Explained with ayahs 94–99
رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کا عبرتناک انجام
حکم ہو رہا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بےجھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک حضور ﷺ پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کردی۔ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہوجائیں۔ تو ان سے مطلقا خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیری جانب اتارا گیا لوگوں کی برائی سے تجھے محفوظ رکھ لے گا۔ چناچہ ایک دن حضور ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
سورة الْحِجْر 52
اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
دشمنوں کی ایذاء سے تنگدلی کا علاج
وَلَقَدْ نَعْلَمُ الی فَسَبِّحْ۔ سے معلوم ہوا کہ جب انسان کو دشمنوں کی باتوں سے رنج پہنچے اور دل تنگی پیش آئے تو اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبح و عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ خود اس کی تکلیف کو دور فرما دیں گیے۔
سورة حجر تمام شد
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
تفسیر آیات 97 تا 99: کفار کے طنز پر صبر و استقامت کی تلقین : وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (99)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے طنز و استہزاء پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حاصل کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے کہ حصول صبر و استقامت کے لیے اپنے رب کی تسبیح کرو، اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو تاآنکہ صبح یقین طلوع ہوجائے یعنی ہر وہ بات واقعہ ثابت ہو کے رہے جس کی تم لوگوں کو خبر دے رہے ہو۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 1 اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کردی۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
34: اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزا ردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
آیت نمبر 97 تا 99
یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
9 یعنی اگر ان کی ہٹ دھرمی سے دل تنگ ہو تو آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹا کر ہمہ تن خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہیے۔ خدا کا ذکر، نماز، سجدہ، عبادت الٰہی وہ چیزیں ہیں جن کی تاثیر سے قلب مطمئن و منشرح رہتا ہے اور فکر و غم دور ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی مہم بات فکر کی پیش آتی آپ ﷺ نماز کی طرف جھپٹتے۔
Read the full tafseer →آیت 98 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ
آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہیں۔ اسی کے آگے جھکے رہیں اور اس طرح اپنے تعلق مع اللہ کو مزید مضبوط کریں۔ اللہ سے اپنے اس قلبی اور ذہنی رشتے کو جتنا مضبوط کریں گے اسی قدر آپ کے دل کو سکون و اطمینان ملے گا اور صبر و استقامت کے رستے پر چلنا اور ان سختیوں کو جھیلنا آپ کے لیے آسان ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
51 مشکل اوقات میں نماز کی تلقین :۔ جب ان مشرکوں کے استہزاء سے یا ایمان نہ لانے سے یا ان کی ایذاؤں سے آپ کے دل میں تنگی اور گھٹن پیدا ہو تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اللہ کی طرف رجوع کیجئے اس کی تسبیح و تقدیس بیان کیجئے، نماز ادا کیجئے۔ ان چیزوں سے ایک تو آپ کے دل میں گھٹن کی بجائے اطمینان پیدا ہوگا تمہارا حوصلہ بڑھائیں گی، استقامت پیدا ہوگی اور دعوت دین کے سلسلہ میں آپ کو جو تکلیفیں اور مصائب پیش آرہے ہیں یہ باتیں آپ میں ان کے مقابلے کی قوت پیدا کردیں گی چناچہ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی یا رزق کی تنگی ہوتی تو آپ خود بھی نماز کی طرف جھپٹتے اور اپنے گھر والوں…
Read the full tafseer →85۔ (کہ ان مشاغل ذکر و عبادت میں انہماک ضیق صدر سے بھی نجات دلا دے گا) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ ان مشاغل ذکر و عبادت میں لگ جانے سے عالم قدس کے انوار کا فیضان شروع ہوجاتا ہے، اور اس سے دنیا بالکل حقیر وہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ اور اسی لیے غم والم کی طرف سے بھی طبیعت ہلکی اور بےفکر ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” السجدین “۔ یعنی نماز پڑھنے والے۔ اے من المصلین (بیضاوی) والمراد واللہ اعلم من المصلین فکنی بالسجود عن الصلاۃ (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں غم وضیق صدر کا علاج بتا دیا گیا ہے، اور وہ ذکر و توجہ الی الحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →فسبح بحمد ربک آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیں۔ یعنی ہر چیز سے دل کو خالی کر کے اللہ کی حمد و تسبیح (ا اللہ کی پاکی کے اعتراف و اظہار) میں مشغول ہوجائیے۔ اللہ آپ کی کارسازی کرے گا۔ حمد و تسبیح میں مشغول ہونے سے دل کی کوفت اور سینہ کی بندش دور ہوجائے گی اور شدت غضب جاتی رہے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کے (مشرکانہ اور کافرانہ) اقوال سے اللہ کے پاک ہونے کا اظہار کیجئے اور اسی کے ساتھ اللہ کا شکر کیجئے کہ اللہ نے حق کا راستہ آپ کو دکھا دیا۔ حضرت ابن عباس نے (تسبیح و حمد سے مراد لی ہے نماز اور آیت کی تشریح میں) فرمایا : آپ اپنے رب کے حکم کے موافق نماز پڑھئے۔
