Ayah 14:37آیت نمبر 37
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: امام بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : عورتوں میں سب سے پہلے بیٹی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ماں کی طرف سے باندھی گئی آپ نے اس لیے پیٹی باندھی تاکہ حضرت سارہ کو آپ اپنے اثر سے بچا سکیں، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر آئے حضرت اسماعیل ابھی دودھ پیتے تھے حتی کہ ان دونوں کو آپ نے زمزم کے اوپر بیت اللہ میں چھوڑ دیا، اس وقت مکہ میں کوئی بھی آباد نہیں تھا، اور نہ ہی پانی تھا، ان دونوں کو وہاں چھوڑا، ایک تھیلا ان کے پاس رکھا جس میں کھجوریں تھیں اور ایک مشکیزہ رکھا جس میں پانی تھا، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واپس پلٹے ام اسماعیل نے آپ کا پیچھا کیا، عرض کی : اے ابراہیم ! آپ کہاں جا رہے ہیں اور ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ دیا ہے جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز ؟ آپ مسلسل یہی کہتی رہیں مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کوئی توجہ نہ دی، پھر حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ آپ نے کہا : پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ اور واپس لوٹ آئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں ایسی جگہ پر پہنچے جہاں سے آپ انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے، تو وہاں قبلہ کی طرف اپنا منہ کیا اور یہ دعائیں مانگی، اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور عرض کیا : ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع سے لے کر یشکرون تک۔
حضرت اسماعیل کی ماں حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی رہی اور اس پانی سے پیتی رہی، حتی کہ جب پانی ختم ہوگی اتو آپ کو بھی سخت پیاس لگی اور آپ کے بیٹے کو بھی اور آپ بیٹے کو مٹی پر لوٹتے ہوئے دیکھتی رہی، اس حالت میں جب نہ دیکھا گی اتو چل پڑیں، پاس ہی صفا پہاڑ کو آپ نے دیکھا، تو اس پر چڑھ گئیں، پھر وادی کی طرف منہ کیا کہ شاید کوئی آدمی نظر آجائے، مگر کوئی بھی نظر نہ آیا تو صفا سے اتریں، وادی میں پہنچیں، اپنی اوڑھنی کے کنارے کو اٹھا یا پھر مجبور انسان کی طرف دوڑنے لگیں، پھر وادی کو عبور کی اتو مروہ پہاڑ سامنے آیا اس پر چڑھ گئیں، دیکھا کہ شاید کوئی نظر آجائے مگر کوئی بھی نظر نہ آیا۔ سات مرتبہ آپ نے ایسے ہی کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” پس یہی لوگوں کی صفا ومروہ کے درمیان سعی ہے “۔ جب آپ مروہ پر سے جھانکیں تو آپ نے ایک آواز سنی آپ نے کہا : رک جا ! پھر توجہ سے آواز سنی تو پھر وہی آواز سنائی دی تو آپ نے کہا تو نے مجھے آواز سنائی کیا تیرے پاس کوئی مدد ہے ؟ تو تب ایک فرشتہ مقام زمزم کے پاس تھا اس نے اپنا پیر مارا حتیٰ کہ پانی ظاہر ہوگیا۔ آپ نے اسے بھرنا شروع کردیا اور ہاتھ سے اشارہ کرکے یہ (زمزم) کہہ رہی تھیں اور پانی سے چلو بھر بھر کر اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کردیا مگر وہ ابلتا ہی رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے اگر وہ زمزم کو یونہی چھوڑ دیتی تو زمزم ایک چشمہ جاری ہوتا “۔ آپ نے فرمایا ” آپ نے خود پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا تو فرشتے نے آپ کو کہا : مت دوڑ یہاں بیت اللہ ہے اسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے، اور اللہ تعالیٰ اس کے اہل کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا “۔ اور لمبی حدیث کو ذکر کیا۔
مسئلہ : کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ عزیز و رحیم پروردگار پر بھروسہ کرتے ہوئے اس واقعہ کی وجہ سے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی اقتدا کرتے ہوئے اپنے بیٹے اور گھر والوں کو کسی ایسی زمین میں چھوڑ دے جہاں ان کے ضیاع کا خطرہ ہو، جس طرح غالی قسم کے صوفیہ حقیقت توکل کے بارے میں کہتے ہیں، کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کیا تھا۔ حدیث طیبہ میں موجود یہ الفاظ کہ ” کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ اور آپ کا فرمانا : ہاں “۔ اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ جب حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت سارہ، حضرت ہاجرہ سے رشک کرنے لگیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں لے کر مکہ آگئے۔ اور روایت ہے کہ آپ، حضرت ہاجرہ اور بچہ تینوں براق پر سوار ہوئے اور ایک ہی دن میں شام سے مکہ پہنچ گئے، اپنے بیٹے اور اس کی ماں کو وہیں چھوڑا اور اسی دن سوار ہو کر خواہ واپس لوٹ گئے۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی وجہ سے ہوا، جب واپس لوٹے تو یہ دعا کی جو اس آیت میں ہے۔
مسئلہ نمبر 2: جب اللہ تعالیٰ نے حال کی بنیاد، مقام کے آغاز، عزت والے گھر اور حرمت والے شہر کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو فرشتے کو بھیجا، اس نے پانی تلاش کیا اور اس پانی کو غذا کے قائم مقام بنا دیا۔ الصحیح میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے تیس دن اور رات اسی پر گزارا کیا۔ حضرت ابو ذر ؓ نے فرمایا : میرے پاس سوائے ماء زمزم کے کوئی کھانا نہ تھا تو میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ (بل) ٹوٹ گئے اور مجھے بھوک کی وجہ سے کمزوری کا احساس تک نہ ہوا لمبی حدیث کو انہوں نے ذکر کیا
دار قطعی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہے جس کے لیے پیا جائے اگر تو اسے اس لیے پئیے گا کہ شفا حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ تجھے شفا دے گا اور اگر اس لیے پیئے گا کہ تو سیر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس کے ذریعے سیر کر دے گا اور اگر پیاس بجھانے کے لیے پیے گا تو وہ تیری پیاس بجھائے گا یہ جبریل کے پر مارنے کی وجہ سے پیدا ہوا اور حضرت اسماعیل کو اللہ نے سیراب کیا “۔ حضرت عکرمہ سے بھی مروی ہے کہ آپ نے کہا کہ حجرت ابن عباس ؓ جب زمزم سے پیتے تو عرض کرتے : اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔ ابن عربی نے کہا : اس میں یہ اثرات قیامت تک ہر اس آدمی کیے تج موجود ہیں جس کی نیت صحیح ہو اور اسکی خواہش سلامت ہو نہ تو وہ اس کی تکذیب کرنے والا ہو اور نہ ہی تجرباتی طور پر وہ اسے پی رہا ہو۔ بیشک اللہ بھروسہ کرنے والوں کے ساتھ ہے اور وہ تجربہ کرنے والوں کو ناکام و نامراد کرتا ہے۔ ابو عبد اللہ محمد بن علی ترمذی نے کہا کہ مجھے میرے باپ (رح) نے بتایا انہوں نے کہا : ایک تاریک رات میں میں نے طواف شروع کیا تو مجھے پیشاب کا مسئلہ لاحق ہوگیا جس نے مجھے مصروف کردیا، میں نے اسے روکنا شروع کیا حتیٰ کہ اس نے مجھے اذیت دی اور مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ اگر میں مسجد سے نکلا تو کوئی مجھے روند ڈالے گا اور وہ حج کے دن تھے، تو مجھے یہ حدیث یاد آگئی۔ میں زمزم میں داخل ہوا اور اتنا پیا کہ میری پسلیاں اکڑ گئیں، تو صبح تک میرا مسئلہ ختم ہوگیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے : زمزم رکن یمانی کی طرف جنت میں ایک چشمہ ہے۔
