Ayah 15:11۔ دونوں صفتیں ایک ہی موصوف کی بیان ہوئی ہیں یعنی وہ کتاب کامل بھی ہے اور قرآن واضح بھی۔ (آیت) ” قران “۔ میں تنوین تعظیم کی ہے۔ وتنکیرہ للتفخیم (بیضاوی) والتنکیر للتفخیم (مدارک) وتنکیر القران للتفخیم (کشاف) (آیت) ” ا آر “۔ انا اللہ اری کا مخفف سمجھا گیا ہے حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا۔
Ayah 15:22۔ (اور ان شدید ترین اور ناقابل برداشت عذابوں سے محفوظ رہتے ! ) یہ کلمات حسرت وتأسف کافروں کی زبان پر آخرت میں جاری ہوں گے، جب اپنا حشران پر منکشف ہوچکے گا، اور طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونے لگیں گے۔ (آیت) ” ربما “۔ یہ کلمات حسرت کی تکرار شاید اس لیے کہ جب جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی، اور ساتھ ہی محسوس ہوگا کہ اس کی علت کفر ہی ہے، تو یہ حسرت ہر دفعہ تازہ ہوجائے گی، (آیت) ” الذین کفروا “۔ اس میں ہر نوع کے کافر شامل ہیں، جن میں قدر مشترک صفت کفر ہے۔ (آیت) ” لوکانوا مسلمین “۔ آیت میں صرف مسلمین ہے، متقین۔ خاشعین وغیرہ نہیں۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت انس ؓ ، حضرت ابوموسی اشعری ؓ ، حضرت ابوسعید الخدری ؓ وغیرہ متعدد صحابیوں سے متعدد تابعین کے واسطہ سے روایتیں اسی مضمون کی ملتی ہیں کہ جہنم میں کافروں کے ساتھ گنہگار مسلمان بھی ملے جلے ہوئے ہوں گے، اس پر کافر ان سے طنز سے کہیں گے کہ تمہارا کلمہ شہادت کچھ بھی کام نہ آیا، معا اس سے غیرت الہی حرکت میں آئے گی، اور کل اہل قبلہ آگ سے آزاد کرکے جنت میں پہنچا دیئے جائیں گے۔ اس وقت کافروں کی زبان سے یہ پر حسرت کلمات نکلیں گے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، معالم، کبیر وغیرہ) مفسرین کی اکثریت نے بھی یہی پہلواختیار کیا ہے۔ وعلی ھذا القول اکثر المفسرین (کبیر) روی ذلک عن کثیر من السلف الصالح (روح) آیت سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مراتب طاعت وتقوی کا تو ذکر ہی نہی، مجرد اسلام اور اقرار شہادتین بھی کتنی بڑی رحمت اور نعمت عظیم ہے۔
Ayah 15:33۔ یعنی عنقریب ہی انہیں کافرانہ زندگی کے انجام کا مشاہدہ اور ذاتی تجربہ ہوا چاہتا ہے۔ (آیت) ” سوف “۔ یعنی مرنے کے ساتھ ہی۔ (آیت) ” ذرھم “۔ یعنی آپ ان کے کفر پر زیادہ غم وحزن نہ کیجئے۔ یہ مطلب نہیں کہ ان پر تبلیغ ترک کردیجئے (آیت) ” یاکلوا ویتمتعوا ویلھھم الامل “۔ کھانے پینے کی لذتوں میں پڑے رہنا، فوری اور وقتی مقصدوں کی الٹ پھیر میں لگے رہنا، مدت عمر کو دور ودراز کی خیالی آرزوؤں اور منصوبوں میں گزارتے رہنا، یہ سب خصوصیات آخرت سے غافل اور خدا فراموش قوموں کی ہیں۔ اور جس طرح گزشتہ مشرک اور جاہلی قوموں کے حق میں صادق تھیں آج بھی فرنگستان کی ” مہذب “ و روشن خیال “ قوموں پر کیسی صادق آرہی ہیں !۔ (آیت) ” تمتعوا “ تمتع سے مراد انہیں مشغلوں میں انہماک ہے، جن کا نفع تمامتر عاجل وفوری ہے (آیت) ” یلھھم الامل “۔ سے صاف اشارہ اسی طرف ہوگیا کہ طول امل میں پڑے رہنا ہرگز مومن کے شایان شان نہیں۔
Ayahs 15:4–54۔ ( چناچہ ان کافروں پر بھی فی الفور جو گرفت نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہی ہے کہ ابھی ان کا وقت موعود نہیں آیا ہے)
