15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsانوار البیان

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الرا یہ (خدا کی) کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں۔

(15:1) تلک۔ اشارہ ہے ان آیات کی طرف جو اس سورة میں ہیں۔ الکتب۔ مکمل کتاب۔ ایسی کتاب جو اپنی افادیت اور جامعیت کے اعتبار سے صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔ قران۔ کی تنکیر تعظیم کے لئے ہے۔ ایت قران۔ یہ آیات الکتاب کی ہیں اور قرآن مبین کی ۔ مبین۔ صفت ہے قرآن کی۔ یعنی وہ قرآن جو اپنا مدعا صاف صاف ظاہر کرتا ہے جو الرشد اور الغی کو مبین (واضح) طور پر بیان کرتا ہے۔ فارق بین الحق والباطل والحلال والحرام۔ جو حق اور باطل اور حلال و حرام میں فرق بیان کرنے والا ہے۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے۔

(15:2) ربما رب وربۃ وربما وربتما۔ حرف جر ہے۔ ربما فتح وتشدید باء کے ساتھ یا ربما فتح باء بلاتشدید کے ساتھ ہر دو صورت میں مستعمل ہے۔ سیاق کلام کے موافق تکثیرو تقلیل۔ یعنی ” اکثر “ اور ” کبھی کبھی “ کا فائدہ دیتا ہے۔ رب نکرہ پر داخل ہوتا ہے اور زائد کے حکم میں ہوتا ہے جیسے رب جھل رفع۔ اور جب اس پر ما کافہ داخل ہوجائے (کافّہ یعنی سابق عامل کو عمل سے روک دینے والا) تو اس کا دخول فعل اور معرفہ پر جائز ہوتا ہے۔ جیسے ربما الخلیل مقبل اور ربما اقبل الخلیل اس صورت میں بیشتر اس کا دخول ایسے جملہ فعلیہ پر ہوتا ہے جس کا فعل ماضی ہو خواہ وہ لفظاً موجود ہو یا معناً ۔ لیکن آیہ ہذا میں یہ فعل مستقبل پر داخل ہوا ہے۔ لیکن مضارع پر اس کا دخول بہت کم واقع ہوتا ہے۔ ربما اگرچہ کلام عرب میں اکثر استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن مجید میں صرف اسی آیت میں آیا ہے۔ ربما۔ بمعنی کسی وقت۔ بہت وقت۔ کبھی کبھی۔ اکثر۔ یود۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ مودۃ مصدر۔ (باب سمع ) وہ آرزو کرے گا۔ وہ آرزو کرتا ہے۔ پسند کرے گا۔ یا پسند کرے گا۔ ودو۔ مادہ۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان کو ان کے حال پر رہنے دو کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور (طول عمل) ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے۔ عنقریب ان کو اسکا (انجام) معلوم ہوجائے گا۔

(15:3) ذرہم۔ امر واحد مذکر حاصر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو چھوڑ دے تو ان کو رہنے دے۔ یأکلوا ویتمتعوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جو اب امر ہیں یا یہ جائز ہے کہ ان سے پہلے لام مقدرہو۔ یتمتعوا۔ مضارع مخبروم ۔ جمع مذکر غائب۔ مزے اڑالیں۔ عیش کرلیں۔ یلہہم۔ مضارع مجزوم بوجہ متذکرہ بالا۔ واحد مذکر غائب۔ الھی یلھی الھاء (افعال) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو بھلائے رکھے۔ ان کو غافل بنائے رکھے۔ الامل۔ امید۔ توقع۔ امال جمع۔ فاعل۔ یلہہم الامل۔ ان کی (جھوٹی) ا میدان کو غافل بنائے رکھے۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کا وقت (مرقوم و) معین تھا۔

(15:4) من قریۃ۔ ای قریۃ من القری۔ بستیوں میں سے کسی بستی کو۔ کتب۔ ایک مقرروقت۔ وقت جو لوح محفوظ پر مکتوب ہے۔ معلوم۔ جو ہر وقت علم میں ہے ۔ بھول چوک کی نذر نہیں ہوتا۔ کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہوجائے۔ ولھا کتاب معلوم یہ جملہ قریۃ کا حال ہے یا جیسا کہ صاحب ِ کشاف (رح) نے لکھا ہے کہ یہ قریۃ کی صفت ہے۔
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

