Ayahs 15:2–8آیت 5
جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں۔ پس بقاء کی یہ امید انہیں آخرت سے غافل کردیتی ہے (فسوف یعلمون) ’ دعنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔ “ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لئے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں۔ (کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔ (وما اھلکنا من قریۃ) ” اور کسی بستی کو ہم نے بلاک نہیں کیا “ جو کہ عذاب کی مستحق تھی (الا ولھا کتاب معلوم) ” مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا “ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔ (ماتسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون) ” کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ “ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
Ayahs 15:9–12آیت 9
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ (یایھا الذی نزل علیہ الذکر) ” اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن “ یعنی تیرے زعم کے مطابق (انک لمجنون) ” بیشک تو دیوانہ ہے “ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذبہ کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (لوما تاتینا بالمآئکۃ) ” کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو “ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے “ اور چونکہ تیری تائید کیلئے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لئے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی جہالت ہے۔ رہا اس کا ظلم ہون اتو یہ صاف ظاہر ہے کیونکہ معین معجزات کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت اور محض تعنت (بےجا سختی) ہے حالانکہ ان معین معجزات کے بغیر بھی بہت سی نشانیوں کے ذریعے سے دلیل اور برہان کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے جو اس چیز کی صحت اور اس کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔۔۔ اور رہی جہالت، تو وہ اپنے مصالح اور نقصان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، پس فرشتوں کو نازل کرنے میں ان کے لئے کوئی بھلائین ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جب فرشتے نازل کرتا ہے تو حق کے ساتھ نازل کرتا ہے اور اس کے بعد ان لوگوں کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی جو حق کی پیروی نہیں کرتے۔
(وما کانوا اذا) ” اور اس وقت نہ ملے گی “ یعنی فرشتے کے نازل ہونے کے بعد اگر وہ ایمان نہ لائے۔۔۔ اور وہ ایمان نہیں لائیں گے (منظرین) ” ان کو مہلت “ یعنی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرشتوں کے نازل ہونے کا مطالبہ، انکی فوری ہلاکت اور تباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیونکہ ایمان ان کے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی نازل کردیتے۔ مردے ان سے ہم کلام ہوتے اور ہر چیز ان کے سامنے اکٹھی کردیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے الا یہ کہ اللہ چاہتا، مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں۔ “ اگر یہ اپنی بات میں سچے ہوتے تو قرآن عظیم کی یہ آیات ہی ان کے لئے کافی ہوتیں۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا : (انا نحن نزلنا الذکر) ” بیشک ہم نے اتاری ہے یہ نصیحت “ یعنی قرآن جس میں ہر چیز کا تذکرہ ہے مثلاً مسائل اور واضح دلائل وغیرہ اور جو کوئی نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سے نصیحت حاصل کرسکتا ہے۔ (وانا لہ لحفظون) ” اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں “ یعنی اس کو نازل کرنے کی حالت میں ہر شیطان مردود کی چوری سے ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اس کو نازل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے قلب میں اور آپ کی امت کے قلوب میں ودیعت کردیا۔ نیز اس کے الفاظ کو تغیر و تبدل، کمی بیشی اور اس کے معانی کو ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ کردیا۔ تحریف کرنے والا جب کبھی اس کے معنی میں تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو حق مبین کو واضح کردیتا ہے۔ قرآن کی حقانیت کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی حفاظت یہ ہے کہ وہ اہل قرآن کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کرتا جو ان کو ہلاک کر ڈالے۔
Ayahs 15:13–14آیت 13
جب مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ (ولقد ارسلنا من قبلک فی سیع الاولین) ” اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔ “ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کرچکے ہیں۔ (وما یاتیھم من رسول) ” اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا “ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ (الا کانوا بہ یستھرءون) ” تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔ “ (کذلک نسلکہ) ” اسی طرح داخل کردیتے ہیں ہم اس کو “ یعنی جھٹلانے کو (فی قلوب المجرمین) ” گناہ گاروں کے دلوں میں “ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفر و تکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہوگئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہوگیا۔ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہوگئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (لایومنون بہ وقد خلت سنۃ الاولین) ” وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آی ہے رسم پہلوں کی “ یعنی انکے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیتا ہے۔
Ayah 15:15آیت 15
