Al-Hijr 15:97

Al-Hijr · from ayah 97

15:97

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ۟ۙوَلَـقَدۡ نَـعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَۙ‏

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We already know that your breast is constrained by what they say.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:97

ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا ہم جانتے ہیں کہ جو باتیں یہ بناتے ہیں، ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینۂ (اقدس) ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بےشکتیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ کا دل گھٹتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم کو معلوم ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کا سینہ تنگ ہو رہا ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم کو معلوم ہے کہ (یہ لوگ) جو کچھ کہتے رہتے ہیں اس سے آپ کا دل تنگ ہوتا رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے ان کی باتوں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We certainly know that their statements sorely grieve you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We know that your heart feels distressed for what they say.

— Muhammad Taqi Usmani

We know that your heart feels distressed for what they say.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed, We know that your breast becomes tight because of what they say.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Well know We that thy bosom is oppressed by what they say,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We already know that your breast is constrained by what they say.

— Saheeh International

We certainly know that you feel sad about what they say against you.

— Muhammad Sarwar

And surely We know that your breast straitens at what they say;

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We know that thou straitenest thy breast by that which they say.

— Abdul Majid Daryabadi

We do indeed know how thy heart is distressed at what they say.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 94–99

رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کا عبرتناک انجام حکم ہو رہا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بےجھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک حضور ﷺ پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کردی۔ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہوجائیں۔ تو ان سے مطلقا خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیری جانب اتارا گیا لوگوں کی برائی سے تجھے محفوظ رکھ لے گا۔ چناچہ ایک دن حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–98

سورة الْحِجْر 52 اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 97–99

دشمنوں کی ایذاء سے تنگدلی کا علاج وَلَقَدْ نَعْلَمُ الی فَسَبِّحْ۔ سے معلوم ہوا کہ جب انسان کو دشمنوں کی باتوں سے رنج پہنچے اور دل تنگی پیش آئے تو اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبح و عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ خود اس کی تکلیف کو دور فرما دیں گیے۔ سورة حجر تمام شد

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 97–99

تفسیر آیات 97 تا 99: کفار کے طنز پر صبر و استقامت کی تلقین : وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (99)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو کفار کے طنز و استہزاء پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حاصل کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے کہ حصول صبر و استقامت کے لیے اپنے رب کی تسبیح کرو، اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو تاآنکہ صبح یقین طلوع ہوجائے یعنی ہر وہ بات واقعہ ثابت ہو کے رہے جس کی تم لوگوں کو خبر دے رہے ہو۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 94–98

94۔ 1 اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کردی۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 95–99

34: اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزا ردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 97–99

آیت نمبر 97 تا 99 یہ ہے اس سورة کا خاتمہ یعنی کافروں کو نظر انداز کرنا اور رب تعالیٰ کی طرف واپس ہونا اور یہ کہ جلد ہی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ یہ کافر خواہش رکھیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 97–98

9 یعنی اگر ان کی ہٹ دھرمی سے دل تنگ ہو تو آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹا کر ہمہ تن خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہیے۔ خدا کا ذکر، نماز، سجدہ، عبادت الٰہی وہ چیزیں ہیں جن کی تاثیر سے قلب مطمئن و منشرح رہتا ہے اور فکر و غم دور ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی مہم بات فکر کی پیش آتی آپ ﷺ نماز کی طرف جھپٹتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 97 وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ علی الاعلان دعوت کی وجہ سے مخالفت کا ایک طوفان آپ پر امڈ آیا تھا۔ پہلے مرحلے میں یہ مخالفت اگرچہ زبانی طعن وتشنیع اور بد گوئی تک محدودتھی مگر بہت تکلیف دہ تھی۔ کسی نے مجنون اور کاہن کہہ دیا ‘ کسی نے شاعر کا خطاب دے دیا۔ کوئی دور کی کوڑی لایا کہ آپ نے گھر میں ایک عجمی غلام چھپا رکھا ہے ‘ اس سے معلومات لے کر ہم پر دھونس جماتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو واقعی سمجھتے تھے کہ آپ پر آسیب وغیرہ کے اثرات ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگ ازراہ ہمدردی ایسی باتوں کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ نے اسی طرح آپ سے اظہار ہمدردی کیا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 94–97

