15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

ا ل ر تلک ایت الکتب وقراٰن مبین ا ل ر : یہ آیتیں ہیں کامل کتاب اور واضح قرآن کی۔ تِلْکَ سے سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ الْکِتَاب سے مراد سورت ہے یا قرآن۔ قراٰنٍ کی تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی کتاب کی آیات ہیں جو کامل کتاب بھی ہے اور عربی قرآن بھی ہے ‘ حلال کو حرام سے جدا کرنے والا اور ہدایت و گمراہی کو کھول کر بیان کردینے والا۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے۔ لفظ رُبَّ اظہار قلت کیلئے آتا ہے لیکن اس جگہ مجازاً اظہار کثرت کیلئے آیا ہے۔ تقلیل و تکثیر میں علاقۂ تضاد ہے یا اس بات پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ اگر ان کو اسلام سے کچھ بھی مودت ہوتی ‘ خواہ ایک ہی بار ہوتی تو ضرور جلد از جلد اسلام کے دائرے میں آجاتے۔ پس جب ان کو اسلام کی مودت بہت زیادہ ہے تو پھر کفر پر قائم رہنا تعجب انگیز ہے۔ یا تکثیر سے اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام کی مودت ان کے دلوں میں اتنی زیادہ ہوگئی ہے جو ناقابل بیان ہے۔ پس قلت کا لفظ ہی اس کیلئے کافی ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک رُبَّ اس جگہ اظہار قلت کیلئے ہی ہے کیونکہ قیامت کی ہولناکیاں ان کو دہشت زدہ بنائے ہوئے ہوں گی۔ اگر کسی وقت کچھ ہوش ہوگا تو مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ مَا ربما میں کافّہ ہے ‘ اسلئے فعل پر داخل ہونا جائز ہے (ورنہ رُبَّ حرف جر ہے جو صرف اسم پر داخل ہوتا ہے) مناسب تو یہ تھا کہ اس کے بعد فعل ماضی آتا لیکن اللہ کے بیان میں آئندہ ہونے والا واقعہ بھی گزشتہ کی طرح یقینی ہوتا ہے ‘ اسلئے ماضی کی جگہ مضارع کا استعمال بھی ماضی ہی کی طرح ہے۔ ابن جریر ‘ ابن مبارک اور بیہقی نے حضرت ابن عباس اور حضرت انس کے متعلق بیان کیا کہ ان دو بزرگوں نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا : اللہ جب دوزخ کے اندر مشرکوں اور گناہگار مسلمانوں کو جمع کرے گا تو مشرک ‘ مسلمانوں سے کہیں گے : تم کو بھی تمہارے اعمال کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ اس پر اللہ ناراض ہو کر مسلمانوں کو دوزخ سے باہر نکال دے گا (رہا کر دے گا ‘ بخش دے گا) ہناد ‘ سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ اللہ شفاعت قبول فرما کر مسلسل جنت میں داخل فرمائے گا اور شفاعت کے بعد رحم فرمائے گا۔ بالآخر فرمائے گا : جو بھی مسلمان ہو ‘ جنت میں چلا جائے (اس وقت کافر تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے) آیت رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ کا یہی مطلب ہے۔ طبرانی نے الاوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور وہ دوزخ میں داخل ہوجائیں گے اور جتنی مدت تک اللہ چاہے گا ‘ وہاں رہیں گے ‘ پھر (دوزخ کے اندر) مشرک ان کو طعن دیں گے کہ تم نے جو تصدیق کی تھی (اور ایمان لائے تھے) اس سے تم کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس پر اللہ ہر موحد کو دوزخ سے نکال لے گا ‘ کسی موحد کو آگ کے اندر نہیں چھوڑے گا۔ یہ فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آیت رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ تلاوت فرمائی۔ طبرانی ‘ ابن عاصم اور بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دوزخی ‘ دوزخ میں جمع ہوجائیں گے اور حسب مشیّت خدا ان کے ساتھ کچھ اہل قبلہ بھی ہوں گے تو کافر مسلمانوں سے کہیں گے : کیا تم مسلمان نہ تھے ؟ مسلمان کہیں گے : ” تھے ‘ کیوں نہیں ؟ “ کافر کہیں گے : تو اسلام سے تم کو کیا فائدہ ہوا ؟ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں آگئے۔ مسلمان کہیں گے : ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی وجہ سے اللہ نے ہم کو پکڑ لیا۔ یہ گفتگو اللہ سنے گا تو حکم دے گا : اہل قبلہ میں سے جو بھی دوزخ کے اندر ہو ‘ اس کو نکال لیا جائے۔ چناچہ سب مسلمان نکال لئے جائیں گے۔ دوزخی کافر جب یہ بات دیکھیں گے تو کہیں گے : کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم کو بھی ان (مسلمانوں) کی طرح نکال لیا جاتا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ تلاوت فرمائی۔ بغوی کی روایت میں اس حدیث میں اتنا زائد آیا ہے کہ اللہ ہر اہل قبلہ کے نکالنے کا حکم دے گا اور سب کو نکال لیا جائے گا۔ اس وقت کافر تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ طبرانی کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری سے دریافت کیا گیا : آپ نے کیا اس آیت کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کچھ فرماتے سنا ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ میں سنا کہ حضور ﷺ فرما رہے تھے : انتقام لینے کے بعد اللہ دوزخ سے اپنی مشیّت کے موافق مؤمنوں کو نکال لے گا (لیکن شروع میں) جب مشرکوں کے ساتھ ان مسلمانوں کو دوزخ کے اندر اللہ داخل فرما دے گا تو مشرک کہیں گے : تم تو دنیا میں دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں ‘ پھر آج ہمارے ساتھ دوزخ میں کیوں ہو ؟ یہ بات سماعت فرمانے کے بعد اللہ شفاعت کی اجازت دے دے گا۔ فوراً فرشتے اور انبیاء اور مؤمن شفاعت کریں گے یہاں تک کہ ان گناہگار مسلمانوں کو (دوزخ سے) بحکم خدا نکال لیا جائے گا۔ مشرک یہ بات دیکھ کر کہیں گے : کاش ہم بھی تمہاری طرح ہوتے اور تمہاری طرح ہماری بھی شفاعت ہوجاتی۔ ان (رہا شدہ) مسلمانوں کے چہرے چونکہ سیاہ ہوں گے ‘ اسلئے (مسلمان) ان کو جہنمی کہیں گے ‘ ان کا نام جہنمی ہوجائے گا۔ لیکن وہ اللہ سے دعا کریں گے : اے ہمارے رب ! ہم سے یہ نام الگ کر دے۔ حکم ہوگا : نہر حیات میں غسل کریں گے۔ غسل کے بعد ان کے چہرے گورے ‘ چمکدار ( ہوجائیں گے اور) یہ نام (یا خطاب) ان کا نہیں رہے گا۔ ابن جریر نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ (کافروں کی تمنا) اس وقت ہوگی جب گناہگار مسلمانوں کو دوزخ سے نکالا جا رہا ہوگا۔ ہناد نے اس آیت کے ذیل میں مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ اس وقت لا الٰہ الا اللہ کا ہر قائل (یعنی ہر مسلمان) دوزخ سے نکل آئے گا۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

ذرھم یا کلوا ویتمتعوا ویلھھم الامل فسوف یعلمون (اے محمد ! ) آپ ان (کافروں) کو رہنے دیجئے کہ کھائیں اور (دنیا کے) مزے اڑائیں اور (آخرت کی تیاری سے) ان کو (طول زندگی کی) امید روکے رہے (جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو) اپنی بدانجامی ان کو خود معلوم ہوجائے گی۔ اس کلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ کافروں کے ایمان لانے سے آپ ناامید ہوجائیں اور سمجھ لیں کہ اللہ کے علم میں ان کافروں کی شقاوت لکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ اللہ نے ان کو نصیحت کی ہے مگر یہ ایمان نہیں لائیں گے ‘ نصیحت سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آیت میں اتمام حجت بھی ہے اور عیش پرستی سے بازداشت بھی اور طول امید کے نتیجہ سے تحذیر بھی۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا

وما اھلکنا من قریۃ الاولھا کتاب معلوم اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ‘ ان کیلئے ایک معین وقت نوشتہ تھا۔ یعنی لوح محفوظ میں اس کی ہلاکت کا وقت لکھا ہوا تھا جو اللہ کو معلوم تھا۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون کوئی قوم اپنے مقررہ وقت ہلاکت سے پہلے ہلاکت کی طرف نہ بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ یعنی مقررہ وقت سے نہ پہلے ہلاکت ہوسکتی ہے نہ پیچھے۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون اور (ان کافروں نے بطور استہزاء) کہا : اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے ! تو بلاشبہ پاگل ہے۔ یعنی دیوانوں کی ایسی باتیں کرتا ہے کہ کہتا ہے : مجھ پر قرآن اتارا گیا ہے۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا

لو ما تاتینا بالملئکۃ ان کنت من الصدقین اگر تو (نبوت کے دعوے میں) سچا ہے تو ہمارے سامنے (شہادت دینے کیلئے) فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا جو تیرے دعوے کی صداقت کی شہادت دیں اور تیری تائید کریں۔ یہی مطلب دوسری آیت میں بھی ادا کیا گیا ہے ‘ فرمایا ہے : لَوْلآ اُنْزِلَ اِلَْیہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم جو تکذیب کر رہے ہیں ‘ ہم کو عذاب دینے کیلئے فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا جس طرح سابق امتوں کو ہلاک کرنے کیلئے فرشتوں کا نزول ہوا تھا۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

ما نزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین ہم (عذاب کے) ملائکہ کو نہیں اتارتے ہیں مگر حق (عذاب) کے ساتھ (یعنی اسی عذاب کے ساتھ جس کے نازل کرنے کا قطعی فیصلہ اللہ کے نزدیک ہوچکا ہوتا ہے) اور اس وقت (کافروں کو) مہلت نہیں دی جاتی۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

انا نحن نزلنا الذکروا انا لہ لحفظون بلاشبہ ہم نے ہی قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اس کلام سے پرزور طور پر کافروں کے انکار اور استہزاء کی تردید کردی گئی۔ حفاظت کرنے سے مراد ہے : ہر قسم کی الفاظ کے تغیر ‘ ردّوبدل اور کمی بیشی سے حفاظت اب کسی طور پر بگاڑ اور تغیر اس میں ممکن نہیں۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں تحریف و تغیر کا امکان ہوتا اور دین کے دشمن نکتہ چینی کرسکتے۔ افسوس کہ رافضی گروہ اس آیت کے باوجود قرآن کو بگڑا ہوا (اور ناقص) قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (چالیس پارے تھے) حضرت عثمان نے دس پارے جلوا دئیے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک لہٗ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ اسی کے ہم معنی ہے آیت واللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس یعنی رسول اللہ ﷺ کو کوئی بداندیش ضرر نہیں پہنچا سکے گا ‘ اللہ ان کا حافظ ہے۔
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے

ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین اور ہم نے آپ سے پہلے بھی پچھلی امتوں میں پیغمبر بھیجے۔ شِیَعِ جمع ہے ‘ شیعۃٌ مفرد۔ شیعہ وہ جماعت ہے جو متفق الرائے ہو اور کسی بات پر متحد ہو۔ شاعَہ ٗ اس کا اتباع کیا ‘ اس کے پیچھے چلا۔ چھوٹی لکڑیاں جن کو آگ لگا کر بڑی لکڑیوں کو ان کے ذریعہ سے جلایا جاتا ہے ‘ شیاع کہلاتی ہیں۔
Ayah 15:11

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

وما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون اور جو پیغمبر بھی ان کے پاس پہنچا ‘ وہ اس سے ٹھٹھول کرتے رہے۔ جیسا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس جملے میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسلی ہے۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین اسی طرح ہم یہ استہزاء ان مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ الْمُجْرِمِیْنَ سے مراد ہیں : مشرکین مکہ ‘ یعنی جس طرح گزشتہ کافر امتوں کے دلوں میں ہم نے کفر و استہزاء کو داخل کردیا تھا ‘ اسی طرح مکہ کے ان مشرکوں کے دلوں میں بھی ہم کفر و استہزاء کو داخل کرتے ہیں۔ سِلْک (پرونا) ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا ‘ جیسے سوئی میں ڈورے کو اور زخمی میں نیزے کی نوک کو داخل کردینا۔ اس آیت میں فرقۂ قدریہ کے قول کا رد ہے (فرقۂ قدریہ قائل ہے کہ وہ اپنے افعال کا خود خالق ہے) آیت بتارہی ہے کہ کافروں کے دلوں میں کفر و استہزاء کو پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

لا یؤمنون بہ اسی وجہ سے یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ وقد خلت سنۃ الاولین اور گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی (ایسا ہی) گزرا ہے۔ یعنی اللہ کا طریقہ ان کے ساتھ بھی یہی رہا ہے کہ اللہ نے ان کی مدد نہیں کی اور کفر کو ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ کردیا۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

ولو فتحنا علیھم بابا من السمآء فظلوا فیہ یعرجون اور اگر ان (طلبگاران آیت) پر ہم آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور (فرشتے) اس میں چڑھنے لگیں۔ یعنی ان کافروں کو اپنی آنکھوں سے فرشتے چڑھتے دکھائی دیں۔ حسن نے کہا : یَعْرُجُوْنَ اور ظَلُّوْا کی ضمیریں کافروں کی طرف لوٹ رہی ہیں ‘ یعنی کافر خود آسمان کی طرف چڑھنے لگیں اور دن کی روشنی میں عجائب آسمانی دیکھتے رہیں۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

لقالوا انما سکرت ابصارنا تب بھی (یہی) کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔ یعنی جادور کے زور سے ہماری نگاہوں کو بند کردیا اور دیکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ سُکِّرَتْ لفظ سکر سے ماخوذ ہے ‘ سکر کا معنی ہے : نہر کو بند کردینا ‘ روک دینا (قاموس) کذا قال ابن عباس۔ حسن بصری نے سُکِّرَتْ کا ترجمہ کیا ہے : ہماری آنکھوں کو جادو زدہ کردیا گیا ہے۔ کلبی نے ترجمہ کیا : نابینا کردیا گیا اور قتادہ نے کہا : پیچھے کردیا گیا۔ قاموس میں سُکِّرَتْ اَبْصَارنا کا ترجمہ کیا گیا ہے : دیکھنے سے روک دی گئیں ‘ حیران کردی گئیں ‘ ان پر پردہ ڈال دیا گیا۔ بل نحن قوم مسحورون بلکہ ہم سحر زدہ لوگ ہیں۔ ہم پر محمد ﷺ نے جادو کردیا۔ یہی بات کافروں نے دوسرے معجزات کو دیکھ کر بھی کہی تھی۔ اِنَّمَا اور بَلْ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ کافروں کو اس امر کا قطعی یقین تھا کہ قرآن کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک بےحقیقت جادو ہے جو کافروں کی قوت خیالیہ کو متاثر کردیتا ہے۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا

ولقد جعلنا فی السمآء بروجا اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے ہیں۔ بُرج بڑا ستارہ۔ تَبَرُّج سے یہ لفظ ماخوذ ہے ‘ تَبَرُّجکا معنی ہے : ظاہر ہونا۔ تَبَرَّجَتِ الْمَرْءَ ۃُ عورت نمودار ہوگئی۔ عطیہ نے کہا : بُرُوْج آسمان کے اندر بڑے بڑے محلات ہیں۔ اس آیت میں بُرُوْج سے مراد وہ معنی نہیں ہے جو اہل ہیئت کی اصطلاح میں آتا ہے۔ اہل ہیئت کے اصطلاحی معنی کا وجود مندرجہ ذیل امور پر موقوف ہے۔ تمام آسمان باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے پر حاوی ہوں کہ نویں آسمان کے گھومنے سے سب اسی طرف گھومنے پر مجبور ہوں جس طرف نویں آسمان کی حرکت ہو ‘ پھر نویں آسمان کی حرکت کیلئے ایک منطقہ اور دو قطب ہوں ‘ پھر آٹھویں آسمان ‘ جس کو فلک ثوابت کہا جاتا ہے ‘ کیلئے بھی ایک منطقہ اور دوسرے دو قطب ہوں اور سورج آٹھویں آسمان کے منطقہ پر قائم ہو اور دونوں منطقوں کا باہم ایک تقاطع بھی ہو اور چاروں قطبوں کے درمیان ایک خط بھی کھینچا جائے جس سے چار قوس پیدا ہوجائیں اور ہر قوم میں تین برج ہوں۔ اس تمام خرافات کا شریعت انکار کرتی ہے۔ شریعت سے آسمانوں کی حرکت ثابت نہیں بلکہ ستاروں کی حرکت ثابت ہوتی ہے اور ہر آسمان کا دوسرے آسمان سے فاصلہ پانچ سو برس کی راہ کے بقدر بتایا گیا ہے (ایک آسمان کا دوسرے آسمان سے چسپاں ہونے کا انکار اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے) اور شریعت کے نزدیک آسمانوں کی تعداد سات ہے ‘ اس سے زائد نہیں۔ وزینھا للنظرین اور ہم نے (روشنی کی وجہ سے) ان برجوں کو یا (چاند ‘ سورج اور ستاروں کی وجہ سے) آسمان کو زینت عطا کی ہے۔
Ayah 15:17

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا

وحفظنھا من کل شیطان رجیم اور ہر شیطان مردود سے آسمان کو محفوظ کردیا ہے۔ کوئی شیطان آسمان والوں کو بہکانے یا وہاں کے احوال معلوم کرنے یا وہاں کے انتظام میں دخل دینے کیلئے نہیں چڑھ سکتا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول لکھا ہے کہ پہلے آسمانوں تک پہنچنے سے شیطانوں کی روک ٹوک نہ تھی۔ وہ جا کر آسمانوں کی خبریں لاتے اور کاہنوں کے دلوں میں القاء کرتے تھے۔ جب حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے تو تین بالائی آسمانوں پر جانے سے شیطانوں کو روک دیا گیا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی میلاد مبارک ہوئی تو باقی چار آسمانوں تک جانے کی بھی ممانعت کردی گئی۔ اب جو کوئی شیطان چوری چھپے (اوپر جا کر) کوئی خبر سن پاتا تھا ‘ فوراً اس پر (ٹوٹنے والا ستارہ بشکل) انگارا مارا جاتا تھا۔ ان شیطانوں کی جب کامل بندش ہوگئی تو انہوں نے اس کی شکایت ابلیس سے کی۔ ابلیس نے کہا : زمین میں یقیناً کوئی نیا حادثہ ہوا ہے ‘ جا کر دیکھو۔ شیطان زمین پر آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کی تلاوت کرتے پایا۔ کہنے لگے : وا اللہ ! یہی نئی بات پیدا ہوئی ہے۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے

الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین ہاں جو چوری سے سن پاتا ہے تو اس کے پیچھے روشن شعلۂ آتشیں آپڑتا ہے۔ شِھَاب آتشیں شعلہ جو ستاروں سے نکلتا۔ بغوی نے چوری سے سننے اور پیچھے سے شعلۂ آتشیں پڑنے کی یہ تفصیل بتائی ہے کہ شیاطین نیچے سے آسمان دنیا تک ایک کے اوپر ایک سوار ہو کر (گویا ( سیڑھیاں بنا لیتے ہیں اور چوری چھپے فرشتوں کی کچھ باتیں وہ سن لیتے ہیں۔ فرشتے (مطلع ہو کر) ان پر آتشیں شعلے مارتے ہیں ‘ کوئی انگارہ خطا نہیں جاتا۔ انگارہ پڑنے سے کوئی تو مرجاتا ہے ‘ کسی کا چہرہ ‘ یا پہلو ‘ یا ہاتھ ‘ یا کوئی اور حصہ حسب مشیّت الٰہی جل جاتا ہے۔ کوئی بدحواس اور پاگل ہوجاتا ہے اور بھوت بن جاتا ہے جو زمین پر آکر جنگلوں میں مسافروں کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب آسمان میں اللہ کسی کام کا کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اطاعت اور احترام کے زیر اثر فرشتے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر کسی زنجیر کے لگنے سے ہوتی ہے۔ جب دلوں سے خوف دور ہوجاتا ہے تو (آپس میں) پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے فرشتے جواب دیتے ہیں : جو کچھ فرمایا بلاشبہ حق ہے ‘ وہی (سب سے) بزرگ وبالا ہے۔ چوری سے سننے والے ایک کے اوپر ایک لگے ہوتے ہیں۔ چناچہ (سب سے اوپر) چوری سے سننے ولا کوئی بات سن پاتا ہے اور اپنے نیچے والے کو بتادیتا ہے اور نیچے والا اپنے سے نیچے والے کو بتادیتا ہے ‘ اس طرح سب سے نیچے والا جادوگر یا کاہن کی زبان پر وہ بات لے آتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیچے والے تک پہنچانے سے پہلے اوپر والے پر شعلۂ آتشیں آپڑتا ہے اور کبھی آتشیں شعلہ پہنچنے سے پہلے وہ نیچے والے کو بتا چکتا ہے۔ ساحر یا کاہن (اس ایک بات میں) سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے (جب وہ ایک بات جو کاہن کی زبان سے لوگ سنتے ہیں اور وہ دافع ہوجاتی ہے تو) کہا جاتا ہے : کیا کاہن نے ہم سے ایسی ایسی بات پہلے ہی نہ کہہ دی تھی ؟ چناچہ اس ایک آسمانی بات کی وجہ سے کاہن کی (دوسری خرافات کی بھی) تصدیق کی جاتی ہے۔ رواہ البخاری بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ فرشتے بادل میں اترتے ہیں اور وہاں اس بات کا تذکرہ ہوتا ہے جس کا فیصلہ آسمان پر ہوچکا ہوتا ہے۔ کوئی شیطان اس کو چوری سے سن پاتا ہے اور جا کر کاہن کے دل میں ڈال دیتا ہے ‘ کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر بیان کردیتے ہیں۔ یہ روایت بخاری کی بھی ہے اور بغوی کی بھی ‘ سند میں فرق ہے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی

والارض مددنھا اور ہم نے (پانی پر) زمین کو بچھایا۔ والقینا فیھا رواسی اور زمین میں ہم نے جمے ہوئے پہاڑ قائم کر دئیے۔ پہلے زمین لرزتی تھی ‘ اللہ نے اس میں پہاڑوں کی میخیں قائم کردیں۔ وانبتنا فیھا من کل شیء موزون اور ہم نے زمین میں یا پہاڑوں میں یا دونوں میں ہر مناسب چیز پیدا کی۔ مَّوْزُوْن سے مراد یا تو یہ ہے کہ حسب تقاضائے حکمت مقرر مقدار میں پیدا کی۔ یا مَّوْزُوْن سے مراد ہے : مناسب جو نازیبا نہ ہو ‘ جیسے کلامٌ موزونٌ کہا جاتا ہے۔ یامَّوْزُوْن سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ایسی چیزیں پیدا کیں جو دوسری نعمتوں میں اپنا خصوصی وزن (اور مرتبہ) رکھتی ہیں۔ یا قابل وزن معدنیات مراد ہیں جیسے سونا ‘ چاندی ‘ لوہا ‘ تانبا ‘ ہڑتال ‘ سرمہ وغیرہ بلکہ یاقوت ‘ زبرجد ‘ فیروزہ وغیرہ بھی پہاڑوں کی پیداوار ہے۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے

وجعلنا لک فیھا معایش اور زمین میں یا پہاڑوں میں ہم نے تمہارے لئے اسباب زندگانی پیدا کئے ‘ کھانے پینے کی چیزیں ‘ لباس کی چیزیں ‘ دوائیں۔ معائش ‘ معیشت کی جمع ہے ‘ دنیوی زندگی کے اسباب۔ ومن لستم لہ برزقین اور ان (چوپایوں) کو بھی ہم نے پیدا کیا جن کو تم رزق دینے والے نہیں (ہم ہی رزق دیتے ہیں) ۔ اس جگہ لفظ مَنْ (جو عربی زبان میں صرف عقل والی مخلوق کیلئے وضع کیا گیا ہے جیسے انسان ‘ فرشتہ ‘ جن) بمعنی ماکے ہے (کیونکہ اس جگہ چوپائے مراد ہیں اور چوپائے عقل والے نہیں قرار دئیے جاتے) اسی طرح آیت فَمِنْھُمْ مَنْ یَّمْشِی عَلٰی بَطْنِہٖ میں مَنْ سے مراد جانور ہیں۔ اس آیت میں بھی مَنْ بمعنی مَا کے ہے۔ بعض علماء نے کہا : مَنْ سے مراد بال بچے ‘ خادم ‘ غلام ‘ باندی اور چوپائے وغیرہ ہیں۔ اہل کفر خیال کرتے تھے کہ ان سب کو ہم کھلاتے پلاتے اور پرورش کرتے ہیں۔ آیت میں اس کی تردید کردی گئی اور فرمایا : ہم ان کو رزق دیتے ہیں۔ بعض علماء نے اس طرح ترجمہ کیا ہے : ہم نے تمہارے اور ان کیلئے جن کے تم رازق نہیں ہو ‘ اسباب زندگانی پیدا کئے ہیں۔ اللہ نے مذکورۂ بالا آیات میں اپنی ہستی ‘ کمال قدرت ‘ ہمہ گیر حکمت ‘ استحقاق الوہیت اور توحید ذاتی و صفاتی کیلئے مذکورہ اشیاء کی تخلیق کو پیش کیا ہے اور بندوں کو اپنے انعامات کی یاددہانی کی ہے تاکہ لوگ دوسروں کو اس کا شریک نہ بنائیں اور تنہا اسی کو معبود سمجھیں ‘ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں ‘ کفران نعمت نہ کریں۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں

وان من شیء الا عندنا اور جتنی چیزیں ہیں ہمارے پاس ‘ سب کے خزانے (بھرے پڑے ہیں) ۔ یعنی ہماری قدرت ایسی ہمہ گیر ہے کہ جتنی مخلوق ہم نے پیدا کی ہے اور جو جو چیز بنائی ہے ‘ اس سے کتنے ہی گنا زائد ہم پیدا کرسکتے ہیں۔ خزانے موجود ہونے سے مراد ہے : قدرت کے اتھاہ ہونے کا بیان۔ یا اللہ نے اپنے مقدورات کو خزانوں سے تشبیہ دی جو جمع شدہ اور موجود ہوتے ہیں ‘ ان میں سے ہر وقت جو چاہو نکال سکتے ہو۔ اللہ کے مقدورات بھی ایسے ہی ہیں۔ اللہ جب چاہے اور جتنا حصہ چاہے ‘ اپنے مقدورات میں سے عالم ظہور میں لاسکتا ہے اور پیدا کرسکتا ہے اور آیت ذیل میں جو اتارنے کا لفظ استعمال کیا ہے ‘ اس سے مراد پیدا کردینا اور عالم خارجی میں بالفعل لے آنا ہے۔ وما ننزلہ الا بقدر اور ہم اس کو (یعنی ہر چیز کو) ایک معین مقدار سے ہی اتارتے ہیں۔ قَدَر یعنی جس کو پیدا کرنا ازل میں مقدر ہوچکا ہے اور جس کی مقدار اللہ کو معلوم ہے۔ (مفسر (رح) نے فرمایا) میں کہتا ہوں : ممکن ہے کہ خزائن سے مراد اعیان ثابتہ ہوں (یعنی وہ حقائق امکانیہ جو اللہ کے علم میں ثابت ہوں۔ مترجم) اور اتارنے سے مراد ہو ان اعیان حقیقیہ کو وجود ظلی عطا کرنا (یعنی خارج میں موجود کردینا۔ خارجی وجود کو اہل تصوف وجود ظلی کہتے ہیں ‘ یعنی وجود ظلی پرتو ہے اور حقائق امکانیہ جو علم خداوندی میں ثابت ہیں ‘ وہ اصل ہیں۔ وجود خارجی انہی کا پرتو ہے۔ مترجم) بغوی نے لکھا ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا : خشکی اور سمندر میں اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ‘ سب کی تمثال (وجود مثالی یعنی حقیقت امکانیہ مترجم عرش میں ہے اور آیت وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ الاَّ عِنْدَنَا خَزآاءِنُہٗ کی یہی تفسیر ہے۔ میں کہتا ہوں : شاید امام کی مراد عرش سے عالم مثال ہے جس طرح انسان کا محل خیال دماغ ہے (اور وجود خارجی وجود خیالی کے ظہور خارجی کا نام ہے) اسی طرح عالم کبیر (کے ظہور خارجی) کا محل عالم مثال ہے اور محل تمثال عرش ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ خزائن سے مراد بارش ہے۔ بارش ہر چیز کا خزانہ ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیِّ ۔ روایت میں آیا ہے کہ آسمان سے جو قطرہ اترتا ہے ‘ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ضرور ہوتا ہے۔ فرشتہ اس بوند کو اس جگہ تک ضرور پہنچاتا ہے جہاں پہنچانے کا حکم ہوتا ہے۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے

وارسلنا الریح اور ہم ہواؤں کو بھیجتے ہیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں۔ لواقح ‘ لاقحۃ کی جمع ہے۔ لاقحہ : حاملہ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ملاقح کی بیع کی ممانعت فرمائی ہے ‘ یعنی جو بچہ اونٹنی کے پیٹ کے اندر ہو ‘ تنہا اس کی بیع بغیر اس کی ماں کے جائز نہیں۔ یا لواقح ‘ لقوح کی جمع ہے ‘ لقوح دودھ دینے والی اونٹنی۔ بہرحال اس جگہ وہ ہوائیں مراد ہیں جو برسنے والے بادل کو اپنے اوپر اٹھائے ہوتی ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ابر باراں کو اٹھانے والی ہواؤں کو جس طرح لواقح کہتے ہیں ‘ اسی طرح عقیم (ناقابل تولید) اس ہوا کو کہتے ہیں جو برسنے والے بادل کی حامل نہ ہو۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ ہوا کو بھیجتا ہے ‘ ہوا پانی کو اٹھا کر لاتی ہے ‘ بادل پانی کو لے کر ہوا کی وجہ سے چلتا ہے اور اونٹنی کے دودھ دینے کی طرح پانی برستا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : لواقح کا معنی ہے : ملاقح۔ ملاقح کا مفرد ملقحۃ ہے جس کا ترجمہ ہوا حاملہ کرنے والی ہوائیں یعنی وہ ہوائیں جو پھلوں کے تخم درختوں میں ڈالتی ہیں اور ان کو حاملہ کرتی ہیں۔ عبید بن عمیر نے کہا : پہلے اللہ خوش خبری (یعنی بارش کی خو شخبری) دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے ‘ جو زمین کو صاف کردیتی ہیں ‘ پھر بادلوں کو اٹھا کر لانے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہیں ‘ پھر منتشر بادلوں کو یکجا کرنے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو ابر کے مختلف ٹکڑوں کو یکجا کر کے تہہ بہ تہہ کردیتی ہیں ‘ پھر حاملہ کرنے والی ہوائیں بھیجتا ہے جو درختوں میں پھل پیدا کردیتی ہیں (گویا درخت حاملہ ہوجاتے ہیں) ابوبکر بن عیاش نے کہا : جب تک چاروں ہوائیں اپنا اپنا عمل پورا نہیں کرتیں ‘ کوئی قطرہ نہیں اترتا۔ پروا بادل کو اٹھا کر لاتی ہے ‘ شمالی ہوا بادل کو جمع کرتی ہے ‘ جنوبی ہوا بادل کو برساتی ہے اور پچھمی ہوا بادل کو منتشر کردیتی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ لواقح جنوبی ہوائیں ہیں۔ بعض آثار صحابہ میں آتا ہے : جب بھی جنوبی ہوا چلتی ہے ‘ انگور کے خوشے (ساتھ) اٹھا کر لاتی ہے اور ریح عقیم عذاب کو لاتی ہے ‘ پھل نہیں پیدا کرتی۔ بغوی نے امام شافعی و طبرانی کی سند سے حضرت ابن عباس کی روایت بیان کی ہے کہ جب کبھی کوئی تیز ہوا چلتی تھی ‘ رسول اللہ ﷺ فوراً دو زانو بیٹھ کر دعا کرتے تھے : اے اللہ ! اس کو رحمت بنا دے ‘ عذاب نہ بنا۔ اے اللہ ! اس کو رحمت کی ہوائیں کر دے ‘ عذاب کی آندھی نہ کردینا (رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں رحمت کی ہواؤں کیلئے لفظ ریاح بصیغۂ جمع اور عذاب کی آندھی کیلئے لفظ ریح استعمال فرمایا ہے) حضرت ابن عباس نے فرمایا : لفظ ریح سے مراد وہ ریح ہے جس کا ذکر آیت اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا۔ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ میں اللہ نے کیا ہے اور لفظ ریاح سے مراد وہ ریاح ہے جس کا ذکر آیت اَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ وَیُرْسِلُ الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ میں اللہ نے کیا ہے۔ فانزلنا من السمآء مآء فاسقینکموہ پھر ہم نے بادل سے پانی نازل کیا اور اس سے تم کو سیراب کیا۔ یعنی بارش کو تمہارے لئے سیرابی بنا دیا۔ عربی محاورے میں سقیت الرجل ماءً او لبنًا کا معنی ہے : میں نے اس کو پانی یا دودھ پلا کر سیراب کردیا اور اسقیت الرجل کا معنی ہے : میں نے اس کو پانی دے دیا تاکہ وہ اپنی زمین یا جانوروں کو سیراب کرے۔ وما انتم لہ بخازنین اور تم اس (پانی) کو (اپنے پاس) جمع رکھنے والے نہیں ہو۔ یعنی بارش کا خزانہ ہمارے پاس ہے ‘ تمہارے پاس نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ چشموں اور کنوؤں وغیرہ میں پانی جمع رکھنا تمہارا کام نہیں (یہ ہمارے اختیار میں ہے) جس طرح مختلف جہات سے حرکت لوگوں کے فائدے کیلئے ہوتی ہے ‘ اسی طرح پانی کی بارش بھی منافع سے پُر ہے اور یہ سب قادر و حکیم کی تدبیر اور نظم کا نتیجہ ہے ورنہ پانی کی فطرت تو نیچے جانے کا تقاضا کرتی ہے مگر اس کو کسی حد پر روک لینا بغیر کسی خاص سبب کے نہیں ہوسکتا۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں

وانا نحن نحی ونمیت اور بلاشک و شبہ ہم ہی زندہ کرتے اور موت دیتے ہیں۔ یعنی دلوں کو معرفت سے اور اجسام کو نفس حیوانی و نباتی کا تعلق پیدا کر کے زندہ کرتے ہیں اور ان سے تعلق کاٹ کر مردہ کردیتے ہیں۔ ونحن الوارثون اور ہم ہی باقی رہنے والے ہیں ‘ ہمارے سوا کوئی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ مردہ کے بعد زندہ باقی رہتا اور اس کا وارث ہوتا ہے۔ بطور استعارہ فنائے مخلوق کے بعد خالق کے باقی رہنے کو وراثت سے تعبیر کیا۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں

ولقد علمنا المستقدمین منکم ولقد علمنا المستاخرین اور ہم تمہارے اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور ہم تمہارے پچھلوں سے بھی واقف ہیں۔ یعنی ہم سے تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں۔ سابق آیت میں اپنی قدرت کاملہ کی دلیل بیان کی تھی ‘ اس آیت میں اپنے علم کی ہمہ گیری کا اظہار فرمایا جو قدرت کی دلیل ہے ‘ اسی سے قدرت کا ثبوت ہوجاتا ہے (قدرت بغیر علم کے ناممکن ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مستقدمین سے مردے اور مستاخرین سے زندے مراد ہیں۔ شعبی نے کہا : اگلے پچھلے لوگ مراد ہیں۔ عکرمہ کا قول ہے : مستقدمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدا ہوچکے ہیں اور اپنے آباء کی پشت سے برآمد ہوگئے ہیں اور مستاخرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے نہ اپنے باپوں کی پشت سے باہر آئے۔ مجاہد کے نزدیک گزشتہ اقوام مستقدمین ہیں اور امت محمدیہ مستاخرین سے مراد ہے۔ حسن نے کہا : طاعت و خیر میں آگے بڑھنے والے مستقدمین ہیں اور طاعت و خیر میں سستی کرنے اور پچھڑنے والے مستاخرین ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ مستقدمین و مستاخرین سے مراد نمازیوں کی اگلی پچھلی صفیں ہیں۔ ابن مردویہ کا بیان ہے کہ داؤد بن صالح نے حضرت سہل بن حنیف انصاری سے دریافت کیا : کیا یہ آیت جہاد کے سلسلہ میں نازل ہوئی (یعنی مستقدمین و مستاخرین سے کیا مجاہدین مراد ہیں ؟ ) حضرت سہل نے فرمایا : نہیں ‘ اس کا نزول نمازیوں کی صفوں کے متعلق ہوا تھا۔ مقاتل کے نزدیک جہاد کی صفوں میں آگے پیچھے رہنے والے مراد ہیں۔ ابن عیینہ کے نزدیک وہ لوگ مراد ہیں جو مسلمان ہوچکے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے۔ اوزاعی کے نزدیک اوّل وقت اور آخر وقت میں نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایک خوبصورت عورت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہی تھی۔ کچھ لوگ اگلی صف میں بڑھ گئے تاکہ نماز میں (رکوع میں) عورت پر نظر نہ پڑے اور کچھ لوگ اتنے پیچھے ہوگئے کہ آخری صف میں پہنچ گئے۔ ان میں سے بعض لوگ رکوع میں گئے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے عورت کو دیکھنے لگے ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ حاکم۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے) ۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے

وان ربک ھو یحشرھم ان حکیم علیم اور بیشک آپ کا رب (قیامت کے دن) ان سب کو محشور کرے گا۔ وہ بلاشبہ بڑی حکمت والا اور علم والا ہے۔ یعنی سب کو جمع کر کے بلاشک و شبہ ہر ایک کو اس کے ہر عمل کا بدلہ دے گا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص جس چیز پر مرے گا ‘ اللہ اسی چیز پر اس کو اٹھائے گا (رواہ احمد والحاکم والبیہقی) ضمیر ھُوَ کا اضافہ بتارہا ہے کہ اللہ ہی قادر اور سب لوگوں کو اٹھانے کا تنہا ذمہ دار ہے ‘ اس فعل میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ حکیم ہے ‘ یعنی اس کی حکمت نمایاں اور اس کی ہر صفت محکم ہے۔ علیم ہے ‘ یعنی اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے

ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون اور بلاشبہ ہم نے انسان کو پیدا کیا بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے تیار کی ہوئی تھی۔ الْاِنْسَان (میں الف لام جنسی ہے ‘ اس) سے مراد ہے : جنس بشر ‘ یعنی حضرت آدم کو پیدا کیا۔ انسان کی وجوہ تسمیہ متعدد ہیں۔ اِنس کا معنی ہے : ظہور ‘ انسان ظاہر ہے آنکھ سے دکھائی دیتا ہے۔ اُنس کا معنی دل بستگی اور پریم بھی ہے ‘ انسان باہم مانوس ہوتے ہیں۔ یا نسیان سے مشتق ہے۔ حضرت آدم کو ایک حکم دیا گیا تھا مگر وہ اس کو بھول گئے۔ نسیان کا معنی ہے : بھولنا۔ صَلْصَال خشک مٹی جو آگ میں نہ پکائی گئی ہو اور کھن کھن بولتی ہو (یعنی بجانے سے کھنکھناتی ہو) حضرت ابن عباس نے فرمایا : صَلْصَال وہ عمدہ ‘ پاکیزہ کیچڑ ہے جس میں پانی سوکھ جانے کی وجہ سے شگاف پیدا ہوجاتے ہیں اور جب اس کو (اس کی جگہ سے) ہلایا جاتا ہے تو کھڑکھڑ کی آواز دیتی ہے۔ مجاہد نے کہا : بدبودار کیچڑ کو صَلْصَالکہتے ہیں۔ صَلَّ اللَّحْمُ اور اَصَلَّ اللَّحم گوشت بدبو دار ہوگیا۔ صَلْصَال اسی محاورہ سے ماخوذ ہے۔ حَمَا دلدلی کیچڑ جو زیادہ پانی کے قریب ہونے سے کالی پڑجاتی ہے۔ مَسْنَوْن پتلا جس میں صورت بنا دی گئی ہو۔ یہ لفظ سنت الوجہ سے ماخوذ ہے۔ شروع میں مٹی ‘ تراب ‘ خاک ‘ پھر پانی میں گوندھے جانے کے بعد طین (کیچڑ) پھر ایک مدت تک یونہی رہنے کے بعد حمأ (لیسدار کیچڑ یا دلدل) پھر اس کا خلاصہ اور جوہر نکال لیا جائے تو اس کو سلالہ (خلاصہ) کہا جاتا ہے ‘ پھر اس میں نقوش صورت بنا دئیے جائیں (پتلا بنا دیا جائے) تو اس کو مسنون کہتے ہیں اور مسنون خشک ہوجائے تو اس کو صَلْصَال کہتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : مَسْنَوْن خراب ‘ بدبودار۔ یہ لفظ سَنَنْتُ الحجر عَلَی الحجر سے ماخوذ ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : مَسْنَوْن (اسم مفعول) سَنٌّ سے مشتق ہے۔ سَنٌّ کا معنی ہے ‘ بہانا۔ مَسْنَوْن بہایا ہوا۔ جیسے مختلف دھاتیں جن کو پگھلا کر سانچوں میں بھر کر ڈھالا جاتا ہے ‘ اسی طرح اسی (پتلی سیال) کیچڑ کی حالت ہوتی ہے (جس کو مسنون کہا جاتا ہے) عرب کہتے ہیں : سَنَنْتُ الماء میں نے پانی بہا دیا ‘ گویا دلدلی کیچڑ سے ڈھال کر اوّل (قوام) تیار کیا گیا ‘ پھر انسانی صورت بنائی گئی اور مجسمہ تیار کیا گیا جو کھوکھلا تھا ‘ پھر وہ خشک ہوگیا اور بجانے سے کھن کھن بولنے لگا ‘ پھر رفتہ رفتہ اس پر تغیرات آتے رہے۔ آخر جب وہ بالکل ہموارہو گیا تو اس میں روح پھونک دی گئی۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا

والجآن خلقنہ من قبل من نار السموم اور جن کو ہم نے پیدا کیا اس سے پہلے آگ سے جو ایک گرم ہوا سے بنی تھی۔ الْجَان (میں لام جنسی ہے) الْاِنْسَان کی طرح جنس ہے۔ جب ایک شخص سے نکلے ہوئے مختلف افراد اسی جنس کے ہوں اور اس شخص کو کسی خاص مادہ سے بنایا گیا ہو تو تمام افراد کا قوام اسی اصلی مادہ سے مانا جائے گا (پس ابو الحسن کو جب آگ کے مادہ سے بنایا گیا تو اس کی ساری نسل کو بھی اسی اصلی مادہ سے بنا ہوا کہا جائے گا۔ اگرچہ اولاد کا سلسلہ تناسلی ہوگا ‘ براہ راست آگ سے ان کو نہیں بنایا گیا ہوگا) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : الْجَان سے مراد ہے : تمام جنات کا باپ ‘ جیسے حضرت آدم تمام انسانوں کے باپ تھے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد ابلیس ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ الْجَان جنات کا باپ ہے اور شیاطین کا باپ ابلیس ہے۔ جنات میں کچھ مسلمان ہیں ‘ کچھ کافر۔ مرتے بھی ہیں ‘ پیدا بھی ہوتے ہیں اور شیاطین میں سے کوئی بھی مسلم نہیں نہ کسی کو موت آتی ہے۔ جب ابلیس مرے گا تو اسی کے ساتھ سب مریں گے۔ وہب نے کہا : کچھ جنات تو آدمیوں کی طرح ہیں ‘ ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں ‘ کھاتے ہیں ‘ پیتے ہیں اور کچھ جنات ہوا کی طرح ہیں ‘ ان میں توالد و تناسل نہیں ہوتا نہ وہ کھاتے پیتے ہیں۔ منْ قَبْلُ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے آدم سے پہلے جان کو پیدا کیا۔ السَّمُوْم وہ سخت گرمی جو مسامات کے اندر گھس جائے۔ بغوی نے کہا : السموم وہ گرم ہوا جو انسان کے بدن میں مسامات کے راستہ سے گھس کر اس کو ہلاک کردیتی ہے (یعنی لو) بعض کے نزدیک سموم دن کی اور حرور ‘ رات کی گرم ہوا (لو) کو کہتے ہیں۔ کلبی نے ابوصالح کا قول نقل کیا ہے : السموم ایک آگ ہے جو آسمان اور (زیرین) حجاب کے درمیان ہے ‘ اس میں دھواں نہیں ہے۔ صاعقہ کی پیداوار اسی سے ہوتی ہے (صاعقہ ٹوٹ کر گرنے والی بجلی) اللہ کا حکم ہوتا ہے تو سموم (یعنی صاعقہ) زیرین حجاب کو پھاڑ کر حسب مشیّت الٰہی کہیں گر جاتی ہے۔ حجاب کو پھاڑنے کی آواز ہی کڑک کہلاتی ہے۔ بعض نے کہا : نار السموم آگ کے شعلے ‘ لپٹ۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے : آتش جہنم۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ابلیس بھی ملائکہ کی ایک خاص شاخ (قبیلہ یا گروہ) میں سے ہے ‘ اس شاخ کو جن کہا جاتا ہے۔ اس صنف ملائکہ یعنی جن کی تخلیق نار سموم سے ہوئی ہے۔ دوسری آیت میں ان جنات کی تخلیق بھڑکتی آگ سے بتائی گئی ہے (گویا نار السموم اور بھڑکتی آگ ایک ہی چیز ہے) باقی (جن کے علاوہ) ملائکہ کی تخلیق نور سے کی گئی ہے۔
Ayah 15:28