مسئلہ نمبر 3: من ذریتی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں من تبعیضہ ہے یعنی أسکنت بعض ذریتی یعنی اسماعیل اور اس کی ماں، کیونکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تو شام میں تھے۔ ایک قول کے مطابق یہ صلہ ہے، یعنی اسکنت ذریتی۔
مسئلہ نمبر 4: عند بیتک المحرم یہ ارشاد بیت اللہ کے قدیم ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح مروی ہے کہ یہ طوفان نوح (علیہ السلام) سے پہلے کا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی اس کا مالک نہیں، اور اس کی صفت محرم کے ساتھ اس لیے بیان فرمائی کیونکہ کچھ چیزیں جماع اور دیگر امور میں سے ایسی ہیں جو اس میں حرام ہیں جب کہ دیگر بیوت میں مباح اور جائز ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت قتادہ وغیرہ کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ یہ جابروں پر حرام ہے اس سلسلہ میں سورة المائدہ میں گفتگو گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 5: قولہ تعالیٰ : ربنالیقیموا الصلوٰ ۃ دین کے جملہ معاملات میں سے نماز کو خاص کرنے کی وجہ ایک تو نماز کی فضیلت ہے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہمیت ہے، اور یہ بندوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک عہد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر لکھ دیں ہیں “۔ الحدیث۔ لیقیموا الصلوٰۃ میں لام ہے، یہ اس کے متعلق ظاہر بات ہے اور یہ اسکنت کے متعلق ہوگی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لام امر ہو، گویا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف اس سلسلہ میں راغب ہوئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نماز قائم کرنے کی توفیق دے۔
مسئلہ نمبر 6: یہ آیت اپنے ضمن میں اس بات کو لیے ہوئے ہے کہ مکہ میں نماز پڑھنا دیگر مقامات میں نماز کی ادائیگی کی نسبت افضل ہے، کیونکہ ربنا لیقیموا الصلوٰۃ کا معنی یہ ہے کہ میں نے انہیں تیرے حرمت والے گھر کے پڑوس میں بسا دیا تاکہ یہ اس میں نماز ادا کریں۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا مکہ میں نماز افضل ہے یا مسجد نبوی میں ؟ عام محدثین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کی ادائیگی مسجد رسول اللہ ﷺ میں ایک سو نماز کی ادائیگی سے افضل ہے، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری اس مسجد میں نماز کی ادائیگی دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز کی ادائیگی سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام میں نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں ایک سو نماز کی ادائیگی سے افضل ہے “۔ امام حافظ ابو عمر نے کہا : وہ ثقہ تھے۔ اور اس حدیث کو حبیب المعلم نے عطاء بن ابی رباع عن عبد اللہ بن زبیر بیان کیا ہے اور اسے عمدہ قرار دیا ہے، نہ اس کے الفاظ میں کوئی ملاوٹ کی اور نہ ہی معنی میں۔ ابن ابی خیثمہ نے کہا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : حبیب المعلم ثقہ ہے۔ عبد اللہ بن احمد نے ذکر کیا ہے کہ میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا : حبیب المعلم ثقہ ہے اس کی بیان کردہ حدیث کتنی زیادہ صحیح ہے۔ ابو زرعہ رازی سے حبیب المعلم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : یہ بصری ہے، ثقہ ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : حبیب المعلم کی اس حدیث کو عطاء بن ابی رباح عن عبد اللہ بن زبیر عن النبی ﷺ حافظ ابو حاتم محمد بن حاتم التمیمی البستی نے اپنی المسند الصحیح میں بیان کیا ہے۔ پس حدیث صحیح ہے اور تنازع اور اختلاف کی صورت میں حجت ہے والحمدللہ۔ موسیٰ جہنی نے نافع عن ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے اور موسیٰ جہنی ثقہ ہیں ان پر قطان، احمد، یحییٰ اور ان کی جماعت نے اعتماد کیا ہے اور ان کی تعریف کی ہے اور شعبہ، ثوری اور یحییٰ بن سعید نے ان سے روایت کیا ہے اور حکیم بن سیف نے روایت بیان کی ہے حدثنا عبید اللہ بن عمر عن عبد الکریم عن عطاء بن ابی رباح عن جابر بن عبد اللہ ؓ آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری اس مسجد میں ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام کی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے “۔ اور یہ حکیم بن سیف اہل رقہ کے شیخ ہیں ان سے ابوزرعہ رازی نے روایت کیا ہے اور ابن وضاح نے ان سے لیا ہے، اور یہ ان کے نزدیک شیخ صدوق ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ پس اگر تو اس نے یاد کیا تھا تو پھر تو یہ دونوں حدیثیں ہیں ورنہ حبیب المعلم کا قول ہے۔ اور محمد بن وضاح نے روایت بیان کی ہے حدثنا یوسف بن عدی بن عمر بن عبید عن عبد الملک عن عطا عن ابن عمر ؓ آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری اس مسجد کی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے کیونکہ مسجد حرام کی نماز افضل ہے “۔ ابو عمر نے کہا : یہ سارے کا سارا اختلاف کے مقام میں نص ہے اور ہدایت یافتہ آدمی کے لیے قطعی ہے، اور اس کی وجہ سے اس کی عصبیت پر کوئی ملال نہیں آتا۔ ابن حبیب نے مطرف اور اصبغ سے عن ابن وہب ذکر کیا ہے کہ ان دونوں کا نظریہ مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی پر مسجد حرام کی نماز کی ادائیگی کی فضیلت کا تھا۔
امام مالک اور تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیدین کی نماز ہر شہر میں کھلے میدان میں پڑھی جائے گی سوائے مکہ مکرمہ کے وہاں مسجد حرام میں پڑھی جاتی ہے۔ اور حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابو لدرداء اور حضرت جابر ؓ مکہ اور اس کی مساجد کو فضیلت دیتے تھے اور ان کی تقلید بعد والوں کی نسبت زیادہ اولی ہے۔ یہی نقطہ نظر امام شافعی (رح) کا تھا اور یہی عطا، اہل مکہ اور اہل کوفہ کا قول ہے۔ اسی طرح حضرت امام مالک سے بھی مروی ہے۔ ابن وہب نے اپنی جامع میں امام مالک سے ذکر کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا گیا تو آپ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! کیا یہ تیرے نزدیک پسندیدہ ہے کہ اس میں تیری عبادت کی جائے ؟ اللہ نے فرمایا : بلکہ مکہ میں، جب کہ آپ سے اور اہل مدینہ سے مشہور مدینہ کی فضیلت کا قول ہے۔ اہل بصرہ اور بغداد نے اس سلسلے میں اختلاف کیا ہے ایک گروہ نے مکہ کی افضیلت کی بات کی ہے اور ایک جماعت نے مدینہ کی۔