Ayah 15:65۔ (جو پیغمبری اور وحی کے دعوے کرتا ہے) (آیت) ” الذکر “۔ ذکر کے لفظی معنی تو نصیحت کے ہیں، مگر الذکر اصطلاح قرآنی میں قرآن ہی کا ایک نام مقرر ہوچکا ہے۔ اے القران (روح)
Ayah 15:76۔ ان کافروں نے فرط عناد سے بیخود ہو کر قرآن اصل دعوی و دلیل یعنی اس کے مضامین کی صداقت، اس کی تعلیمات کے معجز ہونے پر غور ہی نہیں کیا بلکہ لغو مطالبہ ہی پیش کردیا کہ سچے پیغمبر ہو تو بطور خارق عادت فرشتوں کو اپنے ساتھ لاکر ہمیں دکھا دو ۔
Ayah 15:87۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طریقہ پر یہ کافر فرمائش کررہے ہیں، اس طرح فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں، فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں، اور ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے، تو یہ لوگ تو معا ہلاک کردیئے جاتے، (آیت) ” الا بالحق “۔ یعنی کسی حکیمانہ مقصود کے ساتھ اور وہ مقصود آخر کار ان نافرمانوں کے حق میں عذاب ہی ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ان لوگوں پر رد ہے، جو ایسے شخص سے خوارق کے طالب رہتے ہیں، جس کی حقانیت پر دلائل صحیح قائم ہوچکے ہیں۔
Ayah 15:98۔ (کہ نہ آج مخالفین کے ہجوم شدید سے اسے مٹنے دیں گے، نہ قیامت تک اس کے کسی لفظ، کسی حرف کو کم ہونے دیں گے) قرآن کی جامعیت اکملیت، ابلغیت وغیرہ سے قطع نظر اس کی محفوظیت کامل، اور پھر شروع ہی سے دھڑلے سے اس کا اعلان بجائے خود ایک معجز دلیل اس کے کلام الہی ہونے کی ہے۔ دنیا کے کتب خانے کسی دوسری کتاب کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں، جو ساڑھے تیرہ سو سال سے، اپنے الفاظ، حروف نقوش سب کے لحاظ سے جوں کی توں چلی آرہی ہو۔ میور، پامر، آرنلڈ وغیرہ مشاہیر فرنگ کی راؤں کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی (آیت) ” انالہ لحفظون “۔ حفاظ وغیرہ انسانی مدد سے قرآن کا محفوظ رہ جانا، یہ وعدہ حفاظت الہی کے منافی نہیں، عین اسی کا ذریعہ ہے۔ (آیت) ” انا نحن نزلنا “۔ زور اور تاکید کے موقع پر متکلم کی تین تین ضمیریں اکٹھی لے آنا عربی اسلوب بلاغت کے عین مطابق ہے۔ اردو میں اس مفہوم کو ادا کرنے کی وہی صورت ہے جو ترجمہ میں اختیار کی گئی، ثبوت و دلیل کا مرتبہ تو بعد کا ہے، مجرد یہ دعوی کہ یہ لفظ بہ لفظ کلام الہی ہے، آج روئے زمین میں کسی بھی دوسری کتاب کا نہیں، یہاں تک کہ توریت اور انجیل کا بھی نہیں۔ قرآن اس دعوی میں بالکل منفرد ہے۔ دوسری کتابوں سے متعلق دعوی زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ان کے اندر مغزوروح خدائی تعلیم کی آگئی ہے۔ باقی وہ مرتب کی ہوئی تمامتر انسانوں کی ہیں، اور ان کی عبارتیں صرف خاصان خدا کی لکھی ہوئی ہیں۔
Ayah 15:109۔ (اور ان کی بھی برابر تکذیب ہی ہوتی رہی۔ سو آپ کی تکذیب پیغمبروں کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں)