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں

واذ قال ریک للملئکۃ انی خالق بشرا من صلصال من حما مسنون : اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آئندہ ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہوگی ‘ پیدا کرنے والا ہوں ‘
Ayah 15:29

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا

فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی سب جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں۔ نفخ کا معنی ہے : کسی کھوکھلی چیز میں ہوا کو گذارنا (منہ سے یا کسی اور طریقہ سے۔ مترجم) روح کی دو قسمیں ہیں : علوی اور سفلی۔ روح علوی ایک خاص مخلوق ہے جو مادہ سے خالی ہے (غیر مادی ہے) نظر کشف سے اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ عرش سے بھی زیادہ لطیف ہے ‘ اسلئے اس کا مقام عرش کے اوپر ہے۔ فوقانی و تحتانی مراتب کے لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ ارواح علویہ پانچ ہوتی ہیں : قلب ‘ روح ‘ سر ‘ خفی ‘ اخفیٰ ۔ انہی کو عالم امر کے لطائف (خمسہ) کہا جاتا ہے۔ روح سفلی اس بخار لطیف کو کہتے ہیں جو ان چاروں عناصر سے پیدا ہوتا ہے جن سے جسم انسانی کی ساخت ہوئی ہے ‘ اسی کو نفس کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کو روح سفلی یعنی نفس کو ارواح علویہ کا آئینہ بنایا ہے۔ آفتاب آسمان پر ہونے کے باوجود جب آئینہ پر عکس ریز ہوتا ہے تو آئینہ کے اندر اس کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں ‘ روشنی بھی اور حرارت بھی۔ آئینہ روشنی آفریں بھی ہوجاتا ہے اور جلانے والا بھی۔ ارواح علویہ تجرد کی انتہائی چوٹی پر ہونے کے باوجود نفس کے آئینہ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہی کی پر توفگنی کا جو اثر ہوتا ہے ‘ وہی ہر فرد کی روح جزئی کہلاتی ہے۔ ارواح علویہ سے روح سفلی پر قوت حیوانیہ اور معارف انسانی کا فیضان ہوتا ہے ‘ ارواح علویہ کے یہی آثار ہوتے ہیں جو روح سفلی میں نمودار ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے روح سفلی ان آثار کو ساتھ لے کر دل (سینہ کے اندر جو گوشت کا لوتھڑا ہے یعنی طبی قلب) سے متعلق ہوتی ہے ‘ پھر قوت حیوانیہ اور معارف انسانیہ کو ساتھ لئے ہوئے (قلب کے ذریعہ سے) شریانوں کی خلاؤں میں پہنچتی ہے اور اس طرح بدن کے ہر حصہ میں سرایت کر جاتی ہے۔ اسی کو نفخ روح کہا جاتا ہے۔ کھوکھلی چیز میں جس طرح نفخ ریح (ہوا کا پھونکا جانا) ہوتا ہے ‘ اسی کے مشابہ (شریانوں کی خلاؤں میں) روح کا نفخ ہوتا ہے۔ رُوْحِیْ میں روح کی اضافت اپنی ذات کی طرف کرنے سے روح کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ رُوْحِیْ کا مطلب ہے : میرے حکم سے براہ راست بغیر مادہ کے پیدا کی ہوئی روح۔ یا انسانی روح کو اپنی روح اسلئے قرار دیا کہ صرف انسانی روح میں رحمانی تجلیات و انوار کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے ‘ دوسری مخلوق میں یہ استعداد نہیں۔ انسان کی ساخت میں اگرچہ مٹی کا عنصر غالب ہے ‘ اسلئے انسان کی تخلیق کو مٹی سے قرار دیا ہے لیکن درحقیقت انسانی تقویم کے دس اجزاء ہیں : مٹی ‘ پانی ‘ ہوا ‘ آگ اور وہ لطیف بخار جو ان چاروں کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی کو نفس اور روح سفلی کہتے ہیں۔ ان پانچ اجزاء کے علاوہ پانچ اجزاء وہ ہیں جن کا فیضان عالم امر سے ہوتا ہے ‘ ان کا ذکر اوپر آچکا ہے (قلب ‘ روح ‘ سر ‘ خفی ‘ اخفیٰ ) انسان اسی جامعیت کی وجہ سے مستحق خلافت ہوا ‘ معرفت کے نور اور عشق و محبت کی آگ کا اہل قرار پایا۔ انسان کی یہی جامعیت اس بےکیف معیت کی مقتضی ہے جس کا ذکر حدیث المرء مع من احب میں آیا ہے اور اسی جامعیت کے باعث آدمی کو انوار ذاتیہ ‘ صفاتیہ اور ظلیہ کا مہبط بنایا گیا ‘ پھر اسی معیت اور حامل تجلیات ہونے کے سبب سے ملائکہ کو اس کی جانب سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : فقعوا لہ سجدین تو تم اس کی طرف رخ کر کے سجدہ میں گرپڑنا۔ قعوا امر ہے ‘ وَقَعَ وَقَوعًا سے۔ لَہٗ میں لام بمعنی اِلٰی ہے ‘ یعنی آدم کی جہت کو اور آدم کی طرف رخ کر کے سجدہ کرنا۔ اللہ نے آدم کو ملائکہ کا قبلۂ سجود بنایا ‘ جیسے کعبہ کو قبلۂ عبادت انسانوں کیلئے قرار دیا۔ کعبہ کو سجدہ نہیں کیا جاتا بلکہ کعبہ کو تجلیات و انوار سے چونکہ ایک خصوصیت ہے ‘ اسلئے اس کو جہت سجدہ بنایا۔ پس اسی طرح فرشتوں کیلئے آدم کو سجدہ کی جہت بنایا ‘ مسجود لہٗ نہیں بنایا۔
Ayah 15:30

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے

فسجدوا لملئکۃ پس (آدم کی طرف رخ کر کے) فرشتوں نے سجدہ کیا۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کی فرشتوں نے آدم کے اندر معیت کا ادراک کرلیا ‘ یا محض تعمیل حکم غرض تھی ( استحقاق سجود کی وجہ ان کو معلوم نہ ہوئی) ۔ کلھم اجمعون سب کے سب نے۔ تاکید مزید محض مبالغۂ عموم کیلئے ہے ‘ یعنی کوئی بھی سجدہ سے الگ نہیں رہا ‘ سب ہی نے سجدہ کیا۔ مبرد کا قول ہے کہ کُلُّھُم کے لفظ سے تو عموم کی تاکید ہوگئی ‘ یعنی سب نے سجدہ کیا اور اَجْمَعُوْن کے لفظ سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ یکدم اجتماعی حالت میں سب نے سجدہ کیا۔ مگر یہ توجیہ غلط ہے۔ اگر لفظ اَجْمَعُوْن سے اجتماعی حالت ظاہر کرنی مقصود ہوتی تو اجمعین (نصب کے ساتھ) کہا جاتا (کیونکہ حال منصوب ہوتا ہے) ۔
Ayah 15:31