قولہ تعالیٰ : فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم، الافئدۃ، فواد کی جمع ہے اور اس سے مراد دل ہیں اور بعض اوقات قلب کو فواد سے تعبیر کردیا جاتا ہے، جس طرح شاعر نے کہا ہے :
وإن فؤادا قادنی بصبابۃ إلیک علی طول المدی لصبور
اس میں فواد سے مراد دل ہے۔
ایک قول یہ ہے : یہ وفد کی جمع ہے اس کی اصل اوفدہ ہے، فا کو مقدم کیا گیا اور واؤ کو یا سے بدل دیا گیا تو أفئدہ ہوگیا، گویا کہ آپ نے فرمایا : واجعل وفوداً من الناس تھوی إلیہم یعنی وہ ان کی طرف مائل ہوں۔ جب کوئی چیز مائل ہو اور جھکے تو ھوی نحوہ کہا جاتا ہے، اور جب کوئی اونٹنی بہت زیادہ تیز دوڑے تو کہا جاتا ہے۔ ھوت الناقۃ تھوی ھویا فھی ھاویۃ گویا کہ وہ کھلی ہوا میں ہے۔ اور تھوی إلیھم اسی سے ماخوذ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : اگر آپ نے افئدۃ الناس کہا ہوتا تو فارس، روم، ترک اور ہند کے لوگ اسی طرح یہودی، نصرانی اور مجوسی ان کے پاس پہنچ جاتے، لیکن آپ نے افئدۃ من الناس کہا تو وہ صرف مسلمان ہیں۔ تھوی الیھم یعنی وہ ان کے مشتاق ہوجائیں، اور بیت اللہ کی زیارت کے مشتاق ہوجائیں۔ مجاہد نے تھوی الیھم پڑھا ہے یعنی وہ ان کی
طرف مائل ہے اور ان کی تعظیم کرتا ہے۔ وارزقہم من الثمدٰ ت لعلہم یشکرون۔
پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی اور طائف میں ان کے لیے سارے درخت اگا دیئے، اور سارے شہروں کے لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آئے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے جس کا بعض حصہ ہم نے ذکر کیا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی کرنے کے بعد تشر یف لائے تو آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو نہ پایا، آپ کی بیوی سے آپ کے متعلق پوچھا، اس نے کہا : ہمارے لیے کچھ لینے نکلے ہیں، پھر آپ نے ان سے ان کی زندگی ور کیفیت کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا : ہم برائی میں ہیں، ہم تنگی اور سختی میں ہیں، اس نے آپ کے سامنے شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : جب تیرا شوہر آئے تو اسے میرا سلام کہنا اور اسے کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ تبدیل کر، جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) آئے تو گویا آپ کسی چیز سے مانوس ہوئے آپ نے کہا : کیا کوئی تمہارے پاس آیا ہے ؟ بیوی نے کہا : ہاں ہمارے پاس اس طرح کا بوڑھا آپا تھا، اس نے مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھا میں نے اسے بتایا، اس نے مجھ سے ہماری زندگی کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ ہم مشکل اور شدت میں ہیں۔ آپ نے کہا : کیا اس نے کسی چیز کے بارے میں وصیت بھی کی ؟ بیوی نے کہا : اس نے مجھے کہا تھا کہ میں آپ کو سلام دوں اور وہ کہتا تھا : اپنے دروازے کی چوکھٹ تبدیل کرو۔ آپ نے فرمایا : وہ میرا باپ تھا اور اس نے مجھے حکم دیا تجھے جداکردوں سو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا، آپ نے اسے طلاق دے دی اور ایک اور عورت سے شادی کرلی، پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تشریف نہ لائے پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ ان کے پاس آئے تو آپ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو نہ پایا، آپ کی بیوی کے پاس گئے اور آپ کے بارے میں اس سے پوچھا، اس نے کہا : وہ ہمارے لیے کچھ لینے نکلے ہیں۔ آپ نے فرمایا : تم کیسے ہو ؟ اور آپ نے اس سے زندگی اور ان کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا : ہم بھلائی اور خیر سے ہیں اور اس نے اللہ کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا : تمہارا کھانا کیا ہے ؟ اس نے کہا : گوشت۔ آپ نے فرمایا : تمہارا پینا کیا ہے ؟ اس نے کہا : پانی۔ آپ نے کہا : اے اللہ ! ان کے لیے گوشت اور پانی کو مبارک فرما۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اس دن ان کے پاس کوئی دانہ نہیں تھا اگر ہوتا تو آپ اس میں برکت کی دعا بھی کرتے “۔ نبی کریم ﷺ نے کہا : ” مکہ کے علاوہ جس نے بھی ان دونوں (پانی اور گوشت) پر اعتماد کیا یہ اسے موافق نہیں آئے “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم کہنا گویا اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتا تھا کہ لوگ مکہ کو رہائش گاہ بنا لیں، اور یہ حرمت والا گھر ہوجائے، اور یہ سب کچھ قبول ہوا۔ والحمدللہ۔
سب سے پہلے جو آدمی رہائش پذیر ہوا اوہ قبیلہ جرہم کا تھا۔ بخاری میں ہے کہ بیت اللہ زمین سے بلند تھا اور اس طرح تھا جس طرح جھاگ اٹھی ہوئی ہوتی ہے سیلاب آتا تو دائیں بائیں سے اسے کاٹتا چلا جاتا، اسی طرح صورتحال رہی حتی کہ قبیلہ جرہم کا ایک قافلہ اس راستے سے گزرا، وہ مکہ کے زیریں علاقے میں اترے، انہوں نے ایک پرندے کو چکر لگاتے ہوئے دیکھا تو کہا : یہ پرندہ پانی پر چکر لگا رہا ہے، اس وادی میں پانی کی تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایک یا کئی قاصد بھیجے تو وہ پانی تک پہنچ گئے، انہوں نے انہیں پانی کے بارے میں بتایا تو وہ سارے پانی کے پاس آگئے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ماں پانی کے پاس تھیں انہوں نے کہا : کیا آپ ہمیں اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دیں گی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا : ہاں (ٹھیک ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ماں نے اس قبیلے کو پالیا درآنحالیکہ آپ انس کو پسند کرتی تھیں۔ وہ اترے اور اپنے گھر والوں کی طرف پیغام بھیجا وہ بھی ان کے ساتھ رہائش پذیر گئے یہاں تک کہ ان کے کئی گھر بن گئے، بچہ جوان ہوگیا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ماں کا انتقال ہوگیا، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی کے بعد تشریف لائے “ ، الحدیث۔
Ayahs 14:38–41آیت نمبر 38 تا 41
قولہ تعالیٰ : ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن یعنی تجھ پر ہمارے حالات میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مقاتل نے کہا : اسماعیل اور اس کی ماں کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر ان کے متعلق جو میرے جذبات ہیں جن کو میں نے دل میں چھپا رکھا ہے اور جن کو میں نے ظاہر کر رکھا ہے تو سب کو جانتا ہے۔ وما یخفی علی اللہ من شیئ فی الارض ولا فی السمآء ایک قول یہ ہے : یہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) کی گفتگو کا حصہ ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ربنا انک تعلیم ما نخفی وما نعلن کہا تو اللہ تعالیٰ نے وما یخفی علی اللہ من شیئ فی الارض ولا فی السمآء فرمایا : الحمدللہ الذی وھب لی علی الکبر یعنی میرے اور میری بیوی کے بڑھاپے میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر چھیانوے سال تھی اور حضرت اسحاق کی ولادت کے وقت ایک سو بیس سال کی عمر تھی۔ حضرت سیعد بن جبیر نے کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو دس سال کی عمر میں حضرت اسحاق کی بشارت دی گئی۔ ان ربی لسمیع الدعآسء۔
