15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 15:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الٓریہ آیات ہیں کتاب کی اور قرآن مبین کی

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا وہ بہت سی مرتبہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الر “ اور الٓم “ شروع کرنے والے (کلمات ہیں) کہ ان کے ذریعہ اس کی کلام کو شروع کیا جاتا ہے ” (آیت ) ” تلک ایت الکتب “ یعنی تورات وانجیل۔ 2ـ:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” الٓر تلک ایت “ یعنی وہ کتابیں جو قرآن سے پہلے تھیں کہ قرآن مبین اور قرآن جو بیان کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ورشد اور خیر کو۔ قولہ تعالیٰ : ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباسؓ اور مرۃ اور ابن مسعود ؓ اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ یعنی بدر کے دن مشرکین نے اس بات کو پسند کیا جب ان کی گردنوں کو مارا گیا اور جب ان کو آگ پر پیش کیا گیا (کاش کہ وہ) محمد ﷺ پر ایمان لانے والے ہوتے۔ 4:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا “ یعنی یہ قیامت کے دن ہوگا کہ تمنا کریں گے کافر (آیت ) ” لوکانوا مسلمین “ (کاش کہ ہم مسلمان ہوتے) یعنی ایک اللہ کو ماننے والے ہوتے۔ 5:۔ امام ابن جریر سے روایت ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا “ یہ جہنمی لوگوں کے بارے میں ہے جب وہ دیکھیں گے کہ (گنہگار مسلمان) دوزخ سے نکالے جارہے ہیں۔ 6:۔ امام سعید بن منصور، ھناد بن سری نے زہد میں، ابن جریر، ابن منذر، حاکم اور بیہقی نے البعث والنشور میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ برابر شفاعت قبول فرماتے رہیں گے اور جنت میں داخل کرتے رہیں گے اور شفاعت قبول کرتے رہیں گے اور رحم بھی کرتے گے یہاں تک کہ فرمائیں گے جو شخص مسلمان تھا اس کو چاہئے کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ 7:۔ امام ابن مبارک نے زہد میں، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ اور انس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ کا آپس میں تذکرہ فرمایا دونوں نے فرمایا کہ یہ اس طرح سے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے گنہگاروں کو اور مشرکین کو آگ میں جمع فرمائیں گے تو مشرکین کو آگ میں جمع فرمائیں گے تو مشرکین کہیں گے جن کی تم عبادت کرتے تھے اس نے تمہیں بھی کچھ فائدہ دیا اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے غصہ ہوں گے اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے فضل سے (دوزخ سے) نکالیں گے۔ 8:۔ امام سعید بن منصور، ھناد اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ (کافر اس کہیں گے) جب دوزخ سے نکالا جائے گا ہر اس شخص کو جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ 9:۔ امام طبرانی نے الاوسط میں اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیے جائیں گے اور دوزخ میں ہوں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھر مشرک لوگ ان کو عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ تمہاری تصدیق نے تم کو کچھ نفع نہیں دیا تو (اللہ تعالیٰ ) کسی موحد کو (دوزخ میں) باقی نہیں رکھیں گے مگر اس کو دوزخ سے نکالیں دیں گے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ پڑھی۔ آخرت میں کفار کی تمناء : 10:۔ امام ابن عاصم نے سنۃ میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دوزخ والے دوزخ میں اکٹھے ہوں گے اور ان کے ساتھ اہل قبلہ والوں میں سے بھی ہوں گے (یعنی گنہگار مسلمانوں میں سے) تو کافر مسلمانوں سے کہیں گے کیا تم مسلمان نہیں تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں تو کافر کہیں گے (مسلمانوں سے) اسلام تمہارے کچھ کام نہ آیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں چلے آئے مسلمان کہیں گے ہمارے گناہ تھے تو ہم اس کی وجہ سے پکڑے گئے اللہ تعالیٰ سن لیں گے جو ان کافروں نے کہا تو اللہ تعالیٰ قبلہ والوں میں سے ہر ایک کو آگ میں سے نکالنے کا حکم فرمائیں گے تو ان ( سب کو) نکال لیا جائے گا کافر جب (ان کے نکلنے کو) دیکھیں گے تو کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے اور ہم بھی نکالے جاتے جیسے وہ لوگ نکالے گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی، اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم، الٓر تلک ایت الکتب و قرآن مبین (1) ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین (2) “ 11:۔ امام اسحاق بن راھویہ، ابن حبان، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ کے بارے میں کچھ سنا فرمایا کہ ہاں میں آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نکالیں گے ایمان والے لوگوں کو دوزخ کی آگ میں سے بعد اس کے کہ جو ان کو سزا ملی تھی (گناہوں کی وجہ سے) جب اللہ تعالیٰ ان کو مشرکین کے ساتھ دوزخ میں داخل فرمائیں گے تو ان کو مشرکین کہیں گے کیا تم یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دوست ہو سو تمہارا کیا حال ہے کہ تم ہمارے ساتھ آگ میں ہو جب اللہ تعالیٰ ان سے اس بات کو سنیں گے تو اللہ تعالیٰ ان گناہ گار مسلمانوں کے لئے شفاعت کی اجازت فرما دیں گے تو فرشتے اور انبیاء اور ایمان والے لوگ ان کے لئے شفاعت کریں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے (دوزخ سے) نکل جائیں گے جب مشرک لوگ ان (کے نکلنے) کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے افسوس ہم کو ہم بھی ان کی طرح ہوتے اور ہم بھی شفاعت کو پاتے اور ہم بھی ان کے ساتھ نکل جاتے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ دوزخ سے نکلنے کے بعد مومنین کا نام جہنمیوں میں ہوگا ان کے چہروں کی سیاہی کی وجہ سے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم سے ہمارا نام دور کردیجئے پھر ان کو جنت میں نہر میں غسل دیا جائے گا تو وہ نام ان سے چلا جائے گا۔ 12:۔ امام ھناد بن السری، طبرانی نے الاوسط میں اور ابونعیم نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ لا الہ الا اللہ والوں میں سے دوزخ میں داخل ہوں گے اپنے گناہوں کی وجہ سے تو لات وعزی والے (یعنی کافر) ان سے کہیں گے کہ لا الہ الا اللہ کا کہنا تمہاراے کچھ بھی کام نہ آیا اور تم ہمارے ساتھ آگ میں ہو اللہ تعالیٰ ان سے غصہ فرمائیں گے اور ان (مسلمانوں) نکال دیں گے اور ان کو نہر حیات میں ڈال دیں گے تو وہ جلن کے نشانوں سے اس طرح صاف ہوجائیں گے جیسے کہ چاند صاف ہوجاتا ہے گرہن سے اور وہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور وہ ان کو جہنمیوں کا نام دیں گے۔ 13:۔ امام ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن سب سے پہلے بات کرنے اور شفاعت کرنے کی اجازت دیں گے (وہ محمد ﷺ ہوں گے) ان سے کہا جائے گا تو کہہ تیری بات سنی جائے گی اور تو مانگ تجھ کو عطا کیا جائے روای نے کہا تو آپ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑیں گے اور آپ اللہ تعالیٰ کی ایسی ثناء بیان فرمائیں گے جو کسی نے (آج تک) ایسی ثناء بیان نہیں کی کہا جائے گا اپنے سرکو اٹھائیں آپ اپنے سرکو اٹھائیں گے اور کہیں گے اے میرے رب میری امت (یعنی میری امت کو بخش دیجئے) تو ایک تہائی آپکی امت سے نکال لئے جائیں گے جو آگ میں ہوں گے ارشاد ہوگا کہو آپ کی بات سنی جائے گی اور سوال کر تو دیا جائے گا تو آپ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑیں اور اللہ کے لئے ایسی ثناء بیان فرمائیں گے کہ کسی نے ایسی ثناء بیان نہ کی ہوگی ارشاد ہوگا اپنا سرمبارک اٹھائیے آپ اپنے سر کو اٹھائیں گے اور فرمائیں گے اے میرے رب ! میری امت میری امت تو ایک اور تہائی (مزید) آپ کی امت میں سے آپ کے لئے نکال دیا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہو آپ کی بات سنی جائے گی مانگو عطا کیا جائے گا آپ پھر سجدہ میں گرپڑیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی ثناء بیان کریں گے کہ کسی نے ایسی ثناء بیان نہ کی ہوگی کہا جائے گا اپنے سر کو اٹھائیے آپ ﷺ اپنے سرکو اٹھائیں گے اور اور کہیں اے میرے رب میری امت میری امت تو باقی ایک تہائی بھی نکال دیئے جائیں گے حسن سے کہا گیا کہ ابو حمزہ اس طرح اور اس طرح بیان کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ابو حمزہ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا چوتھی باری بھول گئے پوچھا گیا چوتھی باری میں کیا ہوگا فرمایا جس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی سوائے لا الہ الا اللہ کے یہ لوگ دوزخ میں باقی ہوں گے پھر آپ ﷺ عرض کریں گے میری امت میری امت کہا جائے گا اے ﷺ یہ لوگ اللہ تعالیٰ ان کو نجات دے گا اپنی رحمت کے ساتھ یہاں تک کہ کوئی باقی نہ رہے گا لا الہ الا اللہ کہنے والوں میں سے اس وقت اہل جہنم کہیں گے (آیت ) ” فمالنا من شافعین (100) ولا صدیق حمیم (101) فلو ان لنا کرۃ فنکون من المومنین (102) (الشعراء آیت 102) اور اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ سے یہی مراد ہے۔ 14:۔ امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے نبی ﷺ جب چوتھی مرتبہ کھڑے ہوں گے اور سفارش فرمائیں گے تو مشرکین کے سوا کوئی بھی آگ میں باقی نہ رہے گا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ گناہگار مسلمانوں کی حالت جہنم میں : 15:۔ امام ابن ابی حاتم اور ابن شاہین نے السنہ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام امتوں کے بڑے گناہوں والے بڑے گناہ کرتے ہوئے مرے ہوں گے بغیر ندامت کے اور بغیر توبہ کے انمیں سے جو جہنم میں داخل ہوں گے ان کی آنکھیں نیلی نہیں ہوں گی اور ان کے چہرے کالے نہ ہوں گے اور وہ شیطانوں کے ساتھ نہیں باندھے جائیں گے اور نہ ان کو زنجیروں سے باندھا جائے گا نہ وہ گرم پانی پئیں گے اور نہ وہ تار کول کا لباس پہنیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کے جسموں کو حرام کردیا ہمیشہ کے لئے (دوزخ میں رہنے کو) توحید کی وجہ سے اور ان کی صورتوں کو مسخ کرنا آگ پر حرام کردیا ان کے سجدوں کی وجہ سے ان میں سے بعض کو آگ اس کے قدموں تک پہنچے گی اور ان میں سے بعض کو ایڑیوں تک پہنچے گی اور ان میں سے بعض کو اس کی رانوں تک آگ پہنچے گی اور ان میں سے بعض کو آگ اس کی پیٹھ تک پہنچے گی اور ان میں سے بعض کو آگ اس کی گردن تک پہنچے گی یعنی ان کے گناہوں اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو آگ پہنچے گی اور بعض ان میں سے اس میں ایک ماہ ٹھہریں گے اور پھر اس میں سے نکلیں گے اور بعض ان میں سے ایک سال اس میں ٹھہریں گے پھر اس میں سے نکلیں گے اور اس میں سب سے زیادہ لمبا ٹھہرنے والا اس میں وہ ہوگا جو اس دنیا کے پیدا ہونے کے دن سے لے کر اس کے فناء ہوجانے کے دن تک ٹھہرے گا جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائیں گے اس میں سے ان کو نکالنے کا تو یہود و نصاری اور باطل عقائد والے اور بتوں کی پوجا کرنے والے لوگ ان توحید والوں سے کہیں گے کہ توحید والے ہونے کے باوجود تم کیوں آگ میں آئے تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہم اور تم آج کے دن آگ میں برابر ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے ایسا غصہ فرمائیں گے کہ جو پہلے کبھی ایسا غصہ نہیں فرمایا پھر موحدین کو جنت اور پل صراط کے در میان ایک چشمہ کی طرف نکالیں گے پس وہ سیلاب کی وجہ سے دریاوں کے کناروں پر اگنے والی بوٹیوں کی طرح فورا اگ آئیں گے (یعنی ان کے جسم کے صحیح وسالم ہوجائیں گے) پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے ان کے چہروں میں لکھا ہوا ہوگا یہ جہنمی ہیں رحمن کے آزاد کردہ ہیں وہ جنت میں رہیں گے ان کے ساتھ آگ کی کیلیں ہوں گی جو دوزخ میں باقی ماندہ لوگوں پر لگائیں وہ ہمیشہ ان کی یہ کیل نکالتے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کو بھول جائیں گے اپنے عرش پر اور وہ جنت والوں کو نعمتیں اور لذات عطا فرما رہے ہیں ہوں گے اس وقت کافر کہیں گے (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ (کاش ہم مسلمان ہوتے) 16:۔ امام ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے زکریا بن یحی صاحب القضیب (رح) سے روایت کیا کہ میں ابو غالب سے اس آیت کے بارے میں پوچھا (یعنی) (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ تو انہوں نے فرمایا کہ ابو امامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان فرمایا کہ یہ (یہ آیت) خوارج کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے درگزر فرما دیا اور امت سے اور جماعت سے (بھی) تو وہ کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے۔ 17:۔ امام حاکم نے کنی میں حماد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم (رح) سے اس (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا مجھے یہ بات بیان کی گئی کہ شرک والے لوگ کہیں گے اس شخص سے جو اسلام والوں میں سے آگ میں داخل ہوگا وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آیا جس کی تم عبادت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان پر غصہ ہوں گے اور فرشتوں اور نبیوں سے فرمائیں گے ان کے لئے سفارش کریں گے تو وہ دوزخ سے نکال دیئے جائیں گے یہاں تک کہ ابلیس بھی البتہ امید کرے گا کہ وہ ان کے ساتھ داخل ہوگا اس وقت کافر کہیں گے (آیت ) ” ربما یودالذین کفروا لوکانوا مسلمین “ (کاش ہم مسلمان ہوتے ) ۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

