13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

آیت نمبر 1 قولہ تعالیٰ : الم تلک ایت الکتب اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ والذی انزل الیک یعنی یہ قرآن جو آپ پر اتارا گیا ہے۔ من ربک الحق تیرے رب کی جانب سے حق ہے نہ کہ جس طرح مشرک کہتے ہیں کہ آپ اپنی طرف سے اسے پیش کرتے ہیں، سوا سے مضبوطی سے پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت تب نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا محمد ﷺ قرآن اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں۔ والذی، ایت پر عطف کی وجہ سے محل رفع میں ہے یا مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور الحق اس کی خبر ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محل جر میں ہو اور تقدیر عبادت یوں ہو : وآیات الذی انزل الیک اور الحق کا رفع مبتدا کے مضمر ہونے کی بنیاد پر ہوگا، تقدیر عبارت : ذالک الحق ہوگا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم یعلمون الحق یعنی ذالک الحق فرائ نے کہا : اور اگر آپ چاہیں تو والذی کو الکتب کی صفت بنا کر مجرور پڑھ لیں، اگرچہ اس میں واو بھی ہے جس طرح کہا جاتا ہے : آتانا ھذا لکتاب عن ابی حفص وفاروق۔ اسی سے شاعر کا قول بھی ہے : إلی الملک القوم وابن الھمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم اس سے مراد : إلی الملک القرم بن الھمام، لیث الکتیمہ ہے۔ ولکن اکثر الناس لایؤمنون لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

آیت نمبر 2 قولہ تعالیٰ : اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ قرآن حق ہے، تو یہ بھی بیان فرمایا کہ اس کو نازل کرنے والا کمال پر قدرت رکھتا ہے، اس کی کاریگریوں کو دیکھو تاکہ اس کی قدرت کے کمال کو پہچان سکو۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ بغیر عمد ترونھا کے ارشاد کے متعلق دو قول ہیں : ایک یہ کہ بغیر ستونوں کے بلند ہیں لیکن ہم وہ دکھاتے نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آسمان کے ستون قاف پہاڑ پر ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس پر یہ بات کی جائے کہ ستون اس کی وہ قدرت ہے جس کے ذریعے وہ آسمان اور زمین کو روکتا ہے۔ اور وہ قدرت ہمیں نظر نہیں آتی، زجاج نے اس بات کو ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ جب کافر کے کفر سے آسمان پھٹنے کے قریب ہوگیا تو مومن کو توحید آسمان بن گئی۔ اس کو گزنوی نے ذکر کیا ہے عمد، عمود کی جمع ہے۔ نابغہ نے کہا ہے : وخیس الجن انی قد أذنت لھم یبنون تدمر بالصفاح والعمد اس میں العمد عمود کی جمع ہے۔ ثم استوی علی العرش اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ وسخر الشمس والقمر یعنی ان دونوں کو اپنی مخلوق کے منافع اور اپنے بندوں کے مصالح کے لیے مسخر فرمایا اور ہر مخلوق اپنے کالق کی تابعدار ہے۔ کل یجری لاجل مسمی یعنی معلوم وقت تک اور وہ دنیا کی فنا کا ہے اور اس وقت کے قیام کا ہے جس وقت سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو گرہن لگ جائے گا، ستارے محو ہوجائیں گے اور کواکب اڑ جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لاجل مسمی سے مراد ان دونوں کے وہ درجات اور منازل ہیں جہاں ان کی انتہا ہوئی ہے اور ان مقامات سے آگے تجاوز نہیں کرسکتے۔ ایک قول کے مطابق لاجل مسمی کا معنی یہ ہے کہ چاند مہینے میں اپنے فلک کو طے کرتا ہے اور سورج سال میں۔ یدبر الامر یعنی جس طرح چاہتا ہے اس میں تصرف فرماتا ہے یفصل الایت یعنی ان کو بیان فرماتا ہے مراد یہ ہے کہ جو ان امور پر قدرت رکھتا ہے وہ ان کو دوبارہ لوٹانے پر بھی قادر ہوگا، اسی وجہ سے فرمایا : لعلکم بلقآئ ربکم توقنون شاید تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کر لو
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 3 قولہ تعالیٰ : وھو الذی مد الارض جب آسمان کی نشانیوں کو بیان فرما دیا تو اب زمین کی نشانیوں کو بیان فرمایا یعنی زمین کو طول و عرض میں پھیلا دیا۔ وجعل فیھا رواسی یعنی ایسے پہاڑ جو بہت زیادہ ثابت ہیں، اس کا واحد واسیۃ ہے کیونکہ زمین ان کے ذریعے ثابت رہتی ہے اور الا رسائ کا معنی الثبوت ہے، عشرہ نے کہا ہے : فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسو اذا نفس الجبان تطلع جمیل نے کہا : احبھا والذی ارسی قواعدہ حبا إذا ظھرت ایاتہ بطنا ان دونوں اشعار میں ترسو اور ارسی کا یہی معنی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عطا نے کہا : زمین پر قائم ہونے والا پہلا پہاڑ ابو قبیس ہے۔ مسئلہ : ان آیات میں ان لوگوں کی تردید ہے جن کا خیال یہ ہے کہ زمین ایک کرہ ہے، اسی طرح ان کی تردید ہے جن کا خیال یہ ہے کہ زمین کے دروازے اس پر جھکتے ہیں۔ ابن راوندی کا خیال ہے کہ زمین کے نیچے بہت زیادہ بلند ہونے والے اجسام ہیں جس طرح کہ اوپر اٹھنے والی ہوا ہوتی ہے۔ اور یہ ڈھلوان ہے تو قوت اور مدار میں نیچے آنے والی زمین ٹھہر گئی، جبکہ مسلمان اور اہل کتاب کا عقیدہ زمین کے وقوف، اس کے ساکن ہونے اور اس کے پھیلنے کا ہے اور اس کی حرکت عام طور پر زلزلہ کے ذریعے ہوتی ہے جو (بعض اوقات) اس میں بپا ہوتا ہے۔ وانھرا یعنی زمین پر جاری پانی، اس میں مخلوق کا فائدہ اور منافع ہے۔ ومن کل المثرات جعل فیھا زوجین اثنین۔ زوجین اثنین، بمعنی صنفین ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : الزوج واحد ہے اور ہوتے دو ہیں۔ فراء نے کہا : الزوجین سے یہاں مراد مذکر اور مؤنث ہے لیکن یہ نص کے خلاف ہے۔ ایک قول ہے : زوجین کا معنی نوعین ہے جس طرح کہ میٹھا اور کڑوا، خشک اور تر، سفید اور سیاہ، چھوٹا اور بڑا۔ ان فی ذلک لایت یعنی دلالت اور علامات لقوم یتفکرون اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 4 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وفی الارض قطع متجورت کلام میں فرق ہے : معنی ہوگا : وفی الارض قطع متجا ورات وغیر متجاورت جس طرح فرمایا : سرابیل تقیکم الحر (النحل :81) جبکہ مطلب ہے سرابیل تقیکم الخروتقیکم البرد پھر وغیرہ متجاورات کو سامع کے علم کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ المتج اور ات سے مراد شہر اور وہ علاقے ہیں جو آباد ہوں اور غیر متجاورات سے مراد صحراء اور غیر آباد علاقے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : متجورات سے مراد قریب قریب کے شہر ہیں، ان کی مٹی ایک ہے، ان کا پانی ایک ہے، ان میں کھیتیاں اور باغات ہیں لیکن پھلوں اور کھجوروں میں واضح فرق ہے۔ بعض پھل میٹھے ہوتے ہیں جبکہ بعض ترش ؛ بعض درخت کی ایک ٹہنی کا پھل چھوٹا، بڑا ہونے میں رنگ و ذائقہ میں مختلف ہوجاتا ہے اور ان تمام پر سورج و چاند کا پھیلاؤ ایک ہی نظم و نسق کے مطابق ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بےنیازی پر بہت بڑی دلیل ہے اور ایسے آدمی کے لیے بڑی نصیحت ہے جو اس کی معرفت سے گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : یسقی بمآء واحد کے ذریعے اس بات پر آگاہ فرمایا کہ یہ سب کچھ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور وہ ذات اپنی قدرت پر عمل فرمانے والی ہے۔ یہ طبیعت کے قول کے بطلان کی بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ اگر یہ سب کچھ پانی اور مٹی کے ذریعے ہوتا اور اس کا فاعل طبیعت ہو تو پھر اختلاف وقوع پذیر نہ ہوتا۔ ایک قول یہ ہے کہ استدلال کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ٹکڑوں کے درمیان فرق کو ثابت فرمایا۔ مٹی کے ایک ٹکڑے سے میٹھی چیز پیدا ہو رہی ہے اور دوسرے سے ترش حالانکہ وہ بالکل ایک دوسرے کے قریب ہے۔ یہ بھی اس کی قدرت کے کمال کی دلیلیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ظالموں اور منکروں کی کہی ہوئی باتوں سے بلند تر ہے۔ مسئلہ نمبر 3: کفار لغتہ اللہ علیہم کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر حادث چیز خود بخود پیدا ہوجاتی ہے اس کا کوئی صانع اور بنانے والا نہیں ہوتا اس پر درختوں سے پیدا ہونے والے پھلوں کو بطور استشہاد انہوں نے پیش کیا ہے۔ انہوں نے ان کے پیدا ہونے کا اقرار جبکہ پیدا کرنے والے کا انکار کردیا، اسی طرح اعراض کا انہوں نے انکار کیا ہے۔ ایک گروہ نے کہا : پھل بغیر صانع کے پیدا ہوتا ہے، اور اعراض کا فاعل ہوتا ہے، اور حادث کے لیے کسی محدث کے ضروری ہوجانے پر دلیل یہ ہے کہ وہ ایک وقت میں اسے پیدا کرتا ہے اور جو چیز اس کی ہم جنس ہے اسے دوسرے وقت میں پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ اختصاص کی وجہ سے اس کے وقت میں اس کا حدوث ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ چیز جو اس کی ہم جنس ہے وہ اس کے وقت میں ہی پیدا ہوتی۔ جب اس کے وقت کے ساتھ اس کا اختصاص باطل ہے تو اس کے ساتھ اس کا اختصاص صحیح ہوگا اس محضص کی وجہ سے جس نے اس کے ساتھ خاص کیا ہے، اگر اس کی تخصیص اس کے ساتھ نہ ہو تو اس کا حدوث اس کے وقت میں، اس کے وقت سے پہلے یا بعد اس کے حدوث سے اولی نہ ہو۔ اور اس کی تفصیل علم کلام میں ہے۔ مسئلہ نمبر 4 قولہ تعالیٰ : وجنت من اعناب حضرت حسن نے وجنت تا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، تقدیر عبارت یوں ہوگی : وجعل فیھا جنات یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وجعل فیھا رواسی (فصلت :10) پر محمول ہے۔ اور کل پر محمول کرتے ہوئے اس کا مجرور ہونا بھی صحیح ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی : ومن کل الثمرات ومن جنات باقی قراء نے جنت پڑھا ہے تقدیر عبارت ہوگی : وبینھما جنات، وزرع و نخیل صنوان وغیر صنوان وابن کثیر، ابو عمرو اور حفص نے جنات پر عطف کرتے ہوئے ان کو مرفوع پڑھا ہے یعنی وفی الارض ذرع ونخیل اور باقی قراء نے اعناب پر عطف کرتے ہوئے مجرور پڑھا ہے۔ تو کھیتی اور کھجور باغوں میں سے ہی ہوں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وجنت کی طرح کل پر ان کا عطف کیا جائے۔ مجاہد اور سلمی وغیرہ نے صنوان صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ۔ یہ دونوں لغتیں ہیں یہ دونوں " صنو " کی جمع ہیں اور یہ کھجور کے بہت سے درخت ہیں یا دو درخت ہیں۔ ان کی ایک ہی اصل ہوتی ہے اس سے کئی سرے نکلتے ہیں تو وہ کھجور کئی درخت بن جاتے ہیں۔ اس کی مثال قنوان ہے جس کا واحد متفرق درخت ہیں۔ نحاس نے کہا : لغت میں یہ اس طرح ہے کہ جب اس میں کوئی اور کھجور کا درخت ہو یا زیادہ درخت ہوں تو صنوان کہا جاتا ہے اور الصنو سے مراد مثل ہے اس سے محمد ﷺ کا ارشاد : عم الرجل صنوابیہ ہے یعنی آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہے۔ اس میں تثنیہ اور جمع کا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ شاعر نے کہا : العلم والحلم خلتا کرم للمرء زین إذاھما اجتمعا صنوان لایستنم حسنھما الا بجمع ذا وذاک معا شعر میں صنوان تثنیہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مسئلہ نمبر 5: قولہ تعالیٰ : یسقی بمآء واحد جس طرح کہ بنی آدم کے نیک اور خبیث سب کا باپ ایک ہے۔ یہ نحاس اور بخاری کا قول ہے۔ عاصم اور ابن عامر نے یسقی، یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس سب کچھ کو سیراب کیا جاتا ہے، جبکہ باقیوں نے جنت کی وجہ سے تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم اور ابو عبیدہ نے اس کو اختیار کیا ہے۔ ابو عمرو نے کہا ہے کہ تانیث بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی ولفضل بعضھا علیٰ بعض فی الاکل فرمایا ہے بعضہ نہیں فرمایا۔ حمزہ اور کسائی نے یدبر الامرء یفضل اور یغشی کا قیاس کرتے ہوئے یفصل پڑھا ہے اور باقیوں نے نفضل نون کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی نحن نفصل حضرت جابر بن عبد اللہ نے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت محمد ﷺ سے حضرت علی ؓ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " لوگ مختلف درختوں سے ہیں، میں اور آپ ایک درخت سے ہیں "۔ پھر حضرت محمد ﷺ نے وفی الارض قطع متجورت کی یسقی بمآء واحد تک تلاوت فرمائی۔ اور الاکل سے مراد پھل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد میٹھا، ترش، فارسی اور ردی کھجور ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل کے بارے میں فرمایا : الفارسئ والدقل والحلووالحامض اس کو ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت حسن نے کہا : اس آیت سے مراد ضرب المثل ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے لیے ضرب المثل بیان فرمائی ہے کہ ان کی اصل ایک ہے جبکہ یہ بھلائی، برائی، ایمان اور کفر میں اس طرح مختلف ہیں جس طرح ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والے پھل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی سے شاعر کا قول ہے : الناس کالنبت والنبت ألوان منھا شجر الصندل والکافور والبان ومنھا شجر ینضع طول الدھر قطران اس شعر میں اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون یعنی ایسے آدمی کے لیے نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنے والا دل رکھتا ہے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

آیت نمبر 5 قولہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولھم۔ یعنی اے محمد ﷺ ! اگر آپ ان کے اس روپے پر حیران ہیں کہ آپ کو صادق وامین تسلیم کرنے کے بعد انہوں نے آپ کی تکذیب کی تو ان کا بعث بعد الموت کی تکذیب کرنا اس سے زیادہ حیران کن ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حیران نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے حیران ہونا چاہئے، کیونکہ تعجب تو اسباب مخفیہ کی وجہ سے نفس کی تبدیلی کو کہتے ہیں (اور اللہ تعالیٰ تو اس سے منزہ و مبرا ہے) ، یہاں صرف اس لیے ذکر فرمایا ہے تاکہ اس سے اللہ کا نبی اور مومنین حیران ہوں۔ ایک قول کے مطابق معنی یہ ہے : اے محمد ﷺ ! اگر آپ اس بات سے حیران ہیں کہ یہ مجھے آسمانوں، زمین اور ایک زمین سے مختلف پھلوں کا خالق مانتے ہیں اور بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں تو ان کی یہ گفتگو حیران کن ہے جس سے ساری مخلوق حیران ہے کیونکہ اعادہ اور بعث بعد الموت ابتدا ہی کی طرح ہے۔ ایک قول کے مطابق : آیت صانع کے منکرین کے بارے میں ہے، یعنی اگر آپ اتنے واضح دلائل کے باوجود ان کے صانع کے انکار سے حیران ہیں کیونکہ متغیر کے لیے کسی تبدیل کرنے والے کا ہونا ضروری ہوتا ہے تو یہ بات (واقعتا) محل تعجب ہے۔ اور نظم آیت پہلے اور دوسرے دونوں معنوں پر دلالت کرتی ہے، ءاذا کنا ترباء یعنی جب ہم مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟ انا لفی خلق جدید اس کا إنا بھی پڑھا گیا ہے۔ والأغلال، غل کی جمع ہے اس سے مراد ایسا طوق ہے جس کے ساتھ ہاتھ سے گردن تک باندھ دیا جاتا ہے یعنی قیامت کے دن باندھ دئیے جائیں گے اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد : الا غلل فی اعناقھم۔۔۔ ثم فی الناس یسجرون۔ (غافر) تک ہے۔ ایک قول کے مطابق اغلال سے مراد ان کے وہ برے اعمال ہیں جو انہیں لازم ہیں۔
Ayahs 13:6–7

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

آیت نمبر 6 تا 7 قولہ تعالیٰ : ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ یعنی اپنے انکار اور تکذیب کی زیادتی کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ان کا یہ قول ہے : اللہھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (الانفال : 32) یا اللہ ! اگر تیری طرف سے یہی حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ حضرت قتادہ نے کہا : انہوں نے معافی سے پہلے سزا کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پروردگار عالم نے اس امت سے سزا کو قیامت تک مؤخر کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : قبل الحسنۃ سے مراد قبل الایمان ہے جس کی وجہ سے امان اور نیکیوں کی امید ہوتی ہے۔ المثلث سے مراد عقوبات ہیں۔ اس کا واحد مثلۃ ہے۔ اعمش سے روایت ہے کہ اس نے المثلات میم کے ضمہ اور ثا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مثلہ کی جمع ہے اور المثلات بھی صحیح ہے یعنی ضمہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے ضمہ کو فتحہ سے تبدیل کردیا جائے۔ ایک قول یہ ہے : ھا کے عوض فتحہ کو لایا جاتا ہے۔ اعمش سے یہ بھی روایت ہے کہ اس نے المثلات میم کے فتحہ اور ثا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ تو یہ مثلہ کی جمع ہے پھر ضمہ کے ثقل کے باعث ضمہ کو حذف کردیا گیا۔ نحاس (رح) نے یہ سب کچھ بیان کیا ہے۔ جماعت کی قرأت کے مطابق اس کا واحد مثلہ ہے جیسے صدقہ اور بنو تمیم ثا اور میم دونوں کو ضمہ دیتے ہیں، ان کی لغت کے مطابق اس کا واحد مثلہ یعنی میم کے ضمہ اور ثا کے جزم کے ساتھ ہے ؛ جیسے غرفۃ اور غرفات۔ اور اس سے فعل مثلث، امثل، مثلاً میم کے فتحہ اور ثا کے سکون کے ساتھ آتا ہے۔ وان ربک لذو مغفرۃ یعنی مشرکین کے ایمان لانے کی صورت میں ان سے درگزر کرنے والا اور گناہگاروں کی توجہ کی صورت میں انہیں معاف فرما نے والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیت وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمہم سے امید رکھتا ہوں۔ وان ربک لشدید العقاب جب وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں تو تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے عن سعید بن مسیب بیان کیا ہے کہ آپ نے کہا : جب وان ربک لذو مغفرۃ للناس علیٰ ظلمہم وان ربک لشدید العقاب نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر اللہ کی معافی، رحمت اور درگزر کا سلسلہ نہ ہوتا تو کسی کی زندگی پر سکون نہ ہوتی اور اگر اس کی سزا، وعید اور عذاب نہ ہوتا تو ہر ایک توکل کرلیتا “۔ ویقول الذین کفروا لولا یعنی ھلا، انزل علیہ ایۃ من ربہ، جب انہوں نے آیات کی خواہش کی اور ان کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا : انما انت منذر، منذر کا معنی معلم ہے۔ ولکل قوم ھاد یعنی ایسا نبی جو ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے الھادی اللہ۔ یعنی آپ پر انذاد لازم ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہے تو اللہ ہر قوم کا ہادی ہے۔
