصری وغیرہ سے مروی ہے اسی سے الأذان ہے، کیونکہ یہ اعلام ہے۔ شاعر نے کہا : فلم نشعر بغوء القبح حتی سمعنا فی مجالسنا الاذینا ہمیں صبح کی روشنی کا احساس نہ ہوا حتیٰ کہ ہم نے اپنی مجلسوں میں اذان سنی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ واذ تاذن ربکم پڑھتے تھے، معنی ایک ہی ہے۔ لئن شکرتم لازید نکم یعنی اگر تم میرے انعامات پر شکر ادا کرو گے تو میں اپنے فضل میں اضافہ کروں گا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اگر تم میری نعمت پر شکر ادا کرو گے تو میں اپنی اطاعت کو تمہارے اندر زیادہ کردوں گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر تم موحد بنو گے اور اطاعت کرو گے تو میں تمہارے ثواب میں اضافہ کروں گا، ان تمام اقوال میں معنی قریب قریب ہے۔ آیت کریمہ اس بات کے حوالے سے نص ہے کہ شکر اضافہ کا سبب ہے۔ سورة بقرۃ میں علماء کے شکر کے بیان کردہ معانی گزر چکے ہیں۔ کسی صحابی سے اللہ تعالیٰ سے شکر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تیرا اللہ کی نعمتوں کے ذریعے اس کی نافرمانی پر قوی نہ ہونا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں کیسے تیرا شکر ادا کروں ؟ اور میرا شکر ادا کرنا تیری طرف سے میرے اوپر نعمت کی تجدید ہوتا ہے۔ (اللہ) نے فرمایا : اے داؤد ! اب تو نے میرا شکر ادا کیا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس بنیاد پر شکر کی حقیقت یہ ہے کہ منعم کی نعمت کا اعتراف کیا جائے۔ اور اپنے بدن کو اس کی اطاعت کے علاوہ میں بندہ صرف نہ کرے۔ اور ہادی نے کھانا کھاتے ہوئے شعر کہا ہے : أنالک رزقہ لتقوم فیہ بطاعتہ و تشکر بعض حقہ فلم تشکر لنعمتہ ولکن قویت علی معاصیہ برزقہ یہ شعر اسی سابقہ معنی کی وضاحت کر رہا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا : جب تو نعمت شکر کے بارے میں سنے تو مزید کے لیے تیار ہوجا۔ ولئن کفرتم ان عذابی لشدید یعنی اگر تم نے میرے حق کا انکار کیا۔ ایک قول کے مطابق : اللہ کی نعمتوں کا کفران مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفران نعمت یا کفر پر عذاب کا وعدہ فرمایا ہے، جس طرح شکر کی صورت میں اضافے کا وعدہ فرمایا ہے اور ان سے فا شرطیہ مشہور ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
Ayahs 14:7–9

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کے) میرا عذاب (بھی) سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کی قوم ؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک ہیں۔

آیت نمبر 8 تا 9 قولہ تعالیٰ : وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا، فان اللہ لغنی حمید یعنی تمہاری اس کاروائی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان نہیں، بلکہ وہ غنی ہے، الحمید بمعنی المحمود ہے۔ الم یاتکم نبوا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود، النبا کا معنی خبر ہے اس کی جمع الانباء ہے۔ شاعر نے کہا ہے : ألم یاتیک والأنباء تتمی ایک قول کے مطابق : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے جب کہ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ کے ارشادات میں سے ہے، یعنی اے محمد ! ﷺ یاد کرو جب آپ کے رب نے یوں فرمایا۔ ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ابتدا اور حضرت نوح، حضرت عاد اور حضرت ثمود (علیہم السلام) کی قوم کی مشہور خبر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ والذین من بعدھم، لا یعلمھم الا اللہ یعنی ان کی تعداد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی ان کے نسب کو جانتا ہے اور نسبت بیان کرنے والے اگرچہ انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں تاہم وہ بھی تمام قوموں کے أحصاء کا دعویٰ نہیں کرسکتے، بعض کا نسب بیان کرتے ہیں اور بعض کا بیان نہیں کرتے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ جب نسب بیان کرنے والوں نے انہیں معد بن عدنان کی طرف منسوب کیا اور مزید اضافہ کی اتو آپ ﷺ نے فرمایا : ” نسب بیان کرنے والوں نے جھوٹ بولا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، سوائے اللہ کے انہیں کوئی نہیں جانتا “۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا : عدنان و اسماعیل کے درمیانی نسب کو جاننے والا ہم نے نہیں پایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عدنان و اسماعیل کے درمیان تیس باپ ہیں جو معروف نہیں ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ جب لا یعلمھم الا اللہ پڑھتے تو فرماتے : نسب بیان کرنے والوں نے جھوٹ بولا ہے۔ جآءتھم رسلھم بالبینت یعنی حجتوں اور دلائل کے ساتھ فردوا ایدیھم فی افواھھم یعنی ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ڈال لیے تاکہ رسول کے لائے ہوئے پیغام کی وجہ سے وہ ان کو کاٹ لیں، کیونکہ اس پیغام میں ان کی بےوقوفیوں اور ان کے بتوں کی برائیوں کا بیان تھا۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے اور عبد الرحمن بن زید نے بھی اس کی مثل بات کی ہے۔ اور عضوا علیکم الانامل من الغیظ (آل عمران : 119) کی تلاوت کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب انہوں نے کتاب اللہ کو سنا تو متعجب ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو اپنے مونہوں میں ڈال دیا۔ حضرت ابو صالح نے کہا : جب انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں تو انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنے مونہوں کی طرف اشارہ کیا کہ خاموش ہوجا، مقصود رسول کی تکذیب اور ان کی بات کو رد کرنا تھا، یہ تینوں قول قریب المعنی ہیں اور دونوں ضمیریں کفار کے لیے ہیں، اور سند کے اعتبار سے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ حدثنا عبد الرحمن بن مھدی عن سفیان عن ابی اسحاق عن ابی الاحوص عن عبد اللہ۔ ابو عبید نے اس سند کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فردوا ایدیھم فی افواھھم کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ غصے سے انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے، شاعر نے کہا ہے : لو أن سلی أبصرت تخددی ودقۃ فی عظم ساقی ویدی وبعد أھلی وجفاء عودی عضت من الوجد بأطراف الید یعنی اگر وہ ان سب چیزوں کو دیکھ لے تو غصے سے ہاتھ کے پوروں کو کاٹ لے (تو گویا غصے سے ایسا ہو سکتا ہے) ۔ سورة آل عمران میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ حضرت مجاہد و قتادہ نے کہا : انہوں نے اپنی بات رسولوں پر لوٹائی اور اپنے مونہوں سے ان کی تکذیب کی، پہلی ضمیر رسولوں کے لیے ہے اور دوسری کفار کے لیے۔ حضرت حسن وغیرہ نے کہا ہے : انہوں نے اپنے ہاتھ رسولوں کے مونہوں پر رکھے، مقصود ان کی بات کی تردید تھی، اس صورت میں پہلی ضمیر کفار کے لیے اور دوسری رسولوں کے لیے ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے : انہوں نے رسولوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ مقاتل نے کہا : انہوں نے رسولوں کے ہاتھ پکڑے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے اور گفتگو کو ختم کرنے کیلئے اپنے ہاتھ اپنے رسولوں کے مونہوں پر رکھ دئیے۔ ایک قول یہ بھی ہے : رسولوں نے قوم کے ہاتھ ان کے مونہوں پر لوٹا دئیے۔ ایک قول یہ ہے : یہاں ہاتھوں سے مراد نعمتیں ہیں، یعنی رسولوں کی نعمتوں کو انہوں نے اپنے مونہوں کے ذریعے رد کردیا۔ مونہوں کے ساتھ رد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گفتگو اور تکذہب کرکے تردید کی۔ اور رسولوں کا شریعتیں لے کر آنا نعمتیں ہیں۔ معنی یہ ہوگا کہ رسول جو لے کر آئے انہوں نے اپنے مونہوں کے ذریعے ان کی تکذیب کی۔ اور فی بمعنی با ہوگا، جیسے کہا جاتا ہے : جلست فی البیت وبالبیت اور حروف صفات ایک دوسرے کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ ابو عبید نے کہا : یہ ضرب المثل ہے، مراد یہ ہے کہ وہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور جب کوئی آدمی جواب نہ دے اور خاموشی اختیار کرلے تو عرب کہتے ہیں : قدردیدہ فی فیہ۔ یہ اخفش کا بھی قول ہے۔ قتیبی نے کہا : مامور بہ کو ترک کرنے کی وجہ سے عربوں میں سے کسی سے بھی ہم نے یہ نہیں سنا کہ وہ یہ کہتے ہوں : ردیدہ فی فیہ لہٰذا معنی یہ ہوگا : انہوں نے غصے و ناراضگی سے ہاتھوں کو کاٹا۔ شاعر کا قول بھی ہے : تردون فی فیہ غش الحسود حتی یعض علی الأکفا ” یعنی وہ حسد کرنے والوں کے ساتھ دشمنی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں حتی کہ وہ اپنی انگلیوں اور ہتھیلی کو کاٹتا ہے “۔ اور اور شاعر نے کہا : قد أفنی أناملہ أزمۃ فأضحی یعض علی الوظیفا انہوں نے کہا : امتوں سے مراد رسولوں کی امتیں ہیں۔ انا کفرنا بما ارسلتم بہ۔ اس میں انہوں نے ان کے رسول ہونے کا اقرار نہیں کیا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے گمان کے مطابق جس دین کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اس کا ہم نے انکار کیا۔ وانا لفی شک یعنی شکوک و شبہات اور تردد میں مما تدعوننا الیہ یعنی توحید مریب یعنی جو شک کا باعث ہے۔ جب تو کوئی ایسا کام کرے جو تردد اور شک کا باعث بنے تو اربتہ کہا جاتا ہے، یعنی ہمارا خیال ہے کہ تم بادشاہی اور دنیا کے طالب گار ہو۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے ؟ اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کیلئے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوچتے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کردو تو (اچھا) کوئی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

آیت نمبر 10 قولہ تعالیٰ : قالت رسلھم افی اللہ شک یہ استفہام بمعنی انکار ہے، کیا اللہ تعالیٰ کی توحید میں کوئی شک نہیں، یہ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کی توحید نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت ہے یعنی اللہ کی اطاعت میں کوئی شک نہیں۔ اور اس میں ایک تیسرا احتمال بھی ہے، یعنی کیا اللہ کی قدرت میں شک ہے ؟ کیونکہ وہ اس بات پر متفق تھے جبکہ اس کے علاوہ دیگر سورتوں میں ان کا اختلاف ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاطر السموت والارض بھی ولایت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیدا کرنے والا، بنانے والا اور عدم کے بعد ان کو وجود بخشنے والا ہے، اس ارشاد سے مقصود اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ پتہ چل جائے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں۔ یدعوکم یعنی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے اس کی اطاعت کی طرف وہ تمہیں دعوت دیتا ہے۔ لیغفرلکم من ذنوبکم ابو عبید نے کہا : من زائدہ ہے۔ سیبویہ نے کہا : یہ ے بعیضیہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض کو ذکر کرکے مراد سارے ہوں۔ ایک قول کے مطابق من بدل کے طور پر نہ زائدہ ہے اور نہ تبعیضیہ، یعنی مغفرت گناہوں کے بدلے میں ہوجائے۔ ویؤخرکم الی اجل مسمی اس سے مراد موت ہے۔ پس وہ تمہیں دنیا میں عذاب نہیں دے گا۔ قالوا ان انتم، ان بمعنی ما ہے۔ الا بشر مثلنا یعنی ہیئت اور صورت میں، تم وہی کھاتے ہو جو ہم کھاتے ہیں اور تم وہی پیتے ہو جو ہم پیتے ہیں اور تم فرشتے نہیں۔ تریدون ان تصدونا عما کان یعبدو اباؤنا مراد بت وغیرہ ہیں۔ فاتونا بسلطن مبین اس سے مراد حجت ظاہری ہے۔ یہ ان سے محال تھا، کیونکہ رسول بغیر معجزات کے دعوت نہیں دیتے۔
Ayahs 14:11–12

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

ہم کیونکر خدا پر بھروسا نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) راستے بتائے ہیں جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

آیت نمبر 11 تا 12 قولہ تعالیٰ : قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم یعنی جس طرح تم کہتے ہو ہم صورت اور ہیئت میں تمہاری طرح ہیں۔ ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ یعنی جس پر چاہتا ہے نبوت کے ذریعے مہربانی فرماتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : توفیق، حکمت، معرفت اور ہدایت کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : اس سے مراد تلاوت قرآن اور اس کے فہم کے ذریعے احسان فرماتا ہے۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ عمدہ قول ہے۔ طبری نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے حضرت ابو ذر ؓ کو کہا : اے چچا ! مجھے وصیت کرو۔ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح پوچھا جس طرح آپ نے پوچھا ہے تو آپ نے فرمایا : ” کوئی دن، رات اور گھڑی نہیں جس میں اللہ تعالیٰ صدقہ نہ فرماتا ہو جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے الہام کرنے کی طرح کا احسان اپنے بندوں پر نہیں فرمایا “۔ وما کان لنا ان ناتیکم بسلطن یعنی حجت اور آیت الا باذن اللہ۔ اللہ کے اذن سے مراد اس کی مشیت ہے یعنی یہ ہمارے بس میں نہیں، ہم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ اللہ کے امر اور قدرت کے بغیر جس طرح تم مطالبہ کرتے ہو اس طرح ہم حجت اور دلیل لے آئیں، الفاظ خبر کی صورت میں ہیں مگر معنی نفی کا ہے، کیونکہ کوئی بھی اس کام کا پابند نہیں جس پر وہ قادر نہ ہو۔ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون اس کا معنی گزر چکا ہے۔ وما لنا الا نتوکل علی اللہ، ما استفہامیہ ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور لنا خبر ہے، اور اس کے بعد والا جملہ حال ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی : أی شئ لنا فی ترک التوکل علی اللہ اللہ تعالیٰ پر بھروسے کو ترک کرنے کے سلسلہ میں ہمارے لیے کون سی شے ہے ؟ وقد ھدنا سملنا یعنی وہ راستہ جو اللہ کی رحمت تک پہنچاتا ہے، اور اس کی سختی اور انتقام سے نجات دلاتا ہے۔ ولنصبرن لام قسم کا ہے۔ اصل میں واللہ لنصبرن ہے۔ علی ما اذیتمونا اس کے بعد بہ کے الفاظ بھی ہیں، توہین اور مارنا، تکذیب اور قتل وغیرہ جیسی اذیتیں مراد ہیں۔ ان اذیتوں کی برداشت اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس بھروسے کی وجہ سے ہے کہ وہ ہمیں کافی ہے اور وہ ہماری مدد فرمائے گا۔ وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا (ہمارے) مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دینگے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے۔ اور میرے عذاب سے خوف کرے

آیت نمبر 13 تا 14 قولہ تعالیٰ : وقال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا، لنخرجنکم میں لام قسم ہے۔ یعنی واللہ لنخرجنکم۔ او لتعودن یعنی حتی تعودوا یا الا ان تعودوا یہ طبری اور دیگر مفسرین کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس کو اس تقدیر (حتی یا الا ان) کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ او اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے تخییر پر دلالت کرتا ہے، کفار نے رسولوں کو اپنی ملت میں واپس لوٹنے یا انہیں اپنے ملک سے نکالنے کا اختیار دیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور بندوں کے لیے طریقہ کار ہے، کیا آپ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وان کا دوا لیستگزونک من الارض لیخرجوک منھا واذا لا یلمثون خلفک الا قلیلا۔ سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا (الاسراء) کو نہیں دیکھتے “۔ اور انہوں نے ارادہ کرلیا ہے کہ پریشان و مضطرب کردیں گے آپ کو اس علاقے سے تاکہ نکال دیں آپ کو یہاں سے اور (اگر انہوں نے یہ حماقت کی) تب وہ نہیں ٹھہریں گے (یہاں) آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ (یہی ہمارا) دستور ہے ان کے بارے میں جنہیں ہم نے بھیجا آپ سے پہلے رسول بنا کر “۔ یہ معنی سورة اعراف وغیرہ میں گزر چکا ہے۔ فی ملتنا یعنی ہمارے دین کی طرف۔ فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین۔ ولنسکنئکم الارض من بعدھم پس وحی بھیجی ان کی طرف ان کے پروردگار نے کہ (مت گھبراؤ) ہم تباہ کردیں گے ان ظالموں کو نیز ہم یقینا آباد کریں گے تمہیں (ان کے) ملک میں انہیں (برباد کرنے) کے بعد۔ ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید یعنی قیامت کے دن میرے سامنے کھڑا ہونے سے، مصدر کو فاعل کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ مقام، قیام کی طرح مصدر ہے۔ قام قیاما ومقاما کہا جاتا ہے، اور اس کے اپنے ساتھ اختصاص کی وجہ سے اللہ نے یہ اضافت فرمائی ہے۔ اور مقام میم کے فتحہ اقامت کی جگہ کو کہتے ہیں، اور میم کے ضمہ کے ساتھ اقامت کے فعل کو کہا جاتا ہے۔ ذلک لمن خاف مقامی یعنی میرے اس کے اوپر قیام اور اس کی نگرانی سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے افمن ھو قائم علیٰ کل نفس بما کسبت (الرعد : 33) کیا وہ خدا جو نگہبانی فرما رہا ہے ہر نفس کی اس کے اعمال (نیک و بد) کے ساتھ۔ اخفش نے کہا : ذلک لمن خاف مقامی میں مقامی سے مراد، عذابی، یعنی میرا عذاب ہے۔ وخاف وعید یعنی قرآن اور اس کی دھمکیاں۔ ایک قول کے مطابق : یہ عذاب ہے اور الوعید وعد سے اسم ہے۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