قولہ تعالیٰ : رب اجعلنی مقیم الصلوۃ یعنی اسلام پر ثابت قدم اور اس کے احکام کا التزام کرنے والا بنا ومن ذریتی یعنی میری اولاد کو بھی یہ دونوں کام کرنے والا بنا۔ ربنا وتقبل دعاء، دعآء سے مراد عبادت ہے یعنی میری عبادت کو قبول فرما، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا وقال ربکم ادعونی استھب لکم (غافر : 60) اور تمہارے رب نے فرمایا : میری عبادت کرو میں تمہاری (عبادت کو) قبول کروں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” دعا عبادت کا مغز ہے “۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین۔ ایک قول یہ ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کے لیے تب دعا مانگی جب ابھی آپ کے نزدیک یہ بات ثابت نہیں تھی کہ وہ دونوں اللہ کے دشمن ہیں۔ قشیری نے کہا : یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ آپ کی ماں مسلمان ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اپنے باپ کے استغفار کے بارے میں عذر کو ذکر کیا ہے۔ ماں کے استغفار کے بارے میں عذر کو ذکر نہیں فرمایا۔
میں (قرطبی) نے کہا : اس وجہ سے حضرت سعید بن جبیر کی قراءت ربنا اغفرلی والدی ہے یعنی میرے باپ کو بخش دے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے ان دونوں کے ایمان کی لالچ میں دونوں کیلئے استغفار کیا۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے ان دونوں کے لیے اس شرط کے ساتھ استغفار کیا کہ وہ دونوں اسلام لے آئیں۔ اور ایک قول یہ ہے : والدین سے آپ کی مراد حضرت آدم (علیہ السلام) و حضرت حواء (علیہما السلام) ہیں۔
روایت ہے کہ بندہ جب ربنا اغفرلی ولوالدی کہے اور اس کے والدین حالت کفر میں مرچکے ہوں تو مغفرت کی نسبت حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی طرف ہوجاتی ہے کیونکہ وہ ساری مخلوق کے والدین ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : اس سے مراد آپ کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل و حضرت اسحاق (علیہما السلام) ہیں۔ ابراہیم نخفی، ولولدی پڑھتے تھے یعنی آپ کے دونوں بیٹے، یحییٰ بن یعمر نے بھی اسی طرح پڑھا ہے۔ اس کو ماوردی اور نحاس نے ذکر کیا ہے۔ وللمؤمنین حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان سے مراد امت محمد ﷺ کے مومنین ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : تمام مومنین کے لیے دعا ہے اور یہی زیادہ ظاہر اور مناسب ہے۔ یوم یقوم الحساب یعنی جس دن لوگ حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔
Ayahs 14:42–43آیت نمبر 42 تا 43
قولہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون مشرکین کے افعال اور ان کی دین ابراہیمی کی مخالفت سے نبی کو حیران کرنے کے بعد یہ نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی ہے یعنی صبر کرو جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صبر کیا اور مشرکین کو بتاؤ کو عذاب کی تاخیر کا مطلب ان کی کاروائیوں پر رضا مندی کا اظہار نہیں بلکہ کچھ مدت کے لیے نافرمانوں کو مہلت دینے کی سنت الٰہیہ ہے۔ میمون بن مہران نے کہا : یہ ظالم کے لیے وعید اور مظلوم کے لیے تعزیت و تسلی ہے۔ انما یؤخزھم، ھم ضمیر سے مراد مشرکین مکہ ہیں یعنی وہ انہیں مہلت دیتا ہے اور ان کے عذاب کو مؤخر کرتا ہے۔ عام لوگوں کی قراءت یؤخرھم یاء کے ساتھ ہے اور ابو عبید اور ابو حاتم نے ولا تحسبن اللہ کی وجہ سے اسی کو اختیار کیا ہے۔ حسن اور سلمی نے اسے نؤخرھم نون کے ساتھ تعظیما پڑھا ہے اور ابو عمرو سے بھی یہی مروی ہے۔
لیوم تشخص فیہ الابصار فراء کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس دن میں جو ہولناکی کا وہ مشاہدہ کریں گے اس سے آنکھ بند نہیں کرسکیں گے۔ شخص الرجل بصرہ وشخص البصر نفسہ کہا جاتا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ اس نے دیکھا اس کی ہولناکی سے اس کی نظر اٹھی اور بلند ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : شدت حیرت کے سبب اس دین مخلوق کی آنکھیں ہوا کی طرف کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور وہ بند نہیں کرسکیں گے۔ مھطعین یعنی جلدی جلدی، یہ حضرت حسن، حضرت قتادہ اور حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے، یہ اھطع یھطع إھطاعا سے ماخوذ ہے، یہ تب بولا جاتا ہے جب کوئی جلدی کرے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : مھطعین الی الداع (القمر :8) ہے یہاں مھطعین کا معنی مسرعین ہے۔ شاعر نے کہا :
بدجلۃ دارھم ولقد أراھم بدجلۃ مھطعین إلی السماع
شعر میں بھی مھطعین کا مطلب مسرعین ہے۔
ایک قول کے مطابق المھطع وہ جو خشوع و تذلل سے دیکھتا ہے یعنی آنکھیں اٹھائے بغیر دیکھنے والے۔ یہ حضرت ابن عباس
ؓ کا قول ہے۔ اور مجاہد اور ضحاک نے کہا : مھطعین سے مراد مسلسل دیکھنا ہے۔ نحاس نے کہا : لغت میں معروف یہی ہے کہ أھطاع اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی جلدی کرے۔ ابو عبید نے کہا : بعض اوقات دو صورتیں اکٹھی پائی جاتی ہیں یعنی اسراع مع ادامۃ النظر۔ ابن زیاد نے کہا : المھطع وہ ہے جو اپنے سر کو نہیں اٹھاتا۔ مقنعی رء وسھم یعنی اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے، نیچے دیکھتے ہوئے۔ اقناع الراس سے مراد سر کا اٹھانا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ ابن عرفۃ اور قتبی وغیرہ کا قول ہے : المقنع وہ ہے جو اپنے سر کو اٹھاتا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ ابن عرفۃ اور قتبی وغیرہ کا قول ہے : المتنع وہ ہے جو اپنے سر کو اٹھاتا ہے اور اپنے سامنے دیکھتے ہوئے آتا ہے۔ اسی سے اقناع فی الصلاۃ یعنی نماز میں سر اٹھانا ہے اور اپنے سامنے دیکھنا ہے۔ اور جب کوئی آواز بلند کرے تو أقنع صوتہ کہا جاتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس دن لوگوں کے چہرے آسمان کی طرف ہوں گے کوئی کسی کو نہیں دیکھے گا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد اپنے سروں کو جھکانے والے ہیں۔ مہدوی نے کہا : جب کوئی اپنے سر کو اٹھائے تب اقنع کہا جاتا ہے اور جب کوئی ذلت و خضوع سے اپنے سر کو پست کرے تب بھی أقنع کہا جاتا ہے۔ اور آیت دو احتمال رکھتی ہے، یہ مبرد کا قول ہے جب کہ پہلا قول لغت میں زیادہ معروف ہے۔ ایک رجز کہنے والے نے کہا :
أنفض نحوی رأسبہ وأقنعا کا نما ابصر شیئا أطعما
