Ayahs 15:51–771:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ جس نے لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کیا یا اپنی ذات کو مایوس کرلیا تو اس نے غلطی کی پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” قال ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون “
6:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ کا یہ معنی لیا ہے کہ کون شخص مایوس ہوتا ہے اپنے رب کی رحمت سے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کو نصیحت :
7:۔ ابن ابی حاتم اور احمد نے زہد میں موسیٰ بن علی سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نوح نے اپنے بیٹے سام سے فرمایا اے میرے بیٹے ہرگز قبر میں داخل نہ ہونا اس حال میں کہ تیرے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر اللہ کے ساتھ شرک ہو جو شخص مشرک ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس آئے گا تو اس کے لئے کوئی دلیل نہ ہوگی اور اے میرے بیٹے قبر میں داخل نہ ہونا اس حال میں کہ تیرے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو کیونکہ تکبر اللہ کی چادر ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتے ہیں اور اے میرے بیٹے قبر میں داخل نہ ہونا اس حال میں تیرے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر مایوسی ہو کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا مگر گمراہ۔
8:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گنہگار آدمی اللہ کی رحمت کی امید رکھنے والا اس عبادت کرنے والے سے اللہ کے زیادہ قریب ہے جو (اللہ کی رحمت سے) مایوس ہونے والا ہے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ میرے اور (قدریہ فرقے) کے درمیان یہ آیت نزاع کا باعث ہے (آیت ) ” الا امراتہ قدرنا انھا لمن الغبرین “
10:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انکم قوم منکرون “ یعنی ان کو لوط نے نہ پہنچانا تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” بما کانوا فیہ یمترون “ یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب (آنے) میں وہ شک کرتے تھے۔
11:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بما کانوا فیہ یمترون “ یعنی وہ شک کرتے تھے۔
12:۔ عبدالرزاق ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واتبع ادبارہم “ یعنی حکم دیا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے پیچھے پیچھے چلیں جب وہ چلیں۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے سدیرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وامضوا حیث تومرون “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو شام کی طرف نکالا۔
14:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقضینا الیہ ذلک الامر “ یعنی ہم نے حکم ان کی طرف وحی کی۔
15:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان دابر ھولآء مقطوع “ یعنی ان کی جڑ کٹ جائے گی اور ان کو ہلاک کردیا جائے گا۔
16:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجآء اھل المدینۃ یستبشرون “ یعنی وہ لوگ اللہ کے نبی لوط کے مہمانوں کے آمد سے خوش ہوئے جب وہ لوط (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تھے کیونکہ انہوں نے ان مہمانوں سے برے کام کا ارادہ کیا تھا۔
17:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولم ننھک عن العلمین “ یعنی قوم والے کہتے تھے کہ ( ہم نے تم کو منع نہیں کیا تھا) کسی کو مہمان بنانے یا اس کو ٹھکانہ دینے سے (آیت ) ” قال ھولآء بنتی ان کنتم فعلین “ یعنی ان کو لوط (علیہ السلام) نے عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم فرمایا اور انہوں نے ارادہ کیا اپنے مہمانوں کو اپنی قوم کی بیٹیوں کے ذریعے بچانے کا (واللہ اعلم)
18۔ ابن ابی شیبہ، حارث بن اسامۃ، ابو یعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے زیادہ کوئی معزز ومکرم شخصیت پیدا نہیں فرمائی اور میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی زندگی کے علاوہ کسی کی زندگی کی قسم اٹھائی ہو فرمایا (آیت) ” لعمرک انہم لفی سکرتھم یعمھون “ یعنی اے محمد ﷺ قسم ہے تیری زندگی کی اور تیرے باقی رہنے کی قسم دنیا میں۔
19:۔ ابن جریر اور ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لعمرک “ یعنی تیری زندگی کی قسم۔
20:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی مگر محمد ﷺ کی زندگی کی (قسم کھائی) فرمایا (آیت) ” لعمرک انہم لفی سکرتھم یعمھون “ یعنی قسم ہے تیری زندگی اے محمد ﷺ
21:۔ ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لوگ پسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی یوں کہے میری عمر کی قسم اسی طرح وہ میری زندگی کی قسم ایسے ہی سمجھتے تھے۔
22:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہم لفی سکرتھم یعمھون “ یعنی وہ اپنی گمراہی میں کھیل رہے ہیں۔
23:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” انہم لفی سکرتھم یعمھون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ اپنی غفلت میں ڈانواں ڈول ہورہے تھے۔
24:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاخذتھم الصیحۃ “ میں الصیحۃ مثال صاعقہ کے ہیں یعنی ہر وہ چیز جس کے ذریعہ قوم کو ہلاک کردیا جائے وہ صاعقہ یا صیحہ ہے۔
25:۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مشرقین “ سے مراد ہے جب سورج نکل رہا تھا۔
26:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان فی ذلک الایت “ سے مراد ہے نشانی کیا تو نے اس آدمی کو دیکھا کہ جو اپنی انگوٹھی اپنے گھروالوں کی طرف بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز دے دو تو وہ گھر والے انگوٹھی دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات سچ ہے۔
27:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لایۃ للمومنین “ یعنی دیکھنے والوں کے لئے۔
28:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمۃ میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لایۃ للمومنین “ یعنی اعتبار کرنے والوں کے لئے۔
29:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لایۃ للمومنین “ یعنی فراست والے (کے لئے نشانی ہے)
30:۔ ابونعیم نے حلیہ میں جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان فی ذلک لایت للمتوسمین “ یعنی فراست والے۔
31:۔ بخاری نے تاریخ میں، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن السنی اور ابونعیم دونوں نے طب میں ابن مردویہ اور خطیب نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی فراست سے ڈر، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے پھر یہ (آیت ) ” ان فی ذلک لایت للمتوسمین “ پڑھی یعنی فراست والے۔
32:۔ ابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی فراست سے بچو کیونکہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
33:۔ ابن جریر نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اور اللہ کی توفیق سے بولتا ہے۔
34:۔ حکیم ترمذی، بزار، ابن السنی اور ابو نعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے (کچھ) بندے ایسے ہیں کہ جو لوگوں کو فراست سے پہچان لیتے ہیں۔
35:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” وانھا لبسبیل مقیم “ سے مراد ہلاکت ہے و اضح راستہ۔
36:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت ) ” وانھا لبسبیل مقیم “ سے مراد واضح راستہ۔
Ayahs 15:78–871:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ لظلمین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ وہ لوگ گھنے جنگلوں میں رہتے تھے اور ان کے عام درخت دائمی تھے اور ان کے رسول شعیب (علیہ السلام) تھے اور ان کو اصحاب ایکہ اور مدین والوں کی طرف بھیجا گیا یہ دو امتیں تھیں اور ان کو دو مختلف قسم کے عذاب دیئے گئے اور مدین والوں کو سخت آواز نے پکڑ لیا اور ایکہ والے ان پر سات دنوں تک گرمی مسلط کی گئی نہ کوئی سایہ اس محفوظ کرتا تھا اور نہ کوئی تدبیر کام دیتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیجا اس میں وہ آرام کررہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر عذاب بنا دیا ان پر آگ برسائی گئی جو ان سب کو کھاگئی اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” عذاب یوم الظلۃ، انہ کان عذاب یوم عظیم “۔
5:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہے جنگل والے۔
6:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہے جنگل والے۔
7:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہے لپٹے ہوئے درخت۔
8:۔ ابن منذرنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہے مدین والے اور ” الایکۃ “ سے مراد ہے لپٹے ہوئے درخت (یعنی گھنے درخت)
9:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الایکۃ “ سے مراد ہے درختوں کا جھنڈ۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مدین والے تین قسم کا عذاب دیئے گئے زلزلے نے ان کو ان کے گھروں میں پکڑا یہاں تک کہ وہ ان (گھروں) سے باہر نکلے تو ان کو سخت گھبراہٹ پہنچی تو وہ جدا جدا ہوگئے اور وہ گھروں میں داخل نہ ہوتے تھے کہ کہیں چھتیں گر نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ بھیج دیا اس کے نیچے ایک آدمی داخل ہوا اور کہا آج کے دن کی طرح میں کسی سائے کو اس طرح پاکیزہ اور ٹھنڈا نہیں دیکھا اے لوگوں آجاؤ سب لوگ سائے کے نیچے داخل ہوگئے ان پرا یک سخت قسم آواز آئی اور وہ سب مرگئے۔
11:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھما لبامام مبین “ (یعنی راستہ پر) واقع ہے۔
12:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لبامام مبین “ یعنی ظاہری راستے پر۔
13:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھما لبامام مبین “ سے جاننے ہوئے راستے پر مراد ہے۔
14:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھما لبامام مبین “ یعنی واضح راستے پر۔
15:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لبامام مبین “ سے مراد ہے یعنی واضح راستے پر۔
16:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اصحب الحجر “ سے مراد ہے وادی والے۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اصحب الحجر “ ثمود تھے جو صالح کی قوم تھی۔
18۔ امام بخاری، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت ) ” اصحب الحجر “ کے لئے فرمایا کہ اس قوم پر داخل نہ ہو مگر یہ کہ تم روتے ہوئے ہو اور تم رونے والے نہ ہو تو ان پر (یعنی ان کے گھروں میں) داخل نہ ہو ایسا نہ ہو کہ تم کو ان کی طرح کا عذاب پہنچ جائے۔
غزوہ تبوک کے موقع پر قوم ثمود کے کنووں پر گزر :
19:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ ﷺ حجر کے مقام پر قوم ثمود کے گھروں کے پاس اترے لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا جن سے قوم ثمود پیتے تھے انہوں اس سے آٹا گوندھا اور ہانڈیوں کو گوشت کے ساتھ ( آگ پر) رکھا آپ نے ان کو ہانڈیوں کو بہا دینے کا حکم فرمایا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم فرمایا پھر آپ نے صحابہ کے ساتھ آگے چلے یہاں تک کہ ایک کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا جہاں سے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور آپ نے ان لوگوں کو منع فرمایا کہ اس قوم کے مکانات کے پاس جائیں جن کو عذاب دیا گیا اور فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ تم کو ان کی طرح عذاب نہ پہنچ جائے اس لئے ان پر (یعنی ان کے رہنے والی جگہ پر) داخل نہ ہو۔
20:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب لوگ (یعنی صحابہ کرام ؓ قوم ثمود کی زمین حجر میں اترے ان کے کنووں سے انہوں نے پانی بھرا اور اس سے آٹا گوندھا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ پانی کو بہا دو جو تم نے لیا اور آٹا اونٹوں کو کھلا دو اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس کنویں سے پانی لیں جہاں سے صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی۔
21:۔ ابن مردویہ نے سبرہ بن معبد (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حجر کے مقام پر اپنے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کی جس نے ان کے کنووں سے پانی بھرا اس کو انڈیل دے پھر فرمایا ان میں سے بعض نے آٹا گوندھا اور ان میں سے بعض نے حیس (حلوا) تیار کیا (سب کو پھینک دو )
22:۔ ابن مردویہ اور ابن النجار نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاصفح الصفح الجمیل “ سے مراد ہے بغیر عتاب کے راضی ہونا۔
23:۔ امام بیہقی (رح) نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاصفح الصفح الجمیل “ سے مراد ہے بغیر عتاب کے راضی ہونا۔
24:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” فاصفح الصفح الجمیل “ یہ خوبی کے ساتھ درگزر کرنا اور یہ حکم قتال سے پہلے کا ہے۔
25:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحتہ الکتاب۔
26:۔ فریابی، سعید بن ابن الضریس، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم، دارقطنی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں کئی طرق سے علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب۔
27:۔ ابن الضریس، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب اور (آیت ) ” والقرآن العظیم “ سے مراد ہے سارا قرآن۔
28:۔ ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے سنن میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ” السبع المثانی “ کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب اللہ تعالیٰ نے اس کو محمد ﷺ کی امت کے لئے علیحدہ رکھا ہوا ہے اس کو ام الکتاب میں بلند کیا ہوا تھا اور امت محمدیہ کے لئے اس کو ذخیرہ کر رکھا تھا یہاں تک امت محمدیہ کو یہ صورت عطا ہوئی اس سے پہلے کسی کو یہ صورت عطا نہیں فرمائی پوچھا گیا کہ سورة فاتحہ کی ساتویں آیت کون سی ہے ؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
ابن الضریس نے سعیدبن جبیر سے اسی طرح روایت کیا۔
29:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ یعنی یہ سورة فاتحہ تمہارے نبی کریم ﷺ کے لئے ذخیرہ کی گئی ہے اس کے علاوہ کسی نبی کے ذخیرہ نہیں کی گئی۔
سبع مثانی سے کیا مراد ہے۔
30:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد سورة فاتحہ ہے اور یہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہے۔
31:۔ ابن الضریس ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ فاتحۃ الکتاب ہے۔
32:۔ ابن جریر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ الحمد للہ رب العلمین ہے۔
33:۔ ابن الضریس یحی بن یعمر اور ابو فاختہ رحمہما اللہ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم “ سے مراد فاتحۃ الکتاب ہے۔
34:۔ ابن الضریس نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔
ابن جریر نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
35:۔ ابن الضریس اور ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب جو فرض اور نفل نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے۔
36:۔ ابن الضریس نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے۔
37:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں ربیع کے طریق سے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب کی سات آیتیں اور اس کو ” المثانی “ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ باربار پڑھی جاتی ہیں جب بھی آپ قرآن پڑھتے تو اس کی اس کی تلاوت فرماتے ربیع (رح) سے پوچھا گیا کہ وہ لوگ اس کو ” السبع الطول “ کہتے ہیں انہوں نے فرمایا یہ آیت نازل ہوئی جبکہ طول سورتوں میں سے کچھ بھی نازل نہ ہوا تھا۔
38:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہیں سات لمبی سورتیں۔
39:۔ فریابی، ا بوداود، نسائی، ابن جریر ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، حاکم (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی “ سے مراد ہیں سات لمبی سورتیں ان کو کسی کو نہیں دیا گیا مگر نبی کریم ﷺ کو اور ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو دی گئی تھیں۔
40:۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لمبی سورتیں دی گئیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئیں جب انہوں نے تختیاں (نیچے) ڈالیں تو وہ اٹھالیں گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
41:۔ دارمی اور ابن مردویہ نے ابی بن کعبؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہی (آیت ) ” سبعا من المثانی “ ہے
42:۔ ابن ضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد سات سورتیں ہیں۔
43:۔ سعید بن منصور، ابن ضریس، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہیں سات لمبی سورتیں بقرہ، آل عمران، نساء مائدہ، انعام، اعراف اور یونس ابن جبیر (رح) سے پوچھا گیا کہ ” المثانی “ کیوں کہا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس میں دہرایا جاتا ہے قضا کو اور قصص کو۔
44:۔ حاکم اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے (سات سورتیں مراد ہیں) بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف اور کہف۔
45:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ” المثانی “ سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی آیات کی تعداد دو سو سے کچھ کم وبیش ہیں اور وہ یہ ہیں بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف، برأۃ اور انفال ایک ہی سورتیں ہیں۔
46:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہیں سات لمبی سورتیں (سعید ابن جبیر ؓ فرماتے ہیں) میں عرض کیا ” المثانی “ نام کیوں رکھا گیا ؟ فرمایا اس میں خبروں کو مثالوں کو اور عبرتوں کا بار بار ذکر ہے۔
47:۔ ابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہے فاتحۃ الکتاب اور السبع الطول بھی ان میں ہیں۔
48:۔ سعید بن منصور ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے زیاد بن ابی مریم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہے کہ آپ کو سات دوسری چیزیں اور بھی عطا کی گئیں حکم کرنا، روکنا، خوشخبری دینا، ڈرانا، مثالیں بیان کرنا، نعمتوں کا شمار کرنا، پہلی قوموں کی خبریں پڑھنا۔
49:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر اور ابن منذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ قرآن سارے کا سارا مثانی ہے۔
50:۔ آدم بن ابی ایاس، ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سبعا من المثانی “ سے مراد ہے پہلی سات لمبی سورتیں اور ” والقرآن العظیم “ یعنی سارا قرآن۔
51:۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” المثانی “ سے مراد ہے قرآن کا وہ حصہ جو بار بار پڑھا جاتا ہے کیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا (آیت) ” اللہ نزل حسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “ (الزمر 23)
52:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” المثانی “ سے مراد ہے قرآن جس میں اللہ تعالیٰ ایک ہی قصہ باربار ذکر فرماتے ہیں۔