(15:5) ما تسبق۔ ما نفی کا ہے۔ تسبق۔ مضارع واحد مؤنث غائب سبق (ضرب) سے جس کے اصل معنی چلنے میں مقدم ہونے کے ہیں مگر اس کا استعمال بطور مجازواستعارہ مطلق بڑھنے اور سبقت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ ما تسبق وہ آگے نہیں نکل جائے گی۔ وہ آگے نہیں نکل سکتی اس کا فاعل امۃ ہے۔ من امۃ ۔ ای امۃ من الامم قوموں میں سے کوئی قوم۔ اجلہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی تقدیر کی معاد مقررہ۔ اس میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب افراد قوم کی رعایت سے لائی گئی ہے۔ جس طرح کہ یستاخرون میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ لا یستاخرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب استفعال) وہ پیچھے نہیں رہ سکتے۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (کفار) کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تو تو دیوانہ ہے۔

(15:6) قالوا۔ اشارہ ہے کفار مکہ کی طرف۔ الذکر۔ ذکر کے لفظی معنی تو نصیحت کے ہیں لیکن قرآنی اصطلاح میں قرآن ہی کا ایک نام ہے۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا ؟

(15:7) لو ما۔ شرطیہ ہے حرف تحضیض (ابھارنا) ہے۔ حرف تو بیخ ہے۔ کیوں نہیں۔ لو ما تاتینا بالملئکۃ ۔ کیوں نہیں لے آتا تو ہم پر ملائکہ کو۔ (شہادت تصدیق کے لئے یا ان کے انکار پر عذاب کے لئے)
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(کہہ دو ) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کیساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

(15:8) ما کانوا۔ کی ضمیر فاعل کا مرجع کفار و منکرین مکہ ہیں۔ اذا۔ تب۔ اس وقت۔ جواب وجزاء کے لئے بھی آتا ہے۔ جواب ان کے سوال کا کہ لو ما تأتینا بالملئکۃ ان کنت من الصادقین اور جزاء شرط مقدر کی۔ تقدیر کلام یوں ہے ! ولو نزلنا الملئکۃ ما کانوا منظرین وما اخر عذابہم۔ اور اگر ہم فرشتے اتار دیں تو نہ ان کو مہلت دی جائے گی اور نہ ان کا عذاب ٹل سکے گا۔ منظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ انظار (افعال) مصدر۔ مہلت دیئے ہوئے۔ جن کو مہلت دی گئی ہو۔ منصوب بوجہ خبر کانوا۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک یہ (کتاب) نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

(15:9) الذکر۔ آیت (6) میں کافروں نے قرآن مجید کو الذکر تعریضاً اور استہزاء کہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسی لفظ کو دہرا کر فرمایا کہ یہ بیشک الذکر ہے یعنی یہ ایسی پندونصائح سے پُر اور شرف وعزت بخشنے والی کتا ہے کہ اس کے بعد کسی اور کتاب کو الذکر نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے۔

(15:10) قد ارسلنا۔ کے بعد اس کا مفعول محذوف ہے۔ ای ولقد ارسلنا رسلاً ۔ بیشک ہم نے رسول بھیجے۔ شیع۔ شیعۃ کی جمع۔ فرقے۔ گروہ۔ شیعۃ۔ وہ فرقہ یا گروہ جو کسی بات پر باہم متفق ہو۔ اس کا اصل شیاع ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی لکڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونا اور تقویت دینا کے بھی ہیں۔ جیسے شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی۔ یا شاع القوم قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی۔ اسی سے اشاعۃ خبر کا پھیلانا ہے۔ گروہ کے معنی میں اور جگہ قرآن میں آیا ہے وجعل اہلھا شیعا۔ (28:4) وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا۔ قوم اور فرقہ کے معنوں میں آیا ہے ھذا من شیعتہ و ھذا من عدوہ۔ (28:15) یہ (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ہے اور یہ (دوسرا) اس کے دشمنوں میں سے ہے۔ یہاں شیع الاولین بمعنی پہلی قومیں۔
Ayah 15:11

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے تھے۔

(15:11) یستھزء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب استہزاء (استفعال) مصدر وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ کانوا یستھزء ون۔ ماضی استمراری۔ وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