یعنی اگر انکے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آجائے تو یہ حق کا انکار کردیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چناچہ فرمایا : (ولو فتحنا علیھم بابا من السمآء) ” اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے “ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کرلیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم وعناد یک بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے (انما سکرت ابصارنا) ” باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو “ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آگیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ (بل نحن قوم مسحورون) ” بلکہ ہم لوگوں پر جادو کردیا گیا ہے “ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے اور جو قوم ان کی اس حالت کو پہنچ جائے، تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید بقای نہیں رہتی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چناچہ فرمایا :
Ayahs 15:16–20آیت 16
اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولقد جعلنا فی السمآء بروجاً ) ” اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج “ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انہیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کئے جاتے ہیں (وزینھا للنظرین) ” اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لئے “ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہئیت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غور و فکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
(وحفظنھا من کل شیطن رحیم) ” اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردوں سے “ جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں اور یوں آسمان شیطان کی دست برد سے محفوظ ہے۔ آسمان کا ظاہری حصہ روشن ستاروں کے ذریعے سے خوبصورتی سے سجا ہوا ہے اور اس کا باطنی حصہ آفتوں سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ (الا من استرق السمع) ” مگر جو چوری سے سن بھاگا “ یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے (فاتبعہ شھاب مبین) ” تو چمکتا ہوا انگار اس کے پیچھے لپکتا ہے۔ “ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کردیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کردیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
(والارض مددنھا) ” اور زمین کو ہم نے پھیلایا “ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ (والقینا فیھا رواسی) ” اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔ ‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیئے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ (وانبتنا فیھا من کل شیء موزون) ” اور اگائی اس میں ہر چیز انداز سے “ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں مثلاً کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
(وجعلنا لکم فیھا معایش) ” اور بنا دیئے تمہارے لئے اس میں روزی کے اسباب “ یعنی کھیتی باڑی، مویشیوں اور مختلف اقسا مکہ پیشوں اور دستکاریوں کے ساتھ تمہاری روزی وابستہ کی (ومن لستم لہ برزقین) ” اور ایسی چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے “ یعنی ہم نے تمہارے فائدے اور تمہارے مصالح کے لئے تمہیں غلام، لونڈیاں اور مویشی عطا کئے جن کا رزق تمہارے ذمے نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہیں عطا کیا اور انکے رزق کی کفالت اپنے ذمے لی۔
Ayah 15:21آیت 21
یعنی ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی تقدیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے قبضہ اختیار میں نہیں، رزق کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی حکمت اور بےکراں رحمت کے مطابق جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے (وما نزلہ) ” اور نہیں اتارتے ہم اس کو “ یعنی ہر مقررہ چیز، جیسے بارش وغیرہ (الا بقدر معلوم) ” مگر معین اندازے پر “ یعنی اس کی جو مقدار اللہ تعالیٰ نے مقرر کردی ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے نہ اس سے کم ہوتی ہے۔
Ayah 15:22آیت 22
ہم نے ہواؤں، یعنی رحمت کی ہواؤں کو مسخر کیا ہے جو بادلوں کو بار آور کرتی ہیں جیسے نر مادہ کو بار آور کرتا ہے۔ ان بادلوں سے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی نازل ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو، ان کے مویشیوں اور زمینوں کو سیربا کرتا ہے اور باقی پانی زمین میں ذخیرہ ہوجاتا ہے، وہ ان کی حاجات و ضروریات میں کام آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا تقاضا ہے۔ (وما انتم لہ بخزنین) ” اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔ “ یعنی تمہیں یہ قدرت حاصل نہیں کہ تم پانی کو جمع کر کے اس پانی کا ذخیرہ کرسکو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہارے لئے اس کے خزانے جمع کرتا ہے پھر چشموں کی صورت میں زمین پر بہا دیتا ہے یہ اس کی تم پر رحمت اور احسان ہے۔
Ayah 15:23آیت 23
یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو تمام خلائق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے حالانکہ وہ اس سے قبل کچھ بھی نہ تھے اور ان کی مدت مقررہ پوری ہونے کے بعد ان کو موت دیتا ہے۔ (ونحن الورثون) ” اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے “ اللہ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی مانند (انا نحن نرث الارض ومن علیھا والینا یرجعون) (مریم :30/19) ” ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ “ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے لئے مشکل اور محال نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور اسے آنے والے لوگوں کا بھی علم ہے، زمین ان میں جو کمی واقع کر رہی ہے اور ان کے اجزاء کو بکھیر رہی ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے دست قدرت کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ پس وہ اپنے بندوں کو دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرے گا پھر ان کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا (انہ حکیم علیم) ” وہ دانا، جاننے والا ہے۔ “ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے اور ان کے لائق حال مقام پر نازل کرتا ہے، وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اگر اچھا عمل ہوگا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