Ayahs 14:21–22آیت نمبر 21 تا 22
وبرزوا للہ جمیعا یعنی قیامت کے دن اپنی قبروں سے ظاہر ہوں گے۔ البروز کا معنی ظہور ہوتا ہے۔ اور براز کھلی جگہ کو کہتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر ہوتی ہے، اسی سے لوگوں کے سامنے آنے والی عورت کو امرأۃ برزۃ کہا جاتا ہے۔ برزوا کا معنی ہوگا کہ وہ اپنی قبروں سے ظاہر ہوئے۔ فعل ماضی ہے مگر معنی مضارع کا ہے اور وخاب کل جبار عنید۔ کے ساتھ یہ متصل ہے، یعنی جب رسولوں نے فتح کی التجا کی تو قریب ہے کہ وہ انہیں ہلاک کردے گا، پھر روز حشر اٹھائے گا اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوں گے، کوئی چھپانے والا انہیں اللہ سے نہیں چھپا سکے گا۔ للہ یعنی اللہ تعالیٰ کے انہیں ظاہر کرنے کے حکم کی وجہ سے فقال الضعفؤا ضعفاء سے پیروکار مراد ہیں۔ للذین استکبروا ان سے مراد قیادت کرنے والے ہیں۔ انا کنا لکم تبعا، متبع مصدر بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں تقدیر عبارت ذوی تبع ہوگا۔ اور یہ تابع کی جمع بھی ہوسکتی ہے جیسے حارس اور حرس، خادم اور خدم، راصد اور رصد اور باقر اور بقر۔ فھل انتم مغنون عنا یعنی ہمیں دور کرسکتے ہو۔
من عذاب اللہ من شیء یعنی شیئا اور من صلہ ہے جب کوئی آدمی کسی سے اذیت کو دور کرے تو اغنی عنہ کہا جاتا ہے اور جب کوئی کسی تک نفع پہنچا دے تو أغناہ کہا جاتا ہے۔ قالوا لو ھدنا اللہ لھدینکم یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی ہدایت دیتا تو ہم بھی اس کی طرف رہنمائی کرتے۔ ایک قول یہ ہے : اگر اللہ تعالیٰ جنت کے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا تو ہم اس کی طرف تمہاری رہنمائی کرتے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اللہ ہمیں عذاب سے نجات دیتا تو ہم اس سے تمہیں نجات دلاتے۔ سوآء علینا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر اجزعنا ہے یعنی سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص، محیص سے مراد بھاگنے کی جگہ اور پناہ گاہ ہے۔ یہ مصدر کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور امم کے معنی میں بھی۔ جب کوئی فرار ہوجائے اور بھاگ جائے تو حاص فلان عن کذا کہا جاتا ہے۔ یہ حاص یحیص حیصا وحیوصا وحیصانا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ہمارے سامنے کوئی ایسی صورت نہیں جس کے ذریعے ہم دوزخ سے دور ہوجائیں۔
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” دوزخیوں پر جب عذاب کی شدت ہوگی تو وہ کہیں گے کہ آؤ ہم صبر کریں تو پانچ سو سال وہ صبر کریں گے جب وہ دیکھیں گے صبر نے تو انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا تو کہیں گے آؤ ہم جزع فزع کریں تو پانچ سو سال تک وہ جزع و فزع اور چیخ و پکار کریں گے، جب دیکھیں گے کہ اس نے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا تو اس وقت کہیں گے : سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص یکساں ہے ہمارے لیے خواہ ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے لیے (آج) کوئی راہ فرار نہیں۔
محمد بن کعب قرظی نے کہا : ہمیں بتایا گیا ہے کہ دوزخی ایک دوسرے کو کہیں گے : اے وہ لوگو ! اللہ نے تم پر عذاب اور مصیبت نازل کی ہے جس کو تم ملاحظہ کر رہے ہو آؤ ہم صبر کریں، شاید صبر ہمیں فائدہ دے جس طرح اہل طاعت نے اللہ کی اطاعت پر صبر کی اتو صبر نے انہیں نفع دیا، تو تمام دوزخیوں کا صبر پر اتفاق ہوجائے گا سو انہوں نے صبر کیا، تو ان کا سبر لمبا ہوگیا تو انہوں نے جزع فزع کی، پھر پکارے : سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا من محیص تو اس وقت شیطان اٹھے گا کہے گا : ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم، وما کان لی علیکم من شلطن الا ان دعوتکم فاستجبتم لی، فلا تلومونی ولوموا انفسکم، وما انا بمصرخکم وہ کہے گا : میں تمہیں کسی چیز سے نہیں بچا سکتا۔ وما انتم بمصرخی، انی کفرت بما شرکتمون من قبل۔ یہ طویل حدیث ہے جس کو مکمل طور پر ہم (قرطبی) نے کتاب التذکرہ میں لکھ دیا ہے۔ وقال الشیطن لما قضی الامر حضرت حسن نے کہا : قیامت کے روز شیطان آگ کے منبر پر جہنم میں خطاب کرتا ہوا کھڑا ہوگا جس کو ساری مخلوق سنے گی۔ اور لما قضی الامر کا معنی یہ ہے کہ جنتیوں کو جنت حاصل ہوجائے گی اور دوزخیوں کو دوزخ جس طرح کہ سورة مریم میں اس کا بیان آئے گا۔ ان اللہ وعدکم وعد الحق اس سے مراد بعث بعد الموت، جنت، دوزخ، اطاعت گزار کا ثواب اور نافرمانی کی سزا کا وعدہ ہے پس اس نے اپنے وعدے کو تمہارے سامنے سچ کر دکھایا ہے، اور میں نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا کہ بعث بعد الموت نہیں ہوگا، نہ جنت ہوگی، نہ دوزخ، نہ ثواب اور نہ عقاب ہوگا سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی۔