Ayahs 15:11–1310۔ ایک مخلص وہوا خواہ قوم مصلح جب اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی ہوا خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ اور حیران رہ جاتا ہے، چہ جائیکہ وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہوا ہے ! آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزر رہی ہوگی ! قرآن کریم اسی لئے بار بار آپ کی تسکین وتشفی کے لئے تاریخی نظیروں پر توجہ دلاتا ہے، (آیت) ” نسلکہ فی قلوب المجرمین “۔ یہ مجرموں کے دل میں استہزاء کا القاء بالکل اسی طرح کا ہے، جیسے ہر معصیت، ہر فسق، ہر کفر کا القاء نظام تکوینی میں مسبب الاسباب ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ یہ استہزا کسی درجہ میں بھی مطلوب ومقصود خداوندی ہے۔
Ayah 15:1411۔ (آسمان پر) (آیت) ” ظلوا “۔ کے معنی ہیں کہ کسی فعل کو روز روشن میں کیا۔ یعنی یہ خارق عادت عمل میں آئے اور ہوش وبیداری کے عالم میں پوری روشنی میں عمل میں آئے نیند کی بیہوشی اور تاریکی وغیرہ سے شبہات کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ لاتقول العرب ظل یظل الا لکل عمل عمل بالنھار (کبیر) یعبر بہ عمایفعل بالنھار (راغب) مطلب یہ ہوا کہ یہ کافر معاند اگر اپنے فرمایشی معجزہ یعنی کافروں کے نزول زمینی سے کہیں بڑھے ہوئے خارق عادت یعنی اسرار و عجائب آسمانی کو بہ چسم خود جاکر دیکھ لیں۔ (آیت) ” لو فتحنا “۔ الخ ‘ یہ سب باتیں بہ طور فرض کے کہی گئی ہیں، اور مخاطبین اول کے عام انسانی خیالات اور علمی تحقیقات کے مطابق کہی گئی ہیں۔ جس کے دروازے کھل سکتے ہیں، درست نہیں۔
Ayah 15:1512۔ تو غرض یہ کہ ایک اسی فرمایشی معجزہ یعنی ملائکہ کے نزول آسمانی پر کیا موقوف ہے، کوئی سا بھی خارق عادت اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر بھی انہیں دکھا دیا جائے تو ان معاندوں کی زبانیں خاموش نہیں ہوسکتیں، یہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی بات اعتراض و انکار کی اپنی کٹ حجتی سے پیدا کرلیں گے۔
Ayah 15:1613۔ (کہ ان ستاروں کے باعث آسمان دیکھنے والوں کو خوشنما نظر آتا ہے) آیت میں اس کی تعلیم بھی مل گئی کہ یہ بڑے بڑے روشن اور چمک دار ستارے نہ کوئی دیوی دیوتا ہیں نہ خود آفریدہ ہیں۔ بلکہ تمام تر اللہ ہی کی مخلوق ہیں اور ان کے وجود سے مقصود تو آسمان کو ناظرین کی نظر میں خوشنما بنانا ہے۔
Ayah 15:1714۔ (ان ستاروں کے ذریعہ سے کہ وہ شیاطین کی رسائی وہاں تک نہیں ہونے دیتے)
Ayah 15:1815۔ (اور اس کے اثر سے وہ شیطان ہلاک یا بدحواس ہوجاتا ہے) اہل سائنس کا یہ قول کہ فضا میں بڑے وزنی پتھر چکر کھایا کرتے ہیں، اور وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہوجاتے ہیں، اور کہیں زمین پر ٹوٹ کر گرپڑتے ہیں، قرآن کی بتائی ہوئی حکمت کے ذرا بھی منافی نہیں، قرآن کو ان کی ترکیب، ساخت وغیرہ سے مطلق بحث نہیں، وہ تو اپنے موضوع کے اندر رہ کر صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ ان سے کام شیطان کے بھگانے کا بھی لیا جاتا ہے :۔
Ayah 15:1916۔ زمین کا بنانا، پھیلانا اس پر پہاڑوں کا قائم کرنا، زمین سے ہر نباتات ایک مقدار معین کے مطابق اگانا، یہ سب کام اسی خدائے واحد، قادر و حکیم کے ہیں، نہ یہ چیزیں خود بخود ہوگئی ہیں، نہ انہیں کسی دیوی دیوتا نے کیا ہے۔ (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ یہ پہاڑ اس لیے قائم کردیئے گئے ہیں کہ زمین ڈانواں ڈول نہ ہونے پائے جیسا کہ ایک دوسری جگہ ہے رواسی ان تمید بکم، گویا پہاڑ حکمت تکوینی میں زمین کا لنگر بٹھائے رہنے کیلئے اس کا توازن درست رکھنے کے لئے ہیں، قرآن صرف اسی قدر کہتا ہے اس کے آگے زمین کی گردش سالانہ اس کی حرکت محوری وغیرہ دوسرے مسائل سے قرآن مجید کو نفیا واثباتا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” انبتنا فیھا من کل شیء “۔ اشارہ جنس نباتات کی جانب ہے۔