(15:12) نسلکہ۔ مضارع جمع متکلم ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس ضمیر کا مرجع الاستھزاء ہے جو یستھزء ون کا مصدر ہے۔ ہم (اس استہزا و تکذیب کو گنہگاروں کے دلوں میں) ڈال دیتے ہیں ۔ السلوک (باب نصر) کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ جیسے لتسلکوا منہا سبلا فجاجا (71:20) تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں پر چلوپھرو۔ یہ فعل متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ما سلککم فی سفر۔ (74:42) تمہیں کس چیز نے دوزخ میں لا ڈالا۔ اسی سے ہے سلکت الخیط فی الابرۃ۔ میں نے سوئی میں دھاگہ ڈالا۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔

(15:13) لا یؤمنون بہ۔ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الذکر (ایۃ 9) ہے۔ خلت۔ خلا یخلو (باب نصر) خلو سے ماضی۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ گذر گئی۔ الخلا خالی جگہ ۔ جہاں عمارت ومکان وغیرہ نہ ہو۔ اور الخلو۔ کا لفظ زمان اور مکان دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ چونکہ زمانہ گذرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لئے قد خلت سنۃ الاولین کے معنی ہوں گے۔ پہلوں کی یہی روش گذر چکی ہے یعنی وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ یہی ہوا۔ سنۃ۔ دستور۔ طریقہ جاریہ۔ رسم ۔ اس کی جمع سنن ہے۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھول دیں اور اس میں چڑھنے بھی لگیں

(15:14) فظلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ظل اور ظلول سے (باب فتح وسمع) الظل سایہ یہ الضح دھوپ کی ضد ہے ظل اور ظلول کے معنی دن میں کسی کام کو انجام دینے کے ہیں جس طرح بات یبیت کا استعمال رات گذارنے کے لئے ہوتا ہے ایسے ہی ظل یظل کا استعمال دن گذارنے کے لئے ہوتا ہے۔ یہ افعال ناقصہ میں سے ہے اور کسی کام کو دن کے وقت کرنے کے معنی میں آتا ہے کیونکہ دن کے وقت (از طلوع آفتاب تا غروب آفتاب) چیزوں کا سایہ موجود رہتا ہے۔ یہ صار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اس وقت دن کی تخصیص نہیں رہتی مثلاً لظلوا من بعدہ یکفرون۔ (30:51) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں گے۔ فظلوا فیہ یعرجون۔ پھر وہ دن دہاڑے چڑھنے لگیں۔ فیہ۔ ای فی ذلک الباب۔ اس دروازہ میں۔ فظلوا فیہ یعرجون۔ لفظی ترجمہ یہ ہے اور وہ روز روشن میں اس میں چڑھنے لگیں۔ اس میں ضمیر کا مرجع مشرکین و کفار ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان مشرکین کے لئے آسمان میں ایک دروازہ ہم کھول دیں اور وہ اس میں دن دہاڑے چڑھ جائیں اور عالم بالا کے عجائبات اپنی آنکھوں سے واضح طور پر دیکھ لیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

(15:15) لقالوا۔ اس میں لام تاکید کے لئے ہے۔ سکرت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ سکر وسکر۔ بینائی کا ہدہم ہونا۔ سکرت عینہ۔ اس کی آنکھ چندھیا گئی۔ سکرت ابصارنا ہماری آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔ ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں۔ ہماری آنکھوں کی بینائی بند کردی گئی ہے۔ مسحورون۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ مسحود واحد۔ سحر مصدر۔ وہ لوگ جن پر جادو کردیا گیا ہو۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کیلئے اس کو سجا دیا۔