ابن مبارک نے حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث شفاعت کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے کہ تمہاری رہنمائی نبی امی کی طرف کرتا ہوں۔ پس لوگ میرے پاس آئیں گے اللہ تعالیٰ مجھے اذن فرمائے گا اور میں کھڑا ہوں گا اور میری مجلس سے ایسی خوشبو پھیلے گی جسے آج تک کسی نے نہ سونگھا ہوگا تو میں اپنے رب کے حضور میں آکر اپنی امت کی شفاعت کروں گا اور اللہ تعالیٰ میری شفاعت قبول فرمائے گا اور میرے گیسوئے عنبریں سے لے کر میرے قدموں کے ناخنوں تک نور ہی نور ہوگا یہ منظر دیکھ کر کافر کہیں گے کہ مومنوں کو تو شفیع المذنبین مل گیا اب ہماری شفاعت کون کرے گا ؟ پھر کہیں گے کہ شیطان کے پاس چلو اسی نے ہم کو گمراہ کیا تھا وہی ہماری شفاعت کرے گا، سب اس کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اہل ایمان کو تو ان کا شفیع مل گیا اب تو ہماری شفاعت کو کیونکہ تو نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔ اس کی مجلس سے ناقبل برداشت بدبو اٹھے گی وہ رونے چلانے لگیں گے تو شیطان انہیں یہ جواب دے گا : ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم الایۃ، وعد الحق یہ ایک چیز کی خود اسی کی طرف اضافت ہے، جیسے مسجد الجامع وغیرہ۔
فراء نے کہا : بصریوں نے کہا ہے (اصل عبارت یوں ہے) وعدکم وعد الیوم الحق یا وعدکم وعد الوعد الحق فصدقکم تو مصدر کو دلالت حال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ وما کان لی علیکم من سلطن، سلطان سے مراد حجت اور بیان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ الا ان دعوتکم فاستجبتم لی یعنی میں نے تمہیں گمراہ کیا اور تم نے میری پیروی اختیار کرلی۔ اور ایک قول یہ ہے : میں نے اپنی دعوت کی طرف تمہیں مجبور نہیں کیا تھا۔ الا ان دعوتکم یہ استثناء منقطع ہے مراد یہ ہے کہ لیکن میں نے وسوسے کے ذریعے تمہیں دعوت دی اور تم نے خود اپنی مرضی اور اختیار سے اسے قبول کرلیا۔ فلا تلومونی ولوموا انفسکم سو تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وما کان لی علیکم من سلطن سے مراد یہ ہے کہ مجھے تمہارے دلوں اور ایمان کی جگہ پر زور حاصل نہیں تھا لیکن میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے فوراً میری دعوت کو قبول کرلیا اور یہ اس صورت میں ہے کہ اس سے گناہگار مومنین اور منکر کافروں کو خطاب کیا گیا ہو، مگر اس میں نظر ہے کیونکہ اللہ کا ارشاد : لما قضی الامر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیطان نے صرف کفار کو خطاب کیا نہ کہ گناہگار مومنوں کو۔ واللہ اعلم
فلا تلومونی ولوموا انفسکم یعنی جب تم بغیر دلیل کے میرے پاس آئے ہو تو مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ ما انا بمصرخکم یعنی میں تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ وما انتم بمصرخی نہ تم میری مدد کرسکتے ہو۔ صارخ اور مستصرخ وہ ہوتا جو مدد طلب کرتا ہے اور مصرخ مددگارکو کہتے ہیں۔ سلامہ بن جندل نے کہا :
کنا إذا ما آتانا صارخ فزع کان الصراخ لہ قرع الظنا بیب
شعر میں صارخ سے مراد دو معاونت کا طلب گار ہے۔ امیہ بن ابی صلت نے کہا :
ولا تجزعوا إنی لکم غیر مصرخ ولیس لکم عندی غناء ولا نضر
یہاں مصرخ سے مراد مدد کرنے والا ہے۔
صرخ فلان کہا جاتا ہے یعنی اس نے مدد طلب کی۔ یہ صرخ یصرخ صرخا و صراخا وصرخۃ ہے اور امطرخ بمعنی صرخ ہے اور التصرخ میں تصنع اور تکلف ہے اور المصرخ مددگار جب کہ المستصرخ مدد طلب کرنے والا ہے، اسی سے یہ جملہ بھی ہے کہ استصرخنی فأصرختہ یعنی اس نے مجھ سے مدد طلب کی پس میں نے اس کی مدد کی اور المصریخ مدد طلب کرنے والے کی آواز ہے اور الصریخ مدد طلب کرنے والا بھی ہوتا ہے، اور اس سے مراد مدد کرنے والا اور مدد طلب کرنے والا دونوں ہیں، یہ اضداد میں سے ہے، یہ جوہری کا قول ہے۔ عام قراء کی قرات بمصرخی با کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ جب کہ اعمش اور حمزہ نے بمصرخی با کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی اصل بمصرخیتین ہے اضافت کی وجہ سے نون حذف ہوگیا اور یا جمع کو یا اضافت میں مدغم کردیا گیا۔ جس نے اس کو نصب دی اس کی ایک وجہ تضعیف ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب یا اضافت کا ما قبل ساکن ہو تو اس پر فتحہ ہی آتا ہے جیسے ھوای اور عصای وغیرہ اور اگر ما قبل متحرک ہو تو پھر فتحہ اور اسکان دونوں جائز ہیں جیسے غلامی اور غل امتی وغیرہ۔ اور جس نے کسرہ دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو ساکن مل جائیں اور حرکت کی ضرورت پڑے تو کسرہ کے ساتھ حرکت دی جاتی ہے کیونکہ یا اخت کسرہ ہے۔
فراء نے کہا : حمزہ کی قراءت اس کی طرف سے پائے جانے والے وہم کی وجہ سے ہے۔ زجاج نے کہا : یہ روی قراءت ہے اور سوائے ایک ضعیف وجہ کے اس کی کوئی وجہ نہیں۔ قطرب نے کہا : یہ نبی یربوع کی قراءت ہے جن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ یا اضافت پر ایک اور یا کا اضافہ کرتے ہیں۔ قشیری نے کہا : جو چیز اس سے مستغنی کرتی ہے وہ تواتر کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے اس کا ثابت ہونا ہے لہٰذا یہ درست نہیں کہ اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ غلط ہے، قبیح ہے یا ردی ہے، بلکہ یہ قرآن میں فصیح ہے، اور اس میں ایسی صورتیں بھی ہیں جو اس سے بھی زیادہ فصیح ہیں، شاید ان کی مراد یہ ہوگی کہ جو حمزہ کے علاوہ دیگر کی قراءت ہے وہ زیادہ فصیح ہے۔ انی کفرت بما اشرکتمون من قبل یعنی جو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مجھے شریک ٹھہرایا ہے میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ ما مصدر کے معنی میں ہے۔ ابن جریج نے کہا : میں آج اس بات کا انکار کرتا ہوں جو تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا دعویٰ کرتے تھے۔