شعر میں آقنعا سے مر اس سر اٹھانا ہے۔ چماخ نے اونٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا :
یماکرن العضاہ بمقنعات نؤاجذھن کالحد ! الوقیع
یعنی اپنے سروں کو درختوں کی طرف اٹھاتے ہیں تاکہ انہیں کھائیں۔
تو اس میں بھی سر کو اٹھانا ہی مراد ہے۔ اسی سے اوڑھنی کو مقنعۃ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بلند ہوتی ہے۔ اور اسی سے قنع الرجل ہے یعنی وہ خوش ہوا، یعنی اس نے سوال کرنے سے سر اٹھا لیا۔ اور جب آدمی سوال کرے تو قنع کہا جاتا ہے یعنی وہ بتکلف قناعت کرتا ہوا آیا، یہ نحاس سے منقول ہے۔ اور فم مقنع یعنی اس کے دانت اندر کی طرف مڑے ہوئے ہیں۔ اور رجل مقنع شد کے ساتھ اس سے مراد وہ آدمی ہے جس نے سر پر خود پہنا ہو اہو، یہ جوہری کا قول ہے، لا یرتد الیھم طرفھم یعنی شدت نظر سے ان کی پلکیں نہیں جھپکتی ہوں گی پس یہ نظر کا کھلا رہنا ہے۔ جب ایک پلک دوسری کے ساتھ مل جائے تو طرف الرجل یطرف یطرف طرفا کہا جاتا ہے۔ نظر کو طرف کہا گیا کیونکہ نظر صرف ہی سے ہوتی ہے۔ اور طرف سے مراد آنکھ ہے۔ عشرہ نے کہا :
وأغض طرفی ما بدث لی جارتی حتی یواری جارتی مأواھا
شعر میں طرفی سے مراد میری آنکھ ہے۔ جمیل نے کہا :
وأقصر طرفی دون جمل کر امۃ لجمل وللطرف الذی انا قاصرہ
اس میں بھی طرفی سے مراد میری آنکھ ہے۔
وافدتھم ھوآء یعنی شدت خوف سے وہ کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مرا دیہ ہے کہ وہ ہر قسم کی خیر اور بھلائی سے خالی ہوں گے۔ سدی نے کہا : ان کے دل ان کے سینوں سے نکلیں گے اور ان کے حلقوں میں پیوست ہوجائیں گے۔ مجاہد، مرہ اور ابن زید نے کہا : بےآباد، برباد اور پھٹے ہوئے جن میں نہ کوئی بھلائی ہوگی اور نہ عقل، جس طرح کہ آپ اس گھر کے بارے میں انما ھو ھواء کہتے ہیں جس میں کچھ بھی نہ ہو، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اور لغت میں ھواء سے کہتے ہیں جو کھوکھلا اور خالی ہو، اسی سے حضرت حسان ؓ کا ارشاد ہے :
ألا أبدغ أبا سفیان عنی فأنت مجوف بخب ھواء
خبردار ابو سفیان کو میری جانب سے پہنچا دو کہ کھوکھلا، بزدل اور خالی ہے۔ زہیر نے چھوٹے سر والی اونٹنی کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا :
کأن الرجل منھا فوق صعل من الظلمان جو جو ءہ ھواء
جو جوءہ ھواء یعنی جس کا اگلا حصہ ہوا ہے۔ مراد یہ ہے کہ فارغ یعنی خالی ہے۔
قرآن مجید میں اصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا (القصص :10) ہے یعنی سوائے غم موسیٰ کے ہر چیز سے فارغ۔ ایک قول کے مطابق : کلام میں اضمار ہے، یعنی ذات ھواء وخلاء۔
Ayah 14:44آیت نمبر 44
قولہ تعالیٰ : وانذر الناس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل مکہ مراد ہیں۔ یوم یاتیھم العذاب وہ قیامت کا دن ہوگا، یعنی انہیں اس دن سے ڈرائیے۔ انہیں صرف عذاب کے دن کے ساتھ مخصوص فرمایا حالانکہ وہ ثواب کا دن بھی ہوگا کیونکہ کلام گناہگار اور نافرمان کے لیے دھمکی اور تہدید کے طور پر ہے۔ فیقول الذین ظلموا یعنی اس دن کہیں گے ربنا اخرنا یعنی ہمیں مہلت دے۔ انی اجل قریب جب آخرت میں حق ظاہر ہوگا تو وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں لوٹنے کا سوال کریں گے۔ نجب دعوتک یعنی تیری دعوت اسلام پر لبیک کہیں گے۔ ونتبع الرسل اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے، تو انہیں جواب دیا جائے گا اولم تکونوا اقسمتم من قبل، من قبل سے رماد دار دنیا ہے۔
مالکم من زوال مجاہد نے کہا : یہ قریش کی قسم تھی کہ انہیں مرنے کے بعد نہیں اٹھایا جائے گا۔ ابن جریج نے کہا : یہ ان کے اس قول کی حکایت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ واقسموا باللہ جھد ایمانھم، لا یبعث اللہ من یموت (النحل : 38) اور انہوں نے پختہ قسم اٹھائی اللہ کی کہ جو مرجائے گا اللہ اسے دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ مالکم من زوال کے بارے میں دو تاویلیں ہیں : ایک تاویل یہ ہے کہ تمہیں دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہی نہیں ہونا، یعنی یہ تمہیں دوبارہ اٹھنا ہے اور نہ ہی تمہارا حشر ہوگا، یہ مجاہد کا قول ہے، اور دوسری تاویل یہ ہے کہ ما لکم من زوال سے مراد مالکم من العذاب ہے یعنی تمہارے لیے عذاب ہے ہی نہیں۔ بیہقی نے محمد بن کعب قرظی سے ذکر کیا اس نے کہا : دوزخیوں کی پانچ گزارشات ہوں گی اللہ تعالیٰ انہیں چار کا جواب ارشاد فرمائے گا اور جب
پانچویں گزارش تک پہنچیں گے تو اسکے بعد وہ کبھی بھی کلام نہیں کریں گے۔
وہ کہیں گے : ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین فاعترفنا بذنوبنا فھل الی خروج من سبیل۔ (غافر) اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا پس اب ہم اعتراف کرتے ہیں اپنے گناہوں کا سو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب ارشاد فرمائے گا : ذلکم بانہ اذادعی اللہ وحدہ کفرتم، وان یشرک بہ تومنوا، فالحکم للہ العلی الکبیر۔ (غافر) اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پکارا جاتا اللہ تعالیٰ کو اکیلا تو تم انکار کردیتے اور اگر شریک بنایا جاتا کسی کو اس کا تو تم مان لیتے پس حکم کا اختیار اللہ کے لیے ہے جو برتر اور بزرگ ہے۔
پھر کہیں گے : ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون۔ (السجدہ) اے ہمارے رب ! ہم نے (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیا اور (کانوں سے) سن لیا پس (ایک بار) بھیج ہمیں (دنیا میں) اب ہم نیک عمل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب ارشاد فرمائے گا : فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا، انا نسینکم وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعلمون۔ (السجدہ) پس اب چکھو سزا اس جرم کی کہ تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس روز کی ملاقات کو، ہم نے تم کو نظر انداز کردیا اور چکھو ابدی عذاب ان (کرتوتوں) کے عوض جو تم کیا کرتے تھے۔ پھر وہ کہیں گے : ربنا اخرنا الی اجل قریب، نجب دعوتک ونتبع الرسل اے ہمارے رب ! ہمیں مہلت دے تھوڑی دیر کیلئے ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور ہم رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ جواب ارشاد فرمائے گا : اولم تکونوا اقسمتم من قبل ما لکم من زوال (اے کافرو ! ) کیا تم قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے اس سے پہلے کہ تمہیں یہاں سے کہیں نہیں جانا ہے۔