آپ انہیں چھوڑیئے وہ کھالیں اور نفع اٹھالیں اور امید انہیں غفلت میں ڈالے رکھے، سو وہ عنقریب جان لیں گے۔

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذرھم یاکلوا ویتمعوا “ سے مراد ہیں یہ کافر لوگ۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذرھم “ یعنی ان کو چھوڑ دو ۔ 3:۔ امام ابن احمد نے زہد میں، طبرانی نے الاوسط میں، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عمروبن شعیب (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں اس امت کی پہلی درستی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور آخر میں اس کی ہلاکت بخل اور امید کے ساتھ ہے۔ 4:۔ امام احمد اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لکڑی اپنے آگے اور ایک اپنے پہلو کی طرف اور ایک اپنے پیچھے لگائی پھر پوچھا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور یہ اس کی امید ہے وہ جاتا ہے امید کی طرف موت اس کو کھینچ کرلے جاتی ہے۔ 5:۔ امام ابن ابی الدنیا نے ذم الامل میں اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا پیش کی گئی مثال انسان کی امید کی اور موت کی موت انسان کے پہلو کی طرف ہوتی ہے اور امید اس کے آگے ہوتی ہے وہ امید کو طلب کررہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کے پاس موت آجاتی ہے اور اس کو کھینچ کرلے جاتی ہے۔ 6:۔ امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے پہلے کئی خط کھینچے پھر ساتھ میں ایک اور خط کھینچا پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ مثال ہے ابن آدم کی اور یہ خط اس کی امید کا ہے اس درمیان کہ وہ امید کی طرف بڑھتا ہے اچانک اس کے پاس موت آجاتی ہے۔
Ayahs 15:4–5

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ان کے لئے ایک معین لکھا ہوا تھا