قتادہ نے کہا : کفرت بمعنی عصبت ہے یعنی میں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ ثوری نے کہا : جو تم نے دنیا میں میری اطاعت کی میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ ان الظلمین لھم عذاب الیم ان آیات میں قدریہ، معتزلہ، امامیہ اور ان کے پیروکاروں کی تردید ہے۔ ان کے پیرورکاروں کی بات پر غور کرو۔ انہوں نے کہا : لو ھدنا اللہ لھدینکم اور اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں ہدایت دیتے اور شیطان کا قول : ان اللہ وعدکم وعد الحق بیشک اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا۔ ان اقوال کو دیکھو ان میں انہوں نے کیسے اللہ تعالیٰ کی صفات کے سلسلے میں حق کا اعتراف کیا ہے حالانکہ یہ دوزخی ہیں ؟ جس طرح قرآن مجید میں ایک اور مقام پر کلما القی فیہا فوج سالھم خزنتھا سے لے کر فاعترفوا بذنبھم (الملک : 8 تا 11) تک ہے اس میں انہوں نے دوزخ کی سختیوں میں حق کا اعتراف کیا مگر یہ ان کے لیے نفع بخش نہیں ہوگا۔ یہ اعتراف دنیا میں اعتراف کرنے والے کے لیے نفع بخش اور سودمند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخر سیئا، عسی اللہ ان یتوب علیہم (التوبہ : 102) اور دوسرے وہ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا نیک اور برے اعمال کو ملا جلا دیا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عسی کا استعمال وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 14:23آیت نمبر 23
قولہ تعالیٰ : وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحت، جنت اس سے مراد فی جنات ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دخول متعدی نہیں جس طرح کہ اس کی نقیض جو کہ خروج ہے وہ متعدی نہیں ہوتی، لہٰذا اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، یہ مہدوی کا قول ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں کی حالت کے متعلق بیان فرمایا تو اس کے بعد جنتیوں کے حالات کے بارے میں خبر دی ہے۔ جمہور کی قراءت کے متعلق یہ ادخل فعل مجہول ہے، جب کہ حضرت حسن بصری نے اسے ادخل پڑھا ہے یعنی مضارع کا صیغہ بطور استئناف آیا ہے۔ باذن ربھم یعنی اس کے حکم سے۔ ایک قول کے مطابق اللہ کی مشیت مراد ہے۔ باذنی کی جگہ باذن ربھم تعظیم اور تفخیم کے لیے فرمایا ہے۔ تحیتھم فیھا سلم سورة یونس میں یہ گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔
Ayahs 14:24–25آیت نمبر 24 تا 25
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: الم تر کیف ضرب اللہ مثلا جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی مثال بیان فرمائی اور وہ ہے کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف (ابراہیم :18) تو مومنین کے احوال کی مثال بھی ذکر فرما دی۔ پھر اس مثال کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کلمۃ طیبۃ یعنی کلمۃ طیبۃ الثمر ایسا کلمہ جس کا پھل پاکیزہ ہے ثمر کو اس لیے حذف کردیا گیا کہ کلام اس پر دلالت کر دہا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے، جب کہ شجرہ طیبہ سے مراد مومن ہے۔
مجاہد اور ابن جریج نے کہا : کلمہ طیبہ سے مراد ایمان ہے، عطیہ عوفی اور ربیع بن انس نے کہا : یہ بذات خود مومن ہے۔ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے کہ شجرہ سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ مومن کے دل میں کلمے کی اصل جو کہ ایمان ہے بڑھوتری میں اللہ تعالیٰ نے اسے کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہو، اور آسمان میں بندے کے عمل کی رفعت کو کھجور کے درخت کی ٹہنیوں کی رفعت کے ساتھ تشبیہ دی جب کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب کو پھل کے ساتھ تشبیہ دے دی ہو۔
نبی کریم ﷺ سے حضرت انس ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” بیشک ایمان کی مثال ثابت
