14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 14:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الٓر یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکالیں جو زبردست ہے خوبیوں والا

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ اللہ ہے جس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور کافروں کے لئے ہلاکت یعنی سخت عذاب ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیاوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے وہ اپنی قوم کی زبان بولنے والے تھے تاکہ وہ اپنی قوم کے لئے بیان کریں، پھر اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت دے اور وہ غالب ہے، حکمت والا ہے

1:۔ امام عبد ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” التخرج الناس من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ 2:۔ امام ابن بن حمید، ابویعلی، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آسمانوں پر اور (سب) انبیاء (علیہم السلام) پر فضلیت عطاء فرمائی ان سے پوچھا گیا آسمان والوں پر ان کی فضیلت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں کے لئے فرمایا (آیت ) ” ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جھنم “ (الانبیاء آیت 29) اور محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ (الفتح آیۃ : 2) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آگ سے چھٹکارا لکھ دیا ابن عباس ؓ سے پھر پوچھا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) پر ان کی فضیلت کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ اور محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت ) ” وما ارسلنک الا کافۃ اللناس “ (سبا آیت 28) یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے (تمام) انسانوں اور جنوں کا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ 4:۔ امام احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی عربی زبان میں : 5:۔ امام ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کی طرف عربی زبان میں وحی لے کر آتے تھے اور وہ ہر نبی کے پاس نازل ہوتے تھے ان کی قوم کی زبان کے ساتھ۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ ‘ یعنی اس کی قوم کی لغت کے ساتھ (جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوتے تھے) عجمی ہوتی تو عجمی زبان میں (وحی آتی تھی) اور (قوم کی زبان) سریانی ہے توسریانی زبان میں (وحی آتی تھی) تاکہ (وہ پیغمبر) ان کے لئے اللہ کے احکام کو کھول کر بیان کرے اور اپنی ہر حجت قائم کردے۔ 7:۔ امام خطیب نے تالی التلخیص میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ کو ان کی قوم کی عربی زبان کے ساتھ بھیجا گیا۔ 8:۔ امام ابن مردویہ نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ ” بلسان قومہ “ سے مراد ہے کہ قرآن کو قریش کی زبان میں نازل کیا گیا۔ 9:۔ امام ابن منذر نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ قرآن کو قریش کی زبان میں نازل کیا گیا۔ 10:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ وحی نازل نہیں ہوئی مگر عربی زبان میں پھر ہر نبی نے اپنی قوم کی زبان میں اس کا ترجمہ کیا اور فرمایا قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی اور جو شخص جنت میں داخل ہوگا تو وہ عربی زبان میں بات کرے گا۔ 11:۔ امام ابن ابی حاتم نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ مجوسیوں کا اور عرب کے نصاری کا ذبیحۃ مت کھاؤ کیا تم ان اہل کتاب سمجھتے ہو ؟ اور وہ اہل کتاب نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ ‘ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا ان کی قوم کی زبان میں اور محمد ﷺ کو ان کی قوم کی زبان میں اور محمد ﷺ کو ان کی قوم کی زبان عربی میں بھیجا گیا لیکن انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کو قبول نہیں کیا اور جو کچھ محمد ﷺ پر اتارا گیا انہوں نے اس کی بھی اتباع نہیں کی اس کے لئے ان کے ذبائح مت کھاؤ کیونکہ وہ اہل کتاب نہیں ہیں
Ayahs 14:5–6

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ اور انہیں ایام الہیہ یاد دلاؤ بیشک اس میں ہر ایسے شخص کے لئے نشانیاں ہیں جو خوب صبر کرنے والا ہے خوب شکر کرنے والا ہے

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قو سے کہا کہ تم پر جو اللہ کی نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمہیں بری طرح تکلیف پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے لئے بڑا امتحان تھا۔

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد وعطاء وعبید بن عمیر رحمہم اللہ تینوں حضرات سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا “ سے مراد ہے نونشانیاں (یعنی بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں آئیں تھیں) طوفان، ٹڈی، چیچڑی، مینڈک، خون، لاٹھی آپ کے ہاتھ (کا چمکنا) قحط سالی، پھلوں میں نقصان۔ 2:۔ امام ابن جریر و اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے (اپنی قوم کو نکالئے) گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ 3:۔ امام نسائی، عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں، ابن جریر ابن منذر، ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “ سے مراد ہے کہ (ان کو یاد دلائیے) اللہ کی نعمتیں۔ 4:۔ امام عبدالرزاق اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “ سے مراد ہے اللہ کی نعمتیں۔ 5:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “ ہوئی تو آپ نے ان کو وعظ فرمایا۔ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا : ﷺ 6:۔ امام ابن مردودیہ نے عبداللہ بن سلمہ کے طریق سے حضرت علی یا زبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو خطبہ ارشاد فرماتے تھے اور ہم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلاتے تھے یہاں تک کہ ہم اس بات کو آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیتے تھے گویا کہ لوگوں کو کسی امر کا صبح شام حکم فرماتے تھے اور جب جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقاتوں کا ابتدائی دور تھا تو آپ ہنستے نہیں تھے یہاں تک کہ وہ چلے جاتے تھے۔ 7:۔ امام ان جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “ سے مراد ہیں وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر فرمائی تھیں اور ان کو فرعون والوں سے نجات دی اور ان کے لئے دریا کو پھاڑ دیا اور ان پر بادلوں کا سایہ کیا اور ان پر ترنجین اور بٹیرے نازل فرمائے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “ سے مراد گزشتہ قوموں کے احوال اور واقعات ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان پر جاری فرمائے۔ 9:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان فی ذلک لکل صبار شکور “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے بہترین بندہ وہ ہے جب کسی مصیبت میں مبتلا کیا جائے تو صبر کرے اور جب (کوئی نعمت) دی جائے تو شکر کرے۔ 10:۔ امام ابن ابی منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل صبار شکور “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا پایا اور زیادہ شکر کرنے والا اور زیادہ صبر کرنے والا (پایا) 11:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوظبیان کے طریق سے علقمہ سے اور انہوں نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ صبر آدھا ایمان ہے اور یقین سارا ایمان ہے علقمہ (رح) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث علاء بن یزید (رح) کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کیا یہ قرآن میں نہیں ہے (یعنی قرآن میں موجود ہے اور وہ یہ ہے) (آیت) ” ان فی ذلک لکل صبار شکور “ (اور) ” ان فی ذلک لایت للمومنین “۔
Ayahs 14:7–8