وہ کہیں گے : ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل (فاطر :37) اے ہمارے رب ! (ایک بار) ہمیں یہاں سے نکال، ہم بڑے نیک کام کریں گے ایسے نہیں جیسے ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب ارشاد فرمائے گا : اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکرو جآء کم النذیر فذوقوا فما للظلمین من نصیر۔ (فاطر) کیا ہم نے تمہیں اتنی لمبی عمر نہیں دی تھی جس میں (بآسانی) نصیحت قبول کرسکتا جو نصیحت قبول کرنا چاہتا اور تشریف لے آیا تمہارے پاس ڈرانے والا (تم نے اس کی بات نہ مانی) پس اب (اپنے کیے کا) مزہ چکھو ظالموں کے لیے کوئی مدد کار نہیں۔ وہ کہیں گے : ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوما ضآلین۔ (المومنون) اے ہمارے رب ! غالب آگئی تھی ہم پر ہماری بدبختی اور ہم گم کردہ راہ لوگ تھے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب ارشاد فرمائے گا : اخسئوا فیھا ولا تکلمون۔ (المومنون) پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اس میں اور مت بولو میرے ساتھ۔ تو اس کے بعد وہ کبھی بھی کلام اور گفتگو نہیں کریں گے۔ ابن مبارک نے اسے اپنے دقائق میں اس سے بہت زیادہ طویل انداز میں تخریج کیا ہے اور ہم (قرطبی) نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں لکھا ہے۔ حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم وتبین لکم کیف فعلنا بھم وضربنا لکم الامثال۔ وقد مکروا مکرھم وعند اللہ مکرھم وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال۔ اور تم آباد تھے ان لوگوں کے (متروکہ) گھروں میں جنہوں نے ظلم کیے تھے اپنے آپ پر اور یہ بات تم پر خوب واضح ہوچکی تھی کہ کیسا برتاؤ کیا تھا ہم نے ان کے ساتھ اور ہم نے بھی بیان کی تھیں تمہارے لیے (طرح طرح کی) مثالیں اور انہوں نے اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مکر کا توڑ تھا اگرچہ ان کی چالیں اتنی زبردست تھیں کہ ان سے پہاڑ اکھڑ جاتے تھے۔ واری نے کہا : یہ تیسرا جواب ہوگا۔ اور حدیث کا ذکر کرنے کے بعد اللہ کے ارشاد اخسئوا فیہا ولا تکلمون۔ (المومنون) کے بعد یہ اضافہ کیا ہے کہ اس وقت ان کی دعا اور امید ختم ہوجائے گی اور وہ ایک دوسرے کی طرف اس طرح متوجہ ہوں گے کہ ایک دوسرے کو کتے کی طرح بھونک رہے ہوں گے۔ راوی نے کہا : مجھے ازہر بن ابی ازہر نے بیان کیا ہے کہ اس نے ذکر کیا کہ یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ھذا یوم لا ینطقون۔ ولا یؤذن لھم فیعتذرون۔ (المرسلات)
Ayah 14:45آیت نمبر 45 تا 46
قولہ تعالیٰ : وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم وتبین لکم کیف فعلنا بھم وضربنا لکم الامثال یعنی قوم ثمود اور اس جیسی دیگر قوموں کے شہروں میں تم نے ان کے گھروں سے کیوں عبرت حاصل نہیں کی، حالانکہ تم پر واضح ہوچکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تمہارے لیے قرآن میں طرح طرح کی مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی نے ونبین لکم نون اور جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں صبغہ مستقبل کا ہے جب کہ معنی ماضی کا اور دوسری وجہ یہ ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کیف فعلنا بھم کے مناسب و مطابق ہوجائے جب کہ جماعت کی قراءت وتبین ہے اور یہ معنی اس میں اس کی مثل ہے، کیونکہ یہ بھی ان پر اللہ ہی کے واضح کرنے سے واضح ہوئی۔
قولہ تعالیٰ : وقد مکروا مکرھم حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور رسولوں کی تکذیب اور دشمنی جیسی چالبازیاں انہوں نے کیں، وعند اللہ مکرھم، وان کان مکرھم لتذول منہ الجبال، ان بمعنی ما ہے یعنی ان کا مکر ضعف اور کمزوری کی وجہ سے ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہاڑ اکھڑ جاتے۔ قرآن مجید میں پانچ مقامات پر ان بمعنی ما استعمال ہوا ہے۔ ایک اس مقام پر، دوسرا فان کنت فی شک مما انزلنا الیک (یونس : 94) تیسرا، لو اردنا ان نتخذ لھوا لا تخذنہ من لدنا، ان کنا (انبیاء :17) یعنی ما کنا۔ چوتھا، قل ان کان للرحمن ولد (الزخرف :81) پانچواں، ولقد مکنھم فیما ان مکنکم فیہ (الاحقاف : 26) جماعت نے ان کان نون کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ عمرو بن علی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابی نے وان کا د دال کے ساتھ پڑھا ہے اور عام لوگوں نے لتزول میں لام جحود ہونے کی وجہ سے اسے مکسور پڑھا اور نصب کی وجہ سے دوسری لام کو مفتوح پڑھا۔
اور ابن محیصن، ابن جریج اور کسائی نے لتزول لام ابتدائی ہونے کی وجہ سے پہلی لام کو مفتوح پڑھا اور دوسری کو مرفوع پڑھا ہے۔ اور ان کو مخففہ من مثقلہ بنایا ہے، اور اس قراءت کی صورت میں ان کے مکر کو بڑا سمجھنا مقصود ہے، یعنی ان کا فریب بہت بڑا تھا حتی کہ قریب تھا کہ اس سے پہاڑ اکھڑ جائیں۔ طبری نے کہا : مختار پہلی قراءت ہے، کیونکہ اگر پہاڑ زائل ہوجاتے تو وہ ثابت تو پھر نہ تھے۔ ابوبکر انباری نے کہا : اس حدیث میں مسلمانوں کے مصحف کے خلاف کوئی حجت نہیں جو ہمیں احمد بن حسین نے بیان کی ہے : حدثنا عثمان بن ابی شبیۃ حدثنا وکیع بن الجراح عن اسرائیل عن ابی اسحاق عن عبد الرحمن بن دانیل انہوں نے کہا میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے : جابر لوگوں میں سے ایک جابر نے کہا میں تب تک نہیں رکوں گا جب تک یہ معلوم نہیں کرلیتا کہ آسمان میں کون ہے ؟ تو اس نے گدھوں کے بچے پالے اور گوشت پکانے کا حکم دیا یہاں تک یہ وہ سخت اور مضبوط ہوجائے۔ پھر اس نے ایک ایسا تابوت بنانے کا حکم دیا جس میں دا آدمیوں کی گنجائش ہو اور اس کو لمبی لکڑیاں لگانے کا حکم دیا جس کے سروں پر سخت سرخ رنگ کا گوشت لگایا جائے۔ اور میخوں کے ذریعے گدھوں کی ٹانگوں کے ساتھ اسے لے کر اڑے۔ جب گدھوں نے گوشت کو دیکھا تو اس کی طلب میں تابوت کو اوپر اڑاتے گئے حتی کہ وہ وہاں تک پہنچ گئے جہاں اللہ نے چاہا۔ اس جابر نے اپنے دوست کو کہا : دروازہ کھول اور دیکھ تجھے کیا نظر آتا ہے ؟ اس نے کہا : میں پہاڑوں کو یوں دیکھ رہا ہوں کہ وہ مکھیاں ہیں، اس نے کہا : دروازہ بند کر۔ پھر وہ گدھ تابوت کو لے کر وہاں تک چڑھے جہاں تک اللہ نے چاہا کہ وہ چڑھیں۔ تو جابر نے اپنے دوست کو کہا : دروازہ کھول اور دیکھر تجھے کیا نظر آتا ہے۔ اس نے کہا : اب تو مجھے آسمان نظر آرہا ہے اور یہ ہم سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اس نے کہا : لکڑی کو توڑ دے اس نے اسے توڑ دیا، گدھیں گر گئیں۔ جب تابوت زمین پر گرا تو بہت بلند اور سخت آواز سنی گئی قریب تھا کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جاتے۔ راوی نے کہا : میں نے حضرت علی ؓ کو وان کان مکرھم لتزول پہلے لام کے فتحہ اور دوسرے لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے بھی سنا ہے۔ ثعلبی نے اس خبر کو اپنے معنی کے ساتھ روایت کیا ہے اور جابر سے مراد نمرود تھا جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا۔