درخت کی ہے ایمان اس کی رگیں ہیں، نماز اس کی اصل ہے، زکوٰۃ اس کی فرع، روزے اس کی ٹہنیاں، اللہ کے راستے میں تکلیف اٹھانا اس کی بڑھوتری، حسن اخلاق اس کے پتے اور اللہ کے محارم سے رکنا اس کا پھل ہے “۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معنی یہ ہو : کھجور کے درخت کی جڑیں زمین میں ثابت ہیں یعنی اس کی جڑیں زمین سے پانی پیتی ہیں اور آسمان اوپر سے اسے سیراب کرتا ہے، لہٰذا یہ پاکیزہ بڑھنے والا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ کی حدیث امام ترمذی نے روایت کی ہے کہ حضرت انس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک طشت لایا گیا جس میں تر کھجوریں تھیں، تو آپ نے فرمایا : مثلا کلمۃ طیبہ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء۔ تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا آپ نے فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے۔ مثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار آپ نے فرمایا : ” یہ تنبیہ ہے “۔ ترمذی نے حضرت انس سے ان کا روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔ دار قطنی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت کی تلاوت فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے “۔ تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ اس سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ سہیلی نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے جو روایت ہے کہ اس سے مراد ہندی اخروٹ ہے یہ صحیح نہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ سے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث صحیح مروی ہے کہ ” درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور یہی مومن کی مثال ہے مجھے بتاؤ یہ کون سا درخت ہے ؟ پھر فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے “۔
امام مالک نے مؤطا میں اس کو بیان کیا ہے۔ امام مالک کی روایت ابن قاسم وغیرہ سے ہے سوائے یحییٰ کے انہوں نے یحییٰ کو اپنی روایت سے ساقط کردیا ہے۔ اہل صحیح نے بھی اس کی تخریج کی ہے اور اس میں حارث بن اسامہ کا اضافہ کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” اور یہ کھجور کا درخت ہے اس کے پتے نہیں گرتے اور اسی طرح مومن بھی ہے کہ اس کی دعوت نہیں گرتی “۔ اس ارشاد نے حدیث کے معنی اور مماثلت کو بیان کردیا ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : غزنوی نے نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا ہے کہ ” مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے اگر آپ اس کی دوستی اختیار کریں گے تو یہ تمہیں فائدہ دے گی، اگر آپ اس کے پاس بیٹھیں گے تو یہ تیرے لیے نفع بخش ہوگا اور اگر آپ اس کے ساتھ مشاورت کریں گے تو بھی یہ تیرے لیے نفع بخش ہوگا جس طرح کھجور کا درخت ہے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کے حوالے سے اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم اپنی پھوپھی سے کھاؤ “۔ اس سے آپ کی مراد کھجور کا درخت ہے جس کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بقیہ مٹی سے پیدا کیا گیا، اور اسی طرح یہ اپنے سر کے ساتھ باقی رہتا ہے، اپنے دل کے ذریعے زندگی پاتا ہے اور اس کا پھل مذکر و مونث کے امتزاج سے ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : درختوں میں سے جب یہ انسان کے زیادہ مشابہ ہے تو اسی کے ذریعے تشبیہ بیان کردی گئی، اور اس کی مشابہت کی وجہ یہ ہے کہ تمام درخت ایسے ہیں کہ اگر ان کے سروں کو کاٹ دی اجائے تو ان کی ٹہنیاں ہر طرف سے پہلے کی نسبت زیادہ گھنی ہو کر اگتی ہیں جب کہ کھجور کے درخت کے سرے کو اگر کاٹ دیا جائے تو وہ خشک ہوجاتا ہے اور اصلاہی ختم ہوجاتا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ التقاح میں انسان اور تمام حیوانوں کے مشابہہ ہے کیونکہ بغیر تلقیح کے یہ پھل لیتا ہی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : خیر المال سکۃ مابورۃ ومھرۃ ما مورۃ بہترین مال وہ ہے جو بڑھنے والا اور نتیجہ خیز ہو۔ اور الابار سے مراد تلقیح ہے اس کا بیان سورة الحجر میں آئے گا، اور چونکہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی بقیہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے کہا جاتا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا گیا تو مٹی کا ایک ٹکڑا بچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس کی تصویر کشی کی اور جنت عدن میں اسکو گاڑ دیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اکرموا عمتکم اپنی پھوپھی کی عزت کرو۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری پھوپھی کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کھجور کا درخت “۔
تؤتی اکلھا کل حین ربیع نے کہا : کل حین سے مراد صبح اور شام ہے، اسی طرح مومن کا عمل دن کے آغاز اور اختتام پر اوپر چڑھتا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اور تؤتی اکلھا کل حین کے متعلق بھی آپ سے مروی ہے آپ نے فرمایا : یہ ہندوکا درخت ہے جس کا پھل ختم نہیں ہوتا، ہر ماہ اس پر پھل لگتا ہے، ہر وقت اللہ کے لیے کیے گئے مومنین کے عمل کو اللہ نے کھجور کے اس درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو مختلف اوقات میں پھل دیتا ہے۔ ضحاک نے کہا : موسم گرما ہو یا سرما، رات، دن کی ہر ساعت تمام اوقات میں کھایا جاتا ہے، پس اسی طرح تمام اوقات میں مومن بھی خیر اور بھلائی سے خالی نہیں ہوتا۔ نحاس نے کہا : یہ تمام اقوال قریب المعنی ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ حین تمام اہل لغت کے نزدیک وقت کے معنی میں ہے اس کا اطلاق قلیل و کثیر دونوں زمانوں پر ہوتا ہے البتہ ان میں سے کوئی ایک ان سے علیحدہ ہوا ہے۔ أصمعی نے نابغہ کا شعر پڑھا ہے :