50 علی الاعلان تبلیغ رسالت کا حکم :۔ ابتداًء دعوت اسلام کا آغاز خفیہ طور پر ہوتا رہا اور یہ دور تین سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ پھر وہ دور آیا جب مسلمان خانہ ارقم سے باہر اپنے اپنے گھروں کی بعض کھلی جگہوں پر نمازیں ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس دور میں قریش نے پابندی لگا رکھی تھی کہ مسلمان بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے اور عورتیں متاثر ہوتی ہیں نیز ان پر کعبہ میں نماز ادا کرنے یا قرآن پڑھنے پر بھی پابندی تھی اور قریش کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر چند سال بعد یہ دور آیا جب اللہ تعالیٰ نے علی الاعلان تبلیغ کا حکم دے دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84۔ اور یہ دل کی تنگی ایک بالکل امر طبعی ہے۔ بلکہ اگر بغض فی اللہ سے عقلا پیدا ہو، تو عین عبادت ہے۔ (آیت) ” بمایقولون “۔ یعنی وہی کفر وشرک انکار و استکبار، طنز و تمسخر کی باتیں۔ اے بما یقول ھؤلاء المشرکون من قومک من تکذیبھم ایاک واستھزاء ھم بک وبما جئتھم بہ (ابن جریر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون اور ہم یقیناً واقف ہیں کہ ان کے قول سے آپ کے دل کو کوفت ہوتی ہے۔ یعنی آپ کے سینہ میں غصہ کا ابال ہوتا ہے اور آپ اس کو پورا نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 97–99

(97۔ 98۔ 99) اور یہ کفار جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور معاذ باللہ آپ کو شاعر کاہن، ساحر وغیرہ کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس سے آپ دکھی ہوتے ہیں، سو آپ اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور سجدہ کرنے والوں میں یا یہ کہ اطاعت کرنے والوں میں رہیے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پر مستقیم رہیے یہاں تک کہ اسی حالت میں آپ کو موت آجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اور کفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی ﷺ کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔ چناچہ لام تاکید اور ”قَدْ“ برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بیخبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقیناً آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 97 قولہ تعالیٰ : ولقد نعلم انک یضیق صدرک یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے، کیونکہ سینہ دل کا محل ہے۔ بما یقولون یعنی اس کے سبب جو آپ ان سے اپنی تکذیب اور اپنے قول کا رد سنتے ہیں، اور آپ اور آپ کے اصحاب اسے اپنے دشمنوں سے پاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔ دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا : 2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ) 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ نَعْلَمُ : اور بیشک ہم نے جان لیا ہے ] [ انكَ : کہ آپ ﷺ ] [ يَضِيْقُ : تنگ ہوتا ہے ] [ صَدْرُكَ : آپ ﷺ کا سینہ ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ يَقُوْلُوْنَ : یہ لوگ کہتے ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 97 ۔ 98 سے معلوم ہوا کہ جب انسان کو مخالفین کی باتوں سے رنج پہنچے اور دل تنگی پیش آئے تو اس کا روحانی علاج یہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و عبادت میں مشغول ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور فرما دیں گے۔ (معارف القرآن) مورخہ یکم شعبان 1426 ھ بمطابق 6، ستمبر 2005 ء