عکرمہ نے کہا : اس کے ساتھ تابوت میں ایک بغیر داڑھی کے لڑکا تھا، اس نے ایک کمان اور تیر اٹھایا ہوا تھا تو اس نے تیر پھینکا وہ خون کے ساتھ لت پت اس کے پاس واپس لوٹا۔ اس نے کہا : اے آسمان کے خدا ! میں نے تیرا کام تمام کردیا۔ عکرمہ نے کہا : آسمان کی مچھلی کے خون سے تیر خون آلود ہوا جس مچھلی نے اپنے آپ کو سمندر سے ہوا میں پھینکا اور ہوا میں معلق ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ایک پرندہ تھا جسے تیر لگا پھر نمرود نے اپنے ساتھی کو کہا کہ لکڑی توڑ دے اور گوشت کو نیچے گرا دے، تو گدھیں تابوت سمیت گر گئیں۔ پہاڑوں نے تابوت اور گدھوں کے گرنے کی آواز سنی تو گھبرا گئے۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ آسمان میں کوئی واقعہ پیش آگیا ہے اور قیامت قائم ہوگئی ہے، پس یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وان کان مکرھم لتذول منہ الجبال ہے۔
قشیری نے کہا : یہ واقعہ پہاڑوں میں زندگی کی تخلیق کی تقدیر کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے۔ مارودی نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ نمرود بن کنعان نے کوفہ کے گردو نواح میں رس نامی بستی میں ایک محل بنایا اس نے اس کی لمبائی پانچ ہزار پچاس ذراع اور چوڑائی تین ہزار پچیس ذراع بنائی، اس سے گدھوں کے ساتھ وہ اوپر چڑھا، جب اسے معلوم ہوا کہ آسمان میں اس کے لیے کوئی راستہ نہیں تو اس نے اسے قلعہ بنالیا اور اسمیں گھروالوں اور بیٹوں کو جمع کیا تاکہ وہ اس میں ان کی حفاظت کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کی عمارت اور محل کو بنیادوں سمیت اٹھایا، وہ محل ان پر گر پڑا اور وہ سارے ہلاک ہوگئے، وقد مکروا مکرھم کا یہی معنی ہے اور ان کے مکرو فریب کی وجہ سے جن پہاڑوں کا زوال مراد لیا گیا ہے اس کی دو صورتیں ہیں۔
پہلی صورت تو یہ ہے کہ وہ زمین کے پہاڑ ہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے مراد اسلام اور قرآن ہے، کیونکہ یہ اپنے ثبوت اور رسوخ میں پہاڑوں کی طرح ہیں۔ قشیری نے کہا : وعند اللہ مکرھم سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے فریب کو جانتا ہے۔ پس وہ انہیں اس کی سزا دے گا، یا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے مکر کی جزا ہے یعنی عند اللہ جزاء مکرھم تو جزا جو کہ مضاف ہے اسے حذف کردیا گیا۔ وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال، لتزول کی پہلی لام کے کسرہ کے ساتھ، یعنی ان کا مکر کوئی ایسا مکر نہیں کہ جس کا اللہ کے ہاں کوئی اثر ہو اور جس سے کوئی خطرہ ہو، اور پہاڑ نبی کریم ﷺ کے امر کی ضرب المثل ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : وان کان مکرھم، فی تقدیریھم، لتذول منہ الجبال یعنی اگرچہ ان کا مکر ان کے اندازے میں ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ اکھڑ جاتے اور اسلام کو باطل قرار دینے میں موثر تھا۔ اور اس کو لتزول منہ الجبال پہلی لام کے فتحہ اور دوسری کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی وہ بہت بڑا مکر تھا اس سے پہاڑ اکھڑ جاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت فرمائی۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ومکروا مکرا کبارا۔ (نوح) کی طرح ہے اور پہاڑ نہیں اکھڑتے یہ کسی چیز کے بڑا ہونے سے عبارت ہے، اور ایسا ہوتا رہتا ہے۔
Ayahs 14:46–47آیت نمبر 47
قولہ تعالیٰ : فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ اللہ تعالیٰ کا اسم جلالت اور مخلف تحسبن کے مفعول ہیں۔ اور رسلہ، وعدہ کا مفعول ہے اسمیں ایسا ہونے کی وسعت ہے اور اس کا معنی وعدہ رسلہ ہے۔ شاعر نے کہا :
تری الثور فیھا مدخل الظلل رأسہ وسائرہ بادإلی الشمس أجمع
اس میں مدخل الظلل رأسہ کا معنی ہے، مدخلا لرأسہ فی ظل کتابہ۔ قتبی نے کہا : یہ اس مقدم میں سے ہے جس کا مؤخر اس کی وضاحت کرتا ہے اور اس مؤخر میں سے ہے جس کا مقدم اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لہٰذا مخلف وعدہ رسلہ اور مخلف رسلہ وعدہ دونوں برابر ہیں۔ ان اللہ عزیز ذوانتقام یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے المنتقم بھی ہے یعنی انتقام لینے والا اور ہم نے اسے ” الکتاب الاسنی فی شرح اسماء الحسنی “ میں بیان کردیا ہے۔
Ayahs 14:48–52آیت نمبر 48 تا 52
قولہ تعالیٰ : یوم تبدل الارض غیر الارض یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن زمین کو تبدیل کردیا جائے گا، لہٰذا یوم ما قبل کے متعلق ہوگا۔ یعنی اذکر کے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ یوم یقوم الحساب کی صفت ہے۔ زمین کی تبدیلی کی کیفیت میں اختلاف ہے، بہت سارے لوگوں نے کہا کہ زمین کی تبدیلی اس کی صفات کی تبدیلی، اس کے ٹیلوں کی برابری، اس کے پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اس کی زمین کی لمبائی سے عبارت ہے۔ اس کو حضرت ابن مسعود ؓ نے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا ہے اور ابن مبارک نے اسے شہر بن حوشب کی حدیث سے ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے آپ نے فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو سطح زمین کو لمبا کردیا جائے گا اور اس کی وسعت میں اتنا اتنا اضافہ کردیا جائے گا۔ اور انہوں نے حدیث کا ذکر کیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” زمین کو دوسری قسم کی زمین سے بدل دیا جائے گا پس وہ اسے پھیلائے گا اور اوہ اسے عکاطی سطح زمین کی صورت میں لمبا کرے گا تو اس میں نہ کوئی ٹیڑھا پن دیکھے گا اور نہ ہی کوئی اونچا مقام دیکھے گا پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کو سخت جھڑکے گا تو لوگ دوسری زمین میں اپنی انہی جگہوں میں پہنچ جائیں گے جن جگہوں میں پہلی زمین میں تھے۔ جو زمین کے اندر تھا وہ اندر ہی ہوگا اور جو زمین کے اوپر تھا وہ اوپر ہی ہوگا “۔ اس کو غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ اور آسمان کی تبدیلی اس کے سورج اور چاند کی روشنی کا خاتمہ اور اس کے ستاروں کے بکھر جانے کے ساتھ ہوگی، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
اور ایک قول یہ ہے : اس کے احوال مختلف ہونے کے ساتھ اس میں تبدیلی ہوگی ایک دفعہ چاندی کی طرح اور دوسری دفعہ ادھوڑی کی طرح، اس کو ابن انباری نے حکایت کیا ہے۔ ہم (قرطبی) نے اس باب کو کتاب ” التذکرہ “ میں تفصیلی طور پر بیان کردیا ہے اور علماء کے جملہ اقوال ہم نے اس میں ذکر کردیے ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ اس زمین کا ازالہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ارشادات کے مطابق ہوگا۔