تنازرھا الراقون من سوء سمھا تطلقہ حینا و حینا تراجع
پس یہ شعر بھی اسی بات کو واضح کرتا ہے کہ حین بمعنی وقت ہے، پس ایمان مومن کے دل میں ثابت ہے اور اس کا عمل، قول اور تسبیح بلند ہے اور آسمانوں کی طرف یوں اٹھتی ہیں جس طرح کھجور کے درخت کی ٹہنیاں، اور ایمان کی برکت اور ثواب میں جو وہ کماتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے سال کے مختلف اوقات میں کھجور کا پھل حاصل ہوتا ہے رطب، بسر، بلح، زہو، تمر اور طلع کی صورت میں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ شجرہ طیبہ جنت کا ایک درخت ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے۔ مثلا، ضرب کا مفعول ہے اور کلمۃ اس سے بدل ہے جب کہ کشجرۃ میں کاف کلمۃ سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور تقدیر عبارت یہ ہے : کلمۃ طیبۃ مشبھۃ بشجرۃ طیبۃ کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کے مشابہہ ہے۔
مسئلہ نمبر 2: تؤتی اکلھا کل حین جب درخت ہر سال ایک مرتبہ اپنا پھل دیتے ہیں، تو یہ حین کے حکم کا بیان ہوگا، لہٰذا ہم نے کہا : جس نے قسم اٹھائی کہ الا یکلم فلانا حینا کہ وہ فلاں کے ساتھ ایک حین تک گفتگو نہیں کرے گا تو اس میں حین سے مراد ایک سال ہوگا۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر حین کا لفظ آیا ہے جس سے مراد اکثر حصہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ھل اتی علی الانسان حین من الدھر (الدھر :1)
” التفسیر “ میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد چالیس سال ہیں۔ عکرمہ نے حکایت بیان کی ہے کہ ایک آدمی نے کہا : ان فعلت کذا واکذا إلی حین فغلامہ حو وہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھ سے اس کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا کہ حین میں سے ایسا حین بھی ہے جس کا ادراک نہیں ہوسکتا، جیسے اللہ کا ارشاد : وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین۔ (الانبیاء) میرا خیال ہے کہ اس سے مراد کھجور توڑنے سے لے کر اس کو اٹھانے تک کا زمانہ ہے تو اس قول نے آپ کو تعجب میں ڈال دیا۔
یہ حضرت ابوحنیفہ کا ارشاد ہے کہ حین سے مراد چھ ماہ ہیں آپ نے عکرمہ وغیرہ کی اتباع میں یہ بات کہی ہے۔ سورة البقرہ میں حین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال تفصیلاً گزر چکے ہیں۔ الحمدللہ۔ ویضرب اللہ الامثال یعنی لوگوں کے لیے تشبیہات بیان کرتا ہے۔ لعلھم یتذکرون یعنی وہ نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ یہ بھی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 14:26آیت نمبر 26
قولہ تعالیٰ : ومثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ، کلمۃ خبیثۃ سے مراد کلمہ کفر ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد بذات خود کافر ہے۔ اور شجرہ خبیثہ سے حضرت انس ؓ کی حدیث کے مطابق ایلوا ہے، یہی حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول بھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ ایسا درخت ہے جو زمین پر پیدا ہی نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ہی ایک قول کے مطابق اس کا معنی تھوم کا پودا بھی بیان ہوا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد کھنبی یا کائی ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ کشوث ہے اور کشوث ایسا درخت ہے جس کے نہ پتے ہوتے ہیں اور نہ ہی زمین میں اس کی کوئی جڑ ہوتی ہے، شاعر نے کہا :
وھم کشوت فلا اصل ولا ورق۔
وہ کشوث ہیں نہ (ان کی) کوئی جڑ ہے اور نہ پتے
اجتثت من فوق الارض اس کو اپنی جڑوں سے اکھیڑ لیا گیا۔ اسی سے لقیط کا یہ شعر ہے :
ھو الجلاء الذی یجتث اصلکم فمن رأی مثل ذایوما ومن سمعا
مؤرج نے کہا : اے اس کے جثہ سے پکڑ لیا گیا اور اس سے مراد اس کی ذات ہے اور جثہ انسانی ذات ہے چاہے وہ بیٹھا ہوا ہو یا کھڑا ہو۔ اور جثہ کا معنی ہے اس نے اسے اکھیڑ دیا جب کہ اجتثہ کا معنی ہے کہ وہ زمین کے اوپر سے اکھڑ گیا یعنی اس کا ایسا مضبوط تنا نہیں ہے جو زمین سے اپنی جڑوں کے ذریعے تری حاصل کرتا ہو۔
ما لھا من قرار یعنی زمین میں کوئی جڑ باقی نہیں رہے گی۔ ایک قول کے مطابق قرار کا معنی ثبات ہے، پس اسی طرح کافر کے لیے نہ کوئی حجت ہوگی، نہ ثبات اور نہ اس میں کوئی بھلائی ہے، اور نہ اس کا کوئی پاکیزہ قول بلند ہوگا اور نہ ہی نیک عمل۔ معاویۃ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اللہ کے ارشاد ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کے بارے میں روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : یہ لا الہ الا اللہ ہے۔ شجرہ طیبہ، مومن ہے۔ اصلھا ثابت سے مراد یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ مومن کے دل میں ثابت ہے۔ اور ومثل کلمۃ خبیثۃ سے مراد شرک جب کہ کشجرۃ خبیثۃ سے مراد مشرک ہے۔ اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار سے مراد یہ ہے کہ مشرک کی کوئی اصل ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ عمل کرے۔ ایک قول کے مطابق : ضرب المثل کا تعلق ایمان کی طرف دعوت اور شرک کی طرف دعوت کے ساتھ ہے۔ کیونکہ کلمۃ سے قول اور دعوت الی الشیء مفہوم ہوتا ہے۔