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما اھلکنا من قریۃ الا ولھا کتاب معلوم “ یعنی وہ وقت جو معلوم ہے (اور فرمایا) (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ یعنی موخر کرنے والا نہیں ہے اس کے بعد۔ 2:۔ امام ابن جریر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “ سے مراد ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب اس کی موت حاضرہوتی ہے تو ایک گھڑی نہ موخر ہوتی ہے اور نہ آگے ہوتی ہے اور (جب) اس کی موت حاضر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ موخر کردیتے ہیں اور مقدم کردیتے ہیں جو چاہتے ہیں۔
Ayahs 15:6–9

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے بیشک تو دیوانہ ہے

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

تو فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا اگر تو سچوں میں سے ہے

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

فرشتوں کو ہم حق فیصلہ کے ساتھ ہی نازل کیا کرتے ہیں اور اس وقت لوگوں کو مہلت بھی نہیں دی جاتی

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ذکر کو نازل کیا ہے اور بلاشبہ ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

1:۔ امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر “ میں ذکر سے مراد ہے قرآن۔ 2:۔ امام ابوعبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ اس آیت سے لے کر (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء “ تا کی تقدیم اور تاخیر ہے اور فرمایا (آیت) ” فظلوا فیہ یعرجون “ یعنی اگر ہم کھول بھی دیتے ہیں ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ سارا دن اس میں اوپر چڑھتے رہتے (یعنی فرشتے) (آیت ) ” لقالوا انما سکرت ابصارنا “ تو یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔ 3:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ماننزل الملٓئکۃ الا بالحق “ میں حق سے مراد رسالت اور عذاب کے ساتھ۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کانوا اذا منظرین “ یعنی فرشتے نازل ہوتے تو ان کو عذاب دینے میں مہلت نہ دی جاتی۔ 5:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا لہ لحفظون “ یعنی ہم اپنے پاس سے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ 6:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون “ کی تائید دوسری آیت ” لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، “ (فصلت : 42) سے ہوتی ہے اور باطل سے مراد ہے ابلیس (پھر) فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کو نازل فرمایا پھر اس کی حفاظت فرمائی پھر ابلیس طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اس میں باطل کو زیادہ کرے اور اس میں حق کو کم کردے اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت فرمائی ہے (واللہ اعلم بالصواب)
Ayahs 15:10–13

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے گزشتہ لوگوں کے گروہوں میں پیغمبر بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء کیا ہو

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم اس طرح اس استہزاء کو مجرمین کے دلوں میں چلاتے ہیں

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا ہے۔

1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “ سے مراد ہے پہلی امتیں۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) ۔ لا یومنون بہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم مشرکین کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم ان کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 4:۔ امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) لایومنون بہ “ سے مراد ہے جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نہ لانا داخل کردیا (آیت ) ” وقدخلت سنۃ الاولین “ یعنی پہلی امتوں میں اللہ تعالیٰ کے حادثات و واقعات گزر چکے ہیں۔ 5:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ وہ لوگ ایسے ہی تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اس لئے) اس نے ان کو گمراہ کردیا اور ان کو ایمان لانے سے روک دیا۔
Ayahs 15:14–15

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول دیں پھر یہ لوگ دن کے وقت اس میں چڑھ جائیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی یوں کہیں گے کہ بس بات یہ ہے کہ ہماری آنکھوں کی نظر بندی کردی گئی ہے، بلکہ ہم ایسے لوگ ہیں جن پر جادو کردیا گیا ہے۔

1:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء فظلوفیہ یعرجون “ سے مراد ہے کہ اگر ہم ان پر آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ فرشتوں کو آسمان پر آتا جاتا دیکھ بھی لیں پھر بھی مشرکین یہی کہیں گے ہماری نظر بندی کردی گئی اور ہم پر شبہ ڈال دیا گیا اور ہم پر جادو کردیا گیا۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء فظلوفیہ یعرجون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ (آیت ) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ ہے ابن جریج (رح) نے کہا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشرکین قریش فرشتوں کو آسمان پر چڑھتا دیکھ بھی لیں تو یہی کہیں گے ” لقالوا انما سکرت “ کہ بند کردیا گیا ہے ” ابصارنا “ (ہماری آنکھیں کو) 3:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” سکرت ابصارنا “ سے مراد ہے سدت یعنی ہماری آنکھیں بند کردی گئیں۔ 4:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” سکرت ابصارنا “ یعنی بغیر تشدید کے تخفیف کے ساتھ۔ 5:۔ امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سکرت تشدید کے ساتھ پڑھا یعنی بند کردیا گیا (آنکھوں کو) اور جس نے پڑھا سکرت بغیر تشدید کے تخفیف کے ساتھ یعنی جادو کردیا گیا۔
Ayahs 15:16–23

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمان میں ستارے پیدا کئے اور اسے دیکھنے والوں کے لئے زینت والا بنایا

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے ہم نے اسے محفوظ کردیا

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

سوائے اس کے جو چوری سے سن لے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہولیتا ہے

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا اور ہم نے اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور ہم نے اس میں ایک معین مقدار سے ہر قسم کی چیز اگائی

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے اس میں زندگی کے سامان پیدا کردیئے اور جنہیں تم رزق دینے والے نہیں ہوا انہیں بھی ہم نے رزق دیا

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور ہم اس کو صرف مقدار معلوم ہی کے بقدر نازل کرتے ہیں

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے ہواوں کو بھیج دیا جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے تمہیں وہ پانی پلایا تم اتنا پانی جمع کرنے والے نہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