(15:16) بروجا۔ برج کی جمع ہے برج کا لغوی معنی ہے ظاہر ہونا۔ اس سے عورت کے بنائو سنگار کر کے نمائش دکھا وے کو تبرج کہتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی۔ (33:33) اور جاہلیت قدیم کے مطابق اپنے کو دکھاتی مت پھرو۔ اسی لغوی کے معنی کی مناسبت سے اس کا اطلاق ان چیزوں پر ہونے لگا جو دور سے نمایاں ہوتی ہیں مثلاً قلعہ۔ محل۔ شاہراہ وغیرہ۔ اسی وجہ سے وہ بڑے بڑے ستارے جو دور سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اہل عرب بُرج کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ روح المعانی میں ہے ۔ المراد بالبروج الکواکب العظام بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں بعض نے ان سے مراد وہ بارہ برج لئے ہیں جو مدار آفتاب کو بارہ حصوں میں تقسیم کرنے سے بنتے ہیں ان میں سے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں اور علمائے ہیئت نے ہر ایک کا علیحدہ نام رکھا ہے مثلاً حمل۔ ثور۔ جوزا۔ سرطان۔ اسد۔ سنبلہ ۔ میزان۔ عقرب ۔ قوس۔ جدی ۔ دلو۔ حوت۔ قرآن حکیم میں مضبوط قلعے۔ محلات کے معنی میں آتا ہے۔ ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4:78) خواہ تم بڑے بڑے محلوں میں رہو۔ زینھا۔ زینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مفعول ہم نے اس کو مزین کیا ہم نے ان کو زینت دی۔
Ayah 15:17

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان راندہ درگار سے اسے محفوظ کردیا۔

(15:17) رجیم۔ الرجام۔ بمعنی پتھر۔ اسی سے الرجم ہے جس کے معنی سنگسار کرنے کے ہیں جسے سنگسار کیا گیا ہو۔ اسے مرجوم کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور سنگسار کئے جانے والوں میں سے ہوں گے۔ رجیم بروزن فعیل بمعنی مفعول یعنی مرجوم ہے ملعون۔ راندہ۔ مردود۔ قرآن مجید میں جہاں بھی آیا ہے شیطان کی صفت میں مستعمل ہے۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اسکے پیچھے لپکتا ہے۔

(15:18) استرق ماضی واحد مذکر غائب۔ استراق (استفعال) سے سرق مادّہ۔ اس نے چرایا۔ اس نے چوری کی۔ استرق السمع اس نے چوری چھپے سن لیا۔ فاتبعہ ۔ ماضی واحد مذکر غائب ہٗ واحد مذکر غائب۔ اس ضمیر کا مرجع من موصولہ ہے وہ اس کے پیچھے لگا۔ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ وہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ شھاب۔ الشھاب کے معنی بلند شعلہ کے ہیں۔ خواہ وہ چلتی ہوئی آگ کا شعلہ ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے۔ شھاب مبین ایک روشن شعلہ۔ روشنی کرنے والا انگارہ۔ شیطان کا آسمان کی باتیں سن لینا اور اس کے تعاقب میں شہاب مبین کے لگ جانے سے کیا مراد ہے۔ اس کا جواب انسان کے موجودہ علم کی روشنی میں تسلی بخش طور پر دینا مشکل ہے۔ بہرحال ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ قرآن کی ہر بات حقیقت اور صداقت پر مبنی ہے اس لئے اگر ہماری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی تو یہ ہماری علمی کوتاہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وقت آجائے کہ ہم حقائق کائنات میں خاطر خواہ علمی دسترس حاصل کرلیں۔ تو یہ عقدے جو اس وقت لا ینحل دکھائی دیتے ہیں خودبخود کشا ہوجائیں۔ مختلف تفاسیر میں اس کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ لیکن موجودہ تنقیدی ذہن انہیں قبول کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اگائی۔