آیت نمبر 15 تا 17 قولہ تعالیٰ : واستفتحوا یعنی انہوں نے مدد کی التجا کی، یعنی رسولوں کو اپنی قوم کے خالق فتح کی التجا اور ان کی ہلاکت کی دعا کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر کا نقطہ نظر ہے۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے اور اس سے حدیث طیبہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مہاجرین کی کامیابی و کامرانی کے لیے فتح کی التجا کرتے تھے یعنی مدد طلب کرتے تھے۔ ابن زید نے کہا : مختلف امتوں نے دعا کے ذریعے فتح کی التجا کی جس طرح قریش نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک الایۃ (الانفال : 32) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ایک قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” انہوں نے میری تکذیب کی ہے پس میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ فرما “۔ مختلف امتوں نے کہا : اگر یہ سچے ہیں تو ہمیں عذاب میں مبتلا کر۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ اس کی مثال ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقین ہمارے اوپر اللہ کا عذاب لا اگر تو سچوں میں سے ہے۔ فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین (الاحقاف) ہمارے اوپر وہ لا جس کا تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے اگر تو رسولوں میں سے ہے۔ وخاف کل جبار عنید، جبار سے مراد وہ متکبر ہے جو اپنے اوپر کسی کا کوئی حق نہیں سمجھتا۔ نحاس کے ذکر کردہ بیان کے مطابق اہل لغت کے نزدیک اس کا یہی معنی ہے اور عنید حق کا انکار کرنے والا اور اس سے پہلو تہی اختیار کرنے والا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر سے مروی ہے : جب کوئی قوم سے دوری اختیار کرلے تو عند عن قومہ کہا جاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ العند سے ہے اور العند سے مراد ناحیہ اور کونہ ہوتا ہے اور عاند فلان سے مراد ہے اس نے کونے میں اعراض کرتے ہوئے پکڑا۔ شاعر نے کہا : إذا نزلت فاجعلونی وسطا إنی کبیر لا أطیق العندا ہر وی نے کہا : اللہ تعالیٰ کے ارشاد : جبار عنید سے مراد میانہ روی کی نسبت ظلم اختیار کرنے والا ہے۔ اور یہ العنود، العنید اور العاند ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ آپ سے مستحاضہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : انہ عرق عاند۔ ابو عبید نے کہا : یہ وہ ہے جس نے سرکشی اور بغاوت اختیار کی جس طرح انسان بغاوت کرتا ہے۔ تو یہ رگ بھی اس سے نکلنے والے خون کی کثرت کی وجہ سے اسی کی طرح ہے۔ شمر نے کہا : عاند وہ ہے جس کا خون نہیں رکتا۔ حضرت عمر ؓ اپنی سیرت کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں میانہ روی سے ہٹنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہوں۔ لیث نے کہا : اونٹوں میں سے عنود وہ ہے جو دیگر اونٹوں کے ساتھ نہیں ملتا بلکہ ہمیشہ ایک طرف رہتا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو مخالفت کا ارادہ کرے یا جماعت سے علیحدہ ہونا چاہے میں اسے اس کے ساتھ ملا دیتا ہوں۔ مقاتل نے کہا : عنید سے مراد متکبر ہے۔ ابن کیسان نے کہا : یہ اپنی ناک کے ذریعے بلند ہونے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے : العنود اور العنید سے مراد وہ ہے جو رسولوں کے خلاف تکبر اختیار کرتا ہے اور حق کے راستے سے ہٹ جاتا ہے اس پر نہیں چلتا۔ عرب راستے سے ہٹ جانے والے اونٹ کے متعلق کہتے ہیں : شر الابل العنود۔ ایک قول کے مطابق : العنید سے مراد گناہگار اور نافرمان ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : عنید وہ ہے جس نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کیا۔ میں (قرطبی) نے کہا : آیت میں جبار اور عنید کا معنی ایک ہی ہے اگرچہ لفظ مختلف ہیں۔ اور ہر وہ آدمی جو حق سے دور ہوتا ہے وہ جبار اور عنید ہے یعنی متکبر ہے۔ ایک قول یہ ہے : آیت میں اس سے مراد ابو جہل ہے، اس کو مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے اپنی کتاب أدب الدنیا والدین میں حکایت بیان کی ہے کہ ولید بن یزید بن عبد الملک نے ایک دن قرآن کریم کو کھولا تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واستفتحوا وخاف کل جبار عنید نکلا تو اس نے قرآن پاک کو پھاڑ دیا اور یہ اشعار پڑھنے لگا : اتوعد کل جبار عنید فھا أنا ذاک جبار عنید إذا ما جئت ربک یوم حشر فقل یا رب مزقنی الولید کیا تو ہر جبار عنید کو دھمکی دیتا ہے یہ لو میں ہوں وہ جبار عنید۔ جب تو اپنے پروردگار کے پاس حشر والے دن آئے گا تو کہہ دینا : اے میرے پروردگار ! مجھے ولید نے پھاڑا ہے۔ پھر کچھ ہی دن رہا کہ اسے بری طرح قتل کردیا گیا اور اس کے سر کو اس کے محل پر لٹکا دیا گیا پھر اسے شہر کی چار دیواری پر لٹکایا گیا۔ قولہ تعالیٰ : من ورآئہ جھنم یعنی اس کافر کے پیچھے جہنم ہے یعنی اسکی ہلاکت کے بعد جہنم ہے اور وراء بمعنی بعد ہے نابغہ نے کہا حلفت فلم أترک لنفسک ریبۃ ولیس وراء اللہ للمرء مذھب میں نے ہر قسم اٹھائی اور تیرے نفس کے لیے کوئی شک نہ چھوڑا اور ان کے لیے اللہ کے بعد کوئی اور مفر نہیں۔ یہاں وراء اللہ سے مراد بعد اللہ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ومن ورآئہ عذاب غلیظ سے مراد من بعدہ ہے۔ اور اللہ کے ارشاد ویکفرون بما ورآءہ (البقرہ :91) سے مراد بما سواہ ہے۔ یہ فراء کا قول ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس کا معنی بما بعدہ ہے۔ ایک قول کے مطابق : من ورائہ سے مراد من أمامہ ہے اسی سے شاعر کا قول ہے : ومن ورائک یوم أنت بالغہ لا حاضر معجز عنہ ولابادی من ورائک سے مراد من امامک یعنی تیرے سامنے ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : أترجوا بنو مروان سمعی و طاعتی وقومی تمیم والفلاۃ ورائیا ورائیا سے مراد مام یعنی سامنے ہے۔ لبید نے کہا : ألیس ورال ان تراخت منیتی لزوم العصا تحنی علیھا الأصابع ورائی سے مراد أمامی ہے اور وکان وراءھم ملک سے مراد کان أمامھم ملک ہے۔ ابو عبیدہ اور ابو علی قطرب وغیرہ کا یہی نقطہ نظر ہے۔ اخفش نے کہا : یہ اسی طرح ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ ھذا الأمر من ورائک یعنی عنقریب تیرے پاس آجائے گا اور أنا من وراء فلان یعنی میں اس کی تلاش میں ہوں اور عنقریب اس تک پہنچ جاؤں گا۔ نحاس نے کہا : اللہ کے ارشاد من ورآئہ جھنم میں ورآئہ سے مراد امامہ ہے یہ اضداد میں سے نہیں بلکہ یہ توریہ ہے۔ ازہری نے کہا : وراء بمعنی امام اور خلف دونوں ہے یہ اضداد میں سے ہے، یہ ابو عبید کا بھی قول ہے۔ اور ان دونوں کا اشتقاق ان میں سے ہے جو پوشیدہ ہوتی ہیں، پس جہنم پوشیدہ ہے اور ظاہر نہیں ہوتی، لہٰذا یہ وراء ہوگئی کیونکہ دکھائی نہیں دیتی، اس کو ابن انباری نے حکایت کیا ہے اور عمدہ بات ہے۔ ویسقی من مآء صدیہ یعنی ایسا پانی پلایا جائے گا جو پیپ کی طرح ہوگا، جس طرح بہادر آدمی کو اسد کہا جاتا ہے، اس سے مراد بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اسد کی طرح ہے یہ تمثیل اور تشبیہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ وہ ہے جو دوزخیوں کے جسم سے قیح اور خون بہتا ہے۔ محمد بن کعب قرظی اور ربیع بن انس نے کہا : یہ دوزخیوں کا غسالہ ہے، اور یہ پانی ہے جو زانی مردوں اور عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلتا ہے۔ صدید، صد سے ماخوذ ہے۔ ابن مبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں صفوان بن عمرو نے عن عبید اللہ بن بسر عن ابی امامہ عن النبی ﷺ خبر دی ہے کہ ویسقی من مآء صدید۔ یتجرعہ کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا : ” ان کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کریں گے۔ جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو یہ اس کے چہرے کو بھون دے گا اور اس کی حدت اس کے سر تک پہنچ جائے گی اور جب وہ اسے پیے گا تو یہ اس کی انتڑیاں کاٹ دے گا یہاں تک کہ وہ اس کی دبر سے نکلے گا “۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وسقوا مآء جمیعا فقطع امعآءھم۔ (محمد) اور اللہ ارشاد فرماتا ہے : وان یستغیثوا یغاثوا بمآء کالمھل یشوی الوجوہ، بئس الشراب (الکہف :29) اس روایت کو ترمذی نے بیان کیا ہے اور کہا ھذا حدیث غریب۔ (دونوں آیات حدیث کے معنی کی شرح ہیں) جس عبید اللہ بن بسر نے صفوان بن عمرو سے حضرت ابو امامہ کی حدیث روایت کی ہے شاید وہ عبد اللہ بن بسر کا بھائی ہو۔ یتجرعہ یعنی وہ اس کو گھونٹ گھونٹ کرکے پیئیں گے، اس کی کڑواہٹ اور حرارت کی وجہ سے ایک ہی دفع نہیں پی سکیں گے۔ ولا یکاد یسیغہ یعنی وہ اسے نگل نہیں سکے گا۔ جرح الماء واجترعہ وتجرعہ کہا جاتا ہے اور اس کا معنی ساغ الشراب فی الحق یسوغ سوغا یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ آسانی سے نگل لے، اسی طرح وأساغہ اللہ إساغۃ ہے اور یکاد صلہ ہے، یعنی وہ اس کو دیر لگانے کے بعد نگلے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما کا دوا یفعلون (البقرہ) یعنی انہوں نے سستی کے بعد کام سر انجام دیا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یصھربہ ما فی بطونھم والجلود۔ (الحج) تو یہ اساغت پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نہ وہ اس کو جائز قرار دے گا اور نہ وہ اس کے ذریعے فائدہ حاصل کرے گا۔ ویاتیہ الموت من کل مکان حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی ہر طرف سے اس کے دائیں بائیں، اوپر نیچے، آگے اور پیچھے سے موت کے اسباب اس کے پاس آئیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد لھم من فوقھم ظلل من النار و من تحتھم ظلل (الزمر :16) ان کے اوپر سے دوزخ کا سایہ ہوگا اور ان کے نیچے سے سایہ ہوگا۔ ابراہیم تیمی نے کہا : اس کے جسم کے ہر حصے سے وہ اس کے پاس آئے گی یہاں تک کہ بالوں کے اطراف سے بھی، ان تکلیفوں کے لیے موت کا لفظ بولا گیا ہے جو اس کے جسم کے ہر حصے سے آئیں گی۔ ضحاک نے کہا : ہر طرف اور ہر جگہ سے حتی کہ اس کے پاؤں کے انگوٹھے سے موت اس کے پاس آئے گی۔ اخفش نے کہا : اس سے مراد وہ مصیبتیں ہیں جو جہنم میں کافر کو جھیلنا پڑیں گی اللہ تعالیٰ نے ان مصیبتوں کو موت فرمایا ہے اور یہ موت بھی بڑی ہوگی۔ ایک قول یہ ہے : اس کے ہر عضو پر عذاب کی ایک صورت مسلط ہوگی۔ عذاب کی ایک صورت کا ایک لحظہ کے لیے تسلط اس پر ستر مرتبہ کی موت سے زیادہ مشکل ہوگا۔ عذاب کی مختلف صورتوں میں ڈسنے والا سانپ، ڈنگ مارنے والا بچھو، جلا دینے والی آگ، پاؤں کی بیڑیاں، گردن میں گرم زنجیریں، زنجیروں کے ساتھ جکڑنا، تابوت میں بند کرنا، پیپ، گرم پانی اور اس کے علاوہ کئی اور صورتیں ہیں۔ محمد بن کعب نے کہا : جب کافر جہنم میں پانی مانگے گا تو اسے دیکھ کر کئی موتیں مرے گا، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو پھر کئی موتیں مرے گا، اور پھر جب اسے پیے گا تو کئی موتیں مرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھو بمیت سے یہی مراد ہے۔ ضحاک نے کہا : وہ نہیں مرے گا تو راحت طلب کرے گا۔ ابن جریج نے کہا : اس کی روح اس کی پسلیوں میں معلق ہوجائے گی اور باہر نہیں نکلے گی تو وہ مرے گا تو راحت طلب کرے گا۔ ابن جریج نے کہا : اس کی روح اس کی پسلیوں میں معلق ہوجائے گی اور باہر نہیں نکلے گی تو وہ مرے گا، پھر اس کے پیٹ سے روح اپنی جگہ کی طرف نہیں لوٹے گی تو زندگی اسے فائدہ دے گی، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے ارشاد ثم لا یموت فیھا ولا یحیی۔ (الاعلی) میں ہے یعنی اس میں نہ وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کے جسم میں کئی آلام پیدا فرمائے گا جن میں سے ہر ایک موت کے الم کی طرح ہے۔ ایک قول یہ ہے : وما ھو بمیت سے مراد یہ ہے کہ اس کے ذریعے موت کے شدائد کو طوالت اور سکرات الموت کو لمبا کیا جاسکے گا تاکہ یہ صورت اس کے عذاب میں زیادتی کا سبب بنے۔ میں (قرطبی) نے کہا : اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کافر مرے گا، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لایقضی علیھم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا (فاطر :36) نبی کریم ﷺ کے ارشادات بھی اسی طرح کے ہیں، کفار کے حالات ایسے ہوں گے جیسے اس آدمی کے حالات ہو سکتے ہیں جس پر ہمیشہ سکرات الموت طاری رہیں۔ واللہ اعلم۔ ومن ورآئہ یعنی اس کے آگے۔ عذاب غلیظ اس سے مراد سخت اور مسلسل تکلیف وہ عذاب ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ولیجدوا فیکم غلظۃ (التوبۃ : 123) ہے۔ اس سے مراد بھی شدت اور قوت ہے۔ اللہ کے ارشاد : ومن ورآئہ عذاب غلیظ کے بارے میں حضرت فضیل بن عیاض (رح) نے کہا کہ اس سے مراد سانسوں کو روکنا ہے۔
Ayahs 14:18–20

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اسی طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کردے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