وکن من السجدین اور نماز پڑھنے ولوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
(97۔ 98۔ 99) اور یہ کفار جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور معاذ باللہ آپ کو شاعر کاہن، ساحر وغیرہ کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس سے آپ دکھی ہوتے ہیں، سو آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور سجدہ کرنے والوں میں یا یہ کہ اطاعت کرنے والوں میں رہیے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پر مستقیم رہیے یہاں تک کہ اسی حالت میں آپ کو موت آجائے۔
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ : کفار کی زیادتیوں اور استہزا کی و جہ سے سینہ کی اس تنگی کا علاج بیان فرمایا کہ اگر آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کریں۔ تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب، نقص اور ایسی چیزوں سے پاک قرار دینا جو اس کے لائق نہیں اور حمد کا معنی اللہ کی ان تمام صفات کمال کے ساتھ تعریف کرنا جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ تسبیح اور حمد میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال آجاتی ہیں، کیونکہ تسبیح میں تمام صفات سلبیہ (یعنی ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا) آگئیں اور حمد میں تمام صفات ثبوتیہ (یعنی ہر خوبی کا مالک ہونا) آگئیں، چناچہ قرآن مجید میں بہت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 98
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : فسبح پس آپ نماز کی پناہ لیجئے، یہ تسبیح کی غایت اور پاکی بیان کرنے کی انتہا ہے، اسی لئے اس کی تفسیر اپنے اس قول سے فرمائی : وکن من السجدین اور اس میں کوئی خفا نہیں ہے کہ نماز میں غایت قرب حالت سجود میں حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بندہ اپنے رب کے زیارہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ حالت سجدہ میں ہو پس تم اخلاص کے ساتھ دعا مانگو “۔ اور اسی وجہ سے سجود کو ذکر کرکے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: علامہ ابن عربی نے کہا ہے : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں امر سے مراد نفس سجود ہی ہے، اور اس مقام کو قرآن میں محل سجود قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
1:۔ سعید بن منصور، حاکم نے تاریخ میں ابن منذر، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابو مسلم خولانی (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور میں تاجروں میں سے ہوجاوں لیکن مجھے وحی کی گئی کہ (آیت) ” فسبح بحمد ربک وکن من السجدین (98) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “۔
2:۔ ابن مردویہ اور دیلمی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری طرف وحی نہیں کی گئی کہ میں تاجر بن جاوں اور نہ یہ کہ میں مال کو کثرت کے ساتھ جمع کروں لیکن میری طرف وحی کی گئی کہ (آیت) ” فسبح بحمد ربک وکن من السجدین (98) واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “۔
3:۔ ابن جریر ابن…
Read the full tafseer →[فَسَبِحْ : پس آپ ؐ تسبیح کریں ] [ بِحَمْدِ رَبِكَ : اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] [ وَكُنْ : اور آپ ﷺ ہوں ] [ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور موت آنے تک عبادت میں لگے رہنے کا حکم
اللہ جل شانہ نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ مشرکین معاندانہ باتیں کرتے ہیں (جو استھزاء کو بھی شامل ہے) اور اس کی وجہ سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں یہ تنگ دل ہونا طبعی طور پر تھا۔ اس کے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں لگے رہیں اور نمازوں میں مشغول رہیں اور دیگر عبادات میں بھی مشغولیت رکھیں اور زندگی بھر آخری دم تک ان کاموں میں مشغول رہیں، یہ چیزیں طبعی رنج کو دفع کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی رنج و غم کی صورت پیش آئے تو خالق کائنات جل مجدہ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
36:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پانچویں تسلی ہے۔ اس تعبیر میں کس قدر محبت کا اظہار ہے میرے پیغمبر ہمیں خوب معلوم ہے ان مشرکین کے مشرکانہ کلمات اور ان کے استہزاء سے آپ آزردہ خاطر اور دل برداشت ہوجاتے ہیں۔ مگر آپ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں اور ان پر غم نہ کریں ان سے میں خود حساب کرلوں گا۔ ” فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ الخ “ آپ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کردیں، دن رات شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کرنے اور اس کی حمد و ثنا میں لگے رہیں، اسی کے سامنے جھکیں، ہر قسم کی عبادت (زبانی، بدنی اور مالی) اسی کے لیے بجا لائیں۔ حاجات و مشکلات میں اسی کو پکاریں رکوع و سجود بھی اسی کے سامنے کریں، نذریں منتیں بھی اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ 98ۙ
تسبیح
والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ
[ الصافات/ 143] ، قيل : من المصلّين «3» ، والأولی أن يحمل علی ثلاثتها، قال : وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ [ البقرة/ 30] ، وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِ [ غافر/ 55]
( س ب ح ) السبح
التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
وَلَقَدْنَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْ تِیَکَ الْیَقِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 97۔ 98۔ 99)
(اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو کچھ وہ کہتے ہیں تو آپ ﷺ اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس یقین آجائے۔ )
کفار کی بدگوئی کے مقابلہ میں تسبیح تحمید اور نماز کا حکم
آنحضرت ﷺ جب مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے اور اس کی توحید کی دعوت دیتے تو وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع کرنے کے ساتھ تسلی دی ہے۔
کفار کو انتباہ کرنے اور آپ کے دفاع کی ذمہ داری لینے کے بعد آپ کو مزید تسلی دینے کی خاطر ارشاد ہوتا ہے اے رسول ﷺ ! ہم آپ کے حالات اور کیفیت کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار کے طعن وتشنیع اور استہزا سے آپ کے دل کو غم اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جب بھی آپ غم اور تکلیف محسوس کریں تو مشرکین کے طعن وتشنیع اور استہزا کی طرف توجہ کرنے کے بجائے آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے رب کی آخری دم تک عبادت کرتے رہیں۔ یہاں عبادت کے لیے ” الیقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے اکثر مفسرین نے موت مراد لی ہے۔…
Read the full tafseer →ازالہ غم بھی عبادت ہے :
98: فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (پس تم تسبیح بیان کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ) جو معاملہ تمہیں پیش آئے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کروالفزع الی اللّٰہ کا مطلب ہمیشہ اس کو یاد کرنا ہے اور کثرت سے سجدہ کرنا وہ تمہاری کفایت کرے گا اور تیرے غموں کا ازالہ کر دے گا۔
Read the full tafseer →(98) فسبح بحمد ربک “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اپنے رب کے لیے نمازپڑھئے۔ ” وکن من الساجدین “ ساجدین سے مراد ہیں تواضع اور اظہار فروتنی کرنے والے۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ ” فسبح بحمد ربک “ سے مراد سبحان اللہ اور ” من الساجدین “ سے مراد نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ روایت کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی مشکل کام پیش آیا تو آپ ﷺ نماز کی طرف رجوع فرماتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 98۔ اللہ پاک ان آیتوں میں حضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک جو تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم لوگوں کو پہنچا اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور ان مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے فاصدع بما تؤمر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا پکار کر پڑھنا مراد ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ پہلے چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ معہ اپنے اصحاب کے کھلم کھلا خدا کی عبادت کرنے لگے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ حضور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت 94
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کردیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کردیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں (واعرض عن المشرکین) ” اور مشرکین سے اعراض کریں۔ “ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہے۔ (انا کفینک المستھزء ین) ” ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں جو تم سے ساتہزا کرتے ہیں۔ “ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