(15:19) مددنھا۔ مددنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پھیلایا۔ ہم نے پھیلا دیا۔ ھا ضمیر کا مرجع الارض ہے۔ المد کے اصل معنی (لمبائی میں) کھینچنے کے ہیں اور بڑھانے کے ہیں۔ اسی سے عرصہ دراز کو مدّۃ کہتے ہیں۔ اور قرآن مجید میں ہے الم تر الی ربک کیف مد الظل (25:45) تو نے نہیں دیکھا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے۔ القینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے ڈالا۔ القاء (افعال) سے۔ فیھا۔ ای فی الارض ۔ اس میں یعنی زمین میں۔ رواسی۔ راسیۃ کی جمع۔ بوجھ۔ پہاڑ۔ رسو مادہ۔ رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ ارسی (افعال) معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وقدور راسیات۔ (34:13) اور بڑی بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ جمع رہیں۔ رواسی شمخت۔ (77:27) اونچے اونچے پہاڑ۔ پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے۔ موزون۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ شیٔ کی صفت ہے الوزن (تولنا) کے معنی کسی چیز کی مقدار معلوم کرنے کے ہیں۔ عرف عام میں وزن اس مقدار خاص کو کہتے ہیں جو ترازو کے ذریعہ معین کی جائے جیسے قرآن مجید میں ہے وزنوا بالقسطاس المستقیم (17:35) ترازو سیدھی رکھ کر تو لا کرو۔ اور اقمیموا الوزن بالقسط۔ (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تو لو۔ لہٰذا موزون بمعنی اندازہ کی ہوئی۔ جانچی ہوئی۔ مناسب۔ اور وانبتنا فیھا من کل شیء موزون۔ کے معنی ہوئے : اور ہم نے اس میں ہر مناسب چیز اگائی ۔ یاموزون۔ مقدر بمقدار معین تقتضیہ حکمتہ۔ ایک مقررہ اندازہ کے مطابق جس کو اس کی حکمت متقاضی ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور اس میں ہم نے ہر ایک چیز ایک اندازے کے مطابق اگائی۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم ہی نے تمہارے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے۔

(15:20) معایش۔ معیشۃ کی جمع۔ سامان زندگانی۔ وسائل معاش۔ کھانے پینے کی چیزیں۔ ومن لستم لہ برازقین۔ ای ولمن لستم لہ برازقین۔ یعنی اور ان کے لئے بھی ہم نے سامانِ زینت مہیا کیا ہے جنہیں تم روزی دینے والے نہیں۔ مثلاً جنگلی جانور۔ درندے ۔ کیڑے۔ مکوڑے یا سمندر میں بسنے والے جانور وغیرہ۔ یعنی ایسی مخلوق جو انسان کے ہاتھوں روزی حاصل نہیں کرتی۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اتارتے رہتے ہیں

(15:12) ان۔ نافیہ ہے۔ خزائنہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع شیء ہے۔ ان من شیء الا عندنا خزائنہ۔ نہیں کوئی چیز مگر ہمارے پاس اس کے خزانے (بھرے پڑے) ہیں۔ ما ننزلہ الا بقدر معلوم۔ ہم اس چیز کو نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق ۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی (ہوتی ہیں) اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کا اسکا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔

(15:22) لواقع۔ جمع ہے اس کی واحد لاقح ہے۔ لقح اور لقاح لازم ہیں جیسے لقحت الناقۃ (باب سمع) اونٹنی حاملہ ہوگئی۔ یا لقحت الشجرۃ درخت بارآور ہوگیا۔ اس لئے لواقح کا مطلب ہوا۔ بار دار۔ وہ ہوائیں جو پانی سے بھرے ہوئے بادل کو اٹھائے ہوئے ہوں۔ لواقح کا واحد صرف لاقح ہے اور یہ جمع خلاف قیاس ہے اس کا مؤنث استعمال نہیں ہے۔ صرف لغات القرآن حصہ پنجم عبد الدائم الجلالی میں اس کی مؤنث لاقحۃ دی ہے مظہری میں بھی ہے اور لقوح کی جمع بھی بتایا گیا ہے۔ فاستینکموہ۔ اسقینا اسقاء (افعال) سے ماضی جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہُ ضمیر مفعول ثانی واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء ہے۔ ہم نے وہ تم کو پلایا۔ ہم نے وہ (بارش کا) پانی تمہیں پینے کے لئے دیا۔ خزنین۔ خزانہ کرنے والے۔ جمع کرنے والے۔ ذخیرہ کرنے والے۔ خزن سے باب نصر۔ بمعنی خزانہ میں جمع کرنا۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم ہی سب کے وارث (مالک) ہیں۔

(15:23) نحی۔ مضارع جمع متکلم ہم زندہ کرتے ہیں ( باب افعال) احیاء سے۔ نمیت۔ مضارع جمع متکلم اماتۃ (افعال) سے مصدر۔ موت مادّہ۔ ہم مارتے ہیں ہم موت دیتے ہیں۔ وارثون ۔ ورث یرث ورث فھو وارث۔ وارث ہونا یعنی کسی کے مرنے کے بعد اس کی چیز کا مالک ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ مجازا بولاجاتا ہے کیونکہ وہ تو ہر شے کا حقیقی مالک ہے۔ اس نے اہل دنیا کو جو ملکیت دے رکھی ہے وہ مجازی ہے ایک وقت آئے گا کہ جب یہ مجازی ملکیت بھی ختم ہوجائے گی اور تمام وراثت مالک حقیقی کے پاس لوٹ جائے گی۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں۔ اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔

(15:24) المستقدمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ استقدام (استفعال) مصدر۔ پہلے زمانہ میں گذرے ہوئے لوگ۔ اگلے لوگ۔ یا نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یا اسلام لانے میں اولیت حاصل کرنے والے۔ مستاخرین۔ پیچھے آنے والے۔ بعد میں آنے والے ۔ نیکیوں میں پیچھے رہ جانے والے۔ اسلام لانے میں تاخیر کرنے والے۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے۔

(15:25) یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو اکٹھا کرے گا۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔

(15:26) صلصال۔ صلصال (مادّہ ص ل ل) کے اصل معنی کسی خشک چیز سے آواز آنے کے ہیں۔ جیسے صل المسمار۔ جس کے معنی میخ کو کسی چیز میں ٹھونکنے سے آواز پیدا ہونے کے ہیں اور کھنکنے والی خشک مٹی کو بھی صلصال کہتے ہیں۔ صلصال کے معنی سڑی ہوئی مٹی کے بھی ہیں اور یہ صل اللحم سے مشتق ہے جس کے معنی گوشت کے بدبودار ہوجانے کے ہیں۔ صلصال۔ اصل میں صلال ہے۔ ایک لام کو ص سے بدل دیا گیا ہے۔ اور آیت کریمہ أ اذا ضللنا فی الارض۔ (32:10) کیا جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے۔ میں ایک قرأت صللنا بھی ہے یعنی جب ہم گل سڑ گئے۔ حما۔ گارا۔ کیچڑ۔ الحمی سے حماء مادہ۔ الحمأ سیاہ بدبودار مٹی۔ احما تھا۔ میں نے اسے کیچڑ سے بھر دیا۔ اور جگہ قرآن میں ہے عین حمئۃ۔ سیاہ بدبودار۔ کیچڑ والا چشمہ۔ مسنون۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ سن مصدر۔ (باب نصر) متغیر۔ سڑا ہوا۔ سنت رسول ، رسول کا طریقہ۔ مسنون۔ سنت کے مطابق۔ صلصال من حما مسنون۔ کھنکھنے والی مٹی جو پہلے سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ کی شکل میں تھی۔ علماء لغت نے لکھا ہے کہ مختلف حالتوں میں مٹی کے مختلف نام ہیں۔ (1) پانی میں بھگونے سے پہلے تراب کہتے ہیں۔ جیسے اکفرت باالذی خلقک من تراب۔ (18:37) کیا تو اس ذات سے انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ (2) پانی میں بھیگ جائے تو اسے طین (کیچڑ) کہتے ہیں۔ انا خلقنہم من طین لا زب۔ (37:11) ہم نے ان کو چپکتے گارے سے پیدا کیا۔ (3) جب کافی عرصہ بھیگی رہے یہاں تک کہ اس کی رنگت سیاہ ہوجائے تو اسے حما کہتے ہیں۔ (4) جب اس سیاہ کیچڑ میں بدبو پیدا ہوجائے یا اسے کوئی اور صورت دی جائے تو اسے مسنون کہتے ہیں۔ (5) اور جب سیاہ بدبودار کیچڑ خشک ہوجائے تو اسے صلصال کہتے ہیں۔ (6) جب خشک۔ سیاہ۔ بدبودار۔ کیچڑ آگ میں پکائی جائے تو اسے فخار کہتے ہیں۔ خلق الانسان من صلصال کالفخار۔ (55:14) اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔
Ayahs 15:27–28

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا۔

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

(15:27) الجان۔ الجن (باب نصر) کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنے کے ہیں۔ جیسے فلما جن علیہ اللیل (6:76) جب رات نے اس کو (پردہ تاریکی) سے چھپا دیا ۔ اسی معنی میں الجنان دل۔ کیونکہ وہ حواس سے مستور رہتا ہے۔ یا المجن المجنۃ الجنۃ ۔ ڈھال کیونکہ اس سے انسان اپنے آپ کو بچاتا اور چھپاتا ہے۔ اور الجنۃ باغ۔ ایسا باغ جس کی زمین درختوں کی وجہ سے نظر نہ آئے۔ ولو لا اذ دخلت جنتک (18:39) اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو کیوں نہ۔۔ اور جنین (فعیل بمعنی مفعول) وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے۔ کہ وہ حواس انسانی سے مستور ہے یا الجنین قبر (فعیل بمعنی فاعل) چھپانے والے۔ تو گویا جن ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانی نظروں سے پوشیدہ اور اوجھل ہے۔ جان، جن کی جمع ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس طرح ابوالبشر (سارے انسانوں کے باپ ) کا نام آدم ہے اسی طرح ابو الجن (جنو ّں کے باپ کا نام) الجان ہے۔ بعض کے نزدیک الجان اسم جنس ہے مراد ہے جنوں کی جنس جیسے الانسان۔ انسانوں کی جنس کا نام ہے جن مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی جیسے قرآن مجید میں آیا ہے وانا من المسلمون ومنا القسطون۔ (72:14) اور ہم میں سے بعض مسلمان ہیں اور بعض ہم میں سے راہ حق سے مڑجانیوالے ہیں یعنی کافر۔ السموم۔ اس کا مادّہ س م ہے السم (بفتحہ سین وضمّہ آن) کے معنی تنگ سوراخ کے ہیں۔ جیسے سوئے کا ناکہ یا کان اور ناک کا سوراخ ہوتا ہے۔ اس کی جمع سموم آتی ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے نہ نکل جائے۔ سم یسم۔ (باب نصر) کے معنی ہیں کسی چیز میں گھس جانا۔ اسی سے السامۃ ہے یعنی وہ خاص لوگ جو ہر معاملہ میں گھس کر اس کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ السم زہر قاتل کو کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے لطف ِ تاثیر سے بدن کے اندر سرایت کر جاتی ہے اور یہ اصل میں مصدر بمعنی فاعل ہے۔ السموم۔ لُو ! گرم ہوا۔ جو زہر کی طرح بدن کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔ جیسے ووقنا عذاب السموم (52:27) اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا۔ السموم الریح الحارۃ التی تقتل۔ سخت گرم ہوا جو مار ڈالے دیتی ہو۔ سموم بغیر دھوئیں کی آگ۔ قیل السموم نار لا دخان لھا۔ سموم وہ آگ ہے جس کا دھواں نہ ہو۔ نار السموم۔ مضاف مضاف الیہ۔ یہ اضافۃ العام الی الخاص کی مثال ہے یا اضافۃ الموصوف الی الصفۃ کی ۔ مراد اس سے النار المفرطۃ الحرارۃ یعنی بہت ہی گرم آگ، (جو زہر کی طرح یا بادسموم کی طرح لطیف تاثیر سے روئیں روئیں میں سرایت کر جائے) گو یا نار السموم سے دو صفات نمایاں ہیں۔ ایک تو انتہائی گرمی کہ اس کے سبب سے متصف میں غضب وبے قراری کی سی حالت پائے جائے ۔ اور دوسرے غایت درجہ لطافت کہ اس کی وجہ سے وہ غیر مرئی ہو۔ اور یہی جنات کی عام صفتیں ہیں۔
Ayah 15:29

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب اسکو (صورت انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔

(15:29) سویتہ۔ سویت۔ ماضی واحد متکلم ۔ تسویۃ (تفعیل) سے ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ میں نے اس کو پورا پورا بنادیا۔ میں اس کو پورا پورا بنا دوں (ماضی بمعنی مستقبل) سوی مادہ۔ نفخت۔ ماضی واحد متکلم نفخ سے (باب نصر) جب میں پھونک دوں۔ ماضی بمعنی مستقبل ۔ قعوا۔ امر جمع مذکر حاصر وقوع مصدر (دقع ثلاثی مجرد مثال وادی) باب فتح۔ وقع یقع سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر قع ہوگا۔ قاعدہ : اگر علامت مضارع کا مابعد متحرک ہے تو آخر کو جزم دے دیں گے جیسے وھب یھب سے ھب۔ ربنا ھب لنا من الدنک رحمۃ) قع امرو احد مذکر حاضر سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہوا قعوا گرپڑو۔ یعنی تم بلاتاخیر سجدے میں گر پڑو۔
Ayah 15:30