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا

الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین مگر ابلیس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے ابلیس معیت کو نہ سمجھ سکا اور نہ اس نے اس امر کا لحاظ کیا کہ حکیم کا حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ابلیس چونکہ ملائکہ میں سے نہ تھا ‘ جنات میں سے تھا ‘ اللہ نے فرمایا ہے : کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ اسلئے بعض علماء نے کہا کہ استثناء منقطع ہے (متصل نہیں ہے۔ استثناء متصل میں مابعد الاّکا ما قبل الاّمیں داخل ہونا ضروری ہوتا ہے) اور الاّ بمعنی لٰکن کے ہے (اسی کے موافق آیت کا ترجمہ ہم نے کیا ہے) بعض علماء کے نزدیک استثناء متصل ہی ہے کیونکہ ابلیس ملائکہ کی اس صنف کا ایک فرد تھا جس کو جن کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ اس طرح ہوگا : مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا ‘ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل رہنے سے انکار کردیا۔
Ayah 15:32

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

قال یابلیس مالک الا تکون مع السجدین اللہ نے فرمایا : اے ابلیس ! تیرے سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہونے کا کیا سبب ہے ؟ یعنی تو نے کیوں سجدہ نہیں کیا باوجودیکہ حاکم کے حکم کی تعمیل تجھ پر واجب تھی اور آدم کی فضیلت اور استحقاق سجدہ اللہ کے بیان کرنے سے تجھے معلوم ہوگیا تھا۔
Ayah 15:33

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حما مسنون ابلیس نے (اپنی بیوقوفی کی وجہ سے) کہا : میں تو ایک ایسے (کثیف) انسان کو سجدہ کر ہی نہیں سکتا جس کو تو نے کھنکھناتی ہوئی سڑی کیچڑ سے بنایا ہے۔ مٹی کا درجہ تو تمام عناصر میں نچلا ہے۔ مجھے تو نے آگ سے بنایا ہے اور آگ تمام عناصر سے لطیف اور سب سے اعلیٰ و اشرف ہے۔ سورة اعراف میں اس کی مزید تشریح آچکی ہے۔
Ayah 15:34

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے

قال فرخج منھا فانک رجیم (ا اللہ نے) فرمایا : (جب تو نے میرا فرمان نہیں مانا) تو (جنت ‘ یا آسمان ‘ یا ملائکہ کے گروہ سے نکل جا ‘ بلاشبہ تو مردود ہے۔ یعنی بھلائی اور اعزاز سے نکالا اور دھتکارا ہوا ہے۔ رَجِیْم سنگسار کیا ہوا ‘ پتھروں سے مارا ہوا جو (ا اللہ کی بارگاہ سے) مطرود ہوجائے ‘ وہ سنگسار کیا جائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ آئندہ اگر تو آسمان سے قریب آیا تو تجھ پر انگارے برسائے جائیں گے ‘ ٹوٹے ہوئے تارے تجھ پر (پتھروں کی طرح) پڑیں گے۔ شیطان کیلئے اس آیت میں وعید بھی اور اس کے اعتراض کا درپردہ جواب بھی ہے۔ ابلیس کا اعتراض یہ تھا کہ میں تخلیقاً افضل ہوں ‘ آدم مجھ سے ادنیٰ ہے اور ادنیٰ کے سامنے افضل کو سربسجود ہوجانے کا حکم مناسب نہیں۔ جواب یہ ہے کہ فضیلت اور برتری کا مدار اللہ کے حکم کی تعمیل پر ہے (اجزاء تخلیقی پر نہیں) جو نافرمان ہوگا ‘ وہ بھلائی سے محروم ہوجائے گا اور نکالا جائے گا۔
Ayah 15:35

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین اور روز جزاء تک تجھ پر لعنت یقینی ہے۔ روز جزاء پر پھٹکار اور لعنت کی انتہاء ہے ‘ اس کے بعد اعمال کی (اُخروی) سزا و جزا ہوگی اور لعنت اخروی کے عذاب کا وقت آجائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ روز جزاء تک تو لعنت ہوگی اور اس کے بعد ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ اس کی موجودگی میں دنیوی لعنت بھول جائے گی۔ بعض نے کہا : (لعنت کو یوم الدین تک جاری رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد لعنت ختم ہوجائے گی بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے) طویل ترین مدت کیلئے کہا جاتا ہے کہ قیامت تک یہ بات ہوتی رہے گی یا نہ ہوگی (اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے بعد اس کے خلاف ہوگا بلکہ کام کے ہونے ‘ نہ ہونے کی ایک طویل ترین مدت بیان کرنا مقصود ہوتی ہے) ۔ بغوی نے کہا : آسمان پر بھی ابلیس ملعون ہے اور زمین پر بھی۔ آسمان والے بھی اس پر ایسی ہی لعنت کرتے ہیں جیسے زمین والے __ میں کہتا ہوں : (آسمان و زمین والے کیا ‘ آسمان اور زمین کے خالق نے اس پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : وَاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔
Ayah 15:36

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے

قال رب فانظرنی ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! (جب تو نے مجھے نکال دیا ہے اور مجھ پر لعنت کردی ہے) تو مجھے مہلت عطا کر (یعنی زندگی کی مدت باقی رکھ اور موت نہ دے) ۔ الی یوم یبعثون اس روز تک جبکہ لوگ (قبروں سے دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔ ابلیس نے اغواء کرنے کی مہلت مانگی اور بالکل موت سے محفوظ رہنے کی بھی درخواست کی کیونکہ (وہ جانتا تھا) کہ یوم بعث تک مہلت مل جائے گی اور دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد تو موت آئے گی نہیں ‘ اسلئے موت سے چھوٹ مل جائے گی۔ اللہ نے اوّل درخواست تو قبول فرما لی اور یہ قبولیت دعا اس کی عزت افزائی کیلئے نہیں بلکہ بدبختی اور مصیبت میں اضافہ کرنے کیلئے فرمائی اور دوسری درخواست (اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ) کو رد کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 15:37

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

قال فانک من المنظرین : تو مہلت یافتہ گروہ میں سے تو بیشک ہوگا
Ayah 15:38

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک

الی یوم الوقت المعلوم (لیکن یہ مہلت زندگی) معلوم وقت کے دن تک (ہو گی) یعنی اس وقت تک مہلت زندگی ہوگی جو اللہ کو معلوم ہے۔ مراد یہ ہے کہ پہلی مرتبہ صور پھونکنے تک جس سے سب مخلوق مرجائے گی ‘ تجھے مہلت ہے (دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے وقت تک جس سے لوگ اٹھائے جائیں گے ‘ مہلت نہیں دی جاسکتی) بعض لوگوں نے کہا کہ دونوں مرتبہ صور پھونکے جانے کی درمیانی مدت چالیس سال ہوگی ‘ اسی مدت میں ابلیس کی موت ہوگی۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا

قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض ولاغوینھم اجمعین ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے کج راہ کر ہی دیا ہے ‘ اس لئے میں بھی ضرور ضرور دنیا میں (گناہوں کو) آراستہ کر کے ان کے سامنے لاؤں گا اور سب کو کج راہ بناؤں گا۔ یا بِمَا میں بِ قسمیہ اور مَا مصدری ہے ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا : اے رب ! (تو نے مجھے گمراہ کردیا) تیرے اس گمراہ کرنے کی قسم کہ میں ان انسانوں کی نظر میں دنیا کو آراستہ کروں گا (جاذب توجہ کر دوں گا) ۔
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

الا عبادک منھم المخلصین مگر ان میں سے تیرے جو چنے ہوئے بندے ہوں گے اور تو نے ان کو تمام کدورتوں سے پاک کردیا ہوگا (ان کو میں نہیں بہکا سکوں گا) جن کو تو نے ہدایت کردی ہوگی ‘ ان پر میری فریب کاری کوئی اثر نہ ڈال سکے گی۔