ہو اور بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں

1:۔ امام ابن شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 2:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں ستارے۔ 3:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہیں بڑے ستارے۔ 4:۔ امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “ سے مراد ہے آسمانوں میں محلات اور جس میں چوکیدار رہتے ہیں۔ 5:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفظنھا من کل شیطن رجیم “ میں رجیم سے مراد ہے لعنت کیا ہوا۔ ستاروں کے ذریعہ شیاطین کو جلانا : 6:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا من استرق السمع “ جب وہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ بات کو اچک لے (یعنی چوری چھپے بات کو سن لے) جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” الا من خطف الخطفۃ “ (الصافات آیت 10) 7:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الامن استرق السمع “ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت ) ” الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب (10) “ (الصافات آیت 10) اور ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ شعلہ قتل نہیں کرتا لیکن اس کو جلا دیتا ہے اور اس کو بگاڑ دیتا ہے اور اس کو زخمی کردیتا ہے قتل کیے بغیر۔ 8:۔ امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جریر بن عبداللہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آسمان دنیا اور نچلی زمین کے بارے میں بتائیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کے آسمان کو اللہ تعالیٰ نے دھویں سے پیدا فرمایا پھر اس کو بلند کیا اور اس میں سورج اور چمکتے ہوئے چاند کو رکھ دیا اور اس کو چراغوں یعنی ستاروں سے سجادیا اور ان ستاروں کو شیطان کے مارنے کے لئے بنایا اور اس کی حفاظت فرمائی ہر شیطان مردود سے۔ 9:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والا رض مددنھا “ اور دوسری آیت میں اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت) ” والارض بعد ذلک دحھا (30) “ (النازعات آیت 30) ہم کو ذکر کیا گیا کہ ام القری سے مکہ مراد ہے اور اس سے زمین کو بچھایا گیا قتادہ ؓ نے فرمایا اور حسن (رح) فرمایا کرتے تھے مٹی لے کر خوب پھیل جا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “ ھا سے مراد ہیں اس کے پہاڑ (اور فرمایا) (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ یعنی جو معلوم ہے اور تقسیم کی ہوئی۔ 10:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ یعنی معلوم۔ 11:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ سے مراد ہے مقدر۔ 12:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ سے مراد ہے اندازہ کے مطابق۔ 13:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ یعنی وہ اشیاء جو وزن کی جاتی ہیں۔ 14:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “ سے مراد ہے کہ پہاڑوں میں جو سرمہ پیدا کیا ہے اور اس کے مشابہ (دوسری چیزیں ) ۔ 15:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن لستم لہ برزقین “ سے مراد ہیں جانور اور چوپائے (جن کو تم خوراک دینے والے نہیں ) ۔ 16:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن لستم لہ برزقین “ یعنی ان وحشی جانوروں کو تم رزق دینے والے نہیں ہو۔ 17:۔ امام بزار اور ابن مردویہ نے عظمہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کلام اللہ کے خزانے ہیں جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے لئے فرماتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ 18۔ امام ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان من شیء الا عندنا خزآء نہ “ (یعنی ان خزانوں میں سے) خاص طور پر بارش کے خزانے ہیں۔ ایسی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں مگر ہم اندازے کے ساتھ نازل فرماتے ہیں۔ 19:۔ امام ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ یعنی بارش (کو ہم نازل کرتے ہیں معلوم مقدار میں ) ۔ 20:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں نقل کیا ہے کہ حکم بن عتبہ (رح) سے (آیت) ” وان من شیء الا عندنا خزآئنہ، وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ کے بارے میں فرمایا ہر سال بارش برابر نازل کی جاتی ہے نہ کسی سال زیادہ ہوتی ہے اور نہ کسی سال کم ہوتی ہے لیکن (وہ یوں ہوتا ہے) کہ کبھی کسی ایک قوم پر بارش ہوتی ہے اور دوسری محروم رہتی ہے اور کبھی کبھار سمندر میں (بارش) ہوتی ہے اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ہر قطرہ کے ساتھ ابلیس کی اولاد اور آدم کی اولاد سے زیادہ فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ ہر قطرہ کو گنتے ہیں جہاں وہ واقع ہوتا ہے اور جو وہاں اگتا ہے اور جو رزق حاصل کرتے ہیں ان بوٹیوں اور پودوں سے۔ 21:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بارش کبھی بھی کم نہیں ہوئی جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نازل کرنا شروع کیا ہے لیکن کبھی کسی زمین میں زیادہ ہوتی ہے دوسری زمین کی نسبت پھر یہ (آیت) ” وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ پڑھی۔ 22:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی سال دوسرے سال کی نسبت زیادہ بارش نہیں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ بارش کو بھیجتے ہیں جہاں چاہتے ہیں پھر یہ (آیت) ” وان من شیء الا عندنا خزآئنہ، وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ پڑھی۔ 23:۔ امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے سے زیادہ کمانے والا نہیں اور نہ کسی سال زیادہ بارش ہوئی دوسرے سال سے لیکن اللہ تعالیٰ پھیر دیتے ہیں جہاں چاہتے ہیں (بارش کو) 24:۔ امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی سال دوسرے سال کی نسبت زیادہ بارش نہیں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ اس کو پھیر دیتے ہیں جہاں چاہتے ہیں شہروں میں سے ہر قطرہ آسمان سے اور ہوا کا ہر جھونکا ناپ اور تول سے اترتا ہے۔ 25:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر میزان کے ساتھ۔ 26:۔ امام ابن ابی حاتم نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ کی کتاب حق ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کیوں نہیں واقعی حق ہے آپ نے فرمایا یہ (آیت) ” وان من شیء الا عندنا خزآئنہ، وما ننزلہ الا بقدر معلوم “ پڑھو کیا تم اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اور کیا تم جانتے ہو کہ وہ حق ہے صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے فرمایا پھر تم اس کے بعد مجھے کس طرح ملامت کرتے ہوا احنف کھڑا ہوا اور کہا اے معاویہ اللہ کی قسم ہم تم کو ملامت نہیں ان چیزوں پر جو اللہ کے خزانوں میں ہے لیکن ہم تجھ کو ملامت کرتے ہیں اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اپنے خزانوں میں سے پھر تو نے اسے جمع کرلیا اپنے خزانوں میں اور بند کردیتا ہے اس پر اپنے دروازے کو تو معاویہ ؓ خاموش ہوگئے۔ 27:۔ امام ابن ابی الدنیا نے کتاب السحاب میں، ابن جریر، ابوالشیخ نے عظمۃ میں، ابن مردویہ، دیلمی نے مسند الفردوس میں سند ضعیف کے ساتھ ضعیف کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنوب کی ہوا جنت میں سے ہے اور یہ ہوا ” لواقح “ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا اور اس میں لوگوں کے نفعے میں اور شمال کی ہوا آگ میں سے ہے ہو نکلتی ہے اور جنت میں سے گزرتی ہے تو اسے جنت کا ایک جھونکا لگتا ہے اور اس کو ٹھندا کردیتا ہے۔ 28:۔ امام بن ابی الدنیا نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مدد کی گئی ہوا کے ذریعہ سے اور قوم عاد ہلاک کی گئی دبور (ہوا) اور جنوب کی ہوا جنت میں سے ہے اور یہی لواقح ہوا ہے۔ 29:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں ابن مسعود ؓ سے روایت کا کہ (آیت ) ” وارسلنا الریح لواقح “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ پانی کو اٹھاتی ہے اور اس کے ساتھ بادل بوجھل ہوجاتا ہے اس کے بعد وہ پانی ٹپکتا ہے بہت دودھ والی اونٹنی کے دودھ کی طرح پھر بارش برساتا ہے۔ 30:۔ امام ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے المعظمہ میں نقل کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ پانی کو اٹھاتی ہے پھر بادل اس پانی کے ساتھ چلتا ہے پھر وہ ٹپکتا ہے دودھ دینے والی اونٹنی کے دودھ کی طرح۔ 31:۔ امام ابوعبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وارسلنا الریح لواقح “ بار دار ہوائیں درختوں کو بار دار کرتی ہیں۔ اور بادلوں کی چلاتی ہیں۔ 32:۔ امام ابوعبید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ابورجاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وارسلنا الریح لواقح “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ درختوں کو بار آور کرتی ہیں میں نے عرض کیا یہ بادلوں کے لئے بھی ہوتی ہیں تو انہوں نے فرمایا ہاں یہ بادلوں کو لے جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ برستے ہیں۔ 33:۔ امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وارسلنا الریح لواقح “ سے مراد ہے کہ وہ بھردیتی ہے پانی کو بادل میں۔ 34:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وارسلنا الریح لواقح “ سے مراد ہے کہ ان ہواوں کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے وہ اس کو بوجھل کردیتی ہیں پھر وہ پانی سے بھر جاتا ہے۔ 35:۔ امام ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ لواقح ہوا نکلتی ہے بیت المقدس کی چٹان کے نیچے سے۔ 36:۔ امام ابن حبان، ابن السنی نے عمل الیوم واللیلۃ میں، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی نے سنن میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب ہوا تیز ہوجاتی تو یہ (دعا) فرماتے ” اللہم لقحا لا عقیما “ یعنی اے اللہ اس ہوا کو باعث رحمت بنا اور اس کو باعث عذاب نہ بنا۔ 37:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ نے العظمۃ میں عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ بھیجتے ہیں خوشخبری دینے والی ہوا کو جو زمین کو صاف کردیتی ہے پھر بادلوں کے چلانے والی ہواوں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو اڑاتی ہیں پھر ان کو ٹکڑے ٹکڑے بنا دیتی ہیں پھر بادلوں کو جمع کرنے والی ہواوں کو بھیجتا ہے جو ان کو تہہ بہ تہہ بنا دیتی ہیں پھر بار آور ہواوں کو بھیجتا ہے جو بادل کو بار آور کرتی ہے پھر وہ بارش برساتا ہے۔ ہواوں کی چار قسمیں۔ 38:۔ امام ابن منذر نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ہوائیں چار قسم کی ہیں ایک ہوا عام ہوتی ہے دوسری ہوا جو اٹھاتی ہے (بادلوں کو) اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے اور تیسری ہوا جو اس کو تہہ بہ تہہ کردیتی ہے اور چوتھی ہوا جو بارش برساتی ہے۔ 39:۔ امام ابوالشیخ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کیا کہ لواقح سے مراد ہے وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر بادلوں کو جمع کردیتی ہیں۔ 40:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انتم لہ بخزنین “ سے مراد ہے تم ان کو روکنے والے نہیں ہو (اور فرمایا) (آیت ) ” ونحن الورثون “ میں الوارث سے مراد ہے کہ ہم باقی رہنے والے ہیں۔
Ayahs 15:24–25