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گرپڑے

(15:30) اجمعون۔ سب کے سب۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔
Ayahs 15:31–32

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟

(15:31) ابی۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ الاباء کے معنی شدت امتناع یعنی سختی کے ساتھ انکار کرنے کے ہیں۔ ہر اباء امتناع اباء نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ ویأبی اللہ الا ان یتم نورہ۔ (9:32) اور خدا تعالیٰ اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ یا ابی واسکتبر (2:34) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ (باب ضرب فتح) ۔
Ayah 15:33

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

(اس نے) کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں

(15:33) لم اکن۔ مضارع نفی حجد بلم۔ میں نہیں ہوں۔ میں ایسا نہیں۔ مجھے گوارا نہیں ۔ میری شان کے شایان نہیں۔ لم اکن لاسجد۔ میں ایسا نہیں کہ سجدہ کروں۔ لاسجد میں لام تاکید نفی کے لئے ہے۔
Ayahs 15:34–35

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)

(15:34) منھا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع یا سماء ہے یا جنۃ ہے یا زمرۂ ملائکہ (محذوف ) ہے۔ رجیم۔ مردود۔ راندہ ہوا۔ ملاحظہ ہو (15:17) ۔
Ayah 15:36

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔۔

(15:36) فانظرنی۔ فا محذوف پر دلالت کرتا ہے۔ تقدیر کلاں یوں ہے۔ اذا جعلتنی رجیما ملعونا الی یوم الدین فانظرنی۔ جب تو نے مجھے روز قیامت تک مردود و ملعون قرار دے ہی دیا ہے تو مجھے مہلت دے دے (یعنی مجھے زندہ رہنے دے) الظرنی۔ امر واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تو مجھ کو مہلت دے۔ انظار (افعال) مصدر۔ یبعثون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب بعث سے۔ وہ اٹھائے جائیں گے۔ یوم یبعثون وہ دن جب آدم اور اس کی ذریت قبروں سے اٹھائی جائے گی۔ بعث کے معنی بھیجنے کے بھی آتے ہیں۔ مثلاً ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا۔ (16:36) اور ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا۔ یوم الدین۔ یوم تبعثون۔ یوم الوقت المعلوم۔ سب سے مراد یوم قیامت ہے۔
Ayahs 15:37–38

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک۔

(15:37) المنظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر المنظر۔ واحد ۔ مہلت یافتہ۔ مہلت دئیے گئے۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

(اس نے) کہا پروردگار جیسا تو نے مجھے راستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔

(15:39) بما۔ بسبب اس کے۔ بہ بدل اس چیز کے۔ اغویتنی۔ اغویت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم تو نے مجھے گمراہ کیا۔ تو نے مجھے بےراہ کردیا۔ جب اغواء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک گمراہی پر سزا دینا۔ دوسرے بےراہ کرنا۔ بھٹکانا۔ علامہ قرطبی نے اغواء کے معنی مایوس کرنا اور ہلاک کرنا بھی کئے ہیں۔ کسی کو ایسا حکم دینا جس کی نافرمانی اس کی گمراہی کا باعث بن جائے اس کو بھی اغوا کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بما اغویتنی کا معنی ہوگا۔ بوجہ اس امر کے کہ تو نے مجھے ایسا حکم دیا کہ اس کی نافرمانی میری بےراہ روی کا سبب بن گئی۔ لازینن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ ۔ واحد متکلم۔ تزئین (تفعیل) سے میں ضرور آراستہ کروں گا۔ مزین کر کے دکھائوں گا۔ (برے کاموں کو) ۔ لاغوینہم۔ مضارع بلام تاکیدو نون ثقیلہ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب میں ان کو ضرور گمراہ کروں گا۔ اجمعین۔ سارے کے سارے۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔
Ayah 15:40

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)

(15:40) المخلصین۔ جو چن لئے گئے ہیں۔ یعنی جنہیں تو نے اپنی عبادت اور اطاعت کے لئے چن لیا۔ اسم مفعول جمع مذکر حاضر۔