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے رب نے تم کو مطلع فرما دیا کہ اگر تم شکر کروگے تو تم کو اور زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب سخت ہے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم اور وہ سب لوگ جو زمین میں ہیں اللہ کی ناشکری کرو تو بلاشبہ اللہ بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خبر دی کہ اگر وہ شکر کریں گے تو نعمتوں کا تو اللہ تعالیٰ ان پر فضل کو زیادہ کردیں گے اور ان کے لئے رزق کو بھی وسیع فرما دیں گے اور جہاں والوں پر ان کو غالب فرمائیں گے۔ 2:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” واذ تاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ہو عطاء کریں جو ان سے سوال کرے اور زیادہ دیں جو ان کا شکر ادا کرے اور اللہ تعالیٰ انعام فرمانے والے ہیں (اور) شکر کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں پس تم اللہ کا شکر ادا کرو اس کی نعمتوں پر۔ 3:۔ امام ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ سے مراد ہے میں اپنی اطاعت کی مزید توفیق دوں گا اگر تم شکر ادا کروگے۔ 4:۔ امام ابن مالک، ابن جریر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں علی بن صالح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 5:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ سے مراد ہے کہ تمہارے نفس دنیا کی طرف مائل نہ ہوں کیونکہ وہ زیادہ آسان ہے اللہ پر اس سے لیکن فرماتے ہیں (آیت ) ” لئن شکرتم “ (یعنی اگر شکر کروگے) اس نعمت کا جو میری طرف ہے (آیت) ” لازیدنکم “ (تو میں زیادہ دوں گا) اپنی اطاعت کی توفیق میں۔ 6:۔ امام ابن ابی دنیا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو زھیر یحی بن عطارد بن مصعب رحمہم اللہ سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا کبھی نہیں ہوا جس کو چار چیزیں دی گئیں تو پھر اس کو چارچیزوں سے روک دیا گیا ہو جس کو شکر کرنے کی نعمت دی گئی ہو پھر اس سے نعمتوں سے روک دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اور ایسا بھی کبھی نہیں ہوا جس کو دعا کی توفیق دی گئی ہو پھر قبولیت سے روک دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” ادعونی استجب لکم “ (غافر آیت 29) اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس کو استغفار کی نعمت دی گئی ہو اور اس سے مغفرت کو روک دیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” استغفروا ربکم انہ کان غفارا “ اور کبھی ایسا نہیں ہوا جس کو توبہ کی توفیق بخشی گئی ہو اور اس سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) قبول کرنے کو روک دیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت ) ” وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (الشوری آیت 25) 7:۔ امام احمد اور بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سائل آیا آپ نے اس کے لئے ایک کھجور کا حکم فرمایا اس نے اس کو نہ لیا ایک اور سائل آپ کے پاس آیا آپ نے اس کے لئے ایک کھجور کا حکم فرمایا اس نے اس کو قبول کرلیا اور کہا رسول اللہ ﷺ کی طرف سے (ایک کھجور بھی قبول ہے) پھر آپ نے ایک لڑکی سے فرمایا ام سلمہ کے پاس جا اور اس (سائل) کو چالیس درھم دے دو جو اس کے پاس ہیں۔ شکر گذار سائل کا واقعہ : 8:۔ امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل نبی کریم ﷺ کے پاس آیا آپ نے اس کو ایک کھجور عطاء فرمائی اس آدمی نے کہا سبحان اللہ انبیاء میں سے ایک نبی کھجور کا صدقہ کرتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا تو کیا جانتا ہے کہ اس میں بہت سے مثاقیل ہیں پھر آپ کے پاس دوسرا سائل آیا آپ نے اس کو (ایک کھجور) عطاء فرمائی اس نے کہا نبی کریم ﷺ کی طرف سے ایک کھجور (کافی ہے) میں اس کھجور کو اپنے سے جدا نہیں کروں گا جب تک میں (دنیا میں) باقی ہوں، میں ہمیشہ اس کی برکت کی امید رکھوں گا نبی کریم ﷺ نے اسے نیکی کرنے کا حکم دیا تھوڑے ہی عرصہ میں وہ آدمی مالدار ہوگیا۔ 9:۔ امام ابو نعیم نے حلیہ میں مالک بن انس ؓ کے طریق سے جعفر بن محمد بن علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ جب ان سے سفیان ثوری (رح) نے کہا میں آپ کے پاس کھڑا ہیں ہوں گا جب تک آپ مجھے کوئی حدیث بیان نہیں کریں جعفر ؓ نے فرمایا میں آپ کو بیان کروں گا اور حدیث کی کثرت میں آپ کے لئے خیر نہیں ہے اے سفیان جب اللہ نے آپ پر کوئی نعمت فرمائی تو اسے باقی اور ہمیشہ رکھنا چاہتا ہے تو اس (نعمت پر) حمد اور شکر کو زیادہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اگر تم کو رزق کی کمی کی شکایت ہو تو استغفار کی کثرت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” استغفروا ربکم انہ کان غفارا (10) یرسل السمآء علیکم مدرارا (11) ویمددکم باموال وبنین “ (نوح آیت 12) یعنی دنیا میں اور آخرت میں (آیت) ” ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انھرا (12) “ اے سفیان جب تجھ کو کوئی امر پریشان کررہا ہوں کسی بادشاہ یا اس کے علاوہ (کسی دوسرے) کی طرف سے تو ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “ کی کثرت کر کیونکہ یہ کشادگی کی چابی ہے اور جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ ہے۔ 10:۔ امام حکیم ترمذی نے نوادر الاصوال میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو چار چیزیں دی گئیں تو اللہ تعالیٰ اسے دوسری چارچیزوں سے محروم نہیں کرتا جس کو دعا کی توفیق دی گئی (یعنی اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا دیا گیا) تو اس سے قبول ہونے کو نہیں روکا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ادعونی استجب لکم “ (غافر) اور جس کو استغفار دیا گیا تو اس سے مغفرت کو نہیں روکا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم انہ کان غفارا “ اور جس کو شکر دیا گیا اس سے نعمتوں کی زیادتی کو نہیں روکا جاتا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اور جس کو تو بہ (کرنا) عطاء کیا گیا۔ اس سے قبول ہونے کو نہیں روکا جاتا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادۃ ویعفوا عن السیات “ (الشوری آیت 25) 11:۔ امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے کہ کہ جس کو شکر دیا گیا وہ زیادتی سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اور جس کو توبہ دی گئی تو وہ قبول ہونے سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ 12:۔ امام بخاری نے تاریخ میں اور ضیاء مقدسی نے مختارہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو پانچ چیزیں الہام کی گئیں وہ دوسری پانچ چیزوں سے محروم نہیں رکھا جاتا جس کو دعا الہام کی گئی وہ قبول ہونے سے محروم نہیں کیا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت ) ” ادعونی استجب لکم “ اور جس کو توبہ الہام کی گئی وہ قبولیت سے محروم نہیں کیا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (الشوری آیت 25) اور جس کو شکر کی توفیق دی گئی وہ زیادتی سے محروم نہیں کیا جاتا کیونکہ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اور جس کو استغفار کی تو وہ مغفرت سے محروم نہیں کیا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” استغفرو ربکم انہ کان غفارا “ (نوح 10) اور جس کو خرچ کرنے کی توفیق دی گئی تو وہ قائم مقام (یعنی بدلہ) سے محروم نہیں کیا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ “۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے یعنی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان لوگوں کی خبر جو ان کے بعد تھے جنہیں اللہ کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لیکر آئے سو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دے دئیے اور کہا کہ بیشک تم جو چیز لے کر بھیجے گئے ہو تم اسے نہیں مانتے اور بلاشبہ جس چیز کی طرف تم لوگ ہمیں بلاتے ہو ہم اس کی طرف سے شک میں ہیں جو تردو میں ڈالنے والا ہے۔