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمیں معلوم ہیں جو تم سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہمیں وہ لوگ معلوم ہیں جو تمہارے بعد آنے والے ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب ان سب کو جمع فرمائے گا، بیشک وہ حلیم ہے علیم ہے۔

1:۔ امام طیالسی، سعید بن منصور، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابوالجوزاء کے طریق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت جو لوگوں میں زیادہ خوبصورت تھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتی تھی بعض لوگ پہلی صف میں آگے چلے جاتے تاکہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور بعض لوگ اس کو دیکھنے کے لئے پچھلی صفوں میں چلجے جاتے جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ نازل فرمائی۔ 2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین “ سے مراد ہے نماز کی صفوں میں (آگے بڑھنے والے) امام ترمذی فرماتے ہیں یہ اصح ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” المستقدمین “ یعنی اگلی صفوف ” المستاخرین “ یعنی پچھلی صفوف۔ 4:۔ ابن جریر نے مروان بن حکم (رح) سے روایت کیا کہ کچھ لوگ صفوف میں پیچھے ہٹ جاتے تھے عورتوں کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم “۔ 5:۔ ابن مردویہ نے سہل بن حنیف انصاری ؓ سے روایت کیا کہ تم جانتے ہو کن لوگوں کے بارے میں یہ (آیت ) ” نازل ہوئی (یعنی) (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ میں نے کہا اللہ کے راستہ میں فرمایا نہیں لیکن نماز کی صفوں کے بارے میں (نازل ہوئی) نماز کی جماعت میں بدترین صف آخری صف ہے۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، ابوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف اس کی پہلی صف ہے اور مردوں کی صفوں میں سے بدترین صف اس کی آخری صف ہے اور عورتوں کی بہترین صفوں میں سے اس کی آخری صف ہے اور عورتوں کی بدترین صفوں میں سے اس کی پہلی صف ہے۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، ابن ماجہ اور ابویعلی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مردوں کی بہترین صفوں میں سے اس کی اگلی صف ہے اور اس کی بری صف اس کی آخری صف ہے اور عورتوں کی بہترین صفوں میں سے اس کی آخری صف ہے اور اس کی بری صفوں میں اس کی اگلی صف ہے۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مردوں کی بہترین صفوں میں سے اگلی صف ہے اور اس کی بری صف آخری صف ہے اور عورتوں کی صفوں میں سے بہترین آخری صف ہے اور اس کی بری صف پہلی صف ہے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کے ثواب کو جانتے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، دارمی ابوداود، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں پہلی صف (والوں) پر اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ پہلی صفوں پر رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلی صف میں کمی دیکھی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں پہلی صفوں پر تو اس پر لوگ رش کرنے لگے۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن شداد ؓ سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں ان لوگوں پر جو اگلی صفوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ نے عامر بن مسعود قرشی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگ جان لیتے کہ پہلی صف میں کیا (ثواب) ہے تو اس میں قرعہ کے ذریعے صف باندھتے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ، نسائی اور ابن ماجہ نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ رحمت کی دعا کرتے تھے پہلی صف کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف کے لئے ایک مرتبہ۔ 15:۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم “ نماز اور جنگ کی صفوں کے بارے میں ہے۔ 16:۔ ابن ابی حاتم نے معتمر بن سلیمان کے طریق سے شعیب بن عبدالملک سے اور انہوں نے مقاتل بن سلیمان (رح) سے (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم “ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت جنگ کی صفوں کے بارے میں نازل ہوئی معتمر (رح) نے فرمایا کہ میں نے یہی بات اپنے باپ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت قتال کے فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ 17:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آگے بڑھنے والے اور اللہ کی نافرمانی میں پیچھے ہٹنے والے۔ 18۔ ابن جریر اور ابن منذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یہ پہلی امتوں میں نیکی میں آگے بڑھنے والے اور نیکی میں سستی کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ 19:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ سے مراد ہیں جو مرچکے ہیں اور جو زندہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں مرے۔ 20:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ” المستقدمین “ سے مراد ہیں کہ آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد میں جو گزر گئی (آیت) ” المستاخرین “ سے مرادوہ اولاد جو ابھی پیدا نہیں ہوئی اور جو (ابھی) مردوں کی پشتوں میں ہیں۔ 21:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ” المستقدمین “ سے مراد ہے آدم (علیہ السلام) اور جو اس کے ساتھ (والی مخلوق) ہے جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” والمستاخرین “ یعنی جو مخلوق کی اولاد ہے اور آپ بھی مخلوق ہیں کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ 22:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے محمد بن کعب ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کیا یہ (آیت) نماز کی صفوں کے بارے میں ہے ؟ فرمایا نہیں (آیت ) ” المستقدمین “ سے مراد ہے میت اور مقتول (آیت) ” المستاخرین “ سے مراد ہے جو ان کے ساتھ ملیں گے بعد میں۔ 23:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے عکرمہ و مجاہد رحمہما اللہ علیہما سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین “ سے مراد ہے کہ جو شخص مرگیا اور جو شخص باقی ہے۔ 24:۔ امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک دن مخلوق آگے کردی گئی (یعنی پہلے پیدا کی) ایک مخلوق پیچھے کردی گئ (یعنی بعد میں پیدا کی) اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے جو اس نے پہلے پیدا کی اور اس کو بھی جانتا ہے جو بعد میں پیدا کی۔ 25:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ” المستقدمین “ سے مراد ہے کہ جو (لوگ) پہلی امتوں میں سے گزر گئے اور (آیت ) ” المستاخرین “ سے مراد ہے محمد ﷺ کی امت۔ 26:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” وان ربک ھو یحشرہم “ سے مراد ہے پہلے اور پچھلے (سب کو جمع کریں گے) 27:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان ربک ھو یحشرہم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) سب کو جمع کریں گے ان کو (یعنی پہلے لوگوں کو) اور ان کو بھی (یعنی پچھلے لوگوں کو) 28:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان ربک ھو یحشرہم “ کہ اللہ تعالیٰ جمع کریں گے اگلوں کو اور پچھلوں کو۔ 29:۔ ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان ربک ھو یحشرہم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے بنی تھی۔