Ayah 14:27آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قول ثابت لا الہ الا اللہ ہے۔ نسائی نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا آپ نے فرمایا : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کہا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ بندہ کہے گا : میرا رب اللہ اور میرا دین دین محمد ﷺ ہے، پس یہی اللہ کا ارشاد : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : امام مسلم کے بعض طرق میں حضرت براء ؓ سے موقوفا اسی طرح مروی ہے کہ یہ آپ کا قول ہے جب کہ اس کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ مرفوع ہے جس طرح صحیح مسلم، نسائی، ابو داؤد اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت براء نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور امام بخاری نے بھی اس سند کے ساتھ ذکر کیا ہے حدثنا جعفر بن عمر قال حدثنا شعبۃ عن علقمۃ عن مرثد عن سعد بن عبیدہ عن البراء بن عازب عن النبی ﷺ آپ نے فرمایا : ” جب مومن کو اس کی قبر میں بٹھایا جائے گا تو اس کے پاس آنے والا آئے گا پھر وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں پس یہی اللہ کا ارشاد : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ہے “۔
ہم (قرطبی) نے اس باب کو کتاب ” التذکرہ “ میں بیان کردیا ہے اور یہ بھی ہم نے بیان کیا ہے کہ کس کو قبر میں آزمایا جائے گا اور اس سے سوال پوچھے جائیں گے ؟ جو اس سے آگاہی چاہتا ہے وہ دوبارہ غوروفکر کرے۔ حضرت سہل بن عمار نے کہا : میں نے یزید بن ہارون کو ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا۔ میں نے انہیں کہا : اللہ نے تیرے ساتھ کیا (سلوک) کیا ؟ اس نے کہا : میری قبر میں میرے پاس دو سخت قسم کے فرشتے آئے۔ انہوں نے کہا : تیرا دین کیا ہے، تیرا رب کون ہے، اور تیرا نبی کون ہے ؟ میں نے اپنی سفید داڑھی کو پکڑا اور کہا : کیا مجھ جیسے آدمی کو یہ کہا جاسکتا ہے حالانکہ میں نے اسی سال تک تمہارے ان سوالوں کے جواب لوگوں کو سکھائے ؟ وہ چلے گئے اور انہوں نے کہا : کیا تو نے حریز بن عثمان سے کوئی حدیث لکھی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ تو انہوں نے کہا : وہ حضرت علی ؓ کے ساتھ بغض رکھتا تھا تو اللہ نے اسے مبغوض و مردود بنا دیا۔ ایک قول کے مطابق یثبت اللہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قول ثابت پر دوام نصیب فرمائے گا، اسی سے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا قول ہے :
یثبت اللہ ما آتاک من حسن تثبیت موسیٰ ونصرا کالذی نصرا
ایک قول یہ ہے : اللہ تعالیٰ ان کی جزا کے طور پر انہیں دارین میں قول ثابت پر ثابت رکھے گا۔ قفال اور ایک جماعت نے
کہا : فی الحیوۃ الدنیا سے مراد فی القبر ہے، کیونکہ بعث بعد الموت تک مردہ دنیا میں ہی ہوتا ہے اور فی الاخرۃ سے مراد عند الحساب، یعنی حساب کا وقت ہے۔ ماوردی نے اسے حضرت براء سے حکایت کیا ہے کہ آپ نے کہا : دنیوی زندگی سے مراد قبر میں سوال و جواب ہیں اور آخرت سے مراد قیامت کے سوال و جواب ہیں۔
ویضل اللہ الظلمین یعنی ان کی قبروں میں ان کی حجتوں سے ایسے ہی بھٹکا دے گا جس طرح دنیا میں اس نے انہیں ان کے کفر کے سبب بھٹکایا پس وہ انہیں حق کے کلمہ کی تلقین نہیں کرے گا، جب ان کی قبروں میں ان سے پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے : ہم نہیں جانتے، وہ کہے گا : نہ تو نے جانا اور نہ پڑھا، اس وقت روایات کے مطابق انہیں لوہے کے چابک کے ساتھ مارا جائے گا۔
ہم (قرطبی) نے اسے کتاب ” التذکرہ میں ذکر کیا ہے “۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ انہیں مہلت دے گا یہاں تک کہ دنیا میں وہ گمراہی میں بہت آگے چلے جائیں گے۔ ویفعل اللہ ما یشآء یعنی کسی قوم کو عذاب دینے اور گمراہ کرنے کے حوالے سے جس طرح وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس آیت کے نزول کا سبب نبی کریم ﷺ کی روایت ہے کہ جب آپ نے منکر نکیر کے سوالات اور میت کے جواب کے متعلق بتایا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میرے پاس میری عقل ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “۔ آپ نے عرض کیا : کیا اس پر پردہ ڈال دیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Ayahs 14:28–30آیت نمبر 28 تا 30
قولہ تعالیٰ : الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کے بدلے کفر کیا یعنی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ان میں مبعوث فرمایا تو انہوں نے آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیا، اس سے مراد قریش ہیں اور آیت انہیں کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ سے یہی مروی ہے۔