1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ اس (آیت ) ” وعاد وثمود والذین من بعدھم لایعلمہم الا اللہ، کو پڑھتے تھے تو فرماتے کہ نسب بیان کرنے والوں نے جھوٹ بولا۔ 2:۔ امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے عروبن میمون (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 3:۔ امام ابن الضریس نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ نسب بیان کرنے والا ہوں علی ؓ نے فرمایا تو لوگوں کا نسب بیان نہیں کرسکتا اس نے کہا کیوں نہیں ؟ علی ؓ نے اس سے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وعاد وثمود واصحب الرس وقرونا بین ذلک کثیرا (38) (الفرقان آیت 38) کے بارے میں مجھے بتاؤ اس نے کہا میں ان کثیر قوموں کا بھی نسب بیان کرتا ہوں حضرت علی ؓ نے فرمایا مجھے بتاؤ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” الم یاتکم نبوا الذین من قبلکم قوم نوح وعاد وثمود والذین من بعدھم لایعلمہم الا اللہ “ کے بارے میں (یہ سن کر) وہ خاموش ہوگیا۔ 4:۔ امام ابوعبید، ابن منذر وابن ابی حاتم نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کسی کو نہیں پایا کہ وہ معدبن عدنان سے اوپر (نسب کو) جانتا ہو۔ 5:۔ امام ابوعبید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عدنان اور اسماعیل کے درمیان تیس باپ ہیں (جن کے بارے میں) لوگ نہیں جانتے۔ 6:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب کفار نے اللہ کی کتاب کو سنا تو انہوں نے تعجب کیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے مونہوں کی طرف لے گئے اور کہا (آیت ) ” وقالوا انا کفرنا بما ارسلتم بہ وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب “ اور کہنے لگے کہ ہم تمہاری تصدیق نہیں کرتے اس بارے میں جو تم لے کر آئے ہو ہمارے نزدیک اس میں شدید شک ہے۔ کفار کے جھٹلانے کی ایک صورت : 7:۔ امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” جآءتھم رسلہم بالبینت فردوا ایدیھم فی افواہہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا جو وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لے لئے کہا (آیت ) ” وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب “ اور انہوں نے جھٹلادیا جو کچھ اللہ کے بارے میں تھا شک کرتے ہوئے کیا تم اس ذات کے بارے میں شک کرتے ہو جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ پھلوں کو نکالا جو رزق ہے تمہارے لئے اور تمہارے لئے (باطنی) اور ظاہری نعمتوں کو ظاہر فرمایا جو (تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک میں نہیں ڈالتیں۔ 8:۔ امام ابوعبید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فردوا ایدیھم فی افواہہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے لوٹا دیا ان انبیاء کی بات کو اور ان کو جھٹلایا۔ 9:۔ امام عبدالرزاق، فریابی، ابوعبید، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم، طبرانی اور حاکم نے (اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فردوا ایدیھم فی افواہہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اس پر اپنے ہاتھ کاٹے اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے انہوں نے کاٹ کھایا اپنی انگلیوں کو سخت غصہ کرتے ہوئے اپنے رسولوں پر۔ 11:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فردوا ایدیھم فی افواہہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی انگلیوں کو اپنے مونہوں میں داخل کرلیا پھر فرمایا جب انسان غصہ ہوتا ہے تو اپنے ہاتھ کو کاٹ کھاتا ہے۔ 12:۔ امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فردوا ایدیھم فی افواہہم “ سے مراد ہے جھٹلانا یعنی منہ میں انگلی دینے سے مراد ہے کہ انہوں نے (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلادیا۔
Ayahs 14:10–12