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 95–97

ہنسی کرنے والوں کے لیے ہم کافی ہیں اس کے بعد فرمایا (اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِ یْنَ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ جو لوگ ہنسی کرنے والے ہیں، جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کرتے ہیں ان کی جانب سے ہم آپ کے لیے کافی ہیں، سو عنقریب وہ جان لیں گے) ہنسی کرنے والے یوں تو سب ہی مشرکین تھے لیکن خصوصی طور پر علمائے تفسیر نے ولید بن مغیرہ اور اس کے چار ساتھیوں کا نام لیا ہے یہ لوگ ہنسی کرنے اور مذاق اڑانے میں بہت آگے آگے تھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے مختلف اعضاء کی طرف اشارہ فرمایا کسی کے پیٹ کی طرف کسی کی آنکھوں کی طرف کسی کے سر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–99

36:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پانچویں تسلی ہے۔ اس تعبیر میں کس قدر محبت کا اظہار ہے میرے پیغمبر ہمیں خوب معلوم ہے ان مشرکین کے مشرکانہ کلمات اور ان کے استہزاء سے آپ آزردہ خاطر اور دل برداشت ہوجاتے ہیں۔ مگر آپ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں اور ان پر غم نہ کریں ان سے میں خود حساب کرلوں گا۔ ” فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ الخ “ آپ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کردیں، دن رات شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کرنے اور اس کی حمد و ثنا میں لگے رہیں، اسی کے سامنے جھکیں، ہر قسم کی عبادت (زبانی، بدنی اور مالی) اسی کے لیے بجا لائیں۔ حاجات و مشکلات میں اسی کو پکاریں رکوع و سجود بھی اسی کے سامنے کریں، نذریں منتیں بھی اسی کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–99

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ ضيق الضِّيقُ : ضدّ السّعة، ويقال : الضَّيْقُ أيضا، والضَّيْقَةُ يستعمل في الفقر والبخل والغمّ ونحو ذلك . قال تعالی: وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] ، أي : عجز عنهم، وقال : وَضائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ [هود/ 12] ( ض ی ق ) الضیق والضیق کتے معنی تنگی کے ہیں اور یہ سعتہ کی ضد ہے اور ضیقتہ کا لفظ فقر بخل غم اور اس قسم کے دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ وَضاقَ بِهِمْ ذَرْعاً [هود/ 77] کے معنی یہ ہیں کہ وہ انکے مقابلہ سے عاجز ہوگئے ۔ اور آیت ؛۔ وَضائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ [هود/ 12] اور اس ( خیال سے سے تمہارا دل تنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–99

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–99

وَلَقَدْنَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْ تِیَکَ الْیَقِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 97۔ 98۔ 99) (اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو کچھ وہ کہتے ہیں تو آپ ﷺ اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس یقین آجائے۔ ) کفار کی بدگوئی کے مقابلہ میں تسبیح تحمید اور نماز کا حکم آنحضرت ﷺ جب مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے اور اس کی توحید کی دعوت دیتے تو وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–99

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع کرنے کے ساتھ تسلی دی ہے۔ کفار کو انتباہ کرنے اور آپ کے دفاع کی ذمہ داری لینے کے بعد آپ کو مزید تسلی دینے کی خاطر ارشاد ہوتا ہے اے رسول ﷺ ! ہم آپ کے حالات اور کیفیت کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار کے طعن وتشنیع اور استہزا سے آپ کے دل کو غم اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جب بھی آپ غم اور تکلیف محسوس کریں تو مشرکین کے طعن وتشنیع اور استہزا کی طرف توجہ کرنے کے بجائے آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے رب کی آخری دم تک عبادت کرتے رہیں۔ یہاں عبادت کے لیے ” الیقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے اکثر مفسرین نے موت مراد لی ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلی رسول : 97: وَلَقَدْ نَعْلَمُ اِنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُ کَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ (تحقیق ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہوتا ہے) تمہارے متعلق۔ نمبر 2۔ قرآن کے متعلق۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–98

94۔ 98۔ اللہ پاک ان آیتوں میں حضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک جو تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم لوگوں کو پہنچا اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور ان مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے فاصدع بما تؤمر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا پکار کر پڑھنا مراد ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ پہلے چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ معہ اپنے اصحاب کے کھلم کھلا خدا کی عبادت کرنے لگے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ حضور سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 94–99