Ayah 15:2017۔ یعنی زمین کے ذریعہ سے انسان کے علاوہ ان مخلوقات کو بھی سامان زیست بہم پہنچا دیا گیا، جو ظاہر میں بھی انسان کے واسطہ سے پرورش نہیں پاتیں۔ یہ سب قانون الوہیت کی ہمہ گیری کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” معایش “۔ کے تحت میں ماکولات، مشروبات، ملبوسات، سب آگئے ،
Ayah 15:2118۔ (حسب حکمت ومصلحت) اللہ کے ہاں کمی کس چیز کی ہوسکتی ہے ؟ ہر چیز کا ظہور اپنی کیفیت وکمیت کے لحاظ سے بس قانون حکمت کے ماتحت ہی ہوتا رہتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ان من شیء الا عندنا خزآئنہ “۔ سے اشارہ مخلوق کی طرف سے ترک التفات کا ہوگیا۔
Ayah 15:2219۔ یعنی تم ایسے تو بنائے نہیں گئے ہو کہ پانی کے ذخیروں کو محفوظ کرکے ہمیشہ کے لیے بارش سے مستغنی ہوجاؤ۔ نہ تمہیں یہ قدرت کہ جب اور جہاں چاہو آسمان سے پانی برسالو، نہ یہ اختیار کہ اگر کنوؤں اور چشموں کا پانی خشک کردیاجائے، تو تم اپنے زور بازو سے نکال لو، (آیت) ” ارسلنا، انزلنا، انبتنا “۔ سب میں اشارہ یہ ہے کہ یہ ہوا، بارش وغیرہ کے جتنے بھی کاروبار ہیں، سب ہماری اور محض ہماری ذات سے قائم ہیں، کسی دیوی دیوتا کے دخل کا کوئی شائبہ بھی نہیں۔
Ayah 15:2320۔ (سب کے فنا ہوجانے کے بعد) یہ نہیں کہ مخلوقات کی فنا کے ساتھ ہم بھی فنا ہوجائیں گے، بلکہ اور سب فنا ہوجائیں گے، اور صرف ہماری ذات بابرکات باقی رہ جائے گی، (آیت) ” انا لنحن نحی ونمیت “۔ یہاں یہ تاکید کے ساتھ تصریح کی ہے کہ ہوا، بارش وغیرہ کے انتظامات کے علاوہ زندگی اور موت بھی تمامتر ہمارے ہی ہاتھ میں ہے، نہ کوئی وشنوجی ہیں، زندگی بخشنے والے اور قائم رکھنے والے، اور نہ کوئی شیوجی ہیں، ہلاک کرنے اور عمل فنا طاری کرنے والے۔
Ayah 15:2421۔ یعنی ہمارے عمل کامل و محیط میں کسی غلطی، نقص، خطاکا امکان ہی نہیں، نہ ماضی میں نہ مستقبل میں پہلے صفت قدرت کاملہ کا اثبات ہوچکا، اب صفت علم کامل کا اثبات ہورہا ہے، مشرک اور جاہلی قوموں کو صفات باری میں ٹھوکریں سب سے زیادہ انہی دو صفات کے باب میں لگی ہیں۔ (آیت) ” المستقدمین “۔ سے مرا دوہ نسلیں ہیں جو گزر چکیں اور (آیت) ” المستاخرین “ سے مراد بعد کو آنے والی نسلیں ہیں، اے من مات ومن بقی (ابن جریر عن عکرمہ ومجاہد) اے من استقدم ولا دۃ وموتا ومن تاخر من الاولین والاخرین (کشاف) بعض نے مستقدمین سے مراد نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور مستاخرین سے مراد نیکیوں میں پیچھے رہ جانے والے لیے ہیں۔ من تقدم فی الاسلام وسبق الی الطاعۃ ومن تاخر (کشاف)
Ayah 15:2522۔ چناچہ وہ ہر شخص سے واقفیت بھی پوری اور جزئی و تفصیلی رکھتا ہے، اور سب سے معاملہ بھی بہ تقاضائے حکمت، عین انہی کے مناسب حال کرے گا، (آیت) ” ھو یحشرھم “۔ یعنی قیامت کے دن سب کا حشر اللہ ہی کرے گا، یہ نہ ہوگا کہ اس دن فیصلہ کسی دیوتا، کسی اوتار، کسی ابن اللہ کے ہاتھ میں آجائے !