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے۔ اور مقررہ مدت تک تمہیں ڈھیل دے دے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو ہمارے باپ داد جس کی عبادت کرتے تھے تم ہمیں اس سے روکتے ہو۔ سو تم ہمارے پاس کوئی کھلی ہوئی دلیل لے آؤ

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا اور ہمارے بس کی یہ بات نہیں کہ ہم تمہارے سامنے کوئی معجزہ اللہ کے حکم کے بغیر لاسکیں اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہمیں ہماری راہیں دکھائی ہیں اور ہم تمہاری ایذاوں پر ضرور ضرور صبر کریں گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے بھروسہ کرنے والوں کو

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ویوخرکم الی اجل مسمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو مدت لکھی ہوئی ہے جب وہ پوری ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو (پھر) تاخیر نہیں کی جاتی۔ 2:۔ امام دیلمی نے مسند الفردوس میں ابودرداء ؓ سے مرفوعا روایت کیا جب تجھ کو کوئی تکلیف دے تو ایک پیالہ پانی کا لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھے اور اپنے بستر کے اردگرد اس کو چھڑک دے۔ 3:۔ مستغفری نے دعوات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تجھ کو پسو تکلیف دے تو ایک پیالہ میں پانی لے کر اس پر سات مرتبہ یہ (آیت ) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ پڑھ کا اگر تم ایمان لانے والوں میں سے ہو تو روک دو اپنے شر اور اپنی تکلیف کو ہم سے پھر اس (پانی) کو اپنے بستر کے اردگرد چھڑک دو بلاشبہ تو رات گزارے گا اس کے شر سے امن میں ہوتے ہوئے۔
Ayahs 14:13–16

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ضرور ضرور ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا یہ بات ہو کہ تم ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ، سو ان کے رب نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ضرور بالضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تمہیں اس زمین میں آباد رکھیں گے یہ اس شخص کے لئے ہے جو میرے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہوا اور میری وعید سے ڈرا

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور کافروں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوا

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے آگے دوزخ ہے اور اسے ایسا پانی پلایا جائے گا جو پیپ ہوگا۔

1:۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسولوں اور ایمان والوں کو ان کی قوم نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ان کو مغلوب کر رکھا تھا اور وہ ان کو جھٹلاتے تھے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ اپنے (سابقہ) دین میں لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو منع فرمایا کہ وہ کفر کے دین میں لوٹ آئیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان غاصبوں اور ظالموں کے خلاف (اللہ تعالیٰ سے) مدد مانگیں اور ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو نیست ونابود کرنے بعد وہ انہیں ان کے ملک میں ٹھہرائے گا اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا ہوا وعدہ پورا فرمایا اور انہوں نے (دشمن کے مقابلہ میں) فتح کی دعا مانگی جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا۔ 2:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولنسکننکم الارض من بعدھم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) ان سے دنیا میں مدد کا وعدہ فرمایا اور جنت ( کا وعدہ فرمایا) آخرت میں (پھر) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ ان کافروں کے ملک میں اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو ٹھہرائے گا پھر فرمایا (آیت) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتن “ (الرحمن) کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کی ایک جگہ ہے اور وہ اس کو وہاں کھڑا کرے گا اور ایمان والے لوگ اس مقام سے ڈرتے ہیں اس وجہ سے وہ دن رات اس کے سامنے کھڑا ہونے کی مشق کرتے ہیں۔ 3:۔ امام حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ (آیت) ” قوا انفسکم واھلیکم نارا “ التحریم آیت 6) نازل فرمائی تو اس کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب پر تلاوت فرمایا ایک رات تو ایک نوجوان بیہوش ہو کر گرپڑا نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس کے دل پر رکھا تو وہ حرکت کررہا تھا آپ نے فرمایا اے جوان لا الہ الا اللہ کہہ اس نے کلمہ طیبہ پڑھا تو آپ نے اس کو جنت کی خوشخبری دی آپ کے صحابہ ؓ اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہمارے درمیان سے ؟ (اسے جنت کی خوشخبری ملی ہے) آپ نے فرمایا ہاں کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد نہیں سنا (آیت) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتن “ اور فرمایا (آیت ) ” ذلک لمن خاف مقامی وکاف وعید “ 4:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول اور ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے عبدالعزیز بن ابو رواد سے نقل کیا ہے کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ” یایھا الذین امنوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ “ (تحریم آیت : 6) حکیم ترمذی کے الفاظ یہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت اتاری تو آپ ﷺ نے صحابہ اکرام ؓ کو پڑھ کر سنایا، ان میں ایک شیخ تھے، حکیم کے الفاظ ایک نوجوان تھا، اس نے سوال کیا یارسول اللہ ! جہنم کا پتھر دنیا کے پتھر کی طرح ہوں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جن ہم کا ایک پتھر دنیا کے پہاڑ سے بڑا ہے یہ سن کر وہ نوجوان بےہوش ہو کر گرپڑا نبی کریم ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا وہ ابھی زندہ تھا اس کو آواز دی کہ کلمہ پڑھو، لا الہ الا اللہ اس نے پڑھ لیا اس کو جنت کی بشارت دی گئی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان سے تو فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتن “ (الرحمن آیت : 46) ” ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (14) 5:۔ امام حاکم نے حماد بن ابی حمید کے طریق سے مکحول سے اور انہوں نے عیاض بن سلیمان ؓ (جو صحابی تھے) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے بارے میں مجھے الملا الاعلی (یعنی آسمان کے فرشتوں) نے خبر دی یہ وہ لوگ ہیں جو بلند آواز سے ہنستے ہیں اپنے رب کی رحمت کی وسعت پر اور چپکے چپکے روتے ہیں اپنے رب کے عذاب کے خوف سے، اپنے رب کو یاد کرتے ہیں صبح اور شام کو پاکیزہ گھروں میں اور مسجدوں میں اور وہ اپنی زبانوں کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں رغبت سے اور خوف سے اور وہ اس سے سوال کرتے ہیں اپنے ہاتھوں کے ساتھ آہستہ اور بلند آواز میں اور وہ اپنے دلوں کے ساتھ باربار متوجہ ہوتے رہتے ہیں ان کی لوگوں پر مونث اور مشقت بہت ہے اور وہ اپنی جانوں پر بھاری ہوتے ہیں وہ چلتے رہتے ہیں راتوں میں ننگے پاوں چیونٹی کے رینگنے کی طرح بغیر اترانے اور تکبر کے وہ پڑھتے ہیں قرآن کو اور قربانیاں دیتے ہیں اور بوسیدہ کپڑے پہنتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اور محافظ حاضر ہوتے ہیں اور وہ بندوں میں اور شہروں میں غور وفکر کرتے ہیں ان کی روحیں دنیا میں ہوتی ہیں اور ان کے دل آخرت میں ہوتے ہیں نہیں ہوتی ان کی کوشش (یعنی محبت) مگر ان کے آگے (یعنی آخرت کے لئے) اور وہ تیاری رکھتے ہیں اپنے قبروں کے لئے اور اپنے (آخرت کے) راستوں کے لئے اور صلاحیت پیدا کرنے کے لئے (اللہ تعالیٰ کے سامنے) اپنے کھڑے ہونے کی جگہ کے لئے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ” ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید “ تلاوت فرمائی۔ ذھبی (رح) نے فرمایا کہ یہ حدیث عجیب ہے اور منکر ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ الحاکم کے شیخ علی بن السماک نے حاکم کو بیان کی فرمایا کہ مستدرک میں اس کے ذکر کی کوئی وجہ نہیں اس کا راوی حماد ضعیف ہے اور مکحول مدلس ہے اور عیاض کو وہ نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ 6:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت ) ” واستفتحوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ حکم) رسولوں کے لئے ہے کہ تمام رسولوں نے فتح ونصرت کی التجاء کی اور مدد طلب کی اور (آیت ) ” وخاب کل جبار عنید “ یعنی حق کی مخالفت کرنے والا اور اس کے لئے کنارہ کش ہونے والا۔ 7:۔ امام عبدالرزاق امام ابن جریر، ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستفتحوا “ یعنی رسولوں نے مدد طلب کی اپنی قوم پر (آیت ) ” وخاب کل جبار عنید “ یعنی حق سے دور اس سے اعراض کرنے والا اور لا الہ الا اللہ کے کہنے سے انکار کرنے والا۔ 8:۔ امام ابن جریر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ ” عنید “ سے مراد ہے حق سے ہٹ جانے والا۔ 9:۔ امام ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں جمع فرمائیں گے جنوں کو انسانوں کو جانوروں کو کیڑے اور زہریلے جانوروں کو ایک گردن آگ میں سے نکلے گی اور کہے گی مجھے مسلط کیا گیا ہے عزیز کریم جبار اور عنید پر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خدا بناتے ہیں، پھر فرمایا ان کو اچک لے گی جیسے کہ پرندہ اچک لیتا ہے دانے کو اور ان پر غالب آجائے گی اور ان کو لے جائے گی آگ شہر کی طرف اسے ” کیت کیت “ کہا جاتا ہے اور وہ اس میں ٹھہریں گے فیصلہ سے پہلے تین سو سال تک۔ جہنم سے جانور نکلے گا۔ 10:۔ امام ترمذی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں (ترمذی نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک گردن آگ میں سے نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جس سے وہ دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جس سے وہ سنے گی اور زبان جس سے وہ بولے گی، اور کہے گی مجھے تین شخصوں پر مسلط کیا گیا ہے جابر اور منکر حق اور ہر وہ شخص جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کس اور کو خدا بنایا اور تصویر بنانے والوں کے ا وپر۔ 11:۔ امام ابن ابی شیبہ، احمد، بزار، ابویعلی، طبرانی نے الاوسط میں اور ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگ میں سے ایک گردن قیامت کے دن نکلے گی اور بڑی تیز اور رواں زبان کے ساتھ بات کرے گی اس کی دو آنکھوں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی اور ایک زبان ہوگی کہ جس کے ذریعے بات کرے گی اور کہے گی میں حکم دی گئی ہوں ہر سرکش اور منکر حق کے لئے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارا ہو اور جس نے کسی کی جان کو ناحق قتل کیا ہو اور ان کو گھیرے گی۔ 12:۔ امام ابن ابی شیبہ نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جہنم میں ایک وادی ہے جس کو ھبہب کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہا اس میں ہر سرکش کو ٹھہرائے۔ 13:۔ امام طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے ” کل جبار عنید “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جبار سے مراد عیار اور عنید سے مراد ہے حق سے اعراض کرنے والا (پھر) پوچھا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں، کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ مصر علی الحنث لا تخفی شواکلہ یا ویح کل مصر القلب جبار ترجمہ گناہ کے اصرار پر اس کی نیت مخفی نہیں ہے، افسوس ہے ہر گناہ پر مصر اور عیار شخص پر۔ 14:۔ امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ابی الدنیا نے صفتۃ النار میں، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابونعیم نے حلیہ میں (ابونعیم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن مردویہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” ویسقی من مآء صدید “ (16) یتجرعہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب پیپ اور خون کا پانی اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو بہت ناپسند کرے گا اور زیادہ قریب لایا جائے گا تو اس کے چہرے کو بھون ڈالے گا اور اس کی سر کی کھال گرپڑے گی جب اس کو پیئے گا تو اس کی انتڑیوں کو کاٹ کر دبر سے نکل جائے گا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” وسقوا ماء حمیما فقطع امعاءہم “ (محمد آیت 15) اور فرمایا (آیت ) ” سرادقھا وان یستغیثوا یغاثوا بمآء کالمھل یشوی الوجوہ “ (الکہف آیت 29) 15:۔ امام ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من مآء صدید “ یعنی (صدید وہ پانی ہے) جو کافر کی کھال اور اس کے گوشت کے درمیان سے بہے گا۔ 16:۔ امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویسقی من مآء صدید “ سے مراد ہے پیپ اور خون۔ 17:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے البعث والنشور میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من مآء صدید “ سے مراد ہے خون اور پیپ۔ 18:۔ امام عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم، نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کیا کہ (آیت) ” ویسقی من مآء صدید “ سے مراد ہے وہ پانی جو اس کے گوشت اور اس کی کھال میں سے بہے گا۔ 19:۔ امام ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اگر جہنم کی پیپ اور خون کا ایک ڈول آسمان سے لٹکا دیا جائے تو زمین والے اس کی بدبو کو پالیں البتہ ان پر دنیا خراب ہوجائے۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اسے گھونٹ پئے گا اور گلے سے باآسانی اتارے گا اور ہر جگہ سے اس پر موت کی آمد ہوگی اور وہ نہیں مرے گا اور اس کے سامنے سخت عذاب ہوگا۔

1:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ سے مراد ہے کئی قسم کے عذاب عذاب کی ہر قسم سے اس کی واقع ہوسکتی تھی لیکن وہ نہیں مرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر فیصلہ نہیں فرمائیں گے کہ وہ لوگ مرجائیں۔ 2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھو بمیت “ اس کی سانس اٹک جائے اس کے گلے میں اور اس سے نہیں نکلے گی کہ وہ مرجائے اور وہ نہیں لوٹے گی اپنی جگہ کی طرف اس کے پیٹ میں سے کہ وہ اس کی وجہ سے راحت کو پائے اور زندگی اسے نفع دے۔ 3:۔ امام ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ سے مراد ہے (کہ اس کو موت نظر آئے گی ہر جگہ سے) یعنی ہر ہڈی سے، ہر رگ سے اور ہر پٹھے سے۔ 4:۔ امام ابوشیخ نے عظمہ میں محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ سے مراد ہے ہر عضو سے (اور) ہر جوڑ سے (موت نظر آئے گی) 5:۔ امام ابن شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور امام ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “ سے مراد ہے کہ جس کے ہر بال سے موتآئے گی (آیت ) ” ومن ورآءہ عذاب غلیظ “ سے مراد ہے کہ دائمی عذاب۔ 6:۔ امام ابن منذر نے فضیل بن عیاض (رح) سے فرمایا کہ (آیت ) ” ومن ورآءہ عذاب غلیظ “ سے مراد ہے سانسوں کا روک لینا۔
Ayahs 14:18–20