آیت 94 پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کردیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کردیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں (واعرض عن المشرکین) ” اور مشرکین سے اعراض کریں۔ “ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہے۔ (انا کفینک المستھزء ین) ” ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں جو تم سے ساتہزا کرتے ہیں۔ “ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 97–98

79۔ پیغمبر کے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ آپ کا سینہ تنگ ہورہا ہے ان لوگوں کی باتوں سے جو یہ حق اور اہل حق کے خلاف بنا رہے ہیں کہ یہ انسانی فطرت وجبلت کا تقاضا ہے کہ جہاں ایک طرف سراسر نصیحت وخیر خواہی اور اخلاص وللہیت ہو اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں انکار وبے قدری اور ناشکری و شرانگیزی اور فتنہ سامانی ہو۔ تو اس سے صدمہ اٹھانا اور دل گیر ہونا ایک طبعی امر ہے لیکن اس کے باوجود آپ صبر وضبط ہی سے کام لیں، اور ان لوگوں کی دکھ دہ اور دلآزار باتوں کی بناء پر غمگین اور دل گیر نہ ہوں۔ اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–99

اعلانیہ تبلیغ کا حکم تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 96–99

ف 1 اس کی عبادت پر قائم رہیں اور موت کو یقین اس لئے کہا ہر متنفس کے لئے اس کا آنا ضروری ہے۔ (روح) قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ” یقین “ کا لفظ موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے ” حتی اتانا الیقین “ یہاں تک کہ ہمیں یقین آپہنچا مدثر آیت 47) اس لئے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت لیا ہے۔ بعض جاہل اور بےعمل پیرا اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو نماز، روزہ عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ تلعب کے مترادف ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں آنحضرت کو حاصل نہ ہوسکا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 97–98

(15:97) یضیق صدرک۔ ضاق یضیق (ضرب) سے مضارع واحد مذکر غائب ضیق مصدر۔ تیرا دل تنگ پڑتا ہے۔ تیرے دل کو کوفت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 94–98

اللہ پاک ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن مجید جو کہ تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم ولوگوں کو پہنچا دو اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو، اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے۔ یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) حدی بن قیس (4) اسود عبدالمطلب (5) اسود بن عبدالغیوث۔ جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر آخرت میں بھگتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 91–97

[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–99

(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔ (آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔ مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

97 ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ منکر جو کفر و استہزاء کی باتیں کرتے ہیں ان کی باتوں سے آپ کے دل تنگ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–98

ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں کی باتوں سے تیرا دل دکھتا ہے : 97۔ دل کی یہ تنگی ایک طبعی امر ہے نبی اعظم وآخر ﷺ کا قلب خلق خدا کے لئے ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے لبریز تھا آپ ﷺ جب اپنی قوم کی گمراہی اور اس پر ان کے اصرار کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل درد سے بھر جاتا اور شدید قسم کی گھٹن محسوس ہونے لگتی اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اس غم واندوہ سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ تلقین فرما رہے ہیں کہ جب ان کی نافرمانی اور کجروی کے باعث آپ ﷺ غمگین ہوجائیں تو اس وقت اپنے رب قدوس کی تسبیح اور اس کی حمد میں مشغول ہوجایا کریں اور اپنا سرنیاز اس کی بارگاہ صمدیت میں جھکا دیا کریں ، غم واندوہ کے بادل خود بخود چھٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 97–99

The Spiritual Defence Against Enemy Hostility From verses 97 and 98, we learn that should one face heart-rending sayings and doings of enemies the anxiety from which bothers him, then, there is a spiritual cure for that condition: Let him or her get busy with Tasbih and ` Ibadah, praising Allah Ta’ ala and praying before Him. Allah Taala will Himself remove this pain and anxiety.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–98

52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another. “They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts. This…

Read the full tafseer →