1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین قسم کی مٹی سے پیدا فرمایا بجتی ہوئی مٹی سے، سڑے ہوئے گارے سے، ا ورمٹی چپکنے والی، عمدہ چپکنے والی، نرم بجنے والی مٹی جس سے ٹھیکری بنائی جاتی ہے اور سڑا ہوا گارا وہ مٹی جس میں سڑندہو۔ انسان کی پاکیزہ مٹی سے تخلیق ہوئی۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من صلصال “ یعنی صلصال سے وہ مٹی مراد ہے کہ جب پاکیزہ زمین پر پانی واقع ہو پھر وہ اس مٹی میں جذب ہوجائے اس کے بعد مٹی خشک ہوجائے پھر وہ ٹھیکری کی طرح بجنے لگے۔ 3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الصلصال “ وہ خشک مٹی ہے جو گیلی ہوجاتی ہے اپنے خشک ہونے کے بعد۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الصلصال “ وہ مٹی ہے جو ریت کے ساتھ ملا دی گئی ہو۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الصلصال “ وہ مٹی ہے کہ جب اس کو مارا جائے تو آواز نکالے۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الصلصال “ وہ خشک مٹی مراد ہے کہ جس کی آواز سنی جائے 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الصلصال “ وہ مٹی ہے کہ جس کو تو اپنے ہاتھوں میں نچوڑے تو اس میں سے پانی نکل پڑے تیری انگلیوں کے درمیان میں سے۔ 8:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من حما مسنون “ سے مراد ہے گیلی مٹی سے۔ 9:۔ فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من حما مسنون “ سے مراد ہے بدبودارمٹی سے۔ 10:۔ امام طلستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” من حما مسنون “ کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کالا کیچڑ بدبودار اور مسنون سے مراد ہے قالب میں ڈھالی ہوئی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے حمزہ بن عبدالمطلب کا قول (شعر) نہیں سنا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ اغرکان البدر مسنۃ وجہہ جلا الغیم عنہ ضوء ہ فتبددا ترجمہ : وہ روشن پیشانی والا ہے گویا اس کا چہرہ چودھویں رات کا عکس ہے اس کی چمک سے بادل چھٹ گیا ہے اور بکھر گیا ہے۔ 11:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) زمین کی سطح سے پیدا کیے گئے (پھر) زمین پر چھوڑ دیئے گئے یہاں تک کہ لیسدار مٹی بن گئی اور وہ مٹی ہے چپکنے والی پھر اس کو چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سڑا ہوا گارا بن گیا اور وہ بدبودار مٹی بن گیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور وہ چالیس دنوں تک ایک ڈھانچے کی صورت میں تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہوگیا اور وہ ایک بجتی ہوئی مٹی بن گئی جیسے ایک ٹھیکری ہو جب اس پر مارا جاتا تو وہ آواز دیتا تھا اسی وجہ سے (آیت) ” الصلصال “ اور ” فخار “ کی حالت میں اس ی طرح پڑرہا۔
Ayahs 15:27–35

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور ہم نے جن کو اس سے پہلے آگ سے پیدا کیا جو ایک گرم ہوا سے تھی

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ بلاشبہ میں بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے ہوگی

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

سو جب میں اسے پوری طرح بنادوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ میں گرپڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

سو تمام فرشتون نے ا کٹھے ہو کر سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے نہیں کیا، اس نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس تجھے اس بات پر کس نے آمادہ کیا کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہو ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

ابلیس نے کہا میں ایسے بشر کو سجدہ کرنے والا نہیں جسے آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا جو سیاہ رنگ کے سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو تو اس سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور قیامت کے دن تک تجھ پر لعنت رہے گی۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔ 3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل من نار السموم “ سے مراد ہے کہ اسے تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت پیدا کیا گیا تھا۔ 5:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من نار السموم “ میں السموم سے مراد ہے اتنی آگ کی گرمی جو قتل کردیتی ہے۔ 6:۔ طیالسی، فریابی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، اور بیہقی نے شعب الایمان میں حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” السموم “ یعنی وہ آگ جس سے الجان کو پیدا کیا گیا اور جہنم کی آگ کا سترواں جز ہے پھر یہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل من نار السموم “ 7:۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کا سترواں جز ہے اور یہ آگ اس آگ کا سترواں جز ہے جس سے جان کو پیدا کیا گیا اور یہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل من نار السموم “ تلاوت فرمائی۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار ؓ سے روایت کیا کہ جنات اور شیاطین سورج کی آگ سے پیدا کیے گئے۔