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ ہو، اسے تیز آندھی کے دن میں تیز ہوا اڑا کرلے جائے جو کچھ انہوں نے کمایا اس میں سے ذرا سے حصہ پر بھی وہ قادر نہیں ہوں گے یہ ہے دور کی گمراہی

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور نئ مخلوق پیدا فرمادے

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں

کافروں کے اعمال بےکار ہونے کی مثال : 1:۔ امام ابن جریر اور ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل الذین کفروا بربہم اعمالہم کرماد “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ (اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی) عبادت کی ان کے اعمال قیامت کے دن اس ریت کی طرح ہوں گے جیسے سخت آندھی کے دن تیز ہوا اڑا کرلے جائے گے وہ اپنے اعمال سے کچھ بھی نہ اٹھا سکیں گے جس طرح ریت سے کچھ بھی نفع نہیں اٹھایا جاسکتا جب تیز آندھی کا دن ہوتا ہے۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کافروں کے اعمال کی مثال اس راکھ کی طرح ہیں کہ جس پر تیز ہوا چلے جس کی وجہ سے کچھ دکھائی نہ دیتا ہو جس طرح وہ راکھ دکھائی نہیں دیتی اور انسان اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا اسی طرح کفار اپنے اعمالوں میں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ 3:۔ امام ابن جریر وابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کرماد اشدت بہ الریح “ یعنی ہوا جس کو اٹھا کرلے جائے ہوا۔ 4:۔ امام عبد بن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” ویات بخلق جدید “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے دوسری مخلوق۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور وہ سب اللہ کے حضور میں پیش ہوں گے سو ضعیف لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ بلاشبہ ہم تمہارے تابع تھے سو کیا تم ہم سے اللہ کا عذاب کبھی بھی ہٹا سکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں راہ بتاتا تو ہم تمہیں بھی راہ بتا دیتے ہم سب کے حق میں برابر ہے کہ ہم بےچینی کا اظہار کریں یا صبر کریں ہمارے لئے چھٹکارہ کی کوئی صورت نہیں۔

1:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقال الضعفوا “ یعنی تابعداری کرنے والے (آیت) ” للذین استکبروا “ یعنی قیادت کرنے والا لیڈر۔ 2:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت) ” سوآء علینا اجزعنا امر صبرنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سو سال تک بےقراری کریں گے اور سو سال تک صبر کریں گے۔ اہل جہنم کا مل کر زاری کرنا : 3:۔ امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دوزخ والے بعض بعض سے کہیں گے آجاؤ ہم روئیں اور تضرع اور زاری کریں اللہ تعالیٰ کی طرف کیونکہ جنت والوں نے جنت کو پایا اپنے رونے سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف تضرع اور زاری تو وہ روئیں گے جب اس کو دیکھیں گے کہ کوئی ان کو نفع نہیں ہوا تو کہیں گے آجاؤ ہم صبر کریں کیونکہ جنت والوں نے صبر کیا ساتھ جنت کو پایا تو صبر کریں گے مگر اس کی مثل صبر نہیں دیکھا گیا مگر ان کو یہ صبر کرنا نفع نہیں دے گا اس وقت وہ کہیں گے (آیت ) ” سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا من محیص “۔ 4:۔ امام ان ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے کعب بن مالک ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ان چیزوں میں سے جن کے بارے میں وہ گمان کرتے ہیں (آپ کی طرف سے) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا من محیص “ کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ دوزخ والے کہیں گے آجاؤ چاہیے کہ ہم صبر کریں تو وہ لوگ پانچ سال تک صبر کریں گے جب وہ اس کو دیکھے گے کہ ان کو اس بات کا نفع نہیں دیا تو وہ کہیں گے آجاؤ چاہیے کہ ہم بےصبری کریں تو وہ پانچ سو سال تک روئیں گے اور جب دہ دیکھیں گے کہ ان کو اس بات کا نفع نہیں دیا تو وہ کہیں گے (آیت ) ” سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا من محیص “
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب فیصلے ہوچکیں گے تو شیطان کہے گا کہ بلاشبہ اللہ نے تم سے سچے وعدے کئے اور میں نے تم سے وعدے کیے وہ وعدے میں نے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر اس سے زیادہ کچھ زور نہ تھا کہ میں نے تم کو دعوت دی سو تم نے میری بات مانی لہذا تم مجھے ملامت نہ کرو اور اپنی جانوں کو ملامت کرو نہ میں تمہارا مددگار ہوں نہ تم میرے مددگار ہو میں تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ اس سے پہلے تم نے مجھے شریک بنایا بلاشبہ جو ظالمین ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے

شیطان سب سے مکر کرجائے گا : 1:۔ امام ابن مبارک نے زہد میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے سند ضعیف کے ساتھ عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اگلے پچھلوں کو جمع فرما کر ان کا فیصلہ کرچکے گے تو اہل ایمان کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیا اب کوئی شخص ایسا ہو جو ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے، لوگ کہیں گے کہ ایسے آدم (علیہ السلام) ہوسکتے ہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے ان کو بنایا تھا اور ان سے کلام کیا تھا، چناچہ سب لوگ جا کر آدم (علیہ السلام) سے گزارش کریں گے کہ ہمارا رب ہمارا فیصلہ کرچکا اور حکم جاری کرچکا اب آپ اٹھ کر ہماری شفاعت کر دیجئے۔ آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے آپ موسیٰ (علیہ السلام) کا راستہ بتادیں گے، لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے، آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیں گے، جب لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں گے آپ کہیں گے تم کو پتہ بتاتا ہوں تم نبی امی عربی ﷺ کے پاس جاؤ وہ سب سے زیادہ صاحب فخر (فضلیت) ہیں، آخر لوگ میرے پاس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت عطا فرمائیں گے پھر میری مجلس ایک ایسی پاکیزہ ترین خوشبو سے مہ کے گی، ایسی مہک ہوگی کہ کسی نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی ہوگی، پھر میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہو کر شفاعت کروں گا اللہ تعالیٰ میری شفاعت قبول فرمائے گا اور سر کے بالوں سے پاوں کے ناخنوں تک ایک نور بنا دے گا یہ بات دیکھ کر کافر کہیں گے : مسلمانوں کو تو شفارشی مل گیا اب ہماری شفارش کون کرے، خود ہی جواب دیں گے اب تو ابلیس ہی ہے جس نے ہم کو گمراہ کیا تھا ہمارے سامنے ہے اور کوئی سفارشی موجود نہیں ہے، چناچہ یہ لوگ ابلیس سے جا کر کہیں گے مومنوں کو تو شفاعت کرنے والا مل گیا، اب تو اٹھ کر ہماری شفاعت کر تو نے ہی ہم کو گمراہ کیا تھا جونہی اٹھے گا اس کی مجلس میں بدترین بو اٹھنے لگے گی ایسی بدبو تو کسی نے سونگھی نہ ہوگی پھر ابلیس جہنم کی بڑائی بیان کرے گا اور کہے گا (آیت) ” ان اللہ وعدکم وعدالحق ووعدتکم فاخلفتکم “۔ 2:۔ امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے (آیت ) ” وقال الشیطن ووعدتکم فاخلفتکم “ سے لے کر ” ما انا بمصرخکم “ تک یعنی میں تم کو (دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لئے) ذرا بھی کافی نہیں ہوں گا (آیت) ” وما انتم بمصرخی انی کفرت بما اشرکتمون من قبل “ اور فرمایا کہ جب کفار اس کی بات کو سنیں گے اپنے آپ سے ناراض ہوں گے اور ان کو آواز دی جائے گی (آیت) ” لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ (الآیہ غافر آیت 10) 3:۔ امام ابن جریر، ابن منذر وابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ابلیس آگ کے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دے گا اور کہے گا (آیت) ” ان اللہ وعدکم وعدالحق “ سے لے کر ” وما انتم بمصرخی “ تک یعنی میری مدد کرنے سے (تم عاجز ہو) (آیت ) ” انی کفرت بما اشرکتمون من قبل “ یعنی میں تمہاری اطاعت سے (انکار کرتا ہوں) خاص طور پر دنیا میں (جو تم میری اطاعت کیا کرتے تھے) قیامت کے روز کفار کی حسرت : 4:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دو خطیب قیامت کے دن اٹھیں گے، ابلیس اور عیسیٰ (علیہ السلام) ، ابلیس اپنے گروہ میں کھڑا ہوگا اور یہ کہے گا اور عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے (آیت) ” ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدواللہ ربی وربکم، وکنت علیہم شھیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شیء شھید (117) ( سورة المائدہ الآیۃ 117) 5:۔ امام ابن شیبہ اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں میں سے بعض کو شیطان اس طرح مطیع بنالیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے جوان اونٹ کو مطیع بنا لیتا ہے۔ 6:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ما انا بمصرخکم وما انتم بمصرخی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں تم کو نفع نہیں دے سکتا جیسے تم مجھ کو نفع نہیں دے سکتے۔ (آیت) ” انی کفرت بما اشرکتمون من قبل “ یعنی میں اپنی عبادت کی شرکت کا انکار کرتا ہوں۔ 7:۔ امام ابن عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انا بمصرخکم “ یعنی میں تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ 8:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بمصرخی “ سے مراد ہے تم مدد نہیں کرسکتے۔ 9:۔ امام عبد ابن حمید اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی کفرت بما اشرکتمون من قبل “ سے مراد ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تمہاری بارے میں۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ لوگ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے ان کا تحیہ ملاقات کے وقت سلام ہوگا۔

1:۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تتحیتھم فیھا سلم “ سے مراد یہ ہے کہ فرشتے ان کو جنت میں سلام کریں گے۔