Ayah 15:2623۔ یعنی انسان اول کا پتلا اسی خشک مٹی سے بنایا، جو چٹکی مارنے سے کھن کھن آواز دیتی ہے اور پھر اسی ابوالبشر سے ساری نسل انسانی نکالی ہے۔
Ayah 15:2724۔ یعنی اسی آگ سے جو اجزا دخانیہ وکثیفہ سے خالی ہیں اور اس لئے غایت لطافت سے مثل ہوا کے غیرمرئی تھے۔ (آیت) ” الجآن “۔ جنات بھی بالکل انسانوں جیسے بےبس مخلوق ہیں، کوئی وصف ذرہ بھر بھی ان میں معبودیت کا موجود نہیں، فرق صرف مادہ کا ہے۔ انسان کی ترکیب مٹی سے ہوئی اور ان کی آگ یا ہوائی آگ سے۔ ان کی مخلوقیت اور عجز کو دکھانے ہی کے لئے قرآن مجید نے ان کا ذکر تخلیق انسانی کے ساتھ ساتھ کیا ہے۔ توریت میں اس موقع پر زمین پر ” خدا کے بیٹوں “ کے موجودہ ہونے کا ذکر ہے، نیز ایک اور مخلوق کا، جس کے لئے انگریزی ترجموں میں لفظ (GIANTS) کا آیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ” جبار “ سے کیا گیا ہے۔ (پیدائش 6: 2، 4) شستہ وبامح اور ہ اردو میں انہیں دیوزاد، ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ” دلائل مختلفہ سے جنات کے متعلق یہ امور معلوم ہوتے ہیں (1) آگ سے پیدا ہونا۔ (2) توالد وتناسل ہونا، (3) عادۃ ان کا نظر نہ آنا۔ (4) مختلف اشکال میں ان کا متشکل ہوسکنا، مگر (5) جن اشکال میں متشکل ہونے سے کوئی التباس مضردین ہوتا ہو اس پر بہ حکمت الہی قادر نہ ہونا، اور (6) جس میں التباس مضر دنیا ہوتا ہو اس پر کم قادر ہونا، “ (تھانوی (رح)
Ayah 15:2825۔ یہ خطاب جب ملائکہ نوری سے ہوا، جو اعلی مخلوق تھے، تو اس کے مخاطب جنات آتشیں تو بدرجہ اولی ہوئے، جو پست تر مخلوق تھے۔ سورة بقرہ رکوع 4 کے حاشیے ملاحظہ کرلئے جائیں۔
Ayah 15:2926۔ (اس کی تعظیم و تکریم کے لئے) (آیت) ” سویتہ “۔ میں ضمیر مذکر واحد غائب بشر کے اسی خاکی پتلے کی طرف ہے۔ (آیت) ” من روحی “۔ اللہ کا روح انسانی کی اضافت اپنی جانب کرنا، اس کے اظہار قدر ومنزلت کے لئے ہے۔ انما اضاف اللہ سبحانہ روح ادم الی نفسہ تشریفا لہ وتکریما (کبیر) اور اسی نفخ روح کا شاید نتیجہ ہے کہ روح انسانی میں خلافت الہی کی استعداد پیدا ہوگئی ہے۔ (آیت) ” نفخت “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ روح انسانی اگر جسم لطیف ہو، جیسا کہ عموما متکلمین کا قول ہے، جب تو نفخ کے حقیقی ہی معنی مراد ہوں گے، یعنی جسم کے جن حصوں میں خلا ہو ان میں ہوا بھر نا۔ لیکن اسے غیر مادی جو ہر مجرد تسلیم کیا جائے، تو نفخ سے استعارہ مطلق تعلق کا ہوگا۔ (آیت) ” روحی “۔ روح کو ہمارے محققین میں سے اکثر نے جسم ہی تسلیم کیا ہے، گویا جسم لطیف ہے۔ الروح جسم لطیف یحی بہ الانسان (معالم) جمھور اھل السنۃ علی انھا جسم لطیف یخالف الاجسام بالماھیۃ والصفۃ متصرف فی البدن حال فیہ حلول الزیت فی الزیتون والی ذلک ذھب امام الحرمین (روح) لیکن بعض کی تحقیق میں (اور انہی میں حجۃ الاسلام امام غزالی (رح) بھی ہیں) روح ایک جوہر مجرد ہے جو نہ جسم میں داخل ہے نہ اس سے خارج، نہ اس کے متصل نہ اس سے منفصل۔ ھذا الروح عندہ وکذا عند جماعۃ من المحققین لیس بجسم یحل البدن حلول الماء فی الاناء دخلا ولا ھو عرض یحل القلب او الدماغ حلول السود فی الاسود والعلم فی العالم بل ھو جوھر مجرد لیس داخل البدن ولا خارجہ ولا متصلا بہ ولا منفصلا عنہ ولھم علی ذلک عدۃ ادلۃ (روح)