79۔ پیغمبر کے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ آپ کا سینہ تنگ ہورہا ہے ان لوگوں کی باتوں سے جو یہ حق اور اہل حق کے خلاف بنا رہے ہیں کہ یہ انسانی فطرت وجبلت کا تقاضا ہے کہ جہاں ایک طرف سراسر نصیحت وخیر خواہی اور اخلاص وللہیت ہو اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں انکار وبے قدری اور ناشکری و شرانگیزی اور فتنہ سامانی ہو۔ تو اس سے صدمہ اٹھانا اور دل گیر ہونا ایک طبعی امر ہے لیکن اس کے باوجود آپ صبر وضبط ہی سے کام لیں، اور ان لوگوں کی دکھ دہ اور دلآزار باتوں کی بناء پر غمگین اور دل گیر نہ ہوں۔ اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
اعلانیہ تبلیغ کا حکم
تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ف 1 اس کی عبادت پر قائم رہیں اور موت کو یقین اس لئے کہا ہر متنفس کے لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ (روح) قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ” حتی اتانا الیقین “ یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا مدثر آیت 47) اس لئے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت لیا ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیرا اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو نماز، روزہ عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ تلعب کے مترادف ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں آنحضرت کو حاصل نہ ہوسکا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(15:97) یضیق صدرک۔ ضاق یضیق (ضرب) سے مضارع واحد مذکر غائب ضیق مصدر۔ تیرا دل تنگ پڑتا ہے۔ تیرے دل کو کوفت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–99
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99
اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔
تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99
سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
اللہ پاک ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن مجید جو کہ تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم ولوگوں کو پہنچا دو اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو، اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے۔ یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) حدی بن قیس (4) اسود عبدالمطلب (5) اسود بن عبدالغیوث۔ جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر آخرت میں بھگتیں…
Read the full tafseer →[34] یعنی نماز پڑھتے رہا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔
(آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔
مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…
Read the full tafseer →98 ۔ پس اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہیے اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہیئے اور نماز پڑھنے والوں میں شامل رہیئے۔ یعنی کفار کی مخالفت کا علاج یہ ہے کہ بکثرت سبحان اللہ وبحمدہ کہا کیجئے اور سجدہ کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں میں شامل رہیئے اگر یہ علاج کرو گے تو تمہارا غم اور پریشانی دور کردی جائے گی۔
حدیث شریف میں آتا ہے جب حضور اکرم ﷺ کو کوئی امر پیش آجاتا تو حضور ﷺ فوراً نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔
Read the full tafseer →98۔ حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعریف وثناء کرنا بھی ہے اور اس کا شکر ادا کرنا بھی اور تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور منزہ قرار دینا ہے اس موقع پر یہ ارشاد ہے کہ اپنے رب کا یہ کرشمہ جب تم دیکھو کہ لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو استہزاء کے ساتھ ٹال رہے ہیں تو آپ کو دل تنگ ہونے کی بجائے اس ذات کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو کہ تمہارے دل میں اس سے ذرا گھٹن نہیں پیدا ہوئی اور تم نے اپنا کام سرانجام دیا تو اس کی رضا تمہارا مطلوب ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور قلب و زبان سے اس امر کا اعتراف کرو کہ آپ نے یہ سب کچھ برداشت کیا تو اللہ کی رجا کیلئے اور تم اپنے رب سے دعا مانگو کہ جو خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
The Spiritual Defence Against Enemy Hostility
From verses 97 and 98, we learn that should one face heart-rending sayings and doings of enemies the anxiety from which bothers him, then, there is a spiritual cure for that condition: Let him or her get busy with Tasbih and ` Ibadah, praising Allah Ta’ ala and praying before Him. Allah Taala will Himself remove this pain and anxiety.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another.
“They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts.
This…
Read the full tafseer →