ایک قول یہ ہے : یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر کے مقام پر جنگ کی۔ ابو الطفیل نے کہا : میں نے حضرت علی ؓ کو فرماتے سنا ہے : یہ وہ قریش ہیں جنہیں بدر والے دن قتل کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے : یہ قریش کے بنو مخزوم اور بنو امیہ کے فاجروں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جہاں تک بنی امیہ کا تعلق ہے تو انہوں نے ایک وقت تک لطف اٹھایا جب کہ بنی مخزوم کو بدر میں ہلاک کردیا گیا۔ یہ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ عرب کے نصرانی جبلہ بن ایھم اور اس کے دوست ہیں کہ جب اس نے تھپڑ مارا تو حضرت عمر ؓ نے اس کیلئے یہی قصاص لازم کیا، تو اس نے اس بات کو پسند نہ کیا اور عیسائی بنتے ہوئے مرتد ہوگیا اور اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ روم چلا گیا۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ اور جب روم پہنچا تو پھر شرمندہ ہوا اور یہ اشعار کہے :
تنصرت الأشراف من عار لطمۃ وما کان فیھا لو صبرت لھا ضرر
تکنفنی منھا لجاج و نخوۃ وبعث لھا العین الصحیحۃ بالعور
فیالیتنی ارعی المخاض ببلدۃ ولم أنکر القول الذی قالہ عمر
حضرت حسن ؓ نے کہا : یہ تمام مشرکین کے متعلق عام حکم ہے۔ واحلوا قومھم یعنی انہیں اتارا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ بدر والے دن مشرکین کی قیادت کرنے والے لوگ ہیں انہوں نے اپنی قوم کو اتارا یعنی جنہوں نے ان کی اتباع کی۔ دار البوار ایک قول کے مطابق ابن زید کے نزدیک اس سے مراد جہنم ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور مجاہد کے نزدیک اس سے مراد بدر کا دن ہے اور بوار ہلاکت کو کہتے ہیں اسی سے شاعر کا قول ہے :
فلم أرمثلھم أبطال حرب غداۃ الحرب إذ خیف البوار
میں نے جنگ کی صبح ان جیسا بہادر نہیں دیکھا جب ہلاکت کا خوف ہو۔
جھنم یصلونھا اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ دار البوار سے مراد جہنم ہے۔ اس صورت میں دار البوار پر وقف کرنا جائز نہیں، کیونکہ جہنم دار البوار کی وجہ سے منصوب ہے۔ اگر اسے مرفوع پڑھا جائے تو اس صورت میں ھی مضمر ہوگا یعنی ھی جھنم یا پھر یصلونھا میں پائی جانے والی ضمیر کی وجہ سے مرفوع ہوگا کیونکہ دار البوار پر وقف کرنا عمدہ بات ہے۔ وبئس القرار۔ ، قرار سے مراد ٹھکانا ہے۔ وجعلوا للہ اندادا اس سے مراد بت ہیں جن کی انہوں نے عبادت کی۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ لیضلوا عن سبیلہ، سبیل سے مراد دین ہے، یعنی تاکہ لوگوں کو اس کے دین سے بھٹکا دیں۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح سورة الحج میں لیضل عن سبیل (الحج :9) اسی طرح سورة لقمان اور سورة الزمر میں ہے جب کہ باقیوں نے لیضلوا الناس عن سبیلہ یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور جس نے فتح دیا ہے تو اس نے ھم یضلون عن سبیل اللہ لازم پڑھا ہے یعنی ان کا انجام گمراہ کرنا اور گمراہی ہے۔ یہ لام لام عاقبت ہے۔ قل تمتعوا ان کے لیے وعید ہے اور یہ دنیا میں پائی جانے والی لذت کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ ختم ہوجانے والی ہیں۔ فان مصیرکم الی النار یعنی ان کے لوٹنے کی جگہ اور ان کا ٹھکانہ جہنم کا عذاب ہے۔
Ayah 14:31آیت نمبر 31
قولہ تعالیٰ : قل لعبادی الذین امنوا یعنی اہل مکہ نے اللہ کی نعمت کو کفر کے ساتھ تبدیل کرلیا ہے سو آپ اسے فرمائیے جو ایمان لایا اور جس نے اپنی عبودیت کو ثابت کردیا ہے کہ یقیموا الصلوٰۃ یعنی پانچوں نمازیں ادا کریں، یعنی آپ ان کو ارشاد فرمائیں کہ قائم کرو، امر کے ساتھ شرط مقدر ہے، جس طرح آپ کہتے ہیں : اللہ کی اطاعت کر وہ تجھے جنت میں داخل کرے گا، یعنی اگر تو اس کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : یقموا مجزوم ہے اصل میں۔ لیقیموا ہے لام کو ساقط کردیا گیا ہے کیونکہ قل کی وجہ سے غائب کا صیغہ ہونے کے باوجود امر پر دلالت کرتا ہے یہ احتمال بھی ہے کہ یقیموا کہا جائے اور یہ امر محذوف کا جواب ہو، یعنی قل لھم اقیموا الصلاۃ یقموا الصلاۃ۔۔۔۔ وینفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ اس سے مراد زکوۃ ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ جنہور نے کہا : سر سے مراد وہ ہے جو مخفی ہے اور علانیہ سے مراد وہ جو ظاہر ہے۔ قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ سر سے مراد نفل اور علانیہ سے مراد فرض (صدقات) ہیں۔ سورة بقرہ آیت 271 ان تہدوا الصدقت فنعماھی کے تحت اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل یہ بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے اور خلال، خلۃ کی جمع ہے جیسے قلۃ کی جمع قلال آتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
فلست بمقلی الخلال ولاقالی