امام مسلم نے حضرت ثوبان جو کہ رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے ان سے روایت کیا ہے حضرت ثوبان ؓ نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا کہ یہودی علماء میں سے ایک عالم آپ کے پاس آیا اس نے کہا : السلام علیکم پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس میں یہ بھی ہے کہ یہودی نے کہا : جس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمان کو دوسرے آسمان سے بدل دیا جائے گا اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” پل کے پیچھے تاریکی میں ہوں گے “۔ اور پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت نقل کی آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت کے متعلق پوچھا گیا کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” پل صراط پر “۔ ابن ماجہ نے اسے مسلم کی اسناد سے ذکر کیا ہے اور ترمذی حضرت عائشہ ؓ سے اس کی تخریج کی اور آپ ہی سوال کرنے والی تھیں۔ ترمذی نے کہا : ہذا حدیث حسن صحیح۔ یہ احادیث اس بات پر نص ہیں کہ آسمان اور زمین تبدیل ہوں گے، زائل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ دوسری زمین پیدا فرمائے گا پل پر ٹھہرنے کے بعد اس زمین پر لوگ ہوں گے۔
صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن لوگ سفید مٹیالی زمین پر جمع ہوں گے جیسے صاف آٹے کی روٹی ہوتی ہے۔ اس میں کسی کے لیے کوئی نشانی نہیں ہوگی “۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا : میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد یوم تبدل الارض غیر الارض کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا : اس کو روٹی کے ساتھ بدل دیا جائے گا قیامت کے دن لوگ اسی سے کھائیں گے۔ پھر انہوں نے وما جعلنھم جسدا لا یاکلون الطعامہ (الانبیاء :8) کا ارشاد پڑھا۔
حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا : اس کو ایک اور چاندی کی طرح سفید زمین کے ساتھ بدلا جائے گا جس پر کوئی غلطی نہیں ہوئی ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سفید چاندی کی زمین سے اسے تبدیل کیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اس دن زمین کو چاندی سے اور آسمان کو سونے سے بدلا جائے گا اور یہ عین اور ذات کی تبدیلی ہوگی۔ وبرزوا للہ الواحد القھار یعنی وہ اپنی قبروں سے ظاہر ہوں گے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔
وتری المجرمین، مجرمین سے مراد مشرکین ہیں۔ یومئذ یعنی قیامت کے دن۔ مقرنین یعنی باندھے ہوئے۔ فی الاصفاد یہ طوق اور بیڑیاں ہیں، اس کا واحد صفد اور صفد ہے اور صورتہ صفدا کہا جاتا ہے یعنی میں نے اسے قید کیا اور الصفد اسم ہے اور جب آپ کثرت کا ارادہ کریں تو صفدتہ تصفیدا کہیں گے۔ عمرو بن کلثوم نے کہا :
فآبوا بالنھاب والسبایا وأبنا بالملوک مصفدینا
مصفدینا سے مراد مقید ینا ہے۔ حضرت حسان ؓ نے کہا :
من کل مأسور یشد صفادہ صقر إذا لاقی الکریمۃ حام
صغادہ سے مراد غلہ یعنی اس کی ہتھکڑی ہے۔ اور أصفدتہ إصفادا سے مراد ہے کہ میں نے اسے عطا کیا۔ اور ایک قول یہ ہے : صفدتہ اور أصفدتہ قید اور عطا کرنے دونوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ نابغہ نے کہا :
فلم اعرض أبیت اللعن بالصفد
الصفد سے مراد عطا ہے کیونکہ یہ اسے قید کرتا ہے اور غلام بناتا ہے۔ ابو الطیب متنبی نے کہا :
وقیدت نفسی فی ذراک محبۃ ومن وجد الإحسان قیدا تقیدا
میں نے اپنے آپ کو محبت سے تیرے پاس قید کردیا ہے اور جس نے احسان کو قید پایا وہ قید ہوگیا۔ (تو اس سے معلوم ہوا کہ عطا اور احسان بھی قید ہے)
اور ایک قول یہ ہے کہ ہر کافر کو شیطان کے ساتھ جکڑا جائے گا، اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے ارشاد احشرو الذین ظلموا و ازواجہم (الصافات : 22) میں ہے۔ ازواجہم سے شیطانوں میں سے جو ان کے دوست ہیں وہ مراد ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے ان سے مرادکفار ہیں وہ بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں اکٹھے ہوں گے جس طرح دنیا میں وہ گناہوں پر جمع ہوتے ہیں۔ سرابیلھم من قطران، سرابیلھم سے مراد ان کی قمیصیں ہے۔ ابن درید وغیرہ سے منقول ہے کہ اسکا واحد سر بال ہے اور فعل سربلت اور سربلت غیری آتا ہے، کعب بن مالک نے کہا :
تلقاکم عصب حول النبی لھم من نسبح داود فی الھیجا سرابیل
من قطران اس سے مراد اونٹوں کا وہ سیال ہے جس کو اونٹوں پر ملا جاتا ہے (تارکول) یہ حضرت حسن کا قول ہے۔ اور یہ ان میں آگ کے بھڑکنے کے لیے زیادہ بلیغ ہے اور صحیح میں ہے کہ نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنے مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں کھڑی ہوگی کہ اس پر تارکول کی قمیص اور آگ کی اوڑھنی ہوگی۔
حماد سے مروی ہے کہ عربوں نے کہا کہ یہ تانبا ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے قطران قاف کے فتحہ اور طا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس میں ایک تیسری قراءت بھی ہے، وہ ہے قاف کے کسرہ اور طا کی جزم کے ساتھ۔ اسی سے ابو النجم کا یہ شعر ہے :
جون کان العرق المنتوحا لبسہ القطران والمسوحا
اس میں القطران اسی تیسری قراءت کے مطابق ہے۔ اور چوتھی قراءت من قطران حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر اور یعقوب سے مروی ہے : القطر سے مراد تانبا اور پگھلا ہوا پیتل ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد أتونی أفرغ علیہ قطرا ہے اور ” ان “ انتہائی گرم، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد وبین حمیم ان (الرحمن :44) ہے۔ وتغشی یعنی وہ مارے گی۔ وجوھھم النار اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت، ما کسبت سے مراد بما کسبت ہے۔ ان اللہ سریع الحساب پہلے گزر چکا ہے۔
ھذا بلغ للناس یعنی یہ جو ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے یہ پیغام ہے۔ ابلاغ سے مراد تبلیغ اور نصیحت ہے۔ ولینذروابہ یعنی تاکہ آپ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے انہیں ڈرائیں۔ اس کو ولینذروا یا اور ذال کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ جب آپ کسی چیز کے متعلق جان لیں اور اس کی تیاری کرنے لگیں تو نذرت بالشئ انذر کہا جاتا ہے۔
جس طرح عسیٰ اور لیس کا مصدر استعمال نہیں ہوتا اسی طرح اس کا مصدر بھی استعمال نہیں ہوتا، گویا کہ وہ ان اور فعل کے ذریعے اس مصدر سے مستغنی ہوگئے جیسے آپ کا قول : سرنی ان نذرت بالشئ ولیعلموا انما ھو إلہ واحد یعنی تاکہ دلائل وبراہین کے قائم ہونے کے ذریعے وہ اللہ کی وحدانیت کو خوب جان لیں۔ ولیذکر اولوا الالباب یعنی تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔ لینذروا، لیعلموا اور لیذکر میں موجود لا میں محذوف کے متعلق ہوں گی، تقدیر عبارت ہوگی : ولذلک انزلناہ یمان بن رئاب نے روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ کی کتاب کا کوئی عنوان بھی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : کہا گیا : وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ھذا بلغ للناس ولینذروا بہ آخر تک۔ سورة ابراہیم (علیہ السلام) مکمل ہوئی۔ والحمدللہ۔