آیت نمبر 18 تا 20 قولہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرما، مثل کے رفع میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ سیوبیہ کے نزدیک یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے جب کہ خبر مضمر ہوگی۔ تقدیر عبارت یہ ہے وفیما یتلی علیکم او یقص مثل الذین کفروا بربھم پھر نئے سرے سے کلام فرمایا اور فرمایا : اعمالھم کرماد یعنی راکھ کے ڈھیر کی طرح۔ اشتدت بہ الریح زجاج نے کہا : تقدیر عبارت ہوگی مثل الذین کفروا فیما یتلی علیکم أعمالھم کرماد یہی فراء کے نزدیک بھی ہے۔ اس صورت میں مثل مدغی ہوگا اصل کلام یہ ہوگا : والذین کفروا بربھم أعمالھم کرماد انھیں سے مضاف کے حذف کی صورت بھی مروی ہے یعنی مثل أعمال الذین کفروا بربھم کرماد پہلی صورت کو ان سے مہدوی نے ذکر کیا ہے اور دوسری کو قشیری اور ثعلبی نے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ مبتدا ہو جیسے صفۃ فلان أسمرتو مثل بمعنی صفت ہو۔ اور کلام میں اعمالھم کو الذین سے بدل اشتمال بناتے ہوئے مجرور پڑھنا بھی صحیح ہوگا اور یہ وخاب کل جبار عنید کے ارشاد کے ساتھ متصل ہوگا جب کہ معنی یہ ہوگا کہ ان کے اعمال ضائع ہیں مقوھل نہیں ہیں۔ اور رماد کسی چیز کے جلنے کے بعد جو باقی بچ جانے والا حصہ ہوتا ہے اسے کہتے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے اڑجانے کو بطور تمثیل بیان فرمایا ہے کہ یہ اسی طرح ہے جس طرح سخت آندھی والے دن تیز ہواراکھ کو اڑا کرلے جاتی ہے۔ العصف ہوا کی تیزی کو کہتے ہیں۔ ان کی یہ صورتحال اس وجہ سے ہوگی کہ انہوں نے اپنے اعمال میں اللہ کے علاوہ کئی اور لوگوں کو شریک کیا۔ یوم کی عصف کے ساتھ صفت لانے کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ عصف اگرچہ ہوا کی صفت ہے مگر چونکہ ہوا دن میں ہوتی ہے اس لیے اسے دن کی صفت کے طور پر ذکر کرنا صحیح ہوگا اور یوم عاصف کہا جائے گا جس طرح مثلا دن میں سردی اور گرمی کے ہونے کی وجہ سے یوم بارد اور یوم حار کہنا صحیح ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ فی یوم عاصف سے مراد ہوا ہی ہوگی کیونکہ جملہ کے آغاز میں ہوا کا ذکر کردیا گیا ہے اسلیے یہاں اس کو حذف کردیا جیسے شاعر کا شعر ہے : إذا جاء یوم مظلم الشمس کا سف یہاں مراد کا سف الشمس ہے مگر شمس کا ذکر پہلے ہوجانے کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں ہر وی نے ذکر کی ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ الریح کی صفت ہے۔ اس کا اعراب موصوف کے مطابق اس لیے نہیں ہوگا کیونکہ جب یوم کے بعد آئے گا تو اعراب بھی اس کے مطابق ہوگا جیسے حجر ضب خرب کہا جاتا ہے۔ یہاں خرب حجر کی صفت ہے مگر ضب کے بعد آنے کی وجہ سے اس کے تابع ہے، اس کو ثعلبی اور ماوردی نے ذکر کیا ہے اور ابن اسحاق اور ابراہیم بن ابی بکر نے فی یوم عاصف پڑھا ہے۔ لا یقدرون یعنی کفار مما کسبوا علی شیء اس سے مراد آخرت ہے، یعنی کفر کی وجہ سے ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اس لیے دنیا میں انہوں نے جو نیک عمل کیا ہوگا آخرت میں اس کا ثواب حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ذلک ھو الضلل البعید یعنی بہت بڑا خسارہ موت کی وجہ سے۔ اس کے استدراک کے فوت ہوجانے کے سبب اللہ تعالیٰ نے اس کو کبیر اور بعید بنا دیا۔ الم تر ان اللہ خلق السموت والارض بالحق یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی ہے، کیونکہ معنی یہ ہے کہ کیا تیرے علم کی انتہا اس بات پر نہیں ہوئی۔ حمزہ اور کسائی نے خالق السموات والارض پڑھا ہے اور بالحق کا معنی یہ ہوگا کہ تاکہ آسمانوں اور زمین کے ذریعے اس کی قدرت پر استدلال کیا جاسکے۔ ان یشا یذھبکم یعنی اے لوگو ! وہ جس طرح اشیاء کو پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح ان کو فنا کرنے پر بھی قادر ہے، لہٰذا تم اس کی نافرمانی نہ کرو، اگر تم اس کی نافرمانی کروگے تو وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔ ویات بخلق جدید جو تم سے زیادہ فضیلت والے اور تابعدار ہوں گے، کیونکہ اگر وہ بھی پہلے لوگوں کی طرح ہوں تو پھر تو تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز عزیز سے مراد مشکل اور متعذر ہے۔