Ayahs 14:32–34آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : اللہ الذی خلق السموت والارض یعنی بغیر کسی مثال کے اس نے ان کو بنایا اور ایجاد فرمایا۔ وانزل من السمآء یعنی بادلوں سے مآء فاخرج بہ من الثمرات یعنی درخت سے پھل نکالے۔ رزقا لکم تمہارے کھانے کے لیے۔ وسخر لکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ اس کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وسخر لکم الانھر یعنی میٹھے دریا مسخر کیے تاکہ تم ان سے پانی پیو، کھیتوں کو سیراب کرو اور کاشت کاری کرو، اور نمکین دریا مختلف فوائد کے حصول کے لیے مسخر کیے ہیں۔ وسخر لکم الشمس والقمر دآئبین یعنی نباتات وغیرہ میں سے جن کی اصلاح ان کے ذریعے ممکن ہوتی ہے ان کی اصلاح میں اللہ تعالیٰ نے سورج و چاند کو مسخر کردیا ہے اور الدؤوب سے مراد عادت جاریہ کے مطابق کام میں کسی چیز کا چلنا اور گزرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ دائبین فی السیر اللہ کے امر کے لیے امتثال ہے اور معنی یہ ہے کہ قیامت تک یہ دونوں چلتے رہیں گے ان میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اس کا یہ معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔
وسخر لکم الیل والنھار یعنی تاکہ تم رات میں سکون کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ (القصص : 73) ہے یعنی اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنایا تاکہ تم اس میں سکون کرو اور اس کا فضل تلاش کرو۔
قولہ تعالیٰ : واتکم من کل ما سآلتموہ کلام میں حذف ہے تقدیر عبارت یہ ہے : وأعطاکم من کل مسئول سألتموہ شیئا یعنی تمہیں ہر اس چیز سے عطا کیا جس کا تم نے اس سے سوال کیا، یہ اخفش کے نزدیک ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ معنی یہ ہوگا کہ تمہیں ہر اس چیز سے عطا کیا جس کا تم نے اس سے سوال کیا اور ہر اس چیز سے جس کا تم نے سوال نہیں کیا، بعد والے کلام کو حذف کردیا گیا ہے (یہ معنی اس لیے بھی صحیح ہوگا) کہ سورج، چاند اور بہت سی نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ابتداء میں عطا فرمائیں ان کے بارے میں ہم نے اس سے سوال نہیں کیا، یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے سرابیل تقیکم الحر (النحل :81) ارشاد فرمایا۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ ایک قول کے مطابق من زائدہ ہے، یعنی أتاکم کل ما سألتموہ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک وغیرہ نے دأتاکم من کل تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یہ قراءت حضرت حسن بصری، ضحاک اور حضرت قتادہ سے مروی ہے اور نفی کی صورت میں یہ من کل مالم تسألوا ہوگا یعنی ہر اس چیز سے جس کا تم نے سوال نہیں کیا، جیسے سورج اور چاند وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ ما سألتموہ، الذی سألتموہ ہے یعنی ما بمعنی الذی ہے۔ وان تعدوا نعمت اللہ یعنی اللہ کی نعمتوں کو نہ تم گن سکتے ہو اور نہ ہی شمار کرنے کی طاقت رکھتے ہو، اور ان کی کثرت کی وجہ سے ان کا حصر ممکن نہیں جیسے سماعت، بصارت، انسانی شکل و صورت علاوہ ازیں عافیت اور رزق وغیرہ۔ یہ ساری کی ساری نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، پس تم اللہ کی نعمتوں کو کفر کے ساتھ کیوں تبدیل کرتے ہو ؟ اور ان نعمتوں کے ذریعے اللہ کی اطاعت پر مدد کیوں نہیں طلب کرتے ؟ ان الانسان لظلوم کفار، الانسان لفظ تو جنس پر دلالت کرتا ہے مگر اس کی مراد مخصوص ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد ابو جہل ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد سارے کفار ہیں۔
Ayahs 14:35–36آیت نمبر 35 تا 36
قولہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا، ھذا البلد سے مراد مکہ ہے سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام یعنی مجھے ان (بتوں) کی عبادت سے ایک طرف کر دے۔ اور نبی کے قول سے آپ کی مراد آپ کے صلبی بیٹے تھے جن کی تعداد آٹھ تھی، اور ان میں سے کسی ایک نے بھی بتوں کی عبادت نہیں کی۔ اور ایک قول یہ ہے : یہ ہر اس آدمی کے لیے دعا ہے اللہ تعالیٰ جس کے لیے دعا چاہے۔
جحدری اور عیسیٰ نے واجنبنی الف قطعی کے ساتھ پڑھا ہے معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے، کہا جاتا ہے : جنبت ذالک الأمر، وأجنبتہ وجنبتہ ایاہ، فتجانبہ واجتنبہ ان کا معنی ہوگا : اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ ابراہیم تیمی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصص کے بارے میں کہتے تھے : حضرت خلیل کے بعد کون مطمئن ہوتا ہے جب آپ کہتے ہیں : مجھے بچا لے اور میرے بچوں کو کہ ہم بتوں کی پوجا کریں جس طرح میرے باپ اور قوم نے ان کی پوجا کی۔
رب انھن اضللن کثیرا من الناس بت چونکہ گمراہی کا سبب تھے اس لیے مجاز افعل کی اضافت ان کی جانب کردی گئی ہے، ورنہ تو بت جمادات ہیں جو فعل کر ہی نہیں سکتے۔ فمن تبعنی یعنی توحید (خداوندی کو ماننے) میں جس نے میری پیروی کی۔ فانہ منی یعنی وہ میرے دین پر ہے۔ ومن عصانی یعنی جس نے شرک پر اصرار کیا۔ فانک غفور رحیم ایک قول یہ ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات تب کی تھی جب ابھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات سے آگاہ نہیں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرمائے گا۔ اور ایک قول یہ ہے : تو اس کے لیے غفور اور رحیم ہے جس نے موت سے پہلے اپنی نافرمانی اور گناہ سے توبہ کرلی مقاتل بن حیان نے کہا : ومن عصانی سے مراد یہ ہے کہ جس نے شرک سے کم معاملات میں میری نافرمانی کی۔