Ayahs 15:30–3227۔ یہ ابلیس جو بعد کو شیطان کے لقب سے مشہور ہوگیا، فرشتہ نوری نہیں، جن ناری تھا، جیسا کہ سورة کہف میں نص موجود ہے۔ (آیت) ” وکان من الجن “۔ باقی عام قصہ آدم (علیہ السلام) وابلیس پر مفصل حاشیے سورة بقرہ رکوع 4 میں گزر چکے :۔
Ayah 15:3328۔ یعنی ایسے حقیر و ذلیل مادہ سے بنی ہوئی مخلوق کو اور میں سجدہ کروں، جو نورانی مادہ آتش سے بنا ہوا ہوں ! آتشی کہیں خاکی کے آگے، نورانی کہیں ظلماتی کے آگے جھک سکتا ہے ؟ گویا مادہ لطیف مادہ کثیف سے افضل و بہتر ہر جہت و اعتبار سے ہوتا ہے، اور افضل کو غیرافضل کے آگے کبھی اور کسی اعتبار سے بھی جھکنا غلط ہے ! ابلیس کی ان باطل آرائیوں کی تردید سورة الاعراف کے حواشی میں پوری طرح ہوچکی ہے۔ (آیت) ” لاسجد “ میں ل تاکید نفی ہے، یعنی ایسا کرنا ہرگز میرے لیے ممکن نہیں۔ اللام لتاکید النفی ومعناہ لایصح منی وینافی حالی ویستحیل ان اسجد لبشر (کشاف)
Ayah 15:3429۔ (اپنی اس ضد ونافرمانی کی بنا پر)
Ayah 15:3530۔ (اور تو نہ راہ راست پر آئے گا، نہ تجھے توفیق توبہ ہوگی) لعنت کے معنی اوپر گزر چکے ہیں کہ رحمت سے مہجوری کے ہیں۔ (آیت) ” الی یوم الدین “۔ قیامت تک “ سے محاورہ میں مراد دوام ہوتی ہے، یہ مراد نہیں کہ قیام قیامت کے بعد ابلیس کی ملعونیت جاتی رہے گی۔ المراد منہ التابید وذکر القیامۃ ابعد غایۃ یذکرھا الناس فی کلامھم (کبیر) اور محاورۂ زبان سے قطع نظر تو بھی ظاہر ہے کہ جو محل رحمت قیامت تک نہ ہو اس کے لیے بعد قیامت محل رحمت ہونے کی گنجائش کیا ہے ؟ دارالجزاء میں تو دارالعمل کا صرف تکملہ ہی ہوتا ہے نہ کہ اس سے قطع نظر کرکے کسی جدید شے کی پیدائش۔
Ayah 15:3631۔ (کہ اس درمیان میں جی بھر کر بدلہ آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم سے لوں) یہ مہلت ابلیس نے موت اور عذاب سے مانگی تھی۔
Ayahs 15:37–3832۔ یعنی جب تک اس عالم ناسوت کی عمر قائم ہے، تجھ پر گرفت نہ ہوگی، ابلیس کی ہستی یا قوت اگر باقی نہ رہے تو اس عالم ابتلاء کی مصلحتیں ہی فوت ہوجائیں۔ لیکن یہ بھی خوب واضح رہے کہ ابلیس کے ہاتھ میں کوئی قوت جبراستیلاء کی نہیں، صرف بہلانے، پھسلانے، سبز باغ دکھانے کی ہے۔
Ayahs 15:39–4033۔ (اور تو انہیں میرے اثر سے محفوظ رکھے گا، تو وہ تو بیشک میرے بہکانے میں نہ آئیں گے) آیت سے یہ مراد نہیں کہ شیطان نیک بندوں کو پھانسنے کی کوشش نہ کرے گا۔ جال تو وہ سب ہی پر پھینکتا ہے۔ البتہ مخلص بندوں کے باب میں زیادہ کامیاب نہیں ہوپاتا۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) اور ان کی نسل کی نظر میں (آیت) ” بما اغویتنی “ اغوا اور اضلال کا یہ انتساب ذات حق کی جانب جس حد تک بھی صحیح ہے، صرف تکوینی حیثیت سے یا علت العلل کے معنی میں ہے، بما میں بائے سببیہ ہے۔ اے بسبب اغوائک ایای (روح)