Ayahs 13:8–9

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

آیت نمبر 8 تا 9 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی یعنی بچہ، بچی، عمدہ، قبیح، نیک اور نافرمان میں سے اور سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ علم غیب میں منفرد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم نے وہاں امام بخاری کی حضرت ابن عمر ؓ سے حدیث بھی ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” غیب کی چابیاں پانچ ہیں “۔ الحدیث اور اس میں یہ بھی ہے کہ ” جو رحم کم کرتے ہیں اسے سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا “۔ وما تغیض الارحام وما تزداد کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : یعنی یہ ہے کہ جو نو ماہ سے پہلے بچہ گرا دیتی ہیں اور جو نو ماہ سے زیادہ عرصے میں جنتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ مجاہد نے کہا : جب عورت حالت حمل میں حائضہ ہوجاتی ہے تو یہ اس کے بچے کے لئے نقصان کا باعث ہوتا ہے اور اگر حیض چھ دن سے زیادہ ہوجائے تو جو نقصان ہوچکا ہوتا ہے وہ پورا ہوجاتا ہے۔ مجاہد سے ہی روایت ہے : الغیض سے مراد ہے ” خون میں سے جو رحم کم کردیتے ہیں “ اور زیادتی سے مراد جو ان سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق : کمی اور زیادتی دونوں بچے کی طرف راجع ہوتی ہیں جس طرح مثلاً ایک انگلی یا کسی اور عضو کا کم ہوجانا یا انگلی یا کسی عضو کا زیادہ ہوجانا۔ ایک قول یہ بھی ہے : الغیض سے مراد حیض کے خون کا ختم ہونا ہے اور وما تزداد سے مراد وضع حمل کے بعد نفاس کا خون ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ حاملہ کو حیض آسکتا ہے یہ امام مالک اور ایک قول کے مطابق امام شافعی کا بھی قول ہے۔ عطا، شعبی اور دیگر کا قول ہے کہ اسے حیض نہیں آسکتا۔ یہی امام (اعظم) ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے آپ کی دلیل یہی آیت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تاویل کے بارے میں فرمایا : یہ حمل کا حیض ہوتا ہے، عکرمہ اور مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے اور یہی حضرت عائشہ ؓ کا ارشاد ہے اور جب حاملہ عورتوں کو حیض آجاتا تو آپ ان کو ترک نماز کا فتوی دیتی تھیں، اور اس وقت صحابہ ؓ کثرت سے موجود تھے کسی نے بھی آپ کی اس بات کا انکار نہیں کیا تو گویا اس پر سب کا اجماع ہوگیا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ابن قصار نے کہا ہے : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو آدمیوں کا بچے کے بارے میں تنازعہ ہوگیا، تو وہ کیس حضرت عمر ؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے یہ کیس قیافہ شناسوں کے سامنے پیش کردیا۔ قیافہ شناسوں نے وہ بچہ ان کے ساتھ ملایا، تو حضرت عمر ؓ نے دودھ کی زیادتی کے سبب اس کا فیصلہ فرمایا اور قریشی عورتوں سے آپ نے پوچھا آپ نے فرمایا : دیکھو اس بچے کی کیا صورت حال ہے ؟ انہوں نے کہا : پہلے شوہر نے اس کے ساتھ خلوت کی اور اسے فارغ کردیا تو حالت حمل میں اسے حیض آگیا اس نے یہ سوچا کہ شاید اس کی عدت ختم ہوگئی ہے تو دوسرے مرد نے اس کے ساتھ دخول کیا بچہ دوسرے کے پانی کے ذریعے پروان چڑھا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اللہ اکبر ! اور بچے کو پہلے مرد کے حوالے کردیا اور یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ حاملہ کو حیض نہیں آتا اور نہ صحانہ میں سے کسی نے کہا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس پر اجماع ہے۔ واللہ اعلم۔ مخالف کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ حاملہ کو حیض آسکتا ہے اور حاملہ عورت جو خون دیکھے گی وہ حیض ہوگا تو پھر حیض کے ذریعے استبرا صحیح نہیں ہوگا حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ حیض کے ذریعے استبراہو جاتا ہے۔ امام مالک سے امام محمد کی کتاب میں ایک روایت ہے جو اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ حیض نہیں۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ حاملہ بعض اوقات نو ماہ سے کم یا زیادہ مدت میں بھی وضع حمل کرتی ہے اور علمائ کا اجماع ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ عبد الملک بن مردوان چھ ماہ کی مدت میں پیدا ہوا تھا۔ مسئلہ نمبر 4: یہ چھ ماہ چاند کے اعتبار سے ہوں گے جس طرح کہ سارے شرعی مہینے۔ اسی وجہ سے امام مالک کے بعض اصحاب سے مذہب کے بارے میں روایت ہے۔ میرا (قرطبی) خیال ہے ابن حارث کی کتاب میں ہے کہ اگر وہ چھ ماہ سے تین دن کم ہوا تو بچہ مہینوں کی کمی یا زیادتی کی علت کے سبب کسی کے ساتھ ملحق ہوگا اس کو ابن عطیہ نے بیان کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5: حمل کی اکثر مدت میں علماء کا اختلاف ہے۔ ابن جریج نے جمیلہ بنت سعد سے عن عائشہ ؓ روایت کیا ہے آپ نے فرمایا : حمل تکلہ کے سائے کے پھرنے کی مقدار بھی دو سال سے زیادہ نہیں ہوگا، اس کو دار قطنی نے ذکر کیا ہے جمیلہ بنت سعد، عبید بن سعد کی بہن نے لیث بن سعد سے بیان کیا : اس کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال ہوگی۔ امام شافعی (رح) سے چار سال مروی ہے۔ امام مالک سے ایک روایت کے مطابق اور یہی مشہور ہے پانچ سال کی مدت منقول ہے۔ آپ سے ایک روایت مالانہایۃ کی بھی ہے اگرچہ وہ مدت دس سال سے بھی زائد کیوں نہ ہوجائے۔ آپ سے یہ تیسری روایت ہے۔ زہری سے چھ اور سات سال مروی ہیں۔ ابوعمر نے کہا : صحابہ کرام میں سے کسی نے اس کی مدت سات سال کہی ہے۔ امام شافعی سے کئی مدتیں منقول ہیں۔ جن میں سے آخری چار سال ہے۔ کوفی (یعنی احناف) کہتے ہیں : دو سال ہے اس سے زیادہ نہیں۔ محمد بن عبد الحکیم کہتے ہیں : ایک سال ہے اس سے زیادہ نہیں۔ داؤد کہتے ہیں : نو ماہ ہے، ان کے نزدیک حمل اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ ابو عمر نے کہا : یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو سوائے اجتہاد کے اور عورتوں کے معروف معاملات کی طرف لوٹنے کے کوئی اصل نہیں وباللہ التوفیق۔ دار قطنی نے ولید بن مسلم سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا : میں نے حضرت مالک بن انس کو کہا کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” حمل تکلہ کے سائے کے پھرنے کی مقدار بھی دو سال سے زیادہ نہیں ہوتا “ تو آپ نے کہا : سبحان اللہ ! یہ کون کہتا ہے ؟ یہ ہماری لونڈی ہے جو کہ محمد بن عجلان کی بیوی ہے، حاملہ ہوتی ہے اور چار سال میں حمل وضع کرتی ہے، بہت زیادہ سچی عورت ہے اور اس کا شوہر بھی بہت زیادہ سچا ہے۔ اس نے تین حمل بارہ سال کی مدت میں وضع کیے ہیں۔ اس کا ہر حمل چار سال کا ہوتا۔ مبارک بن مجاہد نے اس بات کو ذکر کیا ہے اور کہا : ہمارے ہاں مشہور تھا کہ محمد بن عجلان کی بیوی چار سال میں حمل وضع کرتی تھی اور اسے حاملۃ الفیل کہا جاتا تھا۔ اس نے ہی روایت کیا ہے کہ ایک دن حضرت مالک بن دینار بیٹھے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا : اے ابو یحییٰ ! چار سال سے حاملہ عورت کے لیے دعا مانگو وہ شدید تکلیف میں ہے، مالک سخت غصے ہوئے اور مصحف کو بند کیا پھر کہا : یہ قوم ہمیں انبیاء خیال کرتی ہے پھر پڑھا پھر دعا مانگی پھر کہا : اے اللہ ! اگر اس عورت کے پیٹ میں ہوا ہے تو اسے ابھی خارج فرما اور اگر اس کے پیٹ میں بچی ہے تو اسے بچے میں تبدیل فرما، بیشک تو جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے، تیرے پاس ” ام الکتاب “ ہے۔ حضرت مالک نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے، قاصد اس آدمی کے پاس آیا اور کہا : تیری بیوی کو کوئی مسئلہ ہے، وہ آدمی گیا۔ حضرت مالک نے ابھی اپنے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ مسجد کے دروازے سے وہ آدمی سامنے ہوا اس کی گردن پر ایک بچہ تھا جس کے بال سخت گھنگریالے تھے، (تقریباً ) چار سال کا بچہ، اس کے دانت بالکل برابر تھے اور اس کی ناف کٹی ہوئی تھی۔ یہ بھی روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اس نے کہا : اے امیر المومنین ! میں دو سال اپنی عورت سے غائب رہا میں واپس آیا تو وہ حاملہ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اس عورت کے رجم کے بارے میں لوگوں کے ساتھ مشاورت کی، تو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے کہا : اے امیر المومنین ! اگرچہ آپ کو اس عورت پر اختیار حاصل ہے لیکن اس کے پیٹ پر کوئی اختیار نہیں۔ اس کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ یہ وضع حمل کرلے، حضرت عمر ؓ نے اسے چھوڑ دیا، تو اس نے ایسا بچہ جنا جس کے سامنے والے دانت نکل چکے تھے، آدمی نے مشابہت کو پہچان لیا اور کہا : رب کعبہ کی قسم ! یہ میرا بیٹا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : عورتیں معاذ جیسا انسان پیدا نہیں کرسکیں، اگر معاذ نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا۔ ضحاک نے کہا : میری ماں نے مجھے جنا اس حال میں کہ دو سال اس نے مجھے اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔ اس نے مجھے جنا تو میرے دانت نکل چکے تھے۔ امام سے ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ بھی دو سال تک اپنی ماں کے پیٹ میں رہے، ایک قول کے مطابق تین سال رہے۔ کہا جاتا ہے کہ محمد بن عجلان تین سال تک اپنی ماں کے پیٹ میں رہا، ان کی ماں فوت ہوگئی اور وہ بہت زیادہ الٹ پلٹ ہو رہے تھے، تو اس کا پیٹ چاک کیا گیا اور انہیں نکالا گیا تو ان کے دانت نکل چکے تھے۔ حماد بن سلمہ نے کہا ہے کہ ہرم بن حبان کو ہرم کہتے ہی اس لیے ہیں کہ یہ اپنی ماں کے پیٹ میں چار سال رہے۔ غزنوی نے ذکر کیا کہ ضحاک دو سال میں پیدا ہوا۔ اور اس کے دانت نکل چکے تھے تو اس کا نام ضحاک رکھ دیا گیا۔ عباد بن عوام نے کہا : ہماری ایک لونڈی نے چار سال میں بچہ جنا جس کے بال کندھوں تک پہنچ چکے تھے اسکے پاس سے پرندہ گزرا تو اس نے کہا : ” کش “۔ مسئلہ نمبر 6: ابن خویز منداد نے کہا : حیض اور نفاس کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت اور حمل کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدت بطریق اجتہاد ماخوذ ہے، کیونکہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا ان میں سے کسی چیز پر اتنا ہی حکم لگانا درست ہوگا جتنا ہمارے سامنے ظاہر ہوا ہو یا جتنا عورتوں میں عادتاً پایا جاتا ہو یا نادر طور پر جتنا پایا گیا ہو۔ جب ہم نے کسی عورت کے حمل کو چار یا پانچ سال دیکھ لیا تو ہم نے اس کا حکم لگا دیا، اور جب حیض اور نفاس کے سلسلہ میں ہم نے کوئی مستقل صورت نہ دیکھی تو ہم نے دیکھا کہ عورتوں میں شاذو نادر پائی جانے والی مدت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 7: ابن عربی نے کہا : بعض تساہل پسند مالکیوں سے منقول ہے کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت نو ماہ ہے۔ اور یہ قول سوائے ہلاکت میں پڑنے والے کے کسی نے کبھی بھی نہیں کیا، اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ رحم میں تدبیر کرنے والے سات سیارے ہیں وہ ایک ایک ڈیوٹی کرتے ہیں۔ چوتھا مہینہ سورج کا ہوتا ہے، اسی وجہ سے بچہ حرکت کرتا ہے اور اضطراب میں ہوتا ہے۔ جب سات ماہ میں سات سیاروں کے درمیان چکر مکمل ہوجاتا ہے تو آٹھویں ماہ میں وہ کام زحل کے سپرد ہوتا ہے تو وہ اپنی ٹھنڈک کے ساتھ اس کو قبول کرتا ہے، کاش میں ان کے ساتھ مناظرہ کرنے یا جنگ کرنے پر قادر ہوتا، کتنا عجیب ہے چکر تمام ہونے کے بعد وہ زحل پر ہی آسکتا ہے کسی اور کے پاس نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی خبر دی ہے یا تم اللہ تعالیٰ پر بہتان تراشی کرتے ہو ؟ اور جب یہ ممکن ہے کہ ان میں سے دو کے پاس تدبیر دوبارہ لوٹ سکتی ہے تو یہ کیوں جائز نہیں کہ وہ تدبیر تین یا چار کے پاس دوبارہ آجائے یا تمام کے پاس دو ، تین مرتبہ لوٹ آئے ؟ امور باطنہ پر یہ کیسا باطل گمانات کے ساتھ فیصلہ ہے ؟ مسئلہ نمبر 8: قولہ تعالیٰ : وکل شیء عندہ بمقدار یعنی نقصان اور زیادتی میں سے بمقدار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ماں کے پیٹ سے بچے کے نکلنے کی مقدار اور نکلنے تک اس کے پیٹ میں اس کے ٹھہرنے کی مقدار ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : اس سے مراد رزق اور زندگی کی مقدار ہے۔ مقدار سے مراد قدر ہے۔ اور آیت کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ واللہ سبحانہ أعلم۔ میں (قرطبی) نے کہا : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی مدح بیان کرتی ہے کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے، یعنی وہ اس چیز کو بھی جانتا ہے جو مخلوق سے غائب ہے اور اس کو بھی جانتا ہے جس کا مخلوق نے مشاہدہ کر رکھا ہے۔ غیب بمعنی غائب مصدر ہے اور شھادہ بمعنی شاھد مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم غیب میں منفرد ہونے اور مخلوق پر مخفی چیزوں کا باطن کے ذریعے احاطہ کرنے پر آگاہ فرمایا ہے، اس معاملے میں کسی کی شرکت جائز نہیں، جہاں تک اہل طب کا تعلق ہے جو نشانیوں اور علامات کے ذریعے استدلال کرتے ہیں تو اگر وہ اس کے بارے میں قطعی بات کرتے ہیں تو یہ کفر ہے اور اگر وہ یہ کہیں کہ یہ تجربہ ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ عادت و تجربہ تو ناکام بھی ہوسکتا ہے جبکہ علم میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ الکبیر یعنی وہ ذات کہ ہر چیز اس سے کم درجے میں ہے المتعال اس سے بلند ہے جو مشرکین کہتے ہیں۔ ہر چیز سے اپنی قدرت اور قہر کے ذریعے بلندو برتر ہے۔ ان دونوں صفات کا ذکر ہم (قرطبی) نے ” شرح الاسماء “ میں مکمل طور پر کردیا ہے۔ والحمدللہ
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

آیت نمبر 10 قولہ تعالیٰ : سواء منکم من اسر القول ومن جھربہ۔ اسر القول سے مراد وہ بات ہے جو بندہ اپنی ذات کے ساتھ کرے اور جھر سے مراد وہ بات ہے جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خیر و شر میں جو بندہ پوشیدہ طور پر کرے اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس طرح کہ وہ اسے جانتا ہے جو ظاہری طور پر ہو۔ منکم کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ سوآء کی صفت ہو اور تقدیر کلام یوں ہو : سر من أسر وجھر من جھر سواء منکم اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سواء کے متعلق ہو کلام یوں ہو : یستوی منکم جس طرح کہ آپ کا قول : مررت بذید اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تقدیر عبارت یہ ہو : سر من أسر منکم وجھر من جھر منکم تقدیر عبارت یہ بھی ہوسکتی ہے : ذوسواء منکم من أسر القول ومن جھریہ جس طرح کہا جاتا ہے : عدل زیدو عمرو یعنی ذوا عدل۔ ایک قول یہ ہے کہ سوآء بمعنی مستو ہے اس صورت میں مضاف کے حذف کی تقدیر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ومن ھو مستخف بالیل وسارب بالنھار یعنی پوشیدہ و ظاہر، راستوں میں ظاہر اور تاریکیوں میں چھپا ہوا اللہ کے علم میں برابر ہیں۔ أخفش اور قطرب نے کہا : رات میں چھپا ہوا ظاہر ہے۔ اسی سے خفیت الشئ وأخفیتہ ہے یعنی أظھرتہ اور أخفیت الشئی یعنی استخرجتہ۔ اسی سے کفن چور کو مختفی کہا جاتا ہے۔ امرؤ القیس نے کہا : خفاھن من أنفاقھن کأنما خفا ھن ودق من عشی مجلب السارب کا معنی المتواری یعنی سرنگوں میں چھپنے والا ہے۔ السارب المتواری سے مراد داخل سربا ہے اسی سے عربوں کا قول انسرب الوحشی ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اپنی کچھار میں داخل ہوجائے۔ حضرت ابن عباد ؓ نے فرمایا : مستخف بمعنی پوشیدہ اور سارب بمعنی ظاہر ہے۔ مجاہد نے کہا : مستخف یعنی وہ گناہوں کے ساتھ چھپتا ہے اور سارب بمعنی ظاہر ہے۔ ایک قول کے مطابق سارب کا معنی ذاھب ہے۔ کسائی نے کہا : سرب یسرب سربا وسروبا کہا جاتا ہے جب کوئی چلا جائے۔ شاعر نے کہا : وکل أن اس قاربوا قید فحلہم ونحن خلغنا قیدہ فھو سارب سارب سے مراد ذاھب ہے۔ ابو رجاء نے کہا : السارب سے مراد زمین میں اپنے اعتبار پر چلنے پھرنے والا آدمی ہے۔ شاعر نے کہا : أنی سربت وکنت غیر سروب قتبی نے کہا : سارب بالنھار یعنی اپنی ضروریات کے سلسلہ میں تیزی سے گھومنے پھرنے والا۔ یہ عربوں کے قول انسرب الماء سے مشتق ہے۔ اصمعی نے کہا : خل سربہ یعنی اس کا راستہ خالی کر دو ۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

آیت نمبر 11 قالہ تعالیٰ : لہ معقبت یعنی اللہ تعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جو رات، دن انسان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں، جب رات کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں تو دن کے فرشتے ان کے پیچھے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے معقبت فرمایا ہے۔ فرشتے مذکر ہیں کیونکہ معقبات، معقبہ کی جمع ہے اور کہا جاتا ہے : ملک معقب اور ملائکۃ معقبۃ، پھر معقبات جمع الجمع ہے۔ بعض لوگوں نے لہ معاقب من بین یدیہ ومن خلفہ پڑھا ہے۔ معاقیب، معقب کی جمع ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکۃ کے لئے معقبۃ کا لفظ ملائکۃ کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں کی طرف سے تعاقب کی کثرت کی وجہ سے معقبۃ مؤنث ہے جیسے نسابۃ، علامۃ اور راویۃ وغیرہ۔ یہ جوہری وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اور تعقب شروع کرنے کے بعد لوٹنے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولی مدبرا ولم یعقب (النمل : 10) یعنی لم یرجع۔ اور حدیث میں ہے : معقبات لایخیب مائلھن۔ أو۔ فاعلھن پھر آپ نے تسبیح، تحمید اور تکبیر کا ذکر فرمایا ہے۔ ابو الہیثم نے کہا : ان کو معقبات اس لیے کہا گیا کہ یہ بار بار لوٹتے رہتے ہیں، ایسے آدمی کا فعل کہ جو ایک کام کرے پھر دوبارہ وہی کام کرے تو اس وقت کہا جائے گا : فقد عقبت اور اونٹنیوں میں سے معقبات وہ ہوتی ہیں جو حوض پر وارد ہونے والے اونٹوں کے پچھلے حصے کے پاس کھڑی ہوتی ہیں اور جب ایک اونٹنی اس جگہ سے نکلتی ہے تو دوسری اس کی جگہ میں داخل ہوجاتی ہے من بین یدیہ یعنی رات کے وقت چھپنے والے اور دن کے وقت چلنے پھرنے والے کے آگے۔ یحفظونہ من امر اللہ حفظ میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور مہربانی و حشیوں، درندوں اور نقصان دہ چیزوں سے ان کی حفاظت کے لیے فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہو، اور جب تقدیر (غالب) آجائے تو وہ فرشتے بندے اور اس نقصان دہ چیز کے درمیان سے ہٹ جاتے ہوں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا ارشاد ہے۔ ابو مجلز نے کہا : مراد قبیلے کا ایک آدمی حضرت علی ؓ کے پاس آیا، اس نے کہا : بچ کے رہیے مراد قبیلے کے کچھ لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں بشرطیکہ تقدیر نہ آئی ہو۔ اور جب تقدیر آجائے تو وہ بندے اور اللہ کی تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں، بیشک موت بذات خود بہترین قلعہ ہے۔ اسی بنیاد پر یحفظونہ من امر اللہ یعنی اللہ کے امر اور اس کے اذن سے من بمعنی یا ہے اور حروف صفات ایک دوسرے کے قائم مقام ہوتے رہتے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے من بمعنی عن ہو یعنی یحفظونہ عن أمر اللہ، یہ پہلے معنی کے قریب تر ہے۔ یہ حضرت حسن کا قول ہے : جس طرح کسوتہ عن عری ومن عری دونوں طرح مستعمل ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد أطعمہم من جوع ہے یعنی عن جوع ایک قول ہے : وہ عذاب کے فرشتوں سے اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو سزا دینا روا نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی نعمت و عافیت کو تبدیل نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ خود کفر پر اصرار کے ذریعے تبدیل نہ کردیں، جب وہ کفر پر ڈٹتے ہیں تو ان کی سزا کی مدت قریب آجاتی ہے، ان پر مصیبت نازل ہوتی ہے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ان سے ہٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے : وہ جنات سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ حضرت کعب نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اللہ کے امر سے ضرور چھین لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں من امر اللہ فرما کے خاص فرمایا کیونکہ وہ دیکھ نہیں رہے ہوتے جس طرح اللہ نے فرمایا : قل الروح من امر ربی (الاسراء : 85) فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے امر سے ہے یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ فراء نے کہا کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : لہ معقبات من أمر اللہ من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ، یہ مجاہد، ابن جریج اور نخعی سے مروی ہے۔ اور اگر یحفظونہ من ملائکۃ العذاب والجن من أمر اللہ ہو تو پھر کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ ابن جریج نے کہا : وہ فرشتے بندے کے عمل کو محفوظ کرتے ہیں۔ مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ اس کے اقوال و افعال کو لکھتے ہیں۔ جب معقبت فرشتے ہوں تو لہ کی ھا ضمیر اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستخفی کے لیے ہو۔ ایک قول کے مطابق : لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ سے مراد نبی کریم ﷺ کا ذکر لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ انما انت منذر (الرعد :7) سے چلا ہے یعنی تم میں سے سب اس بات میں یکساں ہیں وہ بھی جو آہستہ بات کرتا ہے اور وہ بھی جو بلند آواز سے بات کرتا ہے کہ نبی ﷺ کو وہ نقصان نہیں دے سکتا بلکہ اللہ کے ایسے فرشتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام انبیائ کی طرف راجع ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ولکل قوم ھاد۔ ارشاد فرمایا ہے، یعنی یحفظون الھادی من بین یدیہ ومن خلفہ اور چوتھا قول یہ ہے کہ آیت سے مراد وہ سلاطین و امراء ہیں جن کی قوم ان کے آگے اور پیچھے سے ان کی حفاظت کرتی ہے اور جب اللہ کا امر آجاتا ہے تو اللہ سے وہ انہیں ذرہ بھر بھی نہیں بچا سکتے۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت علی کا قول ہے۔ اور اسی طرح ضحاک نے کہا : اس سے مراد وہ مشرک بادشاہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے امر سے بچاتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس تاویل کی صورت میں کلام میں نفی محذوف ہے یعنی لایحفظونہ من امر اللہ۔ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ مہدوی نے کہا : معقبت کو محافظ بنانے کی صورت میں معنی ہوگا : یحفظونہ من أمر اللہ علی ظنہ وزعمہ، ایک قول یہ ہے : یکساں ہے جو آہستہ بات کرتا ہے اور بلند آواز سے بات کرتا ہے تو اس کے محافظ اور مددگار ہیں جو اس کا تعاقب کرتے ہیں اور اسے گناہ و نافرمانی پر ابھارتے ہیں، اور اس میں نصیحت کے مؤثر ہونے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ قشیری نے کہا : یہ پروردگار عالم کو مہلت دینے سے نہیں روکتی یہاں تک کہ وہ عذاب کو ثابت کر دے۔ تو اس صورت میں اس نافرمان نے بذات خود گناہ پر اصرار کو لمبا کرکے اس حکم کو تبدیل کردیا تو یہی چیز سزا کا سبب بن جائے گی تو گویا وہ ایسا آدمی ہے جس نے بذات خود سزا کو حلال کرلیا ہے، تو اللہ کا ارشاد : یحفظونہ من امر اللہ سے مراد یحفظونہ من انتقال أمر اللہ ہوگا۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا : معقبت سے مراد وہ ہیں جو اللہ کے امر اور اس کی قضا سے اس کے بندوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ ماوردی نے کہا : جس آدمی نے یہ بات کی ہے تو اس کے مطابق یحفظونہ من امر اللہ کے ارشاد کی تاویل کی دو صورتیں ہوں گی۔ نمبر 1:۔ وہ اس کی تب تک موت سے حفاظت کریں گے جب تک موت نہیں آتی۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔ نمبر 2: وہ اس کی جنوں اور موذی درندوں سے حفاظت کریں گے جب تک تقدیر غالب نہیں آتی، یہ ابو امامہ اور کعب الاحبار کا قول ہے اور جب تقدیر آجائے گی تو وہ راستہ خالی چھوڑ دیں گے اور صحیح بات یہ ہے کہ معقبات سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی حضرت حسن، مجاہد، قتادہ اور ابن جریج نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور نحاس نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ دلیل نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ ” رات اور دن کے فرشتے تمہارا تعاقب کرتے ہیں “۔ الحدیث اس کو ائمہ نے روایت کیا ہے۔ ائمہ نے عمرو عن ابن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ آپ نے اس کی تلاوت یوں کی ہے : معقبات من بین یدیہ ورقباء من خلفہ (من أمر اللہ) یحفظونہ تو اس نے معنی کو بالکل واضح کردیا ہے۔ کنانۃ عدوی نے کہا : حضرت عثمان ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے بندے کے بارے میں بتائیے کہ اس کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :” ایک فرشتہ آپ کے دائیں طرف ہوتا ہے جو نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا بائیں جانب جو برائیاں لکھتا ہے اور جو دائیں جانب والا ہے وہ بائیں جانب والے پر امیر ہوتا ہے جب آپ نیک عمل کرتے ہیں تو وہ دس نیکیاں لکھتا ہے اور جو دائیں جانب والا ہے وہ بائیں جانب والے پر امیر ہوتا ہے جب آپ نیک عمل کرتے ہیں تو وہ دس نیکیاں لکھتا ہے اور جب آپ برا عمل کرتے ہیں تو بائیں جانب والا، دائیں جانب والے کو کہتا ہے کیا میں لکھوں ؟ وہ کہتا ہے نہیں شاید یہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے اور توبہ کرلے۔ جب وہ تین دفعہ کہتا ہے تو یہ کہتا ہے : ہاں لکھ، ہمیں اللہ تعالیٰ اس سے بچائے پس کتنا برا ساتھی ہے وہ جو اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو کم خیال کرتا ہے اور اپنے حیاء کے حوالے سے تھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا مگر اس کے پاس ایک سخت تاڑنے والا ہوتا ہے اور دو فرشتے آپ کے سامنے اور پیچھے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ (اور ایک فرشتہ آپ کی پیشانی پر قابض ہوتا ہے جب آپ اللہ کے لیے جھکتے ہیں تو وہ آپ کو اٹھا دیتا ہے اور جب تو اللہ تعالیٰ کو مجبور کرتا ہے تو وہ تجھے ہلاک کردیتا ہے) اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہوتے ہیں اور وہ صرف حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل پر پیش کیا گیا درود محفوظ کرتے ہیں اور ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہوتا ہے وہ تیرے منہ میں سانپ کو داخل نہیں ہونے دیتا اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہوتے ہیں تو یہ دس فرشتے ہیں جو ہر آدمی پر مسلط ہوتے ہیں رات کے فرشتے، دن کے فرشتوں سے بدلتے رہتے ہیں کیونکہ رات کے فرشتے، دن کے فرشتے نہیں ہوتے تو یہ کل بیس فرشتے ہر آدمی پر مسلط ہوئے اور ہر آدمی کے ساتھ ابلیس دن کے وقت ہوتا ہے جبکہ اس کا بیٹا رات کے وقت، اس کو ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت حسن نے کہا معقبت، چار فرشتے ہیں جو فجر کی نماز کے وقت جمع ہوتے ہیں اور طبری کا مختار یہ ہے کہ معقبات سے مراد امراء کے سامنے اور پیچھے والی بھیڑ ہے اور لہ کی ھا ضمیر ان کے لیے ہے۔ علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات کو دو طرح بنایا ہے ایک وہ جن کے وقوع پذیر ہونے کا اس نے فیصلہ فرما دیا ہے ان کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی ان کو کوئی تبدیل کرسکتا ہے، جبکہ دوسرے احکامات وہ ہیں جن کے آنے کا اس نے فیصلہ فرما دیا البتہ وقوع پذیر ہونے کا فیصلہ نہیں فرمایا، بلکہ توبہ، دعا، صدقہ اور حفاظت کے ذریعے ان کے ٹل جانے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ کسی قوم کو تب تک تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ ان کی طرف سے تبدیلی وقوع پذیر نہ ہو یا تو یہ تبدیلی ان کی طرف سے ہو، یا ان کے دیکھنے والوں کی طرف سے یا کسی ایسے آدمی کی طرف سے ہو جو ان میں سے ہو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کے دن تیر اندازوں کی بذات خود تبدیلی کے سبب انہیں شکست خور دہ لوگوں کے ساتھ بدل دیا، اس کے علاوہ بھی شریعت کی مثالیں موجود ہیں۔ آیت کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف گناہ کے سرزد ہونے کی صورت میں ہی عذاب نازل فرماتا ہے بلکہ بعض اوقات دوسرے لوگوں کے گناہوں کے سبب بھی مصائب نازل ہوتے ہیں، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” ہاں جب خبث (زنا) زیادہ ہوجائے گا “۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : واذا اراد اللہ بقوم سوءا یعنی ہلاک کرنے اور عذاب نازل کرنے کا فلا مردلہ ایک قول یہ ہے : جب اللہ تعالیٰ بیماریوں وغیرہ میں سے کسی مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اس مصیبت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ یہ بھی کہا گیا ہے : جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو برائی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو ان کی بصارت کو اندھا کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ ایسا کام اختیار کرتے ہیں جس میں مصیبت ہوتی ہے اور اسی کو عملی جامہ پہنا دیتے ہیں اور خود اپنے قدموں پر چل کر ہلاکت کی طرف جاتے ہیں یہاں تک کہ آدمی خود اپنے ہاتھ سے بربادی تلاش کرتا ہے اور اپنے قدم پر چل کر اپنے خون کو بہانے کی طرف جاتا ہے وما لھم من دونہ من وال یعنی کوئی پناہ گاہ۔ یہ سدمی کے قول کا معنی ہے۔ ایک قول یہ ہے : وہ کوئی مددگار نہیں پاتا جو اسے اس عذاب سے بچا سکے۔ شاعر نے کہا : مافی السماء سوی الرحمن من وال آسمان میں رحمن کے علاوہ کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ وال اور والی ایسے ہیں جیسے قادر اور قدیر۔